التوحید فی القرآن
از قلم : پروفیسر یوسف سلیم چشتی ؒ
دنیا کی مذہبی کتابوں کے تقابلی مطالعہ سے یہ بات واضح ہو سکتی ہے کہ قرآن حکیم کے علاوہ کسی الہامی کتاب نے توحید باری تعالیٰ پر اس قدر زور نہیں دیا ہے۔ بقول پادری سی ایف اینڈریوز(Rev. Dr. C. F. Andrews )’’دنیا میں صرف اسلام ہی ایسا مذہب ہے جس نے اپنا کلمہ ہی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مقرر کر لیا ہے‘‘۔ لیکن یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہےکہ قرآن ہی وہ واحد الہامی کتاب ہے جس نے شرک کی تمام ممکن صورتوں کا ابطال کر کے خالص توحید کا اثبات کیا ہے ‘یعنی قرآن نے شرک فی الذات‘ شرک فی الصفات‘ شرک فی الحکم‘ شرک فی العبادت‘ شرک فی التصرف اور شرک فی الآثار… غرض کہ ہر ممکن صورت کا ابطال کر دیا ہے۔ اس موضوع پر قرآن حکیم میں سو سے زائد آیات موجود ہیں۔ مَیں اس وقت ان میں سے چند آیات پیش کروں گا:
(۱) {وَلَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنْفَعُکَ وَلَا یَضُرُّکَ ج فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ (۱۰۶) وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗٓ اِلَّا ہُوَج وَاِنْ یُّرِدْکَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِہٖ ط} (یونس)
’’اور مت پکار اللہ کے سوا ایسے کو کہ نہ بھلا کر سکے تیرا نہ بُرا۔ پس اگرتُو نے ایسا کیا‘ تو تُو بھی فوراً ظالموں میں سے ہو جائے گا۔ اور اگر اللہ تجھے کچھ تکلیف پہنچا دے تو اُس کے سوا کوئی اُس کو دور کرنے والا نہیں ہے۔ اور اگر اللہ تیرے ساتھ بھلائی کرنا چاہے تو نہیں ہے کوئی اسے ردّ کرنے والا۔‘‘
(۲) {اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالَایَنْفَعُنَا وَلَا یَضُرُّنَا ط} (الانعام:۷۱)
’’کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ایسوں کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں!‘‘
(۳) {قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ فَلَا یَمْلِکُوْنَ کَشْفَ الضُّرِّ عَنْکُمْ وَلَا تَحْوِیْلًا(۵۶) } (بنی اسرائیل)
’’(اے رسولﷺ!) آپ منکرین سے کہہ دیں کہ تم اُن کو پکار کر دیکھ لو جن کو تم نے اللہ کو چھوڑ کر اپنا معبود بنا رکھا ہے کہ وہ نہ تو تم سے مصیبت کو دُور کر سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں۔‘‘
(۴) {وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَکُمْ وَلَآ اَنْفُسَہُمْ یَنْصُرُوْنَ(۱۹۷)}(الاعراف)
’’اور وہ لوگ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو‘ نہ تو تمہاری مدد کر سکتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔‘‘
(۵) {وَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ مَا یَمْلِکُوْنَ مِنْ قِطْمِیْرٍ(۱۳) اِنْ تَدْعُوْہُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآئَ کُمْ ج وَلَــوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَــکُمْ ط} (فاطر:۱۴)
’’اور جن کو تم پکارتے ہو اُس کے سوا(خواہ وہ رسول ہوں یا نبی اور ولی ہوں یا اولادِ رسول) وہ تو کھجور کی گٹھلی پر جوچھلکا ہوتا ہے‘ اس کے بھی مالک نہیں ہیں (کہ تمہیں بخش دیں)۔ اگر تم انہیں پکارو گے تو وہ تمہاری پکار سن بھی نہ سکیں ‘اور (بفرض محال) اگر سن بھی لیں تو تمہیں جواب نہیں دے سکتے۔ ‘‘
(۶) {اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْہُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَـکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۱۹۴)} (الاعراف)
’’اللہ کو چھوڑ کر تم لوگ جن کو پکارتے ہو وہ تمہاری ہی طرح اللہ کے عاجزبندے ہیں(تو وہ تمہاری کیا مدد کر سکتے ہیں؟) اگر تم سچے ہو تو انہیں پکارو‘ اور انہیں لازم ہے کہ وہ تمہاری پکار کا جواب دیں (اگر نہ دے سکیں تو سمجھ لوکہ وہ تمہاری مدد بھی نہیں کر سکتے)۔‘‘
(۷) {یٰٓــاَیُّہَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ اِلَی اللّٰہِ ج وَاللّٰہُ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ(۱۵) اِنْ یَّشَاْ یُذْہِبْکُمْ وَیَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ(۱۶) وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ(۱۷) وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ط} (فاطر)
’’اے لوگو! تم سب(اپنی ہستی کے لیے) اللہ کی طرف محتاج ہو‘ اور (صرف) اللہ ہی ہر چیز سے بے نیاز اور سب خوبیوں والا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم سب کو فنا کر دے اور نئی مخلوق پیدا کر دے۔ اور یہ بات اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ اور کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ ‘‘
(۸) {اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَہٗ ط وَاِنْ یَّسْلُبْہُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ ط} (الحج:۷۳)
’’وہ لوگ جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے(پوجتے) ہووہ( اس قدر عاجز ہیں کہ) اگر سب مجتمع ہو جائیں تو ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے۔ اور اگر مکھی اُن سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے اس سےواپس نہیں لے سکتے۔‘‘
(۹) {قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ج لَا یَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِیْہِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِیْرٍ(۲۲)} (سبا)
’’(اے رسولﷺ!) آپ(ان مشرکوںسے) کہہ دیجیے کہ تم جن کو اپنے خیالِ باطل میں خدائی میںدخیل سمجھتے ہو‘ ان کو بلائو ‘(اور تحقیق کرو تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ) وہ نہ تو آسمانوں میں ذرّہ بھر اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین میں‘اور نہ زمین وآسمان کے بنانے میں ان کا کچھ اختیار یا ساجھا ہے ‘اور نہ ان میں سے کوئی خدا کا مددگار ہے۔ ‘‘
(۱۰) {وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِہَۃً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّہُمْ یُخْلَقُوْنَ وَلَا یَمْلِکُوْنَ لِاَنْفُسِہِمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا وَّلَا یَمْلِکُوْنَ مَوْتًا وَّلَا حَیٰوۃً وَّلَا نُشُوْرًا(۳)}
(الفرقان)
’’اور ان مشرکوں نے اللہ کے علاوہ ان کو بھی الٰہ بنا رکھا ہے جنہوں نے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا بلکہ خود مخلوق(پیدا شدہ) ہیں‘ اور یہ (مِنْ دُوْنِ اللہِ اس قدر عاجز ہیں کہ) نہ تو اپنے آپ کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ ضرر کو دفع کر سکتے ہیں اور نہ ان کو موت یا زندگی یا دوبارہ زندگی پر کوئی قدرت حاصل ہے۔ ‘‘
(۱۱) {ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْحَقُّ وَاَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہٖ ھُوَ الْبَاطِلُ وَاَنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ(۶۲)} (الحج)
’’یہ اس لیے ہے کہ صرف اللہ ہی الحق(سچا خدا) ہے اور یہ لوگ اُس کے علاوہ جسے بھی پکارتے ہیں وہ باطل (جھوٹ) ہے اور بیشک اللہ ہی بلند مرتبہ اور بزرگی والا ہے۔‘‘
(۱۲) {یَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہٗ وَمَا لَا یَنْفَعُہٗ ط} (الحج:۱۲)
’’وہ اللہ کو چھوڑ کر اُسے پکارتا ہے جو نہ اس کو نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع پہنچا سکتا ہے۔‘‘
(۱۳) {وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ شُرَکَآءَ ط اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ ھُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ(۶۶) (یونس)
’’اور یہ جو اللہ کے سوا دوسروںکو پکارتے ہیں وہ کوئی اللہ کے (حقیقی) شرکاء کی پیروی تو نہیں کرتے۔ کچھ نہیں مگر پیچھے پڑے ہیں خیال کے اور کچھ نہیں مگر اَٹکلیں دوڑاتے ہیں۔‘‘
(۱۴) {وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ(۲۰) اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَائٍ ج وَمَا یَشْعُرُوْنَ لا اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ(۲۱)} (النحل)
’’اور جن کو یہ مشرک اللہ کے سوا پکارتے ہیں‘ انہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ وہ تو خود پیدا کیے گئے ہیں۔ وہ مردہ ہیں‘ ان میں کوئی زندگی نہیں ہے ‘اور وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ کب دوبارہ اُٹھائے جائیں گے۔ ‘‘
(۱۵) {قُلْ اَرَئَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ ط اِیْتُوْنِیْ بِکِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ہٰذَآ اَوْ اَثٰرَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۴) وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَہٗٓ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ وَہُمْ عَنْ دُعَآئِہِمْ غٰفِلُوْنَ(۵)} (الاحقاف)
’’(اے رسول ﷺ! آپ ان مشرکون سے )کہہ دیجیے کہ جن کو تم اللہ کے علاوہ پکارتے ہو‘ مجھے یہ تو بتا دو کہ انہوں نے دنیا میں کون سی چیز پیدا کی ہے؟ یاان کا آسمانوں (کی تخلیق) میں کچھ ساجھا ہے؟ لائو میرے پاس کوئی کتاب اس سے پہلے کی یا کوئی ایسی روایت جس کی بنیاد علم پر ہو اگر تم سچے ہو!اور اُس سے بڑھ کر کون گمراہ ہو سکتا ہے جو اللہ کو چھوڑ کر اُسے پکارتا ہے جو قیامت تک اُس کی پکار کا جواب نہیں دے سکتا‘ اور وہ ان کی پکار سے بے خبر ہیں۔ ‘‘
(۱۶) {مَالَـکُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَا شَفِیْعٍ ط اَفَلَا تَتَذَکَّرُوْنَ(۴)} (السَّجدۃ)
’’اے لوگو! اللہ کے سوا تمہارے لیے نہ کوئی ولی(دوست) ہے نہ شفاعت کرنے والا۔ پس تم غور کیوں نہیں کرتے؟‘‘
(۱۷) {مَالَـکُمْ مِّنَ اللّٰہِ مِنْ عَاصِمٍ ج} (المؤمن:۳۳)
’’(اے لوگو!) اللہ کے سوا تمہیں کوئی مصیبت سے بچانے والا نہیں ہے۔‘‘
(۱۸) {اَیُشْرِکُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ (۱۹۱) وَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَھُمْ نَصْرًا وَّلَآاَنْفُسَھُمْ یَنْصُرُوْنَ(۱۹۲)} (الاعراف)
’’کیا یہ لوگ اُن کو اللہ کا شریک بناتے ہیں جنہوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ وہ خود پیداکیے گئے ہیں؟ اور یہ (وہ عاجز لوگ ہیں جو )نہ ان کی مدد کر سکتے ہیں نہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں۔‘‘
(۱۹) {مَا شَآءَ اللّٰہُ لا لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ ج} (الکھف:۳۹)
’’(وہی ہوتا ہے) جو اللہ چاہتا ہے ! اگر اللہ قوت نہ دے تو کسی شخص میں کوئی قوت یا طاقت نہیں ہے۔‘‘
(۲۰) {لِکَیْلَا تَـاْسَوْا عَلٰی مَا فَاتَـکُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىکُمْ ط}(الحدید:۲۲)
’’تاکہ جو چیز تم سے فوت ہو جائے یعنی جاتی رہے تم اس پر اَفسوس مت کرو (کیونکہ وہ خدا کے حکم سے فوت ہوئی ہے) اور اگر اللہ تمہیں کچھ عطا کرے تو اس پر اترائو مت (کیونکہ وہ چیز تمہاری قابلیت یا کوشش سے نہیں ملی ہے)۔‘‘
(۲۱) {وَہُوَ اللّٰہُ لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَط لَہُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰی وَالْاٰخِرَۃِ ز وَلَہُ الْحُکْمُ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ(۷۰) قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الَّـیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ اِلٰــہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَاْتِیْکُمْ بِضِیَآئٍ ط اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ(۷۱)} (القصص)
’’اور وہی اللہ ہے جس کے سوا دوسرا اِلٰہ (ساری کائنات میں) نہیں ہے۔ حمد وثنا صرف اُسی کے لیے زیبا ہے‘ دُنیا میں بھی اور آخرت میں بھی‘ اور حکمرانی اُسی سے مختص ہے اور تم سب اُسی طرف واپس بھیجے جائوگے۔ (اے رسولﷺ! ان سے) کہوکیا تم نے غور کیا اگر اللہ رات کو قیامت تک طویل کر دے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمہیں روشنی عطا کر سکتا ہے؟بھلا کیا تم سنتے نہیں ہو ؟(تم غور کیوں نہیں کرتے!)‘‘
(۲۲){تَبٰـرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَا نِ (۱) الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا(۲) وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِہَۃً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّہُمْ یُخْلَقُوْنَ وَلَا یَمْلِکُوْنَ لِاَنْفُسِہِمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا وَّلَا یَمْلِکُوْنَ مَوْتًا وَّلَا حَیٰوۃً وَّلَا نُشُوْرًا(۳)} (الفرقان)
’’مبارک ہے وہ ذات جس نے نازل کیا فرقان(قرآن) اپنے بندے پر تاکہ وہ جہان والوں کے لیے نذیر ہو جائے۔ وہی ہے جس کے لیے بادشاہت ہے آسمانوں اور زمین کی‘ اور اُس نے کسی کو اپنا بیٹا نہیں بنایا اور حکومت میں کوئی اُس کا شریک نہیں ہے ‘اوراُسی نے ہر چیز کو پیدا کیا اور ہر شے کی تقدیر معیّن کی۔ اور مشرکوں نے اس کے علاوہ ایسوں کو خدا بنا رکھا ہے جنہوں نے کسی چیز کو پیدا نہیں کیا بلکہ وہ تو خود مخلوق ہیں(یعنی دوسروں کے محتاج ہیں)اور جن کاخود اپنے نقصان یا فائدے پر بھی کوئی بس نہیں چلتا‘اور نہ مالک ہیں موت اور زندگی کے اور نہ موت کے بعد دوبارہ زندہ ہو جانے کے۔ ‘‘
ان آیات میں‘ جو میرے دعویٰ کے اثبات کے لیے کافی ہیں‘ اللہ ربّ العزت نے الوہیت کا ہشت گانہ معیار بیان فرمایا ہے ‘یعنی اللہ وہ ہے جو:
(۱) اپنے بندوں یا بندے پر فرقان نازل کر سکے۔
(۲) ساری کائنات پر حکومت کر سکے۔
(۳) اُس کا کوئی فرزند یا رشتہ دار نہ ہو(مثلاً بیوی بچے)
(۴) اُس کا کوئی شریک یا معین نہ ہو۔
(۵) وہ خالق ِ کائنات ہو۔
(۶) اس نے ہر شےکی تقدیر معیّن کر دی ہو۔
(۷) وہ خود مخلوق یا مجبور یا محکوم نہ ہو ۔
(۸) وہ‘ بلکہ صرف وہی‘ نفع اور نقصان‘ موت اور زندگی‘ صحت اور مرض‘ عزّت اور ذلّت ‘ تونگری اور افلاس ‘راحت اور رنج کا مالک ہو۔
چونکہ کوئی انسان اس معیار ِہشت گانہ پر پورا نہیں اُتر سکتا اس لیے منطقی طور پر بھی ثابت ہوگیا کہ کوئی انسان (خواہ وہ رسول کیوں نہ ہو) اِلٰہ نہیں ہو سکتا۔
***
tanzeemdigitallibrary.com © 2026