(فقہ و تحقیق) بحالت ِ روزہ آنکھ میں دوا ڈالنا اور انجکشن - پروفیسر ڈاکٹر نجیب الحق

12 /

بحالت ِ روزہ
آنکھ میں دوا ڈالنا اور انجکشن
ایک تحقیقی جائزہ

پروفیسر ڈاکٹر نجیب الحق
آنکھ میں دوا اور انجکشن کے بارے میں مفطر صوم ہونے یا نہ ہونے پر کچھ تفصیل دینے سے پہلے یہ بات سمجھنا اہم ہے کہ بنیادی طور پر ائمہ فقہاء اور بعد کے علماء و فقہاء حضرات نے سالہا سال کی کوشش اور محنت سے عوام الناس کے لیے زندگی میں آمدہ مسائل کے حل مرتّب کیے ہیں۔ اس طرح لوگوں کے لیے قرآن وسنت کی روشنی میں زندگی کے مختلف مسائل میں افضل راہ متعین کرنے کی سعی کی گئی ہے تاکہ عام مسلمانوں کے لیے دین کے مطابق زندگی گزارنے میں آسانی پیدا کی جا سکے۔ اس ضمن میں اجتہاد کی بنیاد پر رائے میں اختلاف بھی ہو سکتا ہے جو کوئی مذموم بات نہیں ہے۔ مسلمانوں کے آپس کے ایسے ہی اختلاف کو نعمت قرار دیا گیا ہے۔ اختلاف سے انسان کی علمی اور تخلیقی استعداد کو جِلا ملتی ہےاور اس کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ مجتہدین کی بتائی ہوئی جس صورت پر بھی عمل ہو انسان شریعت کے دائرے کے اندر ہی رہتا ہے۔ البتہ غلطی کے امکان یا شک کا فائدہ اس شخص کو ہی ملتا ہے جو نیک نیتی کی بنیاد پر کوئی بھی رائے اختیار کر لیتا ہے۔
فقہی اور مسلکی اختلافات کو مخا لفت میں تبدیل کرنا انصاف کا تقاضا نہیں ہے اور اس صورت میں یہ اختلاف رحمت نہیں بلکہ زحمت کا باعث بن جاتا ہے۔کسی بھی فقہی رائے کو اختیار کرنے سے کوئی اسلام کے دائرے سے خارج نہیں ہو جاتا‘ البتہ فقہی اختلافات کی بنا پر یا اس کو بہانہ بنا کر قرآن یا حدیث کا بالواسطہ انکار اور خواہش نفس کی پیروی کرنا قابل مذمّت ہے۔
اگر ایک مسئلے میں ائمہ اربعہ یا فقہاء کرام کی دو مختلف رائے موجود ہوں تو ایک کے اختیار کرنے اور دوسری کو چھوڑ دینے کو کفر اور اسلام کا معاملہ نہیں بنایا جا سکتا۔ البتہ کسی بھی رائے کے اختیار کرنے کی بنیاد ہوائے نفس نہیں بلکہ احکام شریعت ِمحمدی ﷺ پر بہتر طریقے سے عمل کی کوشش ہونی چاہیے۔ قرآن و حدیث کے واضح احکام کے بعد اپنی رائے یا مسلک کے لیے تاویلات نہیں ڈھونڈنی چاہئیں۔
اس کے ساتھ یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ کسی مسئلے میں رائے قائم کرنے کا اختیار ہر شخص کا کام نہیں۔ یہ صرف علماء کرام و فقہاءِعظام کا کام ہے اور عام لوگوں کو انہی کی رائے کو اختیار کرنا چاہیے۔ جس طرح ہم زندگی کے مختلف شعبوں میں اس شعبے کے سپیشلسٹ کے پاس جاتے ہیں اور اُس کی رائے یا ہدایت ہی پر عمل کرتے ہیں اسی طرح شرعی معاملات میں بھی شریعت کے سپیشلسٹوں( علماء و فقہاء) کے پاس جانا چاہیے اور ان کی رائے اور ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔
اس اصولی بات کوبھی ابتدا ہی میں سمجھنا انتہائی اہم ہے کہ طبّی معاملات میں فیصلے کرنے کے لیے دین کاجامع علم ہوناضروری ہے۔ صرف چند معلومات کی بنیاد پر یا چند فقہی قواعد پڑھ کر کوئی شخص (بشمول ڈاکٹر) آزادانہ فیصلے نہیں کرسکتا۔ بلکہ اپنی معلومات اور محدود علم کی بنیاد پر کسی طبّی معاملے میں غور وفکر کے بعد ہم جس بھی نتیجے پر پہنچیں اس پر فقہائے کرام کی منظوری کے بعد ہی عمل کیا جائے۔ مولانا مودوی رحمہ اللہ نے تقلید اور اتباع کے فرق کو واضح کرتے ہوئے اس سلسلے میں بڑی جامع بات کہی ہے کہ ’’تقلید کے معنی ہیں دلائل سے قطع نظر کرتے ہوئے کسی شخص کے قول وفعل کی پیروی کرنا‘ اور اتباع سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص کے طور طریقے کو بر بنائے دلیل پسند کرکے اس کی پیروی کرنا۔ پہلی چیز عامی کے لیے ہے اور دوسری عالم کے لیے ہے۔‘‘ (رسائل ومسائل۔ تقلید اور اتباع کے ایک سوال کا جواب)
پس ہم جیسے ناقص العلم لوگوں کے لیے اس بات کا خیال رکھنا انتہائی اہم ہےکہ مبادا دین کا بنیادی مکمل علم نہ ہونے کی وجہ سےکسی شدید اور خطرناک غلطی کے مرتکب نہ ہو جائیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ علم اور بدلتے زمانے کے ادراک کے بغیر مسائل کا حل تجویز کرنا مناسب نہیں ہے اوراسی لیے فقہاءکا یہ مقولہ مشہور ہے کہ: من لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھلیعنی جو زمانہ کا عرف نہ پہچانتا ہو وہ جاہل ہے۔ اس لیے فقہاء ہر میدان عمل میں حکم شرعی کے انطباق سے قبل اس میدان کے عمل تقاضوں سے آگاہی کو ضروری سمجھتے ہیں۔ اسی طرح عرف کے لیےکسی علاقہ کے معروضی حالات کو پیش نظر رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگوں اور علماء کی اکثریت کی عمومی ’’فکر‘‘ کی نہج کیا ہے۔ مثلاً جس علاقے میں شافعی یا حنبلی فکر کے افراد زیادہ ہوں وہاں عمومی طور پر انہی ائمہ کی فقہ کی بنیاد پر فتویٰ دینا مناسب ہوگا۔ اسی طرح جہاں اَحناف کی اکثریت ہو تو عام طورپر فقہ حنفی ہی مسائل کے حل کی عمومی بنیاد ہوگا۔ لیکن ظاہر ہے یہ اصول نصوص میں نہیں صرف فقہی مسائل میں لاگو ہو گا۔ فقہی مسائل میں معروضی حالات اور زمانہ کی اہمیت پر مولانا محمد تقی امینی ؒنے اپنی کتاب ’’احکام شرعیہ میں حالات و زمانہ کی رعایت‘‘ میں تفصیلی بحث کی ہے۔
مراکش اور سعودی عرب میں ایک مسلک کے لوگوں کی اکثریت ہے جبکہ پاکستان اور بنگلہ دیش وغیرہ کے عوام کی اکثریت دوسرے مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔ اس لیے فقہاء کی رائے کو وہاں کے حالات کے تناظر میں قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ لیکن ہر ملک کے عوام پر ایسےمخصوص مسلک کی رائے کو مسلط نہیں کیا جانا چاہیے جو ان معاشروں اور ممالک کے عوام کے عمومی فکر کے خلاف ہو۔
خلیفہ ہارون الرشیدنے جب امام مالک رحمہ اللہ کی کتاب ’’موطا ٔ‘‘ کو کعبہ میں آویزاں کرنے اور لوگوں کو اس پر عمل کرنے کا پابند کرنے کے حوالے سے امام مالک رحمہ اللہ سے مشورہ کیا تو انھوں نے اس سے منع فرمایا۔ اسی طرح خلیفہ ابو جعفر المنصور نے امام مالکؒ سے موطا امام مالک کی کاپیاں بناکر مختلف علاقوں میں بھیجنے اور لوگوں کو اس پر عمل کرنے اور کسی دوسری فقہ پر عمل نہ کرنے کے حوالے سے مشورہ مانگا تو امام مالک ؒنے فرمایا کہ لوگوں کے پاس پہلے سے مختلف احادیث اور فقہ موجود ہیں‘ لہٰذا انھیں اسی پر عمل کرنے دیا جائے اور صرف اس کتاب پر پابند کرنے سے منع فرمایا۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں: موطا کی شرح التعلیق المُمجّد از عبد الحی لکھنوی‘ مقدّمۃ الشارح، الفائدۃ السابعۃ)
اب ہم آنکھ میں دوا اور انجکشن کے مفسد ِصوم ہونے یا نہ ہونے پر مندرجہ بالا معروضات کی روشنی میں کچھ تفصیل جاننے کی کوشش کریں گے۔
مفاسد ِصوم کے سلسلے میں ۲۰۱۹ ءمیں پشاور میڈیکل کالج اور جامعہ عثمانیہ پشاور کے باہمی تعاون سے ایک فقہی کانفرنس منعقد کی گئی‘ جس میں پاکستان کے ساٹھ سےزائد علماء کرام و فقہاء عظام نے شرکت کی۔ ان میں کراچی‘ سرگودھا‘ فیصل آباد‘ کوئٹہ‘ ملتان‘ راولپنڈی‘ خانیوال‘ چار سدہ‘ کوہاٹ اورصوابی وغیرہ کے مشہور مدارس کے علماء و فقہاء شامل تھے۔ ان میں دارالعلوم کراچی‘ جامعۃ الرشید کراچی‘ جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی‘ دارلعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک اور جامعہ عثمانیہ پشاور کے علماء اور نائب امیر جماعت اسلامی وڈائریکٹر تفہیم دین اکیڈمی حیات آباد‘ پشاور بھی شامل تھے۔
راقم نے تصاویر اور ویڈیوز کی مدد سے تمام شرکاء کو روزہ سے متعلق طبّی اَعضاء کی ساخت اور اَعمال سے آگا ہ کیا۔ بعد میں حسب پروگرام مسائل پر بحث کے لیے علماء حضرات کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر گروپ کے ساتھ ایک ڈاکٹر بھی طبّی رائے دینے کے لیے موجود تھا۔ اس کی مختصر روداد جامعہ عثمانیہ کے ماہانہ مجلّہ ’’العصر‘‘ میں شائع ہو چکی ہے۔ انجکشن اور آنکھ میں دوا ڈالنے کے بارےمیں کانفرنس کی رائے یہ تھی :
’’تین حضرات کے علاوہ تمام شرکاء کا اتفاق ہے کہ آنکھ میں سرمہ اور دوا ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ ان تین حضرات کی رائے یہ ہے کہ سیال چیز ڈالنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے‘ البتہ جامد جیسے سرمہ ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔
انجکشن وریدی ہو یا عضلاتی مفسد ِصوم نہیں ہے‘ البتہ بلا ضرورت طاقت اور غذا کے لیے انجکشن لگانا حکمت صوم کے خلاف ہے۔ (اس رائے سے کسی نے اختلاف نہیں کیا۔) ‘‘
اب ہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان دو مسائل کا جائزہ لینےکی کوشش کرتے ہیں۔
آنکھ میں دوا ڈالنا
آنکھ کےبارے میں یہ بدیہی حقیقت انسان کے ذاتی مشاہدے میں ہمیشہ سے رہی ہے کہ آنکھ میں ڈالی گئی سیال چیز کا ذائقہ منہ میں محسوس ہوتا ہے۔ یہی علم یقیناً خود رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی تھا‘ اور یہ آپ ﷺ سے آنکھ میں سرمہ ڈالنےسے روزہ ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کے سوال سے بھی ظاہرہوتا ہے۔ آنکھ میں دوا ڈالنے پر روزہ نہ ٹوٹنے کا فتویٰ دراصل رسول اللہ ﷺ کی درج ذیل احادیث پر ہے ۔
(۱) سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق روایت ہے کہ وہ روزے کی حالت میں سرمہ لگایا کرتے تھے ۔ (ابو داؤد: ۲۳۷۸) اسے شیخ البانی رحمہ اللہ نے حسن موقوف قرار دیا ہے۔
جناب اعمش رحمہ اللہ ( یہ صغارِ تابعین میں سے ہیں) کہتے ہیں: مَیں نے اپنے اہل علم دوستوں ( فقہاء و محدثین) میں سے کسی کو نہیں پایا کہ روزے دار کے لیے سرمے کو مکروہ سمجھتے ہوں۔ اور ابراہیم نخعی ؒاجازت دیتے تھے کہ روزے دار ایلوا کو بطور سرمہ استعمال کرے۔ (تشریح: روزے کی حالت میں آنکھ میں سرمہ لگانا یا دوا ڈال لینا جائز ہے۔ ابو داؤد: ۲۳۷۹)
(۲) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے روزے کی حالت میں سرمہ لگایا۔ (ابن ماجہ: ۱۶۷۸) اس حدیث کو کئی محققین نے صحیح قرار دیا ہے۔
اس سلسلے میں اختلافی رائے رکھنے والے بعض حضرات عبدالرحمٰن بن نعمانؒ (راوی) کی مندرجہ ذیل حدیث کا حوالہ دیتے ہیں‘ جس میں سرمہ کو مفسد ِصوم کہا گیا ہے۔
(۳) عبدالرحمٰن بن نعمان ؒسے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے حکم دیا کہ سوتے وقت کستوری ملا سرمہ استعمال کیا جائے۔ اور فرمایا: ’’روزہ دار اس سے پرہیز کرے۔‘‘
لیکن امام ابوداؤدؒ نے اس حدیث کو منکر قرار دیا ہے۔ (ابو داؤد: ۲۳۷۷)
اس لیے عمومی رائے یہی ہے کہ آنکھ میں سرمہ یا دوا ڈالنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اس کا اصولی تعلق منفذ کے ہونے یا نہ ہونے سے نہیں ہے۔ دورِ رسالت میں بھی لوگ اس حقیقت سے آگا ہ تھے کہ آنکھ سے کوئی چیز حلق میں پہنچ سکتی ہے اور اس کے باوجودرسول اللہ ﷺ نے روزے میں سرمہ کے استعمال کی اجازت دی۔ پس یہ آنکھ میں دوا کو مفسد ِصوم نہ سمجھنے والوں کے لیے قوی دلیل ہے۔ احناف کے نزدیک یہ تقریباً متفق علیہ مسئلہ ہے۔
البتہ بعد کے فقہاء نے اس بات پر ضرور بحث کی ہے کہ آنکھ اور منہ کے درمیان باقاعدہ نالی (duct) ہے یا یہ تعلق مساموں (pores) کی صورت میں ہے ۔ جدید علم طب سے یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ یہ ایک باقاعدہ نالی (lacrimal duct) کی شکل میں ہے۔ (اس کی تفصیل راقم کی کتاب ’’تشریح الابدان‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔)
جو حضرات مفسد ِصوم ہونے کے یے سرمہ (ٹھوس) اور مائع دوا میں فرق کرتے ہیں ان کی رائے یہ ہے کہ سرمہ تو اس نالی کے ذریعے حلق میں داخل نہیں ہوتا لیکن مائع دوائی فوراً حلق میں پہنچ جاتی ہے اور پھر اس سے معدے میں بھی پہنچ جاتی ہے‘ اس لیے یہ مفسد ِصوم ہوئی۔ جامعہ دار الاسلامیہ کے ایک فتویٰ میں بھی اس کا ذکر ہے‘ اگرچہ ان کا فتویٰ آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ فاسد نہ ہونے پر ہے۔
آنکھ میں دوا ڈالنے سے روزہ نہ ٹوٹنے پر ائمہ متبوعین میں سے امام مالکؒ کے علاوہ باقی ائمہ ثلاثہ کا اتفاق ہے۔ امام مالک اور امام احمد رحمہما اللہ سے سرمے کا ذائقہ منہ میں محسوس ہونے کی صورت میں روزے کے دوران سرمہ لگانے کی کراہت منقول ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ امام مالک رحمہ اللہ سے بلاعذر مَردوں کے لیے سرمہ لگانے کی مطلقاً (خواہ رمضان ہو یا نہیں) کراہت بھی منقول ہے۔ (فتویٰ نمبر: 144008200800 جامعہ دارالعلوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی)
مشہور حنفی عالم مفتی منیب الرحمٰن صاحب نے اس معاملے میں بڑی صائب رائے کا اظہار کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
’’ہماری تحقیق کے مطابق آنکھ میں دواڈالنے یا کسی بھی قسم کا انجکشن لگانے سے روزہ فاسد ہوجاتاہے ‘بعض علماء کے نزدیک اِس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ جس مسئلے کے بارے میں قرآن وحدیث میں صریح حکم نہ ہو ‘وہ مسئلہ اجتہادی کہلاتاہے‘ اس میں لوگوں کو جس عالم پر اعتماد ہو ‘اُس کے فتوے پر عمل کریں۔‘‘ ( مضمون ’’روزے کے چند ضروری مسائل‘‘ روزنامہ دنیا‘ ۵مئی ۲۰۱۹ء)
اگر کوئی صاحب اس معاملے میں زیادہ احتیاط کرنا ہی چاہتے ہیں تو وہ دوا ڈالتے وقت اپنی آنکھ کے اندرونی حصے (ناک والی سائڈ) کو اُنگلی سے کچھ دیر کے لیے دبائے رکھیں تاکہ آنکھ کی نالی کے ذریعے سے مائع دوا حلق میں داخل نہ ہوسکے۔
روزہ اور انجکشن
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں انجکشن ایجاد نہ ہوئے تھے‘ اس لیے ہمیں دور رسالت میں اس سلسلے میں کوئی واضح ہدایت نہیں ملتی۔ البتہ انجکشن کی ایجاد اور استعمال کے بعد اس کے مفطر صوم ہونے یا نہ ہونے پر علماء کرام نے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق فیصلہ کیا۔ ان فیصلوں کی دو اصولی بنیادیں ہیں:
۱) روزے کی مقصدیت کو سامنے رکھتے ہوتے مغذی (غذا کے متبادل) اور غیر مغذی انجکشن کے بارے میں احکام کومرتّب کرنا۔
۲) اسلامی تعلیمات کے مطابق بدن کی ساخت (اناٹومی) کےمطابق ایسے راستوں کا تعین جس سے کوئی چیز انسان کے معدے میں پہنچ جائے اور جو روزہ توڑنے کا موجب بنے۔
اس میں مغذی اور غیر مغذی کی تفریق نہیں کی گئی‘ کیوں کہ اگر مٹّی یا کوئی مضر صحت چیز بھی کھا لی جائے تو اس سے بھی بالاتفاق روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
فقہاء کرام نے معتادNatural)) اور غیر معتاد (Un-natural or man-made routes) منافذ کا تعین کیا ہے۔ منافذ ِاصلی بدن کے وہ فطری راستے ہیں‘ جن کے ذریعے کوئی چیز جوف ِبطن تک پہنچتی ہے۔ البتہ ’’جوفِ بطن‘‘ کی تعریف میں فقہاء کرام میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک اس سے مراد صرف معدہ (stomach) ہے ‘جب کہ دوسرے حضرات پوری آنت (alimentary canal) کو جوف ِبطن سمجھتے ہیں اور یہی مفاسد ِصوم میں اختلاف کی وجہ بھی بنتی ہے۔ مفاسد صوم کے بارے میں معدے تک کسی چیز کے پہنچنے کو لازم قرار دینے کے لیے سورۃ البقرہ کی اس آیت کا حوالہ دیا جاتا ہے‘ جس میں روزے کا تعلق کھانے اور پینے سے ہے نہ کہ کسی اور ذریعے سے۔ ( مباشرت اس کے علاوہ ہے۔)
{وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۠ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَی الَّیْلِ ۚ }(البقرۃ:۱۸۷)
’’اور (رات کو) کھاؤ اور پیو‘ یہاں تک کہ صبح کی سفیدی (سفید ڈوری) (رات کی) سیاہی (سیاہ ڈوری) سے الگ ہو کر ظاہر ہو جائے‘ پھر رات تک روزہ کو پورا کرو۔‘‘
یعنی اس بات کی پابندی کرے کہ مقررہ وقت کے بعد کوئی چیز معدے میں داخل نہ ہو۔ اور اگر کسی نے ایسا ذریعہ اختیار کیا جس سے کوئی چیز بلا واسطہ یا بالواسطہ معدے میں داخل نہ ہو تو یہ مفطر صوم نہ ہوگا۔ اسی بنیاد پر بعض حضرات کھانے پینے اور مباشرت کے علاوہ دوسری چیزوں کو روزہ ٹوٹنے کا سبب نہیں مانتے۔
کھانے پینے کے معاملے میں کسی چیز کے مغذی (Nutritional) یا غیر مغذی (Non Nutritional) ہونے کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور دونوں ہی کے استعمال سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس پر سب کا اتفاق ہے۔ البتہ انجکشن کےمعاملے میں اختلاف ہے۔ غیرمغذی (Non Nutritional) انجکشن کے بارے میں عمومی اتفاقِ رائے یہی ہے کہ اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اسی موقف کی سعودی عرب کی اسلامی فقہ اکیڈمی کے دسویں اجلاس ۱۹۹۷ ءمنعقدہ جدّہ میں بھی تائید کی گئی ہے۔ (اردو ترجمہ: الفقہ الاسلامی والادلۃ،الاستاذ دکتور وھبۃ الزحیلی)
عبد الرحمٰن الجزیری رحمہ اللہ نے کتاب ’’الفقہ علی المذاھب الاربعۃ‘‘(اردو ترجمہ منور احسن عباسی) میں ’’مفسداتِ صوم کا بیان‘‘ میں اس اور دوسرے متعلقہ مسائل پر تفصیلی بحث کی ہے اور اس سے بھی عمومی نتیجہ یہی نکالا ہے کہ ’’انجکشن چاہے بازو پر ہو یا کولہے پر یا کسی اور جگہ پر‘ روزہ فاسد نہیں ہوتا۔‘‘
البتہ مغذی (Nutritional) انجکشن کو مفطر صوم سمجھنے میں اختلاف ہے۔ جو علماء کرام اس کو مفطر صوم سمجھتے ہیں ان کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ اس سے انسانی جسم کو غذا میسّر ہو جاتی ہے اور اس بنا پریہ روزے کے ٹوٹنے کا سبب ہے۔ لیکن دوسری رائے رکھنے والوں کے دلیل یہ ہے کہ غذائیت کو فی نفسہٖ روزہ ٹوٹنے کا سبب قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ مثلاً اگر معدے میں ایک ایسی چیز داخل ہو جائے جس کی غذائی حیثیت صفر (مثلاً مٹّی) ہو تو کیا اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا؟ اس کا مفطر صوم ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں ہےاور اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔اسی اصول کی بنیاد پر کسی چیز کا مُغذی یا غیر مُغذی ہونے کو مُفطر ہونے یا نہ ہونے کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا۔ ان کی رائے میں اسی وجہ سے کسی چیز کا مفطر صوم ہونےیا نہ ہونے کا تعلق بدن میں اس چیزکے داخلے کے راستے (منافذ) سے ہو گا۔
امام ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے اور جنسی خواہش پوری کرنےکو منع کیا۔ آنکھ‘ کان یا ناک میں دوا ڈالنا اس زمرے میں نہیں آتا اور کوئی بھی ان اَعضاء کو کھانے یا پینے کے لیے استعمال نہیں کرتا۔ ہم نے کبھی بھی نہ سنا نہ دیکھا کہ کسی نے کان‘ ناک‘ آنکھ ‘مقعد یا مرد کے آلہ تناسل کو اس مقصد (یعنی کھانے) کے لیے استعمال کیا ہو ۔‘‘
لیکن اس کے خلاف رائے رکھنے والوں کی دلیل رسول اللہﷺ کی یہ حدیث ہے جس میں آپ نے رمضان میں ناک میں بہت اندر تک پانی کھینچنے سے منع فرمایا ہے۔ حدیث میں ہے کہ ’’ناک میں پانی اندر تک کھینچ لیا کرو سوائے اس کے جب تم روزے سے ہو۔‘‘ (ترمذی‘ کتاب الصوم)
پس کسی چیز کے مفطر ہونے یا نہ ہونے کے لیے درج ذیل اصول پیش نظر رکھنا بہتر ہوگا۔
۱) کسی چیز کا جوف معدہ (بطن) میں داخل ہونا۔
۲) چیز کا معتاد راستوں (منافذاصلی۔Natural orifices) سے داخل ہونا۔
۳) چیز کا منفذ اصلی کے ذریعے اس طرح داخل ہونا کہ وہ معدہ میں رہ جائے۔
اگلا سوال یہ ہے کہ کیا کسی چیز کے معدے میں داخل ہونے کے لیے نیت یا اردے کا دخل بھی ہوگا؟
کسی چیز کا ارادتاً بدن میں اس طرح داخل کرنا کہ وہ معدے تک پہنچ جائے روزے کے فاسدہونے کا یقینی سبب ہے۔ لیکن بلا اختیاریا بلا ارادہ کسی چیز کے معدے میں داخل ہونے کی صورت مختلف ہوگی اور اس میں ارادے اور اختیا ر کے درجے (حد) کا خیال رکھا جائے گا۔ مثلاً مکھی اگر بلا اختیار و ارادہ مُنہ میں داخل ہو گئی اور حلق سے نیچے اتر گئی (نگل لی گئی ) تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا‘ کیونکہ یہ پورے کا پورا عمل غیر اختیاری ہے۔لیکن وضو کرتے وقت پانی منہ میں ڈالا اور غلطی سے حلق سے نیچے چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ یہاں پانی منہ میں ڈالنا اختیاری ہے اور اس کا حلق سے نیچے اترنا غیر اختیاری۔ اسی طرح قے کے بارے میں اکثریتی موقف یہی ہےکہ کسی کو بلا ارادہ قے (اگرچہ منہ بھر بھی ہو) آئی اور منہ سے ہی خود بخود واپس لوٹ گئی تو روزہ نہیں ٹوٹے گا‘ لیکن اگر قصداً قے کی یا قصداً لوٹائی تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اس سے نیت اور ارداے کی اپنی اہمیت بھی ثابت ہوتی ہے اور یہ کہ نیت کا بھی کسی چیز کے مفطر ہونے یا نہ ہونے سےتعلق ہے۔ جس چیز کا کھا لینا نہ مقصود ہے نہ اس سے بچنا ممکن ہے اس کے بلا ارداہ نگلنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ اسی وجہ سے دو چار قطرے آنسو یا چہرے کا پسینہ یا کلّی کے بعد لعاب ِدہن کے ساتھ پانی کی نمی نگلنے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
اسی طرح ہوا میں موجود دھواں یا گردو غبار سانس لیتے وقت بلا اختیار اندر داخل ہو جائے اور اس کا ذائقہ محسوس بھی ہو تب بھی روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ یہی صورت چکّی یا مشین کے غبار کی بھی ہے۔ لیکن اگر سگریٹ کا دھواں ارادتاً حلق میں داخل کیا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا‘ لیکن قریب ہی کھڑے شخص کی سانس کے ساتھ سگریٹ کا یہی دھواں اندر چلا جائے تو یہ اس کے روزے کے فاسد ہونے کا سبب نہیں بنتا۔
کیا کسی چیز کاصرف منفذ اصلی میں داخل ہونا ہی مفسد صوم ہے؟
کسی چیز کا صرف منفذاصلی میں داخل ہونا ہی کافی نہیں‘ بلکہ اس کا جوفِ معدہ تک پہنچنا بھی ضروری ہے۔ مثلاً اگر کوئی چیز (مثلاً سکہ) منہ میں ڈالی گئی اسے چوسا بھی اور پھر اسے باہر نکال لیا گیا تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ لیکن اگر اس پر کوئی ایسا مادّہ لگا تھا (مثلاً مٹھاس) جو اصل چیز (سکہ) نکالنے کے بعد منہ میں رہ جائے اور نتیجتاً ( مٹھاس) معدے تک پہنچ جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اسی لیے اگر میٹھی گولی وغیرہ منہ میں ڈالی اور چوسی گئی تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا‘کیونکہ اس طرح کچھ نہ کچھ مٹھاس لعابِ دہن میں شامل ہوکر حلق کے ذریعے معدہ میں پہنچ جاتی ہے۔
انجکشن کے بارے میں عصر حاضر کے مشہور فقیہ ‘سعودی عرب کے شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے ایک سوال کے جواب میں فرمایا:
’’اس (انجکشن لگانے والے) کا روزہ صحیح ہے‘ اس لیے کہ رگ میں انجکشن لگانا کھانا پینا تو نہیں ‘ اوراسی طرح عضلات میں لگائے جانے والے ٹیکے بھی بالاولیٰ صحیح ہیں ‘ لیکن اگر احتیاط کرتے ہوئے روزہ کی قضا میں روزہ رکھے تویہ بہتر اور اچھا ہے ‘ اورجب ضرورت محسوس ہو ایسے ٹیکے رات میں لگانے زيادہ بہتر اوراحسن ہیں اوراحتیاط بھی اسی میں ہے تا کہ اس مسئلہ میں اختلاف سے بچا جاسکے۔‘‘ ( مجموع الفتاویٰ:۲۵۷/۱۵)
یعنی بدن کوفائدہ نہ دینے والےغیر مغذی انجکشن کی مفطر صوم نہ ہونے کی بنیاد انجکشن کے بدن میں داخل ہونے کا راستہ (منفذ) ہے کہ یہ منافذ ِ اصلیہ میں سے نہیں ہے۔ لیکن مُغذی انجکشن میں اس اصول کو چھوڑ کر اس کو ’’غذا کے نعم البدل‘‘ کے طور پر استعمال کی وجہ کو مفطر صوم ہونے کا سبب بیان کیا گیا۔
دارالعلوم دیوبند کے فتویٰ میں ہےکہ ’’بیمار کو گلوکوز ڈرپ لگاسکتے ہیں‘ البتہ بلاضرورت طاقت کا گلوکوز لگوانا مناسب نہیں‘ یہ مقصد ِروزہ کے خلاف ہے۔( دار الافتاء دارالعلوم دیو بند۔ فتویٰ: 1292-882/L=11/1434-U)
’’تفہیم المسائل‘‘ میں مولانا گوہر رحمٰن رحمہ اللہ نے انجکشن سے روزہ ٹوٹنے کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’مولانا مودودی رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ انجکشن سے روزہ ٹوٹتا ہے‘ لیکن میری رائے میں علماء ِدیوبند کا فتویٰ درست ہے۔‘‘ (تفہیم المسائل ‘جلد اول) مولانا خالد سیف اللہ رحمہ اللہ نے بھی انجکشن کے مفسد ِصوم نہ ہونے کی رائے سے اتفاق کیا ہے۔ (جدید فقہی مسائل)
غسل یا جسم پر تیل کی مالش کو بالاتفاق روزہ نہ ٹوٹنے کا سبب قرار دیا گیا ہے‘ اگرچہ دونوں صورتوں میں مساموں کے ذریعے پانی یا تیل کا کچھ نہ کچھ حصّہ بدن میں داخل ہو جاتا ہے۔لیکن مساموں کے منافذ ِاصلی (Natural orifices) نہ ہونے کے سبب یہ مفسد ِصوم میں شمار نہیں ہوتا۔ یہی صورت جلد پر ایسی دوا لگانے کی صورت میں بھی ہے جس کا مقصد ہی جلد کے ذریعے دوا کو بدن میں داخل کرنا ہوتا ہے‘ لیکن اس کو مفاسد ِصوم میں شمار نہیں کیا جاتا۔ انجکشن کو مفطر صوم نہ سمجھنے کی بنیاد بھی منافذ ِاصلی سے اس کا معدے میں داخل نہ ہونا ہے۔
روزے کی مقصدیت
ایک اورمتعلقہ بحث روزے کی مقصدیت بھی ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر مغذی انجکشن (ڈرپ اور طاقت کا انجکشن وغیرہ) روزہ کے بنیادی مقصد ہی کے خلاف ہے تو پھر اس کو مفسد ِصوم ہی ماننا چاہیے۔ لیکن اس معاملے میں ہمیں فتویٰ اور تقویٰ کے بنیادی فرق کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ ایک ہے کسی کام کی قانونی حیثیت کے بارے میں رائے (فتویٰ) جبکہ دوسرا اس کام سے متعلقہ مقاصد کے حصول کے بارے میں کام کا معیار اور اس کی نوعیت (تقویٰ) ہے۔ اس کی تشریح میں قرآن و حدیث سے دو امثال پیش خدمت ہیں۔
قرآن حکیم میں نماز کے بارے میں فرمایا گیا: {اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْہیٰ عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِط} (العنکبوت:۴۵)’’بیشک نماز بے حیائی اوربرے کاموں سے روکتی ہے۔‘‘ تو کیا جو لوگ نماز پڑھنے کے باوجود بُرے کام کرتے ہیں اُن کی نماز نہیں ہوتی؟ اس میں کسی کو اختلاف نہیں کہ اُن کی نماز قانونی طور پر تو ادا ہو گئی‘ لیکن جس معیا ر کی نماز اللہ چاہتا ہے جس سے وہ فحش اور برے کام سے رُک جائیں‘ یہ ویسی نماز نہیں ہے اور اس میں بہتری کی ضرورت ہے۔
روزے کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس شخص نے روزے کی حالت میں بےہودہ باتیں (مثلاً: غیبت ‘ بہتان ‘ تہمت ‘ گالی گلوچ‘ لعن طعن ‘ غلط بیانی وغیرہ) اور گناہ کا کام نہیں چھوڑا‘ تو اللہ تعالیٰ کو کچھ حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔‘‘ ( صحیح بخاری)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے ایک اور حدیث مروی ہے کہ ’’کتنے ہی روزہ دار ہیں کہ ان کو اپنے روزے سے سوائے بھوک پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا (کیونکہ وہ روزے میں بھی بدگوئی‘ بدنظری اور بدعملی نہیں چھوڑتے) اور کتنے ہی رات کے تہجد میں قیام کرنے والے ہیں جن کو اپنے قیام سے ماسوا جاگنے کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ (دارمی ‘ مشکوٰۃ)
ان احادیث سے بظاہر یوں لگتا ہے کہ جو لوگ یہ گناہ کرتے ہیں‘ ان کا روزہ نہیں ہوا۔ لیکن علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ قانونی طور پر ان لوگوں کا روزہ ہو جاتا ہے اور ان پرکوئی قضا یا کفّارہ نہیں ہے۔ البتہ شاید ایسے روزے سے ان لوگوں کو روزے کے بنیادی مقصد یعنی تقویٰ کے حصول میں کوئی مدد نہ ملے‘ کیوں کہ انہوں نےروزے کی روح (حصولِ تقویٰ) کے خلاف حرکتیں کیں۔ اور شاید یہی صورت روزے پر اجر کی بھی ہو۔ واللہ اعلم!
بعینہ یہی صورت ان حضرات کی بھی ہے جو روزے کی عمومی تکلیف کو کم کرنے کے لیے ڈرپ یا رگ میں غذائی مواد کا استعمال کریں۔ ان کے اس فعل کو مفسد ِصوم تو نہیں قرار دیا جاسکتا لیکن یہ روزے کی روح کے خلاف ہے اور اس روزے سے وہ مقصد اور تقویٰ حاصل نہ ہو گا جو مطلوب ہے۔
علماء میں ایسا ہی اختلافِ رائے پچھنے یاسینگی لگانے (حجامہ) میں بھی ہے۔ علّامہ سید محمد بن اسماعیل الصنعانی ؒنے اپنی کتاب ’’سبل السلام‘‘ میں اس پر تفصیلی بحث کی ہے۔ (سبل السلام حصّہ دوم ‘مترجم عبد الرحمٰن کیلانی‘ طابع: شریعہ اکیڈمی‘ اسلام آباد )
یہی صورت بیماری کی تعیین میں بھی ہے۔ ’’بدایۃ المجتہد‘‘ میں ہے:
’’اس بیماری کی تعیین کے سلسلے میں جس میں مریض کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے‘ علماء میں اختلاف ہے۔ ایک گروہ کی رائےیہ ہے کہ اس سے مراد ہروہ بیماری ہے جس میں روزہ رکھنے سے نقصان اور ضرر کا اندیشہ ہو۔ یہ امام مالکؒ کا قول ہے۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ اس سے مراد وہ بیماری ہے جو غالب ہو۔ یہ امام احمدؒ کا قول ہے۔ تیسرا گروہ کہتا ہے کہ جب لفظ مریض کا اطلاق ہو جائے تو وہ روزہ توڑ سکتاہے۔
اسی طرح سفر میں روزہ رکھنا افضل ہے یا نہ رکھنا۔ اس میں علماء کے تین اقوال ہیں۔ امام مالکؒ اور امام ابو حنیفہؒ روزہ رکھنا افضل سمجھتے ہیں جب کہ امام احمدؒ نہ رکھنا۔ اور بعض لوگ تخییر (پسند کے مطابق ایک یا دوسری چیز کا انتخاب یا ترجیح) کے قائل ہیں اور کسی ایک کو افضل نہیں سمجھتے۔‘‘ (بدایۃ المجتہدو نہایۃ المقتصد لابن رشد‘ ترجمہ ڈاکٹر عبید اللہ فراحی)
ان مثالوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فقہی معاملات میں آپس کا اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ ہی صرف کسی ایک رائے کو ٹھیک ماننا اور باقی کو یکسر مسترد کرنا احسن طریقہ ہے۔ ہر فقیہ اپنی فہم کے مطابق قرآن و سُنّت سے استدلال کی بنیاد پر اجتہاد کرکے اپنی رائے قائم کرتاہے اور اگر غلطی بھی کر جائے تو بھی ایک اجر کا مستحق ٹھہرتا ہے۔نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے؛
((إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا حَكَمَ فَأَخْطَأَ فَلَهُ أَجْرٌ وَاحِدٌ))(متفق علیہ)
’’جب کوئی حاکم فیصلہ کرتا ہے اور اجتہاد کرتا ہے پھر صواب کو پہنچتا ہے تو اُس کے لیے دوہرا اجر ہے‘ اور اگر فیصلہ کرتا ہے اور خطا کرجاتاہے تو اُس کے لیے ایک اجر ہے۔‘‘
ان تمام گزارشات کا مقصد اس مسئلہ (یعنی انجکشن کو مفطر صوم ماننا یا نہ ماننا) کے بارے میں فقہاء کی مختلف آراء کو بیان کرنا ہے اور ساتھ ہی اس کوزیادہ قوی دلائل کی بنیاد پر مفطر صوم نہ سمجھنا ہے۔ لیکن اس سے قطعاً یہ ثابت کرنا مقصود نہیں کہ جو لوگ انجکشن (خاص کرمُغذی) کو مفطر صوم سمجھتے ہیں ان کی دلیلیں بودی ہیں یا کوئی وزن نہیں رکھتیں۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اختلافی فقہی مسائل کو دین کا بنیادی مسئلہ بنائے بغیر اعتدال پر قائم رہا جائے۔ ترجیحات کے لحاظ سے دین‘ شریعت ‘ مذہب (مسلک) اور ’’ذوق‘‘ (سُنّت عادیہ/ زائدہ) کو ا پنے اپنے مقام پر رکھا جائے۔ ہم جیسے لوگوں کے لیے بہتر بلکہ ضروری ہے کہ علماء کرام ہی کی کسی رائے (فتویٰ) پر عمل کریں اور اپنی رائے قائم نہ کریں‘ اِلا یہ کہ علماء کرام سے اس کی تصدیق کروا لیں۔ مخالف رائے رکھنے والے علماء کے فتاویٰ کو مذموم نہ سمجھا جائے ۔ اپنی رائے پر بے جا شدّت کا اظہار نہ کیا جائے اور نہ ہی دوسروں کی رائے کا یکسر انکار کر کے اس کی سختی سے مخالفت کی جائے۔ اختلاف (difference of opinion) اور مخالفت (opposition) میں فرق کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھا جائے تاکہ اُمّت میں توڑ کی بجائے جوڑ پیدا ہو اور تفرقہ بازی سے بچا جاسکے۔
نوٹ: راقم مضمون پر نظر ثانی کے لیے جامعہ عثمانیہ کے مفتی محمد یحییٰ صاحب کا شکر گزار ہے۔