(منبرو محراب) خالق کابندوں سے خوبصورت خطاب - شجاع الدین شیخ

12 /

خالق کابندوں سے خوبصورت خطاب
حدیث ِقدسی کی ر وشنی میں

امیرتنظیم اسلامی شجاع الدین شیخ
(جامع القرآن‘ قرآن اکیڈمی لاہور میں ۱۶ دسمبر ۲۰۲۲ء کا خطابِ جمعہ)

خطبہ مسنونہ کے بعد!
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ الْغِفَارِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیْمَا یَرْوِیْہِ عَنْ رَّبِّہٖ عَزَّوَجَلَّ : اَنَّہٗ قَالَ :
((یَا عِبَادِیْ! اِنِّیْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِیْ، وَجَعَلْتُہٗ بَیْنَکُمْ مُّحَرَّمًا، فَـلَا تَظَالَمُوْا، یَا عِبَادِیْ! کُلُّـکُمْ ضَالٌّ اِلَّا مَنْ ھَدَیْتُہٗ، فَاسْتَھْدُوْنِیْ اَھْدِکُمْ، یَا عِبَادِیْ! کُلُّکُمْ جَائِـعٌ اِلَّا مَنْ اَطْعَمْتُہٗ، فَاسْتَطْعِمُوْنِیْ اُطْعِمْکُمْ، یَا عِبَادِیْ! کُلُّکُمْ عَارٍ اِلَّا مَنْ کَسَوْتُہٗ، فَاسْتَـکْسُوْنِیْ اَکْسُکُمْ، یَا عِبَادِیْ! اِنَّـکُمْ تُخْطِئُوْنَ بِاللَّیْلِ وَالنَّھَارِ، وَاَنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا، فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ اَغْفِرْلَــکُمْ‘ یَا عِبَادِیْ! اِنَّــکُمْ لَنْ تَـبْلُغُوْا ضَرِّیْ فَتَضُرُّوْنِیْ، وَلَنْ تَبْلُغُوْا نَفْعِیْ فَتَنْفَعُوْنِیْ، یَا عِبَادِیْ! لَوْ اَنَّ اَوَّلَــکُمْ وَآخِرَکُمْ، وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّــکُمْ، کَانُوْا عَلٰی اَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِّنْکُمْ، مَا زَادَ ذٰلِکَ فِیْ مُلْکِیْ شَیْئًا، یَا عِبَادِیْ! لَوْ اَنَّ اَوَّلَـکُمْ وَآخِرَکُمْ، وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّــکُمْ کَانُوْا عَلٰی اَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ مِّنْکُمْ، مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِنْ مُّلْکِیْ شَیْئًا، یَا عِبَادِیْ! لَوْ اَنَّ اَوَّلَــکُمْ وَآخِرَکُمْ، وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّـکُمْ، قَامُوْا فِیْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ فَسَاَلُوْنِیْ، فَاَعْطَیْتُ کُلَّ اِنْسَانٍ مَّسْاَلَـتَـہٗ، مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِمَّا عِنْدِیْ اِلَّا کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ اِذَا اُدْخِلَ الْبَحْرَ، یَا عِبَادِیْ! اِنَّمَا ھِیَ اَعْمَالُـکُمْ اُحْصِیْھَا لَـکُمْ، ثُمَّ اُوَفِّیْکُمْ اِیَّاھَا، فَمَنْ وَّجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللّٰہَ، وَمَنْ وَّجَدَ غَیْرَ ذٰلِکَ فَـلَا یَلُوْمَنَّ اِلَّا نَفْسَہٗ))

سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرمﷺ سے حدیث ِقدسی روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
’’میرے بندو! میں نے اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے کہ کسی پر ظلم کروں اور مَیں نے اسے تمہارے درمیان بھی حرام کر دیا ہے ‘لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے اُس کے جسے مَیں ہدایت دوں۔پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو تومَیں تمہیں ضرور ہدایت دوں گا۔ میرے بندو! تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اُس کے جسے مَیں کھانا دوں۔پس تم مجھ سے کھانا مانگو تومَیں تمہیں ضرور کھانا دوں گا۔ میرے بندو! تم میں سے ہر ایک برہنہ ہے سوائے اُس کے جسے مَیں لباس پہنائوں۔پس تم مجھ سے لباس طلب کرو تومَیں تمہیں لباس دوں گا۔ میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہو اورمَیں تمام گناہ معاف کرنے والا ہوں۔پس تم مجھ سے مغفرت طلب کرو تومَیں تمہیں بخش دوں گا ۔ میرے بندو! تم میرے نقصان کو نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے کوئی نقصان پہنچاؤ اور نہ تم میرے نفع کو پہنچ سکتے ہو کہ مجھے کوئی نفع پہنچاؤ۔ میرے بندو! تم میں سے اگلے پچھلے انسا ن اور جن‘ اگرسب کے سب اپنے میں سے متقی ترین دل والے شخص کی مانند بن جائیں تو اس سے میری حکومت میں بالکل اضافہ نہ ہو گا۔ میرے بندو! اگر تم میں سے اگلے پچھلے انسان اور جن‘ سب کے سب اپنے میں سے فاجر ترین دل والے شخص کی مانند بن جائیں تو اس سے میری حکومت میں بالکل کمی نہیں آئے گی۔ میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے انسان اور جن‘ تمام کے تمام کھلے میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے مانگیں اور مَیں ہر ایک کو اُس کے مانگنے کے مطابق دیتا جائوں تو اس سے میرے خزانوں میں بس اتنی سی کمی آئے گی جتنی سمندر میں سوئی ڈبو کر نکالنے سے سمندر میں کمی آتی ہے۔ میرے بندو! یہ تو تمہارے ہی اعمال ہیں جن کو مَیں تمہارے لیے محفوظ کر رہا ہوں ‘پھر مَیں تمہیں ان ہی کی پوری پوری جزا دوں گا ‘پس جو شخص اچھا نتیجہ پائے وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرے اور جسے اچھا نتیجہ نہ ملے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔‘‘
حدیث ِ قدسی کاتعارف
آج ہم ‘ان شاء اللہ ‘ایک بہت خوبصورت کلام کامطالعہ کریںگے جواللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سےکیاہے ‘جس کاذکر نبی اکرمﷺ نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے۔ یہ مبارک حدیث صحیح مسلم شریف میں نقل کی گئی ہے ۔ حدیث ِقدسی اللہ کاکلام ہوتاہے اوررسول اللہ ﷺ اس کو نقل فرماتے ہیں۔یہ وحی غیرمتلو ہوتی ہے ‘جس کی ہم نماز میں تلاوت نہیں کرسکتے ۔ وحی متلو قرآن حکیم کو کہاجاتاہے ۔ حدیث ِقدسی میں کلام‘ اللہ کاہوتاہے جسے رسول اللہﷺ نقل اورروایت فرماتے ہیں‘ البتہ وہ قرآن کاحصّہ نہیں ہوتا۔ یہ بات معروف ہے کہ قرآن حکیم کے علاوہ بھی نبی اکرمﷺ پروحی نازل ہوئی ۔ قرآن حکیم میں جوکچھ آگیا اسے ہم وحی متلو کہتے ہیں اورجوسُنّت اورحدیث ِرسولﷺ میں ہمیں میسر آتاہے اس کووحی غیرمتلو کہتے ہیں ۔حدیث ِقدسی کے حوالے سے بھی محدثین نے مجموعے مرتب فرمائے ہیں ۔ بعض نے سوسے بھی زائد احادیث قدسیہ کو جمع فرمایاہے ۔
جس حدیث کاآج ہم مطالعہ کررہے ہیں یہ امام نوویؒ نے ’’اربعین نووی‘‘ میں بھی نقل فرمائی ہے۔یہ حدیث نمبر۲۴ہے ۔ دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ اربعین چالیس کوکہاجاتاہے البتہ امام نووی ؒ نے بیالیس احادیث کوجمع فرمایا۔ چالیس چالیس احادیث کے مجموعوں اور بیانات کاذکرہمیں اُمّت میںمستقل ملتاہے ۔ اس کے پیچھے نبی اکرمﷺ کی روایات موجود ہیں ۔استادِ محترم و بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے خطبات ِجمعہ میں ’’اربعین نووی‘‘ کامطالعہ کروایاہے جوکتابی شکل اور آڈیو‘ ویڈیو میں بھی دستیاب ہے ۔اس حدیث میں خاص بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں سے براہِ راست کلام کر رہا ہے اوردس مرتبہ فرمارہاہے: یاعبادی!یعنی اے میرے بندو! یہ انداز بڑا خاص ہے۔ پھرخصوصیت سے اللہ تعالیٰ کی شانِ کریمی کابیان بھی آرہاہے ۔
ہمارا دین حقوق اللہ اور حقوق العبادکی تعلیم دیتاہے ۔ حقوق اللہ کے حوالے سے یہ امکان توہے کہ اللہ چاہے تواپنے حق کو معاف فرمادے مگر حقوق العباد کے ضمن میںیہ بات معروف اور درست ہے کہ متعلقہ بندے سے معافی لینابھی ضروری ہے ۔ مالی معاملات اورمال کالوٹایاجانا بھی لازم ہے ۔دین نے اس کی حساسیت بیان فرمائی ہے ۔پھرہم کھانے پینے اور لباس کے محتاج ہیں ۔ ہماری مادّی حاجات بھی ہیں۔ ان کاذکر بھی اللہ تعالیٰ فرمارہاہے ۔ہماری روحانی حاجات کاذکر بھی فرمارہاہے ۔ پھراللہ تعالیٰ اپنی شانِ کریمی کاذکر فرمارہاہے کہ وہ معاف فرمانے والا ہے اور اُس نے توبہ کادروازہ کھلا رکھا ہے۔تم اللہ سے بخشش کاسوال کرو‘وہ تمہیں معاف کرنے پرقادر ہے۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ اپنی شانِ بےنیازی کاذکر فرمارہاہے کہ اگر وہ تم سے عبادت کاتقاضا کررہاہے توتمہارے ہی بھلے کے لیے کر رہا ہے۔ اللہ کوتمہاری عبادات‘تمہارے اعمال کی حاجت نہیں ہے ۔تم محتاج ہو‘اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں ہے ۔ تم سارے کے سارے مل کرفاسق وفاجر ہو جائو‘ مشرک ہوجائو‘کافر ہوجائوتو پھر بھی اللہ کی شان میں کوئی کمی واقعی نہیں ہوگی۔اسی طرح اگر تم سارے کے سارے مل کرسب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہوجائوتواللہ کی شان میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔اللہ کے خزانے بیش بہاہیں اورتمہاری حاجات کم ہیں ۔اللہ کے خزانے نہ ختم ہونے والے ہیں۔معاشیات میں ہمیںکچھ اور سکھایاگیاکہ ہماری ضروریات زیادہ ہیںجبکہ ہمارے وسائل کم۔یہ مادّہ پرستانہ سوچ ہے ۔ا یمان تویہ کہتاہے کہ تمہاری اوقات اورحیثیت کچھ نہیں ‘ تمہاری ضروریات محدود ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے خزانے بیش بہااور لامحدود ہیں ۔اس پراللہ ہمیں مانگنے کی طرف متوجہ فرمارہاہے۔ آخر میں ذکرآئے گاکہ تمہارے اعمال کے نتائج روزِ محشر سامنے آنے ہیں ۔ یہ دنیاعارضی اورفانی ہے۔ جو کچھ کررہے ہو‘جوکہہ رہے ہو‘جوتمہارے باطن میں ہے ‘ جوظاہر میں ہے وہ سب اللہ کے ریکارڈ پرہے اوراس کانتیجہ سامنے آنے والا ہے۔ نتیجہ اچھاملے تواللہ کاشکر ادا کرنااوراپنے آپ کو کچھ نہ سمجھنا۔ نتیجہ برا نظرآئے تواپنے آپ کو ہی ملامت کرنا۔ یہ نکتے ہیں جو‘ان شاء اللہ‘ اس حدیث کے مطالعہ کے ذیل میں آئیں گے ۔ اب ہم اس کا مطالعہ شرو ع کرتے ہیں ۔
عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ الْغِفَارِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِیِّ ﷺ فِیْمَا یَرْوِیْہِ عَنْ رَّبِّہٖ عَزَّوَجَلَّ : اَنَّہٗ قَالَ :
’’سیدنا ابوذر غفاریؓ نبی اکرمﷺ سے حدیث قدسی روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔‘‘
ہم عموماً احادیث میں اس طرح پڑھتے ہیں کہ سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے یہ فرمایا۔ لیکن حدیث ِقدسی میں اس زنجیر کا معاملہ اللہ تعالیٰ تک جاتاہے ۔صحابی عرض کررہے ہیں کہ مَیں رسول اللہﷺ سے روایت کررہاہوںاس بارے میں جوآپ ﷺ نے روایت کیا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے یہ فرمایا۔
پہلی بات :ظلم نہ کرو
((یَاعِبَادی))’’ اے میرے بندو!‘‘
خطاب کے اس انداز کو محسوس کرناچاہیے ۔محسوس کریں گے تواپنی اوقات بھی یادر ہے گی کہ ہم بندے ہیں ۔ یہ جونعرے لگتے ہیں کہ میراجسم میری مرضی‘ میرافلاںمیری مرضی‘ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ اوقات یاد رکھو کہ تم بندے ہو‘ بندے بن کررہو۔ اللہ فرماتاہے :
((یَا عِبَادِیْ! اِنِّیْ حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلٰی نَفْسِیْ، وَجَعَلْتُہٗ بَیْنَکُمْ مُـحرَّمًا، فَـلَا تَظَالَمُوْا))
’’میرے بندو! مَیں نے اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے کہ کسی پر ظلم کروں اور مَیں نے اسے تمہارے درمیان بھی حرام کر دیا ہے ‘لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔‘‘
ظلم یہ ہے کہ: وضع الشییٔ فی غیرہ محلہ‘یعنی کسی شے کواُس کی جگہ سے ہٹا دینا۔ عام طو رپرہم ترجمہ کرتے ہیں کہ زیادتی کرجانا‘ حق تلفی کرجانا‘حق مار جانا۔ یہ ہم سب کومعلوم ہے ‘کیونکہ کئی مرتبہ ہمارا حق مارا جارہاہوتاہے‘ ہمارے ساتھ زیادتی ہورہی ہوتی ہے اورکئی مرتبہ ہم دوسروں کاحق ماررہے ہوتے ہیں ۔اس وقت اس کا یہی پہلو مطلوب ہے۔ویسے قرآن حکیم میں ظلم کالفظ شرک کے لیے بھی آیا۔ حضرت لقمان کی وصیت بایں الفاظ نقل ہوئی :{یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِکْ بِاللہِ ڲ اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ(۱۳)} (لقمٰن) ’ ’اے میرے بیٹے! اللہ کے ساتھ شرک مت کرنا۔ یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔‘‘ اس آیت میں ظلم کامفہوم اس معنی میں آرہاہے کہ معاذ اللہ! خالق کو مخلوق کے برابر کردینایامخلوق میں سے کسی کو اٹھاکر خالق کے برابر کردینا۔یہ بھی ظلم ہے۔ سب سے بڑا ظلم شرک ہے ۔ البتہ زیربحث حدیث میں اللہ تعالیٰ اپنے بارے میں فرمارہاہے کہ مَیں کسی کاحق نہیں ماروں گا‘کسی کے ساتھ زیادتی یابے انصافی نہیں کروںگا۔ مَیں نے اپنے اوپر ظلم کوحرام ٹھہرایا ہے اور تمہارے لیے بھی ظلم کوحرام ٹھہرایاہے کہ باہم ایک دوسرے پرظلم نہ کرو۔ کسی کی جان سے کھیلنا‘کسی کامال ہڑپ کرنا‘کسی کی آبروریزی کرنا‘یہ تمام کی تمام چیزیں ظلم کے ذیل میں آئیں گی۔ آبروریزی یہ بھی ہے کہ جھوٹا الزام لگایا جائے‘ یاکسی کا جھوٹا اسکینڈل بنایا جائے ‘یاکسی کی غیبت کی جائے ‘یاکسی کوگالی دی جائے وغیرہ ۔ ہمارے ہاں گالی دیناتوبائیں ہاتھ کاکھیل ہے۔ مال ہڑپ کرجانا وراثت کی تقسیم میں بھی ہوتاہے اور یہ بھی کہ کسی کے پلاٹ پرقبضہ کر لیا جائے۔پھریہ پوری قوم کو بیچ کھانابھی ہوا کرتاہے ۔یہ سب ظلم ہی ہے ۔جان سے کھیلنا جسمانی طورپراذیت پہنچانا بھی ہوگااور‘ معاذ اللہ‘ کسی کی جان تک لے لینے کامعاملہ ہوگا۔یہ سارے پہلوبندوں کے معاملات سے متعلق ہیں ۔
خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’تمہاری جان‘ تمہارامال‘ تمہاری آبروایسے ہی ایک دوسرے پرحرام ہیں جیسے عرفہ کادن ‘ذوالحجہ کامہینہ اور یہ سرزمین مقدّس حرام ہیں‘‘۔ جیسے ان کا تقدّس پامال کرناحرام ہے‘ اسی طرح تمہارا ایک دوسرے کی جان ‘ مال‘ آبرو سے کھیلنابھی حرام ہے۔یادرکھیے کہ یہ معاملات ہیں۔یہ نماز ‘روزہ ‘ زکوٰۃ‘ حج کے بعد کے معاملات ہیں۔یہ قربانی ‘صدقہ وخیرات اورعمروںکے علاوہ معاملات ہیں۔ بلاشبہ عبادات بھی مطلوب ہیں اورکوئی ان کی اہمیت کم نہیں کرسکتامگر پیچھے عقیدہ اور ایمان کتنامضبوط ہے اورعبادات نے میر ی زندگی پرکیااثر ڈالاہے‘یہ پتا اس وقت چلے گا جب میں مسجدسے باہر آتا ہوں‘ اعتکاف سے باہر آتا ہوں‘ حج سے واپس آتا ہوں۔ جب مَیں خیر کے ماحول سے نکل کرمعاملات کرنے نکلتاہوں ‘dealing کرتاہوں‘کاروبار کرتاہوں ‘ جاب کرتا ہوں‘ رویے اختیار کرتاہوں ۔ نیند اورپنج وقتہ نماز کاوقت نکال دیں توہمارے کم وبیش پندرہ گھنٹے لوگوںکے درمیان میں گزرتے ہیں ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ ہم سب کاامتحان نماز‘روزے‘حج‘داڑھی رکھنے اورٹوپی سرپررکھنے میں کم ہے جبکہ بندوں کے ساتھ معاملات کرنے میں زیادہ ہے ۔
ہم کہاں کہاں ظلم کررہے ہیں ۔ اس حوالے سے مَیں اپنے بارے میں جان سکتا ہوں‘آپ اپنے بارے میں جان سکتے ہیں اورہم سے زیادہ ہمارا رب جانتاہے ۔حقوق العباد کاموضوع احادیث میں آیاہے ۔ آج مہلت ہے‘معاملات سیدھے کرلو۔کل نہ درہم ہوگانہ دینار‘یعنی روپیہ پیسہ نہیں ہوگا۔ اللہ ہم سب کو اپنے معاملات سیدھاکرنے کی توفیق دے ۔ ماں باپ کوستانا‘بیوی کے ساتھ زیادتی کرنا ‘ پڑوسی کاحق مارنا‘رشتہ دار کوتنگ کرنا یہ سارے ظلم ہیں۔ اسی طرح اگر اپنے ملازمین سے بارہ گھنٹے کام لے کرآٹھ گھنٹے کی تنخواہ بھی وقت پرنہیں دے رہے تویہ بھی ظلم ہے ۔ ملازم چاہے مزدور ہویابڑے گریڈ کا افسر‘ اگر وہ بھی تنخواہ پوری لے رہا ہے لیکن کام وقت پر اور پورا نہیں کررہا تویہ بھی ظلم ہے۔ پس یہ مثالیں کافی ہیں ۔
دوسری بات: ہدایت کاسوال
((یَا عِبَادِیْ! کُلُّـکُمْ ضَالٌّ اِلَّا مَنْ ھَدَیْتُہٗ ، فَاسْتَھْدُوْنِیْ اَھْدِکُمْ))
’’ میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے اُس کے جسے مَیں ہدایت دوں‘پس تم مجھ سے ہدایت طلب کرو تومَیں تمہیں ضرور ہدایت دوں گا۔‘‘
ہدایت دینے کا اختیار اللہ کے پاس ہے اوریہ اللہ کااحسان ہے کہ اسے اُس نے اپنے پاس رکھا۔ کسی کوکافر قرار دینا یاجہنّم پہنچاناتو چھوٹی بات ہے‘ بندے تو خدائی کے دعوے پرآجاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہدایت ہے ۔ قارون کے پاس دولت تھی‘ فرعون کے پاس اقتدار تھا‘ابولہب کے پاس سرداری تھی ‘لیکن ان کے پاس ہدایت نہیں تھی توان کے ساتھ کیاہوا‘ہم سب کو معلوم ہے ۔ اس کے برعکس سیدنابلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘ چہرہ بظاہر سیاہ تھا‘مال نہیں تھا‘خاندان اونچا نہیں تھا‘غلام تھے ‘لیکن ان کے پاس ایمان کی دولت تھی۔ چنانچہ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں: بلال!تیرے قدموں کی آواز میں نے جنّت میں سنی۔ سیدناعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پکارتے ہیں: ’’سیدنا بلال‘‘ یعنی ہمارے آقا بلال۔ یہ تھا وہ معاشرہ جوکردار اورعقیدے کی بنیادپرقائم تھا۔آج ہم اس معاشرے کو ترس رہے ہیں۔ جب مال ہی معیار بنے تو پھرچوری بھی ہوگی ‘ڈاکا بھی پڑے گا‘گردن بھی اڑے گی‘بھائی اپنے بھائی کو قتل بھی کرے گا کیونکہ مال ہے توعزت ہے ۔اس حوالے سے فرمانِ الٰہی ہے:
{اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ط}(الحجرات:۱۳)
’’یقیناً تم میں سب سے زیادہ با عزت اللہ کے ہاں وہ ہے جو تم میںسب سے بڑھ کر متقی ہے۔‘‘
بہرحال ‘دوسری ہدایت یہ ہے کہ تم سارے کے سارے گمراہ ہواورمَیں ہدایت دیتا ہوں۔تم مجھ سے ہدایت مانگو‘مَیں تمہیں ہدایت عطا کروں گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور آسمانی کتب کو ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{وَاِنَّکَ لَتَہْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ(۵۲)} (الشوریٰ)
’’اور آپؐ یقیناً سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔‘‘
اللہ کے رسولﷺ نے قرآن کے بارے میں فرمایا:((ھُوَ الصِّرَاطُ الْمُستقیم)) ’’یہ سیدھاراستہ ہے ‘‘۔اللہ نے قرآن ہمیں رسول اللہﷺ کے ذریعے دیا۔ قرآن حکیم کاعملی نمونہ حضورﷺ کی سیرت سے ملا۔ اللہ کے رسول ﷺ اپنی ہرنماز میں تلاوت کرتے تھے: {اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ}۔ہمارے استاد ڈاکٹر عبدالسمیع صاحب فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جس دن دنیا سے تشریف لے گئے اس دن کی آخری نماز کی آخری رکعت میں بھی حضور ﷺ نے سورۃالفاتحہ تلاوت کی تھی ۔ جن کے ذریعے قرآن ملا‘جن کے ذریعے ایمان کی دولت ملی‘جن کے ذریعے یہ راستہ ملا‘ وہ ہدایت کی یہ دعا نمازوں میں جاری کرگئے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم ہدایت کی دعا کرنے کےکتنے محتاج ہیں۔سورۃ الفاتحہ وہ دعا ہے جو دل سے نکلنی چاہیے۔ انفرادی نمازوں میں کبھی کبھاراگر دس مرتبہ بھی اسے دہرالیں تومضائقہ نہیں۔ امام احمدبن حنبل ؒ کاصدیوں پراناایک چھوٹا ساکتابچہ ہے :’’کتاب الصلوٰۃ‘‘۔ اردو میں ترجمہ بھی ہے ۔ امام احمدبن حنبل ؒ فرماتے ہیں: ’’تم کیسے ایک ہی سانس میں سورۃ الفاتحہ پڑھ جاتے ہو!الحمدللہ پڑھتے ہوئے تمہیں اللہ کی نعمتوں کاخیال نہیں آتا؟ربُّ العالمین کہتے ہوئے اللہ کی عظمت کااحساس نہیں ہوتا؟رحمان و رحیم کہتے ہوئے اس کی شفقت کاادراک نہیں ہوتا؟ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کہتے ہوئے تمہاری ٹانگیں کبھی کانپتی ہیںکہ نہیں؟ اِیَّاکَ نَعْبُدُ کہتے ہوئے تمہیں اپنے اس دعوے پراعتماد ہے کہ تم واقعتاًاس کی بندگی کررہے ہو؟ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ کہتے ہوئے کیاتمہیں یقین ہے کہ تم اپنے مالک اللہ ہی کو نفع ونقصان کامالک سمجھتے ہو‘کسی سیٹھ یاکسی وزیر کو نہیں ؟ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کہتے ہوئے تمہیںاحساس ہےکہ تم کس قدرمحتاج ہو اور کس قدر تمہیں ہدایت کی ضرورت ہے ؟اللہ کے فضل سے اہل ایمان جب جنّت پہنچیں گے توان کی زبان پرشکرکاترانہ ہوگا:
{الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ ھَدٰىنَا لِھٰذَاقف وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَـوْ لَآ اَنْ ھَدٰىنَا اللہُ ج} (الاعراف:۴۳)
’’ کل شکر اور کل تعریف اُس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچادیا‘ اور ہم یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر اللہ ہی نے ہمیں نہ پہنچا دیا ہوتا۔‘‘
سورۃ الفاتحہ کاترجمہ توسب کویاد ہوگا۔ کوئی کہے کہ مجھے یاد نہیں تومَیں پوچھوں گاکہ : اردو آتی ہے ؟وہ کہے گاہاں! تومیں کہوں گاکہ آپ کو آتاہے۔سورۃ الفاتحہ کے ۸۵فیصد الفاظ ہم اردو زبان میں استعمال کرتے ہیں ۔حمد‘ اللہ‘ رب‘ عالَم‘ رحمٰن‘ رحیم‘ مالک‘ یوم‘ صراط‘ مستقیم‘ سارے الفاظ اردو میں مستعمل ہیں۔دوچار الفاظ ہم استعمال نہیںکرتے۔اِیَّاکَ ہم استعمال نہیں کرتے۔ نَسْتَعِیْن: استعانت ہم اردو میں استعمال کرتے ہیں۔ ضَالِّیْنَ : ضال اردو میں بھی استعمال ہوجاتاہے‘ تھوڑا مشکل لگے گا۔ پہلی تین آیتوں کے سارے الفاظ ہم اردومیں استعمال کرتے ہیں۔ آج یہ ارادہ کرلیں کہ نماز ٹھہرٹھہر کر ادا کروں گااور سورۃالفاتحہ کی دعادل سے مانگوں گا۔ اللہ ہم سب کو توفیق دے! یہ دوسری بات ہدایت ہے جواللہ نے ہماری سب سے بڑی حاجت کاذکر فرمادیا۔اسے پچھلی بات سے جوڑیے ۔ ظلم کرنے والے کو ہدایت نہیں ملتی۔ پہلے اللہ نے ظلم کرنے سے منع کیا‘اب ہدایت کاذکرکیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{وَاللہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ(۸۶)} (آل عمران)
’’اور اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘
توprerequisiteیہ ہے کہ ظلم چھوڑو تو تمہیں ہدایت ملے گی اورہدایت کے تم محتاج ہوتو اسےاللہ سے مانگو۔ اللہ ہمیں مانگنے والابننے کی توفیق عطا فرمائے ! ہم بڑے کنجوس ہوگئے ہیں ۔بعض اختلافی نوعیت کے مسائل کاذکر نہیں کرتا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اجتماعی دعا کے قائل نہیں ہیں ۔ نہ ہوں‘ لیکن دعاکے توقائل ہیں نا!اپنے آپ کو چیک کریں کہ ۲۴گھنٹے میں ہم نے شعوری طورپراللہ سے ہدایت کی دعا کتنی مرتبہ مانگی اوراپنی ذات کا تجزیہ کیا!سٹاک مارکیٹ کے ریٹ‘انوسٹمنٹ کے ریٹ مَیں کتناچیک کرتاہوں ‘جبکہ میرا ہدایت کا معاملہ آگے گیا یا پیچھے گیا‘ یہ کتنا چیک کرتا ہوں۔ پتاچل جائے گا۔ چیک کریں پچھلے۲۴گھنٹوں میں ہم نے اللہ سے جنّت کاسوال کتنی مرتبہ کیاجومفت میں ملنے والی شے نہیں ؟اسی طرح جہنّم سے بچنے کاسوال کتنی مرتبہ کیا؟پتاچل جائے گا کہ ہم دعا مانگنے میں کتنے سنجیدہ ہیں!
تیسری بات:کھانے کا سوال
((یَا عِبَادِیْ! کُلُّکُمْ جَائِـعٌ اِلَّا مَنْ اَطْعَمْتُہٗ، فَاسْتَطْعِمُوْنِیْ اُطْعِمْکُمْ))
’’ میرے بندو! تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اُس کے جسے مَیں کھانا دوں‘ پس تم مجھ سے کھانا مانگو تومَیں تمہیں ضرور کھانا دوں گا۔ ‘‘
ہم کہتے ہیں کہ مَیں نے کھالیا‘حالانکہ یہ دعابچپن سے یاد کی ہوئی ہے :اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا......’’تمام شکراورتعریف اللہ کے لیے جس نے ہمیں کھلایا اور پلایا......‘‘ ایک آدھ حرف کے فرق سے زمین و آسمان کا فرق واقع ہو جاتا ہے۔ مَیں نے کھایانہیں بلکہ اُس نے مجھے کھلایا۔ یوں اوقات یاد رہے گی اور ایک ایک لقمہ کی قدروقیمت واضح ہوگی۔ میرا زیادہ وقت کراچی میں گزرتاہے ۔ ہم اپنے شہروںمیں دیکھ سکتے ہیں کہ بڑے بڑے رہائشی علاقوں میں کھاناڈمپ ہوتاہے ۔ذرا صبح جاکرچیک کرلیں‘شاید وہاں کچھ لوگ کچرے میں سے کھاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ناشکری ہورہی ہے ۔ پھرہم روتے ہیں کہ ہماری معیشت سنبھل نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ(۷)} (ابراھیم)
’’اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا اور اگر تم ناشکری کرو گے تو یقیناً میرا عذاب بھی بہت سخت ہے۔‘‘
اورعذاب صرف آخرت ہی میں نہیں آتا‘دنیامیں بھی نازل ہوتا ہے۔ اللہ حفاظت فرمائے! اب ہماری مادّی حاجات کاذکر ہورہاہے ۔ ہم کس قدر ایک ایک لقمہ کے محتاج ہیں ۔ ہم سب کو پتاہے کہ ہم سارے محتاج ہیں لیکن بھول جاتے ہیں ۔ اس لیے دعائوں کااہتمام کرناچاہیے۔ ایک ایک دعا میں پوراعقیدہ آجاتاہے ‘ پور ی فکرآجاتی ہے ۔ ایک ایک دعا ہماری اوقات یاد دلاتی ہے اورربّ کی عظمت بیان کرتی ہے۔
چوتھی بات: لباس کا سوال
((یَا عِبَادِیْ! کُلُّکُمْ عَارٍ اِلَّا مَنْ کَسَوْتُہٗ ، فَاسْتَـکْسُوْنِیْ اَکْسُکُمْ))
’’میرے بندو! تم میں سے ہر ایک برہنہ ہے سوائے اُ س کے جسے مَیں لباس پہنائوں‘پس تم مجھ سے لباس طلب کرو تومَیں تمہیں لباس دوں گا۔ ‘‘
اللہ کے رسولﷺ نے چن چن کرہمیں دعائیںسکھائی ہیں ۔لباس کی دعا ہے :
((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ کَسَانِیْ ھٰذَا وَرَزَقَنِیْہِ مَنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِنِّی وَلَا قُوَّۃٍ))
’’تمام شکراور تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے یہ لباس مجھے پہنایامیری طاقت اورمیری قوت کے بغیر۔ ‘‘
یہ تفصیل اپنی جگہ پرہے کہ ایک لقمہ جومَیں منہ میں لیتا ہوں اس کے پیچھے اللہ کی قدر ت کے کس قدر نظارے ہیں ۔کپڑا جومَیں اپنے جسم پرپہنتاہوں اس کے پیچھے قدرت کے کس قدر نظارے ہیں۔ مَیں اللہ کی قدرتوں اور نعمتوں کا کس قدر محتاج ہوں۔
پانچویں بات: مغفرت کا سوال
((یَا عِبَادِیْ! اِنَّـکُمْ تُخْطِئُوْنَ بِاللَّیْلِ وَالنَّھَارِ ، وَاَنَا اَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا‘ فَاسْتَغْفِرُوْنِیْ ))
’’میرے بندو! تم دن رات گناہ کرتے ہو اورمَیں تمام گناہ معاف کرنے والا ہوں‘پس تم مجھ سے مغفرت طلب کرو تومَیں تمہیں بخش دوں گا ۔‘‘
اللہ خالق ہے‘ اُس کو پتاہے کہ بندے خطا کریں گے ۔ خطا ہوجاناکوئی بڑا مسئلہ نہیں لیکن خطا پراَڑ جانا مسئلہ ہے ۔ شیطان اَڑگیا توراندئہ درگاہ ہوا‘جبکہ حضرت آدم ؑ سے لغزش ہوگئی یا ہمیں سمجھانے کے لیے کرا دی گئی اوروہ جھک گئے تواللہ تعالیٰ نے خلافت دے کرانہیں زمین پربھیج دیا۔ جھکنے میں عظمت ہے اور اَڑنے میں بربادی ہے ۔ بہرحال خطا ہوجائے تومعافی مانگنے پر اللہ بخش دے گا۔ اللہ جوچاہے سو کرے ۔ اس کا ذکر اللہ سبحانہ وتعالیٰ قرآن پاک میں جابجا کرتاہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرُ(۱)}(الملک)
’’اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
{فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ(۱۶)}(البروج)
’’وہ جو ارادہ کر لے ‘ کر گزرنے والا ہے۔‘‘
{لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْئَلُوْنَ(۲۳)} (الانبیاء)
’’وہ جو کچھ کرتا ہے اس سے جوابدہی نہیں ہو سکتی اور ان سب کی جوابدہی ہو گی۔‘‘
{اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّـہُمْ عِبَادُکَج وَاِنْ تَغْفِرْ لَہُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (۱۱۸)} (المائدہ)
’’اب اگرتُو انہیںعذاب دے تو یہ تیرے ہی بندے ہیں۔اور اگر تُو انہیں بخش دے تو تو زبردست ہے ‘حکمت والا ہے۔‘‘
{یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآئُ ط} (الفتح :۱۴)
’’ وہ بخشے گا جس کو چاہے گااور عذاب دے گا جس کو چاہے گا۔‘‘
امام الانبیاء محمدرسول اللہﷺ ’’بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر‘‘جن کامقام وشرف ہے‘وہ دن میں سو سومرتبہ استغفار کرتے تھے ‘حالانکہ آپؐ توخطائوںسے پاک تھے ۔ آپﷺ فرض نمازوں میں سلام پھیر کرپڑھتےتھے :
((اللّٰہ اکبر ،استغفر اللّٰہ ،استغفر اللّٰہ ،استغفر اللّٰہ))
حضرت محمدرسول اللہﷺ کی نمازیں کیسی ہوں گی!قیام‘ رکوع اور سجدہ میں آپﷺ کی کیا کیفیات ہوتی ہوں گی!اللہ سے ڈائریکٹ کلام کاکیسا معاملہ رہتا ہوگا!ان سب سے قطع نظرآپﷺ نمازوںکے بعد استغفار کااہتمام ضرور کرتے تھے ۔ علماء نےاس کی دوحکمتیں بیان کی ہیں : (۱) اُمّت کی تعلیم کے لیے ۔(۲) حضور ﷺ کی عاجزی کااظہار ۔یعنی مالک تیرے حکم پرسجدے توکیے ‘جھک توگئے لیکن اس جھکنے میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہو تواس پربھی استغفار۔ یہ ہمارا خیال ہے کہ استغفار کااہتمام صرف گناہوں پرہونا چاہیے ۔ وہاں استغفار نیکیوں پر ہو رہاہے اور نیکی بھی سید المرسلین محمدرسول اللہﷺ کی ۔ یہ اُمّت کی تعلیم کے لیےہے ‘مگر بندہ غور تو کرے ۔ آپﷺ کی یہ کیفیت تھی توہمیں کس قدر استغفار کااہتمام کرناچا ہیے۔اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے ! کوئی کہے کہ مَیں نے سُنّت کے مطابق سومرتبہ گن کراستغفارکرلیا ۔ ایک ہے سُنّت کاعلم ہونااور ایک ہے سُنّت کافہم ہونا۔ جو ذات خطائوں سے پاک اور معصوم ہے وہ اگر اتنااستغفارکر رہی ہے تو جو گناہ گار ہیں انہیں کتنااستغفارکرنا چاہیے ۔ یہاں پرفہمِ سُنّت ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں استغفار کی کثر ت کی توفیق عطا فرمائے !
چھٹی بات: بے نیاز ہستی
((یَا عِبَادِیْ! اِنَّــکُمْ لَنْ تَـبْلُغُوْا ضَرِّیْ فَتَضُرُّوْنِیْ ، وَلَنْ تَبْلُغُوْا نَفْعِیْ فَتَنْفَعُوْنِیْ))
’’ میرے بندو! تم میرے نقصان کو نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے کوئی نقصان پہنچاؤ ‘اور نہ تم میرے نفع کو پہنچ سکتے ہو کہ مجھے کوئی نفع پہنچاؤ۔ ‘‘
اللہ توبے نیاز ہے ‘تم فقیر ہو۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے :
{وَاللہُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ ج}(محمد:۳۸)
’’اور اللہ غنی ہے اور محتاج تو تم ہی ہو۔‘‘
وہ الصمد ہے ‘بے نیاز ہے ‘سب اُس کے محتاج ہیں ‘وہ کسی کامحتاج نہیں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم سارے کے سارے عبادت گزار ہوجائوتواللہ کاکوئی فائدہ نہیں ۔اسی طرح اگر تم سار ے کے سارے فاسق وفاجر ہوجائوتواللہ کاکوئی نقصان نہیں ۔نفع اورنقصان کااختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے نہ کہ تمہارے پاس ۔معاملات اسباب کے تحت چلتے ہیں جو اللہ نے تمہارے لیے بنائے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسباب کا پابند نہیں ہے ‘ وہ محتاج نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور بی بی مریم سلام اللہ علیہا کے بارے میں مسیحیت کے ماننے والوں نے الوہیت کا جوتصور اختیار کیا تھا‘اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے تین سادہ لفظوں میں اس سارے تصوّرکو ردّ کردیا۔ فرمایا:
{کَانَا یَاکُلٰنِ الطَّعَامَ ط} (المائدہ:۷۵)
’’ دونوں کھانا کھاتے تھے۔‘‘
یہ جملہ قرآن کریم میں اس لیے آ رہا ہے کہ جو کھاتا ہے وہ محتاج ہے‘ جوپیتاہے وہ محتاج ہے اور محتاج کو تم معبود بنائے بیٹھے ہو! {وَھُوَ یُطْعِمُ وَلَا یُطْعَمُ ط}(الانعام:۱۴) ’’اللہ تعالیٰ کوکھلایانہیں جاتا بلکہ اللہ کھلاتاہے ۔‘‘ بہرحال اللہ کے ساتھ نفع نقصان کا کوئی معاملہ نہیں ہے‘ بلکہ یہ اختیار رکھنے والا تو خود اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہے ۔اگلے الفاظ اسی کے تسلسل میں ہیں۔
ساتویں بات:اللہ کو عبادات کی حاجت نہیں
((یَا عِبَادِیْ! لَوْ اَنَّ اَوَّلَــکُمْ وَآخِرَکُمْ، وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّــکُمْ، کَانُوْا عَلٰی اَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِّنْکُمْ، مَا زَادَ ذٰلِکَ فِیْ مُلْکِیْ شَیْئًا۔ یَا عِبَادِیْ! لَوْ اَنَّ اَوَّلَـکُمْ وَآخِرَکُمْ، وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّــکُمْ کَانُوْا عَلٰی اَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ مِّنْکُمْ، مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِنْ مُّلْکِیْ شَیْئًا))
’’میرے بندو! تم میں سے اگلے پچھلے ‘انسا ن اور جِن‘ اگرسب کے سب اپنے میں سے متقی ترین دل والے شخص کی مانند بن جائیں تو اس سے میری حکومت میں بالکل اضافہ نہ ہو گا۔ میرے بندو! اگر تم میں سے اگلے پچھلے‘ انسان اور جن‘ سب کے سب اپنے میں سے فاجر ترین دل والے شخص کی مانند بن جائیں تو اس سے میری حکومت میں بالکل کمی نہیں آئے گی۔‘‘
کیاہم سارے کے سارےانسان اورجنات شمار کرسکتے ہیں ؟ہرگز نہیں ! شروع سے آخرتک ان کاشمار کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے ۔اللہ کوہماری عبادات کی حاجت نہیں ۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:بالفرض ایک شخص اپنی پیدائش سےموت کے وقت تک سجدے کی حالت میں رہے تو وہ بھی کل قیامت کے دن کھڑا ہوگا اور اللہ کے جلال کو دیکھے گا تو ساری زندگی کے ا س عمل کی اس کی نگاہوں میں کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔(جامع ترمذی) تم سارے کے سارے فاسق وفاجر ہوجائو تو اللہ کاکوئی نقصان نہیں ۔تم سارے کے سارے متقی ‘پرہیزگار ہوجائوتواللہ کاکوئی فائدہ نہیں ۔انسان یہ اعمال اپنے فائدے کےلیے کرتاہے ۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے :
{وَمَنْ جَاہَدَ فَاِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفْسِہٖ ط} (العنکبوت:۶)
’’اور جو کوئی بھی جہاد کرتا ہے تو وہ اپنے (ہی فائدے کے) لیے جہاد کرتا ہے۔‘‘
{وَمَنْ شَکَرَ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ ج} (النمل:۴۰)
’’اورجوشکرادا کررہاہے تواپنے ہی بھلے کے لیے ۔ ‘‘
{مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ ج}
’’ جس کسی نے اچھا کام کیا تو اُس نے اپنے ہی (بھلے کے) لیے کیا۔‘‘
اللہ کوتمہارے سجدوں ‘ محنتوں اور عبادات کی کوئی حاجت نہیں ۔ اللہ تعالیٰ کسی بھی قسم کے زعم اورتکبر سے ہماری حفاظت فرمائے!
آٹھویں بات:ہرحاجت اللہ ہی سے مانگو
((یَا عِبَادِیْ! لَوْ اَنَّ اَوَّلَــکُمْ وَآخِرَکُمْ، وَاِنْسَکُمْ وَجِنَّـکُمْ، قَامُوْا فِیْ صَعِیْدٍ وَاحِدٍ فَسَاَلُوْنِیْ))
’’میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے ‘انسان اور جن‘ تمام کے تمام کھلے میدان میں کھڑے ہو کر مجھ سے مانگیں۔‘‘
الفاظ پرغور کیجیے ‘بڑے پیارے الفاظ ہیں ۔ آ ج ہم ۲۲ کروڑ کے لیے پریشان ہیں جبکہ اللہ فرماتاہے سارے جن وانس ایک چٹیل میدان میں کھڑے ہوجائیں اورسارے کے سارے مجھ سے سوال کرلیں ۔ کیاکیاسوال کریں گے ؟آئی فون ۱۴مل جائے ؟vivo کانیاماڈل مل جائے ۔آج یہی سوچ ہےنا ! اب توپرچیاں ملتی ہیں کہ مولوی صاحب دعا کرا لیں مراکش جیت جائے ۔ سارا ا سلام اور جہاد تو’’ فیفا‘‘ کے فٹ بال ٹورنامنٹ میں رہ گیا۔ دعا کرا دیں پاکستان انڈیا سے میچ جیت جائے ۔ جہاد کرکٹ کے میدان میں نظر آرہاہے ۔کوئی اللہ کی رحمت‘ اللہ کی ہدایت‘اللہ کافضل ‘ا للہ کاکرم‘اللہ کی عطا‘کوئی حسنہ‘کوئی عافیت بھی تمہاری لسٹوں میں ہے کہ نہیں ؟اللہ کہتاہے جائوسارے کے سارے سب کچھ مانگ لیں۔آگے فرمایا:
((فَاَعْطَیْتُ کُلَّ اِنْسَانٍ مَّسْاَلَـتَـہٗ))
’’اور میں ہر ایک کو اُس کے مانگنے کے مطابق دیتا جائوں۔‘‘
یہ توخالق کائنات ہی کہہ سکتاہے۔حکومت توکہے گی میرابجٹ ختم ہورہاہے‘حکمران کہے گاکہ میں تو ویسے ہی نقصان میں چل رہاہوں۔ اللہ کہتا ہے کہ نہیں ‘سارے کے سارے سب کچھ مانگیں اورہرایک کواُس کے مانگنے کے مطابق مَیں عطا کردوں۔
((مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِمَّا عِنْدِیْ اِلَّا کَمَا یَنْقُصُ الْمِخْیَطُ اِذَا اُدْخِلَ الْبَحْرَ))
’’تو اس سے میرے خزانوں میں پس اتنی سی کمی آئے گی‘ جتنی سمندر میں سوئی ڈبو کر نکالنے سے سمندر میں کمی آتی ہے۔‘‘
یہ ہے ایمان کامسئلہ۔ پس مانگنے والے بنو۔ خودکو مستحق بنانا پڑے گا۔ خزانوں کاعالم یہ ہے کہ کسی نے بڑاپیارا جملہ کہا:’’پتھرکازمانہ اس لیے ختم نہیں ہوا کہ پتھر ختم ہو گئے ‘بلکہ اللہ نے کچھ اور دے دیا‘‘۔اللہ نے تمہارے لیے دُنیا سجائی ‘ جائو محنت کرو ۔جیسے کہاجاتاہے : مَنْ جَدَّ وَجَدَجومحنت کرے گاپا لے گا۔اللہ کے خزانوں میں کمی نہیں ہے ۔
نویں بات: اعمال کومحفوظ رکھنے والی ذات
((یَا عِبَادِیْ! اِنَّمَا ھِیَ اَعْمَالُـکُمْ اُحْصِیْھَا لَـکُمْ))
’’میرے بندو! یہ تو تمہارے ہی اعمال ہیں‘ جن کو میں تمہارے لیے محفوظ کر رہا ہوں۔‘‘
سورۃالمجادلہ میں اللہ فرماتاہے :{اَحْصٰىہُ اللہُ وَنَسُوْہُ ط}(آیت۶)’’اللہ نے ان (اعمال) کو محفوظ کر رکھا ہے جبکہ وہ انہیں بھول چکے ہیں۔‘‘بندے توعمل کرکے بھول گئے لیکن {وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا (۶۴)}(مریم) ’’اور آپ ؐ کا ربّ بھولنے والا نہیں ہے۔‘‘ بندوں کی توبڑی بڑی ہارڈڈِسکس کرپٹ ہوجاتی ہیں ‘ڈیٹا لیک ہوکرنکل جاتا ہے یا اُڑ جاتاہے ‘لیکن اللہ کے ہاں سے کچھ اُڑنے والا نہیں ہے ۔ارشاد ہوتاہے : {اِقْرَاْ کِتٰبَکَ ط کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًا(۱۴)}(بنی اسرائیل)’’پڑھ لو اپنا اعمال نامہ!آج تم خود ہی اپنا حساب کر لینے کے لیے کافی ہو۔‘‘
زیر درس حدیث میں آگے فرمایا:
((ثُمَّ اُوَفِّیْکُمْ اِیَّاھَا))
’’پھر مَیں تمہیں ان ہی کی پوری پوری جزا دوں گا۔‘‘
یہی ہماری پوچھ گچھ ہے ۔گوراچٹاچہرہ ہے تو اس پر جنّت نہیں ہے۔ سیاہ چہرہ ہے تو اس پر جہنّم نہیں ہے ۔ یہ غیراختیاری شے ہے۔ امریکہ میں پیدا ہوا تو محض وہاں پیدا ہونے کی بنیاد پر جنّت نہیں مل جائے گی اور سری لنکا میں پیداہوا ہوگا تو اس وجہ سے جہنّم میں نہیں ڈالا جائے گا ‘بلکہ تمہارے اعمال پرہی تمہیں نتائج ملیں گے ۔البتہ:
((فَمَنْ وَّجَدَ خَیْرًا فَلْیَحْمَدِ اللّٰہَ))
’’پس جو شخص اچھا نتیجہ پائے وہ اللہ تعالیٰ کی حمد کرے ۔‘‘
{وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ ھَدٰىنَا لِھٰذَاقف وَمَا کُنَّا لِنَھْتَدِیَ لَـوْ لَآ اَنْ ھَدٰىنَا اللہُ ج} (الاعراف:۴۳)
’’ اور وہ کہیںگے: کل شکر اور کل تعریف اُس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچادیا‘ اور ہم یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر اللہ ہی نے ہمیں نہ پہنچا دیا ہوتا۔‘‘
جب سُنّت کی تعلیم سامنے ہوتوفکراورسوچ سیدھی ہوتی ہے ۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:کوئی شخص تم میں سے اپنے عمل کی بنیادپر جنّت میں داخل نہیں ہوگا۔ پوچھاگیا: کیاآپ ﷺ بھی؟ فرمایا:ہاں! میں بھی نہیں‘ جب تک کہ اللہ کی رحمت میرے شامل حال نہ ہو۔سیّد المرسلین ﷺ یہ فرمارہے ہیں توباقیوںکی حیثیت کیاہے ؟یہاں حدیث ِقدسی میں رب تعالیٰ فرمارہاہے :
((وَمَنْ وَّجَدَ غَیْرَ ذٰلِکَ فَـلَا یَلُوْمَنَّ اِلَّا نَفْسَہٗ))
’’اور جسے اچھا نتیجہ نہ ملے تو وہ صرف اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔‘‘
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
{مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہٖ ج وَمَنْ اَسَآئَ فَعَلَیْہَاز ثُمَّ اِلٰی رَبِّکُمْ تُرْجَعُوْنَ(۱۵)}(الجاثیۃ)
’’جس کسی نے اچھا کام کیا تو اُس نے اپنے ہی (بھلے کے) لیے کیا‘اور جس کسی نے برا کام کیا تو اس کا وبال بھی اُسی پر ہو گا‘پھر تم اپنے رب کی طرف لوٹا دیے جائو گے۔‘‘
بدی کرے گا تو وبال اسی پرآئے گا۔ یہ بندوں کےاعمال ہی ہیں جو اللہ کے غضب کودعوت دیتے ہیں اور بندے کو جہنّم کی طرف لے جائیں گے ۔ جنّت میں جانے والامحض اللہ کے فضل سے جائے گا۔ہاں !اللہ کی شانِ کریمی ہے ۔ وہ کہہ سکتاہے :
{ادْخُلُوا الْجَنَّۃَ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۳۲)} (النحل)
’’ داخل ہو جائو جنّت میں اپنے اعمال کے بدلے میں۔‘‘
یعنی جائوجنّت میں اپنےاعمال کے سبب۔ وہ جوچاہے سوکہے لیکن بندے کی بندگی کاتقاضایہی ہے کہ وہ کہے: مالک یہ تیری عطااورفضل ہے‘ وگرنہ میں تو اس قابل نہ تھا ۔ جہنّم میں جانے والا اپنے آپ کوملامت کرے ‘نہ کہ کسی اور کو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں جہنّم سے محفوظ فرمائے اورجنّت الفردوس عطا فرمائے ۔ یہ بڑا پیار ا کلام ہے۔ اس حدیث ِ قدسی میں دس مرتبہ اللہ تعالیٰ کااپنے بندوں سے خطاب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان ہدایات پرعمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا ربّ العالمین!