بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مکّہ معاہدہ: اُمّت ِمسلمہ کی نئی صف بندی یا امتحان؟
ستمبر کا مہینہ ہر سال عالمی سفارت کاری کا مرکز بن جاتا ہے۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس‘ سلامتی کونسل کے مباحث‘ عالمی امن‘ انسانی حقوق‘ پائیدار ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے خوش نما نعروں سے دنیا کی فضا گونجنے لگتی ہے۔ طاقتور ممالک کے سربراہ ایک دوسرے سے مصافحے کرتے ہیں‘ مشترکہ اعلامیے جاری ہوتے ہیں اور دنیا کو ایک بہتر مستقبل کی نوید سنائی جاتی ہے۔ لیکن انہی ایوانوں سے ہزاروں میل دور غزہ کے ملبے تلے دبی انسانیت‘ فلسطین کے بے گھر خاندانوں‘ کشمیر کی خاموش وادیوں‘ سوڈان کے خون آلود میدانوں اور دیگر مظلوم خطوں کی آہیں ایک سوال بن کر اُبھرتی ہیں کہ کیا عالمی امن صرف تقریروں کا موضوع رہ گیا ہے یا اس کے لیے کوئی حقیقی اخلاقی بنیاد بھی باقی ہے!یہ سوال صرف اقوامِ متحدہ سے نہیں بلکہ پوری انسانیت سے ہے اور سب سے بڑھ کر اُمّت ِمسلمہ سے ۔
ایسے وقت میں جب غزہ کی جنگ نے نہ صرف ہزاروں جانیں نگل لی ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا رُخ بھی بدل کررکھ دیا ہے‘خطے میں نئے اتحاد بن رہے ہیں۔ پرانے تعلقات ازسرِنو ترتیب پا رہے ہیں۔ عالمی طاقتیں آنے والے عشروں کے لیے اپنے اپنے مفادات کا نقشہ مرتب کر رہی ہیں‘ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پورے منظرنامے میں مسلمان اکثریت فیصلہ ساز نہیں بلکہ فیصلوں سے متاثردکھائی دیتی ہے۔
اِس میں شک نہیں کہ غزہ کی تباہی نے پوری دنیا پر ایک حقیقت آشکار کر دی ہے کہ جدید اسلحہ‘ سفارتی طاقت اور معاشی مفادات کے اِس دور میں محض اخلاقی اپیلیں مظلوم قوموں کو انصاف نہیں دلا سکتیں۔ بین الاقوامی قانون کی باتیں اُس وقت تک مؤثر نہیں ہوتیں جب تک اُن کے پیچھے اجتماعی قوت‘ سیاسی عزم اور اخلاقی استقلال موجود نہ ہو۔ گزشتہ کئی برسوں میں بارہا یہ منظر سامنے آیا کہ سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قراردادیں زیر ِ بحث آئیں‘ مگر ویٹو کی سیاست نے اُنہیں روک دیا اور ظلم اپنی پوری شدت کے ساتھ جاری رہا۔
قرآن مجید سورۃ الحجرات‘آیت۱۰ میں جب اہلِ ایمان کو {اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ} کہہ کر مخاطب کرتا ہے تو وہ محض ایک روحانی رشتہ بیان نہیں کرتا بلکہ ایک ایسی اجتماعی حقیقت کی بنیاد رکھتا ہے جس میں ایمان‘ سیاست‘ معیشت‘ تہذیب اور اجتماعی ذمّہ داری ایک دوسرے سے جدا نہیں رہتے۔ مسلمانوں کی اصل طاقت اُن کے وسائل سے پہلے اُن کی وحدت تھی۔ جب تک یہ وحدت قائم رہی‘ اُمّت نے دنیا کی قیادت کی‘ لیکن جب اللہ کی رسی کو ہاتھ سے چھوڑا گیا تویہ وحدت منتشر ہوگئی ۔اقوامِ متحدہ کی عمارت کے سامنے آج دنیا کے تقریباً تمام ممالک کے پرچم لہراتے ہیں‘ لیکن اُمّت ِمسلمہ کا کوئی مشترکہ پرچم نہیں۔ دوارب سے زائد مسلمانوں کے باوجود کوئی ایسی متفقہ سیاسی حکمت ِعملی موجود نہیں جوعالمی سطح پراُن کے اجتماعی مفادات کی ترجمانی کرسکے۔ آج اُمّت تو موجود ہے مگر اُس کی اجتماعی قوت منتشر ہے۔
یہ انتشارصرف فلسطین تک محدود نہیں۔کشمیر سے سوڈان تک‘ شام سے یمن تک‘جہاں کہیں بھی مسلمان بحران کا شکار ہیں‘وہاں اُمّت کی بے بسی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔اس کا سبب صرف بیرونی سازشیں نہیں بلکہ مسلمانوں کی داخلی کمزوریاں بھی ہیں۔ قومی مفادات نے اُمّت کے اجتماعی تصورکو پس منظر میں دھکیل دیا‘ فرقہ واریت نے اخوت کو مجروح کیا اور معاشی انحصار نے سیاسی خودمختاری کو محدود کر دیا۔
اسی بدلتے ہوئے منظرنامے میں ۷ اگست ۲۰۲۶ء کو مکّہ مکرمہ میں پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ معاہدہ خطے کے بدلتے ہوئے سیاسی و تزویراتی حالات میں ایک نئی سمت کی علامت بھی سمجھا جارہا ہے۔یہ معاہدہ اچانک وجود میں نہیں آیا بلکہ اس کی بنیاد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے جاری دفاعی تعاون اور ستمبر۲۰۲۵ء میں دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے میں موجود تھی۔ بعدازاں علاقائی حالات اور دونوں ملکوں کے مفادات نے اِس دائرے کومزید وسیع کرنے کی ضرورت پیدا کی اور ترکیہ کی شمولیت اسی عمل کا اگلا مرحلہ بنی۔یوں پاکستان کی عسکری صلاحیت‘ ترکیہ کی فوجی و تکنیکی قوت اور سعودی عرب کی معاشی و جغرافیائی اہمیت ایک ہی دفاعی بندوبست میں جمع ہوگئی۔ اجتماعی دفاع کی شق بظاہر نیٹو کے آرٹیکل۵ سے مشابہ ہے‘ یعنی کسی ایک رکن پر حملہ مشترکہ خطرہ سمجھا جائے گا۔ تاہم اس کے عملی خدوخال ابھی تشکیل پانے کے مرحلے میں ہیں۔ترکیہ کے مطابق تینوں ممالک سیاسی اورعسکری سطح پر اعلیٰ رابطہ کاری کا نظام قائم کریں گے۔مشترکہ فوجی مشقیں ہوں گی اور زمینی‘ فضائی‘ بحری اور سائبر شعبوں میں تعاون بڑھایا جائے گا۔ ڈرونز‘ الیکٹرانک وارفیئر‘ مصنوعی ذہانت اور دفاعی صنعت میں مشترکہ پیداواراورٹیکنالوجی کی منتقلی بھی اس تعاون کا حصہ ہوگی۔ اس طرح یہ معاہدہ صرف روایتی عسکری دفاع تک محدود رہنے کے بجائے جدید حربی تقاضوں کو بھی اپنے دائرے میں شامل کر سکتا ہے۔
معاہدے کے بعد ایک اہم سوال سامنے آیا کہ :کیا یہ نیا دفاعی بندوبست ایران کے خلاف بنایا گیا ہے؟ پاکستان کی حکومت نے اس تاثر کو واضح طور پر مسترد کیا۔معاہدے کو خطے کے دوسرے ممالک کے لیے بھی کھلا رکھا گیا ہے۔ یہ وضاحت اس لیے بھی اہم تھی کہ پاکستان پہلے ہی ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں شریک رہا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ سعودی عرب کے ساتھ اُس کا دفاعی معاہدہ ایران کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی کا ذریعہ بن جائے۔
ایران کا ردِّعمل بھی اسی تناظر میں خاصا اہم رہا۔ معاہدے کے بعد ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کواِس معاہدے سے خوف زدہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ ایران کی جانب سے اس نسبتاً محتاط ردِّعمل نے بھی یہ تاثر مضبوط کیا کہ مکّہ معاہدے کو فوری طور پرکسی نئے محاذ یا ایران مخالف فوجی اتحاد کے طور پر دیکھنا شاید قبل از وقت ہوگا۔تاہم مکّہ معاہدے کی اصل آزمائش بھی اسی مقام پر شروع ہوتی ہے۔ اگر کسی رکن ملک پر واقعی بڑا حملہ ہوتا ہے تو کیا باقی دونوں ممالک عملی فوجی مدد فراہم کریں گے؟
اس معاہدے کی ایک اور اہم جہت اس کا ممکنہ پھیلاؤ ہے۔ صدر رجب طیب اردوان نے مصر کی ممکنہ شمولیت کا ذکر کیا ہے۔ اگر مصر واقعی اس دائرے میں آتا ہے تو اس دفاعی بندوبست کی جغرافیائی اور سیاسی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے‘ کیونکہ پھر خلیج‘ جنوبی ایشیا‘ اناطولیہ اور شمالی افریقہ کی ایک بڑی مسلم طاقت ایک ہی وسیع تر دفاعی فریم ورک کا حصہ بن سکتی ہے۔
اس سارے معاملے کا حیران کن پہلو امریکی ردّ ِ عمل ہے۔ بظاہر یہ توقع تھی کہ امریکہ اس دفاعی بندوبست کو دیکھ کر محتاط یا تشویش پر مبنی ردّ ِعمل ظاہر کرے گا‘ لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’’بڑا‘ جرأت مندانہ اور پہلا اہم قدم‘‘ قرار دیا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا فی الوقت مکّہ معاہدے کو اپنے خلاف بننے والے کسی متبادل سکیورٹی نظام کے طور پر نہیں دیکھ رہا۔ دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے کہ امریکا اِس نئے بندوبست کو اپنی وسیع تر علاقائی حکمت ِعملی کے ساتھ متصادم نہیں سمجھتا‘ خصوصاً اس لیے کہ پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ تینوں ہی امریکا کے ساتھ مختلف سطحوں پر تعلقات رکھتے ہیں۔ تاہم عالمی سیاست میں مفادات بدلتے رہتے ہیں‘ ترجیحات تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور حالات کے ساتھ اتحادوں کی نوعیت بھی بدل سکتی ہے۔
کیا مکّہ معاہدہ اُمّت ِمسلمہ کے منتشر وجود کو کسی مشترکہ قوت میں تبدیل کرنے کی جانب پہلا قدم بن سکتا ہے یا یہ بھی موجودہ علاقائی صف بندیوں کا ایک محدود مظہر بن کر رہ جائے گا؟ اِس کا جواب آنے والے دنوں میں اِس پر ہونے والی عملی پیش رفت دے گی۔ تینوں ممالک اگر اپنے دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دیتے ہیں تو اِس کے اثرات یقیناً دُور رس ہوسکتے ہیں۔اگر یہ معاہدہ صرف مخصوص حالات سے نمٹنے یا چند ممالک کے باہمی مفادات کے تحفظ تک محدود رہ گیا تواِسے اُمّت کی اجتماعی قوت کی بحالی کا نقطۂ آغازقرار دینا مشکل ہوگا۔اُمّت کی حقیقی قوت اُس اجتماعی شعور میں ہے جو مسلمانوں کو اپنے مشترکہ مسائل‘ مشترکہ مفادات اور مشترکہ ذِمّہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔مکّہ معاہدے کو صرف پاکستان‘ سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات کے تناظر میں دیکھنا ناکافی ہے۔اِس میں اُمّت ِمسلمہ کے لیے ایک بڑا سبق بھی پوشیدہ ہے۔ مسلمان اگر اپنی جغرافیائی‘ معاشی‘ افرادی‘ عسکری اور تہذیبی قوتوں کو باہمی تعاون کے لیے استعمال کریں تو اُن کے پاس بھی عالمی سیاست میں باوقار کردار ادا کرنے کے لیے وسائل کی کوئی کمی نہیں۔
غزہ نے ہمیں یہ سبق انتہائی کرب کے ساتھ دیا ہے کہ صرف تعداد طاقت نہیں بنتی‘ وسائل کا ہونا بھی کافی نہیں اورمحض اخلاقی برتری بھی ظلم کو روکنے کے لیے ہمیشہ کافی نہیں ہوتی۔ قوت اُس وقت بنتی ہے جب وسائل‘ صلاحیت‘ نظم‘ سیاسی بصیرت‘ اجتماعی عزم اور واضح مقصد ایک سمت میں جمع ہوں۔
مکّہ معاہدے پر خوشی کا اظہار ضرور کیا جانا چاہیے‘اسے ایک اہم پیش رفت بھی قرار دیا جاسکتا ہے‘ لیکن اِسے اُمّت کی نجات کا حتمی حل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اسی طرح امریکی ردّ ِعمل پرمطمئن ہوجانا بھی دانش مندی نہیں۔عالمی سیاست میں جب کوئی بڑی طاقت کسی اقدام کی تعریف کرتی ہے تو یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ اُس تعریف کے پس پردہ اُس کے اپنے مفادات کیا ہیں۔ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اگر کسی دفاعی معاہدے کی وجہ سے فی الوقت کسی فریق کو پریشانی نہیں ہورہی تواس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ وہ مستقبل میں بھی سب کے لیے بے ضرررہے گا۔ اس لیے خوشی اور اطمینان کے حصول میں محتاط رہنا اور ہر پیش رفت کو اُمّت کے وسیع تر مفاد‘ خودمختاری اور طویل المدت حکمت ِعملی کی کسوٹی پر پرکھنا بے حد ضروری ہے۔
مکّہ مکرمہ سے شروع ہونے والا یہ دفاعی سفر اگر باہمی اعتماد‘ مشترکہ دفاع‘ معاشی تعاون‘ تکنیکی خود کفالت اور بالآخر اُمّت کے وسیع تر اجتماعی مفاد کی طرف بڑھتا ہے تو یہ ایک نئے دور کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ دنیا اس معاہدے کو کیا نام دیتی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ مسلمان خود اِسے کس مقصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر مقصد صرف اپنے اپنے قومی مفادات کا تحفظ ہے تو پھر یہ محض ایک اور علاقائی اتحاد ہوگا‘ لیکن اگراِس کے ذریعے اُمّت کے منتشر شیرازے کو جوڑنے‘ مظلوم مسلمانوں کے لیے مؤثر اجتماعی قوت پیدا کرنے اور عالمی سیاست میں باوقار و خودمختار کردار ادا کرنے کی راہ ہموار ہوتی ہے تو مکّہ کا یہ معاہدہ ایک بڑے سفر کی ابتدا بن سکتا ہے۔ کیا اُمّت ِمسلمہ دوسروں کے فیصلوں کا انتظارکرتی رہے گی یا اپنی قوت کو منظم کرکے اپنے مستقبل کے فیصلوں میں خود شریک ہوگی؟
دعاہے کہ اللہ تعالیٰ اس معاہدے کو علامہ اقبال کی اس پیشین گوئی کا مصداق بنائے ؎
عطا مؤمن کو پھر درگاہِ حق سے ہونے والا ہے
شکوہِ ترکمانی ‘ ذہن ِہندی‘ نطق ِاعرابی!