(نشری تقریر) عید الفطر اور عید الاضحی - ڈاکٹر اسرار احمد

12 /

اسلام کی دو سالانہ عیدیں

عید الفطر اور عید الاضحیاور اس موقع پر فقراء و مساکین کا لحاظڈاکٹر اسرار احمد ؒ
(۱۹۷۸ء کی ایک نشری تقریر)

 

عید الفطر اور عید الاضحی دو عظیم عبادات اور اسلام کے ارکانِ خمسہ میں سے دو اہم ارکان کے ساتھ ملحق ہیں۔ عید الفطر صومِ رمضان کے ساتھ اور عید الاضحی حج بیت اللہ کے ساتھ۔ ان دونوں میں ایک طرف دوگانۂ شکرانہ مع اضافی تکبیرات اور نماز کے لیے جاتے اور آتے ہوئے غلغلۂ تکبیر بلند کرتے رہنا مشترک ہیں‘ جس کا حکم قرآن میں بھی موجود ہے۔چنانچہ سورۃ البقرۃ میں صومِ رمضان سے متعلق آیت کا اختتام بھی ان الفاظ مبارکہ پر ہوا کہ :


{وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ھَدٰىکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ(۱۸۵)}
’’اور تاکہ تم پوری کرو تعداد اور تکبیر کرو اللہ کی اُس ہدایت پر جو اُس نے تم کو دی اور تاکہ تم شکر کرو!‘‘
اور سورۃ الحج میں فرمایا:
{کَذٰلِکَ سَخَّرَھَا لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللہَ عَلٰی مَا ھَدٰىکُمْ ۭ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ (۳۷)}
’’اور اس طرح اس نے ان (قربانی کے جانوروں) کو تمہارے لیے مسخر کر دیا‘ تاکہ تم اللہ کی تکبیر کرو اُس ہدایت پر جو اُس نے تمہیں عطا فرمائی اور (اے نبیﷺ) بشارت سنا دیجیے احسان کی روش اختیار کرنے والوں کو!‘‘
اسی طرح دونوں عیدوں کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے غرباء و فقراء اور محتاجوں اور مسکینوں کے لیے خاص اہتمام رکھا ہے۔ عید الاضحی کے موقع پر یہ ضرورت قربانی کے گوشت کے ذریعے پوری ہو جاتی ہے۔چنانچہ سورۃ الحج میں دوبار فرمایا کہ اس میں سے خود بھی کھائو اور غرباء و مساکین کو بھی کھلائو۔چنانچہ پہلے فرمایا:{فَکُلُوْا مِنْھَا وَاَطْعِمُوا الْبَاۗئِسَ الْفَقِیْرَ (۲۸)} ’’کھائو اُس میں سے خود بھی اور کھلائو فاقہ کش فقیروں کو بھی۔‘‘دوبارہ پھر فرمایا:{فَکُلُوْا مِنْھَا وَاَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ ط} (آیت۳۶) یعنی کھائو اس میں سے خود بھی اور کھلائو ان قانع لوگوں کو بھی جو صاحب ِاحتیاج ہونے کے باوجود صبر و قناعت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ----- اوران کو بھی جو بے تاب ہو کر دست ِسوال دراز کرنے پر مجبور ہو جائیں۔
عید الفطر کے موقع پر اسی غرض کے تحت اسلام میں صدقۂ فطر کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اس خوشی میں صاحب ِاستطاعت لوگوں کے ساتھ غرباء و مساکین بھی شامل ہو جائیں۔ یہ صدقہ ہر اُس مسلمان پر واجب ہے جو صاحب نصاب ہو‘ اور پھر اُس کو وسعت یہ دی گئی ہے کہ ایسا شخص صرف اپنی ہی طرف سے یہ صدقہ نہ کرے بلکہ اپنے زیر کفالت ہر ذی نفس کی جانب سے ادا کرے‘ یہاں تک کہ ایک بچہ اگر عین عید کی صبح کو تولد ہوا ہو تو اُس کی جانب سے بھی صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے۔ صدقۂ فطر کا ذکر اگرچہ قرآن میں تو موجود نہیں ہے تاہم متعدداحادیث ِنبویہ ﷺ میں اس کا ذکر نہایت وضاحت اور غایت درجہ تاکید کے ساتھ آیا ہے۔ مثلاً بخاری اور مسلم کی متفق علیہ روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان فرمایا:
فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ زَکَاۃَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمَرٍ اَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ، عَلَی الْعَبْدِ وَالْحُرِّ وَالذَّکَرِ وَالْاُنْثٰی وَالصَّغِیْرِ وَالْکَبِیْرِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، وَاَمَرَ بِھَا اَنْ تُؤَدّٰی قَبْلَ خُرُوْجِ النَّاسِ اِلَی الصَّلَاۃِ 
’’نبی اکرمﷺ نے مسلمانوں میں سے ہر غلام اور آزاد‘ہر مرد وعورت اور ہر چھوٹے بڑے پر صدقۂ فطر ‘ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو‘ لازم کیا ہے‘ اور حکم دیا ہے کہ یہ صدقہ نمازِ عید کے لیے جانے سے پہلے ادا کر دیا جائے!‘‘
اس حدیث میں اگرچہ اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ یہ صدقۂ فطر صرف صاحب ِ نصاب پر واجب ہے‘ لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے اور عقل سلیم کے لیے اس کا جاننا کچھ مشکل نہیں۔کھجوروں اور جَو کی وضاحت اس لیے کی گئی کہ یہی اہلِ مدینہ کی عام خوراک تھی۔ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو سے متوسط افراد پر مشتمل ایک کنبے کی ایک دن کی غذائی ضروریات کی کفالت ہوجاتی تھی۔ گویا ایک صاحب ِنصاب شخص کے گھر میں اگر کُل افراد دس ہیں تو اُس کے صدقہ فطر سے غریب مسلمانوں کے دس گھرانوں کی ایک دن کی خوراک کاانتظام ہو گیا۔
صاع کے تعین میں کسی قدر اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک وہ ہمارے اوزان کے اعتبار سے ساڑھے تین سیر کے لگ بھگ ہوتا ہے اور بعض کے نزدیک اس سے نصف‘ یعنی پَونے دو سیر کے لگ بھگ۔ اس کے تعین کے لیے لوگوں کو اپنے اپنے معتمد علیہ علماء کی طرف رجوع کرنا چاہیے‘ اور چونکہ ہمارے یہاں کی عام خوراک گندم ہے لہٰذا ساڑھےتین سیر یا پَونے دو سیر گندم کی جو قیمت بازار میں ہو اُس کے حساب سے ہر ہر فردِ خانہ کی جانب سے صدقۂ فطر اد اکرنا چاہیے۔
نمازِ عید کے لیے گھر سے روانگی سے قبل صدقۂ فطر کی ادائیگی کی تاکید کا اصل مقصود یہی ہے کہ غرباء و مساکین بھی عید کی خوشیوں میں آسودگی کے ساتھ شریک ہوسکیں۔ ایسا نہ ہو کہ کسی مسلمان آبادی میں لوگ عید کی خوشیاں منا رہے ہوں جبکہ اسی علاقے میں کوئی مسلمان گھرانہ فاقے سے ہو! صدقۂ فطر کی اس حکمت کو اس روایت میں بیان کیا گیا ہے جو سنن ابی دائود میں وارد ہوئی ہے ------- یعنی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے ‘آپؓنے فرمایا:
فَرَضَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ زَکَاۃَ الْفِطْرِ طُھْرًا لِلصِّیَامِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعَمَۃً لِلْمَسَاکِیْنِ

’’رسول اللہﷺ نے صدقۂ فطر اس لیے واجب اور لازم کیا ہے کہ لوگوں کے روزے اگر فضول اور لایعنی گفتگو یا کسی فحش بات کے باعث آلودہ ہو گئے ہوں تو اس سے پاک ہو جائیں اور ساتھ ہی محتاجوں اور مسکینوں کے کھانے کا بندوبست ہو جائے!‘‘
ان دونوں احادیث میں صدقۂ فطر کے لیے’ ’زکوٰۃ الفطر‘‘ کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔ یہاں اصل اشارہ اسی جانب ہے کہ جیسے فرض زکوٰۃ کا اصل حاصل لوگوں کے دلوں سے مال کی محبّت کی نجاست کو دُور کرناہے تاکہ لوگوں کی سیرتوں اور شخصیتوں کی تعمیر ان خطوط پر ہو سکے جو اُن کے خالق و مالک کو پسند ہیں‘ اسی طرح یہ زکوٰۃ الفطر درحقیقت روزوں کو معصیت کی آلودگی سے پاک کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ البتہ جس طرح فرض زکوٰۃ اسلام کے معاشی نظامِ عدل و انصاف کا اہم رکن ہے جس کے ذریعے معاشرے کے ان لوگوں کی کفالت ہوتی ہے جو کسی سبب سے معاشی دوڑ میں پیچھے رہ گئے ہوں اور اپنے پائوں پر نہ کھڑے ہو سکتے ہوں‘ اسی طرح زکوٰۃ الفطر سے عید کی خوشی میں پس ماندہ لوگوں کی شرکت و شمولیت کا مقصد بھی پورا ہو جاتا ہے۔
اللہ ہمیں اوّلاً ماہِ صیام کی برکتوں سے کماحقہ مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور اس مبارک مہینے کے اختتام پر صدقۂ فطر اد اکرنے کی توفیق بھی دے تاکہ ہمارے غریب بھائی عید کی خوشیوں میں ہمارے ساتھ شریک ہو سکیں۔ آمین‘ ثم آمین!