حفظ ِقرآن اور ہمارا طرز ِعملحافظ محمد اسدقرآن کریم اللہ سبحانہـ وتعالیٰ کا کلام ہے ‘جو تمام کلاموں پر فضیلت رکھتا ہے ۔اس کاحفظ ہوجانا کسی معجزے سے کم نہیں ہے ۔آج کے اِس پُر فتن دور میں بھی حفظ کروانے کا رجحان بڑھ رہاہے جو یقیناً ایک مثبت قدم ہے۔ آپ کو تقریبا ً ہر خاندان میں حافظ ِقرآن بچے اور بچیاں ضرور ملیں گے۔ بیشک یہ اللہ سبحانہٗ وتعالی ٰ کا فضل وکرم اور اس کی حکمت کا مظہر ہے۔ قرآن کریم کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے لی ہے۔ چناں چہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا ارشاد ہے:
{اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۹)} (الحجر)
’’بیشک ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور یقیناً ہم خود ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘
اس کی تشریح میں مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں :
’’اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا ہے کہ اگرچہ قرآن کریم سے پہلے بھی آسمانی کتابیں بھیجی گئی تھیں‘ لیکن چونکہ وہ خاص خاص قوموں اور خاص خاص زمانوں کے لیے آئی تھیں‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اُن کو قیامت تک محفوظ رکھنے کی کوئی ضمانت نہیں دی تھی‘ بلکہ اُن کی حفاظت کا کام انہی لوگوں کو سونپ دیا گیا تھا جو ان کے مخاطب تھے‘ جیسا کہ سورة المائدہ ‘ آیت۴۴ میں فرمایا گیا ہے۔ لیکن قرآن کریم چونکہ آخری آسمانی کتاب ہے جو قیامت تک کے لیے نافذ العمل رہے گی‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا خود ذمہ لیا ہے‘ چنانچہ اس میں قیامت تک کوئی ردّ و بدل نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت اس طرح فرمائی ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچوں کے سینوں میں اسے اس طرح محفوظ کردیا ہے کہ اگر بالفرض کوئی دشمن قرآن کریم کے سارے نسخے (معاذ اللہ) ختم کردے تب بھی چھوٹے چھوٹے بچّے اسے دوبارہ کسی معمولی تبدیلی کے بغیر لکھوا سکتے ہیں‘ جو بذاتِ خود قرآن کریم کا زندہ معجزہ ہے۔‘‘(آسان ترجمہ قرآن‘ از مفتی تقی عثمانی صاحب)
حفظِ قرآن کی فضیلت
بچوں کو قرآن کریم حفظ کروانا یقیناً ایک عظیم سعادت ہے اور اس پر ملنے والا اجر جس کی خبر الصادق المصدوق جناب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمائی ہے ‘ہمارے لیے باعث ِشرف ہے۔ ذیل میں دو احادیث مبارکہ جو فضائل’’حفظ ِقرآن ‘‘کے حوالے سے بیان کی جاتی ہیں ان کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
حضرت معاذ جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ضَوْءُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا لَوْ كَانَتْ فِيكُمْ ، فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهَذَا؟)) [سنن ابي داوٗد: ۱۴۵۳]
’’جس نے قرآن پڑھا اور اس کی تعلیمات پر عمل کیا تو اُس کے والدین کو قیامت کے روز ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج کی اُس روشنی سے بھی زیادہ ہو گی جو تمہارے گھروں میں ہوتی اگر وہ تمہارے درمیان ہوتا۔ (پھر جب اُس کے ماں باپ کا یہ درجہ ہے) تو خیال کرو خود اس شخص کا جس نے قرآن پر عمل کیا‘ کیا درجہ ہو گا!‘‘
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
((يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اقْرَأْ وَارْتَقِ وَرَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِی الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَتَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَأُ بِهَا)) [سنن الترمذي:۲۹۱۴ ومسند احمد:۲۸۹۹ وابوداوٗد:۱۴۶۴ والنسائی الکبریٰ: ۷۰۵۶ وصحیح ابن حبان:۱۷۹۰]
’’(قیامت کے دن) صاحب ِقرآن سے کہا جائے گا: (قرآن) پڑھتا جا اور (بلندی کی طرف) چڑھتا جا۔ اور ویسے ہی ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تُو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر ترتیل کے ساتھ پڑھتا تھا۔ پس تیری منزل وہ ہو گی جہاں تیری آخری آیت کی تلاوت ختم ہو گی۔‘‘
ان روایات کے پیش نظر دینی مزاج کے حامل اکثر افراد کا ذہن بنتا ہے کہ ہمارا کوئی ایک بچہ کم ازکم حفظ ِقرآن کی تکمیل کرے تا کہ ہم ان فضائل کا مصداق بن سکیں۔ اس مزاج کے لوگ اس نکتے پر توجہ نہیں دیتے کہ یہ بشارت اُن حفاظ کرام کے لیے ہے جنہوں نے قرآن پر عمل بھی کیا ہو اور زندگی بھر اسے محفوظ بھی رکھا ہو۔ اس اہم بات کو نظرانداز کرنے کی اصل وجہ دین کی روح کو نہ سمجھنا اور علماء کرام کی صحبت سے دوری ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ معاشرے کےوہ افراد جو بظاہر کسی درجے میں دین دار سمجھے جاتے ہیں‘ ان کے گھرانوں میں بھی (حفظ کے دوران) بچوں ‘ بچیوں کووہ دینی ماحول میسّر نہیں ہوتا جو اس کام کے لیے مطلوب ہوتا ہے۔ افسوس ہے کہ سارا دن قرآن پڑھنے پڑھانے والے بچّے جب گھروں میں داخل ہوتے ہیں تو ڈرامے ‘فلمیں اور گانے باجے والا ماحول پاتے ہیں۔ اس طرح کا ماحول اُن کی دن بھر کی محنت اور روحانیت کے اثرات کو یک دم ختم کر کے رکھ دیتاہے۔ والدین شاید یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اب وہ جنتی ہو چکے ہیں کیونکہ ان کے بچے نے حفظ کرنا شروع کردیا ہے‘ لہٰذا جو چاہو کرو۔ یاد رکھیں یہ وہ شدید دھوکا ہے جو شیطان نے ان کے دلوں میں مزین کر دیا ہے۔
حافظ ِ قرآن کی شفاعت
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے یہ روایت بیان کی گئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَاسْتَظْهَرَهُ ، فَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ أَدْخَلَهُ اللّٰہُ بِهِ الجَنَّةَ وَشَفَّعَهُ فِی عَشَرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ كُلُّهُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ))[سنن الترمذي: ۲۹۰۵]
’’جس نے قرآن پڑھا اور اسے پوری طرح حفظ کر لیا‘ پھر جس چیز کو قرآن نے حلال ٹھہرایا اُسے حلال جانا اور جس چیز کو قرآن نے حرام ٹھہرایا اسے حرام سمجھا تو اللہ اسے اس قرآن کے ذریعہ جنت میں داخل فرمائے گا‘ اور اُس کے خاندان کے دس ایسے لوگوں کے بارے میں اُس کی سفارش قبول کرے گا جن پر جہنّم واجب ہو چکی ہو گی۔‘‘
غور طلب بات یہ ہے کہ جب خود حافظ ِقرآن کے لیے نجات کا باعث یہی ہے کہ عمل قرآن کے عین مطابق کرتا ہو تو یہ کیسے ممکن ہے کہ جو اُس کی پیدائش کا ذریعہ بنے ہیں یا اسے مدرسے تک پہچانے والے ہیں‘ اُن کے لیے حلال وحرام کا فرق ختم ہو جائے ۔کیایہ ممکن ہے ؟ کیا شریعت اُن کے لیے اب مَن چاہی ہو جائے گی کہ جو جی میں آئے کرتے چلے جاؤ۔ یہ صرف خود فریبی ہے۔ علماء کرام فرماتے ہیں کہ اس حدیث مبارکہ میں جہنم واجب ہونے کے باوجود نجات ملنے سے مراد یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان فاسق یا گناہ گار ہونے کے سبب جہنم میں ڈالے جانے والا ہو تو صاحب قرآن کو اعزاز واکرام کے طور پر یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ اس بندے کی سفارش کر دے۔
بنا بریں حفاظ کرام کے والدین کو چاہیے کہ اپنی اور بچوں کی آخرت کی فکر کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کا ماحول دینی مزاج کے مطابق بنائیں ۔ خاص طور پر میڈیا اور موبائل کے بے روک ٹوک استعمال سے خود بھی باز رہیں اور بچوں کو بھی استعمال نہ کرنے دیں۔ یاد رکھیں بچے جو کچھ بڑوں کو کرتا ہوا دیکھتے ہیں‘وہی کرتے ہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ آپ خود نیک نہ بنیں اور بچوں سے اُمید رکھیں کہ وہ نیک بن جائیں۔
حفظ کو برقرار رکھنا
اس بات کو بھی اچھی طرح ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ حفظِ قرآن کے بعد اس کی بلاناغہ تلاوت اور اس کو یاد رکھنے کی فکر سے کبھی بے توجہی نہ برتی جائے۔ اس لیے کہ قرآن مجید خدائے بے نیاز کا کلام ہے۔ اس کے یاد رکھنے میں بے نیازی برتی گئی تو اس کی غیرت یہ برداشت نہیں کرتی کہ ایسے سینہ میں محفوظ رہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((إنّما مَثَلُ صَاحبِ الْقُرْآنِ كَمَثَلِ الإِبِلِ المُعَقَّلَةِ، إنْ عَاهَدَ عَلَيْهَا أمْسَكَهَا، وَإنْ أطْلَقَهَا ذَهَبَتْ)) [متفق عليه]
”حافظ ِقرآن کی مثال رسّی سے بندھے ہوئے اونٹ جیسی ہے‘ اگر اُس نے اس کی نگہداشت کی تو وہ اسے قابو میں رکھے گا‘ اور اگر اسے چھوڑ دے گا تو وہ چلا جائے گا۔“
علماء کرام نے لکھا ہے کہ اونٹ جانوروں میں سب سے زیادہ حسّاس جانور ہے۔ اگر وہ محسوس کر لیتا ہے کہ اُس کا مالک اُس کے ساتھ بے رخی اور بے اعتنائی برت رہا ہے ‘ اس کے چارے کے انتظام میں غفلت سے کام لے رہا ہے تو اس اونٹ کی غیرت اس کو برداشت نہیں کرتی اور وہ موقع پاتے ہی مالک کے گھر سے نکل جاتا ہے اور دوبارہ اس جانب رخ نہیں کرتا۔ اسی طرح قرآن مجید بھی بہت حسّاس اور غیرت والا کلام ہے۔ اگر حافظ ِقرآن اس کو یاد کرنے میں تساہلی اور سستی سے کام لیتا ہے تو قرآن بھی حافظ ِقرآن کے دل سے نکل جاتا ہے اور اونٹ ہی کی طرح دوبارہ لوٹ کر نہیں آتا۔
حضرت زرارہ بن اوفیٰؒ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ عزوجل کے نزدیک سب سےمحبوب عمل کون سا ہے؟ آپؐ نے فرمایا:((الحالّ المرتحل))(سنن الترمذی: ۲۹۴۸) یعنی ’’وہ قرآن کریم ختم کرنے والا شخص جو فوراً شروع بھی کردینے والا ہو( اُس کا یہ عمل اللہ کے نزدیک محبوب ترین ہے۔‘‘ چنانچہ حافظ ِقرآن تو ایسا مسافر ہے جس کا سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حدیث کی روشنی میں اپنے دور ِخلافت میں اس چیز کو حافظ کے لیے لازم کیا کہ رمضان میں ختم ِ قرآن کے دن انیسویں رکعت میں قرآن مکمل کرلے اور بیسویں رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ البقرہ کی ابتدائی آیات اُولٰئک ھم المفلحون تک پڑھ کر بیسویں رکعت مکمل کرے ‘ تاکہ اس حدیث کے مقتضی پر عمل ہوسکے ۔
والدین کی ذمہ داری
ہمارے ہاں عام طور پر تکمیل ِقرآن کے فوراً بعد حفاظ بچوں کے ساتھ والدین اور گھر والوں کا رویّہ درست نہیں ہوتا اور وہ چاہتے ہیں کہ اب یہ بچّہ اپنا پورا وقت عصری تعلیم کے حصول میں لگائے۔ یہ رویّہ بچّے کو قرآن سے دور کرنے کا باعث بنتا ہے۔ بچّے کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ وہ دو تین سال حفظِ قرآن میں لگا کر دُنیوی تعلیم میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے رہ گیا ہے۔ اس رویہ سے یوں محسوس ہوتا ہے گویا حفظِ قرآن کوئی ہلکی بات ہے‘ جبکہ قرآن مجید کو حفظ کرنا اور اس کے علم سے آراستہ ہونا دنیا کی بہترین پونجی اور انسان کی نہایت قیمتی متاعِ ہے۔ جس وقت لوگ درہم و دینار کو پاکر خوش ہو رہے ہوتے ہیں اور اسے سنبھال کر رکھتے ہیں اس وقت قرآن مجید کا حافظ و قاری اس سے بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والے سرمایۂ حیات سے اپنے دامن مراد کو بھرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اہلِ صُفّہ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا:
’’تم میں سے کس کو یہ بات پسند ہے کہ وہ ہردن صبح کو وادی ٔبطحان یا وادیٔ عقیق کی طرف جائے اور وہاں سے دو بلند کوہان والی اونٹنیوں کے ساتھ واپس آئے جنہیں اُس نے کسی گناہ اور قطع رحمی کے بغیر حاصل کیا ہو؟‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم سب اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’کوئی شخص صبح مسجد میں جائے اور وہاں قرآن کی دو آیتیں سیکھے یا دو آیات کی تلاوت کرے‘ یہ اُس کے لیے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے۔ قرآن کی تین آیتیں تین اونٹنیوں سے اور چار آیتیں چار اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور اتنے ہی اونٹوں سے بہتر ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم)
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اونٹ اُس زمانے میں عربوں کے لیے سب سے قیمتی مال تھا۔
دنیاوی تعلیم بچوں کو ضرور دیں‘ اس کی اہمیت سے انکار نہیں‘ لیکن اُن کی تربیت اس انداز میں ہونی چاہیے کہ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کامعمول ہمیشہ رہے اور دنیا کے تمام علوم پر ’’کلام اللہ‘‘ کو ترجیح دی جائے۔ ہمارے ایک حافظ ِقرآن دوست نے بتایا (جو بال بچوں والے ہو چکے ہیں) کہ اُن کی والدہ محترمہ اب بھی انہیں اُس وقت تک سونے نہیں دیتیں جب تک ایک سپارہ سن نہ لیں۔ والدین اس طرح تربیت کریں گے تو ضرور بالضرور اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے ہاں اجر ِعظیم کے مستحق ہوں گے۔ خدا نخواستہ اگر معاملہ اس کے بر عکس رہا‘ یا والدین ہی اس کے بھلا دیے جانے کا سبب بن گئے تو کل یہی حافظ ِقرآن اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے سامنے کھڑا ہو گا اور ان والدین کی شکایت کرے گا کہ اے ربّ! مجھے تو پڑھنے کا شوق تھا مگر والدین نے نہیں پڑھنے دیا‘ اور میری تربیت ہی اس طرح نہیں کی کہ اس کی فکر کرتا۔ لہٰذا ان سے بھی باز پرس کیجیے۔ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اس وقت سے ہمیں اپنے حفظ وامان میں رکھے۔
حافظ ِ قرآن کی تکریم
حافظ ِقرآن کی اس سے بڑھ کر کیا فضیلت ہو گی کہ جناب نبی اکرم ﷺ خود سب سے پہلے حافظ ِقرآن تھے۔ آپﷺ حافظ ِقرآن صحابہؓ کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے اور بہت سے امور میں ان کو فوقیت اور ترجیح دیتے تھے۔ جن اصحابؓ کو قرآن زیادہ یاد ہوتا‘ سفر میں اور گاؤں یا قبیلہ کی مسجد میں ان کو امامت کے لیے متعین کر نے کا حکم فرماتے تھے۔ ایک مرتبہ آپﷺ نے اپنی مبارک مجلس میں ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کے کچھ خاص بندے ہوتے ہیں....‘‘ آپﷺ کے اس ارشاد پر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم متوجّہ ہوئے اور اشتیاق و تجسس کے ساتھ سوال کیا: یا رسول اللہﷺ! وہ کون لوگ ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’حافظ ِقرآن! ان کا بڑا مقام ہے اور یہ لوگ اہل اللہ اور خاصانِ خدا ہیں۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)
اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے : ’’اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں بوڑھے مسلمان کا اکرام کرنا‘ اُس حافظ ِقرآن کا اکرام کرنا جو اِفراط و تفریط سے خالی ہو اور عادل بادشاہ کا اکرام کرنا ہے۔‘‘ (ابو داؤد)
جس نے اللہ تعالیٰ کے کلام کو اپنے سینہ میں محفوظ کرلیا اُس کا یہ حق ہے کہ اُس کی تکریم اور عزّت افزائی کی جائے۔ نماز جو اسلام کا اہم ترین رکن ہے‘ اس کی امامت کا سب سے زیادہ مستحق حافظ ِقرآن ہے۔ ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’قوم کی امامت وہ شخص کرے جو اللہ کی کتاب کا سب سے زیادہ پڑھنے والا ( یعنی علومِ قرآن کا ماہر) ہو.....‘‘ (صحیح مسلم)
حافظ ِقرآن کی عزّت وتوقیر کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح حفظ کرنے والے بچوں کے والدین کو چاہیے کہ اُن کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں اور اُن کے حفظ ِقرآن کو برقرار رکھنے کے لیے اُن کی صحیح رہنمائی کریں۔ خوداُن سےقرآن کی سماعت کا اہتمام کریں تو زیادہ بہتر ہے۔ اگر ایسے ماحول کے ساتھ وہ دنیاوی علوم میں بھی مہارت حاصل کرنے کے لیے خوب سے خوب تر کی کوشش کریں تو کوئی حرج نہیں۔ یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ فی زمانہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ حافظ ِ قرآن اور عالم دین ‘ دعوت و تبلیغ کی جدّوجُہد میں معاشرے کی اصلاح کے لیے زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہمارے اکثر مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم اور جدید طرز پر حصولِ علم کے کئی شعبہ جات قائم کیے جارہے ہیں۔
صرف دو آدمی قابلِ رشک ہیں!
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((لَا حَسَدَ إلَّا عَلَى اثْنَتَيْنِ: رجلٌ آتاه اللّٰهُ مالًا فهو يُنفِقُ منه آناءَ اللَّيلِ وآناءَ النهارِ، ورجلٌ آتاه اللّٰهُ القرآنَ فهو يقومُ به آناءَ اللَّيلِ وآناءَ النهارِ)) [متفق علیہ]
”حسد (بمعنی رشک) صرف دو صورتوں میں جائز ہے۔ ایک تو یہ کہ کسی آدمی کو اللہ تعالیٰ مال عطا کرے اور وہ دن رات اسے (وجوہِ خیر میں) خرچ کرتا رہے۔ اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ قرآن سے نوازے اور وہ دن رات اس (کی تلاوت اور تعلیم و تدریس) میں لگا رہے۔“
حسد ایک قبیح عمل ہے‘ لیکن حقیقی رشک اور محمود و مستحسن حسد اُس شخص سے کیا جا سکتا ہے جس نے قرآن مجید کو یاد کرلیا اور اس کے حق کی ادائیگی کی‘ جیسا کہ اس روایت میں فرمایا گیا۔
آخر میں ایک مرتبہ پھر توجّہ دلانا مطلوب ہے کہ اپنے نونہالوں کے حفظِ قرآن ہی کو کافی نہ سمجھا جائے بلکہ اُن کی تربیت اور اخلاق کی درستی کے لیے ہمہ وقت فکر مند رہا جائے‘ تاکہ وہ بشارتیں جو جناب نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمائی ہیں‘ ہمیں ان کا مصداق بننے کی سعادت حاصل ہو اور روز ِمحشر ہمیشہ ہمیشہ کی کامیابی ہمارا مقدّر ہو ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کا صحیح فہم اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا ربّ العالمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026