دورۂ ترجمۂ قرآن
سُوْرَۃُ الْجِنّڈاکٹر اسرار احمدتمہیدی کلمات
سورۃ الجن منفرد سورت ہے ‘اس کا کوئی جوڑا نہیں ۔یہ قرآن مجید کی واحد سورت ہے جس میں جِنّات کا تفصیلی ذکر آیا ہے۔ اس کے علاوہ سورۃ الرحمٰن اور سورۃ الاحقاف میں بھی جِنّات کا تذکرہ ہے۔ سورۃ الاحقاف میں ان جِنّات کے بارے میں بتایا گیا ہے جو حضورﷺ سے قرآن مجید سن کر ایمان لے آئے تھے‘ جبکہ سورۃ الرحمٰن میں انسانوں اور جنوں کو {یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ…} ایک ساتھ مسلسل مخاطب کیا گیا ہے ۔ اس حوالے سے سورۃ الرحمٰن کی ترجیعی آیت {فَبِاَیِّ اٰلَآئِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ} پوری سورت میں اکتیس (۳۱)مرتبہ دہرائی گئی ہے۔
زیر مطالعہ سورت میں جِنّات کے ایک گروہ کے کچھ افراد کی باہمی گفتگو کا ذکر ہے۔ ممکن ہے یہ وہی گروہ ہو جس کا ذکر سورۃ الاحقاف میں آ چکا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ کوئی دوسرا گروہ ہو۔
آیات ۱ تا ۱۵
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آیت ۱{قُلْ اُوْحِیَ اِلَیَّ اَنَّـہُ اسْتَمَعَ نَفَـرٌ مِّنَ الْجِنِّ} ’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے : میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جِنّات کی ایک جماعت نے بڑے غور سے سنا‘‘
جِنّات کی جماعت نے کیا سنا؟ اس کا جواب اگلے جملے میں ہے۔
{فَقَالُوْٓا اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا(۱)} ’’تو انہوںنے (جا کر دوسرے جِنّات سے) کہا کہ ہم نے سنا ہے ایک بہت ہی دل کو لبھانے والا قرآن۔‘‘
آیت۲{یَّہْدِیْٓ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ط} ’’جو راہِ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے‘تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘
قرآن کے بارے میں جِنّات کا یہ ردّ ِعمل ہم انسانوں کے لیے باعث ِعبرت اور لمحہ ٔفکریہ ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ قرآن سنا اور وہ اس پر فوراً ایمان لے آئے ‘بلکہ قرآن کو سن کر نہ صرف اس پر فوراً ایمان لے آئے بلکہ داعی بن کر اس کا پیغام اپنی قوم تک پہنچانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ قرآن کو بار بار پڑھتے ہیں‘ بار بار سنتے ہیں‘ لیکن ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم قرآن مجید کو اس نیت سے اور اس انداز سے پڑھتے یا سنتے ہی نہیں کہ وہ ہمارے دِلوں میں اُترے۔ ہم تو رمضان کے قیام اللیل کے لیے بھی اُس مسجد کا انتخاب کرتے ہیں جہاں کے قاری صاحب کم سے کم وقت میں ’’منزل‘‘ طے کر لیتے ہوں۔ بلکہ آج کل تو باقاعدہ اشتہارات کے ذریعے مختلف مساجد میں ایک سے بڑھ کر ایک ’’پُرکشش پیکج‘‘ پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں صرف اتنے دنوں میں قرآن ختم کرا دیا جاتا ہے … ہماری مسجد میں نماز تراویح صرف تیس منٹ میں پڑھا دی جاتی ہے ‘وغیرہ و غیرہ ---- اندازہ کیجیے! جہاں قرآن مجید کم از کم وقت میں ختم کرنے کے لیے دوڑیں لگی ہوں وہاں سمجھنے‘ سمجھانے کی فرصت کسے ہو گی؟ اب ذرا اس طرزِعمل کے مقابلے میں مذکورہ جِنّات کے رویے کا تصوّر کریں جو ایک ہی مرتبہ قرآن مجید کو سن کر کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ قرآن پر ایمان لانے کا اعلان کرنے کے بعد انہوں نے کہا:
{وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا(۲)}’’اور اب ہم کبھی بھی اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔‘‘
آیت ۳{وَّاَنَّـہٗ تَعٰلٰی جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَۃً وَّلَا وَلَدًا(۳)} ’’اور یہ کہ ہمارے ربّ کی شان بہت بلند ہے ‘اُس نے اپنے لیے نہ کوئی بیوی بنائی ہے اور نہ کوئی اولاد۔‘‘
آیت۴{وَّاَنَّـہٗ کَانَ یَـقُوْلُ سَفِیْہُنَا عَلَی اللہِ شَطَطًا(۴)} ’’اور یقیناًہمارا بے وقوف (سردار) اللہ کے بارے میں خلافِ حقیقت باتیں کہتا رہا ہے۔‘‘
اپنے ’’بے وقوف‘‘ سے ان کا اشارہ اپنے سب سے بڑے جِن عزازیل (ابلیس) کی طرف ہے۔
آیت ۵{وَّاَنَّا ظَنَنَّآ اَنْ لَّـنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَی اللہِ کَذِبًا(۵)} ’’اور یہ کہ ہم تو اس گمان میں رہے کہ جِن اور انسان اللہ پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں باندھیں گے۔‘‘
وہ بدبخت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا رہا اور ہم اس خوش فہمی میں اس کی باتوں کو مانتے رہے کہ کوئی انسان یا جِن اللہ کے بارے میں کبھی کوئی خلافِ حق بات نہیں کر سکتا۔
آیت ۶{وَّاَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْہُمْ رَہَقًا(۶)} ’’اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ مرد جِنّات میں سے کچھ مَردوں کی پناہ پکڑتے تھے‘ تو انہوں نے ان (جِنّات) کی سرکشی میں مزید اضافہ کیا۔‘‘
عربوں کے ہاں جِنّات سے پناہ طلب کرنے کا رواج عام تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہر جنگل اور ہر ویرانے میں جِنّات کا بسیرا ہوتا ہے۔ اس لیے جب ان کا کوئی قافلہ صحرا میں کہیں پڑائو کرتا تو قافلے کا سردار بآوازِ بلند پکارتا کہ ہم اس وادی کے سردار جِن کی پناہ میں آتے ہیں۔ اب ظاہر ہے جِنّات تو انسانوں کی ایسی حماقتوں پر ہنستے ہوں گے کہ دیکھو! آج اسی آدم ؑکی اولاد ہمیں معبود بنائے بیٹھی ہے جسے سجدہ نہ کرنے پر ہمارے جدّ ِامجد کو جنّت سے نکال دیا گیا تھا۔ چنانچہ انسانوں کی ایسی حرکتوں سے جِنّات کے غرور اور سرکشی میں اور بھی ا ضافہ ہوتا چلا گیا۔
آیت ۷{وَّاَنَّـہُمْ ظَنُّوْا کَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّـبْعَثَ اللہُ اَحَدًا(۷)} ’’اور یہ کہ انہوں نے بھی ایسا ہی سمجھا جیسا کہ تم نے سمجھا ہوا ہے کہ اللہ کسی کو ہرگز نہیں اٹھائے گا۔‘‘
اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بھی مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھائے گا ‘یعنی بعث بعد الموت کے عقیدے میں کوئی حقیقت نہیں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی کو بھی رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ سورۃ الاحقاف میں جِنّات کے تذکرے کے حوالے سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جِنّات تورات سے واقف تھے اور وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ تھے کہ پچھلے چھ سو برس سے دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضورﷺ کے درمیان تقریباً چھ سو برس کا زمانہ انسانی تاریخ میں سلسلۂ رسالت کے انقطاع کا طویل ترین وقفہ ہے) ۔ چنانچہ اپنی ان معلومات کی بنیاد پر جِنّات یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ رسالت کا دروازہ اب ہمیشہ کے لیے بند ہوچکا ہے اور یہ کہ اب دنیا میں کوئی رسول نہیں آئے گا۔
آیت ۸{وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآئَ} ’’اور یہ کہ ہم نے ٹٹولا آسمان کو‘‘
ہم نے غیب کی خبروں کی ٹوہ میں آسمان کی پہنائیوں میں حسب ِمعمول بھاگ دوڑ کی۔
{فَوَجَدْنٰـہَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّشُہُبًا(۸)} ’’تو ہم نے دیکھا کہ وہ سخت پہروں اور اَنگاروں سے بھرا ہواہے۔‘‘
ہم نے دیکھا کہ آسمان میں اب جگہ جگہ پہرے مقرر کر دیے گئے ہیں اور شہابِ ثاقب کی قسم کے میزائل نصب کر کے حفاظتی انتظامات غیر معمولی طور پر سخت کر دیے گئے ہیں۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی کئی مرتبہ ذکر ہو چکا ہے‘ آگ اور نور کی کچھ خصوصیات مشترک ہونے کے باعث جِنّات اور فرشتوں کے مابین تخلیقی اعتبار سے کچھ نہ کچھ قربت پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرشتے جب عالم ِبالا سے احکام لے کر زمین کی طرف آتے ہیں تو شیاطین جِن ان سے اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور احکام سے متعلق پیشگی خبریں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی خبریں وہ اپنے اُن انسان ساتھیوںتک پہنچانے کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں جو دنیا میں کاہنوں اور جادوگروں کے روپ میں شرک و ضلالت کی دکانیں کھولے بیٹھے ہیں۔ عام حالات میں تو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے شاید ان جِنّات کو ایسی خبروں تک کسی نہ کسی حد تک رسائی ہو جاتی ہو مگر نزولِ وحی کے زمانے میں انہیں حساس حدود کے قریب بھی پھٹکنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ آیات زیر مطالعہ میں اسی حوالے سے جِنّات کی چہ میگوئیوں کا ذکر ہورہا ہے۔
آیت ۹{وَّاَنَّا کُنَّا نَقْعُدُ مِنْہَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ ط} ’’اور یہ کہ (اس سے پہلے) ہم اس کے بعض ٹھکانوں میں بیٹھا کرتے تھے کچھ سُن گُن لینے کے لیے۔‘‘
{فَمَنْ یَّسْتَمِعِ الْاٰنَ } ’’لیکن اب اگر کسی نے کچھ سننے کی کوشش کی‘‘
{یَجِدْ لَہٗ شِہَابًا رَّصَدًا(۹)} ’’تو وہ پائے گا اپنے واسطے ایک اَنگارہ گھات میں لگا ہوا۔‘‘
آیت ۱۰{وَّاَنَّا لَا نَدْرِیْٓ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ} ’’اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے لیے کسی شر کا ارادہ کیا جا رہا ہے‘‘
{ اَمْ اَرَادَ بِہِمْ رَبُّہُمْ رَشَدًا(۱۰)} ’’یا اُن کے لیے اُن کے ربّ نے کسی بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔‘‘
جِنّات کی اس بات سے ایسے لگتا ہے جیسے وہ تورات کے عالم تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ جب کسی قوم کی طرف کوئی رسول مبعوث ہوتا ہے تو اس کے دو امکانی نتائج میں سے ایک نتیجہ ضرور سامنے آتا ہے۔ یا تو متعلقہ قوم اپنے رسول پر ایمان لا کرہدایت کے راستے پر چل پڑتی ہے یا اُس کا انکار کر کے تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ اگر کسی قوم پر عذاب بھیجنا چاہتا ہے تو اس قوم میں رسول مبعوث کر کے اتمامِ حُجّت ضرور کرتا ہے‘جیسا کہ سورئہ بنی اسرائیل کی اس آیت میں واضح کیاگیا ہے : {وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَـبْعَثَ رَسُوْلًا(۱۵)} ’’اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ کسی رسول کو نہ بھیج دیں‘‘۔چنانچہ آسمانوں پر غیر معمولی سخت حفاظتی انتظامات دیکھ کر جِنّات یہ تو سمجھ گئے کہ اہل ِزمین کے لیے وحی و رسالت کا سلسلہ پھر سے شروع ہو چکا ہے‘ لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اس سلسلے کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔ کیا اللہ تعالیٰ کو اپنے اس فیصلے سے انسانوں کی بھلائی مطلوب ہے یا اُس نے اہل ِزمین کو قومِ نوحؑ‘ قومِ ہودؑ اور قومِ صالحؑ کی طرح ایک مرتبہ پھر تباہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ان پر عذاب بھیجنے سے پہلے رسول مبعوث کر کے وہ ان لوگوں پر اتمامِ حُجّت کرنا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے نبوت و رسالت ِمحمدیﷺ تو انسانیت کے حق میں سراسر خیر ہی خیر ہے ‘لیکن ان جِنّات کو اُس وقت تک اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔
آیت۱ ۱{وَّاَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِکَ ط} ’’اور یہ کہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں اور کچھ اس سے مختلف قسم کے بھی ہیں۔‘‘
یہاں نیک کے مقابل میں ان کا اشارہ تو ظاہر ہے سرکش اور فسادی جِنّات ہی کی طرف ہے‘ لیکن انہوں نے ان کا ذکر ایسے الفاظ کے ساتھ نہیں کیا۔ یہ دراصل حکمت ِتبلیغ کا اہم اصول ہے کہ بُرے کو بھی بُرا نہ کہو۔
{کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا(۱۱)} ’’ہم مختلف راستوں پر پھٹے ہوئے تھے۔‘‘
طَرَائِق جمع ہے طَرِیْقَۃ کی اور قِدَد جمع ہے قِدَّۃٌ کی ‘ یعنی مختلف الرائے فرقے۔ قَدَّ یَقُدُّ قَدًّا کے معنی پھاڑنے یا کاٹنےکے ہیں۔جیسے سورئہ یوسف کی آیت ۲۵ میں آیا ہے: {قَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ} ’’اُس (عورت) نے پھاڑ دی آپؑ کی قمیص پیچھے سے۔‘‘
آیت ۱۲{وَّاَنَّا ظَنَنَّآ اَنْ لَّنْ نُّعْجِزَ اللہَ فِی الْاَرْضِ وَلَنْ نُّعْجِزَہٗ ہَرَبًا(۱۲)}’’اور یہ کہ ہمیں یقین ہوگیا تھا کہ ہم زمین میں اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے اور نہ بھاگ کر اُسے ہرا سکتے ہیں۔‘‘
آیت ۱۳{وَّاَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْہُدٰٓی اٰمَنَّا بِہٖ ط} ’’اور یہ کہ ہم نے جونہی اس ہدایت (الہدیٰ) کو سنا ہم اس پر ایمان لےآئے۔‘‘
{فَمَنْ یُّؤْمِنْ بِرَبِّہٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَہَقًا(۱۳)} ’’تو جو کوئی بھی ایمان لائے گا اپنے رب پر اُسے نہ تو کسی نقصان کا خوف ہو گا اور نہ زیادتی کا۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہر کسی کے نیک اعمال کا پورا پورا اجر دے گا ‘کسی کے ساتھ کوئی زیادتی یا حق تلفی کا معاملہ نہیں ہو گا۔
آیت ۱۴{وَّاَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقٰسِطُوْنَ ط} ’’اور یہ کہ ہم میں فرمانبردار بھی ہیں اور بے انصافی کرنے والے بھی ۔‘‘
قَسَطَ ( ثلاثی مجرد میں) عدل اور ناانصافی دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور قَاسِط (اسم فاعل) کے معنی ’’ناانصاف‘‘ کے ہوتے ہیں‘ لیکن اَقْسَطَ (باب افعال میں ) صرف عدل و انصاف کے معنی میں مستعمل ہے۔
{فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِکَ تَحَرَّوْا رَشَدًا(۱۴)} ’’تو جن لوگوں نے اطاعت قبول کرلی تو انہوں نے ڈھونڈ نکالی نیکی کی راہ۔‘‘
آیت ۱۵{وَاَمَّا الْقٰاسِطُوْنَ فَکَانُوْا لِجَہَنَّمَ حَطَبًا(۱۵)} ’’اور جو بے انصاف ہیںتو وہ جہنم کا ایندھن بن کر رہیں گے۔‘‘
یہ تو تھا جِنّات کی اس تقریر کا اقتباس جو انہوں نے قرآن سننے کے بعد اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے تبلیغ کی غرض سے کی تھی ۔ اس کے بعد خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام کیا گیا ہے۔
آیات ۱۶ تا ۲۸آیت ۱۶{وَّاَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَی الطَّرِیْقَۃِ لَاَسْقَیْنٰہُمْ مَّآئً غَدَقًا(۱۶)}’’اور (اے نبیﷺ! آپ کہیے کہ مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے) کہ اگر یہ لوگ درست طریقے پر چلتے رہتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے ۔‘‘
یعنی اگر نسل ِانسانی کے لوگ انبیاء و رسل کے راستے پر چلتے رہتے تو آخرت کی نجات کے ساتھ ساتھ ہم انہیں دنیا میںبھی خوب نوازتے۔ یہاں پرجس مفہوم میں لفظ ’’طَرِیْقَۃ‘‘ آیا ہے عین وہی مفہوم لفظ ’’شَرِیْعَۃ‘‘ اس آیت میں ادا کر رہا ہے:{ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ} (الجاثیۃ:۱۸) ’’پھر (اے نبیﷺ!) ہم نے آپ کوقائم کر دیا دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر‘‘۔ گویا ان دونوں الفاظ کا مفہوم تو ایک ہی ہے لیکن ہمار ے ہاں عام طور پر لفظ ’’شریعت‘‘ دین کے ظاہری اور قانونی پہلو کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ ’’طریقت‘‘ سے دین کا باطنی پہلو مراد لیاجاتا ہے۔ مثلاً نماز کے فرائض اور واجبات کیا ہیں؟ مختلف ارکان کی ادائیگی کا درست طریقہ کیاہے؟ کن چیزوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ؟یہ شریعت کا موضوع ہے۔ظاہر ہے ایسے مسائل معلوم کرنے کے لیے آ پ کو کسی فقیہہ یا مفتی سے رجوع کرنا ہوگا۔ لیکن نماز کی اصل روح کیا ہے؟ نماز میںخشوع و خضوع اور حضورِ قلب کس طرح پیداہوتا ہے؟ اور اس کے اثرات کیا ہیں؟ اس قسم کے سوالات طریقت سے متعلق ہیں اور ان کے جوابات آپ کو کسی صوفی سے ملیں گے۔اوّلین اَدوار کے بزرگانِ دین تو جامع الصفات تھے۔ جو صوفی تھے وہ بہت بڑے عالم اور مفتی بھی ہوا کرتے تھے۔ برصغیر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ ایسی ہی ایک جامع شخصیت تھے۔ آپ مفتی‘ مفسر اور محدث بھی تھے اور بہت بڑے صوفی اور مرشد بھی۔ آپ مرزا مظہر جانِ جاناں شہیدؒ(آپ اہل تشیع کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے) کے خلیفہ تھے۔ آپ کا تعلق شیخ احمد سرہندی ؒکے سلسلہ مجددیہ نقشبندیہ سے تھا۔ بہرحال ایسی شخصیات کی موجودگی میں توشریعت اور طریقت کے درمیان کوئی بُعد نہیں تھا‘لیکن آج بدقسمتی سے دین کے ان دونوں پہلوئوں کو پھاڑ کر بالکل الگ الگ کر دیا گیا ہے۔
آیت ۱۷{ لِّنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ ط} ’’تاکہ ہم اس (فراوانی) میں ان کی آزمائش کریں۔‘‘
یعنی ہم لوگوں کو خوب سیراب کر کے اور انہیں مختلف النوع نعمتوں سے نواز کر ان کا امتحان لیتے ہیں۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی آزمائش کے انداز مختلف ہیں ‘وہ کسی کو تونگری اور خوشحالی میں آزماتا ہے تو کسی کو فاقوں میں مبتلا کرکے اس کا امتحان لیتا ہے۔
{وَمَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ} ’’اور جو کوئی بھی اعراض کرے گا اپنے رب کے ذکر سے‘‘
{یَسْلُکْہُ عَذَابًا صَعَدًا(۱۷)} ’’تووہ ڈال دے گا اس کو چڑھتے عذاب میں۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ انہیں ایسے عذاب میں ڈالے گا جس کی شدّت ہر لمحہ بڑھتی ہی چلی جائے گی۔
آیت ۱۸{وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلہِ} ’’اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں‘‘
یہاں ’’مساجد ‘‘ سے مراد سجدہ کرنے کی جگہیں یعنی عبادت گاہیں بھی ہیں اور سجدے کے اعضاء ( پیشانی‘ ناک‘ ہاتھ‘ پائوں‘ گھٹنے) بھی ۔یعنی تمام مساجد اور انسانوں کے اعضائے سجدہ سب اللہ کی ملکیت ہیں۔
{فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللہِ اَحَدًا(۱۸)} ’’تو تم اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو!‘‘
آیت ۱۹{وَّاَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللہِ یَدْعُوْہُ} ’’اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اُس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتاہے‘‘
{کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًا(۱۹)} ’’تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس پر ہجوم کر کے آجائیں گے۔‘‘
اللہ کے بندے سے مراد یہاں رسول اللہﷺ ہیں۔ جب آپؐ نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور اس میں قرآن کی تلاوت فرماتے تو مشرکین یہ کلام سننے کے لیے آپﷺ کے گرد بڑے تجسس سے جمع ہو جاتے تھے ‘لیکن ایمان لانے کو تیار نہیں تھے۔اس کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مشرکین آپﷺ کو نماز میں کھڑا دیکھتے تو ان کے عناد کی آگ بھڑکنے لگتی اور ان کا جی چاہتا کہ آپﷺ پر ہلہ بول دیں اور اس شمع ِہدایت کو گل کر دیں۔
آیت ۲۰{قُلْ اِنَّمَآ اَدْعُوْا رَبِّیْ} ’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے کہ مَیں تو اپنے رب ہی کو پکارتا ہوں‘‘
{وَلَآ اُشْرِکُ بِہٖٓ اَحَدًا(۲۰)} ’’اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔‘‘
آیت ۲۱{قُلْ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا(۲۱)} ’’آپؐ کہہ دیجیے کہ مجھے کوئی اختیار نہیں تمہارے لیے کسی نقصان کا اور نہ راہ پر لانے کا۔‘‘
سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے‘ مَیں خود کسی کو ہدایت نہیں دے سکتا۔ اس حوالے سے سورۃ القصص کی یہ آیت بہت واضح ہے:{اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰـکِنَّ اللہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُج} (آیت ۵۶) ’’آپؐ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو چاہیں‘ بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے ۔‘‘
آیت۲۲{قُلْ اِنِّیْ لَنْ یُّجِیْرَنِیْ مِنَ اللہِ اَحَدٌ۵} ’’آپؐ کہہ دیجیے کہ مجھے اللہ (کی پکڑ) سے کوئی پناہ نہیں دے سکتا‘‘
{وَّلَنْ اَجِدَ مِنْ دُوْنِہٖ مُلْتَحَدًا(۲۲)} ’’اور نہ ہی میں اُس کے علاوہ سر چھپانے کی کوئی جگہ پائوں گا۔‘‘
آیت۲۳{اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللہِ وَرِسٰلٰتِہٖ ط}’’بس (میرا فرض) اللہ کی طرف سے تبلیغ اور اُس کے پیغامات کا پہنچا دینا ہے۔‘‘
یعنی اگرمَیں نے یہ فریضہ انجام دینے میں کوتاہی کی تو میری جواب دہی ہو گی۔ اس حوالے سے اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاعراف کی اس آیت میں اپناقانون واضح طور پر بیان فرما دیا ہے:{فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ(۶)} ’’پس ہم لازماً پوچھ کررہیں گے اُن سے بھی جن کی طرف ہم نے رسولوں کو بھیجا اور لازماً پوچھ کر رہیں گے رسولوں سے بھی۔‘‘
{وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ} ’’اور جو کوئی بھی اللہ اور اُس کے رسول(ﷺ) کی نافرمانی کرے گا‘‘
{فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا(۲۳)} ’’تو اُس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔‘‘
آیت ۲۴{حَتّٰیٓ اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ} ’’یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے وہ چیز جس کی انہیں دھمکی دی جا رہی ہے‘‘
{فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا(۲۴)} ’’اُس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون کمزور ہے مددگاروں کے اعتبار سے اور کون اقلیت میں ہے تعداد کے لحاظ سے۔‘‘
سردارانِ قریش کے طعنوں میں سے حضورﷺ کے لیے ایک طعنہ یہ بھی تھا کہ آپؐ کی محفل کے مقابلے میں ہماری محفلیں زیادہ باوقار اور پُررونق ہوتی ہیں۔ آپ ؐتو نچلے طبقے کے چند غریب ‘کمزور اور نادار افراد کو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں جبکہ ہماری محفلوں میں بڑے بڑے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ان کے اس طعنے کا جواب دیا گیا ہے کہ قیامت کے دن انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اپنے حمایتیوں کی طاقت اور تعداد کے لحاظ سے کس کی کیا حیثیت ہے۔ سورئہ مریم میں یہ مضمون زیادہ واضح انداز میں آیا ہے۔
آیت ۲۵{قُلْ اِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَہٗ رَبِّیْٓ اَمَدًا(۲۵)} ’’آپؐ یہ بھی کہہ دیجیے کہ مجھے معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیاجا رہا ہے وہ قریب آ چکی ہے یا میرا ربّ اس کی مدّت اور لمبی کر دے گا۔‘‘
مَا تُوْعَدُوْنَ کا ترجمہ یوں بھی ہو سکتا ہے کہ وہ چیز جس کی تم لوگوں کو وعید یا دھمکی دی جا رہی ہے ۔ وعدہ اور وعید دونوں الفاظ ایک ہی مادہ (وعد) سے مشتق ہیں۔ اس لحاظ سے وعید (دھمکی) کی حیثیت بھی گویا ایک وعدے کی سی ہے۔ اس آیت کا مضمون ملتے جلتے الفاظ میں سورۃ الانبیاء کی اس آیت میں بھی آ چکا ہے:{وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ(۱۰۹)} کہ اےنبی (ﷺ) آپ انہیں بتادیں کہ مَیں نہیں جانتا کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب آ چکی ہے یا ابھی دور ہے۔
آیت۲۶{عٰلِمُ الْغَیْبِ} ’’وہی ہے غیب کا جاننے والا‘‘
{فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًا(۲۶)} ’’پس وہ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔‘‘
آیت ۲۷{اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ} ’’سوائے اُس کے جس کو اُس نے پسند فرما لیا ہو اپنے رسولوں میں سے‘‘
اس آیت میں علم ِغیب کے بارے میں بہت اہم اصول بتا دیا گیا ہے ۔ یعنی غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ۔وہ اپنے رسولوں ؑمیں سے جسے چاہتا ہے اور جس قدر چاہتا ہے اس بارے میں مطلع فرماتا ہے۔ اس اصول کے تحت دیکھا جائے تو حضورﷺ کی ذات سے متعلق علم ِغیب کا مسئلہ خواہ مخواہ متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ا گر تو کوئی شخص علم ِغیب سے مراد ایسا علم لیتا ہے جو بغیر کسی کے بتائے ہوئے حاصل ہو تو ایسا کوئی علم اللہ کی مخلوق میں سے کسی کے پاس بھی نہیں۔ ہر کسی کو جو بھی علم ملا ہے کسی نہ کسی کے سکھانے سے ہی ملا ہے۔ حضورﷺ کا علم بھی اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھی علم اللہ تعالیٰ نے ہی عطا کیا ہے۔ ہم جیسے عام انسان بھی اپنے والدین ‘ اساتذہ اور بڑوں سے ہی سیکھتے ہیں۔
اس ضمن میں سب سے پہلے علم ِغیب کی درست تعریف(definition)طے کرنا ضروری ہے۔یہ حقیقت ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ ’’غیب‘‘ کا تعلق مخلوق سے ہے‘ اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی چیز ’’غیب‘‘ ہے ہی نہیں‘ ہر شے ہر آن اُس کے سامنے موجود ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں یا خبریں ہم انسانوں سے پوشیدہ رکھی ہیں وہ ہمارے لیے ’’عالم ِغیب‘‘ ہے‘ مثلاً جنّت‘ دوزخ‘ فرشتے وغیرہ۔ اس بارے میں بھی کسی کو کوئی اختلاف نہیں کہ انبیاء و رسل علیہم السلام کو غیب کی خبریں بھی دی جاتی ہیں اور کسی حد تک انہیں عالم ِغیب کا مشاہدہ بھی کرایا جاتا ہے:{وَکَذٰلِکَ نُرِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ(۷۵)} (الانعام) ’’اور اسی طرح ہم دکھاتے رہے ابراہیم ؑکو آسمانوں اور زمین کے ملکوت تا کہ وہ پوری طرح یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے‘‘۔ حضورﷺ کو معراج کے موقع پر جنّت ‘دوزخ اور بہت سی دوسری کیفیات کا مشاہدہ کرایا گیا‘ بلکہ غیب سے متعلق ایسے مشاہدات آپؐ کو عام معمول کی زندگی میں بھی کرائے جاتے تھے ۔مثلاً ایک مرتبہ آپؐ نمازِکسوف(سورج گرہن کے وقت)پڑھا رہے تھے تو نماز کے دوران آپؐ اچانک ایک دفعہ آگے بڑھے اور پھر اسی انداز میں پیچھے ہٹے۔ بعد میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے آپؐ کے اس عمل کا سبب دریافت کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ میرے سامنے اچانک جنت لے آئی گئی تو میں نے چاہا کہ اس کا پھل توڑ لوں‘چنانچہ میرا ہاتھ بے اختیار اُس کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے بعد میرے سامنے دوزخ لے آئی گئی تو اس کی تپش کی وجہ سے میں بے اختیار پیچھے ہٹ گیا۔بہرحال علم کے اعتبار سے ایک عام انسان اور ایک نبی میں بنیادی طور پر یہی فرق ہے کہ نبی کو عالم ِغیب کا علم بھی دیا جاتا ہے ۔ورنہ جہاں تک امورِ دنیاکے علم کا تعلق ہے اس بارے میں حضورﷺ کا واضح فرمان موجود ہے۔ ایک موقع پر آپؐ نے صحابہؓ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا :((اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاَمْرِ دُنْیَاکُمْ))(صحیح مسلم‘ کتاب الفضائل‘ باب وجوب امتثال ماقالہ شرعًا… ح:۲۳۶۳‘ عن انس ابن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کہ دنیاداری کے اپنے معاملات کے بارے میں تم لوگ بہتر جانتے ہو۔چنانچہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء و رسل علیہم السلام کو جب چاہے جس قدر چاہے عالم غیب کا مشاہدہ کرا دے یا غیب کے علم میں سے جتنا علم چاہے عطا فرما دے۔ البتہ جو کوئی یہ مانے کہ نبی مکرمﷺ کو کل غیب کا علم تھا وہ کافر ہے۔
حضورﷺ کے علم ِغیب کے بارے میں بریلوی مکتبہ فکر کے علماء کا نقطہ نظر کیا ہے؟اس سوال کا جواب جاننے کے لیے مَیںنے اپنے زمانہ طالب علمی میں ذاتی طور پر متعدد بریلوی علماء سے ملاقاتیں کیں ۔مَیں جتنے علماء سے ملا ان سب کو میں نے مندرجہ ذیل تین نکات پر متفق پایا:
(۱) حضورﷺ کا علم ذاتی نہیں‘ عطائی ہے ‘یعنی اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔
(۲) آپﷺ کا علم قدیم نہیں‘حادث ہے۔یعنی پہلے نہیں تھا ‘جب اللہ نے عطا کیا تو آپؐکو علم ہو گیا۔
(۳) آپﷺ کا علم لامحدود نہیں ‘محدود ہے۔
دراصل ان تین نکات کے بارے میں مسلمانوں کے کسی مکتبہ فکر میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔چنانچہ اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ سرے سے بحث طلب ہے ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو علم ِغیب عطا فرمایا ‘جب چاہا اور جتنا چاہا عطا فرمایا۔اب کیا میں اور آپ اس بارے میں بحث کریں گے کہ حضورﷺ کو کس چیز کا علم تھا اور کس چیز کا علم نہیں تھا؟ میری اور آپ کی حیثیت ہی کیا ہے کہ ہم حضورﷺ کے علم کے بارے میں ناپ تول کریں۔ معاذ اللہ!
{فَاِنَّـہٗ یَسْلُکُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًا(۲۷)} ’’تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتاہے۔‘‘
یعنی جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے غیب کے حقائق کا علم کسی رسول کے پاس بھیجتا تو اُس کی حفاظت کے لیے ہر طرف فرشتے مقرر کردیتا ‘ تاکہ وہ علم نہایت محفوظ طریقے سے رسول تک پہنچ جائے۔
آیت ۲۸{لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمْ} ’’تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے واقعتاً اپنے رب کے پیغامات پہنچادیے ہیں‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ یہ بات واضح کر دے۔ اسی حوالے سے اتمامِ حُجّت کے لیے حضورﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر حاضرین سے پوچھا تھا :((اَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ؟)) ’’کیا مَیں نے اللہ کا پیغام تم لوگوں تک پہنچادیا؟‘‘ اس پر تمام حاضرین نے یک زبان ہو کر کہا تھا: نَشْھَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَاَدَّیْتَ وَنَصَحْتَ(صحیح مسلم‘ کتاب الحج ‘ باب حجۃ النبی ﷺ‘ح:۱۲۱۸ )
{وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْہِمْ وَاَحْصٰی کُلَّ شَیْ ئٍ عَدَدًا(۲۸)} ’’اور وہ احاطہ کیے ہوئے ہے اس سب کچھ کا جو اُن کے پاس ہے اور اُس نے ہر چیز کا حساب کتاب رکھا ہوا ہے گنتی کے ساتھ۔‘‘
tanzeemdigitallibrary.com © 2026