رمضان اورقرآن کا باہمی تعلقاحمد علی محمودی
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی تمام مخلوقات میں انسان کو اشرف واکرم بنایااور اس کی فطرت میں نیکی اور بدی‘ بھلائی اور برائی ‘ تابعداری اورسرکشی ‘ خوبی اورخامی‘غرض دونوں قسم کی صلاحیتیں اور استعدادیں یکساں طور پر رکھ دی ہیں۔ اسی کا ثمرہ اور نتیجہ ہے کہ کسی بھی انسان سے حسنات بھی ممکن ہیں اور سیئات بھی۔اس کے باوجود اگر کوئی سیئات ومعصیات سے مجتنب ہوکر اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو حسنات وطاعات سے مزین اور آراستہ کرلے تو یہ اس کے کامیاب و کامران ہونے اور خالق ومالک کے نزدیک اشرف واکرم ہونے کی سب سے بڑی نشانی ہے ۔ یہی تقویٰ وپرہیزگاری ہے جو روزہ کا مقصد ِاصلی ہے‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ(۱۸۳)} (البقرہ)
’’اے ایمان والو! تم پر بھی روزہ رکھنا فرض کیا گیا ہے جیسے کہ فرض کیا گیا تھا تم سے پہلوں پر تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہوجائے۔‘‘
لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ میں اشارہ ہے کہ زندگی میں تقویٰ پیدا کرنے کے لیے روزہ کا بڑا اثر ہے۔ ماہِ صیام ہی کی ایک بابرکت رات میں قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن کریم آسمانِ دنیا پر نازل ہوئی‘ جس سے استفادہ کی بنیادی شرط بھی تقویٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ ٻ فِيْهِ ڔ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ(۲)} (البقرہ)
’’یہ الکتاب ہے ‘ اس میں کچھ شک نہیں۔ یا یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں ۔ ہدایت ہے پرہیز گاروں کے لیے ۔‘‘
رمضان اور قرآن کی مشترک خصوصیات
رمضان اور قرآن کی پہلی اور اہم مشترک خصوصیت تقویٰ ہے‘ جیساکہ قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں ذکر کیا گیا۔ دوسری مشترک خصوصیت شفاعت ہے۔تیسری خصوصیت جو رمضان اور قرآن دونوں میں مشترک طور پر پائی جاتی ہے ‘وہ قرب ِالٰہی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت کے وقت قاری کو اللہ تعالیٰ سے خاص قرب حاصل ہوتا ہے‘ ایسے ہی روزہ دار کو بھی اللہ تعالیٰ کا خاص قرب حاصل ہوتا ہے ۔ روزہ کے متعلق ایک حدیث قدسی کے یہ الفاظ بخاری و مسلم سمیت متعدد کتب ِاحادیث میں وارد ہوئے ہیں : ((اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ))’ ’روزہ خاص میرے لیے ہے اور مَیں خود ہی اس کی جزا دوں گا ۔‘‘ اعراب کے ذرا سے فرق کے ساتھ بعض محدثین نے اسےیوں بھی پڑھا ہے:((اَلصَّوْمُ لِیْ وَاَنَا اُجْزٰی بِہٖ)) ’’روزہ خاص میرے لیے ہے اور مَیں خود ہی اس کی جزا ہوں ۔‘‘
بلا شبہ نماز ‘ زکوٰۃ اور حج وغیرہ سبھی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور ان کی جزا بھی ظاہر ہے کہ بس وہی دے سکتا ہے اور دے گا ‘لیکن روزے کا تعلق چونکہ جسم سے زیادہ روح سے ہے اور روزہ جسم سے زیادہ روح کی تقویت اور تغذیہ کا ذریعہ ہے اور روح کو باری تعالیٰ کے ساتھ ایک خاص تعلق اور ایک خصوصی نسبت حاصل ہے جو جسم انسانی کو حاصل نہیں‘لہٰذا روزہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مَیں خود ہی روزہ کا بدلہ ہوں۔
اس حدیث ِقدسی کے بارےمیں داعی ٔ قرآن ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نے اپنے کتابچے ’’عظمت ِ صوم‘‘ میں سیر حاصل بحث کی ہے۔
رمضان کا قرآن کریم سے خاص تعلق
رمضان المبارک اسلامی تقویم (کیلنڈر) میں وہ بابرکت مہینہ ہےجس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم نازل فرمایا‘ ارشادِ الٰہی ہے:
{شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ ج} (البقرة:۱۸۵)
’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اُتارا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں۔‘‘
رمضان کی ایک بابرکت رات میں اللہ تعالیٰ نے لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر پورا قرآن کریم نازل فرمایا اور اس کے بعد حسب ِضرورت تھوڑا تھوڑا حضور اکرمﷺ پر نازل ہوتا رہا اور تقریباً ۲۳ سال کے عرصہ میں قرآن کا نزول مکمل ہوا۔ قرآن کریم کے علاوہ تمام صحیفے بھی رمضان میں نازل ہوئے‘ جیساکہ مسند احمد کی روایت کے مطابق حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ صحف ِابراہیمی اور تورات وانجیل سب کا نزول رمضان میں ہی ہوا ہے۔
نزولِ قرآن اور دیگر مقدّس کتب وصحائف کے نزول میں فرق یہ ہے کہ دیگر کتابیں جس رسول پر نازل ہوئیں‘وہ ایک ساتھ اورایک ہی مرتبہ نازل ہوئیں‘ جبکہ قرآنِ کریم لوحِ محفوظ سے پہلے آسمان پر رمضان کی مبارک رات یعنی لیلۃ القدر میں یک بارگی نازل ہوا اور پھر تھوڑا تھوڑا حسب ِضرورت نازل ہوتا رہا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
{ اِنَّآاَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ(۱) وَمَآ اَدْرٰىکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ (۲) لَیْلَۃُ الْقَدْرِ ڏ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَھْرٍ (۳)}(القدر)
’’یقیناً ہم نے اتارا ہے اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں۔اور تم کیا جانتے ہو کہ لیلۃ القدر کیا ہے ! لیلۃ القدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے ۔‘‘
سورۃ الدخان میں اس رات کا ذکر ’’لَیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ‘‘ کے نام سے آیا ہے :
{اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ } (آیت۳)
’’یقیناً ہم نے نازل کیا ہے اس (قرآن ) کو ایک مبارک رات میں۔‘‘
حضور اکرم ﷺکا رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کا شغل نسبتاً زیادہ رکھنا‘ حضرت جبرائیل علیہ السلام کا رمضان المبارک میں نبی اکرم ﷺ کو قرآن کریم کا دور کرانا‘ تراویح میں ختم قرآن کا اہتمام کرنا‘ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اور بزرگانِ دین رحمہم اللہ کا رمضان میں تلاوت کا خاص اہتمام کرنا‘ یہ سب امور اس خصوصیت کو ظاہر کرتے ہیں کہ رمضان اور قرآن کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ لہٰذا اس ماہ میں کثرت سے تلاوتِ قرآن میں مشغول رہنا چاہیے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ رمضان اور قرآن کا جسم اور روح کا سا تعلق ہے‘ رمضان جسم ہے تو قرآن کریم روح ہے۔
نمازِ تراویح
رمضان المبارک کے قرآن مجید کے ساتھ خاص ربط کا مظہر قیام اللیل ہے‘ جس کی مروّجہ صورت نمازِ تراویح ہے۔رسول اللہ ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں ہمیشہ قیام اللیل فرماتے۔ اپنی حیاتِ طیبہ میں آپﷺ نے اسے رمضان المبارک کی چند راتوں میں مسجد میں باجماعت بھی ادا فرمایا‘ لیکن اس خیال سے اس پر مداومت نہیںکی کہ کہیں اُمّت پر واجب نہ ہوجائے اور پھر اُمّت کے لیے اس کو ادا کرنے میں مشقت ہو۔
عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَةَ رضی اللہ تعالی عنہا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ خَرَجَ لَیْلَةً مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ فَصَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ، وَصَلّٰی رِجَالٌ بِصَلَاتِهٖ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوْا، فَاجْتَمَعَ أَکْثَرُ مِنْهُمْ، فَصَلّٰی فَصَلَّوْا مَعَهُ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوْا، فَکَثُرَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ مِنَ اللَّیْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہﷺ فَصَلّٰی فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهٖ، فَلَمَّا کَانَتْ اللَّیْلَةُ الرَّابِعَةُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ أَهْلِهٖ حَتّٰی خَرَجَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَلَمَّا قَضَی الْفَجْرَ أَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَتَشَهَدَ، ثُمَّ قَالَ:((أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَمْ یَخْفَ عَلَيَّ مَکَانُکُمْ وَلَکِنِّیْ خَشِیْتُ أَنْ تُفْتَرَضَ عَلَیْکُمْ فَتَعْجِزُوْا عَنْهَا))(صحیح البخاری)
’’حضرت عروہؒ(حضرت عائشہ ؓ کے بھانجے )سے روایت ہے کہ اُنہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بتایا کہ ایک رات رسول اللہﷺ آدھی رات کے وقت باہر تشریف لے گئے اور مسجد میں نماز پڑھنے لگے اور کتنے ہی لوگوں نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی۔ صبح کے وقت لوگوں نے اس کا چرچا کیا تو دوسرے روز اور زیادہ لوگوں نے آپﷺ کی اقتدا میں نماز پڑھی۔ صبح ہوئی تو لوگوں نے چرچا کیا۔ چنانچہمسجد میں حاضرین کی تعداد تیسری رات میں اور بڑھ گئی۔ رسول اللہﷺ باہر تشریف لائے اور آپ ﷺ نے نماز پڑھی تو لوگوں نے آپﷺ کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب چوتھی رات آئی تو نمازی مسجد میں سما نہیں رہے تھے(لیکن رسول اللہ ﷺ ساری رات تشریف نہیں لائے) یہاں تک کہ آپﷺ صبح کی نماز کے لیے تشریف لائے۔ جب نمازِ فجر پڑھ چکے تو لوگوں کی جانب متوجّہ ہو کرفرمایا: ’’تمہاری موجودگی مجھ سے پوشیدہ نہیں تھی‘ لیکن مَیں تم پراس نماز کےفرض ہو جانے اور تمہارے اس سے عاجز آجانے سے ڈرا۔ ‘‘
بعد ازاں حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم رمضان المبارک میں انفرادی طور پر اور چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی صورت میں قیام اللیل کا اہتمام کرتے رہے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا۔خلیفہٴ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرات صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے مشورہ اور اجماع سے مساجد میں بیس رکعت باجماعت نمازِ تراویح کا اہتمام فرمایا۔ اُس وقت سے اب تک پورے عالم اسلام میں جمہور اُمّت کا اسی پر عمل ہے اور تمام ائمہ اربعہ اس پر متفق ہیں۔ حرمین شریفین میں بھی آج تک بیس رکعت کا معمول چلا آرہا ہے۔ احناف کےنزدیک نمازِ تراویح سُنّت موٴکدہ ہے اور اس میں پورے قرآن کریم کی ایک بار تکمیل سُنّت ہے۔اس طرح رمضان میں نمازِ تراویح کی برکت سے خواندہ و ناخواندہ پر مسلمان کم از کم ایک بار قرآن کریم سن لیتے ہیں اور پورے قرآن کریم کی حلاوت آمیز تلاوت سے زبانیں حظ اٹھاتی ہیں‘ سماعتیں معطر ہوتی ہیں اور مسلم بستیوں میں لاہوتی پیغام کی گونج سنائی دیتی ہے۔
مزید یہ کہ رات کو کھڑے ہو کر نماز کی حالت میں قرآن پڑھنے یاسننے سے دین کا صحیح فہم حاصل ہوتا ہے ‘ اس پر ایمان مضبوط ہوتا ہے اور اس کے مطابق اپنی سیرت و کردار کو ڈھالنے کی تڑپ پیدا ہو تی ہے ۔ چونکہ ہم قرآن پڑھ یا سن رہے ہوتے ہیں تو اس میں سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ’’ہم نے سنا اور اطاعت کی‘‘کا عزم بھی شامل ہوتا ہے۔
رمضان میں قیام اللیل کا بہت بڑا اجر ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :
((مَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ))(صحیح البخاری)
’’جس نے رمضان میں بحالت ِایمان ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیے گئے۔‘‘
اَسلاف کا رمضان میں تلاوتِ قرآن کا خاص اہتمام
روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور تابعین وتبع تابعین رحمہم اللہ رمضان المبارک میں قرآن کریم کے ساتھ خصوصی شغف رکھتے تھے۔ بعض اسلاف واکابرین کے متعلق کتب میں تحریر ہے کہ وہ رمضان المبارک میں دیگر مصروفیات چھوڑ کر صرف اور صرف تلاوتِ قرآن میں دن رات کا وافر حصّہ صَرف کرتے تھے۔ مشہور فقیہ اور محدث امام مالک ؒجنہوں نے حدیث کی مشہور کتاب ’’موطا‘‘مرتّب فرمائی‘ رمضان شروع ہونے پر حدیث پڑھنے پڑھانے کے سلسلہ کو موقوف کرکے دن رات کا اکثر حصّہ تلاوتِ قرآن میں صَرف کرتے تھے۔ بعض حضرات ماہِ ِرمضان اور خاص طور پر آخری عشرہ میں تین دن یا ایک دن میں قرآن کریم مکمل فرماتے تھے۔ رمضان کے مبارک مہینہ میں تکمیل قرآن کریم کے اتنے واقعات کتب میں مذکور ہیں کہ ان کااحاطہ نہیں کیا جاسکتا ۔ لہٰذا اس ماہ ِمبارک میں اپنا زیادہ سے زیادہ وقت قرآن کریم کی تلاوت میں صَرف کرنا چاہیے۔
ماہ ِرمضان میں زیادہ سے زیادہ قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام اور خود کو قرآنی احکام و ہدایات کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کریں۔ رمضان المبارک قرآن کریم کو پڑھنے پڑھانے اور سمجھنےسمجھانے کا مہینہ ہے۔ قرآن جیسے ہدایت نامہ کا نزول دنیائے انسانیت پر اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے‘ کیونکہ وہ انسان کو عظیم ترین کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ انسان کس طرح اپنی موجودہ زندگی بسرکرے کہ اُخروی زندگی میں ابدی کامیابی سے ہم کنار ہوسکے۔لہٰذا اس ماہِ مبارک میں اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت کا سب سے زیادہ تذکرہ کیا جائے۔ ماہِ رمضان کے بعد بھی تلاوتِ قرآن کا اہتمام کریں۔ نیز علماء کرام کی سرپرستی میں قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں۔ قرآن کریم میں وارد احکام و مسائل سمجھ کر اُن پر عمل کریں اور انہیں دوسروں تک بھی پہنچائیں۔
داعی ٔ قرآن ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نے رمضان المبارک ۱۴۰۴ھ/۱۹۸۴ء میں نمازِ تراویح کے ساتھ دورئہ ترجمہ ٔقرآن کا سلسلہ شروع کیا تھا‘ جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے شرفِ قبول عطا ہوا۔ اب قرآن فہمی کا یہ سلسلہ ملک کے طول وعرض میں سینکڑوں مقامات پر جاری ہے۔
تلاوتِ قرآن کا اجر عظیم
اگر ہم قرآن کریم کے معنی ومفہوم کو سمجھ نہیں پا رہے‘ تب بھی ہمیں تلاوت ضرور کرنا چاہیے‘ کیونکہ قرآن کی تلاوت بھی مطلوب ہےاوریہ خود ایک مستقل عبادت ہے‘ خواہ تلاوت کرنے والا اس کا مفہوم سمجھے یا نہ سمجھے۔ ہاں اگر تلاوت کے ساتھ معنی و مفہوم بھی سمجھ رہاہے تو یہ نورٌ علی نورہے۔حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
((مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ فَلَہُ بِہٖ حَسَنَۃٌ ، وَالْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ أَمْثَالِھَا، لَا أقُوْلُ : اَلمّ حَرْفٌ ، وَلٰکِنْ ألفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِیْمٌ حَرْفٌ)) (رواه الترمذي والدارمي)
’’جو شخص قرآن کا ایک حرف پڑھے گا تو اس کے لیے ہر حرف کے عوض ایک نیکی ہے جو دس نیکیوں کے برابر ہے (یعنی قرآن کے ہر حرف کے عوض دس نیکیاں ملتی ہیں)۔ مَیں یہ نہیں کہتا کہ الٓمّ ایک حرف ہے‘ بلکہ الف ایک حرف ہے ‘لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے (یعنی الٓمّ کہنے میں تیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔)‘‘
احادیث سےیہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص قرآن کو ٹھیک طرح سے پڑھنا نہیں جانتا اور سیکھتے ہوئے اٹک اٹک کر پڑھتا ہے تو اس کو اس مشقت کی وجہ سے دوہرا اجر ملتا ہے۔ اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((اَلَّذِيْ يَقْرَأُ القُرْآنَ وَهُوَ مَاهِرٌ بِہٖ مَعَ السَّفَرَةِ الكِرَامِ البَرَرَةِ، وَالَّذِیْ یَقْرَأُ القرآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِیْہِ وَھُوَ عَلِیْہِ شَاقٌ لَهُ أجْرَانِ))(متفق عليه)
’’جو شخص قرآن کے پڑھنے میں ماہر ہو‘ وہ معزز اور نیک کاتبوں(فرشتوں) کے ساتھ ہوگا‘ اور جو شخص قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہو اور اُسے پڑھنے میں مشقّت ہوتی ہو تو اُس کو دو گنا ثواب ملتا ہے۔‘‘
آیاتِ قرآنی اور تلاوتِ قرآن
{اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلاَوَتِہٖ ط اُولٰٓئِکَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖ ط وَمَنْ یَّکْفُرْ بِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ (۱۲۱)}(البقرہ)
’’وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے ‘وہ اس کی تلاوت کرتے ہیں جیسا کہ اس کی تلاوت کا حق ہے ۔وہی ہیں جو اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔اورجو اس کا کفر کرے گا تو وہی لوگ ہیں خسارے میں رہنے والے ۔‘‘
{وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰہُ لِتَقْرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ وَّنَزَّلْنٰہُ تَنْزِیْلًا(۱۰۶)}(بنی اسرائیل)
’’اور(اے نبی ﷺ!) قرآن کو ہم نے ٹکڑے ٹکڑے (کرکے نازل ) کیا ہے ‘ تاکہ آپ اسے لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر سنائیں۔‘‘
{ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا(۴)} (المزمل)
’’اور ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھتے جائیے۔‘‘
احادیث ِ مبارکہ اور تلاوت ِقرآن
(۱) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
((لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَیْنِ: رَجُلٌ عَلَّمَهُ اللّٰہُ الْقُرْآنَ فَهُوَ یَتْلُوْهُ آنَاءَ اللَّیْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ، فَسَمِعَهُ جَارٌ لَهُ فَقَالَ: لَیْتَنِي أُوْتِیْتُ مِثْلَ مَا أُوْتِيَ فُـلَانٌ ، فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا یَعْمَلُ. وَرَجُلٌ آتَاهُ اللّٰہُ مَالًا فَهُوَ یُهْلِکُهُ فِي الْحَقِّ ، فَقَالَ رَجُلٌ: لَیْتَنِي أُوْتِیْتُ مِثْلَ مَا أُوْتِيَ فُـلَانٌ فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا یَعْمَلُ)) (متفق علیہ)
’’حسد ( بمعنی رشک) تو صرف دو آدمیوں سے ہی کرنا جائز ہے۔ پہلا وہ شخص جسے اﷲ تعالیٰ نے قرآن (پڑھنا و سمجھنا) سکھایا تو وہ رات اور دن کے اوقات میں (یعنی صبح و شام کثرت سے) اس کی تلاوت کرتا ہے۔اس کا پڑوسی اُسے قرآن پڑھتے ہوئے سنتا ہے تو کہہ اٹھتا ہے کہ کاش مجھے بھی اس کی مثل قرآن عطا کیا جاتا تو مَیں بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح یہ کرتا ہے۔ اور دوسرا وہ شخص جسے اﷲ تعالیٰ نے مال بخشا ہے اور وہ اسے اﷲ تعالیٰ کی راہ میں صَرف کرتا ہے۔ دوسرا شخص اُسے دیکھ کر کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اِتنا مال ملتا جتنا اُسے ملا ہے تو مَیں بھی اسی طرح عمل کرتا جس طرح یہ کرتا ہے۔‘‘
(۲) حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:
((اَلصِّیَامُ وَالْقُرْآنُ یَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ یَوْمَ الْقِیَامَةِ، یَقُوْلُ الصِّیَامُ: أَیْ رَبِّ، مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِيْ فِیْهِ ، وَیَقُوْلُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّیْلِ فَشَفِّعْنِيْ فِیْهِ قَالَ: فَیُشَفَّعَانِ))(رواه احمد والطبرانی والحاکم)
’’روزہ اور قرآن بندے کے لیے قیامت کے دن شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا: اے میرے رب! مَیں نے اسے کھانے پینے اور خواہشِ نفس سے روکے رکھا‘ لہٰذا اس کے لیے میری شفاعت قبول فرما ۔قرآن کہے گا: اے میرے رب! مَیں نے اسے رات کے وقت نیند سے روکے رکھا (اور قیام اللیل میں یہ مجھے پڑھتا یا سنتا رہا) لہٰذا اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما۔ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: پس دونوں کی شفاعت قبول کر لی جائے گی۔‘‘
ہمارے کرنے کا کام
سوچیں اور غور کریں کہ ہم رمضان المبارک میں قرآن کریم کی کتنی تلاوت کررہے ہیں اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر کس قدر چل رہے ہیں۔ کیا ہم نے یہ منصوبہ بندی کی ہے کہ رمضان میں اپنی مصروفیات کو کم کرکے کس طرح رمضان گزارنا ہے ؟ بہتر ہےکہ ہم اپنی مصروفیات اور معمولات میں قرآن کےلیے خاص طور سے وقت نکالیں اورقرآن کریم کی تلاوت سے اپنے ایمان کو تازہ کریں۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا:
يَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَوْصِنِي؟ قَالَ:((أُوْصِيْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فَإِنَّهُ رَأسُ الْأَمْرِ کُلِّهٖ)) قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰہِ! زِدْنِي. قَالَ:((عَلَيْکَ بِتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ وَذِکْرِ اللّٰہِ، فَإِنَّهُ نُورٌ لَکَ فِي الْأَرْضِ، وَذُخْرٌ لَکَ فِی السَّمَاءِ (رواه ابن حبان والطبراني والبيهقي)
یا رسول اﷲ! مجھے کوئی وصیت فرمائیں۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’مَیں تمہیں اﷲ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ یہی سارے معاملے کی اصل ہے‘‘۔ مَیں نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! مجھے کچھ مزید وصیت فرمائیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: ’’(اے ابوذر!) تلاوتِ قرآن ضرور کیا کرو کہ یہ زمین میں تمہارے لیے نور اور آسمانوں میں تمہارے لیے (نیکیوں کا) ذخیرہ ہوگا۔‘‘
یہ بھی ضروری ہے کہ ہر مسلمان قرآن کریم کا کچھ نہ کچھ حصّہ یاد کرنے کی کوشش کرے۔ ہر روز ایک آیت کو اچھی طرح یاد کر لیا جائے تو اس بات کا امکان ہے کہ تیزی سے گزرتے وقت کے ساتھ قرآن کریم کا کافی حصّہ حفظ ہو جائے گا۔اس رمضان المبارک میں روزانہ ایک یا چند آیات یا جو نصاب بھی آپ اپنے لیے منتخب کریں‘ حفظ کرنے کی کوشش کریں۔ یہ کوشش بھی ہونی چاہیے کہ رمضان المبارک کے نورانی ماحول میں قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر پڑھنا یاسننا شروع کردیں اور جہاں کہیں کچھ اشکال یا پریشانی ہو تواہل علم(علماء کرام) سے رجوع کریں۔
قرآن اکیڈمی کے زیر ِ انتظام خط وکتابت کورس ‘ فہم دین کورسز‘فہم قرآن کلاس اور رمضان کی مبارک ساعتوں میں مختلف مساجد میں نمازِ تراویح کے ساتھ ہونے والے خلاصۂ قرآن یا ترجمہ وتفسیر قرآن میں شمولیت کرکے اپنے وقت کو قیمتی بنائیں۔ یاد رہے کہ ہم قرآن سیکھنے والے ہوں یا سکھانے والے ‘ سننے والے ہوں یا سنانے والے ‘الغرض کسی نہ کسی صورت میں ہمارا قرآن سے مستقل تعلق برقرار رہے۔ بلاشبہ ایسے ہی لوگ صاحب ِ فضیلت ہیںاور انہی کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺنے ارشاد فرمایا:
((خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہُ)) (صحيح البخاری)
’تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے ۔‘‘
دعاہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس ماہ ِ رمضان کے فیوض و برکات کو ہمارے لیے پورے سال پر محیط کردے۔ آمین یا ربّ العالمین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026