دورۂ ترجمۂ قرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
سُورۃُ الْحَشْر
آیات ۱۱ تا ۱۷
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِہِمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَکُمْ وَلَا نُطِیْعُ فِیْکُمْ اَحَدًا اَبَدًا ۙ وَّاِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّکُمْ ۭ وَاللہُ یَشْھَدُ اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ (۱۱) لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَھُمْ ۚ وَلَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَہُمْ ۚ وَلَئِنْ نَّصَرُوْھُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ ۣ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ (۱۲) لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَھْبَۃً فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنَ اللہِ ۭ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَھُوْنَ (۱۳) لَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوْ مِنْ وَّرَاۗءِ جُدُرٍ ۭ بَاْسُھُمْ بَیْنَہُمْ شَدِیْدٌ ۭ تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعًا وَّقُلُوْبُھُمْ شَتّٰی ۭ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ (۱۴) کَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ ۚ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (۱۵)کَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اکْفُرْ ۚ فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْۗءٌ مِّنْکَ اِنِّیْٓ اَخَافُ اللہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ (۱۶) فَکَانَ عَاقِبَتَھُمَآ اَنَّہُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْھَا ۭ وَذٰلِکَ جَزٰۗؤُا الظّٰلِمِیْنَ (۱۷)
آیت۱۱{اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ نَافَقُوْا}’’کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جو نفاق میں مبتلا ہیں‘‘
{یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِہِمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ}’’وہ کہتے ہیں اپنے اُن بھائیوں سے جنہوںنے اہل ِ کتاب میں سے کفر کیاہے‘‘
{لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَکُمْ}’’کہ اگر تم لوگوں کو (کبھی مدینہ سے) نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے‘‘
یہودیوں کے ساتھ ان منافقین کے حلیفانہ تعلقات تھے۔ ان تعلقات اور روابط کی بنیاد پر منافقین وقتاً فوقتاً انہیں یقین دلاتے رہتے تھے کہ ہم آخری دم تک تمہارا ساتھ دیں گے اور اگر تم لوگوں کو کبھی مدینہ سے بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی تو ایسی مشکل گھڑی میں ہم شانہ بشانہ تمہارے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
{وَلَا نُطِیْعُ فِیْکُمْ اَحَدًا اَبَدًالا}’’اور تمہارے معاملے میں ہم کسی کی بھی اطاعت نہیں کریں گے‘‘
{وَّاِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّکُمْ ط}’’اور اگر تمہارے ساتھ جنگ کی گئی تو ہم لازماً تمہاری مدد کریں گے۔‘‘
منافقین انہیں یقین دلاتے رہتے تھے کہ ہم محض وقتی طور پر بعض مصلحتوں کی وجہ سے مسلمانوں میں شامل ہوئے ہیں اور یہ کہ اس وجہ سے تمہارے ساتھ ہمارے پرانے دوستانہ تعلقات بالکل متأثر نہیں ہوں گے۔ چنانچہ تمہارے ساتھ حق دوستی نبھانے میں کوئی مصلحت بھی ہمارے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ ہم بعض معاملات میں رسول اللہﷺ کا حکم مانتے بھی ہیں ‘ لیکن تمہارے معاملے میں ہم ان کے حکم کو بھی کوئی اہمیت نہیں دیں گے۔اگر مسلمانوں نے کبھی تمہارے خلاف کوئی اقدام کرنے کی کوشش کی تو ہم ان کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے تمہارا ساتھ دیں گے۔
{وَاللہُ یَشْہَدُ اِنَّہُمْ لَـکٰذِبُوْنَ (۱۱)}’’اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔‘‘
آیت ۱۲{لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَہُمْ ج}’’ اگر وہ نکالے گئے تو یہ اُن کے ساتھ نہیں نکلیں گے۔‘‘
{وَلَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَہُمْ ج}’’اور اگر اُن سے جنگ کی گئی تو یہ اُن کی مدد نہیں کریں گے۔‘‘
{وَلَئِنْ نَّصَرُوْہُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَقف ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ (۱۲)}’’اور اگر انہوں نے کبھی اُن کی مدد کی بھی تو پیٹھ دکھا دیں گے ‘ پھران کی کہیں سے مدد نہیں ہو سکے گی۔‘‘
منافقین اپنے کردار و عمل سے ثابت کر چکے ہیں کہ وہ پست حوصلہ‘ بزدل اور جھوٹے لوگ ہیں۔ اگر ان میں جوانمردی اور غیرت و حمیت کی کوئی رمق ہوتی تو یہ دوغلا پن اختیار نہ کرتے‘بلکہ ایمان لانے کے بعد سچّے مسلمانوں کا طرزِعمل اختیار کرتے کہ ع ’’ہرچہ بادا باد ماکشتی در آب انداختیم!‘‘ لہٰذا اپنے دعووں کے مطابق یہ کبھی بھی یہودیوں کا ساتھ نہیں دیں گے ‘اور اگر ان میں سے کوئی اِکا دُکاسرپھرے لوگ حق ِدوستی نبھانے کے جوش میں یہودیوں کے ساتھ کہیں کھڑے ہو بھی گئے تو مشکل وقت آنے پر وہ بھی میدان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔
آیت ۱۳{لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَہْبَۃً فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِّنَ اللہِ ط} ’’(اے مسلمانو!) یقیناً تمہارا ڈر ان کے دلوں میں اللہ کی نسبت شدید تر ہے۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ سے اتنا نہیں ڈرتے جتنا تم لوگوں سے ڈرتے ہیں۔
{ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ(۱۳)} ’’یہ اس لیے ہے کہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔‘‘
یہ لوگ سمجھ بوجھ سے عاری ہیں۔ انسان کی اصل سمجھ اور عقل تو وہ ہے جو اسے اللہ سے متعارف کرائے اور ایمان کی راہ سجھائے۔ اسی طرح انسان کے لیے علم بھی وہی فائدہ مند ہے جو اسے اس حقیقت سے آگاہ کر دے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے اور دنیا کی زندگی بس کھیل اور تماشا ہے۔ چونکہ منافقین ایسی عقل سے بیگانہ اور ایسے علم سے نابلد ہیں اس لیے وہ اللہ سے ڈرنے کے بجائے انسانوں سے ڈرتے ہیں اور آخرت کی قیمت پر دنیا سنوارنے کی فکر میں مگن ہیں۔
آیت ۱۴{لَا یُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوْ مِنْ وَّرَآئِ جُدُرٍط} ’’یہ کبھی اکٹھے ہو کر تمہارے خلاف جنگ نہیں کریں گے ‘سوائے اس کے کہ قلعہ بند بستیوں میں (رہ کر لڑیں) یا دیواروں کے پیچھے سے۔‘‘
{بَاْسُہُمْ بَیْنَہُمْ شَدِیْدٌط} ’’ان کے آپس کے جھگڑے بہت سخت ہیں۔‘‘
ان کے باہمی جھگڑوں اور مخاصمت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بزدلی اور خود غرضی ان میں سے ہر ایک کے مزاج کا جزوِلاینفک بن چکی ہے۔ ظاہر ہے اگر یہ لوگ اللہ اور رسولﷺ سے مخلص نہیں ہیں تو آپس میں ایک دوسرے سے کیسے مخلص ہو سکتے ہیں۔
{تَحْسَبُہُمْ جَمِیْعًا وَّقُلُوْبُہُمْ شَتّٰی ط} ’’تم انہیں متحد گمان کرتے ہو ‘حالانکہ ان کے دل پھٹے ہوئے ہیں۔‘‘
ہمارے موجودہ زمانے کے سیاسی اتحاد بھی بدقسمتی سے بالکل یہی نقشہ پیش کرتے ہیں ‘حتیٰ کہ ’’تحریک نظامِ مصطفیﷺ ‘‘کے نام پر بننے والے متحدہ محاذ کے راہنمائوں کے بھی باہمی اختلافات اس قدر شدید تھے کہ ان میں سے کئی علماء ایک دوسرے کی اقتدا میں نماز تک ادا کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
{ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ(۱۴)}’’یہ اس لیے کہ یہ ایک ایسا گروہ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔‘‘
آیت ۱۵{کَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِہِمْ ج}’’(ان کا وہی حال ہو گا) جیسے اُن لوگوں کا معاملہ ہوا جو ان سے پہلے قریب ہی اپنے کیے کی سزا چکھ چکے ہیں۔‘‘
اس سے یہودی قبیلہ بنو قینقاع کے لوگ مراد ہیں جنہیں ۲ہجری میں غزوئہ بدر کے بعد مدینہ سے جلاوطن کیا گیا تھا‘جبکہ بنونضیر کی جلاوطنی ‘ جس کا ذکر ہم اس سورت میں پڑھ رہے ہیں ‘۴ ہجری میں عمل میںآئی۔ اسی طرح ۵ہجری میں غزوئہ احزاب کے بعد یہودِ مدینہ کا تیسرا اور آخری قبیلہ بنوقریظہ بھی اپنے انجام کو پہنچ گیا۔
{وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (۱۵)} ’’اور ان کے لیے بہت ہی دردناک عذاب ہے۔‘‘
آیت ۱۶{کَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اکْفُرْج} ’’ جیسے شیطان کی مثال‘ جب وہ انسان کو کہتا ہے کہ کفر کر!‘‘
{فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓ ئٌ مِّنْکَ اِنِّیْٓ اَخَافُ اللہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ (۱۶)} ’’پھر جب وہ کفر کا ارتکاب کر لیتا ہے تو وہ (شیطان) کہتا ہے کہ مَیں تم سے لاتعلق ہوں‘ مَیں تو ڈرتا ہوں اللہ سے جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔‘‘
آیت ۱۷{فَکَانَ عَاقِبَتَہُمَآ اَنَّہُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْہَاط}’’تو ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ وہ آگ میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔‘‘
{وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ(۱۷)}’’اور یہی ہے بدلہ ظالموں کا۔‘‘
انسان اور شیطان کی اس ’’جوڑی‘‘ کا ذکر سورئہ ق میں ہم پڑھ چکے ہیںکہ کسی کافر‘ مشرک اور گنہگار کا جو قرین (ساتھی) شیطان ہو گا وہ اس کے بارے میں کیاکہے گا : {وَقَالَ قَرِیْنُـہٗ ہٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌ(۲۳)}’’اور اس کا ساتھی کہے گا :(اے پروردگار!) یہ جو میری تحویل میں تھا‘ حاضر ہے!‘‘اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ملے گا: {اَلْقِیَا فِیْ جَہَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیْدٍ (۲۴)}’’ جھونک دو جہنّم میں ہر ناشکرے سرکش کو‘‘۔اس کے بعد کی دو آیات میں اس جہنّمی کی مزید صفات بیان کی گئی ہیں۔ وہ شیطان پھر کہے گا:{رَبَّـنَا مَآ اَطْغَیْتُہٗ وَلٰــکِنْ کَانَ فِیْ ضَلٰلٍ بَعِیْدٍ(۲۷)}’’ پروردگار! مَیں نے اس کو گمراہ نہیں کیا ‘بلکہ یہ خود ہی بہت بڑی گمراہی میں مبتلا تھا‘‘۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے :{لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ اِلَـیْکُمْ بِالْوَعِیْدِ (۲۸) مَا یُـبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَمَآ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ(۲۹)}’’ اب میرے سامنے جھگڑو مت ‘جبکہ میں پہلے ہی تمہارے پاس وعید بھیج چکا ہوں۔میرے حضور میں بات تبدیل نہیں کی جاسکتی اور مَیں اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔‘‘
آیات ۱۸ تا ۲۴
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۚ وَاتَّقُوا اللہَ ۭ اِنَّ اللہَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (۱۸) وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللہَ فَاَنْسٰىھُمْ اَنْفُسَھُمْ ۭ اُولٰۗئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ (۱۹) لَایَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ۭ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمُ الْفَاۗئِزُوْنَ (۲۰) لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللہِ ۭ وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ (۲۱) ھُوَ اللہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ ۚ ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ (۲۲) ھُوَ اللہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ۚ اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُھَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ ۭ سُبْحٰنَ اللہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (۲۳) ھُوَ اللہُ الْخَالِقُ الْبَارِیُٔ الْمُصَوِّرُ لَہُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰی ۭ یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ وَھُوَالْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (۲۴)
اب ہم اس سورت کے تیسرے اور آخری رکوع کا مطالعہ کرنے جا رہے ہیں جو بہت اہم آیات پر مشتمل ہے۔ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ جب قرآن مجید کے کسی مقام یا کسی آیت کی خصوصی اہمیت کا ذکر کیا جاتاہے تو اس سے اس مقام یا آیت کا کوئی خاص پہلو یا خاص موضوع مراد ہوتاہے ‘ورنہ قرآن مجید کا توایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف اہم ہے۔ مثلاً قرآن مجید کے بعض مقامات فلسفہ و حکمت کے اعتبار سے اہم ہیں تو بعض دوسرے مقامات سائنسی حوالے سے لائق ِتوجّہ ہیں۔ بعض آیات روحِ دین سے بحث کرتی ہیں تو بعض ایمان کی ماہیت واضح کرتی ہیں۔ اسی طرح ہر آیت اور ہر مقام کی اہمیت اپنے موضوع اور مضمون کے اعتبار سے ہے۔ چنانچہ سورۃ الحشر کے آخری رکوع کی اہمیت فلسفہ اور تصوّف کے موضوع کی وجہ سے بھی ہے اور اسمائے حسنیٰ کے اس عظیم الشان گلدستے کے اعتبار سے بھی جو پورے قرآن میں بالکل یکتا اور منفرد ہے ۔اس سورت کی آخری تین آیات اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے ذکر کے حوالے سے سورۃ الحدید کی ابتدائی چھ آیات کے ہم وزن ہیں۔ ان تین آیات میں ایک ساتھ سولہ اسمائے حسنیٰ آئے ہیں اور ان میں سے آٹھ اسمائے حسنیٰ تو ایک ہی آیت میں ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں اسمائے حسنیٰ کے ایک مقام پر اکٹھے ہونے کی اور کوئی مثال قرآن مجید میں نہیں ملتی۔
آیت ۱۸{یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللہَ وَلْـتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍج} ’’اے اہل ِایمان! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان کو دیکھتے رہنا چاہیے کہ اُس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے!‘‘
ظاہر ہے یہ اُس کل کے دن کی بات ہے جو بعث بعد الموت کے بعد آنے والا ہے‘ جس دن ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوکر اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہوگا۔ اس دن کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ہر اہل ایمان اپنی زندگی اللہ کے تقویٰ کے سائے میں گزارنے کا اہتمام کرے اور اپنے اعمال کا مسلسل جائزہ لیتا رہے کہ اُس نے آخرت کے حوالے سے اب تک کیا کمائی کی ہے اور کائناتی حکومت کے امپیریل بینک میں اپنے کل کے لیے اب تک کتنا سرمایہ جمع کرایا ہے۔
{وَاتَّقُوا اللہَ ط اِنَّ اللہَ خَبِیْـرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(۱۸)} ’’اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو‘ یقیناً تم جو کچھ کررہے ہو اللہ اُس سے باخبر ہے۔‘‘
اس آیت میں بنیادی طور پر دو باتوں پر ز ور دیا گیا ہے: اللہ کا تقویٰ اور فکر ِآخرت۔ بلکہ اِتَّقُوا اللہَ کا حکم یہاں خصوصی تاکید کے طور پر دو مرتبہ آیا ہے ۔ تقویٰ سے عام طور پر اللہ کا خوف اور ڈر مراد لیا جاتا ہے۔ لیکن اس ضمن میں یہ اہم نکتہ ضرور مدّ ِنظر رہنا چاہیے کہ اس خوف میں شیر یا سانپ کے خوف کی طرح دہشت کا عنصر بالکل نہیں‘ بلکہ اس کی مثال ایسے خوف کی سی ہے جیسا خوف سعادت منداولاد اپنے والد سے محسوس کرتی ہے۔ اس خوف میں محبّت اور احتیاط کے جذبات غالب ہوتے ہیں کہ ہمارے والد ہم سے ناراض نہ ہوجائیں اور ہم کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے ہمارے والد کے جذبات و احساسات مجروح ہوں ۔چنانچہ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کے دل میں ہر وقت اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا ڈر رہے ----تقویٰ کے لغوی معنی بچنے کے ہیں‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ بچ کر زندگی گزارنا۔
آیت ۱۹{وَلَا تَـکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللہَ فَاَنْسٰىہُمْ اَنْفُسَہُمْ ط} ’’اور(اے مسلمانو دیکھنا!) تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کر دیا۔‘‘
{اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ (۱۹)} ’’ یہی لوگ ہیں جو فاسق ہیں۔‘‘
ہمارے لیے اس آیت کی اہمیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ علّامہ اقبال کے بیان کے مطابق انہوں نے اپنا فلسفہ خودی اسی آیت سے اخذ کیا تھا۔علامہ کے اس بیان کے راوی سیّد نذیر نیازی ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون میں اس حوالے سے ایک واقعہ رقم کیا ہے۔(یہ واقعہ انہوں نے ہمارے ہاں قرآن کانفرنس میں اپنے ایک لیکچر میں بھی بیان کیا تھا۔) وہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے علّامہ اقبال سے ان کے فلسفہ خودی کے ماخذ کے بارے میں سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے فلسفہ خودی کے ماخذ کے بارے میں بہت چہ میگوئیاں ہوتی ہیں۔ کوئی دعویٰ کرتا ہے کہ آپ نے یہ فلسفہ نطشے سے لیا ہے‘ کوئی اس حوالے سے کسی دوسرے مغربی فلاسفر کا نام لیتا ہے۔ بہتر ہو گا آپ خود واضح فرما دیں کہ آپ کے اس فلسفہ کا ماخذ کیا ہے؟ یہ سن کر علامہ اقبال نے انہیں فرمایا کہ آپ کل فلاں وقت میرے پاس آئیں ‘مَیں آپ کو اس کے ماخذ کے بارے میں بتائوں گا۔اس پر وہ بہت خوش ہوئے کہ شاعر مشرق اور حکیم الامّت انہیں یہ اعزاز بخش رہے ہیں کہ انہیں اس موضوع پر تفصیلی ڈکٹیشن دیں گے۔ لیکن اگلے دن جب وہ کاپی پنسل ہاتھ میںلیے مقررہ وقت پر حاضر خدمت ہوئے تو علامہ نے انہیں دیکھتے ہی کہا کہ ذرا قرآن مجید اٹھا لائو۔ پھر انہوں نے کہا کہ سورۃ الحشر کی یہ آیت (آیت ۱۹) نکال کر تلاوت کرو! اور انہیں مخاطب ہو کر کہا کہ یہ ہے میرے فلسفہ خودی کا ماخذ!
اب آیئے فَاَنْسٰىہُمْ اَنْفُسَہُمْ کے مفہوم پر غور کریں۔ کیا کوئی شخص اپنے آپ کو اس طرح بھول سکتا ہے کہ وہ خوداپنی شخصیت سے ہی واقف نہ رہے؟ کیا کوئی انسان ایسا بھی ہوسکتا ہے جسے اپنے پیٹ کا خیال نہ رہے؟یا جسے اپنی کوئی بیماری یاد نہ رہے؟ ظاہر ہے کوئی انسان اپنے جسم اور اس کے تقاضوں سے غافل نہیں ہوسکتا۔تومعلوم ہوا کہ حیوانی جسم کے علاوہ انسان کی کوئی اور حیثیت بھی ہے جسے وہ بھول جاتا ہے اور وہ ہے انسان کی اصل حقیقت یعنی اس کی ’’روح ‘‘۔ جہاں تک انسان کے اللہ کو بھلانے کا تعلق ہے اس کا ذکر سورۃ المجادلہ کی آیت ۱۹ میں بھی آیا ہے : {اِسْتَحْوَذَ عَلَیْھِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىہُمْ ذِکْرَ اللہِ ط}’’شیطان نے ان پر قابو پا لیاہے‘ پس انہیں اللہ کی یاد سے غافل کر دیاہے‘‘۔اب آیت زیر مطالعہ میں ایسے لوگوں کی اس سزا کا ذکر ہے جو انہیں دنیوی زندگی میں ہی مل جاتی ہے ۔یعنی جو لوگ شیطان کے بہکاوے میں آ کر اللہ کو بھول جاتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں ان کی اصل حقیقت سے غافل کر دیتا ہے۔ پھر ان لوگوں کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ وہ انسان ہیں‘ اشرف المخلوقات ہیں یا اللہ کے بندے ہیں۔ انہیں بس یہی یاد رہ جاتا ہے کہ بہت سے حیوانات کی طرح وہ بھی ایک حیوان ہیں۔
آج ہماری جدید تہذیب بھی مختلف انداز سے ہمیں یہی سبق پڑھانے کی کوشش میں ہے کہ انسان محض ایک حیوان ہے۔ اس فلسفے کو متعارف کرانے اور پروان چڑھانے میں بنیادی کردار ڈاروِن کے نظریہ ارتقاء (Evolution Theory) نے ادا کیا ہے ۔ اس تھیوری کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک حیوان اور انسان میں بنیادی فرق صرف ارتقاء کے مراحل اور مدارج کا ہے ۔جیسے گدھے اور گھوڑے میں صرف یہ فرق ہے کہ گدھا نچلے درجے کا (rough & coarse) جانور ہے‘ جبکہ گھوڑ اارتقاء کا ایک مزید مرحلہ طے کر کے نسبتاً بہتر درجے میں چلا گیا ہے اور ایک refinedاور تمکنت والاجانور ہے‘ اسی طرح کا فرق ایک گوریلے (chimpanzee) اور انسان میں ہے۔ یعنی گوریلے کے مقابلے میں انسان نسبتاً بہتر قسم کاجانور ہے‘ باقی ان دونوں کے جبلی تقاضے (instincts) اور محرکات (motives) میں کوئی فرق نہیں ہے ---- جدید سائیکالوجی بھی انہی خطوط پر چل رہی ہے۔ چنانچہ آج کے سائیکالوجسٹ کو بھی محرکاتِ عمل کے حوالے سے انسان اور حیوان میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ تو جب یہ فرق مٹ گیا اور انسان اپنی اصلیت کو بھلا کر حیوان بن گیا تو گویا وہ ہر قسم کی اخلاقی پابندیوں سے بھی آزاد ہو گیا۔ انیسویں صدی کے فرنچ لٹریچر میں بنیادی طور پر اسی نکتے کو فوکس کیا گیاہے کہ حیوانات کی زندگی فطرت کے عین مطابق ہے ‘اس لیے ہم انسانوں کو اُن سے سبق لیتے ہوئے اپنی زندگی کو خواہ مخواہ کے تکلفات سے آزاد کر لینا چاہیے۔ مثلاً تمام حیوانات لباس سے بے نیاز ہیں‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ لباس فطرت کا تقاضا نہیں ہے‘ انسان کی اپنی ایجاد ہے۔ اسی طرح بیوی‘ بیٹی اور ماں کی تمیز بھی حیوانات میں نہیں پائی جاتی‘ یہ پابندی بھی انسان نے اپنے اوپر خود ہی عائد کی ہے۔ یہ ہے آج کے انسان کاالمیہ!
بہرحال یہ آیت ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے کہ جو انسان اللہ کو بھلا دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اُس کی حقیقت سے غافل کردیتا ہے۔ انسان کی روح خود اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر پھونکی ہے اور اسی کی وجہ سے وہ ’’انسان‘‘ کے مرتبے پر فائز ہوا ہے۔ چنانچہ جب کوئی انسان اپنی روح اور اس کے تقاضوں سے غافل ہو جاتا ہے تو وہ انسان کے درجے سے گر کر حیوان بن جاتا ہے۔ اس حوالے سے اپنشد کا یہ جملہ بہت اہم ہے :
" Man in his ignorance identifies himself with the material sheeths that encompass his real self."
اسی real selfکا دوسرانام ’’انا‘‘ ہے ‘لیکن اس سے اصل مراد انسان کی ’’روح‘‘ ہی ہے‘ جسے علامہ اقبال نے فلسفیانہ انداز میں ’’خودی‘‘ کا نام دیا ہے :
؎
نقطۂ نُوری کہ نامِ او خودی ست
زیر خاکِ ما شرارِ زندگی ست
؎
ہے ذوقِ تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں
غافل تو نرا صاحب ِادراک نہیں ہے!
اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان حیوانی جسم اور روح کا مرکب ہے۔ بقول شیخ سعدی:
آدمی زادہ طرفہ معجون است
از فرشتہ سرشتہ وز حیوانیعنی آدمی ایک ایسی معجونِ مرکب ہے جس میں فرشتہ اور حیوان دونوں گندھے ہوئے ہیں ۔ فرشتے سے مراد یہاں وہ نورانی روح ہے جو عالم امر کی چیز ہے : {وَیَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِط قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ وَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیْلًا(۸۵)} (بنی اسرائیل)’’اور (اے نبیﷺ!) یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں روح کے بارے میں۔ آپ فرما دیجیے کہ روح میرے رب کے امر میں سے ہے اور تمہیں نہیں دیا گیا علم مگر تھوڑا سا‘‘۔چنانچہ انسان کی روح نورانی چیز ہے اور اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے ۔ اگر انسان اللہ کو بھلا دے گا تو اپنی روح یعنی اپنی اصلیت سے بیگانہ ہو کر محض ایک حیوان بن کر رہ جائے گا۔ اس کے بعد اس کی نظرمیں اچھے بُرے اور حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں رہے گی۔ انسانی معاشرے کے ایسے ہی افراد آیت زیر مطالعہ کے حکم ’’اُولٰٓـئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ‘‘ کے مصداق ہیں۔
آیت ۲۰{لَا یَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِط} ’’(دیکھو !)برابر نہیں ہوسکتے آگ والے اور جنّت والے۔‘‘
{اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ہُمُ الْفَآئِزُوْنَ (۲۰)} ’’یقیناً جنّت والے ہی کامیاب ہوں گے۔‘‘
اللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! اَللّٰھُمَّ ادْخِلْنَا الْجَنَۃَّ مَعَ الْاَبْرَارِ! اَللّٰھُمَّ اَجِرْنَا مِنَ النَّارِ‘ یَامُجِیْرُ یَامُجِیْرُ یَامُجِیْرُ!
آیت ۲۱{لَــوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْـتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللہِ ط} ’’اگر ہم اس قرآن کو اُتار دیتے کسی پہاڑ پر تو تم دیکھتے کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ کے خوف سے۔‘‘
یہ قرآن مجید کی عظمت کا بیان ہے۔ اس موضوع کے حوالے سے یہاں یہ اہم نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ قرآن مجید کی عظمت اور قرآن مجید کی افادیت دو الگ الگ موضوعات ہیں‘ ان دو موضوعات کو آپس میں گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔ جہاں تک قرآن مجید کی افادیت کا تعلق ہے‘ قرآن کی متعدد آیات اس حوالے سے ہماری راہنمائی کرتی ہیں‘ لیکن سورئہ یونس کی یہ دو آیات اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کی حامل ہیں:
{یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ قَدْجَآئَ تْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ لا وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۵۷) قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْاط ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ (۵۸)}
’’اے لوگو! آ گئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں (کے اَمراض ) کی شفا اور اہل ِایمان کے لیے ہدایت اور (بہت بڑی) رحمت۔ (اے نبیﷺ!ان سے )کہہ دیجیے کہ یہ ( قرآن) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے (نازل ہوا) ہے ‘تو چاہیے کہ لوگ اس پر خوشیاں منائیں! وہ کہیں بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔‘‘
یہ توقرآن مجید کی افادیت کا ذکر ہے‘ لیکن قرآن مجید فی نفسہٖ کیا ہے؟انسان کا محدود ذہن اس موضوع کو کماحقہ سمجھنے سے قاصر ہے۔ چنانچہ قرآن مجید کی عظمت کے تصوّر کو انسانی ذہن کے لیے کسی حد تک قابل ِفہم بنانے کے لیے آیت زیر مطالعہ میں ایک تمثیل بیان کی گئی ہے۔ اس تمثیل کو سمجھنے کے لیے حضرت موسیٰؑکے ساتھ کوہِ طور پر پیش آنے والے واقعہ کی یاد دہانی ضروری ہے۔ یہ واقعہ سورۃ الاعراف کی آیت ۱۴۳ میں بیان ہوا ہے۔ حضرت موسیٰؑ جب چالیس راتوں کے لیے کوہِ طور پر گئے تو آپؑ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی : {رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَ ط} کہ اے میرے رب! مجھے اپنا جلوہ دکھا‘ میں تجھے دیکھنا چاہتا ہوں۔ {قَالَ لَنْ تَرٰىنِیْ} اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ تم مجھے نہیں دیکھ سکتے۔ {وَلٰکِنِ انْظُرْ اِلَی الْجَبَلِ} البتہ تم اس پہاڑ کو دیکھو‘ میں اپنی تجلی اس پر ڈالوں گا۔{فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ ج} تو اگر یہ پہاڑ اپنی جگہ قائم رہ سکا تو پھر تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ {فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ} پھر جب اُس کے ربّ نے پہاڑ پر ایک تجلی ڈالی‘ یعنی نورکا پرتو جب پہاڑ پر پڑا تو {جَعَلَہٗ دَکًّا} اُس نے اس پہاڑ کوریزہ ریزہ کرکے رکھ دیا۔ {وَّخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًاج} (الاعراف:۱۴۳) اورحضرت موسیٰؑ اس بالواسطہ تجلی کے مشاہدہ کی تاب نہ لاتے ہوئے بے ہوش کر گر پڑے۔ اس واقعہ کے ساتھ آیت زیر مطالعہ میں بیان کی گئی تمثیل کی گہری مماثلت ہے۔ دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ کوہِ طور پر ’’تجلی ٔذات‘‘ کا معاملہ تھا اور یہاں اس تمثیل میں ’’تجلی ٔصفات‘‘ کا ذکر ہے۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور کلام اپنے متکلم کی صفت ہوتا ہے ۔اس لیے جو تاثیر ذاتِ باری تعالیٰ کی تجلی کی ہے عین وہی تاثیر کلام اللہ کی تجلی کی ہے۔ علّامہ اقبال اپنے انداز میں قرآن مجید کی عظمت کا بیان یوںکرتے ہیں: ؎
فاش گویم آنچہ در دل مضمر است
ایں کتابے نیست چیزے دیگر است!کہ اگر میں اپنے دل کی بات کروں تو یہ کہوں گا کہ قرآن مجید محض ایک کتاب نہیں ہے بلکہ کوئی اور ہی چیز ہے ۔ کیا چیز ہے؟اس کی مزید وضاحت علامہ یوں کرتے ہیں:
مثل ِحق پنہاں و ہم پیدا ست ایں
زندہ و پائندہ و گویا ست ایں!یعنی یہ اللہ تعالیٰ ہی کی صفات کا حامل ہے اور اس حیثیت میں یہ پوشیدہ بھی ہے اور عیاں بھی ۔ہمیشہ زندہ رہنے والا بھی ہے اور گویا (بولتا ہوا) بھی ۔قرآن حکیم کی عظمت کے حوالے سے سورۃ الواقعہ کی آیت {لَا یَمَسُّہٗٓ اِلَّا الْمُطَھَّرُوْنَ(۷۹)}کی تشریح کے تحت یہ نکتہ بھی زیر بحث آچکا ہے کہ قرآن مجید کی حقیقی معرفت‘ اصل ہدایت اور روحِ باطنی تک رسائی کے لیے انسان کے باطن کا پاک ہونا ضروری ہے ۔ اگر کوئی شخص اپنے باطن کا تجزیہ کیے بغیر قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرے گا تو وہ صرف اس کی عبارت اور لغت کے ظاہری مطالب و معانی تک ہی رسائی حاصل کر پائے گا۔
{وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ لَـعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ(۲۱)} ’’اور یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور کریں۔‘‘
اب وہ تین عظیم آیات آ رہی ہیں جن کا ذکر اس رکوع کے آغاز میں اسمائے حسنیٰ کے حوالے سے ہوا تھا۔ واضح رہے کہ صفاتِ باری تعالیٰ کے موضوع پر سورۃالحدید کی پہلی چھ آیات قرآن مجید کے ذروئہ سنام کا درجہ رکھتی ہیں۔( عربی میں اونٹ کی کوہان کو سنام اور کسی چیز کی چوٹی یا بلند ترین حصّے کو ذُروہ/ذِروہ کہتے ہیں۔ چنانچہ ذروئہ سنام کا مطلب ہے کوہان کی بھی چوٹی۔ یعنی سب سے اونچا مقام یا کسی چیز کا نمایاں ترین حصہ!) جبکہ اسمائے حسنیٰ کے ذکر کے اعتبار سے سورۃ الحشر کی آخری تین آیات پورے قرآن میں منفرد و ممتاز مقام کی حامل ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات کے حوالے سے یہاں ’’ایمانِ مجمل‘‘ کے یہ الفاظ بھی اپنے حافظے میں تازہ کر لیں : آمَنْتُ بِاللہِ کَمَا ھُوَ بِاَسْمَائِہٖ وَصِفَاتِہٖ وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ یعنی ہم اللہ تعالیٰ کے تمام اَسماء و صفات کے ساتھ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے تمام احکام کے سامنے سرِتسلیم خم کرتے ہیں۔
آیت۲۲{ہُوَ اللہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَج} ’’وہی ہے اللہ‘ جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔‘‘
{عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِج} ’’وہ جاننے والا ہے چھپے کا اور کھلے کا۔‘‘
یہ پورا مرکب اللہ تعالیٰ کے ایک اسم پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ اُسے بھی جانتا ہے جو ہمارے سامنے ہے اور اُسے بھی جو ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی سمجھ لیجیے کہ قرآن میں جہاں اللہ کے لیے غیب اور شہادۃکے الفاظ آتے ہیں ‘ وہ ہم انسانوں کے لیے ہیں۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے لیے تو سب شہادہ ہی شہادہ ہے‘اُس کے لیے تو کوئی چیز بھی غیب نہیں۔ہم انسانوں کے لیے کچھ چیزیں تو وہ ہیں جنہیں ہم اپنے حواسِ خمسہ سے محسوس کر سکتے ہیں۔ ایسی تمام اشیاء ہمارے لیے ’’ظاہر‘‘ (الشَّہَادَۃ) کے زمرے میں آتی ہیں۔ مثلاً اگر کسی چیز کو ہم مائیکرو سکوپ یا ٹیلی سکوپ سے بھی دیکھ لیں تو اس کی حیثیت بھی ہمارے لیے ’’ظاہر‘‘ ہی کی ہے۔ دوسری طرف کچھ ایسے حقائق ہیں جنہیں ہم سے چھپا دیا گیا ہے‘ انہیں ہم کسی طرح بھی اپنے حواس کے احاطہ میں نہیں لا سکتے۔ ایسی سب چیزیںہمارے لیے غیب کا درجہ رکھتی ہیں ۔مثلاً اللہ تعالیٰ کی ذات ‘ فرشتے‘ جنّت‘ دوزخ‘ عالم ِ آخرت وغیرہ ‘سب ہمارے لیے غیب ہیں۔ یہ مضمون سورۃ الجن میں دوبارہ واضح تر انداز میں آئے گا۔
{ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ (۲۲)} ’’وہ بہت رحم کرنے والا‘ نہایت مہربان ہے۔‘‘
سورۃ الفاتحہ کی دوسری آیت ان ہی دو اسمائے حسنیٰ پر مشتمل ہے۔ لغوی اور اشتقاقی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو متعلقہ آیت کی تشریح۔
آیت۲۳{ہُوَ اللہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَج } ’’وہی ہے اللہ جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔‘‘
{اَلْمَلِکُ الْـقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُط}
’’حقیقی بادشاہ‘ یکسرپاک‘ سراپا سلامتی (اور ہر اعتبار سے سالم)‘ امن دینے والا‘پناہ میں لینے والا‘ زبردست (مطلق العنان ) ‘ اپنا حکم بزور نافذ کرنے والا‘ سب بڑائیوں کا مالک۔‘‘
{سُبْحٰنَ اللہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ (۲۳)} ’’اللہ پاک ہے اُن تمام چیزوں سے جو یہ شرک کرتے ہیں۔‘‘
اس ایک آیت میں آٹھ اسمائے حسنیٰ مسلسل‘ بغیر حرفِ ’’و‘‘ کے آئے ہیں اور اس لحاظ سے یہ آیت پورے قرآن مجید میں منفرد ہے۔
آیت ۲۴{ہُوَ اللہُ الْخَالِقُ الْبَارِیُٔ الْمُصَوِّرُ}’’وہی ہے اللہ ‘تخلیق کا منصوبہ بنانے والا‘ وجود بخشنے والا‘ صورت گری کرنے والا۔‘‘
اس آیت میں (اللہ کے علاوہ) تین اسمائے حسنیٰ آئے ہیں ۔ ان تینوں اسماء کا تعلق تخلیقی عمل کے مختلف مراحل سے ہے اور اس لحاظ سے یہاںان کا ذکر ایک فطری اور منطقی ترتیب سے ہوا ہے۔’’خلق‘‘ دراصل عمل ِتخلیق کا وہ مرحلہ ہے جب کسی چیز کا منصوبہ یا نقشہ تیار ہوتا ہے۔ بغرضِ تفہیم اگر ہم انسانوں پر قیاس کرتے ہوئے ایک بڑھئی کی مثال سامنے رکھیں تو عمل ِتخلیق کے مختلف مراحل اور ان تینوں اسماء کے مابین پائے جانے والے خاص ربط کو سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ فرض کریں کہ بڑھئی ایک میز بنانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے وہ مطلوبہ سائز اور مطلوبہ شکل کی میز کا ایک نقشہ اپنے ذہن میں تیار کرتا ہے۔ یہ اس میز کی ذہنی تخلیق ہے۔ اس کے بعد بڑھئی مجوزہ نقشے کے مطابق لکڑی کا میز بنا کر اپنی ’’ذہنی تخلیق‘‘ کو عالم ِواقعہ میں ظاہر کر دیتا ہے۔ پھرتیسرے اور آخری مرحلے میں وہ اسے finishing touchesدیتے ہوئے رنگ و روغن کر کے میز کو حتمی طور پر تیار کر دیتا ہے۔
مذکورہ بالا تینوں اسمائے حسنیٰ کا تعلق تخلیق کے ان ہی تین مراحل سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق کا ایک نقشہ یا نمونہ تیار فرماتا ہے۔ اس مفہوم میں وہ الخَالق ہے‘ پھر وہ اس تخلیق کو عدم سے عالم ِوجود میں ظاہر کرتا ہے۔ اس لحاظ سے وہ البارِیٔ ہے۔ (بَرَأَ کے معنی ظاہر کرنے کے ہیں۔ سورۃ الحدید کی آیت ۲۲ میں ہم پڑھ چکے ہیں: {مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّـبْرَأَھَا} ’’اس سے پہلے کہ ہم اسے ظاہر کریں۔‘‘) اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق کو باقاعدہ ایک صورت یا شکل عطا کرتا ہے۔ اس معنی میں وہ ’’الْـمُصَوِّر‘‘ ہے ۔
{لَہُ الْاَسْمَآئُ الْحُسْنٰی ط}’’تمام اچھے نام اُسی کے ہیں۔‘‘
{یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج} ’’اُسی کی تسبیح کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے۔‘‘
{وَہُوَالْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (۲۴)} ’’اور وہ بہت زبردست ہے ‘کمال حکمت والا۔‘‘
اس سورت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے آغاز میں بھی اللہ کی تسبیح کا بیان ہے اور اس کا اختتام بھی اللہ کی تسبیح پر ہوتا ہے۔ آغاز میں تسبیح کے حوالے سے ماضی کا صیغہ (سَبَّحَ) آیا ہے جبکہ اختتام پر مضارع کا صیغہ (یُسَبِّحُ) ہے۔ اسی طرح اس کی ابتدائی آیت کے اختتام پر جو دو اسمائے حسنیٰ (الْعَزِیْزُ الْحَکِیْم) آئے ہیں‘ آخری آیت کا اختتام بھی ان ہی اسمائے حسنیٰ پر ہوتا ہے۔***
tanzeemdigitallibrary.com © 2026