(ظروف و احوال) اسلام دشمنی میں صلیبیوں کے فکری و عسکری حملے - رضی الدین سیّد

9 /

اسلام دشمنی میں صلیبیوں کے فکری و عسکری حملے

رضی الدین سیّد

 

ساتویں صدی عیسوی میں جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا ظہور ہوا تو عیسائیت نے اس نئے ابھرنے والے دین کو اپنا حریف تصوّر کرلیااور کھل کر اس کے مدّمقابل آگئی‘ حالانکہ اگر وہ اس دین پر غور وتدبر کرتی تو اسے اپنے عقیدے سے بہت قریب پاتی۔ محمد عربیﷺ تو یوں بھی کسی خاص قوم یا خطے کےلیے مبعوث نہیں کیے گئے تھے بلکہ تمام بنی نوعِ انسان کے لیے رحمۃٌ للعالمین تھے ۔نیزآپؐ پرنزول شدہ کتاب قرآن مجید میں حضرت عیسیٰ ؑ اوران کی والدہ حضرت مریم سلامٌ علیہا کو بہت اچھے پیرائے میں یاد کیا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان کے نام پر پوری ایک سورۃ بھی نازل کی گئی۔ عیسائی جس طرح حضرت مریم ؑ ؑکو کنواری اور پاک مانتے ہیں‘ قرآن کریم نے اس سے بھی زیادہ انہیںپاکیزہ اور طاہرہ قرار دےکر یہودیوں کے غلیظ عقیدے پر بری طرح ضرب لگائی ۔ اس لحاظ سے عیسائیوں کو نبی اکرم ﷺ سے ایک گونہ محبت ہونی چاہیے تھی‘لیکن انہوں نے ایک بالکل ہی دوسرا راستہ اختیار کیا۔ جنگ کا راستہ‘ مقابلے کا را ستہ‘ اور مٹادینے کا راستہ!
عیسائیت حیران تھی کہ جس مذہب نے رومن ایمپائر کی شکل میں ساری دنیا پر حکمرانی کی تھی‘ وہ اسلام کی زد میں کیسے آگیا! دنیا ا س وقت دو بڑے کیمپوں میں بٹی ہوئی تھی۔ رومی سلطنت تھی یا پھر ایرانی بادشاہت! ہر قل روم نے ایرانی بادشاہت کو بھی۶۲۸ء میں آخرکار زیر کرلیا تھا۔ عیسائیت کو اس بات کا بہرحال جواب نہیں مل پارہا تھا کہ یہ مسلمان کیسے نئے فاتح تھے کہ بجائے زیر ہونے کے خود ابدی آقا (مسیحیت) کو بھی انہوں نے زیر کرنا شروع کردیا تھا! یہودیوں کی تعداد چونکہ سدا سے کم رہی ہے‘ عالمی خطے میں تب کوئی ایک ملک بھی انہیں حکمرانی کے لیے میسّر نہ تھا‘ اس لیے عیسائیوں نے انہیںآسانی سے دبالیاتھا۔ مسلمان چونکہ ایک سیل ِرواں بنتے جارہے تھے‘ اس لیے تلوارکے ذریعے انہیں زیر کرنا عیسائیوںکے لیے ممکن نہ رہا تھا۔
صلیبی جنگیں
صلیبیوں نے اپنے سامنے ہمیشہ ہی سے دد مقاصد رکھے ہیں: اوّلاً مسلمانوں سے مفتوحہ علاقے واپس لے لیں‘ اور ثانیاً پوری دنیا کو عیسائی بنالیں۔ ان دونوںمقاصد کے لیے ا نہیں پروپیگنڈے‘ اشتعال انگیز تحریروں‘ تقریروںاور خوفناک جنگوں کی ضرورت تھی جس کا انہوں نے بھرپور استعمال کیا۔ اسلحے کے بل پر مسلمانوں کو زیر کرنے کے لیے انہوںنے کئی با ر صلیبی جنگوں کا سلسلہ چھیڑا جن میں انہیں عمومی کامیابی مگر بالآخر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوںنے تمام روم اور پھر فلسطین کو ارضِ مقدّس قرار دیا اوران کے حصول کی خاطر روا رکھی جانے والی جنگوں کو جنگ ِمقدّس کانام دیا۔ ان جنگوں میں عیسائیوںپر ہمیشہ مذہبی جنون طاری رہا۔دور ونزدیک کے ہرملک سے عیسائی‘مسلمانوں کے خلاف کھنچے چلے آتے تھے۔ ان کے پادری اشتعال انگیز تقریریںکر کے اور حضرت عیسیٰؑ و مریم ؑکا حوالہ دے کر عوام کو اندھے مذہبی جنون میں مبتلا کرتے تھے۔ حالت یہ ہوگئی تھی کہ لوگ اپنے سینوں پرگرم لوہے سے صلیب کانشان داغنے لگے اور جنگوں میں شرکت کے لیے جائیدادیں معمولی قیمت پر فروخت کرنے لگے۔ عورتیں ‘بچے اور بوڑھے لشکر کے آگے آگے رواں دواں رہتے تاکہ جنگی افراد کے پہنچنے سے پہلے ہی وہاں اپنی جانیں نچھاور کردیں۔ اس مقصد کے لیے انہوںنے اپنے گھر بار ‘وطن‘ خاندان ‘ کھیت ‘ کھلیان اور زندگی کی ہر آسائش سے منہ موڑ لیا۔ ایک رومی پادری ’’اربن ثانی‘‘ نے ۱۰۹۵ ء میں اپنے پورے زور ِخطابت کے ساتھ تقریریں شر وع کیں جن میں عیسائیوں کو اسلامی خطروں کے خلا ف متحد ہوجانے اورظالم ’’سراسینیوں‘‘ (صحرا نشینوں: عربوں اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کی ایک غیر اخلاقی اصطلاح ) سے یروشلم کی حفاظت کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔
اس دور میں عیسائیوں کے مذہبی جذبات بھڑکانے کے لیے جس قسم کی تقریریں کی جا تی تھیں‘ ان کے بعض نمونے ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:
(۱) افسوس اے عالم ِ مسیحیت ‘صد افسوس! دشمن یروشلم پر قابض ہوگیا ہے ‘مقدّس صلیب کھوگئی ہے‘ اورہماری فوج برباد ہوئی ہے۔ افسو س کہ سمندر پار دجالی قوتیں برسرا قتدار آ گئی ہیں‘مشرق میں شیطان کے جھنڈے بلند ہو گئے ہیں‘اور مسلمانوں نے یروشلم کو پاما ل کردیا ہے۔ (انجیل کی ایک عبارت۔ کتاب ’’سلطان صلاح الدین ایوبی‘‘ از ہیرالڈ لئیم‘ مترجم محمد یوسف عباسی‘ ص۱۵۹۔مشتاق بک کارنر‘اردو بازار ‘لاہور)
(۲) عیسائیوںکی شکست محض ان کے گناہوں اور بداعمالیوں کا نتیجہ ہے۔ اگر خلوصِ دل سے دوبارہ جدّوجُہد کی جائے تو خدا کے فضل سے عیسائی کامیاب ہوں گے او ر اس مقدّس شہر پر صلیب کے پھریرے لہرائیں گے جو سنگ وخشت کا مجمو عہ نہیںبلکہ نجاتِ آخرت کا ذریعہ اور فلا ح کا زینہ ہے۔ (ایضاً‘ص ۳۳۷ )
(۳) ہم نے حلف اٹھایا ہے کہ جیتے جی یروشلم سے دستبردار نہ ہوں گے ۔ ہم اپنے گھوڑوں اور مویشیوں کو ذبح کر دیں گے ۔سازو سامان کو جمع کرکے آگ لگا دیںگے ۔ گرجوں ‘ قربان گاہوں‘ تبر کات اور پارچہ جات کو نذرِ آتش اور عورتوں اور بچوں کو تہِ تیغ کردیںگے۔ پھرہمارے پادری او رسپاہی موت کو للکار تے ہوئے تم پر ٹوٹ پڑیں گے۔ (ایضاً‘ص ۱۵۱)
(۴) افسوس ہے عیسائیوں پر ‘ گناہ گاروں اور سرکشوںپر ‘ افسوس ہے ان پر جنہوںنے اس عظمت ِ جہاں یروشلم کو کھو دیا۔ (ایضاً‘ ص۱۵۹)
(۵) تمہیںکیا پر وا کہ دشمنانِ خدا ہماری تذلیل کریں۔ تمہیں ان کے طعنوں سے کیا واسطہ! وہ ہمیں للکارتے ہیں: ’’بلائو اب تمہارا خدا کہاں ہے؟ ہم نے تو تمہارے مقدّس مقامات پامال کر دیےہیں۔ہم نے تو تمہارے اسلاف کی توہم پرستی کے اکھاڑوں کی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے۔ ہمت ہے تو آئو اب مقابلے میں! ہم نے فرانسیسیوںکے نیزے توڑ دیے ہیں‘ انگریزوں کے دانت کھٹے کردیے ہیں‘جرمن بہادروں کو نیچا دکھادیا ہے‘ اورہسپانوی سورمائوں کو مار بھگا دیا ہے۔ اب بلائو تم کسے بلاتے ہو؟ ہم نے تمہاری عورتوں کو ایسا داغ بیوگی دیا ہے کہ تمہارے گھروں سے اب سوگ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ ہم نے تمہارے بچوں کو یتیم بناکر خوشیاں ہمیشہ کے لیے چھین لی ہیں۔‘‘ (ایضاً‘ ص۳۵۸)
(۶) خدارا یروشلم کی مدد کرو! خداوند یسوع کے مقدّس شہر میں ابدی نجات کی راہیں کھلی ہیں۔ آئو ابدی نجات کے طلبگارو آئو! صلیب کی حفاظت کے لیے جانیں لڑادو۔ عیسائیت کے دشمنوں کو فنا کردو۔(ایضاً)
امریکی مصنف ’’رون ڈیوڈ ‘‘ لکھتاہے کہ ’’ان تقریروں کے نتیجے میں مذہبی جذبات کے جوش میں اندھے ہوکر دانشور ‘رئوساء‘ سرکاری ذمہ دار ‘اور عام لوگ سب کے سب مل کر چلا اٹھے: شاید خداکی مرضی یہی ہے۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے اسباب باندھنے شرو ع کردیے۔ پوپ کی ہدایت پر ہزاروں افراد اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ بڑے بڑے امیر خاندانوں کے بیٹے ‘ جنہیں ورثے میں اپنے اپنے باپ کی زمینوں میںسے کچھ بھی نہ مل سکا تھا (صلیبی جنگوںکے نتیجے میں) وہ بھی اپنے لیے (فلسطین کی ) نئی جائیدادیں حاصل کرنے کے لیے خصوصی طور پراٹھ کھڑے ہوئے۔ ۱۰۹۴ ءمیں درباری امراء اور شہزادوں نے یروشلم کی طرف اپنا پہلا مارچ شروع کیا جس کی خاطر انہو ںنے اپنے لمبے لباسوںپر سامنے کی طرف صلیبیں آویزاں کیں۔ آخرکار ۱۰۹۹ ءمیں یہ صلیبی یروشلم پہنچ ہی گئے۔ مقدّس شہر کی طرف پہنچ کر وہ خوشی سے اتنے دیوانے ہوئے کہ ان میں سے بیشتر لوگوںنے گھٹنوں کے بل پر جھک کر زمین کو بوسہ دیا اور بھیگی ہوئی آنکھوںکے ساتھ چیخنے لگے:یروشلم‘ یروشلم!‘‘ (ترجمہ کتاب ’’قومیں جو دھوکا دیتی رہیں‘‘۔ کراچی ۔ترجمہ راقم۔ ص ۳۸ )
ایک اور مغربی مصنفہ لکھتی ہے:’’جون ۱۰۹۹ ءکی صلیبی جنگ میں یور پ کے صلیبی مجاہد جب یروشلم کے گرد جمع ہوئے تو شہر مقدّس پر پہلی نظر پڑتے ہی ان پر ایک سکتے کی کیفیت پید ا ہوگئی جو بعد میں آہستہ آہستہ مسلمانوں اور یہودیو ں کے خلاف غیظ وغضب میں تبدیل ہوگئی۔ اس کے بعد تین دن تک یہ صلیبی یروشلم میں منظّم قتل ِعام کرتے رہے جس میں تیس ہزار کے قریب شہریوں کو انہوںنے تہ ِتیغ کیااور نظر آنے والے ہر ترک اور عرب مسلمان کا سر قلم کیا۔ مسجد ِاقصیٰ کی چھت پر دس ہزار مسلمان پناہ لیے ہوئے تھے‘ لیکن انہوںنے انہیں بھی چن چن کر قتل کیا۔ جو سپاہی یا افسر سب سے پہلے جس گھر میں داخل ہوجاتا‘ بلا شرکت ِ غیر ے وہ اس کا مالک ہوجاتا۔ تمام گلیاں خون سے لتھڑی ہوئی تھیں۔ (ایک شہر تین مذاہب۔ کیرن آرم سٹرانگ۔ ص ۴۳۰۔ تخلیقات ‘لاہور)
صلیبی لشکریوں کے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ وہ لوگ خدا کامنتخب گروہ ہیں اورخدا ہی نے انہیں یہ صلیبی جنگ لڑنے کے لیے تیا ر کیا ہے۔مسجد اقصیٰ کو انہوںنے اصطبل کے طورپر استعمال کرنا شروع کردیاتھا اور اس میں اسلحہ او رسامان ِ رسد بھی رکھنا شروع کردیاتھا۔ ( ایضاً‘ ص ۴۴۲ )
اس جنگ میں بعض عیسائی اپنے ساتھ عورتوں کا جھنڈ بھی ساتھ لے کر آئے تھے تاکہ موقع ملتے ہی ان سے تسکین حاصل کرسکیں۔ سلطان صلاح الدین ایوبی ؒکے دور کی جنگ میں عیسائیوں کی شکست کی ایک وجہ ان کی یہ بیماری بھی تھی۔
(بحوالہ کتاب ’’اُف یہ پادری‘‘از متین خالد۔ ص ۱۱۸۔ علم و عرفان پبلشرز لاہور)
صلیب کی یہ جنگیں کئی عشروں تک لڑی گئیں حتیٰ کہ سلطان صلاح الدین ایوبی ؒنے ۱۸۷۱ءمیں ان عیسائیوں کو جنگی طور پر ہمیشہ کے لیے مغلوب کرلیا۔ ان جنگوں میں عیسائیوںنے مسلمانوںکو گاجر مولی کی طرح کاٹا تھا اور بے انتہا دہشت گردی دکھائی تھی۔ بقول رون ڈیوڈ: ’’عرب اس سارے معاملے سے ششدرر ہ گئے تھے۔ ان کی سمجھ میں نہ آرہاتھا کہ آخر ان کا ایسا کون سا قصور ہے جس کے باعث سارے عیسائی ان پر حملہ آور ہوگئے ہیں!‘‘ (قومیں جو دھوکا دیتی رہیں۔ ترجمہ راقم‘ ص۴۰)
علمی حملے
جنگوں کے ساتھ ساتھ عیسائیوں نے اسلام کے خلاف علمی لحاظ سے بھی حملے شروع کردیے تھے اورجس طرح کے تمسخرانہ خاکے وہ آج تخلیق کررہے ہیں‘اسی طرح کی مضحکہ خیز چیزیں انہوںنے سترھویں صدی ہی سے شروع کردی تھیں۔ مثلاً ایک مقام پر ان مستشرقین نے کہا کہ ’’محمد (ﷺ) نے ایک سفید کبوتر پالاتھا جو ان کے کندھے پر بیٹھ کر کان سے دانہ نکال کر کھاتا تھا‘ جس کا مقصد عام لوگوںکو یہ یقین دلانا ہوتا تھا کہ ایک فرشتہ کبوتر کی شکل میں ان کو وحی پہنچا رہا ہے۔‘‘ (کتاب ’’اسلام اینڈ دی ویسٹ‘‘ از فلپ کےحتی‘ ص۵۴)
ایک اور مستشرق نکلسن نے قرآنِ پاک کے بارے میںلکھا کہ ’’قرآن ‘انجیلوں کے مسترد اور غیر مصدقہ مواد پر مبنی کتاب ہے‘‘۔ (کتاب ’’انٹروڈکشن ٹو کوران ‘‘ P x,xix)۔ ایک دوسرے مستشرق ’’روڈ لِنسن‘‘ نے نبی مکرم ﷺ کے بارے میں لکھا کہ ’’اگرچہ وہ ایک غیر مخلص انسان نہیں تھے لیکن قرآن کو سمجھنے میں انہیں غلطی ہوئی تھی۔‘‘
قرآن پاک کا عیسائی مترجم J M Rodwell اپنے انگریزی ترجمے "The Koran" مطبوعہ ۱۹۰۹ ءکے دیباچے میں ہرزہ سرائی کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ’’جس انتہائی خفیہ انداز سے محمد (ﷺ) نے یہودی ربیوں اور عیسائی دوستوںسے ہدایا ت وصول کیں ‘ اس کے باعث مکہ کے جاہل اور بے دین سرداروں کے سامنے انہیں یہ اعلان کرتے ہوئے کوئی جھجک نہیں رہی کہ ان کی زبان سے بیا ن کر دہ قدیم داستانیں ان پر خدانے وحی کی ہیں۔ رفتہ رفتہ خود محمد(ﷺ) کو بھی یقین ہوگیاکہ وہ اللہ ہی کے بھیجے ہوئے نبی ہیں۔ وہ طویل عرصے تک (نعوذ باللہ) خود فریبی میںمبتلا رہے۔ انہیں (حاشا و کلا) مرگی کی بیماری تھی۔ اُداسی‘ خوشی اور بے ہوشی وغیرہ کے باعث ان کے لیے خود کے بارے میں ’’خدائی پیغمبر‘‘ ہونے کا دعویٰ کرنا بہت آسان ہوگیا تھا۔ تاہم اصولوں اورکردار کی بعض اہم کمزوریوںکے باوجود انہوںنے عرب دنیا پر گہرا اثرڈالاتھا۔ ایک ایسا کارنامہ جو دنیا میں شاید ہی کسی نے انجام دیاہو۔قرآن پاک میں غلامی‘ قتل‘ ظلم اور کثرت ِ ازواج پر اصرار کیا گیا ہے۔ انسانیت کوایک جھوٹا مذہب عطا کرنے پر (معاذ اللہ!) محمد (ﷺ)کو ہم کتنا ہی بڑا مجرم قرار دیں لیکن ان کی ذاتی نیکیوں کا بہر حال انکار نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
اسی طرح ایک اور نامور مستشرق ولئیم میور نے اپنی کتاب ’’لائف آف محمد‘‘ میں لکھا کہ (نعوذ باللہ!) ’’محمد (ﷺ) کو اپنی وحی پر خود بھی کامل یقین نہیں تھا۔‘‘ (مستشرقین ِ مغرب کا اندازِ فکر۔ ڈاکٹر عبدالقادر جیلانی ‘ کراچی‘ ص ۲۱۴‘۲۱۸)۔ دوسری طرف مارٹن لوتھر نے امریکہ میں گزشتہ صدیوںکی اسلام دشمن تحریریں جمع کرکے ان کی ایک کتا ب شائع کی۔ اس نے لکھا کہ ’’شیطان‘ سراسین(صحرانشین)اور ترک سب کے سب ایک ہی شے کے مختلف نام ہیں‘‘۔ اس نے اسلام کو اپنا سب سے بڑادشمن قراردیا اورکہاکہ عیسائیوںکےدشمن دو ہیں: اندرونی طورپر یورپ اور بیرونی طورپر اسلام ۔‘‘ (ایضاً‘ ص ۱۴۹‘ ۲۰۲)
جب تک اسلام میدان ِ جہاد میں عیسائیوں کے مدّ مقا بل رہا اور ان پر غالب آتارہا‘ مستشرقین کی زبان گندی اور مضحکہ خیز رہی۔انہوںنے نبی اکرم ﷺ ‘قرآن کریم اوراسلام کے لیے توہین آمیز زبان اور رکیک جملے استعمال کیے۔ ایک خیال یہ بھی پھیلا یا گیا کہ مسلمان کچھ زیادہ ہی کافر (pagan) ہیں کیونکہ وہ محمد (ﷺ) کی پوجا کرتے ہیں۔ ہندوستان میں قائم شدہ فورٹ ولیم کالج اور ایشیا ٹک سوسائٹی کے پس پردہ بھی یہی مقاصد پوشیدہ تھے۔
بعدکے ادوار میں جب سیاسی طورپر اسلام میں اضمحلال چھانے لگا اورمسلمان ان سے مغلوب ہونے لگے ‘جو اٹھارہویں صدی کا دور تھا‘ تومستشرقین نے نسبتاً سنجیدگی اختیار کرنا شروع کردی۔ اب ان کے ہاں اسلام کے اثرات کو محسوس کیا جانے لگا اورکڑوی با ت میٹھی زبان میں کہی جا نے لگی۔ تاہم چونکہ اسلام مضمحل اور پسپا ہورہا تھا اور اس کا اقتدار ڈوب رہاتھا‘ اس لیے ان کی زبان میں آقائیت در آئی تھی۔ اسی لیے انیسویں صدی کی ان کی تحریریںاحساسِ برتری سے پُر ہیں۔ البتہ جیسے جیسے سیاسی خطرہ کم ہوتا گیا‘ان کی اسلام دشمنی کی شدّت میں بھی کمی آنے لگی۔ پھر جب مغرب اہل ِاسلام پر حاوی ہوگیاتو انہیں اسلام کو صحیح طور سے سمجھنے کی توفیق نصیب ہوئی اور اپنی تحریروں سے انہوںنے بے سرو پا قصے خارج کرنے شروع کردیے۔تھامس کارلائل بھی اسی دور کے سمجھ دار مصنفوں میںسے ایک ہے ۔ وہ پہلا دانشور ہے جس نے نبی مکرمﷺ اور قرآن ِ پاک کی تعریف کی اورپہلے سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کی تردید کی ہے۔
عیسائیت چونکہ حضرت عیسیٰ ؑ سے موسوم مذہب ہے ‘اس لیے عیسائیوں نے اسلام کو بھی ایک ایسا ہی مذہب سمجھا اور اسے ’’محمڈنزم‘‘ کہہ کر پکارناشرو ع کیا۔ تاہم اب اکیسویں صدی میں جاکر عیسائیوں کا یہ رجحان ختم ہوا ہے۔ آج جو ہمیں آکسفورڈ‘ برمنگھم اور دیگر غیر ملکی یونیورسٹیوں میں اسلامی شعبہ جات قائم ملتے ہیں‘ یہ دراصل عیسائیوں کی انہی مستشرقانہ کوششوں کا نتیجہ ہیں۔
احادیث پر بھی ان دانشوروں کی زبانیں دراز رہی ہیں تاکہ اپنے لوگوں اور مسلم عوام کو ان کے بارے میں شکوک میں مبتلا کریں۔ مشہو ر مستشرقین ’’گولڈ زیہر اور اسپرنگر‘‘ نے بتایا کہ عقائد اور رسوم و رواج میں تبدیلی کے لیے حسب ِ ضرورت احادیث وضع کی گئیں اوران کے الفاظ محمد (ﷺ) سے منسو ب کیے گئے۔انہوںنے لکھا کہ قرآنی بحثوں میںجب بھی کوئی نزاع پیداہوا تو احادیث گھڑ کر بحثیں طے کی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ احادیث کے ذخیرے میںمتضاد احادیث پائی جاتی ہیں۔
ایک اور مستشرق ونکسن ڈی ورڈ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’مسلمانوں کا مبلّغ جب اپنے عقائد کی تبلیغ کے لیے کھڑاہوتاہے تو خطبہ ختم ہونے تک اس کے ایک ہاتھ میں تلوار رہتی ہے‘ یا پھر یہ تلوار کسی ایسے بلند مقام پر رکھی ہوتی ہے کہ وہ سب کی نظروں میں رہے‘ تاکہ اسے دیکھ کر ہر شخص خوف زدہ رہے۔‘‘ (مستشرقین کا اندازِ فکر ۔ ڈاکٹر عبدالقادر جیلانی ۔ص۱۸۹)
خلاصہ
مستشرقین کی سرگرمیوں کاجائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نےنبی اکرم ﷺاور قرآن کریم کو اپنے مذہب سے ہمیشہ حقیر سمجھا‘اسی طرح جیسے یہودی قوم عیسائیت ‘حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور عیسائی عبادات کوآج بھی حقیر گردانتی ہے۔ ان مفکرین نے دنیا پر تیزی سے چھاجانے والے اسلام کو سنجیدگی سے سمجھنے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی‘ بلکہ ہمیشہ طعن و تشنیع کے ذریعے حقیر ہی کرنا چاہا۔ کوشش کی کہ اسلام کی اشاعت کسی بھی طرح رک جائے۔ عیسائی دنیا کا آج بھی یہی حال ہے۔ وہ ا سلام کو اب بھی ایک ایسا مذہب گردانتے ہیں جو دہشت گرد‘ اُجڈ اور جنگجو ہے۔ خوش قسمتی سے اکیسویں صدی میں اسلام ایک بار پھر ابھرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ اس لیے عیسائی حکمرانوں اوراہلِ قلم نے اس کے خلاف اپنے ہتھیار ایک بار پھر تیز کر لیے ہیں۔ صلیبی جنگوں کا سلسلہ جو پہلے چلتا ہی رہتاتھا‘ غیر محسوس انداز میں ایک با ر پھر جاری ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ سلمان رشدی‘ تسلیمہ نسرین اور اسریٰ نعمانی جیسی مبغوض شخصیتوں کو مکمل تحفظ دیتے اور اسلامی پردے اور خاندانی نظام کو بطور ِ خاص نشانہ بناتے ہیں۔ مسلم خو اتین کے چھوٹے سے نقاب کو تمام مغربی دنیا نے اپنے نشانۂ انتقام پر رکھا ہوا ہے جبکہ ہر داڑھی والے فرد کو وہ بیٹھے بٹھائے دہشت گرد پکار اٹھتے ہیں۔ چند سال پہلے جرمنی کی ایک عدالت میں ایک مکمل باحجاب مصری خاتون کو جج اور دیگرافراد کے سامنے چاقو مار مار کر ہلاک‘ جبکہ اس کے شوہر کو سخت زخمی کردیا گیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود اسلام کی اشاعت نہ پہلے کبھی رک سکی تھی اورنہ اب کوئی روک سکتا ہے۔ قبولِ اسلام کی رفتار اب خود یورپ اور امریکہ میں اس قدر تیز ہوگئی ہے کہ خود ان کے دانشورومفکرین عیسائی آبادی کے اقلیت میں تبدیل ہوجانے ‘اور اپنے اکثر شہروںکے مسلم شہروں میںڈھل جانے کا خوف محسوس کررہے ہیں۔
کاش‘ ان عیسائیوں نے اسلام کو دشمنی کی بجائے سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی ہوتی۔ تب ا نہیں اندازہ ہوتا کہ یہ دین تو تمام انسانو ں کے لیے باعث ِ رحمت ہے۔ اگر اسلام کے سنہری اصول اور اخوت و محبّت کی ہدایات نہ ہوتیں تو اسپین اور اندلس میںعیسائی رعایا مسلم مجاہدوں کا ازخود استقبال نہ کرتی۔ تب انہوں نے عیسائیت کے مقابلے میں اسلام ہی کو اپنے لیے باعث ِ رحمت سمجھا تھا!***