(ہماری دعوت) رفیق تنظیم ِاسلامی اور قرآنِ حکیم - ڈاکٹر محمد طاہر خاکوانی

9 /

رفیق تنظیم ِاسلامی اور قرآنِ حکیم
ڈاکٹر محمد طاہر خاکوانی

محترم جناب ڈاکٹر طاہر خاکوانی نے تنظیم اسلامی کے سالانہ اجتماع منعقدہ نومبر۲۰۲۱ء‘ بمقام بہاول پور میں رفقائے تنظیم اور احباب کے لیے نہایت بصیرت افروز اور ولولہ انگیز موضوع پر خطاب فرمایا۔ رفقاء و احباب کی دلچسپی اور افادہ عام کے لیے اس خطاب کو ترتیب و تسوید کے بعد پیش کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)

تنظیم اسلامی کی دعوت کی جڑ اور بنیاد قرآنِ حکیم ہے۔قرآن حکیم کی اہمیت اور فضیلت کے پیش نظر اس سے ہمارا تعلق کیا ہونا چاہیے ‘ کن چیزوں کو ہمیں اختیار کرنا ضروری ہے اور وہ کیا چیزیں ہیں جن کی ہمیں بیخ کنی کرنی ہے‘ان باتوں پر تنظیم کے ہر رفیق کو غور و فکر کرنا چاہیے تاکہ ہمارے عمل کو تقویت حاصل ہو۔ ارشادِ ربانی ہے:
{اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَهْدِیْ لِلَّتِیْ هِیَ اَقْوَمُ وَ یُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ اَجْرًا كَبِیْرًا(۹)} (بنی اسرائیل)
’’بے شک یہ قرآن اُس راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے جو بالکل سیدھا ہے۔اور یہ ان اہلِ ایمان کو جو اچھے عمل کرتے ہیں خوشخبری دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجرہے۔‘‘
قرآن حکیم ہدایت کی کتاب ہے۔ ویسے تو ہدایت کے پہلو دوسری آسمانی کتا بوں میں بھی تھے ‘ لیکن قرآ ن حکیم صرف ہدایت ہی نہیں ہے بلکہ ’’الہدیٰ‘‘ یعنی ہدایت ِکاملہ ہےاور اس میں رُشد و ہدایت کے تمام پہلو توازن و اعتدال کے ساتھ سموئے گئے ہیں۔اس حوالے سے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{وَلَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓى اَلَّا تَعْدِلُوْاط اِعْدِلُوْاقف هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی ز} (اَلْمَـآئِدَة:۸)
’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر نہ اُبھارے کہ تم عدل کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دو۔ عدل کو لازم پکڑو ‘کیونکہ یہی عمل تقویٰ سے قریب تر ہے۔‘‘
مزید فرمایا:
{یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلهِ وَ لَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ ج} (النِّسَآء:۱۳۵)
’’اے ایمان والو! انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ اللہ کے لیے گواہی دیتے ہوئے ‘چاہے یہ (انصاف کی بات اور گواہی) تمہارے اپنے خلاف ہو یا تمہارے ماں باپ کے یا رشتہ داروں کے۔‘‘
اس حکم میں ہدایت اور رُشد کے تمام پہلو انتہائی اعتدال اور توازن کے ساتھ موجود ہیں۔ رسولِ مکرم ﷺ کا فرمان ہے:
((وَ مَنِ ابْتَغَی الْھُدٰی فِیْ غَیْرِہٖ أَضَلَّہُ اللہُ)) (سنن الترمذی)
’’جو انسان قرآن کے علاوہ کہیں سے بھی ہدایت چاہے گا تو اللہ اسے گمراہ کردے گا (کیونکہ ہدایت کا منبع و سرچشمہ قرآن حکیم ہے)۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ آسمان کے نیچے اور زمین کی پشت پر سب سے بڑی نعمت یہی قرآنِ حکیم ہے۔ترتیب ِ نزولی کے اعتبار سے قرآن حکیم کی آخری آیت میں ربّ ِکائنات نے فرمایا:
{اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاط} (المائدہ:۳)
’’آج کے دن مَیں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا‘ اور تم پر اپنی نعمت (جوتیئس برس سے تمہارے اُوپر اُتر رہی تھی ) کو بھی پورا کر دیا ‘اور اسلام کو بطور ِ دین تمہارے لیے پسند کرلیا۔‘‘
رسول مکرمﷺ فرماتے ہیں:
’’ جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن جیسی نعمت عطا فرمائی اور اس شخص نے گلہ کیا کہ اللہ نے فلاں شخص پر بڑا فضل فرمایا ہے‘ تو اس نے قرآن جیسی نعمت عظمیٰ کی ناقدری کی ۔‘‘
گویا اتنی بڑی نعمت تمہیں ملی ہے کہ اس سے بڑی نعمت کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔اسی لیے قرآن مجید کو مضبوطی سے پکڑنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْاص}(آلِ عِمْرَان:۱۰۳)
’’اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھامو اور باہم متفرق نہ ہو جاؤ!‘‘
یہ ’’حبل اللہ‘‘ قرآن مجید ہے ۔ رسول مکرم ﷺ کا قولِ مبارک ہے:
((ھُوَ حَبْلُ اللہِ الْمَتِیْنُ‘ وَھُوَ الذِّکْرُ الْحَکِیْمُ ‘ وَھُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِیْمُ))(سنن الترمذی)
’’یہ اللہ کی مضبوط رسّی ہے ‘ اس میں حکمت پر مبنی نصیحتیں ہیں اور یہ صراطِ مستقیم ہے۔‘‘
آپﷺ نےمزید ارشاد فرمایا:
((وَحُکْمُ مَا بَیْنَکُمْ‘ وَھُوَ الْفَصْلُ لَیْسَ بِالْھَزْلِ)) (سنن الترمذی)
’’یہ تمہارے معاملات کے مابین فیصلہ کن کلام ہے۔اور یہ دو ٹوک کلام ہے ‘کوئی ہنسی مذاق(بے کار یا کوئی ازکار رفتہ شے) نہیں ہے۔‘‘ (ـمعاذ اللہ!)
قرآن مجیدکی اہمیت اور فضیلت مسلّم ہے اور اسی پر ہماری دنیا و آخرت کا دارومدار ہے۔ قیامت کے دن جب انسا نوں کی آنکھیں کھلیں گی تو وہ دیکھیں گے کہ ان کے ایک جانب جنّت ہے تو دوسری جانب دوزخ! اور جب اہل ِدوزخ کو دوزخ کی طرف لے جایا جارہا ہوگا تو یہ قول ان کی زبانوں پر ہوگا:
{لَوْ کُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْٓ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ (۱۰) فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِہِمْ ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ (۱۱)} (المُلک)
’’اگر ہم نے (اس کو )سنا اور سمجھا ہوتا تو آج ہم دوزخیوں میں نہ ہوتے۔پس وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے۔پس پھٹکار ہے دوزخ والوں کے لیے۔‘‘
یعنی وہ اعتراف کریں گے کہ ہم نے اس قرآن کی طرف توجّہ نہیں کی ‘ نہ اس کو غور سے سنا ‘ نہ سمجھا اور نہ ہی اس پر عمل کیا۔اسی لیے آج ہم دوزخ کی جانب گامزن ہیں۔
رسول کریمﷺ نے تو اس قرآن کو قوموں کے عروج وزوال کا شاخسانہ بتا یا ہے‘ فرماتے ہیں:
((اِنَّ اللہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکِتَابِ اَقْوَامًا وَّ یَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ)) (صحیح مسلم)
’’اللہ تعالیٰ اس کتاب کی بدولت بعض قوموں کو عروج عطا فرمائے گا اور اس کتا ب (کوپس پشت ڈالنے اور نظر انداز کرنے) کی بنیاد پربعض کوذلیل کر دے گا۔‘‘
اگرقوموں کو ان کے عروج اور سربلندی کےاعتبار سے دیکھیں تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ عروج اور اقتدار تو فرعون‘ نمرود‘ ہامان اور قارون کو بھی حاصل ہو ا تھا ۔مگر رسول اللہﷺ کایہ جو ارشاد ہے کہ اس کی بدولت اللہ تعالیٰ قوموں کو عروج عطا فرمائے گا‘ اس عروج وسر بلندی سے مراد یہ ہے کہ وہ عرو ج ایسا ہوگا کہ جس سے تمام نوعِ انسانی کی فلاح و نجات وابستہ ہوگی!
بانی محترم ڈاکٹر اسرار احمد ؒ اپنی تالیف ’’رسولِ انقلابﷺ کا طریق انقلاب‘‘ میں رقم طراز ہیں کہ:
’’ایم این رائے (M.N.Roy) ایک بنگالی ہندو تھا اور وہ انٹر نیشنل کمیونسٹ آرگنائزیشن کا رکن تھا ۔اس نے ۱۹۲۰ءمیں بریڈ لا ہال لاہور میں’اسلام کا تاریخی کردار‘ (The Historical Role of Islam) کے عنوان سے لیکچر دیا اور کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تاریخ انسانی کا عظیم ترین انقلاب محمد(ﷺ) نے برپا کیا۔ واضح رہے کہ وہ عقیدت مند نہیں ہے ‘ ایک بنگالی ہندو اور ٹاپ کا کمیونسٹ ہے‘ لیکن وہ یہ بات تسلیم کر رہا ہے۔‘‘
دنیا میں بڑی فتوحات اٹیلہ اور سکندرِ اعظم نے بھی کیں ‘ لیکن وہ صرف قوت و طاقت کی بنیاد پر عسکری مہمات (brute military campaigns) تھیں۔ اس کے نتیجے میں دنیا کو کوئی علم‘کوئی نئی روشنی‘ کوئی تہذیب اور تمدن پیش نہیں کیا گیا۔وہ صرف قوت و طاقت کے بل پر فتح و کامیابی تھی۔لیکن نبی اکرمﷺ کا جو انقلاب تھا ‘ وہ عظیم ترین اور کامل ترین انقلاب تھا‘ کیونکہ اس میں جو عروج حاصل ہوا اس میں نیا علم‘ نئی تہذیب ‘ نئی روشنی‘ نیا تمدن اور اخلاقِ فاضلہ ‘ یہ ساری چیزیں ساتھ آئی ہیں۔اور ان سب کی جڑ اور بنیاد قرآنِ حکیم ہی تھاجس کے ذریعے وہ عظیم الشان انقلاب برپا ہوا۔
رسول مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
((اَلْقُرْآنُ حُجَّۃٌ لَکَ اَوْ عَلَیْکَ)) (صحیح مسلم)
’’قرآن حکیم تمہارے حق میں دلیل ہوگا یا تمہارے خلاف استغاثہ لے کر کھڑا ہوگا۔‘‘
یعنی جو لوگ اس کو پڑھیں گے‘ اس پر ایمان لائیں گے‘ اسےسمجھیں گے‘اس پر غور و فکر کریں گے ‘ اس کے احکام کے مطابق عمل کریں گے‘ اس کو آگے پہنچائیں گےتو ایسے لوگوں کے حق میں قرآن حکیم سفارش کرے گا۔اور جو اس کو قابلِ اعتناء نہیں سمجھیں گے‘ پس پشت ڈال دیں گے اور اپنا زیادہ وقت فضول مشاغل میں گزار دیں گے اور قرآ نِ حکیم پڑھنے کے لیے ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوگا تو قرآنِ حکیم ان کے خلاف استغاثہ لے کر کھڑا ہو جائے گا۔
ہم بحیثیت ِاُمّت ِمسلمہ خُوب جانتے ہیں کہ آخرت میں ہماری نجات ہمارے ایمانِ قلبی اور اعمالِ صالحہ پر منحصر ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے:
{وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىٕكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا(۱۹)} (بنی اسرائیل)
’’اورجو کوئی آخرت کا طالب ہو اور اس کےلیے وہ محنت کرے جیسا کہ محنت کرنے کا حق ہےاور وہ مؤمن بھی ہو تو ایسے لوگوں کی محنت کو اللہ تعالیٰ شرفِ قبولیت سے نوازے گا۔‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ آخرت میں نجات کے لیے محنت‘ کوشش اور ایمان ناگزیر ہے اورایمان کے بغیر نجات ممکن نہیں۔اب سوال یہ ہے کہ یہ ایمان حاصل کہاں سے ہوگا؟تو ہم سب جانتے ہیں کہ جو شعوری ایمان ہے اس کا منبع و محور قرآنِ حکیم ہے۔ارشادِ ربانی ہے:
{وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا} (الانفال:۲)
’’اورجب انہیں اس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتاہے۔‘‘
اس کی ترجمانی مولانا ظفر علی خان نے یوں کی ہے:
وہ جنس نہیں ایمان جسے لے آئیں دکانِ فلسفہ سے
ڈھونڈے سے ملے گی عاقل کو یہ قرآں کے سیپاروں میں

چنانچہ ایمان قرآنِ حکیم سے ہی ملے گا‘مگر اس کے حصول کے لیے سچی طلب درکار ہے۔ یقین کامل اور طلب میں صداقت ہو تو منزل تک پہنچنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس کی کئی مثالیں سیرت کی کتابوں میں درج ہیں۔ مثلاً حضرت سلمان فارسیؓکی دربارِ رسالت ﷺ میں پہنچنے کی داستان ہمارے سامنے ہے۔آپؓکا تعلق ایران سے تھا جہاں کے لوگ آتش پرست تھے۔ آپ اس مشرکانہ ماحول کو چھوڑ کر حق کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ دل کی پیاس ہر قسم کی کثافت سے پاک تھی‘ نیت اور طلب میں سچائی کا غلبہ تھا‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر نظر کرم فرمائی اور انہیں حضورﷺ کے قدموں تک پہنچا دیااور وہ ایمان کی دولت سے مالا مال ہوگئے۔جب کہ دوسری طرف آپﷺ کا سگا چچا جو آپﷺ کا پڑوسی بھی تھا‘ وہ قرآن سنتا بھی تھا ‘لیکن اس کے دل میں حق و صداقت کی کوئی حرارت ہی نہیں تھی‘ چنانچہ وہ ایمان کی دولت سے تہی دامن رہ گیا۔قرآنِ حکیم نے ابو لہب کے بارے میں یہ فیصلہ کردیا ہے:
{تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ(۱) مَآ اَغْنٰی عَنْہُ مَالُہٗ وَمَا کَسَبَ(۲)}(اللَّھَب)
’’ٹوٹ گئے ابو لہب کے دونوں ہاتھ اور وہ نامراد ہوا ۔ اس کا مال جو اس نے کمایاوہ اس کے کچھ بھی کام نہ آئے گا۔‘‘
قرآن حکیم منبع ایمان ہے اور اپنی اہمیت و فضیلت کے اعتبار سے یہ ایک کتابِ انقلاب ہے۔الطاف حسین حالی قرآن کی مدح میں فرماتے ہیں: ؎
اُتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اِک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا
وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوتِ ہادی
عرب کی زمیں جس نے ساری ہلادی!

قرآن کے حوالے سے مشرکین کا مشاہدہ یہ تھا کہ جو بھی قرآن سن کر اس پر ایمان لے آتا ہےاس کے اندر غیرت و حمیت اور قوتِ ایمانی اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ خواہ اسےجان سے مار دو لیکن وہ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہوتا۔وہ یہ بھی دیکھ چکے تھے کہ حضرت یاسر اور حضرت سمیہiکو بڑی بے رحمی سے مارا پیٹا جاتا تھااور بالآخر ان دونوں کو انتہائی بہیمانہ انداز سے شہید کر دیا گیا‘ مگر شمع رسالت کے ان پروانوں کی زبان سے کبھی کلمہ کفر نہ نکلا۔حضرت بلالؓ پر تشدد کی انتہا کر دی گئی مگر اس مردِمجاہد کی زبان سے سوائےاَحَد اَحَد کے اور کچھ نہیں نکلا۔مشرکین ان حقائق کا بغور جائزہ لے رہے تھے‘ لہٰذا ’’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ کے مصداق انہوں نے باہم مشورہ کیا ‘ جسے قرآنِ حکیم ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
{وَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ(۲۶)}( حٰمٓ اَلسَّجْدَۃ)
’’اور ان کافروں نے کہا کہ تم اس قرآن کو مت سنواور اس میں شور و غوغا مچاؤ ‘ شاید اس طرح تم غالب آجاؤ۔‘‘
وہ سمجھتے تھے کہ اس طرح نہ کوئی قرآن صحیح طرح سنے گا اور نہ اس کی طرف مائل ہوگا‘لہٰذا ایسا ماحول پیدا کرو کہ کوئی قرآنِ حکیم کو سن ہی نہ سکے۔
اگر کوئی یہ کہے کہ وہ ایمان تو چودہ سو سال پہلے قرآنِ حکیم کی بنیاد پر لوگوں کے دلوں کومسخر کرتا تھا تو یہ بالکل احمقانہ بات ہوگی۔موجودہ دور میں بہت سی شخصیات صرف ایک بارقرآن مجید کا کچھ حصّہ سن کر یا پڑھ کر ایمان لے آئیں۔مثلاًکیٹ سٹیونز جوایک مشہور سنگر تھااوربرطانیہ میں گٹار بجاکر گانے گاتاتھا‘ اس کے بہت سے دلدادہ (fans)تھے۔لیکن ایک دن اتفاقاً قرآن مجید اس کے ہاتھ لگ گیا۔ وہ خود کہتا ہے کہ جب مَیں نے قرآن کا پہلا chapter کھولا تو سورۃ البقرہ میرے سامنے تھی‘ اس میں لکھا تھا : {ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَج فِیْہِ ج} (البقرۃ:۲)’’یہ وہ کتا ب ہے جس میں کوئی شک نہیں۔‘‘ کہنے لگا:’’ہمیں تو مغربی تعلیم یہ سکھاتی ہے کہ ہر چیز میں شک پیدا کرو (doubt everything) ۔ اوپر سے‘ نیچے سے ‘ دائیں سے ‘ بائیں سے دیکھو‘ اس کے اندر کوئی نہ کو ئی نقص پیدا کرو ۔لیکن یہ ایسی کتا ب ہے جو پہلے صفحہ سے ہی کہہ رہی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے‘ یعنی اتنا بڑا دعویٰ ہے!‘‘اس چیلنج کو قبول کرتےہوئے اس نے قرآنِ حکیم پڑھاتواس کی کائنات ہی بدل گئی اور وہ کیٹ سٹیونز سے یوسف اسلام ہو گیا۔ اسی طرح علامہ اسد جو ایک یہودی تھے‘ وہ بھی قرآن کے ذریعے سے ہی ایمان لے آئے۔ایسی ہی مثال موریس بوکائے کی ہے جنہوں نے ایک کتا ب "The Bible, The Quran and Science"کے نام سے لکھی ‘ وہ بھی قرآنِ مجید کا مطالعہ کر کے ایمان لائےتھے۔ چنانچہ آج کے دور میں بھی ایسی شخصیات اس دنیا میں موجود ہیں جن کے بارے میں ہم بر ملا کہہ سکتے ہیں:
چوں بجاں در رفت جاں دیگر شود
جاں چو دیگر شد جہاں دیگر شود!

حقیقت یہ ہے کہ جب قرآنِ حکیم کسی کےباطن میں اُترتا ہے تو اس کے اندر کی دنیا کو بدل دیتا ہےاور جب اندر کی دنیا بدلتی ہے تو باہر کی دنیا بھی بدل جاتی ہے‘ یہ اعجازِ قرآن ہے۔ یہ قرآنِ حکیم ہی تھا جس کی بدولت نبی مکرم ﷺ نے معاشرے کے اندر پھیلے ہوئے شرک‘ بے دینی‘ الحاد اور مادہ پرستی کی جڑیں کاٹ دیں۔ دنیا کی محبت اور مال کی محبت جیسی گمراہیوں میں ڈوبی نوعِ انسانی کو یہاں سے نکال کر ایمان و یقین سے بہرہ مند فرمایا۔قرآنِ حکیم خود اس بات کی گواہی دیتا ہےکہ:
{هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖٓ اٰیٰتٍم بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ ط}(الْحَدِيْد:۹)
’’وہی (اللہ) ہے جو اُتارتا ہے اپنے بندے پر یہ روشن آیات تاکہ تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے۔‘‘
رسول کریم ﷺ نے نوعِ انسانی کو ایمان و یقین کی روشنی سے منور و تاباں کیا‘ لوگوں کے قلوب و اذہان کو بدلا ‘ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے چار مقامات پر کیا ہے۔ سورئہ آلِ عمران میں فرمایا:
{لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ ج وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(۱۶۴)}
’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مؤمنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اُس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے ‘ انہیں پاک صاف کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے‘ جبکہ یہ لوگ اس سے پہلے یقیناً کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔‘‘
یعنی ان کے جو بھی مشرکانہ عقائد ‘ملحدانہ خیالات اور باطل نظریات تھے آپﷺ نے اس قرآنِ حکیم کے ذریعے سے ان کا تزکیہ فرمایا‘ انہیں کتاب اور اس کے اندر موجود احکامات کی تعلیم دی اور ان کی حکمتیں بھی بیان فرمائیں۔ نبی مکرم ﷺ نے قرآن مجید کی بدولت انسانوں کے قلوب و اذہان کو بدلا اور ایک جماعت قائم کی ‘ انہیں منظّم کیا ‘ ان کی تربیت کی اور ان کو صبر کے مراحل سے گزارا ‘یہاں تک کہ ایک عظیم الشان انقلاب برپا ہوگیا:
{وَقُلْ جَاۗءَ الْحَقُّ وَزَھَقَ الْبَاطِلُ ۭ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا(۸۱)} (الاسراء)
’’آپ کہہ دیجیے: حق آن پہنچا اور باطل مٹ گیا‘ اور یقیناً باطل ایسی ہی چیز ہے جو مٹنے والی ہے۔‘‘
قرآن مجید کی دعوت میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ اللہ کی بندگی اختیار کرو۔ارشادِ ربانی ہے:
{یٰٓاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ(۲۱)} (الْبَقَرَة)
’’ اے بنی نوعِ انسان! اپنے رب کی بندگی اختیار کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلوں کو پیدا کیا تاکہ تم (آخرت کے دکھوں سے) بچ سکو۔‘‘
اللہ کی یہ بندگی اس کی محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر اور کامل اطاعت کی کیفیت میں ہونی چاہیے۔یہ قرآنِ حکیم کی اوّلین(foremost)دعوت ہے۔
اس کے بعد دو چیزیں اور ہیں:دعوت و اقامت ‘ یعنی’’دعوت الی اللہ اور اقامت ِ دین‘‘۔ان دونوں چیزوں کی بھی قرآنِ حکیم ہمیں پُرزور دعوت دیتا ہے۔ازروئے قرآنِ حکیم:
{وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَى اللّٰهِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ(۳۳)} (حٰمٓ اَلسَّجْدَۃ)
’’اور اس شخص سے بہتر بات کس کی ہوگی جو اللہ کی طرف دعوت دے اور نیک عمل کرے اور یہ کہے کہ مَیں فرماں برداروں میں شامل ہوں۔‘‘
اللہ ربّ العزت رسول کریمﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے:
{یٰٓاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ    ط وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ ط}(الْمَـآئِدَة:۶۷)
’’اے رسول(ﷺ)!جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کیجیے ۔اور اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو (اس کا مطلب یہ ہوگا کہ) آپ نے اللہ کا پیغام نہیں پہنچایا۔‘‘
مطلب یہ کہ قرآنِ حکیم کے ذریعے سے آپ دعوت دیں‘تبلیغ کریں اور اس پیغام کو پہنچائیں ‘ اگرآپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے رسالت کا حق ا دا نہیں کیا۔رسول اللہﷺ کے بعدیہ اُمّت ِمسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن کے پیغام کو آگے پہنچائیںاور اسی پیغام میں اقامت ِ دین بھی شامل ہے۔ ارشاد الٰہی ہے:
{اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ ط}(الشُّوْرٰی:۱۳)
’’ تم دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالنا۔‘‘
اس سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ عادلانہ اور منصفانہ نظام اجتماعی سطح پر قائم کرنا۔
اس حوالے سے یہ پہلو ہمیشہ ذہن میں مستحضر رہے کہ حقیقی کامیابی اُخروی کامیابی ہے۔دنیا میں جتنی بھی بھاگ دوڑ کر لو گے ‘جو مال بھی خرچ کروگے ‘ جان اور وقت لگا ؤگے ‘ اپنی صلاحیتوں کو کھپاؤگے تواس کے نتیجے میں جو کامیابی حاصل ہو گی وہ کامیابی عارضی ہے‘ جبکہ اصل کامیابی اُخروی ہے۔سورئہ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَط وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ(۱۸۵)}
’’پس جو شخص دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا وہ( صحیح معنوں میں) کامیاب ہوگیا۔ اور یہ دنیوی زندگی تودھوکے کے سامان کے سوا کچھ بھی نہیں۔‘‘
صحابہ کرامؓکی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انہوں نے قرآنِ حکیم کو سنا اور ان کی کایا پلٹ گئی۔ان کے اندر یہ تبدیلی کیسے رونما ہوئی؟ اس لیے کہ انہوں نے قرآنِ حکیم کو سینے سے لگایااورجب قرآنِ حکیم سینے سے لگا تو بس دنیا ہی بدل گئی۔بقول اقبال:
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحبِ کشاف!

صحابہ کرام jکی سوچ‘ ان کی فکر‘ ان کا نقطہ نظر ‘ ان کی اقدار‘ ان کے عزائم‘ اُمنگیں‘ دلچسپیاں ‘ اُن کے اخلاق‘ سیرت و کردار‘ ان کے خوف‘ اُمیدیں‘ خلوت و جلوت‘ اُن کی انفرادیت و اجتماعیت‘ رات و دن ‘ حتیٰ کہ ان کی کائنات ہی بدل گئی اور ان کی زندگی میں کچھ بھی ایسا باقی نہیں رہا جس کو وہ ماضی میں گزار کر آئے تھے۔اور یہ تبدیلی کوئی معروضی تبدیلی نہیں تھی بلکہ حقیقی تھی۔ایسی ہی تبدیلی سے انقلاب اور کشمکش کے سوتے پھوٹتے ہیں۔بقول اقبال: ؎
یا وسعت اَفلاک میں تکبیر مسلسل
یا خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات
وہ مذہب مردانِ خود آگاہ و خدا مست
یہ مذہب مُلا و جمادات و نباتات!

تبدیلی جب واقعی و حقیقی ہو تو اس میں سے لازماً کشمکش اورکشاکش جنم لیتی ہے اور یہ کشاکش سب سے پہلے اپنے نفس کے ساتھ ہوتی ہے۔چنانچہ اپنے نفس کو‘ اس کی خواہشات کو اللہ کی رضااور اس کی پسند کے تابع کرناضروری ہے۔اسی طرح ابلیس کے ساتھ کشمکش‘ باطل معاشرے ‘ باطل نظریات اور انجام کار باطل نظام کے ساتھ کشمکش اور پنجہ آزمائی ضروری ہے۔ سیرتِ رسول ﷺ کا مطالعہ کریں‘ صحابہ کرام jکی سیرتوں کو پڑھیں تو واضح طور پر یہ نظر آئے گا کہ ان کی زندگیوں میں یہی کچھ تو ہے کہ انہوں نے قرآنِ حکیم سیکھا‘ نبی اکرمﷺ سے تعلق مضبوط کیا‘ تو زندگی میں تبدیلی آئی ‘ کشا کش نے جنم لیا اور وہ ع’’ لڑادے ممولے کو شہباز سے!‘‘کے مصداق بن گئے۔ با لآخر اللہ عزّوجل نے ان کو سرخرو کیا اور اس طرح ان کی سیرت ہمارے لیے ایک محرک بن کر سامنے آگئی۔اصل میں قرآنِ حکیم سے ہمارا تعلق ایسا ہونا چاہیے کہ وہ ہمیں possess کرلے‘ یعنی قرآن ہم پر اور ہماری فکر و نظر پر پوری طرح قا بض ہوجائےاور یہی قبضہ سب سے مبارک قبضہ ہے۔
کیٹ سٹیونز(یوسف اسلام) بھی یہی کہتا تھا کہ جب مَیں نے قرآنِ حکیم پڑھنا شروع کیا توقرآن نے مجھ پر قبضہ کر لیا) (Quran possessed me ۔پھرمَیں ہر وقت ڈرتا تھا کہ کہیں قرآن مجھ سے چھن نہ جائے۔رات کو سوتا تو قرآن تکیے کے نیچے رکھ کر سوتا تھا۔رات کو پڑھتاا ور صبح اٹھتے ہی پھر اس کی تلاوت کرتا۔گویا ایک لگن اس کے دل میں پیدا ہو گئی تھی۔اندر ایک ایسی آگ بھڑک اٹھی تھی کہ ہر وقت ہی اسے پڑھتا رہتا ۔ضروری ہے کہ ہمارے اندر بھی یہ کیفیت پیدا ہوجائے کہ قرآن کا ہم پر قبضہ ہوجائے اور قرآن ہمارا اوڑھنا بچھونا بن جائے۔جیسے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ قرآنِ حکیم کو پڑھو او رصرف ایسی رواروی میں نہ پڑھو کہ بس ثواب حاصل کرنے کی نیت ہو۔اللہ کے سامنے عاجزی کرو‘ گڑگڑاؤ‘ اسے سمجھو‘ اس پر غور و فکر کرو‘خود اس پر عمل کرو اور اسے آگے پہنچاؤ۔ کسی کو خبردار کرنا ہویا خوشخبری سنانی ہو اس کا ذریعہ بھی قرآن ہی ہو۔ کسی کو تعلیم دینی ہو‘ تذکیر کرنی ہو‘ تربیت کرنی ہو‘ کسی کو تبلیغ کرنی مقصود ہو تو اس کا ذریعہ بھی قرآن ہی ہونا چاہیے۔
مزید یہ کہ قرآن مجید کی گہرائی میں اُتر کر حکمت و دانائی کے موتی چن کر لانا ہمارا مقصد ہونا چاہیے ‘کیونکہ اسی سے ایمان و یقین کی کیفیت پید ا ہوگی۔بقول اقبال ؎
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں!
اللہ کرے تجھ کو عطا جدّتِ کردار

علّامہ اقبال کے زیرمطالعہ قرآن کا نسخہ جو میوزیم میں رکھا ہوا ہے اُس کے اوراق اُن کے رونے کی وجہ سے نچڑ گئے ہیں۔ہماری بھی یہی کیفیت ہونی چاہیے۔اپنا تزکیۂ نفس کرنا ہو‘ تصفیۂ قلب ہو ‘روح کو جلا بخشنی ہو ‘ اور باطل نظام کو جڑوں سے اکھیڑ کر اس کی جگہ ایک عادلانہ اور منصفانہ نظام قائم کرنا مقصود ہو تو یہ بغیر قرآن کے نہیں ہوسکتا!رسول کریم ﷺ نے ایک طویل حدیث کے آخر میں فرمایا:
((مَنْ قَالَ بِہٖ صَدَقَ‘ وَمَنْ عَمِلَ بِہٖ أُجِرَ‘ وَمَنْ حَکَمَ بِہٖ عَدَلَ‘ وَمَنْ دَعَا إِلَیْہِ ھُدِیَ إِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ)) (سنن الترمذی)
’’جس نے اس (قرآنِ حکیم )کے حوالے سے بات کی اُس نے سچ کہا‘ جس نے اس پر عمل کیا وہ اجر پا گیا‘جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا اُس نے عدل کیا۔اور جس نے لوگوں کو قرآن کی طرف بلایا اس کو اللہ کے راستے کی طرف ہدایت نصیب ہوگئی۔ ‘‘
لہٰذا قرآنِ حکیم سے ہمارا اصل تعلق اس طرح ہونا چاہیے ۔محض رسمی طور پر یا کسی کاغذی کارروائی کے طور پر قرآنِ حکیم کاپڑھنا‘ قرآ ن کے ساتھ زیادتی اور اس کی حق تلفی ہے۔
ایک اور اہم چیز پیش نظر رہے کہ ہماری فکر انقلابی ہےاور اس میں پختگی قرآنِ حکیم سے حاصل ہوگی۔ قرآنِ حکیم کا دامن تو انتہائی وسیع ہے ۔اس میں تبشیر بھی ہے‘ ’’انذار‘‘ (warning)بھی ہے‘ آخرت کے حوالے سے بھی بہت کچھ ہے۔یہ علوم و معرفت کا خزانہ ہے‘ مگر ہماری انقلابی فکر کا محور ’’مطالعہ قرآن حکیم کامنتخب نصاب‘‘ ہے۔اس سے نظر نہیں ہٹنی چاہیے۔ اللہ کے رسول ﷺ پر مشکل حالات آتے رہے۔ تنظیم اسلامی کا ہر رفیق جب اپنے آپ کو قرآن و سُنّت اور شریعت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے گا اس پر بھی لازماً مشکلات آئیں گی۔مثلاً اگر گھر میں پردے کا معاملہ ہوتو یقیناً رکاوٹیں پیش آئیں گی۔آپ رسم و رواج کی بیخ کنی کرنے کی کوشش کریں گے تو معاشرہ دیوار بن کر کھڑا ہوجائے گا‘ تصادم ہوگا۔
نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرامؓ ان مشکل مراحل سے گزرے ہیں ۔ہماری مشکلات تو ان پر گزرے مصائب کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں۔ان مشکلات میں اللہ تعا لیٰ آپ ﷺ کو مختلف پیرائے میں تسلی دیتا‘ مثلاً :
{اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ }(الْعَنْـكَبُوْت:۴۵)
’’(اے نبیﷺ!)جو کتاب آپ کی طرف وحی کے ذریعے بھیجی گئی ہے اس کی تلاوت کیجیے !‘‘
ظاہر بات ہے کہ وہاں تلاوت کا مطلب یہ نہیں تھا کہ جیسے ہم عربی نہیں جانتے اور محض ثواب کی نیت سے پڑھتے ہیں۔تلاوت کا مطلب ہے پیچھے پیچھے آنا‘ followکرنا۔ نبی اکرمﷺ کی وساطت سے ہمارے لیے بھی یہی ہدایت ہے کہ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں اور مسلسل پڑھتے رہیں ۔اس کے اوامر ونواہی سے آگاہی حاصل کریں اور اپنا عمل درست کریں۔ مسلسل قرآنِ حکیم پڑھتے رہنے سے ہمارے اندر کی نفسانی خواہشات ‘ مال و دولت کی محبت اور اس کی کثافت بھی دُور ہوجائے گی۔بقول اقبال:
یہ مال و دولت دُنیا ‘ یہ رشتہ و پیوند
بتانِ وہم و گماں‘ لا اِلٰہ الا اللہ!

اب اس کو محدود(confined)کیسے کیا جائے تو اس کا علاج یہ ہے کہ عبادات کے ذریعے سے اپنے نفس پر قابو پایا جائے۔اور عبادات میں سب سےاوّلین (foremost) پنج وقتہ نماز ہےاور پھرخصوصاًرات کی نماز۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ ط اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِط} (الْعَنْـكَبُوْت:۴۵)
’’(اے نبیﷺ! ) جو کتاب آپ کی طرف وحی کے ذریعے بھیجی گئی ہے اس کی تلاوت کیجیے اور نماز قائم کیجیے ۔بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔‘‘
نماز کے اندر یہ قوت اور طاقت ہے کہ وہ بندئہ مسلم کو بُرائیوں سے باز رکھتی ہے۔ پھر مال و اولاد کی محبّت کو بھی کم سے کم کرنا ہے۔آپ ﷺ کو بھی بار بار تلقین کی گئی ہے کہ قرآن کی طرف توجّہ فرمائیں تاکہ اس کے ساتھ آپ کا ذہنی اور قلبی تعلق جڑا رہے۔اگر قرآن سے ہمارا یہ تعلق کمزور پڑ گیا تو جذبات سرد پڑ جائیں گے اور ہم اپنی ذمہ داریوں سے راہِ فرار اختیار کریں گے۔ اس صورت میں دنیاد اری انسان کے پیر جکڑ تی ہے ‘ کسی اجتماعی مہم کے موقع پر کئی عذر پیش کرتا ہے اور اس کی ترجیحات ہی بدل جاتی ہیں۔
دوسری چیز اپنے اندر نظم و ضبط پیدا کرنا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا وَاَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ ط} (التَّغَابُن:۱۶)
’’پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اپنی حد ِامکان تک ‘ اور سنو اور اطاعت کرو ‘ اور خرچ کرو (اللہ کی راہ میں) یہی تمہارے لیے بہتر ہے۔‘‘
سنو اور اطاعت کرو (Listen and obey!)بس یہی نظم ہے۔یعنی تمہارا امیر جو تم سے کہہ رہا ہے اس کی بات پر توجّہ دو اور اس کے مطابق ہی عمل کرو۔نبی کریمﷺ نے فرمایا:
((اَنَا آمُرُکُمْ بِخَمْسٍ‘ اَللہُ اَمَرَنِیْ بِھِنَّ : بِالْجَمَاعَۃِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ وَالْھِجْرَۃِ وَالْجِھَادِ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ))(سنن الترمذی)
’’مَیں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دیتا ہوں‘اللہ نے مجھے ان کا حکم دیا ہے: التزامِ جماعت کا‘(امیر کا حکم) سننے اور ماننے کا‘ہجرت کا‘اور اﷲ کے راستے میں جہاد کا!‘‘
اس ضمن اہم چیز سمع و طاعت ہے ۔کیونکہ تعمیری کام منظّم جدّوجُہد کے بغیر ممکن نہیں ۔تخریبی کام کا اپنا انداز ہوتا ہے مگر تعمیری (constructive)کام صرف منظم جماعت ہی کر سکتی ہے۔ایسی کوئی تحریک ترقی نہیں کر سکتی جس میں نظم و ضبط کا فقدان ہو۔
ایک اور چیز جو ہم نے اختیار کرنی ہے وہ جہاد ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:
{وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ ط} (الْحَجّ:۷۸)
’’اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔‘‘
جہاد‘ محنت‘ کوشش‘ ایثار و قربانی‘ اپنی توانائیاں‘ اپنی صلا حیتیں کام میں لانا اور اس راہ میں کھپانا ‘ ہمارا بنیادی ہدف ہونا چاہیے۔پھر شہادت کی آرزو اپنے دل میں رکھنا۔ہم عاشقانِ رسول ﷺ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیںتو ہمیں رسول کریمﷺ کا یہ فرمان بھی پیش نظر رکھنا چاہیے:
((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَوَدِدْتُ اَنْ اُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ فَاُقْتَلَ‘ ثُمَّ اُحْیَا ثُمَّ اُقْتَلَ‘ ثُمَّ اُحْیَا ثُمَّ اُقْتَلَ‘ ثُمَّ اُحْیَا ثُمَّ اُقْتَلَ)) (صحیح البخاری)
’’قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ ٔ قدرت میں میری جان ہے ! میری بڑی خواہش ہے کہ مَیں اللہ کی راہ میں جنگ کروں تو اس میں قتل کردیا جاؤں ‘ پھر مَیں زندہ کیا جاؤں ‘ پھر قتل کیا جاؤں ‘ پھرمَیں زندہ کیا جاؤں ‘ پھر (اللہ کی راہ میں) قتل کیا جاؤں ‘ پھر مَیں زندہ کیا جاؤں ‘ پھر (اللہ کی راہ میں) قتل کیا جاؤں۔‘‘
رسول اللہﷺ کے دل میں تو یہ شدید خواہش ہو اور ہمارے اندر اس سے گریز ہو تو یہ کیسا عشق رسولؐ ہے؟ ع ’’جس کو ہو جان و دل عزیز اُس کی گلی میں جائے کیوں!‘‘ اور بقول اقبال ؎
تُو بچا بچا کے نہ رکھ اسے‘ ترا آئنہ ہے وہ آئنہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئنہ ساز میں!

اپنی جان‘ اپنی صلاحیت‘ اپنے اوقات ‘اپنی قوت اور اپنا مال بچا بچا کے نہ رکھو ‘بلکہ خرچ کرو۔ایک داعی کے اندر شوقِ شہادت‘جذبۂ جہاد اور ایثار وقربانی کا داعیہ ہونا ناگزیر ہے۔ ؎
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مؤمن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی!

اجتماعیت کے ہر موقع پر دوسروں کو اپنے اوپر ترجیح دینا ہر رفیق کے لیے لازمی ہے۔اس موقع پر صبر و تحمل سے کام لینے سے ہی تو ہماری تربیت ہوگی۔صحابہ کرامؓ کے بارے میں اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے :
{وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ط}( الْحَشْر:۹)
’’اور وہ اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں ‘ اگرچہ وہ خود اس کے زیادہ حاجت مند ہوں۔‘‘
لہٰذا یہ وصف ہمارے اندر بھی ہونا چاہیے۔پھر دل کی سچی لگن کہ جس سے انسان ذہنی طور پر مطمئن ہو کہ ہم ایک تنظیم کے ساتھی ہیں۔محض تنظیم میں نام لکھوا دینا ہی ہمارا مقصد نہ ہو‘بلکہ جس مشن کے لیے اس میں شامل ہوئے ہیں اس کی سچی تڑپ ہمارے اندر جا گزیں ہونا لازمی ہے۔جیسا کہ ایک موقع پر بانی تنظیمؒ نے کہا تھا کہ ’’راتوں کی نیند اُڑجائےیہ سوچ کر کہ یہ معاشرے میں کیا ہورہا ہے؟ یہ فکر ہماری راتوں کی نیند اور دن کا سکون ختم کردے۔‘‘پھر دوسروں کے عمل کو دیکھے بغیر ہمیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے رہنا چاہیے۔ہمارے پائے استقامت میں لغزش نہیں آنی چاہیے۔دین کا کام مستقل مزاجی اور تسلسل کے بغیر ممکن نہیں۔بقول اقبال: ؎
یقیں محکم‘ عمل پیہم‘ محبّت فاتح عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مَردوں کی شمشیریں

ایک اور اہم چیز جو اجتماعیت میں لازمی ہونی چاہیے اس کا ذکر قرآن مجید نے ان الفاظ میں کیاہے:{مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ط وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗٓ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ}(الْفَتْح:۲۹)’’محمد (ﷺ) اللہ کے رسول ہیں‘ اور جو ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر بہت سخت اور آپس میں انتہائی رحیم و شفیق ہیں۔‘‘چنانچہ رفقا ءکی آپس کی کیفیت بھی رحم و شفقت پر مبنی ہونی چاہیے‘کیونکہ نفرت کرنے والے دل آپس میں کبھی نہیں مل سکتےاور منافقانہ میل جول حقیقی اطاعت کی بنیاد بن ہی نہیں سکتا۔خود غرضی بھی رفاقت میں دیوار بنتی ہے۔ باہمی طور پر اخوت و محبت‘ہمدردی و خیر خواہی‘ باہمی اعتماد و حسن ظن اور باہم ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرتے رہنے سے ہی یہ جماعت سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے گی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ(۴)} ( الصَّفّ)
’’بے شک اللہ پسند کرتا ہے اپنے ان بندوں کو جو جنگ کرتے ہیں صفیں باندھ کر‘ گویا کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔‘‘
اگر دل آپس میں پھٹے ہوئے ہوں‘ میل جول میں منافقت ہوتو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کیسے بنے گی؟
جماعتی زندگی میں کچھ چیزوں کو ہمیںاپنے اندر سے نکال پھینکنا eradicate)کرنا ) ہوتا ہے اور کچھ چیزیں اختیار کرنا ہوتی ہیں۔نکال پھینکنے والی چیزوں میں سب سے پہلی چیز نیت کا کھوٹ ہے۔یہ نیت اتنی اہم چیز ہے کہ امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے اپنی اپنی کتاب کی ابتدا نیت سے متعلق حدیث سے ہی کی ہے۔چنانچہ ہماری نیت محض اللہ کی رضا‘ اخروی نجات اور اپنے فرض کی ادائیگی کی ہونی لازمی ہے۔دنیا میں کسی کی خوشنودی مقصود نہ ہو‘کوئی ذاتی غرض یا دنیاوی مفاد وابستہ نہ ہو۔ جان لیجئے کہ نیت کا کھوٹ انسان کے کردار پر اثر انداز ہوتا ہےاور جو چیز کردار پر اثر انداز ہو وہ انسان کوکامیابی کی راہ سے ہٹادیتی ہے۔
نکال پھینکنے کے لائق دوسری چیز حب جاہ ہے۔ شہرت اور نام و نمود کی خواہش ہر گز نہ ہو۔ ایک داعی کو ان چیزوں سے کوسوںدُور رہنا چاہیے۔ریاکاری بھی انسان کے ہر عمل پر پانی پھیر دیتی ہے۔اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:
((مَنْ صَلّٰی یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ‘ وَمَنْ صَامَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ‘ وَمَنْ تَصَدَّقَ یُرَائِیْ فَقَدْ اَشْرَکَ))(مسند احمد)
’’جس نے دکھاوے کی نماز پڑھی اُس نے شرک کیا‘ جس نے دکھاوے کا روزہ رکھا اُس نے شرک کیا‘جس نے دکھاوے کا صدقہ و خیرات کیا اُس نے شرک کیا۔‘‘
لہٰذا اس چیز کو اپنے اندر سے نکال پھینکنا ہے۔
اس ضمن میں تیسری چیز خود پسندی ہے۔یہ بھی انسان کی شخصیت کو ہلکا کر دیتی ہے۔بقول شاعر ع ’’اپنے ہی حسن کا دیوانہ بنا پھرتا ہوں!‘‘یعنی یہ کیفیت نہ ہو کہ میرے اندر ہی ساری خوبیاں ہیں‘ میرے اندر کوئی نقص ‘ عیب اور کمزوری نہیں۔ اس لیے کہ اس سے پھر بغض و عداوت پیدا ہوتی ہے۔انسان کسی دوسرے کی تعریف برداشت نہیں کرتا۔مَیں بہت اچھا مقرر ہوں‘ بہت اچھا لکھاری ہوں ۔ یہ چیزیں ایک داعی کے اندر ہر گز نہیں ہونی چاہئیں‘بلکہ اس میں عاجزی و انکساری ہونا ضروری ہے کہ میرے اندر جو بھی صلاحیت اور جو بھی خوبی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی عنایت اور اس کے فضل کرم سے ہے۔
چوتھی چیز یہ ہے کہ دُنیوی معاملات میں خود کو غیر ضروری رعایت دینا اور دوسروں کو کم سے کم گنجائش اور رعایت دینا۔یہ چیز بھی نکال پھینکنے کے لائق ہے۔ داعی کے لیے معاملہ اس کے برعکس ہونا چاہیے ۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (۹)}(الْحَشْر)
’’اور جو لوگ اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ ہوجائیں وہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
’’شُحّ‘‘ کہتے ہیں تنگ دلی اور لالچ کو ‘ لہٰذا یہ تنگ دلی نہیں ہونی چاہیے۔بلکہ اگر آپ کو اپنے اندر قائدانہ صلاحیت پیدا کرنی ہے تو دوسروں کو زیادہ سے زیادہ الاؤنس دیجیے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ انسان میں ضعف ارادہ نہ ہوکہ شروع میں تو بڑے جوش و جذبے سے تنظیم میں شامل ہوگئے‘اور بہت کچھ کر گزرنے کے ارادے باندھ لیے ‘ لیکن جب ذمہ داریوں کا بوجھ کاندھوں پر آیا تو ہمت جواب دے گئی اور جوش و ولولہ سرد پڑنے لگا ہے۔ ضعف ِارادہ سے اقامت ِدین کی راہ میں مال اور وقت ‘بلکہ سب کچھ بچانے کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور دنیا اس کی ترجیحات میں شامل ہوجاتی ہے۔
اصل میں ہمارا ہر دن گزرے ہوئے دن سے بہتر ہونا چاہیے۔دنیا میں تو سب ہی یہ چاہتے ہیں کہ وہ آگے سے آگے بڑھتے جائیں مگر اصل معاملہ تو دین کا ہے۔ہماری ترجیح تو دین ہونا چاہیےاور اس کے لیے مؤثر ترین اورطاقت ور ترین عامل(agent)اللہ کا کلام ہےجو ہر مرحلے پر انسان کو راہ دکھاتا ہے۔یہ انسان کی نفسیات سے بھی بات کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسان کی ہر کمزوری سے خوب واقف ہے‘ اُسی نے تو انسان کو تخلیق کیا ہے‘ اُس کے فطری رجحان ‘اُس کی پسند ونا پسند سب کو وہ جانتا ہے۔انسانی زندگی کے ہر شعبے معیشت‘ معاشرت‘ سیاست‘ عقائد و رسومات اور عبادات ہر پہلو سے وہ اپنے کلام میں ہدایت دیتا ہے۔قرآنِ حکیم میں غوطہ زنی انسان کی ہر تشنگی کو سیراب کر دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ میرے ‘آپ کے اور ہم سب کے دلوں میں اس قرآنِ عظیم اور فرقانِ حمید کو اتاردے‘ اس کے ساتھ ہمارا ایک زندہ تعلق پیدا ہوجائے ‘ اس کے مطابق ہمارا جینا اور مرنا ہوجائےاور اس پر عمل کرنے اور اس کو دوسروں تک پہنچانے کی کیفیت ہمارے اندر پیدا ہوجائے۔ آمین یاربّ العالمین!***