مؤمن کا قید خانہمرکزی شعبہ تعلیم و تربیت ‘ تنظیم اسلامی
اللہ تعالیٰ نے اس دُنیا کو بہت خوبصورت بنایا ہے۔ گو نا گوں طریقوں سے اسے سجایا ہے۔ خوب صورت آبشاریں ہیں ۔ مختلف رنگ او ر خوشبو کے پھول‘ ہر قسم کے پھل‘ طرح طرح کے میوہ جات جو انسان کے من کو بھاتے ہیں‘ اسے صحت مندانہ زندگی گزارنے میں مدد دیتے ہیں ۔ بیمار ہوجائے تو علاج کے لیے ہر قسم کی جڑی بوٹیاں موجود ہیں۔ غرض انسان کی خواہشات کی بھرپور تسکین کا سامان اس دُنیا میں اللہ تعالیٰ نے فراہم کردیا ہے ۔
اگر سونگھنے کا ذوق عطا فرمایا تواس کی تسکین کے لیے طرح طرح کے خوشبودار پودے اور پھول پیدا کردیے۔ زبان کا ذائقہ عطا کیا تو دُنیا کے دسترخوان پر ہر طرح کی سبزیاں‘ پھل‘ اناج اور میوے مہیا کردیے۔ زمین کی سطح اگر پھلوں اور پھولوں سے لدی ہوئی ہے تو اس کی تہ میں میٹھے‘ صاف شفاف پانی کے سوتے پھوٹ رہے ہیں۔ زمین کی گہرائی میں سونا‘ چاندی‘ کوئلہ‘ تیل‘ گیس کے بےشمار ذخائر موجود ہیں۔ لیتھیم‘ یورینیم اور ریڈیم جیسی انتہائی قیمتی دھاتیں میسر ہیں۔ سمندروں کی طرف نظر کریں تو سطح آب پر دیوہیکل بحری بیڑے ہیں جن پر ہوائی جہاز اترتے اور چڑھتے ہیں‘جبکہ تہ میں چھوٹی اور بڑی آبی مخلوق تیر رہی ہیں۔ سمندر کی تہ میں مرجان اور موتی نشوونما پا رہے ہیں۔ ہماری غذا کے لیے حیوانات کا دودھ اور گوشت‘ سواری کے لیے ان کی پیٹھ‘ حفاظت کے لیے ان کی پاسبانی‘ پہننے اور آرائش کے لیے ان کی کھالیں اور اون مہیا کردی گئی ہیں۔
ان تمام نعمتوں ( زیب و زینت‘ آرام وآسائش) کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیےکہ بندہ دل و جان سے اللہ کا شکر ادا کرے۔اس کا سر عجز وانکساری سے جھک جائے۔خود بھی ان نعمتوں سے فائدہ اُٹھائے اور ناداروں کو بھی ان سے استفادہ کا موقع دے۔
در حقیقت اس دُنیا کو خوبصورت بنانے کا مقصد یہ تھا کہ اس کے ذریعے سے انسان کوآزمایا جائے۔دیکھا جائے کہ آیا وہ اس دُنیا میں آکر اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرتا ہے یا یہاں کی خوبصورتی اور آرام و آسائش میں گم ہو کر اپنے خالق کو بھول جاتا ہے اور اسی دُنیا کو اصل حقیقت سمجھ بیٹھتا ہے۔ سورۃ الکہف میں اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:
{اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا(۷)}
’’یقیناً ہم نے بنا دیا ہے جو کچھ زمین پر ہے اسے اس کا بناؤ سنگھار تا کہ انہیں ہم آزمائیں کہ ان میں کون بہتر ہے عمل میں۔‘‘
سورۃ الدھر میں ارشاد ہے:
{اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ نَّبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا(۲)}
’’ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے ملے جلے نطفے سے کہ اس کو آزمائیں‘ پھر ہم نے اس کو بنا دیا سننے والا‘ دیکھنے والا۔‘‘
یعنی انسان کومختلف حواس اور صلاحیتیں اس لیے عطا فرمائی گئیں تا کہ اس کی آزمائش ہو سکے۔وہ اس دُنیا کے دھوکے میں نہ آئے۔ اس سے صرف ضرورت کی حد تک استفادہ کرے اور زندگی کے اصل مقصد کونظروں سے اوجھل نہ ہونے دے۔فرمانِ الٰہی ہے:
{وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ(۵۶)} (الذّٰریٰت)
’’اور میں نے نہیں پیدا کیا جنوں اور انسانوں کو مگر صرف اس لیے کہ وہ میری بندگی کریں۔‘‘
دوسری طرف شیطان انسان کو دھوکے میں ڈال دیتا ہے ۔ انسان اس دُنیا ومافیہاسے محبت کرنے لگتا ہے۔ یہاں کے آرام و آسائش اور نعمتوں کے حصول کو اپنی صلاحیتوں کا نتیجہ سمجھنے لگتا ہے ۔ اس کے دماغ میں خنّاس اور دل میں تکبر آجاتا ہے۔ وہ ان تمام نعمتوں سے محبت کرنے لگتا ہے جبکہ قرآن مجید کی رُو سے یہ سب چیزیں’’ متاع‘‘ یعنی برتنے کا سامان ہے۔ برتنے کا سامان محبت کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔
عربی زبان میں’’ دُنیا‘‘کا مادہ’’دن ی‘‘ مانا جائے تو معانی ہیں : خسیس ہونا‘ کمینہ و ذلیل ہونا‘ بہت گھٹیا ہونا۔اسی لیے اسے’’دنیائے دنی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی آخرت کی نعمتوں کے مقابلے میں دُنیا و مافیہا بہت گھٹیا اور ادنیٰ درجے کی ہیں ۔ اسی طرح آخرت کے عذاب کے مقابلے میں دُنیا کے مصائب و مشکلات بہت ہی کم ہیں۔ لفظ’’ دُنیا‘‘ کا مادہ’’دن و‘‘ سمجھا جائے تو دَنَا یَدْنُو دُنُوًّا کے معانی ہیں: کسی چیز کے قریب ہونا۔ دُنیا آخرت کے مقابلے میں قریب ترین ہے۔ یہ جلد مل جانے والی شے ہے۔ دُنیا نقد ہے جبکہ آخرت تو ادھار کا سودا ہے۔ مولاناحالیؔ کہتے ہیں
دُنیائے دَنی کو نقش فانی سمجھو
رودادِ جہاں کو اِک کہانی سمجھو
پر جب کرو آغاز کوئی کام بڑا
ہر سانس کو عمرِ جادوانی سمجھودُنیا کی زیب و زینت کی کشش انسان کی کمزور ی ہے۔سورئہ آل عمران میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ط ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۚ وَ اللهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ(۱۴)}
’’مزین کر دی گئی ہے لوگوں کے لیے مرغوباتِ دُنیا کی محبّت جیسے عورتیں اور بیٹےاور جمع کیے ہوئے خزانے سونے کے اور چاندی کے اور نشان زدہ گھوڑے اور مال مویشی اور کھیتی۔ یہ سب دُنیوی زندگی کا سروسامان ہے۔ لیکن اللہ ہی کے پاس ہے اچھا لوٹنا۔‘‘
یعنی لوگوں کے لیے دل پسند چیزوں یعنی عورتوں (موجودہ دور میں فیشن اور فحاشی کو بھی شامل کرلیں)‘ بیٹوں‘سونےچاندی کے جمع کیے ہوئے خزانوں‘ نشان زدہ گھوڑوں ( دورِ حاضر میں ریس کے گھوڑے یا برانڈڈ ملبوسات اور جیولری)‘ چوپایوں ( اعلیٰ نسل کے کتے‘ پولٹری/ ڈیری فارم وغیرہ)اور کھیتی ( بڑے بڑے ایگری کلچرل فارمز) کی محبت دل کش بنا دی گئی ہے۔ یہ سب دُنیا کی زندگی کا سامان ہےجبکہ بہترین ٹھکانا اللہ ہی کے پاس ہے۔
انسا ن کی یہ کمزوری ہے کہ وہ دُنیاکی ناپائیدار چیزوں کو ابدی سمجھ کر آخرت کی دائمی نعمتوں کو فراموش کردیتا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’ آپ انہیں دو مَردوں کا قصہ سنائیں جن میں سے ایک شخص کو ہم نے انگوروں کے دوباغ عطا فرمائے تھے‘ جن کے چاروں طرف ہم نے کھجوروں کے درختوں کی باڑ لگادی تھی اور ان دونوں کے درمیان ہم نے کھیت پیدا کیے تھے۔ دونوں باغ خوب پھل لائے اور پیداوار میں کوئی کمی نہیں کی‘ اور ہم نے ان کے درمیان ایک نہررواں کر دی تھی۔اُس شخص کے پاس پھل بھی تھا۔ اُس نے اپنے ساتھی سے بحث کرتے ہوئے کہا: ’’مَیں تم سے زیادہ مال دار ہوں اور میری افرادی قوت بھی زیادہ ہے۔‘‘ وہ اپنی جان پر ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا اور کہنے لگا:’’ مجھے گمان نہیں کہ یہ باغ کبھی برباد ہوگا اور نہ مجھے اس پر یقین ہے کہ کبھی قیامت قائم ہوگی۔ اور اگر (بالفرض) میں اپنے رب کی طرف لوٹا یا بھی گیا تو میں ضرور ان باغوں سے بہتر پلٹنے کی جگہ پاؤ ں گا‘‘۔ اُس کے ساتھی نے اس کی بات کاجواب دیتے ہوئے کہا :’’ کیا تم اُس ذات کا انکار کر رہے ہو جس نے تمہیں مٹی سے بنایا‘ پھر نطفہ سے‘ پھر تمہیں مکمل مرد بنایا۔ لیکن وہ اللہ ہی میر ا ربّ ہے اور میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤں گا۔ اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو کہتے: جو اللہ نے چاہا وہ ہوا اور اللہ کی مدد کے بغیر کسی کی کوئی طاقت نہیں۔ اگر تم یہ گمان کرتے ہو کہ میں مال اور اولاد میں تم سے کم ہوں‘ تو وہ دن دور نہیں کہ میرا رب مجھے تم سے بہتر باغ عطا فرمائے اور تمہارے باغ پر آسمان سے کوئی عذاب بھیج دے تو وہ چٹیل چکنامیدان بن جائے یا اس کا پانی زمین میں دھنس جائے اور تم اسے ہر گز تلاش نہ کر سکو‘‘۔ اور اُس شخص کے پھل ( عذاب میں) گھیر لیے گئے اور اُس نے اس باغ میں جو کچھ خرچ کیا تھا وہ اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا۔ وہ باغ اپنی چھپریوں پر گرا پڑا تھا اور وہ شخص کہہ رہا تھا: ’’کاش میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا‘‘۔ اور اس کے پاس کوئی جماعت نہیں تھی جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کرتی اور نہ ہی وہ بدلہ لینے کے قابل تھا۔ یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام اختیار ات اللہ ہی کے پاس ہیں جو الحق ہے۔ وہی سب سے اچھا بدلہ دینے والا ہے اور اسی کے پاس بہترین انجام ہے۔ اور آپ ان کے سامنے دُنیا کی زندگی کی مثال بیان کیجیے جیسے ہم نے آسمان سے پانی نازل کیا تو اس کے سبب زمین کا ملا جلا سبزہ نکلا‘ پھر وہ سوکھ کر چورا چورا ہوگیا جس کو ہوا اُڑادیتی ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ مال اور بیٹے تو دُنیا کی زندگی کی زینت ہیں‘ اور باقی رہنے والی نیکیاں آپ کے رب کے پاس ازروئے ثواب اور امید کے بہت بہتر ہیں۔ (سورۃالکہف: ۳۲ تا ۴۶)
مندرجہ بالا آیات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بسا اوقات انسان دُنیاوی مال و دولت اور شان و شوکت کو اللہ کی بارگاہ میں مقبولیت اور محبوبیت کاسبب سمجھ لیتا ہے۔ اس کے ذہن میں خنّاس سماجاتا ہے کہ اگر بالفرض قیامت قائم بھی ہوگئی تو وہاں بھی میرے وارے نیارے ہی ہوں گے‘ کیونکہ میں تو اللہ کا محبوب ہوں۔وہ اس حقیقت کو فراموش کر دیتا ہے کہ مال‘ دولت اور اولاد تو دُنیا وی زندگی کی زینت اور امتحان ہیں۔ سورۃ التغابن میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
{اِنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ ۭ وَاللہُ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۱۵)}
’’تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو تمہارے لیے امتحان ہیں۔اوراللہ ہی کے پاس اجر عظیم ہے۔‘‘
نیز کوئی یہ بھی نہ سمجھے کہ کسی کا نادار ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہے۔ سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہٗ ۭ مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْھِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَھُمْ فَتَکُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۵۲)}
’’ اور ان ( نادار مسلمان) کو (اپنےسے ) دُور نہ کیجیے جوصبح وشام اپنے رب کی رضا چاہتے ہوئےاُس کو پکارتے رہتے ہیں۔ ان کا حساب بالکل آپ کے ذِمہ نہیں ہے اور آپ کا حساب سرِ مُو ان کے ذمہ نہیں ہے‘ پس اگر آپ نے ان کو دُور کردیا تو آپ کے لیے یہ کام انصاف سے بعید ہوگا۔ ‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’بہت سے افراد ایسے ہیں کہ پراگندہ حال نظر آئیں گے‘ لوگ انہیں اپنے دروازوں سے دھتکار دیں گے‘ ( لیکن اللہ کی بارگاہ میں ان کی مقبولیت کا عالم یہ ہےکہ ) اگر وہ اللہ کی قسم کھا کر کوئی بات کہہ دیں تو اللہ انہیں اپنی قسم میں سچا ثابت فرماتا ہے۔‘‘ ( صحیح مسلم)
مصعب بن سعدؒبیان فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت سعدبن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گمان کیا کہ انہیں (شجاعت اور سخاوت کی وجہ سے) اپنے سے کمتر لوگوں پر فضیلت حاصل ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہیں جو نصرتِ الٰہی اور رزق کی کشادگی ملتی ہے تو یہ کمزوروں کی دعاؤں کی برکت سے ملتی ہے۔‘‘ ( صحیح مسلم)
بعض اوقات انسان اپنے سے برتر لوگوں کو دیکھ کر احساسِ محرومی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم میں سے جب کوئی مال اور صورت و شکل میں اپنے سے بہتر کو دیکھے تو وہ اپنے سے کم تر لوگوں پرنظر ڈالے تاکہ وہ اللہ کا شکر گزار بندہ بن سکے۔‘‘ ( صحیح البخاری)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ اپنے سے کم تر لوگوں کو نظر میں رکھو‘ اپنے سے برتر لوگوں کو للچائی ہوئی نظروں سے مت دیکھو‘ اس طرح تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بے قدری سے محفوظ رہوگے۔‘‘ ( صحیح مسلم)
حضرت سہیل بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے ایک شخص کا گزر ہوا۔ آپ ﷺ نے صحابہؓ سے پوچھا:’’ تم اس شخص کے متعلق کیا کہتے ہو؟‘‘ صحابہ کرام ؓ نےعرض کیا: یہ شخص اس لائق ہے کہ اگر یہ نکاح کا پیغام دے تو اسے قبول کیا جائے۔ اگر یہ کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش مانی جائے۔اگر یہ کوئی بات کرے تو اس کی بات توجّہ سے سنی جائے۔ حضرت سہیل ؓ کہتے ہیں کہ پھر آپﷺ خاموش ہوگئے۔ پھر فقراءِ مسلمین میں سے ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا تو آپؐ نے صحابہ کرام ؓ سے پوچھا:’’ اس شخص کے متعلق تم کیا کہتے ہو؟‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا : یہ شخص اس لائق ہے کہ اگر یہ نکاح کا پیغا م دے تو اس کا نکاح نہ کیا جائے۔اگر یہ کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش نہ مانی جائے۔ اگر یہ کوئی بات کرے تو اس کی بات نہ سنی جائے۔ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ ( تھوڑی دیر پہلے جس شخص کی تم تعریف کر رہے تھے ) اگر اُس جیسے لوگوں سے زمین بھر جائے تب بھی یہ ایک شخص اُن سب سے بہتر ہے۔‘‘ (صحیح البخاری)
دُنیا وی زیب و زینت کے بے وقعت ہونے اور نیک اعمال کے نفع بخش ہونےکی مثال بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سورۃ الرعد میں فرماتا ہے:
{اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَسَالَتْ اَوْدِیَۃٌ ۢ بِقَدَرِھَا فَاحْتَمَلَ السَّیْلُ زَبَدًا رَّابِیًا ۭ وَمِمَّا یُوْقِدُوْنَ عَلَیْہِ فِی النَّارِ ابْتِغَاۗءَ حِلْیَۃٍ اَوْمَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُہٗ ۭ کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللہُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ڛ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْھَبُ جُفَاۗءً ۚ وَاَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْکُثُ فِی الْاَرْضِ ۭ کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللہُ الْاَمْثَالَ(۱۷)}
’’وہ آسمان سے پانی برساتا ہے‘ پھر تمام ندیاں بہنے لگتی ہیں اپنی اپنی وسعت کے مطابق‘ پھر اُٹھالاتا ہے سیلاب اُبھرتے جھاگ کو۔ اور جن(دھاتوں) کو یہ لوگ آگ پر تپاتے ہیں زیور یا دوسری چیزیں بنانے کے لیے اُن پر بھی اسی طرح کا جھاگ اُبھرتا ہے۔ اسی طرح اللہ حق و باطل کو ٹکراتا ہے۔ رہا جھا گ تو وہ ( بے فیض ہونے کے سبب) بھک سے اڑجاتا ہے‘ اور جو چیز انسانوں کو نفع پہنچائے تو اُسے زمین میں قرار ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ( چشم بصیرت کھولنے کے لیے ) مثالیں بیان فرماتا ہے۔ ‘‘
سورۃ الحشر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{یٰٓاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ(۱۸)}
’’ اے اہلِ ایمان! اللہ سے ڈرتے رہا کرو اور ہر شخص سوچ لے کہ کل ( صبح قیامت) کے لیے وہ کیا آگے بھیج رہا ہے! اور اللہ سے ڈرتے رہو‘ بے شک اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب باخبر ہے۔‘‘
ہمیں یہ سمجھایا جارہا ہے کہ دُنیا کی زندگی بہت مختصر ہے۔ جیسے رات کو سوئے‘ صبح آنکھ کھلی تو معلوم ہوا کہ قیامت کا دن ہے۔ لہٰذا کل صبح تمہارے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے‘ اس کے لیے ہر وقت فکر مند رہو۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
((کُنْ فِیْ الدُّنْیَا کَاَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ ))
’’ دُنیا میں اس طرح رہو گویا کہ تم اجنبی ہو یا راستہ عبور کرنے والا مسافر۔‘‘
یعنی اسے اپنی مستقل قرار گاہ نہ سمجھو۔ پھر عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہا کرتے تھے: ’’جب تم شام کرلو تو صبح کا انتظار نہ کرواور جب تم صبح کرو تو شام کا انتظارنہ کرو‘ اور اپنی تندرستی کے زمانے میں اپنی (ممکنہ) بیماری کے لیے کچھ پس انداز کر کے رکھو‘ اور اپنی حیات سے اپنی موت ( یعنی عاقبت) کے لیے کچھ تیاری کر کے رکھو۔‘‘ ( صحیح البخاری)
حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا:
((مَا الدُّنۡيَا فِي الۡآخِرَةِ الَّا مِثْلُ مَا يَجۡعَلُ احَدُكَمۡ اُصْبُعَهُ فِي الۡيَمِّ، فَلۡيَنۡظُرۡ بِمَ يَرْجِعُ!)) (مسلم)
’’ دُنیا کی مثال آخرت کے مقابلے میں ایسی ہے کہ جیسے تم میں سےکوئی اپنی انگلی دریا میں ڈال کر نکال لے اور پھر دیکھے کہ پانی کی کتنی مقدار اس پر لگ کر آئی ہے۔ ‘‘
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ )) (رواہ مسلم)
’’دُنیا مؤمن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے۔ ‘‘
درج بالا حدیث دُنیا اور آخرت پر ایک اور زاویے سے روشنی ڈال رہی ہے۔قید خانہ کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ وہاں قیدی اپنی زندگی میں آزاد نہیں ہوتا‘ بلکہ کھانے پینے‘ سونے جاگنے‘ اٹھنے بیٹھنے غرض ہر معاملہ میں جیل کے داروغہ کے حکم کی پابندی کرنے پر مجبور ہوتا ہے ۔ قید خانہ میں اپنی مرضی بالکل نہیں چلتی بلکہ جیلر کے حکم کی پابندی کرنی پڑتی ہے۔ قید خانہ کا دوسرا قاعدہ یہ ہے کہ قیدی یہاں جی نہیں لگاتا اور اس کو اپنا گھر نہیں سمجھتا بلکہ ہر وقت وہاں سے نکلنے کا خواہش مند رہتا ہے۔ اس کے برعکس جنت کی خصوصیت یہ ہے کہ وہاں متقیوں کے لیے کوئی پابندی نہیں ہوگی ۔ ہر جنتی اپنی مرضی کی زندگی گزارے گا اور اس کی ہر خواہش اور تمنا پوری ہوگی۔
یہ حدیث ہمارے لیے ایک آئینہ ہے جس میں ہر مؤمن اپنا جائزہ لے سکتا ہے۔ اگر اس کے دل کا تعلق اس دُنیا کے ساتھ ایک قید ی کا سا ہوتا ہے تو وہ مؤمن ہے‘لیکن اگر اس نے اس دُنیاہی کو اپنا مقصود ومطلوب بنالیا ہے تو اس کا یہ حال کافرانہ ہے۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
((مَنْ اَحَبَّ دُنْیَاہُ اَضَرَّ بِآخِرَتِہِ، وَمَنْ اَحَبَّ آخِرَتَہُ اَضَرَّ بِدُنْیَاہُ، فَآثِرُوْا مَا یَبْقٰی عَلٰی مَا یَفْنٰی)) (مسنداحمد:۱۹۹۳۳)
’’جس نے اپنی دُنیا سے محبت کی اُس نے اپنی آخرت کو نقصان پہنچایا‘ اور جس نے اپنی آخرت کو پسند کیااُس نے اپنی دُنیا کو نقصان پہنچایا۔ پس تم باقی رہنے والی چیز کو فنا ہونے والی چیز پر ترجیح دو!‘‘
جو شخص دُنیا کو اپنا محبوب و مطلوب بنائے گا‘ اس کی اصل فکر وسعی دُنیا ہی کے لیے ہوگی۔ آخرت کو یا تو وہ بالکل ہی پس پشت ڈال دے گا یا اس کے لیے بہت کم جدّوجُہد کرے گا جس کا نتیجہ بہر حال آخرت کا خسارہ ہوگا۔ یہی بات سورۃ الکہف میں بھی فرمائی گئی ہے:
{قُلْ ھَلْ نُنَبِّئُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا (۱۰۳) اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا(۱۰۴)}
’’( اے نبی ﷺ!) آپ فرمادیجیے : کیا ہم تمہیں بتائیں کہ کون لوگ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ دُنیوی زندگی میں ان کی ساری دوڑ دھوپ سیدھے راستے سے بھٹکی رہی اور یہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ ‘‘
دوسری طرف جو شخص آخرت کو مطلوب و محبوب بنائے گا اس کی اصل فکر وسعی آخرت کے لیے ہوگی۔ وہ دُنیا کے لیے ضرورت سے زیادہ جدوجہد نہیں کر سکے گا اوریوں اپنی دُنیا کا نقصان کرے گا۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:
((اَلَا اِنَّ الدُّنۡيَا مَلۡعُوۡنَةٌ‘ مَلۡعُوۡنٌ مَا فِيۡهَا، اِلَّا ذِكۡرَ اللّٰہِ تَعَالىٰ، وَمَا وَالَاهُ، وَعَالِمًا اَوْ مُتَعَلِّمًا)) (سنن الترمذی:۲۳۲۲)
’’ خبردار !دُنیا اور جو کچھ دُنیا میں ہے اس پر خدا کی پھٹکار ہے سوائے خدا کی یاد کے اور ان چیزوں کے جن کا خدا سے کوئی تعلق اور واسطہ ہے اور سوائے عالم اور متعلّم کے۔‘‘
یعنی اس دُنیا میں صرف وہی چیزیں اور اعمال اللہ کی رحمت کے لائق ہیں جن کا اللہ تعالیٰ سے اور دین سے کوئی تعلق ہو۔ بر خلاف اس کے جو چیزیں اور اعمال اللہ تعالیٰ اور دین سے بے تعلق ہیں ( اور دراصل دُنیا ان ہی کا نام ہے) وہ سب اللہ کی رحمت سے محروم اور قابل لعنت ہیں۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’کیا کوئی ایسا ہے کہ پانی پر چلے اور اس کے پاؤں نہ بھیگیں؟‘‘ عرض کیا گیا: حضرت ! ایسا تو نہیں ہو سکتا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:’’ اسی طرح دُنیا دار گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا ۔‘‘(رواہ البیھقی شعب الایمان)
حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکر م ﷺ نے فرمایا:’’ جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو دُنیا سے اس کو اس طرح پرہیز کراتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے مریض سے پانی پرہیز کراتا ہے جبکہ اس کو پانی سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو ۔‘‘ (رواہ البخاری)
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن خطبہ دیا اور اپنے اس خطبہ میں ارشاد فرمایا:’’ سن لو اور یاد رکھو کہ دُنیا ایک عارضی اور وقتی سودا ہے جو فی الوقت حاضر اور نقد ہے ( اور اس کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے۔ اسی لیے) اس میں ہر نیک و بد کا حصّہ ہے اور سب اس سے کھاتے ہیں۔ اور یقین کرو آخرت مقررہ وقت پر آنے والی ایک سچی اٹل حقیقت ہے اور مکمل قدروقیمت رکھنے والا شہنشاہ اس میں ( لوگوں کے اعمال کے مطابق) جزا اورسزا کا فیصلہ کرے گا۔ یادرکھو کہ ساری خیر‘ خوش گواری اور اس کی تمام قسمیں جنت میں ہیں اور سارا شر‘دکھ اور اس کی تمام قسمیں دوزخ میں ہیں ۔ پس خبردار! ( جو کچھ کرو ) اللہ سے ڈرتے ہوئے کرو( اور ہر عمل کے وقت آخرت کے انجام کو پیش نظر رکھو) اور یقین کرو کہ تم اپنےاعمال کے ساتھ اللہ کے حضور میں پیش کیے جاؤ گے۔ پس جس شخص نے ذرہ برابر بھی کوئی نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی کوئی برائی کی ہوگی وہ بھی اس کو دیکھ لے گا۔ ‘‘
حُب ِدُنیا کا علاج
حُب دُنیا کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ انسانی نفس کو آرام‘ آسائش وآرائش بہت محبوب ہیں۔ دوسری یہ کہ انسانی نفس چاہتا ہے کہ اس کے آرام و آسائش اور نعمتوں میں کمی نہ ہو۔ کبھی کوئی تکلیف یا پریشانی نہ ہو۔ اس کی یہ نعمتیں اسے مستقل ملتی رہیں۔ لہٰذا انسان کو اپنے نفس کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ دونوں اعتبار ات سے یہ دُنیا ناقص ہے۔ نعمتوں کا دوام صرف جنت ہی میں ہو سکتا ہے اور خوبی کے اعتبار سے بھی جنت ہی کی نعمتیں زیادہ افضل ہیں۔ اس کے لیے انسان کو لازماً مجاہدہ کرنا پڑے گا۔
علاوہ ازیں درج ذیل اعمال بھی دُنیا کی محبت کو کم کرنے میں مددگار ہوں گے :
(۱) انفاق : بنیادی ضروریات سے زیادہ مال و اسباب اللہ کی راہ میں خرچ کردینا انفاق کا وہ درجہ ہےجس کا پسندیدہ ہونا شرعاً بھی ثابت ہے۔ تاہم حُب دُنیا کے علاج کے لیے اسے لازماًسمجھنا چاہیے ۔ اس سے بھی بڑھ کر ہر وہ زائد از ضرورت چیز فوری طور پر کسی مستحق کو دے دی جائے جس کی طرف نفس میں رغبت پائی جاتی ہو۔
(۲)دنیا سے بے رغبتی : اپنی ذات کے لیے دنیا سے بقدرِ ضرورت حصہ لیتے ہوئے اہل خانہ کو بھی اسی طرزعمل کی تلقین کی جائے۔ اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خواہش مند اولاد پرزادِ راہ اور زادِ آخرت کا فرق واضح کیا جائے۔اولاد سے اس طرح گفتگو نہ کریں کہ تمہیں لازماً ڈاکٹر بننا ہے یا انجینئر‘ بلکہ ا ن کے مستقبل کے بارے میں یوں گفتگو کریں کہ تمہیں لازماً ہرحال میں مسنون زندگی گزارنی ہے خواہ اس کا نتیجہ دنیاوی تنگی ہی کیوں نہ ہو۔
(۳) موت کی یاد: قبر کا دھیان اور عبرت کے حصول کے لیے قبرستان میں باقاعدگی سے جانا۔
(۴) ہر جمعہ کو سورۃ الکہف کا ترجمہ و تفسیر کے ساتھ بغور مطالعہ خصوصاً اس کا پہلا اور آخری رکوع۔
محترم رفقائے گرامی ! آئیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں آخرت کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی گزرانے کی توفیق عطا فرمائے اور دُنیا و مافیہا کی محبت ہمارے دلوں سے نکال دے ۔ آمین یا ربّ العالمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026