تفسیر کے ناقابل ِاعتبار مآخذ
بسلسلہ علم تفسیر اور مفسرین کرام(۹)
پروفیسر حافظ قاسم رضوان
(۲) صوفیائے کرام کی تفاسیر
قرآن مجید کی تفسیر میں صوفیائے کرام سے کچھ ایسی باتیں منقول ہیں جو بظاہر لگتی تو تفسیر ہیں مگر وہ آیت قرآنی کے ظاہری اور ماثور معنی کے خلاف ہوتی ہیں‘جیسے سورۃ التوبہ میں ارشاد ربانی ہے:{قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَکُمْ مِّنَ الْکُفَّارِ}(آیت ۱۲۳)’’لڑائی کرو ان کا فروں سے جو تم سے متصل (آس پاس) ہیں۔‘‘اس کی تشریح کے تحت بعض صوفیاء نے کہا: قاتلوا النفس فانھا تلی الانسان ’’نفس سے لڑائی کرو‘ کیونکہ وہ سب سے زیادہ انسان سے متصل ہے‘‘۔ اس قسم کے جملوں کو بعض لوگوں نے قرآن پاک کی تفسیر سمجھ لیا‘ حالانکہ درحقیقت وہ تفسیر کے ذیل میں نہیں آتے۔ صوفیاء کرام کا یہ مقصد ہر گز نہیں ہوتا کہ قرآن کریم کی اصل مراد یہ ہے‘ اور جو مفہوم ظاہری الفاظ سے سمجھ آرہا ہے وہ نہیں ہے‘ بلکہ وہ قرآن مجید کے ظاہری مفہوم پر جو اُس کے اصل ماخذ سے ثابت ہو‘ پوری طرح ایمان رکھتے ہیں اور اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ قرآن پاک کی اصل تفسیر وہی ہے‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے ان وجدانی استنباط کو بھی ذکر کر دیتے ہیں جو اس متعلقہ آیت کی تلاوت کے وقت ان کے قلب پر وارد ہوئے۔ چنانچہ مذکورہ بالا مثال میں صوفیاء کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اس آیت میں جہاد و قتال کا حکم مراد نہیں‘ بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ کُفّارسے جہاد وقتال کا حکم تو اس آیت کا اصل تقاضا ہے ہی‘ لیکن اس آیت سے وجدانی طور پر انسان کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ سب سے قریبی نافرمان تو اس کا نفس ہے جو اسے برائیوں اور گناہوں پر آمادہ کرتا رہتا ہے‘ لہٰذا کُفّار سے جہاد و قتال کے ساتھ ساتھ اس نفس سے بھی جہاد و قتال ضروری ہے۔ اس طرح یہ مفہوم تفسیر قرآنی کے خلاف نہیں رہتا۔
اسی طرح سورۃ البقرۃ میں فرمانِ الٰہی ہے: {فَلَا تَجْعَلُوْا لِلہِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (۲۲)} ’’پس ہرگز اللہ کے ساتھ شریک نہ بنائو جبکہ تم جانتے بھی ہو‘‘۔ اس آیت قرآنی کی تفسیر میں سہل بن عبد اللہ تُستریؒ لکھتے ہیں کہ ’اَنْدَاد‘ کے معنیٰ ہیں ضداور مخالف۔ نفس امّارہ سب سے بڑا مخالف ہے جو ہدایتِ خداوندی کے برعکس لوگوں کو خواہشاتِ نفس کی پیروی کی تلقین کرتا ہے۔اس قول سے مستفاد ہوتا ہے کہ لفظ ’اَنْدَاد‘ کا مفہوم وسیع ہے اور نفس امّارہ بھی اس میں شامل ہے۔ گویا آیت کے معانی یہ ہیں کہ کسی بُت‘ شیطان یا نفس امارہ کو خدا کاشریک نہ ٹھہرائو۔ اب ظاہری معنیٰ سے یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی‘ اس لیے کہ آیت کے سیاق و سباق اور قرائن و آثار سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اَنْداد سے وہ معبود مراد ہیں جن کی پوجا کی جاتی تھی‘ خواہ وہ بُت ہوں یا کچھ اور۔ اب ظاہر ہے کہ نفس امارہ کی پوجا اور پرستش نہیں کی جاتی تھی‘ تاہم اس امر کا احتمال ہے کہ یہ مفہوم بھی صحیح ہو اور اس کی وجہ حسب ِذیل ہے۔ صوفیاء عبرت پذیری کے نقطۂ نظر سے کسی آیت قرآنی کے بعض ایسے معانی مراد لیتے ہیں جن کے بارے میں وہ آیت نازل نہیں ہوئی‘ اس لیے کہ وہ معنی اس آیت کے مقصد نزول سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ سہل تستری نے جب یہ مفہوم بیان کیا تو ان کا مطلب شاید یہ نہ تھا کہ وہ اس آیت کی بس یہی تفسیر کر رہے ہیں‘ بلکہ ان کا منشایہ تھا کہ نفس امّارہ بھی شرعی اعتبار سے ندّ(اللہ کا شریک) ہی ہے‘ اس لیے کہ ندّ شریک اور مخالف کو کہتے ہیں۔اب ظاہر ہے کہ نفس امارہ اس اعتبار سے ربّ کائنات کا شریک ہے کہ وہ نفس انسانی کو غلط اور گناہ کی راہ پرڈالتا ہے جو اللہ کی مرضی کے خلاف ہے۔لوگوں نے جوبُت بنارکھے تھے وہ بھی منشائے ربّانی کی مخالفت کے لیے ہی تھے۔اسی طرح کہاجاتا ہے کہ شبلی سے وضو اور نماز کے معنی دریافت کیے گئے ‘انہوں نے جواب دیاکہ اول الذکر فصل اور دوسرا وصل ہے۔ جب آدمی وضو کرتا ہے تو وہ دنیا سے علیحدگی اختیار کرتا ہے‘ یہ فصل ہے اور جب وہ نماز پڑھتا ہے تو وہ اللہ کے حضور میں ہوتا ہے‘ اور یہ وصل ہے۔
صوفیائے کرام کے اس قسم کے اقوال اور اشارات کے بارے میں بہرحال درج ذیل امور کا خیال رکھنا ضروری ہے:
(ا) ان اقوال کو قرآن مجید کی تفسیر قرار نہ دیا جائے‘بلکہ یہ اعتقاد رکھاجائے کہ قرآن کریم کی اصل مراد وہی ہے جوکہ تفسیر کے اصل مآخذسے سمجھ آتی ہے اور یہ اقوال یا اشارات محض وجدانی استنباط کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگران اقوال کو قرآن کریم کی اصل تفسیر سمجھ لیا جائے تو پھر یہ گمراہی ہے۔ ابو عبد الرحمان سلمی نے ایک کتاب ’حقائق التفسیر‘ کے نام سے لکھی تھی جو کہ اسی قسم کے اقوال پر مشتمل تھی۔ اس کے بارے میں امام واحدی نے کہا کہ جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ یہ تفسیر ہے تو وہ کافر ہو جائے گا۔(الاتقان)
(ب)اس قسم کے اقوال میں سے بھی صرف ان اقوال کو درست سمجھا جا سکتا ہے جن سے قرآن کریمکی کسی آیت کے ظاہری مفہوم یاشریعت کے کسی مسلّمہ اصول کی نفی نہ ہوتی ہو۔ اگران وجدانیات یا اقوال کے پردے میں دین اسلام کے مسلّمہ اصول و قواعد کی خلاف ورزی ہو رہی ہو تو انہیں کسی صورت بھی قبول نہیں کیا جائے گا‘ خواہ وہ کسی بھی شخصیت سے منسوب ہوں۔ یہ کھلم کھلا الحاد ہے۔
(ج) اس قسم کے وجدانی اقوال اور اشارات صرف اس وقت معتبر ہو سکتے ہیںجب وہ قرآن مجید کی تحریف کی حد تک نہ پہنچتے ہوں۔اگر قرآن پاک کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر کوئی بات کہی جائے تو وہ بھی صریح الحاد اور گمراہی ہے‘ جیسے ایک شخص نے سورۃالبقرۃ کی آیت قرآنی{مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ} ’’کون ہے جو شفاعت(سفارش) کر سکے!‘‘ کے حوالے سےکہا کہ اصل میں مَنْ ذَلّ ذِیْ یَشْفَ عُ ہے۔ذِیْ سے مراد نفس ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو شخص نفس کو ذلیل کرے گا‘ شفاپا جائے گا۔ علامہ سراج الدین بلقینی سے اس بارے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ایسا کہنے والا ملحدہے۔ (الاتقان)
(د) ماضی میں ملحدوں کا ایک فرقہ ’باطنیہ‘ کے نام سے گزرا ہے‘ جس کا دعویٰ یہ تھا کہ قرآن مجید سے ظاہری طور پر جو مفہوم و مطلب سمجھ میں آتا ہے‘ حقیقت میں وہ اللہ کی مراد نہیں ہے‘ بلکہ ہر لفظ سےایک باطنی معنیٰ اور مفہوم کی طرف اشارہ ہے اور وہی قرآن پاک کی اصل تفسیر ہے۔ اس اعتقاد کے کفر والحاد ہونے پر اجماعِ اُمّت ہے۔ اب صوفیاء کے کسی قول کے بارے میں اس قسم کا اعتقاد رکھنا باطنیت اور کفر ہو گا۔(بطور نمونہ باطنیہ کی تفسیر قرآن کے حوالے سے چند تاویلات ملاحظہ کریں۔ مثلاً ’وضو‘ سے مراد امام کی پیروی ہے۔ جو شخص غیرشعوری طور پر کسی راز کو افشاکر دے‘ اس سے دوبارہ رازداری کا عہدلینے کو’غسل‘ کہتے ہیں۔ ’کعبہ‘ سے حضور اَقدسﷺ مراد ہیں۔ ’باب‘ (دروازہ) سےمراد حضرت علیؓ ہیں۔ تکلیف سے آرام پانے کا نام’جنت‘ ہے۔ مشقت اٹھانے کو ’جہنم‘ کہا جاتا ہے۔ ’زکوٰۃ‘ کا مطلب یہ ہے کہ باطنی عقائد و احکام کا علم حاصل کر کے اپنے نفس کو پاک کیا جائے۔ وغیرہ۔
مندرجہ بالا چار امور کی رعایت کے ساتھ صوفیائے کرام کے اقوال و اشارات کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے‘ اور بلاشبہ بعض مخصوص و اردات اور احوال رکھنے والے اشخاص کو ان باتوں سے فائدہ بھی پہنچا ہے۔ اسی وجہ سے علامہ آلوسی اپنی تفسیر ’روح المعانی‘ میں آیات قرآنی کی مکمل تفسیر لکھنے کے بعد ایک مستقل عنوان ’من باب الاشارۃ فی الآیات‘ قائم کرتے اور اس میں اس قسم کے وجدانیات کا ذکر فرماتے ہیں۔ مذکورہ بالا ارشادات کا خلاصہ یہ ہے کہ صوفیائے کرام نے تفسیر قرآن کریم کے تحت اپنے جووجدانیات ذکر کیے ہیں‘ وہ قرآن و سُنّت کے خلاف نہیں ہیں اور بعض لوگوں نے ان پر باطنیت کا جو الزام عائد کیا ہے‘ وہ بالکل درست نہیں۔ اس سب کے باوجود الاتقان کے حوالے سے حافظ ابن الصلاح کے اس ارشاد کو نقل کیے بغیر نہیں رہا جا سکتا: ومع ذلک فیالیتھم لم یتساھلوا بمثل ذلک لما فیہ من الایھام والالباس (اس کے باوجود اے کاش! یہ حضرات اس قسم کے اقوال نقل کرنے میں اتنے تساہل سے کام نہ لیتے‘ کیونکہ ان میں غلط فہمی اور اشتباہ کی بڑی گنجائش ہے)۔ اس ضمن میں علامہ شاطبی کا کہنا ہے کہ صوفیاء سے یہ اقوال عبرت انگیزی کے نقطۂ خیال سے صادر ہوئے ہیں‘ تاہم ان کو قرآن پاک کے معانی پر محمول نہیں کیاجا سکتا ۔ یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ جن صوفیاء سے یہ اقوال صادر ہوئے ہیں‘ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم قرآن کی شرح و تفسیر کر رہے ہیں۔ یہ بات صوفیاء کے ساتھ حسن ظن کی آئینہ داری کرتی ہے(الموافقات) ۔اسی طرح تفتازانی نے شرح عقائد نسفی میں تحریر کیا ہے کہ بعض محققین نے جو یہ بات کہی ہے کہ اگرچہ نصوص کو ان کے ظواہر پر محمول کیا جاتا ہے‘ تاہم ان میں ایسے پوشیدہ اشارات بھی پائےجاتے ہیں جو اربابِ سلوک پر ہی منکشف ہوتے ہیں‘ تو یہ بات ان کے کمالِ ایمان اور تمامِ عرفان کی غمازی کرتی ہے۔
آخر میں ثابت ہواکہ متذکرہ بالا شروط جب صوفیاء کے اقوال و اشارات (تفسیر اشاری) میں موجود ہوں گی تو وہ مقبول ہوںگے۔ مقبول ہونے کامطلب یہ ہےکہ اسے ردّ نہیں کیا جائے گا۔ یہ معنیٰ نہیں کہ اس کا تسلیم کرناضروری ہے۔ ردّ نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ ظاہر کے منافی نہیں اورکوئی شرعی دلیل اس کے معارض نہیں۔ باقی رہی یہ بات کہ اس کا تسلیم کرنا ضروری نہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اقوال و اشارات و جدانیات کے قبیل سے ہیں‘ اور وجدانیات کی اساس کسی دلیل وبرہان پر نہیں رکھی جاتی۔ یہ ایک ایسی بات ہوتی ہے جو صوفی کے دل میں آتی ہے اور یہ صوفی اور اُس کے ربّ کے درمیان ایک راز کی حیثیت رکھتی ہے‘ اس لیے صوفی خود تو اس پر عمل کر سکتا ہے مگر کسی دوسرے کو اس کا پابند نہیں بنا سکتا اور نہ ہی بنانا چاہیے‘ یہ دوسرے کی مرضی پر منحصر ہے۔
معروف مفسر علامہ محمود آلوسی جن کی تفسیر میں صوفیائے کرام کے وجدانی استنباطات بکثرت ملتے ہیں‘ صوفیاء کے منشاء کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
’’قرآن کریم میں سادات صوفیاء سے جو کلام منقول ہے‘ وہ درحقیقت ان دقیق امور کی طرف اشارے ہوتے ہیں جو اربابِ سلوک پر منکشف ہوتے ہیں‘ اور ان اشارات میں اور قرآن کریم کے ظاہری مفہوم میں جو حقیقۃً مراد ہوتا ہے‘ تطبیق ممکن ہے۔ صوفیاء کا یہ اعتقاد نہیں ہوتا کہ ظاہری مفہوم مراد نہیں اور باطنی مفہوم مراد ہے‘ اس لیے کہ یہ تو باطنی ملحدوں کااعتقاد ہے جسے انہوں نے شریعت کی بالکلیہ نفی کا زینہ بنایا ہے۔ ہمارے صوفیائے کرام کا اس اعتقاد سے کوئی واسطہ نہیں اور ہو بھی کیسے سکتا ہے؟ جبکہ صوفیاء نے یہ تاکید کی ہے کہ قرآن مجید کی ظاہری تفسیر کو سب سے پہلے حاصل کیا جائے۔ (مقدمہ روح المعانی)
اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے تھے کہ فہم ِقرآن کا میدان بہت وسیع ہے‘ جو شخص اوّلین و آخرین کے علوم سے آگاہ ہونا چاہتا ہے وہ قرآن کا (بغور) مطالعہ کرے۔ خود قرآن حکیم کی سورۃ الانعام میں ارشاد ہوتا ہے: {مَا فَرَّطْنَا فِی الْکِتٰبِ مِنْ کُلِّ شَیْءٍ}(آیت۳۸) ’’اور ہم نے کتاب (قرآن) میںکسی چیز کی کمی باقی نہیں چھوڑی۔‘‘
(۳) حذفِ اسناد
تفسیر ماثور کے اسبابِ ضعف میں اسناد کا حذف کرنا بھی شامل ہے۔ اس حوالے سے درج ذیل اُمور کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ حضرات صحابۂ کرامؓ جو روایت بھی کسی سے اخذ کرتے‘ اس میں صحت کا خصوصی خیال رکھتے تھے۔ جب تک ان کو صحت روایت کا یقین نہیں ہو جاتا تھا وہ اس روایت کو آگے بیان نہیں کرتے تھے۔ مگر وہ سند کے بارے میں پوچھنے کے عادی نہ تھے۔ اس کی وجہ حضرات صحابہؓکے دور کی امانت وعدالت تھی۔ بعض صحابہؓ کے بارے میں جو یہ معروف ہے کہ وہ شہادت یا حلف لیے بغیر کوئی روایت قبول نہیں کرتے تھے تو اس کی وجہ مزید پختگی اور اطمینان قلب ہے‘عدم اعتماد ہر گز نہیں۔ ایک مرتبہ حضرت اُبی بن کعب ؓنے حضرت عمرؓکے سامنے ایک حدیث روایت کی تو حضرت عمرؓ نے ان سےفرمایا کہ اس کی تائید میں شہادت پیش کریں۔ چنانچہ کچھ انصاری صحابہ ؓ نے گواہی دی کہ ہم نے یہ حدیث رسول اللہﷺ سے سنی ہے۔ اس پر حضرت عمر فاروقؓنے حضرت اُبی بن کعبؓ سے فرمایا کہ مَیں نے آپ کو متہم نہیں کیا‘مَیں صرف تائید چاہتا تھا۔ (اسلوب الحدیث)
صحابہ ؓ کے بعد جب تابعین کا دور آیااور وضع حدیث کا چرچا ہونے لگا تو پھر سند کے بغیر کسی روایت کو قبول نہیں کیا جاتا تھا۔ جب سند میںکوئی غیر ثقہ راوی ہوتا تو ایسی روایت ردّ کردی جاتی۔ امام مسلم نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں مشہور تابعی ابن سیرینؒ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ پہلے اسناد کے بارے میں دریافت نہیں کیا جاتا تھا‘ جب (وضع حدیث کے) فتنہ کا آغاز ہوا تو اسناد ورجال کے بارے میں پوچھا جانے لگا۔ عصر تابعین میںمعاملہ یونہی چلتا رہا۔ جو تفسیر بھی حضورﷺ یا صحابہؓسے نقل کی جاتی‘ اس کے ساتھ سند مذکور ہوتی تھی۔ عہدتابعین کے بعد ایسے اشخاص منظر عام پرآئے جنہوں نے تفسیر قرآن سے متعلق تمام ذخیرہ یکجا کر دیا۔ اس میں احادیث نبویہؐ کے ساتھ صحابہ کرامؓ اور تابعین کے اقوال و آثار مع سلسلہ اسناد محفوظ تھے‘ جیسے سفیان بن عیینہ‘ وکیع بن الجراح اور دیگر علماء کی تفاسیر وغیرہ۔ پھر ایسے لوگ سامنے آئے جنہوں نے کتب تفاسیر تالیف کیں اور اسانید کو حذف کر کے تفسیری اقوال کو ان کے قائلین کی جانب منسوب نہ کیا۔ چونکہ انہوں نے صحت سند کا التزام نہ کیا‘ اس لیے صحیح و سقیم اقوال باہم مل جل گئے اور اصل کی پہچان مشکل ہو گئی۔ اس کے بعد تو یہ حالت ہو گئی کہ جس شخص کو بھی کوئی قول ملتا ‘ وہ اسے نقل و روایت میں کوئی باک نہ سمجھتا اورنہ اسے کچھ محسوس ہوتا۔ پھر بعد میں آنے والوں (متأخرین) نے بے خوف و خطر یہ سمجھتے ہوئے ایسے اقوال کو نقل کر دیا کہ یہ اصل صحیح پر مبنی ہیں۔ ایسا کرتے وقت وہ متقدمین(سلف) کی کسی تحریر یا تائید کے متلاشی نہیں ہوتے تھے۔(الاتقان)
اس باب میں حق بات یہ ہے کہ اسناد کا حذف کرنا تمام اَسبابِ ضعف سے زیادہ خطرناک اور ہلاکت خیز تھا۔ حذفِ اَسناد کا بالآخر نتیجہ یہ نکلا کہ جو کوئی بھی ایسی کتب تفاسیر کو دیکھتا وہ ان کے مندرجات اور حوالہ جات کو صحیح اور مستند خیال کرتا۔ اسی طرح اکثر مفسرین ان سے متعلقہ اسرائیلی روایات‘ غیر مستند اوروضعی واقعات کو صحیح اور ثقہ سمجھ کر نقل کرنے لگے‘ حالانکہ یہ عقل ونقل دونوں کے بالکل خلاف تھے۔ اس میںکچھ شک نہیں کہ وضع حدیث اور اسرائیلی روایات (اسرائیلیات) دونوں خطرناک ہیں ‘مگر حذفِ اَسناد کی ہلاکت ان دونوں سے بڑھ کر ہے۔ اَسناد کا ذکر کرنے کی صورت میں اس خطرے کی تلافی ممکن تھی‘ مگر صدحیف کہ حذفِ اَسناد یا راوی کا نام لیے بغیر روایت کرنا کہ کسی نے کہا‘ اس عمل نے ہر چیز اور بات کو بعد والوں کے لیے بالکل تاریک کر دیا۔ اے کاش! جن اشخاص نے اسانید کو حذف کر کے مختلف اقوال و آثار کو جمع کیا تھا‘ وہ کم ازکم اپنی تفسیر میں ابن جریر طبری کی طرح ہر قول کو مع سند ہی ذکر کرتے۔ ابن جریر نے اپنی مرویات میں اگرچہ صحت کا التزام نہیں رکھا مگر ان کا عذریہ ہے کہ انہوں نے ہر روایت کی سند بیان کر دی ہے اور پڑھنے والا اس میں صحیح اور غلط کی پہچان کر سکتا ہے۔علمائے سلف کے ہاں جب کسی روایت کو اس کی صحیح سند کے ساتھ ذکر کر دیا جائے تو پھر تحریر کرنے والے کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ وجہ یہ تھی کہ عہد ِسلف میں عمومی طور پر راویوں کے حالات وغیرہ معروف تھے اور متعلقہ روایت کے صحیح‘ غلط یا وضعی ہونے کا اسی سے پتہ چل جاتا تھا۔ لیکن بعد کے زمانے میں کیفیات بدل گئیں اور حذف ِاَسناد سے زبردست فتنہ و گمراہی پھیلنے لگی۔
(جاری ہے)
***
tanzeemdigitallibrary.com © 2026