(تذکرہ و تبصرہ) آخری صلیبی جنگ - ڈاکٹر اسرار احمد

9 /

آخری صلیبی جنگ


بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ
۲؍ستمبر۲۰۰۵ء کا خطابِ جمعہ
نحمدہٗ ونصلی علٰی رَسولہِ الکریم … امَّا بَعد:
اعوذ باللّٰہ من الشَّیطٰن الرَّجیم ۔ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

{یٰٓــاَیـُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَ م بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ ط وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ(۵۱)} (المائدۃ)
آج مجھے آخری صلیبی جنگ کے موضوع پر گفتگو کرنی ہے۔ یہ موضوع انتہائی اہم بھی ہے اور اس میں ہمارے لیے غور و فکر کا بہت سا سامان بھی موجود ہے۔
گفتگو کے آغاز میں چند بنیادی باتوں کاتذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ سب سے پہلے تو یہ کہ یہ اصطلاح یعنی ’’آخری صلیبی جنگ‘‘ میری نہیں ہے‘ بلکہ عیسائیوں کے ایک فرقے Baptistsکی ہے‘ جو کہ پروٹسٹنٹ عیسائی ہیں اور ان میں سے بھی جو اَخص الخواص ’’Evangelists‘‘ ہیں‘ ان کے میگزین’’فلاڈلفیا ٹرمپٹ‘‘ میں ’’The Last Crusade‘‘ کے عنوان سے جیرالڈ فلری کا ایک مقالہ شائع ہوا ہے۔ اس مقالے کا ایک اقتباس کچھ یوں ہے :
" Most people think the crusades are a thing of the past-over forever. But they are wrong. Preparations are being made for a final crusade, and it will be the bloodiest of all!"
’’بہت سے لوگوںکا خیال ہے کہ صلیبی جنگیں ماضی کی بات ہے اور ختم ہو چکی ہیں‘ لیکن ان کی یہ رائے درست نہیں ہے۔ آخری صلیبی جنگ کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور یہ انتہائی خونی جنگ ہو گی۔‘‘
اس مضمون کو واضح طور پر سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ ِانسانی کو تین ادوار میں تقسیم کرنا ہو گا:
۱) پہلا ملینیم : ۳۰ء سے ۱۰۰۰ء تک
۲) دوسرا ملینیم: ۱۰۰۱ء سے ۱۹۹۹ء تک
۳) تیسرا ملینیم : ۲۰۰۰ء سے اَب تک (جاری)
یہاں پر یہ واضح رہے کہ ’’ملینیم‘‘ کی اصطلاح جو عیسائی اور یہودی استعمال کرتے ہیں‘ وہ آسمانی کتابوں کے عین مطابق ہے۔ قرآن مجید میں دوبار ارشاد ہوا کہ ’’اللہ تعالیٰ کا ایک دن ہزار برس پر محیط ہے۔ ‘‘سورۃ الحج میں الفاظ آئے ہیں :
{وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاَلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ(۴۷)}
’’اور ایک دن تمہارے ربّ کے یہاں ہزار برس کے برابر ہوتا ہے جو تم گنتے ہو۔‘‘
اسی طرح سورۃ السجدۃ میں ارشاد ہوا:
{یُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآئِ اِلَی الْاَرْضِ ثُمَّ یَعْرُجُ اِلَـیْہِ فِیْ یَوْمٍ کَانَ مِقْدَارُہٗٓ اَلْفَ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ(۵)}
’’وہ تدبر سے اُتارتا ہے کام آسمان سے زمین تک‘ پھر چڑھتا ہے وہ کام اُس کی طرف ایک دن میں جس کا پیمانہ ہزار برس کا ہے تمہاری گنتی میں۔‘‘
پہلے ملینیم کے آغاز پر صورتِ حال یہ تھی کہ یروشلم جو کہ یہودیوں کا شہر تھا اور یہاں وہ ایک عرصے سے آباد تھے‘ یہیں پر ان کا ہیکل سلیمانی (Solomon's Temple)بھی تھا‘ جو حضرت سلیمانؑ نے بنایا تھا اور۵۸۷ ق م میں اسے عراقی بادشاہ بخت نصر (Nebukadnezar)نے منہدم کر دیا تھا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ اسے انہوں نے دوبارہ تعمیر کیا تھا‘ لیکن ۷۰ء میں طیطس(Titus) نامی ایک رومی جرنیل نے حملہ کیا جس میں یہودیوں کو بڑی خوفناک شکست ہوئی۔ اس قدر خون ریزی ہوئی کہ ٹائٹس رومی نے صرف ایک دن میں کم و بیش ایک لاکھ تینتیس ہزار یہودیوں کو قتل کیا اور جو ’’ہیکل ثانی‘‘ انہوںنے تعمیر کیا تھا وہ بھی مسمار کر دیا۔ یہودیوں کے نزدیک ہیکل سلیمانی کی وہی اہمیت ہے جو ہمارے نزدیک کعبہ کی ہے اورآج ۱۹۳۵ برس ہونے کو آئے ہیں لیکن ان کا یہ کعبہ اب تک گرا پڑا ہے۔ٹائٹس رومی کے ہاتھوں قتل عام کے بعد جو یہودی بچ گئے انہیں فلسطین کے علاقے سے نکال دیا گیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جس کے جہاں سینگ سمائے چلا گیا اور یروشلم یہودیوں سےکلی طو رپر خالی ہو گیا۔ فلسطین سے انخلا کے اس دَور کو یہودی بجا طور پر اپنا ’’دورِ انتشار‘‘ (Diaspora) کہتے ہیں۔
اس واقعہ کے تقریباً ۶۰۰ برس بعد حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں اسلامی فتوحات کا جو سلسلہ شروع ہوا‘ اُسی میں مسلمانوں نے یروشلم پر بھی حملہ کیا‘ جو اُس وقت عیسائیوں کے قبضہ میں تھا۔ ا س شہر کی فصیلیں بے انتہا اونچی تھیں اور اندر راشن بھی وافر مقدار میں موجود تھا۔ چنانچہ عیسائیوں نے فصیلوں کے دروازے مقفل کر دیے اور خود اندر محصور ہو گئے۔ نتیجتاً ایک طویل محاصرے کے بعد بھی مسلمانوں کو کوئی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ اسی دوران عیسائیوں کے چند بڑے عالم فصیل پر آئے اور مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ ’’تم ہزار برس تک بھی یہاں پڑے رہو گے تب بھی تمہارے ہاتھ پر یہ شہر فتح نہیں ہو گا۔ ہاں ہماری کتابوں میں یہ لکھا ہے کہ اسے ایک درویش بادشاہ کے ہاتھوں فتح ہونا ہے‘ لیکن تمہارے درمیان وہ درویش بادشاہ نظر نہیں آ رہا‘‘۔ اس بات کا پس منظر سمجھ لیجیے۔ اسلام کا اوّلین دَور مسلمانوں کے لیے غربت اور افلاس کا دَور تھا۔ بعد ازاں فتوحات کے نتیجے میں جو مالِ غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا اُس سے حالات بہتر ہونا شروع ہو گئے تھے اور اب انہوں نے شامیوں کے سے انداز میں اچھا لباس استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔ چونکہ مسلمان کافی عرصہ سے شا م میں تھے‘لہٰذا شامی تہذیب کا اثر اُن کے رہن سہن میں نمایاں نظر آ رہا تھا۔
عیسائی عالموں کی بات سے امیر لشکر حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ(جنہیں رسول اللہﷺ کی زبان میں اَمِیْنُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ کا لقب ملا تھا) کو خیال ہوا کہ ان کا اشارہ یقیناً حضرت عمرفاروق ؓکی طرف ہے۔لہٰذا محاذِ جنگ سے حضرت عمرؓکی خدمت میں ایک درخواست روانہ کی گئی کہ اگر آپ خود تشریف لائیں گے تو یروشلم بغیر لڑائی کے فتح ہوجائے گا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ خود یروشلم روانہ ہوئے۔ یہ وہی تاریخی سفر ہے جو اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی روشن باب ہے۔اس سفر میں صرف ایک سواری (اونٹ) تھی۔ راستے کے لیے راشن بھی اسی پر لدا ہوا تھا۔ لہٰذا ایک وقت میں ایک آدمی ہی اُس پر بیٹھ سکتا تھا۔ اندریں حالات ایک منزل میں خلیفہ سواری کے اوپر تشریف فرما ہوتے اور آپؓ کا خادم نکیل ہاتھ میں پکڑے آگے آگے چلتا ‘اگلی منزل پر خادم سواری کے اوپر بیٹھتا اور خلیفۂ وقت نکیل تھامے آگے چل رہے ہوتے۔مساوات کا یہ عملی نمونہ تاریخ انسانی نے کم کم ہی دیکھا ہو گا۔ جب آخری منزل شروع ہوئی تو اتفاق سے سواری پر بیٹھنے کی باری خادم کی تھی۔ اُس نے بہت اصرار کیا کہ آپؓ اونٹ پر بیٹھ جایئے‘ لوگ کیا کہیں گے‘ لیکن حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ نہیں‘ باری تمہاری ہے‘ لہٰذا تمہیں ہی اونٹ پر بیٹھنا ہو گا۔ لہٰذا جب یروشلم میں داخل ہوئے تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ خلیفۂ وقت جس کے نام سے قیصر و کسریٰ کے ایوان کانپتے تھے‘ اس شان سے چلے آ رہے ہیں کہ ایک ہاتھ میں اُونٹ کی نکیل ہے اور دوسرے ہاتھ میں اپنے جوتے پکڑے ہوئے ہیں‘ جبکہ خادم سواری کے اوپر بیٹھا ہے۔ حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ نے آپؓکا استقبال کیا اور اسی طرح سیدھے آپؓ کو فصیل کے قریب لے گئے اور عیسائیوں کو پکار کر کہا کہ یہ ہیں ہمارے خلیفہ!عیسائیوں نے اپنی کتابوں کے مطابق جو نشانیاں ملائیں تو اس بات پر صاد کیا کہ یہی وہ بادشاہ ہیں جن کے ہاتھ پر یہ شہر فتح ہونا ہے۔ لہٰذا فصیل کے دروازے کھول دیے گئے۔ مسلمان افواج اندر داخل ہو گئیں اور یروشلم بغیر کسی لڑائی کے مسلمانوں نے فتح کر لیا۔
اس موقع پر مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کے وقت عیسائیوں کا یہ مطالبہ مان لیا گیا کہ یہودیوں کو یروشلم میں آباد ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ چنانچہ حضرت عمرؓنے یہ طے فرما دیا کہ یروشلم یہودیوں کے لیے کھلا شہر (open city) تو ہو گاتاکہ وہ یہاں آ کر اپنے مقدّس مقامات کی زیارت کریں‘ لیکن نہ تو وہ یہاں آباد ہو سکیں گے اور نہ ہی کوئی جائیداد وغیرہ خرید سکیں گے۔ یہ تھے وہ اہم واقعات اور حالات جو پہلے ملینیم کے دوران پیش آئے۔
اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم پہلے ملینیم کے اختتام پر اُس واقعہ کی طرف بڑھتے ہیں جو کہ انتہائی اہم ہے‘اور وہ واقعہ تھا پورے عالم عیسائیت کا اتحاد۔ اس واقعہ سے پیشتر عیسائی دنیا کئی سو برس سے دو حصوں میں منقسم تھی۔ مذہبی اعتبار سے اٹلی‘ فرانس‘ جرمنی‘ سپین اور انگلستان کے علاقوں پر مشتمل عیسائیت مغربی عیسائیت کہلاتی تھی‘ جس کا سربراہ پوپ تھا اور اس کا صدر مقام روم (رومۃ الکبریٰ) تھا۔ اس کے برعکس دوسرا حصّہ جو جنوب مشرقی یورپ اور مشرقی یورپ کے عیسائی ممالک پر مشتمل تھا۔یہاں کی عیسائیت مشرقی عیسائیت کہلاتی تھی۔ اس کا صدر مقام قسطنطنیہ(Constantinople) تھا۔ دونوں حصوں کے اتحاد کے بعد پوپ کو عیسائی دنیا کے مرکزی رہنما کی حیثیت حاصل ہو گئی۔
دوسرے ملینیم کے شروع ہونے کے ٹھیک ۹۵ برس بعد یعنی ۲۰ نومبر ۱۰۹۵ء کو اُس وقت کے پوپ اربن ثانی( Urban-II)نے فرانس کے شہر Clermont میں ایک انتہائی اہم خطاب کیا‘ جس میں اُس نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ’’ہمارا یہ اہم ترین مذہبی فریضہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف جہاد کریں اور ان سے اپنے مقدّس مقامات چھین لیں۔‘‘ پہلے ملینیم کے اختتام پر فلسطین اور شام کے علاقے بشمول یروشلم مسلمانوں کے قبضہ میں تھے۔ اس علاقے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ :
Too small a geography but too big a history.
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس علاقے میں تینوں ابراہیمی مذاہب یعنی یہودیت‘ عیسائیت اور اسلام کے مقدس مقامات ہیں۔ اسی اہمیت کی وجہ سے یہاں تصادم بھی بڑا شدید ہوا۔
پوپ اربن ثانی کی مذکورہ بالا تقریر سے عیسائی دنیا میں ایک آگ لگ گئی۔ چنانچہ پورے یورپ پر مشتمل ایک بہت بڑی فوج تیار کی گئی‘ جس میں قائدانہ کردار فرانس اور جرمنی کا تھا۔ عیسائیوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کر دیے اور اس طرح باقاعدہ طور پر جنگ کا آغاز ہو گیا۔ اس جنگ کا سلسلہ ۱۰۹۷ء سے ۱۲۹۱ء تک تقریباً ۱۹۴ برس جاری رہا------ جنگ (war)اور لڑائی (battle) میں بنیادی فرق یہ ہے کہ ایک جنگ کئی لڑائیوں پر مشتمل ہو سکتی ہے۔ یعنی جنگ تو مسلسل جاری رہتی ہے‘ اس کے اندر بے شمار لڑائیاں اور معرکے ہوتے رہتے ہیں‘کبھی ایک مقام پر اور کبھی دوسرے مقام پر۔ عام طور پر ہم جنگ کا لفظ بھی لڑائی کے معنی میں استعمال کر لیتے ہیں۔ بہرحال اس طویل جنگ کے دوران سینکڑوں لڑائیاں(battles)ہوئیں‘ لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ بڑی بڑی جنگیں بھی ۹ یا ۱۳ کی تعداد میں ہوئیں۔ ان جنگوں کو عیسائیوں نے صلیبی جنگوں (The Crusades) کا نام دیا تھا۔
صلیبی جنگوں کو ہم تین ادوار میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلا دَور ۱۰۹۷ء سے ۱۱۴۴ء تک کے عرصے پر محیط ہے۔ اس دَور میں عیسائیوں کا جوش و خروش دیدنی تھا‘ کیونکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ اگر اس مقدّس جنگ میں تمہاری جان بھی چلی گئی تو تم سیدھے جنت میں جائو گے اور تمہارے تمام گناہ بھی معاف کر دیے جائیں گے۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ جہاد کے ضمن میں آج مسلمانوں کو جس طرح بدنام کیا جا رہا ہے‘ اس سے کہیں زیادہ قابل ِ مذمت ’’جہاد‘‘ کا وہ نعرہ تھا جو پوپ اربن ثانی نے ۱۰۹۵ء میں لگایاتھا۔بہرحال لاکھوں کی تعداد میں عیسائی افواج ایشیا کی طرف روانہ ہوئیں۔ راستے میں جو بھی بستیاں آئیں وہ لوٹ لی گئیں۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ رکھیے کہ عیسائیوں کا اصل ہدف تو وہ مسلمان تھے جن کے علاقوں میں ان کے مقدس مقامات تھے ۔ ان علاقوں کو مسلمانوں سے بازیاب اور واگزار کرانا ان کا ہدف تھا‘ لیکن ساتھ ہی عیسائیوں کو یہودیوں پر بھی بے پناہ غصہ تھا ‘ جو حضرت مسیحؑ کو‘ نعوذ باللہ‘ولدُ الزنا‘ جادوگر اور شعبدہ باز کہتے تھے۔ چنانچہ اندازہ کیجیے کہ ان کے بارے میں عیسائیوں کے غیظ و غضب کا کیا عالم ہو گا جو حضرت مسیحؑ کو خدا کا بیٹا‘ الوہیت میں شریک بلکہ خدا تک مانتے ہیں!بہرحال ان لڑائیوں میں جہاں مسلمانوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا وہاں اَن گنت یہودی بھی مارے گئے۔ جو یہودی بستی بھی راستے میں آئی‘ لوٹ لی گئی اور وہاں قتل و غارت کا بازار خوب گرم ہوا۔ گویا اس صلیبی جنگ میں مسلمان اور یہودی زیرعتاب (persecuted) ہونے کے اعتبار سے یکجا (bracketted) تھے۔
جب یہ واقعات پیش آ رہے تھے ‘عالم ِاسلام پر اُس وقت بنوعباس کی حکومت تھی۔یہ اگرچہ قانونی طور پر مرکزی حکومت کہلاتی تھی‘ لیکن بنوعباس اُس وقت کافی کمزور ہو چکے تھے۔ ان کی سلطنت کے اندر کئی چھوٹے چھوٹے حکمران پیدا ہو چکے تھے۔ کہیں سلجوقی‘ کہیں بربر‘ کہیں ممالیک اور کہیں کوئی اور تھے‘ اور سب کی اپنی خود مختار حکومتیں تھیں۔ عباسی خلیفہ تو بس ایک علامت (symbol) تھا جس کی آشیرباد حاصل کر کے وہ اپنی حکومت کے لیے سند ِجواز لیتے تھے۔اِن حالات میں مسلمان کمزوری کی بنا پر اپنا دفاع کرنے کی پوزیشن میں ہی نہیں تھے‘ نتیجتاًان کے خلاف عیسائیوں کو بے شمار فتوحات حاصل ہوئیں۔ بحیرئہ روم (Mediterranean) کے ساحلی علاقوں میں ‘جن میں شام‘ فلسطین اور مصر بھی شامل تھے‘ عیسائیوں نے زبردست لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم کیا اور ان علاقوں کو فتح کر کے چار آزاد عیسائی ریاستیں قائم کیں۔
ان جنگوں کا دوسرا دَور۱۱۴۴ء سے ۱۱۹۶ء تک کے عرصے پر محیط ہے۔ اس دَور میں مسلمانوں کے اندر کچھ ہمت پیدا ہوئی۔ اسی دوران میں مسلمانوں میں ایک بہت بڑے مجاہد اور غازی سلطان صلاح الدین ایوبی عیسائیوں کے مقابلے میں آئے اور ۱۱۸۷ء میں انہوں نے صلیبیوں کو شکست دے کر انہیں یروشلم سے نکالا اور وہاں اسلامی حکومت قائم کر دی------یروشلم صلیبی جنگ کے پہلے دَور (۱۰۹۹ء ) میں عیسائیوں کے قبضہ میں چلا گیا تھا اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے ۸۸ برس بعد اسے واگزار کروایا------ اسی دوران میں مسلمانوں نے اپنے کچھ مزید علاقے بھی بازیاب کروا لیے۔
ان جنگوں کا تیسرا دَور ۱۱۹۶ء سے ۱۲۹۱ء کے عرصہ پر محیط ہے۔ اس عرصے میں عیسائیوں کی طرف سے یروشلم دوبارہ فتح کرنے کے لیے پے در پے کوششیں ہوئیں۔ کبھی جرمنی‘ کبھی فرانس اور کبھی دیگر یورپی طاقتوں کی طرف سے فوج کشی کی گئی۔ ایک موقع پر رچرڈ شیر دل (Richard, the Lion-hearted) جو اُس وقت انگلستان کا بادشاہ تھا‘ خود فوج لے کر آیا‘ لیکن اسے بھی سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہاتھوں شکست فاش ہوئی اور وہ مجبوراً صلح کر کے واپس چلا گیا۔
اسی دوران میں ایک مرحلے پر سلجوقی بادشاہ الملک کامل کے دَور میں صلیبیوں نے پھر حملہ کیا اوروہ مقابلہ نہ کر سکا‘ لہٰذا اُس نے معاہدہ کر کے یروشلم دوبارہ عیسائیوں کے حوالے کر دیا۔ اس مرتبہ یروشلم ۱۶ برس تک عیسائیوں کے زیر قبضہ رہا۔ گویا ۱۹۴ برس کی ان صلیبی لڑائیوں میں ۱۰۴ برس تک یروشلم عیسائیوں کے قبضہ میں رہا۔ آخر کار مسلمانوں نے اپنے سارے علاقے دوبارہ بازیاب کرا لیے اور ۱۲۹۱ء میں صلیبی جنگ کا یہ دَوراختتام پذیر ہوا۔یہ تھا پہلی صلیبی جنگ کے دوران مختلف لڑائیوں اور معرکوں کا ایک مختصر جائزہ۔
جہاں تک دوسری صلیبی جنگ کا معاملہ ہے ‘کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ شروع ہونے والی ہے‘ لیکن میرے نزدیک یہ پچھلی صدی کے اوائل میں شروع ہو چکی ہے۔ گویا اس جنگ کا آغاز ہوئے قریباً سو برس ہو چکے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم ۱۹۱۴ء میں شروع ہوئی جس میں ترکی کو شکست ہوئی اور اس کے نتیجے میں عظیم سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے کر دیے گئے اور بالآخر خلافت ِعثمانی ۱۹۲۴ء میں کلیۃً ختم ہو گئی۔اس جنگ کے دوران جب شام فتح ہوا اور اتحادی فوجیں دمشق میں داخل ہوئیں تو جنرل ایلن بی نے‘ جو مسلح افواج کی کمان کر رہا تھا‘ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی قبر کو ٹھوکر مار کر کہا تھا :"Saladin, We are again here!" یعنی ۱۱۸۷ء میں تم نے ہمیں شکست دی تھی اور یہاں سے نکال دیا تھا‘ لیکن اب ہم دوبارہ آ گئے ہیں اور اب دوبارہ یہاں ہمارا قبضہ ہے۔ یہ پہلا دَور تھا اس آخری صلیبی جنگ کا جس کو شروع ہوئے قریباً ۹۰ برس ہو چکے ہیں۔
جنگ عظیم اوّل کے دوران ایک بہت بڑی تبدیلی یہ آچکی تھی کہ عیسائیوں اور یہودیوں کے درمیان ایک عرصہ سے جاری دشمنی ختم ہو چکی تھی۔ اب ان کے درمیان گہرا گٹھ جوڑ ہو چکا تھا‘ بلکہ صحیح تر معنوں میں عیسائی یہودیوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے اُن کے آلۂ کار بن چکے تھے۔ اس دوستی کا نتیجہ ۱۹۱۷ء کے اعلانِ بالفور (Balfour)کی صورت میں سامنے آیا‘ جس کے مطابق یہودیوں کو یروشلم میں آباد ہونے کا حق حاصل ہو گیا۔ گویا یہ ایک تحفہ تھا جو عیسائیوں نے یہودیوں کو دیا۔
حضرت عمر فاروقؓے دورِ خلافت میں جب یروشلم فتح ہوا تھا تو مسلمان اور عیسائیوں کے درمیان ایک معاہدے کی رو سے یہودیوں کو اس بات کی اجازت نہیں تھی کہ وہ یروشلم میں آباد ہو سکیں یا وہاں کوئی جائیداد وغیرہ خرید سکیں۔ بعد میں آنے والے تمام مسلمان حکمرانوں نے‘ خواہ وہ بنو اُمیہ تھے یا بنو عباس یا عثمانی‘ اس معاہدے کی پوری طرح پابندی کی‘ حالانکہ اس دوران میں یہودیوں نے ہر طرح سے کوششیں کیں کہ وہ کسی طریقے سے یروشلم میں آباد ہونے کی اجازت حاصل کر لیں۔ سلطان عبدالحمید خان (عثمانی خلیفہ) کو تو بہت بڑی رشوت پیش کی گئی کہ آپ کے ذمے تمام قرضے معاف کردیے جائیں گے اور آپ کا خزانہ جو آپ کے پیش روئوں کی فضول خرچیوں کی وجہ سے خالی ہو چکا ہے اسے بھی بھر دیا جائے گا‘ لیکن عثمانی خلیفہ کا موقف تھا کہ حضرت عمر فاروقؓ کے کیے ہوئے معاہدے میں وہ کوئی تبدیلی نہیں کر سکتے۔بہرحال اعلانِ بالفور کے مطابق یہودیوں کے فلسطین میں آباد ہونے کا راستہ کھل گیا۔ اس کے نتیجہ میں ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کی ریاست قائم ہو گئی اور یوں یہودیوں اور عیسائیوں کے گٹھ جوڑ پر مہر ِتصدیق ثبت کر دی گئی۔
عرب ممالک نے اسرائیل کے قیام پر شدید احتجاج کیا جس کے باعث اسی سال عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں عربوں کو شکست ہوئی اور انہیں بے حدنقصان اٹھانا پڑا۔ تقریباً ۱۹ برس بعد یعنی ۱۹۶۷ء میں مصر‘ شام اور اردن سے اسرائیل کی دوبارہ جنگ ہوئی۔ باوجود اس کے کہ مذکورہ بالا تینوں ممالک اکٹھے ہو کر اسرائیل کے خلاف میدان میں آئے‘ اس مرتبہ پھر انہیں تباہ کن شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ نتیجتاً اسرائیل نے مصر سے جزیرہ نمائے سینا ‘شام سے جولان کی پہاڑیاں اور اردن سے پورا مغربی کنارہ (West Bank)چھین لیا۔ اس ساری صورتِ حال کا نتیجہ یہ نکلا کہ عرب دن بدن کمزور سے کمزور تر اور اسرائیل مضبوط سے مضبوط تر اور طاقتور ہوتا چلا گیا۔
اس تناظر میں موجودہ صورتِ حال کے مطابق معاملات مختلف سمتوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایک طرف تو پورے یورپ کو یورپی یونین کی شکل میں دوبارہ متحد کیا جا رہا ہے (جیسا پہلی صلیبی جنگ کے دوران ہواتھا)۔ مزید برآں نیٹو (NATO)کو بھی ازسر نو منظم اور وسیع کیا جا رہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب اس ساری سرگرمی (activity) کا مقصد کیا ہے؟ USSRتو ختم ہو چکا۔ اس مہم جوئی کا مقصد یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ ’’اب ہمیں مسلم فنڈامنٹلزم سے نمٹناہے!‘‘
اس ساری صورتِ حال میں رومن کیتھولکس تو چاہتے ہیں کہ پورا یورپ متحد ہو کر ایک ملک بنے جس میں ایک خالص عیسائی حکومت قائم ہو اور اس طرح آخری صلیبی جنگ کی طرف پیش قدمی ہو۔ اس ضمن میں عیسائیوں کے پیشِ نظر کیا کیا عزائم ہیں‘ اس کی ایک چھوٹی سی جھلک آپ کو انڈونیشیا کے جزیرہ مشرقی تیمور کے واقعات میں نظر آ جائے گی۔ مشرقی تیمور انڈونیشیا کا بہت بڑا جزیرہ تھا‘ جہاں عیسائیوں کی اکثریت تھی۔ لہٰذا معمولی سے فساد کا بہانہ بنا کر وہاں رومن کیتھولک حکومت قائم کر دی گئی ۔اسی بنا پر پروٹسٹنٹ عیسائیوں کے ترجمان رسالے"The Philadelphia Trumpet"کایہ کہنا ہے کہ پوپ جان پال دوم نے یورپ کے اتحاد کی جس طرح کوششیں کی ہیں وہ مقدس سلطنت روما (Holy Roman Empire)کو از سر ِنو زندہ کرنے کے لیے ہیں تاکہ عیسائی صلیبی جہاد کر یں اور حملہ کر کے مشرقِ وسطیٰ میں واقع عیسائیوں کے تمام مقدس مقامات مسلمانوں سے چھین لیں۔
جہاں تک پروٹسٹنٹس کا تعلق ہے وہ یہود کے ساتھ ہیں اور ان کے پیشِ نظر عظیم تر اسرائیل (Greater Israel)کا قیام ہے‘ جو فلسطین‘ عراق‘ شام‘ اردن‘ لبنان کے تمام علاقوں‘ جزیرہ نمائے سینا‘ مصر کے جشن کے علاقہ اور دریائے نیل کے ڈیلٹا(زرخیز شمالی علاقہ)‘ ترکی کے جنوبی حصے اور حجازِ مقدس کے شمالی حصے بشمول مدینہ منورہ پر مشتمل ہو۔ جزیرہ نمائے سینا یہود کے لیے بہت مبارک اور متبرک علاقہ ہے۔ اسی میں کوہِ طور بھی ہے جہاں پر حضرت موسیٰؑ متعدد بار اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوئے اور یہیں انہیں تورات عطا کی گئی ۔ مصر کا اکثر و بیشتر علاقہ بالکل بنجر اور صحرا ہے۔ صرف دریائے نیل کے دونوں کناروں کے ساتھ ساتھ قریباً دس میل اِدھر اور دس میل اُدھر روئیدگی اور ہریاول ہے۔ البتہ شمال میں بحیرئہ روم میں گرنے سے پہلے دریائے نیل کی بہت سی شاخیں ہو جاتی ہیں اور یہ ڈیلٹا کا علاقہ بہت زرخیز ہے۔ یہاں پر حضرت یوسفؑنے اپنے بھائیوں کو آباد کیا تھا۔ یعنی حضرت یعقوب ؑکے بارہ بیٹے (بنی اسرائیل) اپنے خاندانوں کے ساتھ یہاں آباد ہو گئے اور کئی سو سال میں ان کی تعداد کئی لاکھ ہو گئی۔ حضرت موسیٰؑ کے زمانے میں جب بنی اسرائیل کا مصر سے خروج (Exodus)ہوا اور آلِ فرعون کو غرق کیا گیا تو اُس وقت حضرت موسیٰؑکے ساتھ نکلنے والے یہودیوں کی تعداد چھ لاکھ تھی۔ مصر کے جس علاقے میں بنی اسرائیل حضرت یوسفؑ سے حضرت موسیٰؑکے زمانے تک مقیم رہے ‘اسے بھی وہ گریٹر اسرائیل میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔
فلسطین میں اہم ترین جگہ ‘ Temple Mountہے۔ یہ ایک پہاڑی سی ہے جس کے اوپر ایک مستطیل بنتی ہے جو کہ چاروں طرف سے اٹھی اور اُبھری ہوئی ہموار جگہ ہے اور اس کے اوپر ایک میدان کی شکل بن جاتی ہے ۔اس مستطیل کے اندر مسلمانوں کے دو انتہائی متبرک مقامات ہیں‘ یعنی جنوبی گوشے میں مسجد اقصیٰ اور شمالی گوشے میں قبۃ الصخرۃ‘ (Dome of the Rock) ہےجہاں سے رسول اللہﷺ کا آسمانی سفر (معراج) شروع ہوا تھا۔ دراصل یہ ایک پہاڑی تھی جس پر اُموی خلیفہ عبدالملک بن مروان نے ایک گنبد تعمیر کروا دیا تھا۔ مسجد اقصیٰ اور قبۃ الصخرۃ ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ سے پہلے اردن کے پاس تھے۔ اُس وقت اردن کے بادشاہ نے اس گنبد پر ۳۰ ٹن سونے کی پتری چڑھائی تھی۔ اس سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کتنا بڑا گنبد ہے۔ اسی وقت یہودی اخبارات نے لکھ دیا تھا کہ جب ہم اس کو گرا کر اپنا تیسرا معبد‘ (Third Temple)تعمیر کریں گے تو یہ سونا اس کی تعمیر میں ہمارے کام آئے گا۔معبد کی تعمیر کے بعد وہ اس میں حضرت دائودؑکا تخت‘ (Throne of David) لا کر رکھنا چاہتے ہیں جو اِس وقت لندن میں پارلیمنٹ سے ملحق گرجا (ویسٹ منسٹر ایبے) میں موجود ہے۔ اس تخت پر حضرت دائودؑ اور پھر حضرت سلیمانؑ کی تاج پوشی ہوئی تھی۔
یہ وہ نکات ہیں جو عیسائیوں اور یہودیوں کے مابین متفق علیہ ہیں۔ البتہ عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق جب مذکورہ بالا کام ہو جائیں گے تو حضرت مسیحؑ دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور اس تخت پر بیٹھ کر حکومت کریں گے۔ اس کے برعکس یہودیوں کے عقیدہ کے مطابق ان کا ’’میسایاح‘‘‘ (Messiah)جس کے وہ اب تک منتظر ہیں ‘جب آئے گا تو پورے کرئہ ارض پر اس کی حکومت قائم ہو جائے گی۔ اس ضمن میں جو پیشین گوئیاں تورات میں تھیں ان کے مصداق حضرت مسیحؑ تھے‘ لیکن جب وہ آئے تو یہودیوں نے انہیں تسلیم نہیں کیا بلکہ ‘نعوذ باللہ‘ انہیں ولد الزنا‘ جادوگر اور کافر و مرتد قرار دے کر اپنے بس پڑتے سولی پر چڑھا دیا۔ یہ دوسری بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ آسمان پر اٹھالیا۔
یہودیوں کے مذکورہ بالا پروگرام کو پروٹسٹنٹ عیسائیوں کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ خاص طور پر Baptistsاور اُن میں سے بھی بالخصوص Evangelists اس مشن میں یہود کے دست و بازو بنے ہوئے ہیں۔ بلی گراہم ان کا ایک بہت بڑا مبلغ اور امپرووائزر تھا‘ جو خدا کاسفیر (Ambassador of God) کہلاتا تھا۔سابقہ امریکی صدر بش سینئر اس کا مرید تھا‘ اور اِس وقت موجودہ امریکی صدر بش جونیئر اِس بلی گراہم کے بیٹے (فرینکلن گراہم) کا مرید ہے۔ یہ Evangelists اِس وقت پروٹسٹنٹ عیسائیوں میں سب سے زیادہ فعال اور بائبل کی نشر و اشاعت اور تشریح و توضیح کرنے والے ہیں۔ ان کے بعض شعلہ بیان مقررین نے اپنے ریڈیو اور ٹی وی کے ذاتی چینلز کا وسیع جال پھیلایا ہوا ہے۔The Philadelphia Trumpet ان کا ترجمان رسالہ ہے ۔یہ رسالہ پوپ جان پال دوم کے بارے میں لکھتا تھا کہ یہ شیطان ہے جو کروسیڈ کی تیاری کررہا ہے۔
یہ ہے وہ آخری صلیبی جنگ جس کے لیے بساط بچھائی جا رہی ہے اور اس کی خبریں دی ہیں حضرت محمد رسول اللہﷺ نے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ رومی (عیسائی) تم پر اَسّی علم لے کر حملہ آور ہوں گے اوراُن میں ہر علم کے نیچے بارہ ہزار فوجی ہوں گے۔ یہ امر انتہائی اہمیت اور دلچسپی کا حامل ہے کہ موجودہ دَور میں ایک ڈویژن آرمی بارہ ہزار فوجیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ گویا ۸۰ ڈویژن فوج سے حملہ ہو گا جس کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔ پہلی صلیبی جنگوں میں عیسائی ایک طرف تھے اور ان کا نشانہ مسلمان اور یہودی تھے‘ لیکن اب عیسائی اور یہودی ایک ہوں گے اور ان کا نشانہ مسلمان ہوں گے۔ مسلمانوں کو بہت شدید جانی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اس کی خبریں ہمیں رسول اللہﷺ نے دی ہیں۔ آپﷺ نے اس جنگ (المَلحَمۃُ العُظمٰی) کے بارے میں بتایا کہ ایک باپ کے اگر ۱۰۰ بیٹے ہوں گے تو ۹۹ ہلاک ہو جائیں گے‘ صرف ایک بچے گا۔ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ اتنی لاشیں گریں گی کہ پوری زمین پٹ جائے گی۔ ایک پرندہ مسلسل اڑتا چلا جائے گالیکن اسے زمین پر بیٹھنے کے لیے خالی جگہ نہیں ملے گی۔ یہ ہے تباہی کا وہ نقشہ جو آخری صلیبی جنگ کے نتیجے میں سامنے آئے گا!
یہ جنگ اصلاً پچھلی صدی کے اوائل میں شروع ہوئی ہے۔ آج جو صورتِ حال ہمارے سامنے ہے اس کے مطابق یہودیت اور عیسائیت یک جان ہیں‘ بلکہ عیسائی یہودیوں کے آلۂ کار بن چکے ہیں۔ اُمّت ِمسلمہ انتشار کا شکار ہے۔ وحدتِ ملی کہیں نظر نہیں آ رہی۔ اس سارے تناظر میں مسلمان حکمرانوں کا کردار انتہائی مایوس کن بلکہ شرمناک ہے۔خواہ وہ وردی والے ہوں یا بغیر وردی کے‘ سب کے سب مغربی تہذیب کے دلدادہ اور امریکہ کی زلف ِ گرہ گیر کے اسیر ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کی اس کمزوری کی بنا پر امریکہ کا اُن پر شدید دبائو ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔ محسوس یہی ہو رہا ہے کہ اس مطالبے پر بالآخر سر ِتسلیم خم ہو جائے گا۔ استنبول میں پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور اسرائیلی وزیر خارجہ شلوم کی طے شدہ ملاقات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہودیوں کے توسیع پسندانہ عزائم کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ وہ ایک طرف مسلم ممالک پر قبضہ جمانے اور گریٹر اسرائیل کے قیام کے خواب دیکھ رہے ہیں جبکہ دوسری طرف مسلمانوں کے مقدس مقامات قبۃ الصخرۃ اور مسجد اقصیٰ کو منہدم کر کے اپنے تیسرے معبد کی تعمیر کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ قبۃ الصخرۃ یا مسجد اقصیٰ کے انہدام پر عرب نوجوانوں کے اندر انتہائی جوش و خروش پیدا ہو جائے گا اور وہ بلبلا کر اٹھیں گے۔ اس کے نتیجے میں پہلے تو خود امریکہ کے ایجنٹ مسلم حکمران ان کی سرکوبی کریں گے‘ جیسے آج ’’القاعدہ‘‘ کا نام دے کر پوری مسلم دنیا میں مجاہدین کا قلع قمع کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اس کے بعد انتہائی خوفناک جنگ ہو گی جس میں شدید خون ریزی ہو گی۔ اس میں مسلمان ایک طرف ہوں گے اور یہود و نصاریٰ دوسری طرف۔
قرآن مجید میں یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں جوآیات آئی ہیں‘ ان میں دو مقامات پر بظاہر تضاد نظر آتا ہے۔ یہ دونوں مقامات سورۃ المائدۃ میں ہیں۔ ایک مقام پر فرمایا گیا :
{لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَہُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْاج وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰی ط ذٰلِکَ بِاَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُہْبَانًا وَّاَنَّہُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ(۸۲)}
’’تم اہل ِایمان کی عداوت میں شدید ترین یہود اور مشرکین کو پائو گے ‘ اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب ترین اُن لوگوں کو پائو گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور ان میں غرورِ نفس نہیں ہے۔‘‘
یہ وہ دَور تھا کہ جب عیسائیوں اور یہود کے درمیان دشمنی چل رہی تھی‘ اُس وقت عیسائی مسلمانوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے ۔ چنانچہ حضرت نجاشیؒ ایمان لے آئے ‘اور شہنشاہِ روم ہرقل‘ (Heraclius)خود بھی اس طرح اسلام لانا چاہتا تھا جس طرح اڑھائی تین سو برس پہلے رومی شہنشاہ قسطنطین عیسائی ہوا تو اس کے ساتھ پوری مملکت عیسائی ہوگئی۔ ہرقل چاہتا تھا کہ مَیں اسلام لے آئوں اور میرے ساتھ میری مملکت بھی اسلام لے آئے ‘تاکہ میری بادشاہت قائم رہے۔ چنانچہ اس کی بادشاہت اس کے پائوں کی بیڑی بن گئی اور وہ اس سعادت سے محروم رہا۔ میرے نزدیک قرآن حکیم کی متذکرہ بالا آیت اُس دَور کی نشاندہی کرتی ہے۔
دوسری آیت وہ ہے جس کی مَیں نے آغاز میں تلاوت کی تھی :
{یٰٓــاَیـُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَہُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَ م بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ ط وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ(۵۱)}
’’اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست مت بنائو‘ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے دوست (اور ایک دوسرے کے پشت پناہ اور مددگار) ہیں۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے۔ یقیناً اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا۔‘‘
یہ دراصل پیشین گوئی تھی آج کے حالات کے بارے میں‘ ورنہ جس وقت قرآن نازل ہورہاتھا اُس وقت تو یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان شدید دشمنی تھی ۔ سورۃ البقرۃ کی آیت ۱۱۳ ملاحظہ کیجیے :
{وَقَالَتِ الْیَہُوْدُ لَیْسَتِ النَّصٰرٰی عَلٰی شَیْءٍ ص وَّقَالَتِ النَّصٰرٰی لَـیْسَتِ الْیَہُوْدُ عَلٰی شَیْ ءٍ …}
’’اوریہودی کہتے ہیں کہ عیسائیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور عیسائی کہتے ہیں کہ یہودیوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے…‘‘
ان کے درمیان ہمیشہ جنگیں ہوتی رہتی تھیں۔’’اصحاب الاخدود‘‘ عیسائی تھے‘ ایک یہودی بادشاہ نے خندقیں کھود کر اُن میں آگ جلا کر انہیں زندہ جلا ڈالا۔ ان کے مابین شدید دشمنی اور عداوت تھی ‘لیکن اب برعکس صورتِ حال ہے کہ ان کے مابین شدید دوستی ہے جس کو آپ کہتے ہیں: ’’‘ hand in glove‘‘ کہ جیسے ہاتھ کے اوپر دستانہ پہن لیں تو پورا ہاتھ اور دستانہ یکجان ہو جاتے ہیں ‘اسی طرح آج یہودیت اور عیسائیت یکجان ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر اصل حقیقت یہ ہے کہ عیسائیت یہودیت کے مقاصد پورا کرنے میں اس کا آلۂ کار بن چکی ہے۔ اس صورت حال میں ہمارے لیے راہنمائی سورۃ المائدۃ کی آیت ۵۱ میں ہے‘ جس کا ابھی ہم نے مطالعہ کیا۔ اس سے اگلی آیت میں ارشاد ہے :
{ فَتَرَی الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْہِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓی اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَۃٌط}(آیت۵۲)
’’تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں روگ ہے وہ ان ہی (یہود و نصاریٰ) میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں‘ کہتے ہیں کہ ہمیں ڈر لگتا ہے کہ ہم کسی مصیبت کے چکر میں نہ پھنس جائیں۔‘‘
یہ آیت عالم ِاسلام کے موجودہ حکمرانوں پر کس درجے صادق آ رہی ہے!اس وقت عالم اسلام کے اکثر حکمران (جن کے لیے بادشاہ کا لفظ موزوں تر ہے) بش کے پرستار ہیں۔ صدر پرویز مشرف صاحب نے بھی اب بش کے سامنے تیسرا سجدہ کیا ہے۔ انہوںنے پہلا سجدہ کیا تھا جب طالبان کے بارے میں یوٹرن لیا تھا۔ ایک حکومت کو خودسپانسر کیا ‘ اس کی پشت پناہی کی اور اُن کا سفیر ملا ضعیف ابھی اسلام آباد میں موجود تھا‘ لیکن ان کے خلاف امریکہ کی پوری مدد کی اور انہیں تہس نہس کرنے میں اس کا بھرپور ساتھ دیا۔ صدر مشرف کا دوسرا سجدہ کشمیر کے مسئلے پر یوٹرن تھا۔ ہمارا موقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ پہلے مسئلہ کشمیر پر بات ہو گی‘ پھر کوئی اور بات ہو گی۔ چنانچہ واجپائی کے دَور میں صدر مشرف صاحب گردن اکڑا کر آگرہ سے واپس چلے آئے تھے کہ پہلے کشمیر کی بات ہو گی‘ پہلے یہ مسئلہ حل کرو ‘اس کے بعد پھر کوئی بات ہو گی۔ اب اس ایشو پر بھی ہم نے سجدئہ سہو کر لیا اور لچک پر لچک دکھائے چلے جا رہے ہیں۔ بھارت کی طرف سے ایک لچک بھی نہیں آئی۔ وہ کہتے ہیں کہ سرحدوں کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں ہو سکتی‘اور کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے۔
اب ہمارے صدر صاحب نے تیسرا سجدہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے میں کیا ہے۔ اسرائیل کے بارے میں ہمارا ہمیشہ سے یہ موقف تھا کہ ہم ہرگز اسے تسلیم نہیں کریں گے‘ چاہے عرب تسلیم بھی کر لیں۔ بانی ٔپاکستان نے اسرائیل کو مغربی دنیا کی ناجائز‘ (illegitimate)اولاد قرار دیا تھا ۔اگر عرب مجبوراً ایک ناجائز ملک کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائیں توضروری نہیں کہ ہم بھی مجبوری کے تحت اسے قبول کریں۔ لیکن اب یہ صورت حال زیادہ دُور معلوم نہیں ہو رہی کہ یہ تیسرا سجدہ مکمل ہو جائے گا اور اسرائیل کو تسلیم کر لیا جائے گا۔ اس لیے کہ ہمارے اپنے ملک کے اندر کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو حکومتی اقدامات کو چیلنج کر سکے ۔ زیادہ سے زیادہ اگر کوئی قابل ذکر جماعتیں تھیں تو وہ جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام تھیں۔ ان دونوں کے پائوں میں ڈیڑھ صوبائی حکومتیں دے کر بیڑیاں ڈال دی گئی ہیں اور انہیں ان کے اندر مگن کر دیا گیا ہے۔ اب وہ صدرپرویز مشرف کے خلاف کوئی سٹینڈ لینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ بہرحال اِس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ ہم نے قرآنی ہدایات کونظر انداز کرتے ہوئے بش کو تیسری مرتبہ سجدہ کر لیا ہے اور عیسائیوں کے بعد اب ہم یہودیوں سے بھی دوستی کے لیے بے تاب نظر آرہے ہیں۔ قائد اعظم نے جو اِس ملک کے بانی و مؤسس ہیں‘ دو ٹوک انداز میں اسرائیل کو مغربی قوتوں کا حرامی بچہ قرار دیا تھا اور فرمایا تھاکہ اسے ہم کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ اسی طرح ہمارے پہلے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان جب امریکہ گئے تھے تو انہیں وہاں یہودیوں کی طرف سے بہت بڑا‘ receptionدیا گیا‘ جس میں اسرائیل کو تسلیم کر لینے کی صورت میں طرح طرح کے لالچ دیے گئے۔ لیکن ان کے جواب میں خان لیاقت علی خان مرحوم نے کہا تھا (اللہ تعالیٰ اُن پر اپنی رحمتیں نازل کرے!)
" Gentlemen, our souls are not for sale."
’’حضرات! ہماری روحیں بکائو مال نہیں ہیں۔‘‘
آپ یہ قیمت دے کر ‘ لالچ دے کر ہمیں ایک غلط کام پر آمادہ نہیں کر سکتے‘ ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کر یں گے۔ اس واقعے کو ۵۵ برس ہو چکے ہیں اور اب محسوس ہو رہا ہے کہ شاید ہماری حکومت اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ باقاعدہ ریاستی تعلقات کے قیام کی راہ پر گامزن ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ یہود و نصاریٰ کی دوستی ہمارے لیے کبھی نفع بخش نہیں ہو سکتی۔ اس ضمن میں قرآنی ہدایت ہمیشہ ہمارے پیشِ نظر رہنی چاہیے:
’’اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو اپنا رفیق کبھی نہ بنائو۔ وہ آپس میں ہی ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ اور جو کوئی ان سے رشتۂ ولایت استوارکرے گا وہ انہی میں سے ہو گا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ظالموں کو راہ یاب نہیں کیا کرتا۔‘‘(المائدۃ:۵۱)
یہ تھی وہ ساری صورتِ حال جس کا ایک جائزہ مَیں نے آپ کے سامنے رکھ دیا ہے کہ آخری صلیبی جنگ کے معاملات کس طرح قدم بقدم آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان مایوس کن حالات میں ہمیں امریکہ کے سامنے سجدہ ریز ہونے کی بجائے اپنے مالکِ حقیقی سے نصرت و اعانت کا طلب گار ہونا چاہیے۔
اقول قولی ھذا واستغفراللہ لی ولکم ولسائر المسلمین والمسلماتoo