(انوارِ ھدایت) خوف ِخدا اور فکر ِآخرت - پروفیسر محمد یونس جنجوعہ

9 /

خوف ِخدا اور فکر ِآخرت
پروفیسر محمد یونس جنجوعہ

ہر انسان کو دنیا میں زندگی گزارنے کےلیے ایک مہلت ملی ہوئی ہے۔یہ مہلت گزارنے کے بعد انسان کو موت سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔اس کے ساتھ ہی دوسری اور حقیقی زندگی کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اسلام کی یہ واضح تعلیم ہے کہ زندگی کی مہلت عمل کرنے کا وقفہ ہے۔ یہاں انسان کو آزادی ہے کہ جس طرح چاہے‘ اپنی زندگی گزارے۔ اُسے یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ زندگی اور موت پیدا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ شرف ِانسانیت یعنی عقل سے کام لے کر اپنی زندگی اچھے کاموں میں گزارے اور برائیوں سے باز رہے۔ اچھائیوں اور برائیوں کی یہ پہچان اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں رکھ دی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:{فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰىھَا(۸)} (الشمس)’’ پھر اس (نفس انسانی) کو بُرے کاموں اور اچھے کاموں کی سمجھ دے دی ‘‘۔ اب انسان کی مرضی ہے کہ وہ نفسانی خواہشات میں پڑ کر اپنی زندگی اللہ کی نافرمانی میں گزاردے یا خالق کو پسند آنے والے اعمال سر انجام دے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ(۲)}(الملک)’’اُس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے کام کرتا ہے۔ اور وہ زبردست بخشنے والا ہے۔‘‘ گویا موت و حیات کا مقصد انسان کی آزمائش ہے۔ یہ دُنیا دارالعمل ہے اور موت کے بعد انسان دارالجزا میں ہوگا۔ وہاں اس کی نیکیاں اور برائیاں تولی جائیں گی اور اس کے لیے جنّت یا دوزخ کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔
چونکہ دُنیاوی زندگی کے اعمال پر انسان کی اُخروی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار ہے اس لیے انسان کو بار بار یاد دلایا گیا ہے کہ اس زندگی کے ماہ و سال کو غنیمت سمجھے اور ہمہ وقت موت کو یاد رکھے۔ اچھے کام کرے اور برے کاموں سے باز رہے‘ کیونکہ موت وہ لمحہ ہو گا جس کے ساتھ ہی عمل کرنے کی مہلت ختم ہو جائے گی۔ انسان ہزار پچھتائے کہ میں اچھے کام کرتا مگر یہ ندامت بے سود ہو گی۔اسلامی تعلیمات میں دی گئی یہ ہدایت عقل سلیم کے عین مطابق ہے کہ کبھی کبھی قبرستان میں جایا جائے تاکہ یہ خیال تازہ ہو جائے کہ یہ سب لوگ اپنی مہلت ِعمر گزار کر یہاں دفن ہو چکے ہیں۔ ان کی عملی زندگی ختم ہو چکی ہے‘ اب صرف اُن کے اعمال ہی ان کے کام آئیں کے اور عنقریب مَیں بھی یہاں ایک قبر میں دفن ہو جائوں گا۔
ایک دن ایسا آئے گا کہ تمام کائنات ختم کر دی جائے گی۔ اُسے قیامت کا دن کہتے ہیں۔ وہ دن بڑا ہولناک ہوگا۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر قیامت کا ذکر ہے۔ آخری پاروں میں تو سراسر قیامت ہی کا تذکرہ ہے۔ سورۃ القارعہ میں فرمایا: {یَوْمَ یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ(۴) وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ الْمَنْفُوْشِ(۵) فَاَمَّا مَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ(۶) فَھُوَ فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ (۷) وَاَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ (۸) فَاُمُّہٗ ھَاوِیَۃٌ (۹) وَمَآ اَدْرٰىکَ مَاھِیَہْ (۱۰) نَارٌ حَامِیَۃٌ(۱۱)}’’اُس دن انسان ایسے ہوں گے جیسے بکھرے ہوئے پتنگے‘ اور پہاڑ ایسے ہوں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگ بھرنگی روئی۔ تو جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے ‘وہ دل پسند عیش میں ہو گا۔ اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے ‘اُس کا ٹھکانہ ہاویہ ہو گا۔ اور تم کیا سمجھو کہ ہاویہ کیا چیز ہے۔ وہ دہکتی ہوئی آگ ہے۔‘‘
اُس روز تمام انسان دنیا میں کیے ہوئے اپنے کاموں کا حساب دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو جائیں گے۔جن لوگوں نے اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی فرماں برداری میں زندگی گزاری ہو گی ان کو جنّت میں داخل کیا جائے گا۔جنّت میں ایسی بے مثال نعمتیں ہوں گی کہ نہ کسی نے وہ آنکھوں سے دیکھی ہوں گی نہ کانوں سے سنی ہوں گی‘ اور نہ ہی کسی انسان کے ذہن میں ان جیسا تصوّر آیا ہو گا۔ جن لوگوں نے دنیا کی زندگی نفسانی خواہشات کے تابع گزاری ہو گی اور اللہ اور رسولؐ کی نافرمانی والے اعمال کیے ہوں گے وہ جہنّم میں جائیں گے۔ جہنّم آگ کا الائو ہو گا جس کی آگ دنیا کی آگ سے ستر گنا شدید ہو گی۔ صاف ظاہر ہے کہ ہر شخص اپنی جنّت یا دوزخ دنیا کی زندگی میں خود ہی تیار کر رہا ہے۔ ؎
عمل سے زندگی بنتی ہے جنّت بھی جہنّم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے!

جنّت کا ذکرقرآن مجید میں بار ہا آیا ہے۔ ملاحظہ ہو: {وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّھُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا ۭ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ (۵۸) الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ(۵۹)} (العنکبوت) ’’اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشت کے اونچے اونچے محلوں میں جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں‘ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ (نیک) عمل کرنے والوں کا یہ خوب بدلہ ہے ۔جو صبر کرتے ہیںاور اپنے پروردگار پر بھروسا کرتے ہیں۔‘‘
سورۃ الزخرف میںارشاد ہے:{ وَاَنْتُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ(۷۱) وَتِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْٓ اُوْرِثْتُمُوْھَا بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۷۲) لَکُمْ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ کَثِیْرَۃٌ مِّنْھَا تَاْکُلُوْنَ(۷۳)} ’’ (اے اہل جنّت) تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ اور یہ جنّت جس کے تم مالک بنا دیے گئے ہو‘ تمہارے اعمال کا صلہ ہے۔ اس میں تمہارے لیے بہت سے پھل ہیں جن کو تم کھائو گے۔‘‘
دوزخیوں کا ذکر بھی قرآن مجید میں کئی جگہ ہے۔ سورۃ الزخرف ہی میں ہے: {اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ عَذَابِ جَھَنَّمَ خٰلِدُوْنَ (۷۴) لَا یُفَتَّرُ عَنْہُمْ وَھُمْ فِیْہِ مُبْلِسُوْنَ(۷۵) وَمَا ظَلَمْنٰھُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْا ھُمُ الظّٰلِمِیْنَ(۷۶) وَنَادَوْا یٰمٰلِکُ لِیَقْضِ عَلَیْنَا رَبُّکَ ۭ قَالَ اِنَّکُمْ مّٰکِثُوْنَ (۷۷)} ’’اور گنہگار دوزخ کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے ۔جو ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وہ اس میںنااُمید ہو کر پڑے رہیں گے۔ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہی (اپنے آپ پر) ظلم کرتے تھے اورپکاریں گے اے مالک (داروغہ جہنّم)تمہارا پروردگار ہمیں موت دے دے ۔وہ کہے گا کہ تم ہمیشہ (اسی حالت میں) رہو گے‘‘۔ سورۃ النساء میں فرمایا: {اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْھِمْ نَارًا ۭ کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰہُمْ جُلُوْدًا غَیْرَھَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ ۭ} (آیت۵۶) ’’جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں داخل کریں گے۔ جب بھی ان کی کھالیں گل جائیں گی تو ہم ان کی جگہ اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ عذاب کا مزا چکھتے رہیں۔‘‘
چونکہ رسول اللہﷺ نے لوگوں کو نیک وبد اعمال کے نتائج کی خبرکرنا تھی اس لیے آپ ؐکو جنّت اور دوزخ کا مشاہدہ سر کی آنکھوں سے کرا دیا گیا ۔ حضورﷺنے جنّت و دوزخ کا وہ حال بیان کر دیا جس کا ان کو مشاہدہ کر ادیا گیا تھا۔ آپﷺ نے فرمایا: مَیں تمہیں بتاتا ہوں کہ اگر تم لوگ لذتوں کو توڑ دینے والی موت کو زیادہ یاد کرو تو وہ تمہیں اس غفلت میںمبتلا نہ ہونے دے گی۔ لہٰذاموت کو یاد کرو…حقیقت یہ ہے کہ قبر ہر روز پکارتی ہے کہ مَیں مسافرت اور تنہائی کا گھر ہوں۔ مَیں مٹّی اور کیڑوں کا گھر ہوں۔ آپؐ نے اس کی تفصیل بیان فرمائی کہ مرنے کے بعد جب بندے کا واسطہ اس زمین سے پڑتا ہے جس کے وہ سپرد ہوتا ہے تو اگر وہ حقیقی مؤمن ہو تو زمین کسی عزیز اور محترم مہما ن کی طرح اس کا استقبال کرتی ہے اور کہتی ہے: مرحبا خوب آئے اور اپنے ہی گھر آئے۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جتنے لوگ میرے اوپر چلتے تھے ان میں سب سے زیادہ محبوب اور چہیتے مجھے تم ہی تھے۔ آج جب تم میرے سپرد کر دیے گئے ہو اور میرے پاس آگئے ہو توتم دیکھو گے کہ میںتمہارے ساتھ کیا اچھا سلوک کرتی ہوں۔پھر وہ زمین اس بندئہ مؤمن کے لیے حد ِنگاہ تک وسیع ہو جاتی ہے اور اس کے واسطے جنّت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ جب کوئی سخت بدکار قسم کا آدمی زمین کے سپرد کیا جاتا ہے تو زمین اس سے کہتی ہے کہ جتنے آدمی میرے اوپر چلتے پھرتے تھے تو مجھے ان سب سے زیادہ مبغوض تھا۔ آج تومیرے حوالہ کر دیا گیاہے اور میرے قبضے میںآگیا ہےتو تُو ابھی دیکھے گا کہ میںتیرے ساتھ کیا کرتی ہوں۔پھر وہ زمین ہرطرف سے اُس کو بھینچتی اور دباتی ہے یہاںتک کہ اس دبائو سے اس کی پسلیاںادھر سے اُدھر ہو جاتی ہیں۔ ابو سعید خدر ی ؓکہتے ہیں‘ پھر رسول اللہﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں میں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں ڈال کر ہم کو اس کا نقشہ دکھایا۔پھر فرمایا پھر اس پر ستراژدھے مسلط کر دیے جاتے ہیںجن میںسے ایک اگر زمین پرپھنکا ر مارے تو رہتی دنیاتک وہ زمین کوئی سبزہ نہ اگاسکے۔ پھر یہ اژدھے اسے کاٹتے نوچتے رہیں گے یہاں تک کہ قیامت اور حشر کے بعدوہ حساب کے مقام تک پہنچا دیا جائے۔ حضورﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ قبر یا تو جنّت کے باغیچوںمیں سے ایک باغیچہ ہے یا دوزخ کی خندقوں میں سے ایک خندق ہے۔ (جامع ترمذی)
حضرت انس بن مالک ؓکہتے ہیں آنحضرتﷺ نے ایک خطبہ دیا کہ میں نے اس جیسا خطبہ اب تک نہیں سنا تھا۔ اس میں آپ ؐنے فرمایا:’’ اگر تم اس چیز کوجان لو جس کو میں جانتا ہیں تو البتہ تم ہنسنا کم کر دو اور زیادہ رونے لگو۔‘‘(صحیح بخاری و صحیح مسلم) یہ سن کر اصحاب رسولؐ نے اپنے چہروں پرکپڑے ڈال لیے اور رونے لگے۔قرآن مجید میں ارشاد ہے: {فَلْیَضْحَکُوْا قَلِیْلًا وَّلْیَبْکُوْا کَثِیْرًا ۚ جَزَاۗءًۢ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ(۸۲)} (التوبۃ) ’’یہ لوگ (دنیا میں) تھوڑا سا ہنس لیں اور (آخرت میں) ان کو ان کے اعمال کے بدلے جو وہ کرتے ہیں‘ بہت سا رونا ہو گا‘‘۔ دنیا کی زندگی لہو و لعب، عیش پرستی اور آخرت کی زندگی کو بھلا کر ہنسی مذاق میں گزاری جائے تو انجام کا ر رونا ہی پڑے گا۔ اس کے مقابلے میں دنیا میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے رونا اچھا ہے۔ ابو ذر غفاری ؓعذاب کی سختیوں کو یاد کرتے اور کہتے: ’’کاش میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا!‘‘(بحوالہ معارف الحدیث II)
اللہ تعالیٰ کے خوف سے رونا اللہ تعالیٰ کی رحمت لاتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :((لَا یَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَکٰی مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ حَتّٰی یَعُوْدَ اللَّبَنُ فِی الضَّرْعِ)) (سنن الترمذی)’’ دوزخ کے اندر وہ شخص داخل نہیں ہوگا جس پر حق تعالیٰ کے خوف سے گریہ طاری ہو گیا یہاں تک کہ دودھ تھن میں نہ لوٹ آئے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کو اس بندے کی حالت پر رحم آتا ہے جو اس کے خوف میں روتا اور گڑ گڑاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا :’’اللہ کے خوف اور ہیبت سے جس بندئہ مومن کی آنکھوں سے کچھ آنسو نکلیں اگر چہ وہ مقدار میں بہت کم مثلاً مکھی کے سر کے برابر (یعنی قطرہ ہی کے بقدر) ہوں‘ پھر وہ آنسو بہہ کر اس کے چہرے پر پہنچ جائیں تو اللہ تعالیٰ اس چہرے کو دوزخ کے لیے حرام کر دے گا۔ (سنن ابن ماجہ)
موت کے بعدکی زندگی کا تصوّر کر کے خدا کے خوف سے آنسو بہا نا وہ عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور انسان کے گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتا ہے۔ حضرت عباسؓرسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کے خوف اور اس کی ہیبت سے کسی بندہ کے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں تو اس وقت اس کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جیسے کسی پرانے سوکھے درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔(رواہ البزار)
دنیاوی زندگی میں آخرت کی زندگی کو یادرکھنا، خوفِ خدا سے آنسو بہانا ‘اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رضا والے کام کرنا ہی اُخروی زندگی کی کامیابی ہے۔
***