(عرض احوال) رمضان‘ قرآن اور پاکستان - ایوب بیگ مرزا

12 /

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

رمضان‘ قرآن اور پاکستان

رمضان‘ قرآن اور پاکستان محض ہم قافیہ الفاظ نہیں ہیں‘ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے کسی دوسرے گوشے میں بسنے والے مسلمانوں کی نسبت مسلمانانِ پاکستان کا رمضان اور قرآن سے اضافی تعلق بھی ہے۔ اس لیے کہ پاکستان رمضان کی اُس شب میں قائم ہوا جس کے بارے میں گمانِ غالب ہے کہ وہ لیلۃ القدر ہی ہے‘ جسے قرآن نے نزولِ قرآن کی شب ہونے کی بنا پر ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا۔
اگرچہ۱۹۴۶ء کے انتخابات میں مسلم لیگ یہ ثابت کر چکی تھی کہ وہ برصغیر کے مسلمانوں کی حقیقی نمائندہ جماعت ہے‘ لیکن پھر بھی ۱۹۴۷ء کے آغاز میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا تھا کہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت پاکستان اسی سال دنیا کے نقشہ پر حقیقت بن کر اُبھر سکے گی۔ انگریز حاکموں اور برصغیر کی بڑی قوم ہندو کی شدید ترین مخالفت کے باوجود اس کا قائم ہوجانا ہی کچھ نا قابلِ فہم سا محسوس ہوتا ہے۔ لیکن تشکیلِ پاکستان کے تاریخی واقعات کو مرحلہ وار دیکھیں تو اُس سال ستائیس رمضان المبارک کی نصف شب کے قریب قیامِ پاکستان کا اعلان خالصتاً ’’ کُن فَیکون‘‘کا مظہر محسوس ہوتا ہے۔۱۹۴۰ء کی قراردادِ لاہور میں پاکستان کا ذکر نہیں تھا بلکہ اس میں آزاد مسلمان ریاستوں کا ذکر ہے۔ اس پس منظر میں ایک ہزار میل سے زائد زمینی فصل رکھنے والے دو حصوں پر مشتمل ایک ریاست کا قائم ہو جانا معجزہ محسوس ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کو بجا طو رپر مملکت ِخداداد کہا جاتا ہے۔ لیکن رمضان اور قرآن کے ساتھ مسلمانانِ پاکستان نے کیا سلوک کیا‘ یہ ایک دل فگار کہانی ہے۔ رمضان کو تاجروں‘ سٹاکسٹوں اور صنعت کاروں نے لوٹ کھسوٹ اور چور بازاری کا مہینہ بنا لیا۔ حکومت کا حال یہ ہے کہ وہ اقتدار کی ہوس‘ کرسی سے چمٹے رہنے کی خواہش اور آئی ایم ایف سے معاہدے حاصل کرنے کی حرص کے باعث عوام دشمن فیصلے کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرکز میںPDMاور دو صوبوں میں نگران حکومتوں کی بے بصیرتی و نااہلی‘پھر یہ کہ اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین جاری جنگ کوعوام سے مذاق ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔
برصغیر کے مسلمانوں نے پاکستان بنا کر ہندو سے ہزار سالہ رفاقت ختم کی‘ اُس کی دشمنی مول لی اور نتیجہ کے طو رپر ہندو کے ہاتھوں لاکھوں مسلمان بے گھر ہوئے‘ بے شمار قتل ہوئے اور اَن گنت مسلم خواتین کی بے حرمتی ہوئی‘ یعنی پاکستان پر جان‘ مال اور عزّت جو انسان کا کل سرمایہ ہوتا ہے‘ سب کچھ لٹا دیا۔ ’’پاکستان کا مطلب کیا: لا الٰہ الا اللہ‘‘ اتنا پُرکشش نعرہ تھا اور نظریۂ پاکستان کی اصطلاح اتنی دلپذیر تھی کہ یہ قربانیاں حقیر محسوس ہوتی تھیں۔ نظریۂ پاکستان یعنی اسلام کے یوں تو دو بنیادی مآخذ ہیں: قرآن اور حدیث‘ لیکن یہ دو بھی اس طرح اکائی بن جاتے ہیں کہ حضورﷺ قرآنِ مجسم اور قرآنِ ناطق بھی تو کہلاتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ایک حدیث کے مطابق قرآن سیرتِ رسولﷺ اور خُلقِ رسولﷺ ہی کا تو بیان ہے۔ یعنی قرآن دین متین کا اصل منبع‘ سر چشمہ اور ماخذ ہے‘ اورسُنّت ِرسولؐ قرآن کی تشریح و تفسیر اور دین کا ماخذ ہونے کے ساتھ قرآن کی عملی تعبیر بھی ہے۔ لہٰذا نظریۂ پاکستان کی آبیاری کے لیے پاکستان میں جو پہلا کام ہونا چاہیے تھا وہ یہ تھا کہ قرآن کی تعلیم کو عام کیا جاتا‘ قرآن کی زبان کو سیکھا اور سکھایا جاتا۔ آخر انگریزی زبان میں مہارت حاصل کی جاسکتی ہے تو قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے کے لیے عربی کیوں نہیں سیکھی جاسکتی؟
اگرچہ قرآن کا یہ اعجاز ہے کہ اسے سمجھے بغیر بھی پڑھا جائے تو ایک لطف‘ سرور اور کیف محسوس ہوتا ہے‘ اور ایک مسلمان ثواب کا مستحق بھی ٹھیرتا ہے‘ لیکن عملی زندگی میں انفرادی اور اجتماعی سطح پر صراطِ مستقیم پر چلنے کے لیے احکاماتِ قرآنی کو اپنا امام بنانے کی ضرورت تھی۔ اس کے حکم پر آگے بڑھا جاتا اور اس کے روکے رکا جاتا۔ لیکن صد افسوس کہ عوامی اور حکومتی دونوں سطحوں پر عملی زندگی سے اسلام کو خارج کر دیا گیا۔ ہم مصنوعی روشنیوں کے ذریعے عزّت ووقار کا راستہ ٹٹولنے کی کوشش کر رہے ہیں اور فطری روشنی کے مینار قرآن مجید پر ریشمی جز دانوں کے بے شمار غلاف ڈال دیے ہیں اور غیر شعوری طو رپر کوشاں ہیں کہ حق کو دبیز ریشمی پردوں میں چھپا دیا جائے۔ یعنی ایمان کے حوالہ سے خود فریبی میں مبتلا ہیں۔ نتیجتاً ہم صراطِ مستقیم سے بہت دور ہوچکے ہیں۔ اسلام کے عادلانہ نظام کو اپنانا تو دو رکی بات ہے‘ ہم عام انسانی اخلاقیات سے بھی عاری ہو چکے ہیں۔
اپنے معاشرے پر نگاہ ڈالیں‘ ہماری کوئی کل سیدھی نہیں۔ ظلم‘ نا انصافی‘ کرپشن‘ خیانت‘ جھوٹ‘ بدیانتی اور منافقت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا۔ یعنی لوڈ شیڈنگ سے اگر قوم ظاہری و باہری طور پر اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ہے تو اِن باطنی بیماریوں سے مسلمانانِ پاکستان کا باطن سیاہ ہوچکا ہے۔ اُن کے ضمیر پر مُردنی چھائی ہے اور ارواح مضمحل ہوچکی ہیں‘ جو اجتماعی بے حسی کا سبب بنی ہیں۔ مقتدر طبقات کی لوٹ مار اور دولت اور وسائل کی اس غیرمنصفانہ تقسیم نے طبقاتی خلیج کو بہت وسیع کر دیا ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو نزلہ و زکام کے علاج کے لیے یورپ میں ہسپتال بک کرواتے ہیں اور اپنے کتوں کے لیے ایئرکنڈیشنڈ کمرے تعمیر کرواتے ہیں‘دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو بنیادی انسانی ضروریات سے محرومی کے باعث بھوک اوربیماری کے ہاتھوں موت کو گلے لگالیتے ہیں۔
قیامِ پاکستان کے وقت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس مملکت ِخداداد میں سیکس ورکرز کا اجتماع ہوگا اور دھوم دھڑلے سے ہوگا‘ نہ حکومت اس پر کوئی گرفت کرے گی اور نہ عوامی سطح پر کوئی احتجاج ہوگا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ابلیسی سوچ ایک قدم اور آگے بڑھ گئی اور پاکستان میں امریکی سفارت خانہ میں ہم جنس پرستوں کا اجتماع منعقد کیا گیا‘ جس میں مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان سے پچھتّر(۷۵) افراد نے شرکت کرکے اللہ کے غضب کو دعوت دی۔ٹرانسجینڈر کے نام پر مرد کو عورت اور عورت کو مرد کہلانے اور اپنی خواہشات کو بنیاد بنا کر’جنس‘ بدلنے کا ملعون فعل کرنے کی اجازت دے دی گئی۔پھر یہ کہ امریکہ ایک بار پھر پاکستان کو اپنے سامنے سربسجود کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اب وہ ہماری ناک پوری قوت سےزمین پر رگڑ رہا ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں کے ذریعے ہماری تباہی و بربادی کا بندوبست کررہا ہے۔ مزید یہ کہ عوام کوحق رائے دہی سے روکنے کے لیے سازشیں تیار کررہا ہے۔
قصہ مختصر‘اپنے کرتوتوں کی وجہ سے ہم بند گلی میں داخل ہوچکے ہیں ۔لیکن مایوسی کفر ہے۔ ضرورت ہے واپس لوٹنے کی‘ قرآن کی طرف رجوع کرنے کی جو نسخۂ کیمیا ہے اور اسی میں ہمارے تمام مسائل کا حل موجود ہے‘ جو ہمیں ماضی سے بھی آگاہ کرتا ہے اور مستقبل کے لیے رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔ رمضان کا بابرکت مہینہ ہمیں دعوتِ فکر دیتا ہے کہ ہم غور کریںکہ ہماری ذلت و رسوائی کی اصل وجہ کیا ہے! ہم یقیناً اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ ہم نے اللہ کی کتاب کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا ہے اور اللہ کے رسولﷺ سے ہمارا تعلق نعت گوئی تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ لہٰذا عملی لحاظ سے ہمارا معاشرہ سُنّت ِ رسولؐ سے لاتعلق ہوچکا ہے (الاماشاء اللہ)۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ کیا اسلامی ممالک میں سے صرف پاکستان ہی نے دین سے اعراض کیا ہے اور اسے پس پشت ڈالا ہے اور اس کے نتیجہ میں یہ اس حال کو پہنچا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ پاکستان دورِ جدید کا واحد اسلامی ملک ہے جس کے قیام کا جواز اسلام بتایا گیا تھا۔ کسی اور ملک نے اپنے نام کا مطلب ’’لا اِلٰہ اِلا اللہ‘‘ نہیں بتایا تھا۔ علاوہ ازیں اگر دوسرے اسلامی ممالک نے بھی قرآن کو ترک کیا ہے تودنیا میں کون سی عزّت کمائی ہے؟ آج پوری دنیا میں ایک اسلامی ملک بھی ایسا نہیں ہے جو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کا دعویٰ کر سکے اور وقت کی عالمی طاقتوں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے۔ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مسلمانوں کی بستیاںاُجاڑ چکا ہے اور اب بھی مسلمانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح کچلا جارہا ہے۔ اس کا ہاتھ صرف اور صرف ایک اسلامی فلاحی ریاست روک سکتی ہے۔ ہر کلمہ گو کا اوّلین دینی فریضہ ہے کہ مذکورہ اسلامی ریاست کے قیام کے لیے تن من دھن لگا دے۔ یہی حالات کا تقاضا ہے‘ یہی کرنے کا اصل کام ہے‘ یہی جہاد ہے۔
ساڑھے چودہ سو سال قبل مدینہ کی چھوٹی سی بستی میں قائم ہونے والی پہلی اسلامی ریاست قلیل مدت میں یورپ‘ ایشیا اور شمالی افریقہ تک پھیل گئی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں نے قرآن کو اپنا امام بنا کر انفرادی اور اجتماعی زندگی کی راہیں متعین کی تھیں‘اور آج اگر اسلام کے نام پر بننے والی دوسری ریاست پاکستان ناکامیوں اور محرومیوں سے دوچار ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن سے حقیقی اور عملی تعلق منقطع کر لیا ہے۔ ہم اگر مضان کی برکات سے بہرہ ور ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں قرآن کو اوڑھنا بچھونا بنانا ہو گا۔ اے کاش! رمضان میں جنم لینے والا پاکستان قرآن کی عملی تعبیر نظر آئے۔ اے کاش! رمضان کے روزے ہمیں ایسی روحانی توانائی بخش دیں کہ ہم اُس نظامِ باطل کا سر کچل سکیں جس نے دنیا میں ہمیں ذلّت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں دیا اور ہماری اُخروی فلاح بھی مشکوک بنادی ہے۔