مسلمانانِ پاکستان کے لیے
قرآن حکیم کی عملی راہنمائیڈاکٹر اسرار احمد ؒ
جامع مسجد قرآن اکیڈمی‘ ڈیفنس‘ کراچی میں
دورئہ ترجمہ قرآن کی اختتامی نشست سے خطاب
(بتاریخ: ۲۶ رمضان المبارک ۱۴۱۸ھ/ ۲۶ جنوری ۱۹۹۸ء)
خطبہ مسنونہ کے بعد تلاوتِ آیات :
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ۔ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَجِیْبُوْا لِلہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہٖ وَاَنَّہٗٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ (۲۴) وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاۗصَّۃً ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۲۵) وَاذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىکُمْ وَاَیَّدَکُمْ بِنَصْرِہٖ وَ رَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ(۲۶) یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷) وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ ۙ وَّ اَنَّ اللہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۲۸) } (الانفال)
رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَیَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِیْ یَفْقَھُوْا قَوْلِیْ
میری اس وقت کی گفتگو کا موضوع ہے: ’’بحالاتِ موجودہ مسلمانانِ پاکستان کے لیے قرآن حکیم کی عملی راہنمائی۔‘‘ الحمدللہ‘ ہم نے پورے ۲۵دن قرآن پڑھا ہے۔ بہت سے حضرات نے پابندی سے شرکت کی ہے اور پورے قرآن کے ترجمے سے گزرے ہیں۔ قرآن مجید میں کہیں گفتگو مشرکین سے ‘ کہیں منافقین سے اور کہیں منکرین آخرت سے ہو رہی ہوتی تھی۔ کبھی یہود سے‘ کبھی نصاریٰ سے‘ کبھی مسلمانوں سے ۔ مکی اور مدنی سورتوں کا اپنا الگ الگ رنگ اور انداز ہے۔ پھر اس میں عبادات کے ضمن میںاحکامِ الٰہیہ بھی آئے ہیں۔ معاشرتی احکام ہیں‘ عائلی قوانین ہیں۔ سیاسی نظام کے حوالے سے ہدایات آئی ہیں۔ ویسے تو قرآن مجید میں زندگی کے ہر گوشے اور ہر آنے والے دور کے لیے ہدایت ہے لیکن اس وقت مَیں نے دو اعتبارات سے عنوان معیّن کیا ہے یعنی ’’بحالاتِ موجودہ‘‘ اور ’’مسلمانانِ پاکستان‘‘ کے لیے قرآن حکیم کی عملی راہنمائی کیا ہے! البتہ پہلے قرآن مجید کی وہ راہنمائی جو اَبدی ہے‘اساسی ہے‘ زمان و مکاں کی حدود سے ماورا ہے‘ اُس کا خلاصہ چند نکات کی شکل میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
ہمارے بنیادی فرائض۱)حقوق اللہ کی ادائیگی
پہلی بات یہ ہے کہ انسان اللہ کا حق ادا کرے‘ یعنی توحید پر یقین رکھے۔ توحید کا اعتقادی پہلو یہ ہے کہ اللہ کو ایک مانا جائے۔وہ اپنی ذات میں تنہا ہے۔ کوئی اُس کا مدّمقابل اورکفو نہیں ہے‘ نہ اس کی صفات میں نہ اُس کی ذات میں۔ توحید کے عملی پہلو پر ہم نے اس دورئہ ترجمہ قرآن کے دوران چار سورتوں میں بڑی مفصل بحثیں کی ہیں۔ عملی توحید چار نکات پر مشتمل ہے۔ پہلا نکتہ سورۃ الزمر کا مرکزی مضمون ہے۔ اللہ کی عبادت اپنی اطاعت کو صرف اُس کے لیے خالص کرتے ہوئے کی جائے: {فَاعْبُدِ اللہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ(۲)}۔ عبادت میں نماز ‘ روزہ بھی شامل ہیں۔ لیکن ایسی عبادت جس کے ساتھ اللہ کی خالص اطاعت نہیں ہو رہی ‘ وہ منقسم ہے۔ مثلاً کہیں اپنے نفس کی فرماں برداری ہو گئی اور اللہ کی اطاعت کو پس پشت ڈال دیا گیا۔ اس ضمن میں فرمایا گیا: {اَفَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰہَہٗ ھَوٰىہُ}(الجاثیۃ:۲۳) ’’کیا تم نے اُس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس ہی کو اپنا خدا بنا رکھا ہے!‘‘ نفس ہی اُس کا حقیقی مطاع ہے۔ زبان سے تو وہ ’’لا اِلٰہ اِلا اللہ‘‘ کہتا ہے جبکہ دل میں خواہش نفس کو اِلٰہ بنا رکھا ہے۔ چنانچہ اللہ کی خالص اطاعت وہی ہوگی جو کلی طو رپر کی جائے گی۔ ازروئے الفاظِ قرآنی : { یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَاۗفَّۃً}(البقرۃ:۲۰۸) اگر اطاعت ِالٰہی زندگی کے کچھ حصے میں کی جائے اور کچھ میں نہ کی جائے‘ گویا اطاعت کے حوالے سے انسان خود کو تقسیم کر لے تو اس پر قرآن حکیم میںبڑی سخت وعید آئی ہے:
{اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ ج فَمَا جَزَآئُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ اِلَّا خِزْیٌ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰٓی اَشَدِّ الْعَذَابِ ط وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ (۸۵)} (البقرۃ)
’’کیا تم کتاب (اور شریعت) کے ایک حصے کو مانتے ہو اور ایک کو نہیں مانتے! تو جو کوئی بھی یہ روش اختیار کرے گا اُس کی اس کے سوا کوئی سزا نہیں ہے کہ (ایسے لوگ) دُنیا میں تو ذلیل و خوار کر دیے جائیں اور قیامت کے دن شدید ترین عذاب میںجھونک دیے جائیں۔‘‘
لہٰذا عبادت میں ’’مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنُ‘‘ ہونا ضروری ہے۔
اسی کا ایک اور پہلو دعا ہے: ((اَلدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَۃُ)) ’’دعا عبادت کا مغز (جوہر) ہے۔‘‘ اور ((اَلدُّعَاءُ ھُوَ الْعِبَادَۃُ)) ’’دعا ہی دراصل عبادت ہے۔‘‘ (سنن الترمذی)یہ سورۃ المؤمن کا مرکزی مضمون ہے ۔ {فَادْعُوا اللہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ} (المؤمن:۱۴) ’’پس تم اللہ کو پکارو اُسی کے لیے اطاعت کو خالص کرتے ہوئے۔‘‘اگر اللہ کے ساتھ پوری وفاداری نہیں ہے تو پھر کس منہ سے دعا کی جا رہی ہے ! اس حوالے سے ایک حدیث مبارکہ بھی ہے ۔ایک شخص حج کے لیے گیا ہے اور جبل رحمت پر ہاتھ اٹھا کر دعائیں مانگ رہا ہے: یَارَبِّ،یَارَبِّ! وَمَطْعَمُہٗ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُہٗ حَرَامٌ، وَمْلَبُسُہٗ حَرَامٌ، وَغُذِیَ بِالْحَرَامِ ، فَاَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذٰلِکٰ!(صحیح مسلم) ’’جبکہ اُس کا کھایا ہوا حرام کا ہے‘ پیا ہوا حرام کا ہے ‘اُس کا لباس حرام (کمائی) کا ہے‘ اور وہ حرام غذا سے پلا بڑھا ہے تو اُس کی دعا کیسے قبول ہو! ‘‘ دعا اگرچہ مُخُّ الْعِبَادَۃُ‘ ھُوَ الْعِبَادَۃُ ہے‘ لیکن یہ اس حال میں کی جانی چاہیے کہ بندہ یکسو ہوکر اپنی کل اطاعت کو اللہ کے لیے خالص کر لے۔
اس سے اگلا قدم کسی ایک فرد سے دوسرے فرد کو دعوت ہے۔ اب اسی کے داعی بن کر کھڑا ہوا جائے۔ لوگوںکو اسی کی دعوت دی جائے کہ وہ بھی اللہ کی بندگی کریں‘ اللہ ہی کو پکاریں۔فرمایا:
{وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (۳۳)} (حٰمٓ السجدۃ)
’’اور اُس شخص سے بہتر بات اور کس کی ہوگی جو بلائے اللہ کی طرف اور وہ نیک عمل کرے اور کہے کہ مَیں مسلمانوںمیں سے ہوں۔‘‘
یہ سورۃ حٰمٓ السجدۃ کی مرکزی آیت ہے۔
چوتھا اور آخری مرحلہ یہ ہے کہ ’’مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنُ‘‘ کی حالت کیسے حاصل ہو! ملک میں قانون کسی اور کا چل رہا ہے۔ عدالتیں اسی قانون کے مطابق فیصلے کر رہی ہیں۔ معاشی نظام احکامِ الٰہی پر مبنی نہیں ہے۔ کاروبار اور لین دین کی بنیاد سود پر ہے۔ صنعت اور حکومت کے تمام مالیاتی امور سود پر قائم ہیں۔ ہم بھی تو اسی ملک کے شہری ہیں۔ ایسے میں ’’مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنُ‘‘ کا مقصد اُسی وقت پورا ہو گا جب پورے نظامِ زندگی پر اللہ کی اطاعت کا سکہ قائم ہو جائے۔ اس کا نام ہےاقامت ِدین۔چنانچہ سورۃ الشوریٰ کا مرکزی مضمون یہی ہے :
{شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط} (الشوریٰ:۱۳)
’’(اے مسلمانو!) اللہ نے تمہارے لیے دین میں وہی کچھ مقرر کیا ہے جس کی وصیت اس نے نوح کو کی تھی اور جس کی وحی ہم نے (اے محمدﷺ) آپ کی طرف کی ہے‘اور جس کی وصیت ہم نے کی تھی ابراہیم کواور موسیٰ کو اور عیسیٰ کو کہ قائم کرو دین کواور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔‘‘
اس حوالے سے قرآن مجید میں دو ٹوک الفاظ میں ارشاد ہے :{ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ (۴۴)}(المائدۃ) ’’اور جو اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں۔‘‘ہماری عدالتوں میں فیصلے تو اللہ کے قانون کے مطابق نہیں ہو رہے ہیں۔فیصلے کرنے والے‘ فیصلے کروانے والے‘ فیصلے ماننے والے‘ فیصلے نافذ کرنے والے‘ فیصلوں کی تنفیذ کرنے والےسب اس کی زد میں آ رہے ہیں۔ اگلی آیت مبارکہ{وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۴۵)} کی رو سے وہی تو ظالم ہیں‘مشرک ہیں۔اور { وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللہُ فَاُولٰۗئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ(۴۷)} کے مطابق وہی تو باغی ہیں‘سرکش ہیں۔ لہٰذا اس ساری صورتِ حال سے نکلنے کی صرف ایک شکل ہے کہ ہمہ تن‘ ہمہ وقت دین کو قائم کرنے کی جدّوجُہد کی جائے۔اس نظامِ باطل کے ساتھ reconsileنہ کیا جائے‘ نہ ذہناً نہ قلباً۔ اگر کوئی اور راستہ نہیں ہے تو under protest رہیں کہ مَیں نے اس نظام کو دل اور دماغ سے قبول نہیں کیا۔ مَیں اس سے صرف اسی قدر استفادہ کروں گا جو میری بقا کے لیے ضروری ہے جبکہ اپنی ساری توانائی‘ قوت‘ صلاحیت اور سارے وسائل و ذرائع اس نظام کو جڑ سے اکھیڑ کر اس کی جگہ اللہ کا دیا ہوا نظام قائم کرنے کے لیے وقف کردوں گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور شکل نہیں ہے۔
اسی کا نام تکبیرربّ ہے‘ یعنی اپنے رب کو بڑا کرو: {وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ(۳)} (المدثر) اسی مقصد کے لیے رسولِ اکرمﷺ مبعوث فرمائے گئے: {ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ} (التوبۃ:۳۳‘الفتح:۲۸‘الصف:۹) ’’وہی ہے جس نے بھیجا اپنے رسولؐ کو الہدیٰ اور دین حق دے کر تاکہ وہ غالب کر دے اسے کُل کے کُل نظامِ زندگی پر۔‘‘اسی کے لیے ارشاد ہوا: {وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلہِ ۚ} (الانفال:۲۳)’’اور ان سے جنگ کرتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (کفر) باقی نہ رہے اور دین کُل کا کُل اللہ ہی کا ہو جائے۔‘‘یہ تمام اصطلاحات ’’عباراتنا شَتّٰی وحُسنکَ واحد‘‘ کا مصداق ہیںـ ۔ مطلب ایک ہی ہے کہ دین کو قائم کرو‘ دین کے مکمل نظام کو برپا کرو تاکہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام گوشے اللہ کی اطاعت کے اندر آ جائیں۔ اس کے بغیر اللہ کا حق ادا نہیں ہو سکتا‘ جو کہ سب سے پہلا کام ہے۔ یہ جو فرمایا گیا {وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (۵۶)} (الذّٰریٰت) ’’مَیں نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت ہی کے لیے پیدا کیا ہے‘‘تو اس عبادت کے یہ لوازم ہیں: {فَاعْبُدِ اللہَ مُخْلِصًا لَّہُ الدِّیْنَ(۲)}(الزمر)۔{فَادْعُوا اللہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ}(المؤمن:۱۴)۔ اسی کی دعوت دوسروں کو دو۔{اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ ط } (النحل:۱۲۵) ’’(اے نبیﷺ!) آپ دعوت دیجیے اپنے ربّ کے راستے کی طرف دانائی اور اچھی نصیحت کے ساتھ‘ اور ان سے بحث کیجیے بہت اچھے طریقے سے ۔‘‘اللہ کے دین کو بتمام و کمال قائم کرنے کے لیے تن من دھن لگا دو۔
۲)رسول اللہﷺ کے حقوق کی ادائیگی
اللہ کے بعد دوسرا حق ہم پر رسول اللہﷺ کا ہے‘ جن کی بدولت ہمیں یہ ہدایت نصیب ہوئی۔ ہمارے ماں باپ کو ان کے والدین سے ملی‘ انہیں ان کے آباء سے ملی۔ اس میں حضرت محمدٌرسول اللہﷺ کی محنتیں ہیں۔ آپؐ کے صحابہؓ کی جدّوجُہد ہے: {مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ط وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ}(الفتح:۲۹) کیسی کیسی مشقتیں جھیلی گئی ہیں‘ تب یہ دین غالب ہوا تھا۔ نبی اکرمﷺ کے ہم پر سارے حقوق تو یہاں بیان نہیں ہو سکتے‘ البتہ ایک بات سمجھنے کی ہے کہ آپﷺ تمام دنیا کے لیے اور قیامت تک کے انسانوں کے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے۔ قرآن مجید میں اس کا ذکر پانچ مرتبہ آیا ہے جن میں سب سے نمایاں دو آیتیں ہیں: {وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)} (الانبیاء) ’’اور (اے نبیﷺ!) ہم نے آپ کو سارے جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔‘‘{وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا}(سبا:۳۸) ’’اور (اے نبیﷺ!) ہم نےآپ کو سارے ہی انسانوں کے لیے خوشخبری سنانے والا اور خبردار کرنے والا بنا کر بھیجاہے۔‘‘نبی اکرمﷺ نے بنفسِ نفیس اپنی رسالت کے فرائض ملک عرب اور قومِ عرب کی حد تک تو پورے کر دیے جبکہ باقی دنیا کے لیے اُس وقت بھی اور آنے والے ہر انسان کے لیے یہ فریضۂ رسالت اُمّت کے کندھے پر ڈال گئے۔ حجۃ الوداع میں گواہی لی گئی:((اَلَا ھَلْ بَلَغّْتُ؟))’’کیا مَیں نے پہنچا دیا؟‘‘ اور جب جواب مل گیا: نَشْھَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَاَدَّیْتَ وَنَصَحْتَ یعنی ’’ہم گواہ ہیں کہ آپؐنے حقِ تبلیغ ادا کر دیا‘ حقِ رسالت ادا کر دیا‘ حقِ نصیحت ادا کر دیا‘‘ تو آپﷺ نے آسمان کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ((اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ!)) ’’اے اللہ! تُو بھی گواہ رہنا!‘‘ پھر لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا:((فَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ)) (متفق علیہ) کہ اب لازم ہے ان پر جو یہاں موجود ہیں کہ پہنچائیں ان کو جو یہاں نہیں ہیںـ ۔گویا اب یہ بوجھ میرے کندھوں سے تمہارے کندھوں پر آ گیا ہے۔ لہٰذا اگر ہم اُمتی ہیں تو مقروض ہیں محمدٌرسول اللہﷺ کے۔ اگر یہ خواہش ہے کہ آپﷺ کی شفاعت ملے تو آپؐ کا حق ادا کرناہو گا۔
{وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَاۗءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًاط}(البقرۃ:۱۴۳) ’’اور (اے مسلمانو!) اسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک اُمّت ِوَسط بنایا ہےتاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسولؐ ‘تم پر گواہ ہو۔‘‘ اس کے کم سے کم دو تقاضے ہیں۔پہلا تقاضا تو یہ ہے کہ ایک ایک فردِ نوعِ بشر کو قرآن حکیم کی تبلیغ اس اُمّت کے ذمے ہے۔ اگر قرآن نہیں پہنچایا تو اس کا مطلب ہے کہ محمدٌرسول اللہﷺ کی رسالت کا پیغام اُن تک نہیں پہنچا۔ ایسے میں قیامت کے دن اُمّت کیا جواب دے گی! حضورﷺ نے فرمایا تھا: ((قَدْ تَرَکْتُ فِیْکُم مَا لَنْ تُضِلُّوْا بَعْدَہُ اِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِہٖ: کِتَابُ اللّٰہِ)) (صحیح مسلم) ’’مَیں تمہارے مابین ایک ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر اس کو مضبوطی سے تھام لو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے‘ یعنی اللہ کی کتاب!‘‘اب پہنچائو اس کونوعِ انسانی تک ۔سورۃ الانعام کی آیت کے مطابق : {وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ ۢ بَلَغَ ط} (الانعام:۱۹)’’یہ قرآن مجھ پر وحی کیا گیاہےتاکہ تمہیں بھی خبردار کردوں اور اُن کو بھی جن تک یہ قرآن پہنچ جائے۔‘‘ ان تک گویا کہ میرا انذار پہنچ جائے گا۔ قرآن پہنچانے کا یہ کام ہر اُمتی کے ذمہ ہے۔
نبی اکرمﷺ کا ہم پر دوسرا حق یہ ہے کہ قابلِ قدر آبادی پر مشتمل دنیا کے کسی ایک ملک میں اسلام کا انفرادی و اجتماعی نظام پوری طرح قائم کر کے دکھا دیا جائے تاکہ سب دیکھ لیں کہ یہ کوئی خیالی جنّت (utopia)یا ناقابلِ عمل معاملہ نہیں ہے۔ دنیا دیکھ لے کہ اس کی برکات کیا ہیں! سب کو علم ہو جائے کہ کس طرح کا معاشرہ وجود میں آتا ہے‘ کیسا معاشی انصاف ہوتا ہے! مادر پدر آزادی نہیں ہے لیکن حریت موجود ہے۔ کمیونزم والی مساوات نہیں ہے لیکن حکومت ہر شہری کی بنیادی ضرورتوں کی کفالت کی ذمہ دار ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاتھا کہ اگر دجلہ و فرات کے کنارے کوئی کتّا بھی بھوکا مر گیا تو عمرؓ ذمہ دار ہو گا۔ آج انسان ایک ایسے اجتماعی نظام کے لیے دوڑ دھوپ کر رہا ہے جس میں سیاسی‘ معاشرتی اور معاشی حوالے سے ساری خوبیاں ہوں۔ کبھی فرانسیسی انقلاب‘ کبھی بالشویک انقلاب‘ یہ سب اسی لیے ہے کہ ظلم اور استحصال سے پاک کوئی ایسا نظام ہو جس میں عدل و انصاف میسّر ہو‘ دولت کی منصفانہ تقسیم ہو۔ جب تک ہم ایسے نظام کو قائم کرکے نہیں دکھا دیں گے‘ یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ ہم نے اللہ کے نبیﷺ کا حق ادا کردیا۔ ایسے میں دنیا کا یہ شکوہ بجا ہوگا کہ اگر مسلمان ایک اعلیٰ نظام کے حامل ہونے کے دعوے دار ہیں تو اسے اپنے ہاں قائم کیوں نہیں کرتے!ہمارا عمل ہمارے قول کی نفی کر رہا ہو گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق بھی ادا نہیں ہوتا جب تک کہ اسلام کو کلی طو رپر قائم نہ کیا جائے اور رسولﷺ کا قرض بھی ادا نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ کے دین کا پورا نظام قائم نہ کیا جائے۔
۳)حقوق العباد کی ادائیگی
اللہ تعالیٰ اور نبی اکرمﷺ کے بعد ہم پر تیسرا حق بندوں کا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق کے حوالے سے کوئی کوتاہی یا کمی معاف بھی کر دے گا لیکن حقوق العباد کا معاملہ ایسا نہیں ہے۔ بندوں کا حق یہ ہے کہ انہیں عدل و انصاف ملے ‘ اُن کے حقوق غصب نہ کیے جائیں۔ قرآن مجید میں یہ بات تکرار کے ساتھ آئی ہے‘ جسے ہم نے اپنے ذہن سے نکال دیا ہے۔ اسلام کو ہم نے محض ایک مذہب بنا دیا ہے ۔ گویا یہ صرف آخرت سے متعلق ہے۔ یہاں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے ظلم برداشت کر لو‘ آخرت میں تمہیں اس کا اجر مل جائے گا ۔اس طرزِ فکر کا نتیجہ یہ نکلا کہ کارل مارکس نے کہا : Religion is the opium of the masses اس کے برعکس قرآن کا نتیجہ یہ ہرگز نہیں ہے ۔ اسلام تو عدل اجتماعی پر مبنی نظام عطا کرتا ہے۔ سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں فرمایا گیا: {قَائِمًا بِالْقِسْطِ}(آیت۱۸) کہ اللہ خود عدل کا قائم کرنے والا ہے۔ انبیاء و رُسل کو اسی مقصد کے لیے بھیجا گیا۔ سورۃ الحدید کی آیت ۲۵ میں ارشاد ہوا:{لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ} ’’ہم نے اپنے رسول بھیجے معجزات دے کراور ہم نے اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل فرمائی ‘‘۔ گویا حقوق اور فرائض کا توازن قائم کیا۔ یہ کوئی بے مقصد عمل نہیں تھا۔ یہ سارا کھکھیڑ اس لیے مول لیا گیا :{لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۚ }’’تاکہ لوگ عدل پر قائم ہوں‘‘۔ {وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ.....} ’’اور ہم نے لوہا بھی اتارا ہے جس میں جنگ کی صلاحیت ہے.....‘‘ جو لوگ ظلم چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوں ‘ لوہے کی طاقت کے ساتھ ان سے نمٹا جائے۔ آگے فرمایا: {وَلِیَعْلَمَ اللہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ وَرُسُلَہٗ بِالْغَیْبِ ۭ}’’تاکہ اللہ جان لے (یعنی ظاہر کر دے) کہ کون مدد کرتا ہے اُس کی اور اُس کے رسولوں کی غیب میں ہونے کے باوجود۔‘‘ اللہ دیکھ لے وہ کون سے بندے ہیں جو میرے وفادار ہیں‘ میرے نظامِ عدل و قسط کو قائم کرنے کے لیے تن من دھن لگانے کو تیار ہیں‘ اپنی جانیں قربان کرنے پر راضی ہیں۔
انزالِ کتب اور ارسالِ رسل کا بنیادی مقصد دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنا تھا۔ سورۃ الشوریٰ میں حضورﷺ کو مخاطب کیا گیا کہ آپ کہہ دیجیے: {وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ ط}(آیت۱۵) ’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ مَیں تمہارے مابین عدل قائم کروں۔‘‘ سورۃ النساء میں مسلمانوں سے کہا گیا :{یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُھَدَاۗءَ لِلہِ}(آیت۱۳۵) ’’اے اہلِ ایمان! عدل کو قائم کرنے والے بن کر کھڑے ہو جائو پوری طاقت کے ساتھ اللہ کے گواہ بن کر۔‘‘ اس لیے کہ اللہ خود قَائِمًا بِالْقِسْطِ ہے۔ اس کی گواہی اسی طرح ہو گی کہ تم اُس کے نظامِ عدل و قسط کو قائم کرو۔ یہی مضمون سورۃ المائدۃ میں یوں بیان ہوا: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلہِ شُھَدَاۗءَ بِالْقِسْطِ ۡ} (آیت۸) ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو!کھڑے ہو جائو اللہ کے لیے ‘راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بن جائو۔‘‘اللہ کے لیے کھڑے ہونے کا کیا مطلب ہے؟کیا اللہ کی کوئی ضرورت پوری کرنی ہے ؟نہیں‘ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کے دیے ہوئے نظامِ عدل و قسط کو قائم کرو۔
دین کا یہ پہلو سرے سے ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا ہے۔ انسانوں کا یہ حق ہے کہ انہیں ظلم سے نجات دلائی جائے۔ حضور ِاَقدسﷺ کی شان تو یہ تھی :{وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ ط}(الاعراف:۱۵۷) کہ آپؐنے آ کر دُنیا والوں کی گردنوں میں پڑے طوق اُتارے ہیں۔سود کی جڑ کاٹ کر سرمایہ داروں کی غلامی سے نجات دلائی۔ بادشاہت کی جڑ کاٹ کر سب کو برابر کر دیا۔ ؎
سروری زیبا فقط اُس ذاتِ بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اِک وہی ‘ باقی بتانِ آزری!رسول اللہﷺ نے فرمایا:((یَا اَیُّھَا النَّاسُ کُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ اِخْوَانًا))’’لوگو! سب کےسب اللہ کےبندے اورآپس میں بھائی بھائی بن جائو۔ ‘‘ تم میں سے کوئی آقا نہیں ہے۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سرکردگی میں جب مسلمانوں نے ایران پر حملہ کیا تو ایرانی افواج کے سپہ سالار رستم نے یہ سوال کیا کہ آپ ہم پر کیوں چڑھ دوڑے ہیں؟پہلے بھی عرب کے بدو کبھی کبھی آتے تھے لیکن لوٹ مار کر کے واپس چلے جاتے تھے۔ اس دفعہ ہماری جان نہیں چھوٹ رہی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟حضرت سعد بن ابی وقاصؓ رشتہ میں حضورﷺ کے ماموں زاد بھائی لگتے ہیں۔ ان کا شمار عشرئہ مبشرہ میں ہوتا ہے۔ ان کا ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ وہ و احد صحابی ہیں کہ جن کے لیے حضورﷺ نے کہا ہے : ’’تم پر میرے ماں باپ قربان!‘‘ غزوہ اُحد میں جب حضورﷺ پر کُفّار کا نرغا ہوا تو حضرت سعدؓ تیر بھی چلا رہے تھے اور دشمنوں کو روک بھی رہے تھے۔ حضورﷺ ان کو اپنے ترکش میں سے تیر دیتے جاتے اورفرماتے : ((یَا سَعْد‘ اِرْمِ فِدَاکَ اُمّی وَأبی))(صحیح البخاری) ’’سعد! تیرچلاتے جائو‘ تم پر میرے ماں باپ قربان۔‘‘ حضرت سعدؓ نے رستم کو یہ جواب دیا کہ اس مرتبہ ہم خود نہیں آئے بلکہ اِنَّا قَدْ اُرْسِلْنَا ہمیں توبھیجا گیا ہے۔ ہم ایک مشن پر ہیں۔ اللہ نے بھیجا اپنے رسولﷺ کو اور اللہ کے رسولﷺ نے بھیجا ہمیں۔ وہ مشن ہے : لِیُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ ظُلُمَاتِ الْجِھَالَۃِ اِلٰی نُورِ الْاِیْمَانِ تاکہ لوگوں کو نکالیں جہالت اور جاہلیت کی تاریکیوں سے ایمان کی روشنی کی طرف ۔ وَمِنْ جَورِ الملوک الٰی عَدلِ الاسلام اور بادشاہوں کے ظلم و ستم کے پنجے سے نجات دلا کر اللہ کے نظامِ عدل کی طرف۔
اس نظام کا نمونہ ہمیں دورِ خلافت راشدہ میں ملتا ہے۔ اُس وقت دنیا کی عظیم ترین مملکت کے فرماں روا کے کپڑوں میں پیوند لگے ہوئے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں ایران سے ایک سفیر مدینہ منورہ آیا تو لوگوں سے پوچھا کہ تمہارا بادشاہ کہاں ہوتا ہے؟جواب ملا: لَیْسَ لَنَا مَلِکٌ‘ بَلْ لَنَا اَمِیْرٌ ہمارا کوئی بادشاہ نہیں ہے‘ بلکہ ہمارا ایک امیر ہے۔ پوچھا گیا: کہاں ہے؟کوئی محل نظر نہیں آیا‘وہ کہاں رہتا ہے ؟ بتایا گیا کہ اس کا محل تو کوئی ہے نہیں‘ اس وقت وہ بیت المال کے گمشدہ اونٹوں کو تلاش کرنے گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ۱۹۳۷ء میں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے نتیجے میں جب پورے ہندوستان میں کانگریس کی وزارتیں بنی ہیں تو گاندھی نے اپنے اخبار ’’ہریجن سیوک‘‘ میں ایک مقالہ لکھا تھا کہ مَیں آپ کے سامنے ابوبکر اور عمر( رضی اللہ تعالیٰ عنہما ) کی مثالیں پیش کرتا ہوں‘ ان کی پیروی کریں۔ یہ تھا وہ جادو جو سر چڑھ کر بولا!
لہٰذا یہ تین حقوق ہیں :اللہ کا حق اقامت ِدین‘ رسول ﷺ کا حق تبلیغ دین اور دین کا ایک عملی نمونہ دکھا دینا تاکہ حُجّت قائم ہو جائے‘اور انسانوں کا حق کہ انہیں ظلم و ستم کے پنجوں سے نجات دلا کر اسلام کے نظامِ عدل کے تحت لایا جائے۔ یہ تینوں حق جا کر مل گئے ہیں ایک ہی چیز پر جس کا نام ’’اقامت ِدین‘‘ ہے۔ یہ چیزیں جو مَیںنے بیان کی ہیں‘ دائمی اور ابدی ہیں۔ ایک مسلمان چاہے اکیلا ہو اور کہیں بھی ہو‘ اسے سمجھنا چاہیے کہ یہ میری ذمہ داریاں ہیں۔ آج شروع کرے‘ کل ایک اور آدمی مل جائے گا تو دو ہو جائیں گے۔ ایک اکیلا دو جماعت! ایک اکیلا دو گیارہ! کامیابی نہیں ملتی تو کوئی بات نہیں۔ فرض تو بہرحال ادا کرنا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو برس تک دعوت دیتے رہے‘ ظاہری اعتبار سے ناکام رہے۔ حقیقت میں تو کامیاب وہی ہوئے جبکہ باقی قوم ہلاک ہو گئی۔
قرآن حکیم میں پاکستان کا ذکراب مَیں چاہتا ہوں کہ خاص پاکستان کے حوالے سے بات کروں۔ پہلی بات تو یہ کہ ع ’’اپنی خودی پہچان ‘او غافل افغان!‘‘یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی حقیقت کیا ہے! کیا یہ دوسرے مسلمان ممالک ہی کی طرح ایک مسلم ملک ہے یا اس کی کوئی خصوصی اہمیت اور حیثیت ہے؟کیا اس کا کوئی امتیازی مقام اور مرتبہ ہے؟
تحریک ِپاکستان کا پس منظر
قیامِ پاکستان کا اصل جذبۂ محرکہ سورۃ الانفال کی آیت ۲۶ کے حوالے سے سامنے آتا ہے۔ فرمایا گیا : {وَاذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ}’’اور یاد کرو جبکہ تم تھوڑی تعداد میں تھے اور زمین میں دبا لیے گئے تھے‘ تم اس سے خوف زدہ تھے کہ لوگ تمہیں اُچک لیں گے‘‘۔اِس وقت مَیں اس کی تفسیر نہیں کر رہا کہ اس آیت کا شانِ نزول کیا تھا اور اس کے نزول کے وقت کیا حالات تھے ‘بلکہ الفاظ کے عمومی مفہوم کے حوالے سے جس طرح یہ آیت تحریک پاکستان پر صد فی صد منطبق ہو رہی ہے‘ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جب تم اقلیت میں تھے‘ تمہیں زمین میں دبا لیا گیا تھا۔ ہندو زیادہ بیدار ‘ زیادہ سرمایہ دار اور زیادہ تعلیم یافتہ تھا جبکہ انگریز اُس کی پشت پناہی کر رہا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انگریز نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی‘ چنانچہ انہی سے بغاوت کا اندیشہ تھا۔ ہندو تو پہلے بھی غلام تھااور اس کے لیے محض حکمرانوں کی تبدیلی کا معاملہ تھا۔ پہلے مسلمانوں کا غلام تھا‘ اب عیسائیوں کاہو گیا۔ اسی لیے اسے مسلمان کے مقابلے میں اٹھایا گیا۔ اس سے مسلمانوں میں ایک خوف پیدا ہوا کہ جب انگریز ہندوستان سے چلا جائے گا تو پھر کیا ہو گا! اب تو پھر بھی کسی نظام کی عمل داری ہے‘ جنگل کا قانون نہیں ہے۔ اگر یہ ملک آزاد ہو گیا تو دنیا کے مروّجہ اصولوں کے مطابق one man one vote کا معاملہ ہو گا۔ایسے میں مسلمان تو پوری طرح ہندوئوں کے رحم و کرم پر ہوں گے ۔ ہندواُن کی تہذیب‘ تمدن‘ ثقافت‘ زبان‘ معاش حتیٰ کہ مذہب تک پر حملہ کرے گا اور تقریباً ایک ہزار سالہ اپنی غلامی کا بدلہ چکانے کی کوشش کرے گا۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد اندرا گاندھی کی زبان سے یہ الفاظ نکلے تھے کہ :
We have avenged our thousand-year slavery
مذکورہ آیت میں آگے ارشاد ہوا : {فَاٰوٰىکُمْ} ’’تواللہ نے تمہیں پناہ دی۔‘‘ پاکستان کے نام سے دو قطعاتِ ارضی دیے کہ تم اس میں حفاظت سے رہو۔ {وَاَیَّدَکُمْ بِنَصْرِہٖ} ’’اور اپنی نصرت سے تمہاری تائید فرمائی۔‘‘{وَرَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ(۲۶)} ’’ اور تمہیں طیبات کارزق دیا تاکہ تم شکر کرو ۔‘‘
یہ بات سمجھ لیجیے کہ مسلمانوں کو ہندوئوں کے غلبے سے بچانے کے لیے ایک شرطِ لازم یہ تھی کہ مسلمان ایک جماعت کے جھنڈے تلے جمع ہوں‘ ورنہ ان کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں۔ کانگریس جیسی طاقت وَر اور منظّم جماعت ‘ اس کا سرمایہ‘ اس کے پیچھے تعلیم یافتہ لوگ‘ پھر انگریز کی حمایت! ان حالات میں پاکستان کا حصول ممکن نہ تھا جب تک کہ مسلمان یک جان نہ ہو جاتے اور ان کی پوری قوت مسلم لیگ کے جھنڈے تلے نہ آجاتی! تحریک پاکستان کا اصل محرک اگرچہ یہی تھا کہ ہم ہندوئوں کے ثقافتی‘ مذہبی‘ لسانی‘ معاشی دبائو سے بچ جائیں لیکن پھر بھی مسلمانوں کو یکجا کرنے کے لیے یہ نعرہ لگا :’’پاکستان کا مطلب کیا؟لا الٰہ الا اللہ‘‘۔ یہ وہی بات ہے جو ابھی بیان ہوئی کہ حضورﷺ کا قرض ادا نہیں ہو سکتا جب تک کہ ہم ایسا نہ کر دیں۔
یہی بات علّامہ اقبال نے ۱۹۳۰ء کے خطبے میں کہی تھی کہ ’’مجھے یہ یقین ہے کہ ہندوستان کے شمال مغرب میں ایک آزاد مسلمان ریاست قائم ہو گی۔اگر ایسا ہو گیا تو ہمیں موقع مل جائے گا کہ عرب دورِ ملوکیت میں اسلام کی تعلیمات پر جو پردے پڑ گئے ہیں انہیں ہٹا کر دنیا کو اسلام کا اصل چہرہ دکھا سکیں‘‘۔ ہندوستان نے تو مغلوں‘ خلجیوں‘ افغانوں‘ لودھیوں کی حکومتیں دیکھی ہیں‘خلافت راشدہ تو نہیں دیکھی۔ ہم چاہتے تھے کہ پاکستان میں خلافت ِراشدہ کا نظام قائم ہو۔ قائد اعظم نے بھی یہی کہا تھا کہ ہم پاکستان اس لیے چاہتے ہیں کہ اسلام کے اصولِ حریت و اخوت و مساوات کا ایک عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔ پھر نہایت خلوص کے ساتھ دعائیں بھی مانگی گئی تھیں۔ میری عمر کے افراد کو بخوبی یاد ہو گا کہ ہم نے نعرے لگائے‘ گڑگڑا کر دعائیں مانگیں کہ اے اللہ! تُو ہمیں یہ ملک دے دے تاکہ ہم تیرے دین کا بول بالا کریں۔
بدعہدی کی سزا
حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے اس عہد کی خلاف ورزی کی ہے ۔عرب اور خلیجی ممالک میں آج ستائیسویں شب ہے۔ خلیج ہی کے دہانے پر پاکستان واقع ہے۔ پاکستان کے قیام کو باون برس ہو گئے‘ اس میں ہم نے کتنا اسلام نافذ کیا ہے؟کہاں ہیں وہ اصولِ حریت و اخوت و مساوات؟ آج بھی وہی سودی نظام‘ جاگیرداری نظام جاری ہے۔ علّامہ اقبال نے انقلاب کی دُوہائی دی تھی کہ ؎
خواجہ از خونِ رگِ مزدور سازد لعل ناب
از جفائے دہ خدایاں کشت دہقاناں خراب
انقلاب ‘ انقلاب ‘ اے انقلاب !سرمایہ دار نے مزدور کی رگوں سے سرخ خون کشید کر کے شراب بنائی ہے جسے وہ شام کو بیٹھ کر پیتا ہے جبکہ زمیں دار اور جاگیردار انسانوں کے خون پسینے کی کمائی پر عیش کرتا ہے۔ انقلاب‘انقلاب! آج باون برس گزر گئے‘ انقلاب تو نہیں آیا۔ گویا ہم نے اللہ سے بدعہدی کی ہے اور ہمیںاس بدعہدی کی سزا مختلف صورتوں میں مل رہی ہے۔
۱)نفاق:اس بدعہدی کی سزا کے طو رپر ہم پر نفاق مسلط کر دیا گیا۔ سورۃ التوبہ کی تین آیات میں منافقین کی ایک خاص قسم بیان فرمائی گئی ہے ۔{وَمِنْھُمْ مَّنْ عٰھَدَ اللہَ} ’’اور ان میں سےکچھ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا‘‘{لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِہٖ}’’کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے نواز دے گا ‘‘ غنی کر دے گا {لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۷۵)} ’’توہم خوب صدقہ و خیرات کریں گے اور بالکل نیک ہو جائیں گے‘‘۔{فَلَمَّآ اٰتٰىھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ} ’’لیکن جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا ‘‘ {بَخِلُوْا بِہٖ وَتَوَلَّوْا} ’’تو انہوں نے بخل سے کام لیااور پیٹھ موڑ لی‘‘ {وَّھُمْ مُّعْرِضُوْنَ(۷۶)} ’’اور اعراض کی روش اختیار کی۔‘‘نتیجہ یہ نکلا: { فَاَعْقَبَھُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِھِمْ....} ’’تواللہ نے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا....‘‘
منافقین کے بارے میں ارشادِ ربانی ہے : {اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ } (النساء:۱۴۵) ’’یقیناًمنافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔‘‘سورۃ البقرۃ میں فرمایا گیا کہ اگر پورے دین پر کاربند نہیں ہوگے تو قیامت کے دن شدید ترین عذاب میں جھونک دیے جائو گے{وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ اِلٰی اَشَدِّ الْعَذَابِ}۔ منافقین کے بارے میں رسول اللہﷺ سے فرمایا گیا : {اِسْتَغْفِرْ لَھُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْلَھُمْ ۭ اِنْ تَسْتَغْفِرْلَھُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللہُ لَھُمْ ۭ} (التوبۃ:۸۰) ’’اے نبیﷺ!) آپ خواہ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں (برابر ہے)۔ اگر آپ ان کے لیے ستّر مرتبہ بھی استغفار کریں گے تو اللہ انہیں معاف نہیں کرے گا۔‘‘
اس نفاق کی تین شکلیں ہیں۔ پہلی نفاقِ باہمی ‘ یعنی قوم اب ایک نہیں رہی۔ ع ’’اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر!‘‘ وہ مختلف عصبیتوں میں تحلیل ہو گئی۔لسانی عصبیت‘ علاقائی عصبیت‘ گروہی عصبیت۔ یہ نفاقِ باہمی کی صورتیں ہیں۔ دوسری شکل نفاقِ عملی‘ یعنی کردار میں نفاق۔ اس کے بارے میں حضورﷺ نے فرمایا: ’’منافق کی تین نشانیاں ہیں:جب بولے تو جھوٹ بولے ‘ جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب امین بنا دیا جائے تو خیانت کرے‘‘۔یہ بخاری اور مسلم کی روایت ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق آپﷺ نے یہ بھی فرمایا :’’ اگریہ تینوں نشانیاں موجودہوں تو وہ کٹر منافق ہے چاہے وہ نماز پڑھتا ہو‘ روزہ رکھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو‘‘۔اپنے موجودہ معاشرے کو دیکھ کر تو مَیں یہ سمجھتا ہوں جو جتنا بڑا ہے اتنا ہی بڑا جھوٹا‘ اتنا ہی بڑا وعدہ خلاف اور اتنا ہی بڑا خائن ہے۔ اب تو اربوں کے معاملے ہوتے ہیں۔ خیانت کوئی سینکڑوں ہزاروں کی نہیں رہی۔ الا ماشاء اللہ!
تیسری اور سب سے بڑی منافقت ہمارے دستور کی ہے۔ قراردادِ مقاصد میں اللہ کی حاکمیت بھی ہے اور اسی میں غیر اسلامی چیزیں بھی ہیں۔ دستور کے اندر اگرچہ یہ دفعہ بھی موجود ہے کہ کوئی قانون سازی کتاب و سُنّت کے منافی نہیں کی جا سکتی لیکن وہ operativeنہیں ہے۔اسلامی نظریاتی کونسل دیکھتی رہے گی او رہر سال رپورٹیں پیش کرتی رہے گی۔ رپورٹوں کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ ان پر یقینی طور پر عمل درآمد ہو گا یا نہیں؟ اس بارے میں کوئی ذکر نہیں ہے۔ جنرل ضیاء الحق صاحب نے فیڈرل شریعت کورٹ تو بنائی لیکن ساتھ ہی اسے دو ہتھکڑیاں اور دو بیڑیاں بھی پہنا دیں۔ دستورِ پاکستان بھی اس کے دائرے سے خارج‘ جوڈیشل قوانین بھی اس کے دائرے سے خارج ‘ فیملی لازبھی اس کے دائرے سے خارج اور مالی قوانین بھی اس کے دائرے سے دس سال کے لیے خارج۔ نفاذِ اسلام کے معاملے میں اس سے بڑا مکروفریب اور دھوکا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔
لہٰذا اب اس کی سزا ہم بھگت رہے ہیں۔ موجودہ طرزکی مذہبی دہشت گردی کون لوگ کر رہے ہیں؟ چاہے وہ بیرونی دشمنوں کے آلہ کار ہوں مگر باہر والا خود آ کر تو نہیں کر رہا‘ کر تو یہاں کے لوگ ہی رہے ہیں ۔ وہ ’’را‘‘ کے ایجنٹ ہوں‘ موساد کے ہوں یا کوئی بھی ہوں‘ اگر ہمارے ہاں یہ مذہبی تلخی نہ ہو تو انہیں یہ coverکیسے مل جائے گا ! سورۃ الانعام کی آیت ۶۵ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے تین قسم کے عذاب گنوائے ہیں:
{قُلْ ھُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَّیُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍ ۭ }
’’کہہ دیجیے (اے نبیﷺ) کہ اللہ اس پر قادر ہے‘کوئی عذاب تمہارے سروں کے اوپر سے بھیج دےیا تمہارے قدموں کے نیچے سے (زمین پھٹ جائے‘ زلزلہ آ جائے)یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر دے اورایک دوسرے کی طاقت کا مزا چکھائے۔‘‘
یہ تیسرے درجے کا بدترین عذاب ہے جس کا آج ہم سب شکار ہیں۔
۲)معاشی بدحالی:مزید برآں یہ بھی خدائی عذاب کا مظہر ہے کہ معاشی اعتبار سے ملک تباہ ہو چکا ہے۔ کوئی حکومت خواہ کسی کی بھی ہو‘ وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے کسی حکم کو ماننے سے انکار کرہی نہیں سکتی۔ کسی ایک کی مدد آنے میں دیر ہو جائے تو حکومت کی جان پر بن جاتی ہے۔ ہم بالکل دیوالیہ ہو گئے ہیں۔ جب تک ہم ان کی پوری پالیسی کو فالو کرتے رہیں گے‘ وہ قسط دیتے رہیں گے۔ گویا ہیروئن کی dose ہمیں ملتی رہے گی۔ یہ اور بات ہے کہ جتنی doseہمیں مل رہی ہے ‘ اس سے ہماری معیشت کا بیڑا مزید غرق ہی ہوتا چلا جارہا ہے۔ ادھر سے ایک نئی دجّالی لہر بھی شروع ہو چکی ہےجس کی خبر احادیث میں دی گئی تھی۔ دجّال کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ایک سال یا چند مہینے میں پوری دنیا میں پِھر جائے گا ۔ رزق کے خزانوں پر اس کا اتنا قبضہ ہو جائے گا کہ جو کفرکرے گا ‘ صرف اُسی کو دے گا‘ باقی کسی کو نہیں۔ سٹاک ایکسچینج میں مندی اور کرنسی کی قدر میں کمی اسی معاشی بدحالی کے آثار ہیں۔ اسے مشرقِ بعید سے پاکستان تک پہنچنے میں کتنی دیر لگے گی ! اگر روس جو خلا میں سب سے پہلے پہنچا تھا ‘ وہاں یہ ہو سکتا ہے کہ ڈبل روٹی نہیں مل رہی تھی‘ تو ہم کس شمار میں ہیں۔ مَیں نے روس کی ایک بوڑھی عورت کا فوٹو دیکھا تھا کہ شدید ترین سردی میں اپنا سویٹر ایک مچھلی لینے کے لیے دے رہی ہے۔
ہمارا جو حال ہو گا‘ اسے سورئہ سبا کی آیت کی روشنی میں اچھی طرح سمجھ لیجیے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {لَقَدْ کَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْکَنِھِمْ اٰیَۃٌ ۚ } ’’قومِ سبا کے لیے اُن کے مسکن ہی میںایک نشانی موجود تھی‘‘{جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّشِمَالٍ ڛ } ’’دو باغات تھے دائیں اور بائیں طرف‘‘۔ ہم نے ان کو دو وسیع و عریض جنتیں دی تھیں۔ پاکستان بھی دو جنتوں پر مشتمل تھا: مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان۔{کُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْا لَہٗ ط بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ (۱۵)}’’کھائو اپنے ربّ کے رزق میں سے اور اُس کا شکر بجا لائو۔ ملک ہے عمدہ و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشش فرمانے والا۔‘‘ پاکستان بننے کے بعد یہاں خوش حالی تھی۔ پاکستان سے جیسے ہی کوئی شخص ہندوستان میں داخل ہوتا تھاتو کہتا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم ایک ترقی یافتہ ملک سے کسی دقیانوسی ملک میں داخل ہوگئے ہیں۔ اس کے برعکس وہاں سے جو پاکستان میں آتا تھا وہ سمجھتا تھاکہ ہم کسی مغربی ملک میں آ گئے ہیں۔ {فَاَعْرَضُوْافَاَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنٰہُمْ بِجَنَّتَیْھِمْ جَنَّتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُکُلٍ خَمْطٍ وَّاَثْلٍ وَّ شَیْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ(۱۶)} ’’مگر انہوں نے اعراض کیا ‘ تو ہم نےاُن پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا اور ان کے دو باغوں (کو برباد کرکے ان) کی جگہ دو اور باغ انہیں دیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھائو کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں۔‘‘ {ذٰلِکَ جَزَیْنٰہُمْ بِمَا کَفَرُوْا ۭ} ’’یہ بدلہ تھا جو ہم نے ان کود یا اُس ناشکری کا جو انہوں نے کی تھی‘‘۔ {وَھَلْ نُجٰزِیْٓ اِلَّا الْکَفُوْرَ(۱۷)}’’اور ایسا بدلہ ہم اُن کے سوا کسی اور کونہیں دیتے جو انتہائی ناشکرے ہوںـ۔‘‘
۳) ملکی سالمیت کو خطرہ:اس سے آگے یہ کہ ملک کے حصے بخرے ہونے کا شدید اندیشہ اب پھر اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ عدلیہ کے بحران میں چیف جسٹس بھی سندھی اور الیکشن کمیشن کا چیئرمین بھی سندھی۔ اب صدر بھی سندھی‘ وزیر اعظم بھی سندھی۔ کوئی چمک ہے یا کوئی دمک ہے یا کوئی طاقت ہے ‘ کوئی پشت پناہی ہے‘ کوئی بہت بڑی شے یہ ساری چیزیں ہضم کروا رہی ہے ‘ورنہ اس ملک میں یہ چیزیں اتنی آسانی سے ہضم نہیں ہوتی تھیں۔ بڑے بڑے لیڈر کہہ رہے ہیں کہ کوئی ایجنڈا ہے جس کو پورا کرنے کے لیے یہ سارا کام ہو رہا ہے۔ مَیں نے حالیہ اجتماعِ جمعہ میں کہا ہے کہ اب تو ’’جناح پور‘‘ کے لیے بھی آثار نظر آرہے ہیں۔ قومِ سبا کے لیے قرآن مجید میں آخری الفاظ یہ آئے ہیں: {فَجَعَلْنٰھُمْ اَحَادِیْثَ وَمَزَّقْنٰھُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ ط}’’آخر کار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیااور انہیں بالکل تتر بتر کرڈالا۔‘‘ ہم نے انہیں بس کہانیاں بنا دیا کہ کبھی ایک قوم ہوتی تھی‘ اس کی بڑی عظمت تھی‘ بڑا طنطنہ اور دبدبہ تھا‘ اسے ٹکڑے کر کے ختم کر دیا۔
اس (بیسویں)صدی میں دو عظیم مملکتیں نسیاً منسیاً ہو گئی ہیں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد عظیم سلطنت ِعثمانیہ کا خاتمہ ہوا۔ پھر روس کی ریاست مختلف ملکوں میں تقسیم ہو گئی۔ اب طالب علم ڈھونڈا کریں گے کہ کہاں ہوتا تھا وہ USSR! زمین وہیں رہتی ہے‘ اس کی شناخت اور پہچان بدل جاتی ہے۔ یہ امر توجّہ طلب ہے کہ اب عالمی سیاست کے حالات کس رخ پر جا رہے ہیں۔ بے نظیر بھٹو اپوزیشن میں ہے اور زخم خوردہ بھی ہے لیکن جو باتیں وہ سیاسی انداز کی کرتی ہے ‘ وہ قابلِ غور ہیں۔ اس کی تائید میں دوسرے سیاسی لوگ‘ جیسا کہ قاضی حسین احمد صاحب‘ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ کسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے ہو رہا ہے۔ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان کو پوری طرح بھارت کے تابع کر کے اس کی علیحدہ حیثیت ختم کر دی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ اس علاقے میں اب بھارت ہی ایسا ملک رہ گیا ہے کہ جس کو وہ چین کے خلاف اُبھار سکتا ہے۔ امریکہ کے لیے’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ میں چین ایک بہت بڑے کانٹے کی طرح کھٹک رہا ہے۔ اسی تناظر میں اب بھارت میں ’’بی جے پی‘‘ اُبھر کرسامنے آ رہی ہے ۔ اس کا دوٹوک اعلانیہ موقف اور اوّلین ہدف یہ ہے کہ ’’ہندوستان‘‘ کی تقسیم (partition)کو کالعدم قرار دیا جائے۔اس وقت ان کی گائو ماتا کے ٹکڑے ہوئے پڑے ہیں۔ ان کے ہاں مذہبیت اور ہے کیا! ان کا کوئی نظام نہیں‘ کوئی قانون نہیں۔ زیادہ سے زیادہ ان کی روایات ہیں‘ تہذیب ہے۔ تقسیم ِہند کو وہ قطعاً تسلیم نہیں کرتے۔ چنانچہ اب اپنے ہدف کے لیے فضا ہموار ہو رہی ہے۔
تصویر کا روشن رُخ
یہ تو مَیں نے قرآن اور سُنّت کے مختلف حوالوں سے اس وقت پاکستان کی خصوصی حیثیت بیان کی ہے۔ اسی معاملے کو چند اور پہلوئوں سے بھی دیکھ لیجیے۔ تصویر کا دوسرا اور روشن رُخ یہ ہے کہ چار سو سال کی تجدیدی مساعی ہماری پشت پر ہے۔پہلے ایک ہزار سال تک سارے مجددینِ اُمّت عالم ِعرب میں پیدا ہوئے۔ جبکہ گیارہویں سے چودھویں صدی تک تمام مجددینِ اُمّت ہندوستان میں پیدا ہوئے۔مجدد الف ثانی(دوسرے ہزار سالہ مجدد)شیخ احمد سرہندی‘ بارہویں صدی کے مجدد اعظم شاہ ولی اللہ محدث دہلوی‘ تیرہویں صدی کے مجدد اعظم سیّد احمد بریلوی‘ چودھویں صدی کے مجدد اعظم شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہم اللہ کے علاوہ عظیم شخصیات علّامہ اقبال‘ مولانا مودودی اور مولانا الیاس رحمہم اللہ کے برابر کی شخصیات پوری دنیا میں نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ ایک اعتبار سے ہمارے کندھوں پر ماضی کا ایک قرض ہے‘ اَسلاف کی طرف سے ایک ذمہ داری ہے۔ ایران کے ڈاکٹر علی شریعتی اور الجزائر کے مالک بن نبی نے اپنی کتابوں میں واضح طور پر لکھا ہے :
" Intellectual & Spiritual centre of gravity of the world of Islam has been shifted to South Asia":
ایک زمانے میں علم کا مرکز بغداد ہوتا تھا۔پھر یہ اعزاز ہسپانیہ کو حاصل ہوا۔ اس کے بعد علم کا مرکز شمالی افریقہ بنا ‘ جہاں ابن خلدون جیسی شخصیات اُبھری ہیں۔ اب یہ کہا جاتا ہے کہ اسلام کا علمی اور روحانی مرکز جنوبی ایشیا ہے۔
پھر یہ کہ بھارتی مسلمانوں نے پاکستان بنانے کے لیے ایک طرح سے اپنا فرضِ کفایہ اد اکیا تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ جس علاقے میں وہ رہ رہے ہیں‘ وہاں تو پاکستان نہیں بنے گا ۔ پھر بھی انہوں نے کس لیے تحریک پاکستان میں حصّہ لیا؟ صرف اسلام کا بول بالا کرنے کے لیے ! اس حوالے سے اُن کی ذمہ داری کا بوجھ بھی ہمارے کندھوں پر ہے۔ وہاں پر وہ نہایت مشکلات جھیل رہے ہیں۔ معاشی طور پر پست ہیں۔ انہیں ملازمتیں نہیں ملتیں۔ تعلیم گاہوں میں ان کو داخلے نہیں ملتے۔ ان کی زبان ختم کر دی گئی ہے۔ اب تو دو نسلیں بیت گئیں۔ یہ سب کچھ انہوں نے اس لیے برداشت کیا کہ (بقولِ فیض) ؎
جو ہم پہ گزری‘ سو گزری مگر شب ہجراں
ہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے!انہیں یہ نعرے سننے پڑتے ہیں ’’مسلمان کے دو استھان: پاکستان یا قبرستان!‘‘ نکلو یہاں سے۔ تم یہاں پر ہو کیوں! بال ٹھاکرے بہت کچھ کہتا رہتا ہے ‘ وشوا ہندو پریشد کے لیڈر بہت کچھ کہتے رہتے ہیں۔بی جے پی والے اپنے بیانات کے اندر وقتی طور پر کچھ mild ہو گئے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانانِ بھارت کو ذرا اطمینان دلا کر پہلے اطراف کے دونوں مسلمان ممالک کے ساتھ نمٹ لیں۔ حسینہ واجد کے برسرِاقتدار آنے کے بعد بنگلہ دیش تو پوری طرح بھارت کے زیر اثر آ گیا ہے۔ وہاں ’’را‘‘ کا جال بچھا ہوا ہے ۔ مَیں ابھی وہاں سے ہو کر آیا ہوں ۔خوف کی یہ کیفیت ہے کہ کچھ بتاتے ہوئے ساتھ یہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ کہیں میرا نام نہ بتا دیجیے گا۔ دنیا کو یہ دکھایا جا رہا ہے کہ ہم نے فرخا بند کا معاملہ طے کر لیا ہے ‘ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ وہاں پانی ہے ہی نہیں۔ یہ وہ بنگال ہی نہیں جو مَیں نے ۱۹۶۸ء میں دیکھا تھا۔ اُس وقت وہاں ہر طرف سرسبزی اور شادابی تھی‘ ذرائع آب کی فراوانی تھی۔ اب وہاں ندی نالے اور دریا سوکھے پڑے ہیں۔
پاکستان کی خصوصی اہمیت
ایک اس پہلو پر بھی مَیں توجّہ دلانا چاہتا ہوں کہ حضرت محمدٌ رسول اللہﷺ کی کچھ پیشین گوئیاں ہیں جن میں اس خطے کے کردار کا بھی ذکر ہے۔ ایک پیشین گوئی قرآن سے بھی ثابت ہے کہ تین مرتبہ فرمایا کہ اپنے رسول ﷺکو ہم نے دین کے غلبے کے لیے بھیجا ہے اور پانچ مرتبہ فرمایا کہ تمام انسانوں کے لیے بھیجا ہے۔ تورسول اللہﷺ کی بعثت کا مقصدپورا ہو ہی نہیں سکتاجب تک کہ پورے عالم انسانی پر دین قائم نہ ہوجائے۔ بقولِ اقبال ؎
وقت فرصت ہے کہاں‘ کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے!حضورﷺ نے خبر دی ہے کہ دنیا کے خاتمے سے پہلے کل روئے ارضی پر نظامِ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہو گا اور اس عمل میں خراسان کا علاقہ اور عرب کے مشرقی ممالک اہم کردار ادا کریں گے۔ یہ ظاہر ہے کہ اس علاقے میں افغانستان ’’خراسان‘‘ پر مشتمل ہے جبکہ اس کا ایک حصّہ پاکستان میں بھی شامل ہے۔ یہاں سے فوجیں جائیں گی اور یروشلم جو ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہے‘ اسے بازیاب کرائیں گی۔ عربوں میں تو دَم نہیں ہے۔ ۱۰۹۹ء میں صلیبیوں نے لاکھوں مسلمانوں کو قتل کر کے عربوں ہی سے یروشلم چھینا تھا۔ اس کے بعد ۸۸ برس تک وہ ان کے قبضے میں رہا ہے‘ عرب واپس نہیں لے سکے۔ آخر کار کرد خون صلاح الدین ایوبی نے اسے فتح کیا۔ اب پھر انہوں نے عربوں سے چھینا ہے۔ عرب قوم کو ان کی عیاشیوں اور دولت کی فراوانی نے کھوکھلا کر دیا ہے۔ چنانچہ فرمایا گیا کہ خراسان کی طرف سے سیاہ جھنڈے آئیں گے ‘ انہیں کوئی روک نہیں سکے گا جب تک کہ ایلیا میں جا کر نصب نہ ہو جائیں۔ یوں اس میں پاکستان کا بھی ایک کردار بنتا ہے ؎
میرِ عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے ‘ میرا وطن وہی ہے!مَیں نے ابتدا میں تین پہلوئوں سے ایک مسلمان کے ماورائے زمان و مکاں فرائض بیان کیے ہیں‘ یعنی اللہ کے حقوق‘ رسول اللہﷺ کے حقوق اور انسانوں کے حقوق۔ اس کے بعد تین ہی اعتبارات سے پاکستان کی خصوصی اہمیت کے حوالے سے بات کی ہے۔ ایک تو یہ کہ اس ملک کے genesis کی بنیاد کیا تھی‘ قرآن میں اس کا بھی ذکر موجود ہے ۔ آج ہم جس صورتِ حال سے دوچار ہیں‘ منافقت کی تین صورتوں کے حوالے سے قرآن میں اس کا بھی ذکر ہے۔ جو معاشی بدحالی ہمارے ہاں آ چکی ہے ‘ سورئہ سبا میں اس کا بھی ذکر ہے۔ پھرجو اندیشے ہیں: {فَجَعَلْنٰھُمْ اَحَادِیْثَ وَمَزَّقْنٰھُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ ۭ} کہ بس کہانیاں رہ جائیں گی کبھی ایک ملک بنا تھا‘ قائم ہوا تھا‘اس کا اشارہ بھی موجودہے۔ گویا پاکستان الفاظِ قرآنی ’’فِیْہِ ذِکْرُکُمْ‘‘ (الانبیاء:۱۰) کا مصداقِ کامل ہے۔ اب بین الاقوامی ادارے تو کہتے ہیں کہ یہ سب بڑی جلدی ہو جائے گا۔ پچھلے دنوں امریکی محکمہ خارجہ کی رپورٹ شائع ہوئی تھی کہ اتنے سالوں بعد پاکستان نام کا کوئی ملک دنیا میں نہیں ہو گا۔
چند مثبت پہلو
اب مَیں چاہتا ہوں کہ کچھ مثبت پہلوئوں کی نشان دہی کروں۔ آیا ہمارے پاس کچھ assets بھی ہیں یا نہیں؟
پہلی بات یہ ہے کہ چاہے حالات کیسے ہی ہوں‘ پاکستان کے دستور میں اتنا اسلام آگیا ہے کہ اگرچہ اُس کی تکمیل بہت مشکل ہے لیکن اتنے حصے کو بھی دستور سے نکال دینا کسی مائی کے لال کے لیے ممکن نہیں ہے۔قراردادِ مقاصد میں اللہ کی حاکمیت کا اقرار ہے۔ گویا نظامِ خلافت اصولاً دستوری طور پر پاکستان میں نافذ ہو چکا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ چاہے مَیں اسلام پر عمل نہیں کر رہا لیکن بہرحال مسلمان ہوں ‘اسی طرح سے پاکستان ایک مسلمان ملک بن گیا جب اُس نے کہا کہ حاکمیت صرف اللہ کی ہے اورہم اپنے اختیارات ایک امانت سمجھ کر حاکم مطلق کی عائد کردہ حدود کے اندر استعمال کریں گے۔ یہ گویا دستوری سطح پر ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘ اور ’’اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ‘‘ کا اقرارہے۔
دوسرا ایک بہت بڑا asset یہ ہے کہ بہت سی تحریکوں اور علّامہ اقبال‘ مولانا مودودی جیسے مفکرین اور مصنّفین کی مساعی سے پاکستان میں ہر عمر کے افراد کی ایک بڑی تعداد دین کے جامع تصوّر سے روشناس ہو چکی ہے۔ انہیں یہ معلوم ہو چکا ہے کہ اسلام دین ہے‘ مذہب نہیں۔ یہ انسان کی پوری زندگی پر محیط ہے ۔ وہ دور گزر گیا جب سمجھا جاتا تھا کہ صرف نماز‘ روزہ ہی دین ہے۔ عبادت کا مطلب صرف نماز ‘روزہ نہیں بلکہ پوری زندگی میں اللہ کی بندگی ہے۔ علّامہ اقبال نے یہ بھی تصوّر دیا تھا کہ ؎
دیں ہاتھ سے دے کر اگر آزاد ہو ملّت
ہے ایسی تجارت میں مسلماں کا خسارا!اور ؎
ہوئی دین و دولت میں جس دم جدائی
ہوس کی امیری‘ ہوس کی وزیری!اور ع ’’جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی!‘‘
علّامہ اقبال کا پیغام دین و دنیا کی وحدت تھااور وہ دنیا کو دین کے تابع کرنا چاہتے ہیں۔ اب بہت سے لوگ یہ اُمنگ رکھتے ہیں۔ ان میں خواہش بھی ہے‘ جذبہ بھی ہے۔ افسوس صرف یہ ہے کہ ایک تو اپنی سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے بٹے ہوئے ہیں۔ اصل مقصد کو نظرانداز کر کے اپنی پارٹی اور شخصیت کو اُبھارنے کی فکر ہے۔ ایک خلط مبحث تھا کہ یہاں دین کیسے لائیں! غلطی سے یہ سمجھا گیا کہ الیکشن میں حصّہ لو۔ ووٹ مل جائیں گے تو اسلام نافذ کر دیں گے۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ اس نقطہ نظر میں اب بہت حد تک کمی ہو گئی ہے۔ تقریباً تمام مذہبی جماعتیں یہ سمجھ چکی ہیں کہ الیکشن کے ذریعے سے یہاں اسلام نہیں آ سکتا۔
تیسرے یہ کہ الحمد للہ ایک عظیم قرآن تحریک اس ملک میں قائم ہوئی ہے اور چلی ہے۔ کیا کسی نے کبھی سنا تھا کہ لوگ نماز تراویح کے لیے چھ چھ گھنٹے کسی مسجد میں موجود رہے ہیں؟ پورے قرآن کا ترجمہ ہو رہا ہے۔ سات سات سو آدمی جمع ہیں اور کوئی سیاسی نعرہ نہیں‘ کوئی اختلافی بات نہیں۔ ساری توجّہ بس اسی پر ہے کہ قرآن کو سمجھا جائے ۔
ہندوستان میں یہ تحریک شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے شروع کی تھی۔ انہوں نے ’’الفوز الکبیر‘‘ لکھی۔ فارسی میں قرآن کا ترجمہ کیا۔ ان کے دو بیٹوں نے اردو میں ترجمہ کیا۔ اس سے پہلے لوگ قرآن کا ترجمہ کرنا گناہ سمجھتے تھے۔ آج بھی بعض لوگ ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ ایک بہت بڑی جماعت یہ کہتی ہے کہ بس قرآن پڑھو اور ثواب حاصل کرو۔ کوئی مسئلہ پوچھنا ہے تو کسی عالم دین سے پوچھ لو۔ ترجمہ پڑھنے سے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے جب قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا تو انہیں قتل کرنے کی سازش تیار کی گئی۔ اس مقصد کے لیے سرحد کے علاقے سے پٹھان بلالیے گئے تھے۔ شاہ صاحبؒ دہلی کے چاندنی چوک کے ایک سرے پر واقع مسجد فتح پور میں درسِ حدیث دیتے تھے۔ عصر کے بعد درس کے اختتام پر وہ مسجد سے نکل رہے تھے تو باہر قتل کرنے کے لیے افراد کھڑے ہوئے تھے ۔اُس وقت اُن کے دل پر اللہ نے ایسی ہیبت ڈال دی کہ وہ حملہ نہیں کر سکے۔ بہرحال شاہ صاحبؒ نے قرآن کو ایک کھلی کتاب کے طور پر متعارف کرایا کہ اسے پڑھو اور سمجھو!
اگر یہ ملک نہ بنتا تو شاید ایسی تحریک یہاں نظر نہ آ سکتی۔ الحمد للہ‘ ہمیں مواقع ملے ہیں۔ اللہ نے سہولتیں دی ہیں۔ کئی مہینے تک ہر ہفتے ’’الہدیٰ‘‘ کا پروگرام پورے ملک میں نیشنلhook up (قومی نشریاتی رابطہ) پر ایک ہی وقت میں ٹیلی کاسٹ ہوا ہے ۔ اسلام کا ‘ قرآن مجید کا ایک غلغلہ پیدا ہو گیا تھا۔ اس ملک میں مغربیت کے پرستاروں کو فکر لاحق ہو گئی کہ یہ طوفان تو ہمارے لیے مصیبت بن جائےگا۔ پھر انہوں نے جو کچھ بھی کیا‘ وہ سب کو معلوم ہے۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں۔ میری دعوت آڈیوز میں‘ ویڈیوز میں پھیل رہی ہے۔ دنیا میں جہاں جہاں اردو پڑھنے والے موجود ہیں‘ وہ ہماری تحریک سے واقف ہیں۔ اب تین چار سال سے امریکہ جاتا ہوں تو وہاںانگریزی میں لیکچر دیتا ہوں۔ الحمد للہ‘ وہاں ہمارا پورا پیغام انگریزی میں جا چکا ہے۔ امریکہ میں موجود عربوں کوبھی اور وہاں کی افریقی نژاد آبادی کوبھی۔پھر وہاں سے ہو کر مختلف مقامات پریہ پیغام جا چکا ہے ۔ امریکہ تو ایک مرکز ہے‘ اس وقت وہاں سے جہاں جہاں وہ چیز پہنچ رہی ہے تو اس کا کوئی نتیجہ ان شاء اللہ نکلے گا۔ اس کا منبع اللہ نے اس ملک کو بنایا ہے۔
یہ وہ assets ہیں جو ہمارے پاس ہیں۔ ہمیں ان کے بارے میں شعور ہونا چاہیے۔ اس کے بعد معاملہ یہ ہے کہ عملی اقدامات کیا ہونے چاہئیں!
پس چہ باید کرد
پہلے قدم کے طور پر اس شعور کو اُجاگر کیا جائے کہ اللہ کے دین کو غالب کر نے کی جدّوجُہد فرضِ عین ہے۔ اس حوالے سے کوئی مستثنیٰ نہیں۔ اسے مَیں نے واضح طو رپر بیان کر دیا ہے۔ اگر دین قائم نہیں ہے تو ہماری عبادت جزوی ہے۔ زندگی کے ایک حصے میں ہم اللہ کی عبادت کر رہے ہیں جبکہ ہماری زندگی کے دوسرےپہلو اللہ کی بغاوت پر مشتمل ہیں۔ چنانچہ یہ کام فرضِ عین کے درجے میں ہے اوراس کے لیے عقلاً اور نقلاً لازم ہے کہ آدمی کسی جماعت میں شامل ہو۔ کوئی شخص اکیلا یہ کام نہیں کر سکتا۔ انقلاب لانا یعنی نظام بدل دینا کسی ایک آدمی کے بس کا روگ نہیں ہے۔ اس کے لیے ایک پارٹی چاہیے‘ حزب اللہ چاہیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کورا جواب دے دیا تھا تو معاملہ وہیں کا وہیں رک گیا۔ حضور ِاکرم ﷺ کے ساتھیوں(رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین)نے ایک جماعت کی شکل میں‘ جہاں آپﷺ کا پسینہ گرا وہاں اپنے خون کی ندیاں بہا دیں تو اسلام قائم ہو گیا۔
اس حوالے سے احادیث بھی موجود ہیں۔حضورﷺ کاارشاد ہے: ((عَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ))(رواہ ابوداوٗد والترمذی) ’’تم پر جماعت کا التزام ضروری ہے‘‘۔مزید فرمایا:((یَدُ اللّٰہِ عَلَی الْجَمَاعَۃِ)) (رواہ الترمذی) ’’اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہے‘‘۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے: اِنَّہٗ لَا اِسْلَامَ اِلَّا بِجَمَاعَۃٍ وَلَا جَمَاعَۃَ اِلَّا بِاِمَارَۃٍ (رواہ الدارمی)’’یقیناً جماعت کے بغیر اسلام نہیں ہے‘ اور امارت کے بغیر جماعت نہیں ہے‘‘۔ اور حضرت حارث الاشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی اس حدیث کو تو ہم نے بہت عام کیا ہے۔ر سول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: ((اِنِّیْ آمُرُکُمْ بِخَمْسٍ، اَللّٰہُ اَمَرَنِیْ بِھِنَّ)) ’’ اے مسلمانو! مَیں تمہیں پانچ باتوں کا حکم دے کر جا رہا ہوں‘ مجھے اللہ نے ان کا حکم دیا ہے ‘‘((بِالْجَمَاعَۃِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ وَالْھِجْرَۃِ وَالْجِھَادِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ )) (رواہ الترمذی وابوداوٗد) ’’جماعت کا‘ سننے اور ماننے کا‘ہجرت کا اور اللہ کے راستے میں جہاد کا‘‘۔ یعنی جماعتی زندگی ہو اور جماعت بھی سمع و طاعت والی‘ جو مضبوط نظم و ضبط کی حامل ہو۔یہ جماعت ہجرت اور جہاد کرے گی۔ اس جماعت کے خدوخال ہم نے قرآن مجید میں پڑھے ہیں۔ سورۃ المائدۃ میں حزب اللہ کا یہ وصف بیان ہوا: {فَاِنَّ حِزْبَ اللہِ ھُمُ الْغٰلِبُوْنَ(۵۶)}’’یقیناً اللہ کی جماعت ہی غالب آنے والی ہے۔‘‘ سورۃ المجادلۃ میں ’’حزب اللہ ‘‘ کے ساتھ ’’حزب الشیطان‘‘ کا بھی ذکر ہوا۔
اس حوالے سے مَیں صرف اپنی جماعت کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ کوئی بھی جماعت جو آپ کے فہم کے مطابق دین کے لیے صحیح کام کر رہی ہو‘ اس میں شامل ہوں۔ کوئی شخص بھی اس سے محروم نہ ہو۔ حضورﷺ نے فرمایا: ((بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ آیَۃً))(صحیح البخاری) ’’پہنچائو میری جانب سے خواہ ایک ہی آیت ‘‘۔ میرا کوئی اُمتی بھی تبلیغ قرآن کے فریضے سے محروم نہ رہ جائے‘ ورنہ میرا اُمتی کیسے ہوا!باقی جو لوگ اپنی زندگی وقف کردیں‘ ان کے لیے فرمایا: ((خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہٗ))(صحیح البخاری) ’’تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں‘‘۔اس مقصد کے لیے اپنی زندگی لگا دیں۔ چنانچہ کوئی بھی جماعت ہو جس پر آپ کا دل ٹھک جائے ‘اس میں شامل ہوجائیں۔ البتہ اُس میں یہ چار خصائص ہونا ضروری ہیں:
(۱) اس جماعت کو اعلانیہ طور پر یہ واضح کرنا چاہیے کہ اس کا مقصد اقامت ِدین ہے۔ کوئی جزوی بات‘ کوئی سماجی اصلاح نہیں۔ یہ سارے کام اچھے ہوتے ہیں‘ خدمت ِخلق بھی اچھی بات ہے‘ لیکن ہر شے کا اپنا مقام ہوتا ہے۔ جماعت وہ ہونی چاہیے جس کا مقصود اللہ کے دین کا غلبہ ہو۔ اسے اقامت ِدین کہہ لیں‘ نظامِ خلافت کا قیام کہہ لیں‘ حکومت الٰہیہ کا قیام کہہ لیں۔ ان میں سے کوئی بھی اصطلاح استعمال کریں۔
(۲) اس جماعت کا نظم و ضبط کڑا ہونا چاہیے۔ وہ محض افراد کا ایک ہجوم نہ ہو ‘بلکہ ہر طرح سے منظّم ہو۔ایک امیر سے اطاعت کے عہد میں بندھی ہو۔
(۳) اسے اپنا طریقہ کار صاف طو رپر اور قطعیت کے ساتھ بیان کرنا چاہیے کہ ہم کس طرح سے یہ کام کرنا چاہتے ہیں!ایسے ہی مبہم سے نعرے لگانا اور لوگوں کو صرف وقتی جوش دلانے کا معاملہ نہیں ہونا چاہیے۔جو طریقہ کار وہ پیش کریں وہ سیرت النبیﷺ سے ماخوذ ہو‘ اس لیے کہ ایک مسلمان کے لیے نمونہ نبی اکرمﷺ ہی ہیں۔ اس حوالے سے امام مالکؒ کا قول ہے : لَنْ یُصْلِحَ آخِرُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃ اِلَّا بِمَا صَلُحَ بِھَا اَوَّلُھَا ’’اس اُمّت کے آخری حصے کی اصلاح نہیں ہوسکے گی مگر ٹھیک اُسی طریقے پر جس پر پہلے حصے کی اصلاح ہوئی تھی۔
(۴) جتنا بھی ممکن ہو‘ اُس کی قیادت کو ٹھوک بجا کر دیکھ لیا جائے۔ کسی کے دل میں تو نہیں اُترا جا سکتا لیکن دیکھ لینا چاہیے کہ ان کے قول اور فعل میں تضاد تو نہیںہے۔ ان کا خانگی نظام کیسا ہے؟آیا گھر میں دین نافذ ہے یا نہیں؟ ان کی معاش شریعت کے دائرے میں ہے یا نہیں؟
ان چار پہلوئوں کی تحقیق پر جو بھی وقت لگے گا وہ جہاد میں شمار ہوگا‘ بشرطیکہ اسے سنجیدگی کے ساتھ کیا جائے۔ اسے اپنی ذاتی ضرورت سمجھ کر اہمیت دی جائے اور اپنے فرض کے طور پر لیا جائے۔ موت کسی بھی وقت آ سکتی ہے‘ میرا کوئی بھی پل جماعت کے بغیر نہیں گزرنا چاہیے۔ اقامت ِدین کی جدّوجُہد فرضِ عین ہے اور اس کے لیے جماعت شرطِ لازم ہے‘جیسے کہ نماز کے لیے وضو شرطِ لازم ہے ۔ جمعہ کے روز مَیں نے جو عہد لیا ہے‘ اس سے کچھ لوگ پریشان بھی ہو گئے ہیں کہ ہم سے اچانک اتنا بڑا عہد لے لیاگیا۔ اس ضمن میں سمجھ لیجیے کہ اس میں الفاظ یہ ہیں کہ ’’ممکن حد تک مَیں اپنا جان ‘ مال اور وقت اس کام میں لگائوں گا۔‘‘ مَیں نے کوئی حتمی معیار مقرر نہیں کیا ہے ۔ ہر شخص ممکن حد تک اس کی کوشش کرے‘جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :{فَاتَّقُوا اللہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ} (التغابن:۱۶) ’’پس اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اپنی حد ِامکان تک‘‘۔البتہ اسے یہ شعور ہو کہ ہمارے ملک کی بقا اور استحکام اسی میں ہے۔ یہ کشتی ڈوبتی ہے تو ہم ڈوبیں گے‘ یہ تیرتی ہے تو ہم منزل پر پہنچیں گے۔
خالص دنیاوی اعتبار سے بھی یہ غور و فکر کا مقام ہے۔ اللہ سے وعدہ خلافی کی کوئی اور سخت سزا نہ مل جائے! مشرقی پاکستان کی علیحدگی ایک بہت بڑی سزا تھی۔ مسلمان قوم کے ترانوے ہزار افراد اُس ہندو کے قیدی بنے جس پر مسلمانوں نے کہیں آٹھ سو برس ‘ کہیں ہزار برس حکومت کی۔ بھیڑ بکریوں کی طرح انہیں ٹرکوں میں لاد کر لے گئے‘ جیسے عید پر شہروں میں جانور ذبح ہونے کےلیے لائے جاتے ہیں۔ ہمارا ٹائیگر جرنیل دشمن جرنیل کو اپناپستول پیش کر رہا ہے۔ گویا ’’یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّھُمْ صٰغِرُوْنَ‘‘کا نقشہ ہے۔ اندرا گاندھی کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ
We have avenged our thousand-year slavery
اور یہ کہ ہم نے دو قومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کر دیا ہے۔ اب سونیا گاندھی بھی دوبارہ منظر پر آئی ہے اور اس نے بیان دیا ہے کہ پاکستان میں جس طرح بھارتی فلمیں دیکھی جاتی ہیں اور ان کے گانے سنے جاتے ہیں‘ ہم نے ثقافتی طور پر اسے colonizeکر لیا ہے۔ کلچر پر بھی انہوں نے قبضہ کر لیا تو ہمارے پاس پھر رہ کیا گیا ہے ! چنانچہ ہر شخص اس کام میں لگے ۔ اسے زندگی اور موت کا مسئلہ بنائے۔اسے اس امر کا ادراک ہو کہ یہ میرے اللہ کا حق ہے مجھ پر‘ میرے رسولؐ کا حق ہے مجھ پر‘ پوری نوعِ انسانی کا حق ہے مجھ پر۔ میرے ملک کا حق ہے‘ میری ۴۰۰ برس کی تاریخ کا حق ہے۔ جو بھی خبریں محمدٌ رسول اللہﷺ نے دی ہیں‘ ان سے بھی یہ جذبہ پیدا ہوجانا چاہیے کہ آپﷺ کی صداقت کو ثابت کرنے کے لیے تن من دھن لگا دیا جائے۔ع ’’دےتُو بھی نبوت کی صداقت پہ گواہی!‘‘
مَیں نے کہا تو یہ ہے کہ آپ کوئی جماعت تلاش کریں لیکن اس کے بعد بھی انسان اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھے۔ مسلسل غور و فکر کرتا رہے۔ ع ’’ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں!‘‘البتہ آج شرو ع تو کر دے۔ کسی جماعت میںشریک ہو جائے۔ مَیں یہ بات بھی عرض کردوں کہ میرے نزدیک جماعت کی مسنون‘ منصوص اور ماثور بنیاد بیعت کا نظام ہے‘ لیکن یہ اگر نہ بھی ہو تو کوئی دستوری جماعت بھی مباح کے درجے میں ہے‘ بشرطیکہ اس کا ڈسپلن مضبوط ہو اور بلند اخلاقی معیار ہو۔
میرا مشن
مَیں نے ۱۹۶۵ء میں اپنے مشن کا آغاز کیا تھا‘ اب ۱۹۹۸ء آ گیا ہے۔ ۳۳ سال تو پورے ہو ہی چکے ہیں۔میرا پہلا کام دعوت رجوع الی القرآن تھا‘ جو آج تک چل رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ جب مَیں نے کوئی اگلا قدم اٹھایا تو اس کام کو چھوڑ دیا ہو۔ اپنی عمر کے ۶۶ویں برس میں مَیں نے جو ۲۵ دن یہاں مشقت جھیلی ہے‘ اس سے پہلے امریکہ میں بھی آدھا دورئہ ترجمہ قرآن انگریزی میں ریکارڈ کرا چکا ہوں۔ مطالعہ قرآن حکیم کا منتخب نصاب مکمل طور پر انگریزی میں ریکارڈ کرا چکا ہوں۔ بیس بیس گھنٹے کے پروگرام ایک ایک گھنٹے کی ٹیپ میں ریکارڈ کرائے ہیں۔ چھ گھنٹے کا پروگرام ایمان کی حقیقت کے بارے میں ہے۔ دو گھنٹے کا جہاد پر‘ دو گھنٹے کا نفاق پر‘ دو گھنٹے کا شرک پر اور آٹھ گھنٹے کا پروگرام خلافت کے حوالے سے ہے۔ اگر آج دنیا میں خلافت قائم ہو گی تو اس کا سیاسی‘ معاشرتی اور معاشی ڈھانچا کیسا ہو گا!یہ ویڈیوز اور آڈیوز میں دستیاب ہے۔
اس دعوت رجوع الی القرآن کے نتائج الحمد للہ بہت اچھے نکلے ہیں۔ انجمنیں قائم ہوئی ہیں۔ لاہور کی مرکزی انجمن‘ پھر کراچی ‘ ملتان‘ فیصل آبا د ‘ راول پنڈی‘ پشاور کی انجمنیں۔ قرآن اکیڈمیز وجود میں آئی ہیں۔ پہلے لاہور کی اکیڈمی بنی‘ پھر کراچی میں۔اب ملتان میں بھی بن چکی ہے۔ قرآن کانفرنسیں منعقد کی گئی ہیں۔ قرآنی تربیت گاہیں ایک ایک مہینے کی‘ چالیس چالیس دن کی‘ سات سات دن کی ہمہ وقت ہوئی ہیں۔ لاہور میں اتوار کو میرا جو عوامی درسِ قرآن ہوتا تھا‘ اس میں اوسطاً چھ سو آدمی شریک ہوتے تھے۔ دعوت رجوع الی القرآن کا بالواسطہ نتیجہ بھی بہت اچھا نکلا ہے کہ اب بہت سے ادارے قائم ہو گئے ہیں جہاں قرآن مجید کی دعوت دی جا رہی ہے۔ عربی زبان کی تدریس ہو رہی ہے۔ ۲۶ برس پہلے ۱۹۷۲ء میں ہم نے ’’قرآن کانفرنس‘‘ جیسی جو اصطلاحات وضع کی تھیں‘ الحمد للہ وہ عام ہو گئی ہیں۔ اسی طریقےسے عربی زبان کی تدریس جو وسیع پیمانے پر ہورہی ہے اس کا بھی بالواسطہ طور پر ہمیں پھل ملے گا‘ اس لیے کہ یہ کاشت ہم نے شروع کی ہے۔ مَیں چاہوں گا کہ جو حضرات بھی جاننا چاہیں کہ کیا کچھ ہوا ہے‘ کس طور سے ہوا ہے‘ اس کا صغریٰ کبریٰ کیا ہے‘ اس کا پس منظر کیا ہے‘ وہ میری کتاب ’’دعوت رجوع الی القرآن کا منظر و پس منظر‘‘ کا مطالعہ کریں۔ اس ضمن میں یہاں پر خواتین کے پروگرام بھی ہو رہے ہیں۔ ایک سالہ (رجوع الی القرآن) کورس بھی شروع ہو رہا ہے۔ لاہور میں تو یہ مسلسل ہو رہا ہے ۔ امریکہ سے آ کر لوگ وہاں شریک ہو رہے ہیں ۔ الحمد للہ! اب امریکہ میں بھی ہماری اکیڈمی شروع ہو جائے گی۔
دوسرا کام جو ‘الحمد للہ ‘مَیں نے کیا ہے اللہ کے فضل و کرم سے وہ ایک مختصر لیکن منظّم تنظیم بیعت کی بنیاد پر قائم کی ہے۔ ایک مُردہ سُنّت کو زندہ کیا ہے ۔ میرا دعویٰ یہ ہے کہ قرآن‘ حدیث‘ سُنّت‘ سیرت اور مسلمانوں کی ۱۴۰۰ برس کی تاریخ میں کسی اجتماعیت کی کوئی اور بنیاد ہےہی نہیں سوائے بیعت کے۔ حضورﷺ نے بیعت لی ہے۔ ایک بڑی طویل حدیث ہے جو بعد میں آپ کو سنائوں گا‘ ہم نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ تنظیم اسلامی میں شمولیت کی بیعت وہیں سے لی ہے۔ اس پر ایک جماعت مرتّب کی ہے‘ ڈھانچا بنا دیا ہے‘ نظام العمل بنا دیا ہے۔ بیعت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب کسی کو کچھ کہنے کا حق ہی نہیں ہے۔ لا حول ولا قوۃ! حضورﷺ سے بھی لوگ اختلاف کر لیتے تھے۔ غزوئہ بدر میں آپﷺ نے فرمایا کہ کیمپ یہاں لگا دو‘لگا دیاگیا۔ پھر کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر تو یہ وحی سے ہے تو ٹھیک ہے‘ اگر آپؐ کی ذاتی رائے ہے تو ہم کچھ عرض کریں۔ فرمایا: ہاں کہو۔ کہا کہ ہمارے جنگی تجربے کی رو سے کیمپ وہاں لگنا چاہیے۔حضورﷺ نے فرمایا: کیمپ اُکھاڑو اور وہاں لگا دو۔ قرآن مجید میں حضورﷺ کو حکم ہوا :{وَشَاوِرْھُمْ فِی الْاَمْرِ} (آل عمران:۱۵۹) ’’اور اُن سے مشورہ کرتے رہا کیجیے‘‘۔چنانچہ مشورہ بھی ہوسکتا ہے‘ اختلافِ رائے بھی ہو سکتا ہے‘ ذاتی تنقید بھی ہو سکتی ہے۔ تنظیم اسلامی کا ایک سالانہ اجلاس ایسا ہوتا ہے جس میں جو رفیق چاہے آئے اور مجھ پر ذاتی تنقید کرے۔ شوریٰ کا نظام اس کے علاوہ ہے جو منتخب افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔
ہم نے بیعت کے اصول پر جماعت بنا دی جو صرف پیری مریدی کا دھندا رہ گیا تھا۔ اسی لیے پہلے پہل لوگوں نے اسے استہزائیہ طو رپر دیکھا۔ البتہ اب یہ جماعت الحمدللہ باقاعدہ ایک ادارہ ہے۔ اس کا ایک پورا نظام العمل ہے۔ تنظیم کی بنیادی دعوت کو سمجھنے کے لیے چھوٹے چھوٹے دس کتابچے ہیں۔جس کا بھی ارادہ ہو جائے کہ بات سمجھنی ہے‘ جہاں اور جماعتوں کو دیکھنا ہے اس کو بھی دیکھنا ہے‘ تو وہ ان کتابچوں کا مطالعہ کرے۔ ان میں عزمِ تنظیم‘ تنظیم اسلامی کا تاریخی پس منظر‘ تعارف ِتنظیم‘ تنظیم کا نظام العمل شامل ہیں۔ پھر میرا ذاتی حساب کتاب کہ مَیں نے دنیا میں کتنی جائیداد بنائی ہے‘ میرا ذریعہ آمدن کیا ہے‘ کب شروع کیا تھا‘ اس کے بعد سے اب کیا صورت ِحال ہے‘ ایک ایک پیسے کی تفصیل ’’حسابِ کم و بیش‘‘ نامی کتاب میں موجود ہے۔ یہ ساری چیزیں ان لوگوں کے لیے ہیں جنہیں یہ شعور حاصل ہو گیا ہو کہ مجھے اللہ کی بندگی کرنی ہے‘ جس کے لیے یہ کام لازم ہے۔ مجھے حضرت محمدٌ رسول اللہﷺ کا قرض ادا کرنا ہے‘جس کے لیے یہ لازم ہے۔ مجھے اس ملک کا حق ادا کرنا ہے ‘جس کے لیے یہ لازم ہے۔ اگر کسی کواپنے فرض کا ادراک ہو جائے گاتو وہ تلاش کرے گا ‘اور جو تلاش کرے گا وہ پائے گا ‘ ان شاء اللہ!
میرا ایک ماضی بھی ہے ۔ مَیں جماعت اسلامی میں رہا ہوں تین برس اور اس سے قبل سات برس اسلامی جمعیت طلبہ میں۔ جمعیت کا مَیں آل پاکستان ناظم اعلیٰ بھی رہا ہوں جبکہ مشرقی اور مغربی پاکستان ایک ہی ملک تھے۔ جماعت اسلامی میں ضلع منٹگمری کا امیر رہا ہوں۔ پھر جماعت اسلامی سے مجھے اختلاف ہوا۔ کیوں ہوا تھا‘ اس پر میری پوری کتاب موجود ہے۔ بدنیتی کا کوئی الزام مَیں نے مولانا مودودی مرحوم پر نہیں لگایا۔ اختلاف اس امر پر ہوا تھا کہ حالات نے ثابت کر دیا کہ جماعت کا انتخابات میں حصّہ لینا ایک سعی لاحاصل تھا۔ ہمیں انقلابی طریقہ کار اختیارکرنا چاہیے۔ ’’تحریک جماعت اسلامی:ایک تحقیقی مطالعہ‘‘ مَیں نے ۲۵ برس کی عمر میں لکھی تھی اور اُس وقت مَیں جماعت کا رکن تھا۔ ایک طرح سے وہ پارٹی ورکرز کی طرف سے note of dissentتھا۔ مَیں نے اپنی رائے پیش کی ‘ لیکن اسے صحیح تناظر میں نہیں دیکھا گیا۔ اس اختلاف کے بعد مولانا امین احسن اصلاحی صاحب‘ مولانا عبدالغفارحسن صاحب‘ عبدالجبار غازی صاحب‘ حکیم عبدالرحیم اشرف صاحب‘ شیخ سلطان احمد صاحب اور مولانا افتخار احمد بلخی صاحب جیسے اکابر جماعت سے علیحدہ ہو گئے۔ یہ حادثہ کیوں ہوا‘ اس پر بھی میری ایک کتاب ’’تاریخ جماعت اسلامی کا ایک گم شدہ باب‘‘ موجود ہے۔ میرے بارے میں بہت پروپیگنڈے کر دیے گئے ہیں‘ جن کی وجہ سے حجابات سے قائم ہو چکے ہیں۔ـ جنہیں میرے اُ س ماضی کو دیکھنا ہو وہ ان کتب کا مطالعہ کریں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔
تیسرا کام جس کا الحمد للہ میں اللہ کا اپنے اوپر بڑا فضل و کرم مانتے ہوئے تذکرہ کر رہا ہوں‘ اسے کسی درجے میں بھی خود ستائی سمجھنے کے بجائے{وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ(۱۱)}(الضحیٰ) ’’اور اپنے رب کی نعمت کا بیان کریں!‘‘ کا مصداق گردانیے کہ نبی اکرمﷺ کی سیرت سے ہم نے ایک پراسس اخذ کر کے اسے ’’منہجِ انقلابِ نبویؐ‘‘ کی صورت میں واضح کر دیا ہے۔ مَیں آپ سب سے کہوں گا کہ اس کا مطالعہ کیجیے۔ سمجھ میں نہ آئے تو اُٹھا کر ایک طرف رکھ دیجیے‘ کسی جگہ اختلاف ہو تو مجھ سے آ کر بات کیجیے۔ ’’منہجِ انقلابِ نبویﷺ‘‘ کے نام سے کتاب بھی ہے ‘ آڈیو زبھی ہیں‘ ویڈیوز بھی ہیں۔
چوتھے درجے میں ہم نے ۱۹۹۱ء میں’’تحریک ِخلافت‘‘ شروع کی تھی۔کراچی میں چار دن ’خالق دینا ہال‘ میںخلافت کے موضوع پر لیکچر دیے۔ اس کے بعد اگرچہ پروگرام تو یہ تھا کہ اسے ایک عوامی موومنٹ کے طور پر چلایا جائے لیکن پھر ہم نے محسوس کیا کہ لوگ ابھی اس کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ فارم تو پُر کر دیتے ہیں لیکن اس کے بعد انہیں ڈھونڈیے تو ملیں گے نہیں۔ لہٰذا ہم نے اسے ابھی محدود کر دیا ہے کہ جو بیعت نہ کرنا چاہیں وہ معاونِ تحریک خلافت بن جائیں۔ ’’تحریک ِخلافت ِپاکستان‘‘ ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے تاکہ خلافت سے متعلق تمام مواد لوگوں کو پہنچایا جائےاور نظامِ خلافت کے خدوخال کو واضح کیا جائے۔
مَیں نے اپنے ان ’’خطباتِ خلافت‘‘ کا فارسی میں ترجمہ کرایا ہے۔ ان کی خاص طورپر ایران اور افغانستان میں اس وقت شدت کے ساتھ ضرورت ہے تاکہ انہیں معلوم ہو۔ وہ حکومت تبدیل تو کر بیٹھے ہیں لیکن اب انہیں سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اسے چلائیں کیسے۔ ایران میں صدر خامنائی اور ان کے راہبر کے درمیان اختلاف ہے‘ جو سڑکوں پر آ گیا ہے۔ یہ dualism چل نہیں سکتا۔ ایک طرف صدر منتخب ہو کر آ رہا ہے ‘ دوسری طرف مذہبی پیشوا بیٹھے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اسلامی خلافت کا نظام کیسے قائم ہو گا! مَیں پچھلے سال ایران گیا تھا ۔ وہاں کے علماء سے گفتگو ہوئی تو وہ confused نظر آئے۔ افغانستان کے ہمارے ساتھیوں کی تو اکثریت جدید تعلیم سے بے بہرہ ہے۔ انہوں نے تو محض اپنے جذبۂ ایمانی اورحالات کےجبر کے تحت یہ سب کچھ کیا ہے۔ طالبان کے پاس اگرچہ ایک بڑا علاقہ ہے لیکن انہیں بھی اب یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اسلامی نظام کیسے چلے گا۔ موجودہ حالات میں ایک جدید ریاست میں خلافت کا نظام کیا ہوگا۔ خلافت اصولی طو رپر کیا تھی؟ خلافت حضورﷺ کے دور میں کیا تھی؟ اورخلافت اب کیا ہو گی؟ ان تمام امور کو دلیل کے ساتھ سمجھنا ہے۔
میری فکر کے منابع
’’دعوت رجوع الی القرآن کا منظر و پس منظر‘‘ میں مَیں نے اپنی فکراور سوچ کے چار ذرائع (sources)معیّن کیے ہیں۔ میری فکر پر سب سے پہلا اثر علّامہ اقبال کی ملی شاعری کا ہے‘ جو سب سے مضبوط بھی ہے۔ اسی میں ان کا فلسفیانہ فکر بھی شامل ہے جو The Reconstruction of Religious Thought in Islam میں بیان ہوا۔ اس کے بعد مولانا مودودیؒ کا تحریکی فکر ہے۔ علّامہ اقبال ایک مفکر تھے‘ وہ تحریک چلانے والے آدمی نہیں تھے۔ البتہ ڈاکٹر برہان احمد فاروقی نے اپنے انتقال سے دو سال پہلے ایک کتاب میں لکھا ہے کہ علّامہ اقبال عمر کے آخری حصے میں بیعت کی بنیاد پر ایک ’’جمعیت شبان المسلمین‘‘ قائم کرنا چاہتے تھے ‘ جس کا دستور بھی مرتّب ہوگیا تھا۔ اس کتاب کی تلخیص کر کےہم نے ’’علّامہ اقبال کی آخری خواہش‘‘ کے عنوان سے شائع کی ہے۔ اس میں ساری خط وکتابت اور ریکارڈ موجود ہے۔ بہرحال وہ اپنی زندگی میں یہ کام نہیں کر سکے۔ یہ کام مولانا مودودیؒ نے شروع کیا۔ تحریک اٹھائی‘ جماعت بنائی۔ میرے نزدیک ان سے پہلے مولانا ابوالکلام آزاد بھی تھے۔ انہوں نے ۱۹۱۳ء میں ’’حزب اللہ‘‘ بنائی تھی جو بیعت کی بنیاد پر تھی۔ اس حوالے سے میرا یہ پس منظر ہے۔
پھر تین اعتبارات سے مَیں اپنا رشتہ شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ سے جوڑتا ہوں۔ ایک تو یہ کہ شیخ الہندؒ کا ترجمہ قرآن اور اس پر جوحواشی مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ نے لکھے وہ میرے لیے قرآن فہمی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ پھر ’’تفہیم القرآن‘‘ بھی ہے اور ’’تدبر ِقرآن‘‘ بھی ۔ ’’تفہیم القرآن‘‘ میں ایک چیز تشنہ ہے کہ دین میں تصوّف کی جو چاشنی ہے‘ باطنی کیفیات ہیں‘ وہ موجود نہیں۔ اس کا تحریکی انداز زبردست ہے۔ تحریک میں وہاں سے لیتا ہوں لیکن اسلاف کے ساتھ جڑنے کا معاملہ اور دین کے باطنی اور روحانی پہلو میں ان ’’شیخین‘‘ سے لیتا ہوں‘ شیخ الاسلام شبیر احمد عثمانیؒ اور ان کے استاد شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ۔ پھر یہ کہ ۱۹۲۰ء میں مولانا ابوالکلام کو شیخ الہندؒ نے تجویز کیا تھا کہ اس نوجوان کے ہاتھ پر بیعت کرو اور اسے امام الہند مانو۔ مولانا مودودیؒ نے بھی ’’الجمعیت‘‘ سے صحافت کا آغاز کیا تھا جبکہ شیخ الہنداس کے صدر تھے۔ یہ سارے حقائق جو اس وقت نگاہوں سے اوجھل ہیں‘ انہیں مَیں نے اپنی کتاب ’’جماعت شیخ الہند اور تنظیم اسلامی‘‘ میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ یہ سب کچھ مَیں صرف اس لیے بتا رہا ہوں کہ جس کو بھی ان پچیس چھبیس دنوں میں کسی قسم کا کوئی تعلق خاطر قائم ہوا ہو تو وہ سنجیدگی سےسوچے۔ان چیزوں کا مطالعہ کرے۔
تعاون کی صورتیں
اب آخری بات یہ ہے: {مَنْ اَنْصَارِیْٓ اِلَی اللہِ} ’’کون ہے میرا مددگار اللہ کی راہ میں؟‘‘اس مدد کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں۔ سب سے پہلی تو یہ کہ جو لوگ میری فکر سے متفق ہو گئے ‘ جو طریقہ کار ان کے سامنے آیا اس کو بھی انہوںنے مان لیا‘ اگرو ہ مجھ سے واقف بھی ہیں اور مجھ پر اعتماد بھی کر سکتے ہیں تو تاخیر نہ کریں۔ بیعت کریں اور تنظیم اسلامی میں شامل ہو جائیں۔ اگر وہ یہ نہیں چاہتے اور بیعت کے معاملے میں فوری طور پر کوئی اقدام نہیں اُٹھا سکتے تو یہاں کی انجمن خدام القرآن کے رکن بن جائیں۔ ایک سالہ کورس میں وقت لگائیں۔ پیشہ ورانہ تعلیم پرکئی کئی سال لگائے جاتے ہیں۔ دین کے لیے کیا زندگی کا ایک سال بھی نہیں نکال سکتے! اللہ پوچھے گا کہ تم نے انگریزی تو اتنی پڑھ لی کہ انگریزوں کو پڑھا دو جبکہ عربی اتنی بھی نہیں سیکھی کہ میری کتاب کو براہِ راست سمجھ سکو!ایک سالہ کورس انہی لوگوں کے لیے شروع کیا گیا ہے جو پڑھے لکھے جاہل ہیں۔ ایک طرف کسی مضمون میں ڈاکٹریٹ کی ہوئی ہے جبکہ دوسری طرف قرآن کی الف بے معلوم نہیں۔ تیسری صورت ’’تحریک خلافت‘‘ سے وابستگی ہے۔ اس کی دو شکلیں ہیں۔ جو شخص معاونِ تحریک خلافت ہوگا‘ وہ تنظیم اسلامی کے تابع ہو گا لیکن بیعت کیے ہوئے نہیں ہوگا۔ جو بیعت کرتا ہے وہ تنظیم اسلامی کا رفیق کہلاتا ہے۔ اگر وہ معاون نہیں بن سکتا تو ہمارے لٹریچر کو پھیلانے کے لیے وسائل میں حصّہ ڈالے۔ کوئی صاحب ِاستطاعت اگر ۵۰۰ روپے ماہانہ تحریک خلافت کو دے سکتا ہے تو وہ اس کا رکن بن جائے گا۔ یہ ایک رجسٹرڈ ادارہ ہے جس کے سارے حساب کتاب انجمنوں کی طرح رکھے جاتے ہیں۔یہ چار شکلیں ہیں جس کی صورت میں آپ میرے ساتھ تعاون کر سکتے ہیں‘میرے مشن میں شریک ہو سکتے ہیں۔
بیعت کے اجزاء
اب آخر میں مَیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری بیعت کے تین جزو ہیں۔ پہلا جزو تین نکات پر مشتمل ہے:
(۱) اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ۔ اسی پر تو ہمارے دین کی بنیاد قائم ہے‘ لیکن بیعت کے وقت اسے تازہ کرنا کہ آج مَیں پھر شعوری طور پر یہ گواہی دے رہا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘ وہ تنہا ہے‘ اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔
(۲) اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ ’’مَیں استغفار کرتا ہوں اللہ کی جناب میں اپنے تمام گناہوں سے۔‘‘ اے اللہ! اب تک جو ہوا ‘ اُسے معاف فرما دے۔
(۳) وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا ’’اور( پروردگار!) مَیں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں‘ خلوصِ دل کے ساتھ‘‘۔ ازروئے الفاظِ قرآنی : {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللہِ تَوْبَۃً نَصُوْحًا} -------یہ پہلا حصّہ ہے ۔
ہماری بیعت کا دوسرا حصّہ اللہ سے عہد ہے۔ اللہ کے اور بندے کے درمیان بیع و شراء ہے‘ بفحوائے:{ اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ}(التوبۃ:۱۱۱) ’’یقیناً اللہ نے اہلِ ایمان سے اُن کے جان و مال جنّت کے بدلے خرید لیے ہیں۔‘‘ جنّت اُس کے پاس ہے وہ آپ کو دے گا اور آپ سےوہ جان او رمال مانگ رہا ہے۔ وہ بیع کیا ہے ؟ اِنِّیْ اُعَاھِدُ اللّْٰہَ ’’بے شک مَیں اللہ سے عہد کرتا ہوں‘‘ اَنْ اَھْجُرَ کُلَّ مَا یَکْرَھُہٗ ’’کہ مَیں ہر اُس چیز کو چھوڑ دوں گا جو اُسے پسند نہیں ہے‘‘۔ وَاُجَاھِدُ فِیْ سَبِیْلِہٖ جُھْدَ اِسْتِطَاعَتِیْ ’’ اور اپنے مقدور بھر اُس کی راہ میں جہاد کروں گا۔‘‘ وَاُنْفِقَ مَالِیْ وَاَبْذُلَ نَفْسِیْ ’’اوراپنا مال بھی خرچ کروں گا‘ جان (اور وقت) بھی صَرف کروں گا‘‘ لِاِقَامَۃِ دِیْنِہٖ وَاِعْلَاءِ کَلِمَتِہٖ ’’اُس کے دین کو قائم کرنے کے لیے اور اُ س کے کلمے کی سربلندی کے لیے ۔ ‘‘
اب تیسرا حصّہ آیا : وَلِاَجْلِ ذٰلِکَ ’’ اس مقصد کے لیے اُبَایِعُکَ ’’مَیں آپ سے بیعت کرتا ہوں‘‘ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ ’’سمع و طاعت پر‘‘کہ سنوں گا بھی اور مانوں گا بھی۔یہاں سے وہ حدیث شروع ہو رہی ہے ۔لیکن اس میں ایک لفظ کا اضافہ کیا گیا ہے: فِی الْمَعْرُوْفِ۔ یعنی آپ کا ہر حکم سنوں گا اور مانوں گا بشرطیکہ وہ شریعت کے خلاف نہ ہو۔حضورﷺ سے جو بیعت کی گئی تھی اس میں یہ الفاظ نہیں تھے‘ اس لیے کہ آپﷺ تو کوئی غلط حکم دے ہی نہیں سکتے تھے۔ آپﷺ معصوم تھے۔حضرت عبادہ بن صامتؓ سے مروی حدیث کے الفاظ ہیں: بَایَعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ ’’ہم نے اللہ کے رسولﷺ سے بیعت کی کہ ہم آپ کا ہر حکم سنیں گے اور مانیں گے‘‘۔ہم نے اس میں بس یہ اضافہ کیا ہے کہ : عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی الْمَعْرُوْفِ یعنی شریعت کے دائرے کے اندر اندرسنیں گے بھی اور مانیں گے بھی ۔ فِی الْعُسْرِ والْیُسْرِ’’چاہے مشکل ہو چاہے آسانی‘‘۔ وَالْمَنْشَطِ وَالْمَکْرَہِ ’’چاہے ہماری طبیعتیں آمادہ ہوں اور چاہے ہمیں اپنی طبیعتوں پر جبر کرنا پڑے‘‘۔وَعَلٰی اَثَرَۃٍ عَلَیْنَا ’’اور چاہے ہم پر آپ دوسروں کو ترجیح دے دیں۔ ‘‘ہم یہ نہیں کہیں گے کہ ہم آپؐ کے پرانے ساتھی ہیں ‘لیکن آپ نے ایک نووارد کو ہم پر امیر بنا دیا۔ یہ آپ کا صوابدیدی اختیار ہے۔ جس کو چاہیں ‘ہم پر ترجیح دے دیں۔
یہ امر قابلِ توجّہ ہے کہ نبی اکرمﷺ نے نہایت باریک بینی سے جماعتی زندگی میں فتنے اٹھنے کے تمام دروازے ایک ایک کر کے بند کیے ہیں۔ وَعَلٰی اَنْ لَا نُـنَازِعَ الْاَمْرَ اَھْلَہٗ ’’اور جنہیں آپ امیر بنا دیں گے‘ ان سے ہم جھگڑیں گے نہیں‘‘۔ ان سے تعاون کریں گے ‘ ان کی اطاعت کریں گے۔ حضرت ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا: ((مَنْ اَطَاعَنِیْ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ، وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَدْ عَصَی اللّٰہَ)) ’’جس نے میری اطاعت کی اُس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی‘‘۔ ((وَمَنْ اَطَاعَ اَمِیْرِیْ فَقَدْ اَطَاعَنِیْ، وَمَنْ عَصٰی اَمِیْرِیْ فَقَدْ عَصَانِیْ))(متفق علیہ) ’’جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت کی اُس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی نافرمانی کی اُس نے میری نافرمانی کی‘‘۔عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں آخری بات یہ بیان ہوئی : وَعَلٰی اَنْ نَقُولَ بِالْحَقِّ اَیْنَمَا کُنَّا ‘ لَا نَخَافُ فِی اللّٰہِ لَوْمَۃَ لَائِمٍ(متفق علیہ) ’’ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے حق کی بات ضرور کہیں گے‘اللہ کے معاملے میں کسی ملامت گر کی پروا نہیں کریں گے‘‘۔ مشورہ دیں گے‘ ہم اپنی بات دل میں نہیں رکھیں گے۔ اپنی رائے کو روکیں گے نہیں۔ حق بات کہیں گے‘ لیکن اسے کہہ کر پھر ہم فارغ ہوں گے۔ اس کے بعد جو فیصلہ امیر کا ہو گا اس کی اطاعت کریں گے۔
اب آخر میں ان آیات کا ترجمہ سن لیجیے جو مَیں نے ابتدا میں تلاوت کی تھیں۔ درمیانی آیت کا ترجمہ تو کر دیا گیا تھا‘ اس سے پہلے کی دو آیتوں اور اس کے بعد کی دو آیتوں کا ترجمہ اس پکار کے حوالے سے سنیے جو آپ کے سامنے آئی ہے: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اسْتَجِیْبُوْا لِلہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحْیِیْکُمْ ۚ} ’’اے اہلِ ایمان! لبیک کہو اللہ اور اُس کے رسول(ﷺ )کی پکار پر جبکہ وہ تمہیں پکاریں جس چیز سے کہ تمہیں زندگی ملے گی‘‘۔ غزوئہ بدر سے پہلے بظاہر موت نظر آ رہی تھی لیکن اس سے تو زندگی مل رہی ہے۔ {وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِہٖ} ’’اور جان لو کہ اللہ بندے اور اُس کے دل کے درمیان حائل ہوجایا کرتا ہے۔‘‘ اگر حق کے واضح ہو جانے کے بعد انسان اسے قبول نہ کرے تو ایک وقت آتا ہے کہ بندے اور اُس کے دل کے درمیان اللہ حائل ہوجاتا ہے{وَاَنَّہٗٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ(۲۴)} ’’اور پھر اُسی کی طرف تم جمع کر دیے جائو گے۔‘‘ {وَاتَّقُوْا فِتْنَۃً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْکُمْ خَاۗصَّۃً ۚ} ’’اور ڈرو اُس فتنے سے جو صرف گناہگاروں کو لپیٹ میں نہیں لے گا‘‘۔ گندم کے ساتھ گھن بھی پسے گا۔ {وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۲۵)} ’’اور جان لو اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔‘‘
پھر وہ آیت آئی تھی: {وَاذْکُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىکُمْ وَاَیَّدَکُمْ بِنَصْرِہٖ وَ رَزَقَکُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ(۲۶)} ۔اور اس کے بعد کی دو آیات ہیں: {یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ} ’’اے ایمان والو! اللہ اور اُس کے رسول(ﷺ) سے خیانت مت کرو‘‘۔ جو وعدہ کیا ہے’’سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا‘‘ اُس کو پورا کرو ۔{وَتَخُوْنُوْٓا اَمٰنٰتِکُمْ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۷)} ’’اور اپنی امانتوں کے اندر جانتے بوجھتے خیانت نہ کرو‘‘۔ اور جان لیجیے ہمارے پاس یہ پاکستان سلطنت خداداد اس وقت سب سے بڑی امانت ہے! {وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ ۙ}’’اور جان لوکہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں‘‘----- تمہیں بھی ڈر ہے اولاد اور مال کا۔ صرف یہی روکتے ہیں اللہ کے راستے میں جدّوجُہد سے۔ صرف یہی بیڑیاں پڑی ہیں۔ {وَّ اَنَّ اللہَ عِنْدَہٗٓ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۲۸) } ’’اور یقیناً اللہ ہی کے پاس اجر ِعظیم ہے۔ ‘‘
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنانے اور اس کے مطابق صحیح معنوں میں اپنی زندگیاں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
بارک اللّٰہ لِی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم
tanzeemdigitallibrary.com © 2026