ڈیورنڈ لائن: تاریخی حقائق
گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے پاک افغان بارڈر پر کچھ تلخ واقعات کی خبریں گردش کررہی ہیں ۔ وائرل ہونے والی کچھ ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ بارڈر پر لگی باڑ کو افغان طالبان ہٹا رہے ہیں اور ان کا ایک سینئر اہلکار پاکستانی فوجیوں کو کہہ رہا ہے کہ سرحد پردوبارہ باڑ لگانے کی کوشش نہ کی جائے۔ اس سے قبل طالبان حکومت کے قائم مقام وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ڈیورنڈ لائن کا مسئلہ ابھی حل طلب ہے‘ اس وجہ سے پاکستان کو اس پر باڑ لگانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
پاک افغان بارڈر کے تقریباًدوہزارچھ سوکلومیٹر حصے کو ڈیورنڈلائن کہا جاتا ہے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد جب برطانیہ اس علاقے پر قابض ہوگیا تو وہ چاہتا تھا کہ اس کے اور روس کے درمیان ایک بفر سٹیٹ ہو۔ لہٰذاتاجِ برطانیہ کے وزیر برائے امورِ خارجہ ڈیورنڈ اور والی ٔ کابل عبدالرحمان خان کے درمیان پہلے اس حوالے سے مراسلات کا تبادلہ ہوا اور بعد ازاں ۱۲نومبر ۱۸۹۳ء کو دونوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس میں اس ڈیورنڈلائن کو طے کیا گیا۔ اس معاہدے میں قرار پایا تھا کہ دونوں فریق ڈیورنڈ لائن کے آر پار اپنی اپنی حدود میں رہیں گے اور ایک دوسرے سے جنگ نہیں کریں گے۔ اس معاہدے کے پیچھے برطانیہ کا اصل مقصد روس کو کاؤنٹر کرنا تھا۔ گویا ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے افغانستان آغاز سے ہی آن بورڈ تھا۔البتہ اس علاقے میں موجود قبائل نے اس تقسیم کو تسلیم نہیں کیا تھا‘ کیونکہ یہ قبائل دونوں طرف آباد تھے۔ اسی وجہ سے جب۱۸۹۳ء میں ڈیورنڈ لائن قائم ہوئی تو۱۹۱۹ء تک تین اینگلو افغان جنگیں ہوئیں۔تیسری اینگلو افغان جنگ کے خاتمے پر ڈیورنڈ معاہدہ میں ترمیم کرکے نیا اینگلو افغان معاہدہ ہوا۔ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد ۱۹۷۶ء میں افغانستان کے صدر سردار داؤد خان نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا اور ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈیورنڈ لائن کو سرکاری طور پر تسلیم کیا۔
نائن الیون کے بعد امریکہ افغانستان میں در آیا تو یہ تنازع ایک بار پھر گرم ہو گیا اور افغانستان میں امریکہ کی کٹھ پتلی حکومتوں نے اس تنازع کو مزید ہوا دی۔ اصل میں پاکستان اور افغانستان کا بارڈر پہلے بالکل ایک سافٹ بارڈر تھا‘ لوگوں کے آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔جب نائن الیون کے بعد پاکستان میں دہشت گردی عروج پر چلی گئی تو پاک فوج کو مجبوراً وہاں پر باڑ لگانی پڑی‘ کیونکہ اُس وقت افغانستان میں اشرف غنی جیسے لوگوں کی حکومت تھی جنہیںامریکہ اور بھارت کی پشت پناہی حاصل تھی۔ سی آئی اے اور’ ’را‘‘ وہیں سے دہشت گرد تیار کرکے پاکستان میں بھیجتے تھے ۔ اگر یہ باڑ نہ لگائی گئی ہوتی تو پاکستان میں ابھی تک خوں ریزی جاری رہتی‘ کیونکہ حامد کرزئی اور اشرف غنی نے پاکستان کے حوالے سے اپنے عوام کے ذہنوں میں اتنازہر گھول دیاتھااور امریکہ نے اس کام کے لیے اتنی فنڈنگ کی تھی کہ وہاں کے عوام پاکستان کو اپنا مخالف سمجھنے لگے تھے۔
اب وہاں اگرچہ افغان طالبان کی حکومت ہے جو پاکستان سے کشیدگی نہیں چاہتے لیکن عوام میں ایسا طبقہ ابھی بھی موجود ہے جو اشرف غنی ‘ بھارت اور امریکہ کا پالا ہوا ہے۔وہ اس مسئلہ کو دوبارہ ہوا دے رہا ہے۔ ظاہرہے افغان طالبان کو بھی اپنے عوام کا اعتماد رکھنا ہے اور وہ اس تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ جیسا کہ طالبان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت سرحدی معاملے کو اچھے ہمسایوں کی طرح افہام و تفہیم اور بات چیت کے ساتھ حل کرنے پر یقین رکھتی ہے اور اس معاملے کو سفارتی ذریعے سے حل کرے گی‘ لیکن طاغوتی طاقتوں کی پوری کوشش ہوگی کہ اس سرحد پر کشیدگی بڑھے۔
نوآبادیاتی طاقتوں کا سب سے بڑا مقصد اُمّت ِمسلمہ کو تقسیم و تفریق کے ذریعے کمزور کرنا تھا تاکہ مسلمان آپس میں لڑتے اور الجھتے رہیں۔وہ اپنا اجتماعی مقصد اور اجتماعی دینی فرائض بھول جائیں اور دین کی جگہ وطن کو اوڑھنا بچھونا بنا لیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے میدانِ جنگ میں کم ہی شکستیں کھائی ہیں لیکن باہم دست وگریباں ہو کرزیادہ نقصان اٹھایاہے۔ اُمّت ِمسلمہ میں سازشوں کا معاملہ توجنگ ِجمل(۶۵۶ء/۳۶ھ) سے شروع ہوگیا تھا۔ پھر جنگ ِصفین( ۶۵۷ء /۳۷ھ ) ہوئی تھی۔ ان جنگوں میں مسلمانوں کوآپس میں لڑایا گیا۔ ان سازشوں کا آغاز ایک یہودی عبداللہ بن سبا سے ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے یہی صورتِ حال بعد میں بھی جاری رہی۔ مسلمان اس کا صحیح ادراک نہ کر سکے جب کہ دشمن سمجھ چکے تھے کہ مسلمانوں کو شکست دینے کا بس ایک ہی طریقہ ہے کہ ان میں آپس میں اختلاف ڈالا جائے۔سلطنت ِعثمانیہ کے خاتمے کے لیے مسلمانوں کو آپس میں لڑا دیا گیا۔ عربوں نے بغاوت کی اور ترک پورے مشرقِ وسطیٰ میں ہار گئے۔اس طرح پہلی جنگ عظیم میں سلطنت ِعثمانیہ کا خاتمہ ہوگیا۔اسی طرح اسرائیل کامقابلہ تمام عرب ممالک کے ساتھ تھا۔ چھوٹا سا اسرائیل عرب ممالک کی آپس کی چپقلش‘ذاتی مفاد وغیرہ کی وجہ سے ان پرحاوی ہے۔
پھرافغانستان کی مثال لیں۔ ۱۹۷۹ءسے ۱۹۸۹ء تک سات مجاہدین جماعتوں کا اتحاد تھاجس کی وجہ سے انہوں نے روس کو شکست دی‘ لیکن وہی اتحاد ۱۹۸۹ء سے۱۹۹۶ء تک آپس میں لڑتا رہا یالڑایاگیا جس کی وجہ سے ان کی ہوا اُکھڑ گئی۔خون خرابہ ہوا‘ بدامنی ہوئی اور افغانستان تہس نہس ہوگیا۔ پھر طالبان آئے تو انہوں نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں امن قائم کیا۔نائن الیون کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور پھر بیس سالہ جدّوجُہد کے بعد افغان طالبان نے امریکہ اور نیٹو کو شکست دی۔یعنی مسلمانوں کو جب بھی شکست ہوئی‘آپس کی لڑائی کی وجہ سے ہوئی اور جہاں مسلمان غالب ہوئے وہاں متحد ہونے کی وجہ سے ہی ہوئے۔
خلافت کے خاتمہ کے بعد جب نسل اور قومیت کی بنیاد پر ریاستیں وجو دمیں آئیں تو مسلم اُمّہ کے اندر سے ’’اَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَھُمْ‘‘ والامعاملہ ختم ہونا شرو ع ہوگیا۔یعنی مسلمان ممالک آپس میں اتحاد کرنے کی بجائے ایک دوسرے سے لڑنے بھڑنے لگے۔تاریخ کو سامنے رکھیں توسولہویں صدی میں یورپ میں لبرل ازم کانظریہ پروان چڑھا اور پھرایک نظام کی شکل اختیار کرتا چلا گیا ۔اسی نظریے پرانہوں نے سیاسی‘ معاشی‘ معاشرتی‘ تعلیمی‘ عدالتی غرضیکہ ہرقسم کے نظاموں کوترتیب دینا شروع کر دیا۔ جب سیکولرازم اور لبرل ازم کی یہ تہذیب اپنے عروج کی طرف بڑھ رہی تھی تومسلم تہذیب اور خلافت زوال کی طرف جارہی تھی۔۱۸۳۹ء میں خلافت ِعثمانیہ میں یہ فیصلہ کردیاگیا کہ اب عدالتوں میں شریعت کی بنیاد پرفیصلے نہیں کیے جائیں گے۔یعنی اُسی وقت سے قوم پرستی کی داغ بیل پڑنا شروع ہوگئی‘اور جب ۱۹۲۴ء میںخلافت ِ عثمانیہ کاخاتمہ ہوا تو عین اسی دن چالیس قومی ریاستیں قائم ہوگئیں۔ اس کا بڑا نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب کاسیکولرنظام پوری دنیامیں نافذ ہوگیا۔ یعنی سیاسی ‘معاشی اور بالخصوص معاشرتی نظام بھی انہی کا رائج ہونا شرو ع ہوگیا۔ قومیت کی بنیاد پر قائم ریاستوںکانقصان یہ ہوا کہ اُمّت کے اندر تنازعات پیدا ہوگئے ۔ کشیدگیاں پہلے بھی ہوتی تھیں لیکن وہ اجتماعی سطح پرحل ہوجاتی تھیں ۔اب ریاستیں ایک دوسرے کی مخالف بننا شروع ہوگئیں اور ’’میرا ملک‘‘ اور’’تمہاراملک‘‘ کانعرہ لگنا شروع ہوگیا۔ اسلام بحیثیت دین پس ِپشت ڈال دیا گیا اور وہ انفرادی سطح تک محدود ہوکر صرف مذہب کی شکل اختیار کرگیا ۔ اس کے ساتھ خلافت اورجہاد کا تصوّر بھی لوگوں کے ذہنوں سے محو کردیا گیا یا کروا دیا گیا۔ پھر’’ داعش‘‘ جیسی تنظیمیںبناکر اس تصوّر کو بدنام کردیا گیا۔قرآن سے دُوراور حضورﷺ سے تعلق کوکمزور کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔پھر افغانستان میں معجزہ ہوا کہ افغان طالبان نے پہلے اسلامی حکومت قائم کرلی اور دوسری مرتبہ دنیا کے سب سے بڑے اتحاد کو شکست دے دی۔اب امریکہ نے پاکستان اور افغانستان کوبریکٹ کرنا شروع کر دیا اور اپنا نیا بیانیہ یہ بنایا کہ ’’ ایف پاک‘‘ ایک ایسا ریجن ہے جو اُن کے عالمی نظام کے لیے
خطرہ ہے۔ صہیونی دوسرے مذاہب کی پیشین گوئیوں پر بھی نظر رکھتے ہیں ۔ مسند احمد اور بیہقی کی ایک حدیث کے مطابق یہاں مسلم اتحاد بنتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس حدیث میں حضورﷺ نے مسلمانوں کے پانچ ادوار گنوائے ہیں۔ پہلادورِنبویؐ‘ دوسر ا خلافت ِراشدہ کا دور‘ پھرکاٹ کھانے والی ملوکیت کادور‘پھر جبر اور غلامی کا دور جو نظریاتی غلامی کی شکل میں ابھی تک جاری ہے ۔ اس کے بعدپانچواں دور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کادور ہوگا۔ دیگر احادیث میں خراسان کے علاقے کا نام آتاہے۔ ایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ خراسان سے کالے جھنڈوں والا ایک لشکر نکلے گا اور اس کو کوئی نہیں روک سکے گایہاں تک کہ وہ ایلیا میں جاکے اپنے جھنڈے گاڑ دے گا ۔ایلیاموجودہ بیت المقدس کی سرزمین کو کہا گیا ہے جہاں اس وقت اسرائیل کی ناجائز ریاست قائم ہے ۔
صہیونی طاقتیں ان تمام پیشین گوئیوں سے واقف ہیں‘اس لیے وہ کبھی نہیں چاہیں گی کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مثالی تعلقات قائم ہوں ۔ اسی مقصد کے تحت پچھلے بیس سالوں میں امریکیوںنے پوری کوشش کی کہ افغانستان میں انتشار کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایاجائے۔ اس کوشش میں بھارت نے بھی اپنا بھرپور حصّہ ڈالا ۔ افغان طالبان کے حکومت میں آنے کی وجہ سے چونکہ طاغوتی قوتوں کی باقی تمام سازشیں دفن ہو چکی ہیں اس لیے دوبارہ سرحدی تنازع کو اٹھایا جارہا ہے اور اس کو بنیاد بنا کر خطے کا امن صہیونی مقاصد کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
ضرورت اس امرکی ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ ہماری اصل بنیاد اسلام ہے۔ اگر ہم اسلام کی طرف پیش رفت کریں گے تواسی میں ہماری سلامتی اور نجات ہے۔ مسلمانوں کوچاہیے کہ قومی ریاستیںہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے قریب آئیں ‘ اپنے اختلاف ختم کریں اور مل کرنظامِ خلافت کی طر ف پیش قدمی کریں تاکہ مسلمانوں کی مرکزیت قائم ہو۔ایک خلیفہ ہوجوساری اُمّت ِ مسلمہ کا حکمران ہو ۔ یہ ہمارا آئیڈیل نظام ہے ۔ بقول اقبال ؎
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر
چونکہ اس وقت ہم ایک اُمّت ِمسلمہ نہیں ہیں لہٰذا ہمیں اس طرح کام کرنا چاہیے کہ جس ریاست میں ہم رہتے ہیں اس کاتحفظ یوں کریں کہ دوسری مسلمان ریاست کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ خلافت کے نظام کوہد ف بنا کرآگے بڑھیں‘کیونکہ اس ادارے کو ختم کرنے کے بعد ہی ہمارادشمن دلیر اورجری ہوا۔ اگر خلافت کانظام دوبارہ قائم ہوجائے تو جیسے ہم پہلے دنیا پر غالب تھے اسی طرح اب بھی عالم ِاسلام ساری دنیا پر غالب ہوگا۔ان شاء اللہ!***
tanzeemdigitallibrary.com © 2026