(انوار ھدایت) رحمت ِحق کی ارزانی - پروفیسر محمد یونس جنجوعہ

12 /

رحمت ِحق کی ارزانیپروفیسر محمد یونس جنجوعہ

اللہ تعالیٰ کی ذات بے مثل اور بے مثال ہے ۔ اس کی لاتعداد صفات ہیں اور ہر صفت بے مثال ہے۔ اللہ تعالیٰ کائنات کا خالق ہے اور مخلوق کا ہر فرد اُس کا بندہ ہے۔ خالق ِکائنات ایک وقت ِمعیّن پر اس کو موت دے کر اس کے عرصہ حیات کو ختم کر دیتا ہے۔ پوری کائنات بھی ایک دن فنا ہو جائے گی‘ اُس کو قیامت کا دن کہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کی طرح صفت ِرحمت بھی بے پایاں ہے۔ اُس کی رحمت سے کوئی بھی بے نیاز نہیں۔ اُس کی رحمت کا مظاہرہ ہر سو موجود ہے اور نظر آ رہا ہے ۔ اس کے کئی کام ایسے ہیں جن کا وقوع انسانی سمجھ سے بالاتر ہے‘ تاہم اُس کا کوئی کام رحمت اور حکمت سے خالی نہیں۔ یہ بات ذرا سے غور و فکر کرنے سے کسی حد تک سمجھی جا سکتی ہے۔ وہ عقل ِکل ہے‘ اُس کا کوئی کام بے فائدہ نہیں۔ قرآن مجید میں’’اولوالالباب ‘‘ کی دعا کے الفاظ نقل ہوئے ہیں: {رَبَّنَامَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا} (آل عمران:۱۹۱) ’’پروردگار! تو نے یہ سب بیکار پیدا نہیں کیا۔‘‘
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر رحم کر کے خوش ہوتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ؎
من نکردم خلق تا سودے کنم
بلکہ تا بربندگاں جودے کنم
’’میں نے مخلوق کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ اس کا مجھے فائدہ ہو‘ بلکہ مَیں نے مخلوق کو اس لیے پیدا کیا تاکہ بندوں پر رحم کروں۔‘‘
انسان کمزور پیدا کیاگیا ہے‘ اس سے گناہ کا صدور ہو جاتا ہے‘ مگر جب وہ گناہ کے بعد پچھتاتا اور مغفرت کا طالب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا گناہ بخش دیتا ہے۔ارشاد ہوا:
{قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللہِ ط اِنَّ اللہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاط اِنَّہٗ ہُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ(۵۳)} (الزمر)
’’(اے نبی ﷺ!)کہہ دیجیے:اے میرے بندو جنہوں نے زیادتی کی ہے اپنی جانوں پر‘ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بے شک اللہ بخشتا ہے سب گناہ۔ وہ جوہے وہی ہے گناہ معاف کرنے والا۔ ‘‘
مفسر قرآن مولانا شبیر احمد عثمانی ؒلکھتے ہیں: ’’یہ آیت ارحم الراحمین کی رحمت بے پایاں اور عفوودرگزرکی شانِ عظیم کا اعلان کرتی ہے اور سخت سے سخت مایوس العلاج گناہگاروں کے حق میں اکسیر کا حکم رکھتی ہے‘‘۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں:’’ مجھے ساری دنیا اور اس کی ہر چیز کے ملنے سے اتنی خوشی نہ ہوتی جتنی اس آیت کے نازل ہونے سے ہوئی ہے‘‘۔ (مسند احمد)
چونکہ اللہ تعالیٰ مائل بہ کرم ہے اس لیے بندوں کے کچھ گناہ تو ویسے ہی معاف کر دیتا ہے۔ سورۃ الشوریٰ میں فرمایا :{وَمَا اَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ(۳۰)} ’’اور جو پڑے تم پر کوئی مصیبت سو وہ بدلہ ہے اس کا جو کمایا تمہارے ہاتھوں نے اور معاف کرتا ہے بہت سے گناہ۔ ‘‘گویا اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی رحمت سے بہت سے گناہوں سے درگزر فرماتا ہے۔ اگر ہر جرم پر گرفت ہوتی تو زمین پر کوئی متنفس بھی زندہ نہ رہتا۔
جس طرح اللہ تعالیٰ کی ہر صفت بے انتہا ہے‘اس طرح اس کی رحمت لامحدود ہے۔ ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ کہتا ہے: جو ایک نیکی کرے گا اسے دس گنا ملے گا اور مَیں اس پر بھی اضافہ کروں گا‘ اور جو برائی کرے گا اس کو صرف ایک برائی کا بدلہ ملے گا اور امکان یہ بھی ہے کہ مَیں اسے معاف کر دوں۔ جو میری طرف ایک بالشت قریب آئے گا مَیں اُس کی طرف ایک ہاتھ قریب آئوں گا‘ اور جو مجھ سے ایک ہاتھ قریب ہوگا مَیں اس کے دو ہاتھ قریب آئوں گا‘ اور جو میری طرف چل کر آئے گا مَیں اُس کی طرف دوڑتا ہوا آئوں گا‘ اور جو مجھ سے زمین کے برابر گناہ کر کے ملے گا مَیں اُس سے اتنی ہی بڑی مغفرت لے کر ملوں گا‘ بشرطیکہ اُس نے میرا کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو۔‘‘ (مسلم)
گویا جو شخص شرک کے گناہ سے بچا رہا‘ نہ صرف اُس کی نیکیوں کو کئی گنا بڑھا دیا جائے گا بلکہ اس کے گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا۔ اس سے گناہ صادر ہو گا اور وہ خالق حقیقی سے استغفار کرے گا تو اُس کاگناہ بخش دیا جائے گا۔
سنن الترمذی میں وارد حدیث قدسی کے الفاظ یہ ہیں:
’’ اے ابن آدم! جب تک تُو مجھے پکارتا رہے گا اور مجھ سے امید لگائے رکھے گا مَیں تجھے بخشتا رہوں گا‘ خواہ تیرے عمل کیسے بھی ہوں اورمَیں بے نیاز ہوں۔ اے ابن آدم! اگر تیرے گناہوں کا ڈھیرآسمان تک پہنچ جائے پھر تُو مجھ سے معافی مانگنا چاہے تو مَیں تیرے پاس اتنی ہی مغفرت لے کر آئوں گا بشرطیکہ تُو نے کسی کو میرا شریک نہ ٹھہرایا ہو‘ اور مَیں بے نیاز ہوں۔ اے ابن آدم! اگر تُو زمین کے برابر خطائوں کا بوجھ لے کر میرے پاس آئے اور مجھ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ تُونے شرک نہ کیا ہو تو مَیں اس کے برابر تیرے پاس مغفرت لے کرآئوں گا ۔‘‘
شرک کا گناہ ناقابلِ بخشش ہے‘ چنانچہ شرکیہ کاموں سے کوسوں دور بھاگنا چاہیے ۔ چونکہ شیطان کو کسی کی بخشش نہیں بھاتی اس لیے وہ انسان کو شرکیہ کاموں کی طرف مائل کرتا ہے۔ وہ تو ’’الغَرور‘‘ یعنی بہت بُرا دھوکے باز ہے‘ وہ طرح طرح سے انسان کو سبز باغ دکھاتا ہے۔ اللہ سے مانگنے کی بجائے قبروںوالوں سے مانگنے پر آمادہ کرتا ہے جو شرکیہ کام ہے۔
متذکرہ بالا حدیث میں صاف بتایا گیا ہے کہ شرک سے بچ کر زندگی گزارنے والا اللہ سے معافی چاہے گا تو وہ اس کی توقع سے بڑھ کر معاف کرے گا۔ اگر اس کے گناہ زمین بھر بھی ہوں گے تو وہ بخش دے گا۔ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے‘ اس سے گناہ تو صادر ہوں گے‘ مگر ربّ رحیم خوش خبری سناتا ہے کہ وہ سب گناہوں کو(سوائے شرک) بخش دیتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بندے نے گناہ کیا اور کہا: اے اللہ میرا گناہ بخش دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا اور اتنا سمجھا کہ اس کا کوئی پروردگار بھی ہے جو گناہ بخشتا ہے اور اس پر مواخذہ کرتا ہے۔ اس کی کچھ مدت بعد پھر گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اے رب میرا گناہ بخش دے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کیا اور اتنا سمجھا کہ اس کا کوئی پروردگار ہے جو گناہ بخشتا اور اس پر مواخذہ کرتا ہے۔ پھر کچھ مدّت بعد وہ بندہ گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے اے ربّ میرا گناہ بخش دے۔ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے گناہ کیا اور یہ سمجھا کہ اس کا کوئی پروردگار ہے جو گناہ بخشتا اور اس پر گرفت کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’ (اگر تیری انابت کا یہی طور ہے) تو اب جو چاہے کر‘ مَیںنے تجھے بخش دیا۔‘‘ (صحیحین)
اس بندے نے گناہ کیا‘ پھر صدقِ دل سے اللہ تعالیٰ کو گناہ بخشنے والا سمجھا اور بخشش مانگی تو اللہ تعالیٰ نے اس کا گناہ معاف کر دیا۔ بندے سے پھر گناہ ہو گیا تو اُس نے پھر بخشش چاہی۔ اس سے پھر گناہ ہو گیا اور اس نے پھر بخشش چاہی تو اللہ تعالیٰ نے اس کاگناہ بخش دیا اور فرمایا: تُو جو چاہے کر مَیں نے تجھے بخش دیا ۔یعنی تُو بندہ ہے‘ بتقاضائے بشریت گناہ تو تجھ سے ہوں گے لیکن اگر تمہارا یہی رویّہ رہا کہ گناہ پر پچھتاتا رہا ‘ توبہ کرتا رہا تو تیرا گناہ بخشا جاتا رہے گا۔
کسی نے سچ کہا ہے ؎
ایں درگہ ما درگہ نوامیدی نیست
صد بار اگر توبہ شکستی باز آ!
یعنی ہمارا دربار ناامیدی والا دربار نہیں‘ اگرتُو سینکڑوں بار بھی توبہ توڑے تو ناامید نہ ہو‘بلکہ بخشش کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر‘ وہ تیرے گناہ معاف کر دے گا۔
اللہ تعالیٰ کا بندہ جب گناہ کے بعد سچے دل سے توبہ کرتا اور بخشش مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ خوش ہوتا ہے۔حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تم سے پہلی اُمتوں میں ایک شخص تھا‘ اُس نے ننانوے قتل کیے تھے۔ اُس نے اپنے شہر کے سب سے بڑے عالم کا دریافت کیا تو اسے ایک درویش کا پتا بتایا گیا۔ وہ اُس کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہاکہ اُس نے ننانوے قتل کیے ہیں‘ کیا اب بھی اس کے لیے توبہ کی کوئی صورت ہے؟ اس نے جواب دیا:نہیں! اُس نے اسے بھی قتل کر ڈالا اور پورے سو کر دیے۔اُس نے پھر کسی بڑے عالم کا دریافت کیاتو اُسے کسی اور عالم کا بتایا گیا۔ وہ اس کے پاس پہنچااور کہا کہ اس نے سو آدمیوں کو قتل کیا ہے‘ کیااُس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ اُس عالم نے کہا:اُس کے اور اس کی توبہ کے درمیان بھلا کون حائل ہو سکتا ہے! فلاں فلاں بستی میں چلا جا‘جہاں اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بندے رہتے ہیں‘ تُو بھی ان کے ساتھ عبادت کر اور اپنے وطن کی طرف واپس مت لوٹ کہ وہ معصیت کی زمین ہے۔ وہ چل پڑا۔ جب نصف راستے پر پہنچا تو اُس کو موت آگئی۔ یہاں عذاب اور رحمت کے فرشتوں میں حُجّت ہونے لگی۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا یہ توبہ کر کے دلی توجّہ سے خدا کی طرف آرہا تھا ‘ جبکہ عذاب کے فرشتوں نے کہا:اس نے اپنی گزشتہ زندگی میں کبھی کوئی نیک کام کیا ہی نہیں تھا۔ اسی دوران ان کے پاس انسانی صورت میں ایک فرشتہ آیا۔ انہوں نے اس کو اپنا منصف بنا لیا۔ اس نے کہا: دونوں اطراف کا فاصلہ ناپو‘ جس طرف وہ زیادہ قریب نکلے ادھر ہی کا سمجھا جائے۔زمین کو ناپا گیا تو وہ نیکوں کی بستی سے نسبتاً ایک بالشت قریب تھا۔ اس لیے رحمت کے فرشتوں نے اسے قبض کر لیا (صحیحین)۔کہتے ہیں کہ جب فرشتوں نے زمین کی پیمائش شروع کی تو زمین کو حکم ہوا کہ جس طرف اس بندے کا رخ تھا اس طرف ذرا قریب ہو جائے اور جس طرف اس کی پشت تھی اس طرف سے ذرا بعید ہو جائے۔ جب انہوں نے پیمائش کی تو جس جانب اس کا رخ تھا ادھر ایک بالشت زمین کم نکلی۔ گویا اللہ تعالیٰ کی رحمت نے اسے بخش دیا۔
ا س واقعے سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ عدل و فضل کی باگ ڈور صرف اللہ تعالیٰ کے دست ِ قدرت میں ہے ۔ اس لیے صفت ِعدل پر نظر کرکے مایوسی یا اُس کے فضل پر بھروسا کر کے بے خوفی دونوں راہِ صواب نہیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے :{ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَعَمًا }(السجدۃ:۱۶) ’’وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں خوف اور امید کے ساتھ‘‘۔اپنے رب کو اس طرح پکارنا چاہیے کہ قہر کا خوف اور اس کی رحمت کی طمع ہر وقت لگی رہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:’’اللہ تعالیٰ نے رحمت کے سو حصے کیے‘ننانوے حصے اپنے پاس محفوظ رکھے اور صرف ایک حصّہ زمین والوں کو بخش دیا۔ یہی ایک حصّہ ہے جس سے مخلوق باہم ایک دوسرے کے ساتھ رحمت کا معاملہ کرتی ہے۔ یہاں تک کہ جانور اپنا پائوں اپنے بچے سے ہٹا لیتا ہے اس خوف سے کہ کہیں اس پر جا نہ پڑے۔ (صحیحین)اللہ تعالیٰ کی رحمت لامحدود ہے اور لامحدود شے کے حصے نہیں کیے جا سکتے۔ یہ تمثیلی انداز بندوں کو یہ سمجھانے کے لیے ہے کہ اہل زمین کو عطا کردہ تھوڑی سی رحمت کا یہ اثر ہے کہ جانوروں اور انسانوں کا اپنے بچوں کے ساتھ کس قدر پیار ہے ۔ جو بے حد و حساب رحمت اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھی ہے اس کا اظہار وہ قیامت کے دن کرے گا اور گناہگار انسانوں کے گناہ بخشے گا جن کے لیے وہ چاہے گا۔
اللہ تعالیٰ کو یہ ناپسند ہے کہ کوئی شخص اُس کی رحمت کو محدود سمجھے۔ اس کی ہر صفت کی طرح اس کی رحمت کی بھی کوئی حد نہیں۔ وہ کسی کی مرتے مرتے بھی توبہ قبول کر لے تو یہ بعید نہیں۔ احادیث میں کتنے ہی ایسے لوگوں کا ذکر ملتا ہے کہ ان کی زندگی سالہا سال تک معصیت میں گزری مگر موت سے ذرا قبل انہوں نے توبہ کر کے اصلاح کر لی تو ان کے گناہ بخش دیے گئے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ مَیں نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سات مرتبہ سے زیادہ سنی ہے ۔ آپﷺ فرماتے تھے کہ کفل بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا۔ یہ کسی گناہ سے پرہیز نہ رکھتا تھا۔ ایک مرتبہ ایک مجبور عورت اس کے پاس آئی‘ اُس نے ساٹھ دینار اسے اس شرط پر دیے کہ اس سے زنا کرے۔ جب وہ مباشرت کی غرض سے اُس کے اوپر بیٹھ گیاتو وہ کانپ اٹھی اور روپڑی۔ اس نے پوچھا:کیوں روتی ہے؟ کیا مَیں نے تجھے کچھ مجبور کیا ہے؟ وہ بولی:نہیں! لیکن یہ کام مَیں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں کیا ‘اب صرف اپنی ضرورت سے مجبور ہو کرکرنا پڑرہا ہے۔ اس نے کہا: اچھا کبھی تُو نے یہ کام نہیں کیا اور اب مجبوراً کررہی ہے۔ جا یہ دینار میں نے تجھے یونہی بخشے اور قسم کھائی کہ آج کے بعد کبھی خدا تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کروں گا ۔ اتفاق ایسا ہوا کہ اسی شب اس کا انتقال ہو گیا۔ صبح کو اس کے دروازے پر یہ نوشتہ ملا کہ اللہ تعالیٰ نے کفل کو بخش دیا۔(ترجمان السنہ‘ ج۱ بحوالہ ترمذی)
ماقبل ذکر ہوا کہ سو انسانوں کے قاتل کی بخشش کر دی گئی اس بنا پر کہ اس نے گناہوں سے خلوصِ دل کے ساتھ توبہ کر لی۔ اسی طرح کفل نے معصیت سے سچی توبہ کر لی تو وہ بھی بخشا گیا۔ کسی کو نہیں پتا کہ اُس کی توبہ سچی تھی یا جھوٹی‘ مگر جس نے توبہ قبول کرنی تھی اُس کو تو معلوم تھا کہ یہ گناہگار تہ دل سے توبہ کر رہا ہے‘ چنانچہ اُس کی بخشش ہو گئی۔ لوگوں کو تو یہی معلوم تھا کہ یہ وہی کفل ہے جس کی زندگی سراسر گناہوں میں گزری‘ لہٰذا وہ اس کے مرنے کے بعد اس کے گناہوں کا ذکر کرتے‘ مگر اللہ تعالیٰ کو اُس کی سچی توبہ پر اس قدر پیار آیا کہ اس کے دروازے پر اُس کی بخشش کا اعلان کر دیا‘ جسے پڑھ کر ہر شخص کوکفل کی بخشش کا یقین ہو گیا ‘کیونکہ یہ نوشتہ ایسا تھا کہ کسی انسان کا لکھا ہوا نہ تھا۔اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان بندوںپر کتنا مہربان ہے جو اپنے گناہوں پر شرمندہ ہوتے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگتے ہیں جس کے سوا کسی کے پاس بخشش کا اختیار نہیں ۔ کسی شخص کے گناہ دیکھ کر اس کے بارے میں گمان کرنا کہ اللہ اس کے گناہ نہیں بخشے گا اور اس کو جنت میں داخل نہیں کرے گا‘قطعاً درست نہیں۔ایسا کہنے والا اللہ تعالیٰ کی صفت ِرحمت اور بخشش کو محدود کرتا ہے جو خلافِ حقیقت ہے۔
حضرت جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اللہ فلاں شخص کو نہیں بخشے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کون ہے جو مجھ پر قسم کھا رہا ہے کہ مَیں فلاں کو نہیں بخشوں گا! (جا) مَیںنے فلاں کو بخشا اور تیرے عمل اکارت کیے …‘‘ (صحیح مسلم) اس کی تفصیل مسند احمد میں اس طرح ہے کہ بنی اسرائیل میں دو دوست تھے‘ ایک عبادت گزار اور دوسرا گناہگار۔ عبادت گزار گناہگار سے کہا کرتاکہ گناہ مت کر۔ مگر وہ جواب دیتا: تجھے کیا پڑی ہے‘مَیں جانوں اور میرا رب۔ دوست نے ایک دن اسے کوئی بڑا گناہ کرتے دیکھا تو پھر اس کو روکا۔ اس پر وہ کہنے لگا کہ تُو مجھ پر داروغہ تو مقرر نہیں۔ اُسے غصہ آیا اور خدا کی قسم کھا کر کہا: جا خدا تیری مغفرت نہیں کرے گا اورنہ تجھے اپنی جنت میں داخل کرے گا۔ اُس وقت اللہ نے موت کا فرشتہ بھیجااور اس نے دونوں کی روح قبض کر لی۔ جب اللہ کے دربار میں دونوں کی پیشی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے گناہگار کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا:جا تُو میری رحمت سے جنت میں چلا جا۔ پھر دوسرے سے کہا: تیری طاقت ہے کہ تُو میرے بندے پر میری رحمت کو روک دے؟ حکم دیا:اسے دوزخ میں لے جائو ۔ اللہ کی شان’’یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ‘‘ہے ۔ وہ بندے کو کسی ایک گناہ پر پکڑ سکتا ہے اور ایک نیکی پر جنت میں لے جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ ایک نیکوکار عورت نے بلی کو باندھ کر رکھا اور بھوکا پیاسا مار دیا تو وہ دوزخ میں گئی۔ ایک جسم فروش عورت نے پیاسے کتے پر رحم کھا کر اسے پانی پلا دیا تو اس کو جنت مل گئی۔ عہد نبوی میں کئی مثالیں ہیں کہ لوگوں نے ایک شخص کو نیکوکار دیکھا تو اس کو جنتی خیال کیا مگر رسول اللہ ﷺنے اسے دوزخی بتایا۔
مختصر یہ کہ گناہ معاف کرنا یا اس پر گرفت کرنا صرف اللہ کا اختیار ہے۔ اسی طرح کسی شخص کی نیکیاں دیکھ کر اسے جنتی خیال کرنا محض خوش گمانی ہے۔ حقیقت حال تو اللہ ہی جانتا ہے۔ دنیا کے فیصلے تو ظاہری اعمال پر ہوتے ہیں لیکن آخرت میں فیصلے اللہ ہی کرے گا‘ کیونکہ وہی ہے جو علیم بذات الصدور ہے۔ ہم صرف اُن اصحاب کو جنتی کہہ سکتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے نام بنام جنتی کہا ہے یا اُن کی بخشش کی خوشخبری رسول اللہﷺ نے دی ہے۔ اسی طرح دوزخی صرف اس کو کہہ سکتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے یا رسول اللہﷺ نے نام لے کر دوزخی بتایا ہے۔ ورنہ ظاہری اعمال پر نجات یا گرفت کا حکم لگانا کسی کے اختیار میں نہیں۔ ہاں رحمت کی فراوانی دیکھ کر گناہوں پر جری ہونا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔