(عرض احوال) اُمّت ِ مسلمہ: اِتحاد ہی میں بقا! - ادارہ

8 /

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اُمّت ِ مسلمہ: اِتحاد ہی میں بقا!عالمی منظرنامہ تیزی سے بدل رہا ہے۔طاقت کے مراکز اپنی صف بندیوں میں مصروف ہیں‘ اور دنیا ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے جہاں جنگ اور امن کے درمیان فاصلہ کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی‘ عالمی طاقتوں کی چپقلش‘ اور اسرائیلی جارحیت نے حالات کو اِس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ کسی بھی لمحے ایک بڑی آگ بھڑک سکتی ہے۔ بظاہر امن کی باتیں کی جا رہی ہیں‘ مگر عملی طور پر طاقت کا کھیل پوری شدت سے جاری ہے۔
سوال یہ ہے کہ جب دنیا امن کی جانب بڑھ رہی ہے تو کشیدگی کیوں کم نہیں ہو رہی؟ اس کا جواب واشنگٹن کی پالیسیوں میں پوشیدہ ہے۔ آبنائے ہرمز کی ناکا بندی جیسے اقدامات اور مسلسل دھمکی آمیز لہجہ اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ امریکہ بیک وقت دو کھیل کھیل رہا ہے: ایک طرف مذاکرات کی فضا قائم کرنا‘ اور دوسری طرف دباؤ اور خوف کے ذریعے اپنی بالادستی برقرار رکھنا۔
امریکی صدر کے سیاسی بیانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اُن کی تمام تر توجہ محض اِس بات پر ہے کہ کسی طرح سے امن کا نوبل انعام اُنہیں مل جائے۔ اِس مقصد کی تکمیل کے لیے وہ امن کوپہلے جنگ میں بدلتے ہیں‘ پھر امن اور صلح کا پیغام لے کر آجاتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ دنیا اب اِس طرزِ سیاست کو سمجھنے لگی ہے۔ چین‘ روس‘ برطانیہ‘ سپین اور ترکیہ جیسے ممالک کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکا بندی جیسے اقدامات سے فاصلہ اختیار کرنا اِسی شعور کی عکاسی ہے۔ اٹلی کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ معطل کرنا‘ اور خود امریکہ کے اندر عوامی احتجاج کا ابھرنا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی ضمیر اب جاگ رہا ہے۔ حتیٰ کہ مذہبی حلقے بھی خاموش نہیں رہے۔ پوپ لیو کی جانب سے جنگی پالیسیوں پر تنقید نے اس بحران کو ایک اخلاقی مسئلے کے طور پر بھی اجاگر کر دیا ہے۔ برطانوی وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا خاتمہ اور فوجی تصادم کا آغازامریکہ کی ایک غلطی ہے۔ عالمی بنک کے چیف اکانومسٹ نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہےکہ ایران امریکہ جنگ کے نتیجے میں کروڑوں انسان بھوک کا شکار ہوسکتے ہیں۔ جبکہ پہلے ہی دنیا میں بیس کروڑ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں اور حالیہ جنگ ان کی تعداد میں بیس فیصد تک اضافہ کر سکتی ہے۔ اس سب کے باوجود صدر ٹرمپ کا جارحانہ ردّ ِعمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اختلافِ رائے کو سننے کے بجائے اپنی پالیسی مسلط کرنے کے عادی ہیں۔
اس تناظر میں پاکستان کا کردار خاص اہمیت کا حامل ہے۔ ایک ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ پاکستان کو جغرافیائی اور سفارتی لحاظ سے بھی ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ اگر وہ خلوصِ نیت کے ساتھ مسلم دنیا کے درمیان پل کا کردار ادا کرے‘ ایران اور سعودی عرب جیسے اہم ممالک کے درمیان توازن قائم کرے‘ بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے ہم آہنگی پیدا کرے تو یہ بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ پرنٹ ‘الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائے جانے والے منفی پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دیا جائے۔آج کی جنگ صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ ذہنوں میں بھی لڑی جا رہی ہے۔ اس لیے فکری بیداری اور نظریاتی استحکام بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے عسکری اقدامات۔
اِس نازک صورتِ حال میں اہم ترین اورسب سے زیادہ تشویش ناک پہلو عالمِ اسلام کی داخلی کیفیت ہے۔ ایک طرف بیرونی خطرات منڈلا رہے ہیں تو دوسری طرف مسلم دنیا انتشار‘ باہمی بداعتمادی اور فرقہ وارانہ تقسیم کا شکار ہے۔ کہیں شیعہ سُنّی اختلافات کو ہوا دی جا رہی ہے‘ کہیں قومیت اور علاقائیت کو اسلام کی وحدت پر ترجیح دی جا رہی ہے‘ کہیں ذاتی و حکومتی مفادات اُمّت کے اجتماعی مفاد پر غالب آ چکے ہیں۔ نتیجتاً وہ اُمّت‘ جسے ایک جسم کی مانند قرار دیا گیا تھا‘آج بکھری ہوئی اکائیوں کا مجموعہ بن چکی ہے۔
تاریخ اِس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان متحد ہوئے‘ اُنہوں نے ناقابلِ تسخیر قوت کا مظاہرہ کیا۔ خلافت ِ راشدہ کا دور ہو یا صلاح الدین ایوبی ؒ کا زمانہ‘ اتحاد نے ہی نہ صرف دشمن کو پسپا کیا بلکہ عدل و انصاف کا ایسا نظام قائم کیا جس کی مثال آج بھی دی جاتی ہے۔ اِس کے برعکس جب بھی انتشار نے جنم لیا‘ زوال مقدّر بن گیا۔ سقوطِ بغداد سے اُندلس کے المیے تک‘ ہر جگہ تفرقہ ہی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔ آج کے حالات اِس سے کچھ زیادہ مختلف تو نہیں ہیں۔ بیرونی طاقتیں مسلم دنیا کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں‘اور اس مقصد کے لیے سب سے مؤثر ہتھیار ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ ہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ کہیں جنگوں کو ہوا دی جارہی ہے‘ کہیں اقتصادی دباؤ بڑھایا جا رہا ہے‘ کہیں فکری یلغار کے ذریعے نئی نسل کو اپنی جڑوں سے کاٹا جارہاہے۔ایسے میں اگر کوئی چیز اِس پوری صورتِ حال کا توڑ بن سکتی ہے تو وہ صرف اور صرف اتحادِ اُمّت ہے۔
اتحاد اب کوئی جذباتی نعرہ نہیں رہا‘ بلکہ ایک عملی ضرورت اور بقا کا تقاضا بن چکا ہے۔ سیاسی سطح پر مشترکہ حکمت ِ عملی‘ معاشی میدان میں باہمی تعاون‘ دفاعی شعبے میں اشتراکِ عمل وہ اقدامات ہیں جو مسلم دنیا کو ایک مضبوط بلاک میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ’’او آئی سی‘‘ جیسے پلیٹ فارمز کو محض رسمی ادارے کے بجائے فعال اور مؤثر فورم بنانا ہوگا۔ قیادت کو وقتی مفادات سے بالاتر ہو کر اجتماعی سوچ اپنانا ہوگی۔
اس تمام صورت حال میں پاکستان اپنے ’’سافٹ امیج‘‘ کو بہتر بنانے میں کامیابی حاصل کر چکا ہے جو ماضی میں دہشت گردی اور عدم استحکام کے تناظر میں متاثر ہوئی تھی۔ اس بات کا رنج پڑوسی ملک بھارت کے علاوہ اسرائیل کو بھی ہے‘ جس کا اظہار وہاں کے میڈیا سے مسلسل ہورہا ہے۔ یہاں ایک اہم پہلو اسرائیل کی پالیسی بھی ہے‘ جو خطے میں کشیدگی کو برقرار رکھنے میں اپنا مفاد دیکھتا ہے۔ لبنان پر مسلسل حملے اور ایران کے ساتھ کسی بھی مفاہمت کی مخالفت اسی حکمت ِ عملی کا حصّہ ہیں کہ ایسا ماحول قائم رکھا جائے جہاں جنگ کا خطرہ مسلسل موجود رہے اور خطہ عدم استحکام کا شکار رہے۔
بھارت کے مسلسل پاکستان مخالف پراپیگنڈے کو ردّ کرتے ہوئے اب دنیا پاکستان کو ایک ذِمّہ دار‘ سنجیدہ اور امن پسند ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے‘ جو عالمی مسائل کے حل میں مثبت کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی میں پاکستان کا کردار ایک تاریخی سنگ ِ میل کی حیثیت رکھتا ہے‘ جس نے نہ صرف کسی ممکنہ بحران کو ٹالا بلکہ پاکستان کو عالمی سفارت کاری میں نئی پہچان بھی عطا کی۔ اب ضرورت اِس امر کی ہے کہ اس کامیابی کو وقتی نہ سمجھا جائے بلکہ ایک مستقل پالیسی کا حصّہ بنایا جائے‘ تاکہ پاکستان مستقبل میں بھی اسی طرح عالمی امن‘ استحکام اور تعاون کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے اور دنیا میں ایک مثبت اور تعمیری قوت کے طور پر اپنی جگہ مزید مستحکم کرے۔ایسے میں دنیا بھر کے مسلم ممالک‘ خصوصاً عرب ممالک کو یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہیے کہ حقیقت میں اُن کادوست کون ہے اور دشمن کون!
عالم ِ اسلام نے اگر اب بھی اپنی ترجیحات درست نہ کیں‘ اپنے اختلافات کو ختم نہ کیا‘ مشترکہ لائحۂ عمل اختیار نہ کیا اور ’’نیٹو‘‘ کی طرز کا فوجی اتحاد قائم نہ کیا تو آنے والا وقت مزید آزمائشوں کا پیغام لے کر آسکتا ہے۔ اگر بصیرت‘ حکمت اور اخلاص کے ساتھ اتحاد کی راہ اختیار کی جائے تو یہی بحران نئے عروج کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے۔وقت کا تقاضا واضح ہے کہ یا تو اُمّت متحد ہو کر اپنے مستقبل کا تعین خود کرے‘ یا پھر تقسیم در تقسیم کا شکار ہو کر دوسروں کے فیصلوں کی تابع بن جائے۔ انتخاب بے شک ہمارے ہی ہاتھ میں ہے۔ ع : ’’فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم!‘‘ اللہ تعالیٰ عالم ِ اسلام کے سربراہان کو صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!