(تحریکِ جماعت اسلامی) اسلامی نظام بذریعہ انتخابات مولانا مودودیؒ کے موقف میں تبدیلی(۲) - سعادت محمود

8 /

اسلامی نظام بذریعہ انتخابات
مولانا مودودیؒ کے موقف میں تبدیلی
ایک مطالعاتی تجزیہ(۲)
سعادت محمود

درج بالا اقتباسات کا دو پہلوؤں سے جائزہ لینا مقصود ہے۔
پہلا پہلو
دیے گئے اقتباسات سے چار نتائج اخذ کیے گئے ہیںجن کو نیچے دیا گیاہے۔ اس سے اسلامی نظام کے قیام کے بارے میں ابتدائی موقف اور بعد کے موقف میں واضح تضاد نظر آرہا ہے۔ یہی اصل نقطۂ انحراف ہے جو کہ رفتہ رفتہ جماعت اسلامی کو اس مقام پر لے آیا جس کا ذکر ابتدا میں کیا گیا ہے۔باقی دو پہلوؤں سے جائزہ ان چار نکات کے موازنے کے بعد دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تجزیہ صرف اسلامی نظام کے قیام کے طریقۂ کار میں تبدیلی کے بارے میں ہے۔ حقیقی نصب العین (رضائے الٰہی اور فلاحِ اُخروی کا حصول) پر علیحدہ سے لکھنے کا ارادہ ہے۔
نتیجہ نمبر ۱
ابتدائی موقف: اسلامی نظام حکومت قائم ہونے کا ایک ہی راستہ ہے‘ جس کا خلاصہ مولانا مودودی مرحوم ہی کے الفاظ میں یہ ہے:
’’ معاشرے کو جڑ سے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جائے اور ایک عمومی تحریک ِاصلاح کے ذریعہ سے اس میں خالص اسلامی شعور اور ارادہ کو بتدریج اس حد تک نشو و نما دی جائے کہ جب وہ اپنی پختگی کو پہنچے تو خود بخود اس سے ایک مکمل اسلامی نظام وجود میں آجائے۔‘‘

دوسرا موقف:تقسیم کے بعد اسلامی ریاست کے قائم ہونے کے ایک کی بجائے دو راستے ہوگئے۔ پہلا انتخاب اور دوسرا معاشرے کی جڑ سے درستگی ۔آخر میں صرف ایک ہی راستہ رہ گیا اور وہ تھا انتخابی جدّوجُہد۔
نتیجہ نمبر۲
ابتدائی موقف: یہ خیال بالکل غلط ہے کہ مسلم اکثریت کے صوبوں میں حاکمیت ِجمہور (یعنی انتخاب )کے اصول پر خود مختار حکومت کا قیام آخر کار حاکمیّت ِربّ العالمین کے قیام میں مددگار ہوسکتاہے۔
دوسرا موقف: ۱۹۴۵ء میں رائے عامہ کے بل پر تبدیلی کی توقع کے ساتھ انتخا با ت میں حصّہ لینے پر رضامندی ظاہر کی گئی۔تقسیم کے بعدانتخابات کے ذریعے اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لیے جو دو طریقے بیان کیے گئے ہیں اس میں پہلا طریقہ انتخاب کا ہے۔
نتیجہ نمبر۳
ابتدائی موقف: مسلمانوں کی آزاد حکومت بھی اسلامی نظام کے قیام کے لیے نہ صرف یہ کہ مددگاراور مفید نہیں ہو گی بلکہ کفار کی حکومت سے بھی زیادہ رکاوٹ اور سد ِ ّ راہ ہو گی۔
دوسرا موقف: اسی قومی حکومت (جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ نہ صرف یہ کہ اسلامی نظام کے قیام میں مفید اور مددگار ثابت ہونے کی بجائے زیادہ ہی رکاوٹ اور سد ِ ّراہ ہو گی) سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ محسوس کر لیں کہ پاکستان قائم ہونے کے بعد ان کا کام ختم ہو گیا ہے۔ اس پر مولانا مرحوم کے مقام کے ادراک اور تمام ادب و احترام کے باوجود یہ کہے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ: ع ’’ اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا!‘‘
نتیجہ نمبر۴
ابتدائی موقف: مسلمانوں کا قومی اسٹیٹ قائم کر کے یہ توقع رکھنا بھی غلط ہے کہ اسے آہستہ آہستہ تعلیم و تربیت کر کے اسلامی اسٹیٹ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
دوسرا موقف: اب کہا جارہا ہے کہ’’ ریاست کے وسیع ذرائع اور طاقتوں کو استعمال کر کے پاکستان کے باشندوں میں ذہنی اور اخلاقی انقلاب برپا کرنا آسان ہو جائے گا۔‘‘
توجّہ:اگر اوپر کے اقتباسات کو ان کے اصل مآخذ سے ملاحظہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی کہ ان تمام نتائج کا تعلق اصولوں سے ہے نہ کہ حکمت ِعملی سے۔ جتنے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں یہ اصول بیان کیے گئے ہیں وہ بالکل نمایاں ہیں۔یہ وضاحت ذہن میں رہے کیونکہ بعد میں ان اصولوں میں تبدیلی کے وقت ان کو حکمت عملی باور کروایا گیا ہے۔
دوسرا پہلو
اس پہلو کے تین زاویے ہیں:
(۱) جیسا کہ اوپر کے موازنے میں عرض کیا گیا ہے کہ تقسیم سے پہلے تبدیلی کا ایک ہی راستہ تھا لیکن تقسیم کے بعد دو راستے ہو گئے ۔ان میں سےبھی جو اصل راستہ تھا (معاشرے کو جڑ سے ٹھیک کرنا) وہ دوسرے نمبر پر چلا گیا اور وہ راستہ( یعنی جمہوری طریقے سے انتخاب) جس سے اسلامی حکومت کے قیام کو ( تاریخ‘ سیاسیات ‘ اجتماعیات ‘ عقل اور تجربہ کی روشنی میں ) نا ممکنات میں شمار کیا گیا تھا ‘ پہلے نمبر پر آگیا ۔۱۹۵۱ء میں انتخاب ہی تبدیلی کا واحد راستہ قرار پایا۔
(۲)ابتدا میں کہا گیا تھا کہ:
’’پھر اگر رائے عامہ کی موافقت سے یا حالات کی تبدیلی سے کسی مرحلہ پر ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ موجودالوقت دستوری طریقوں ہی سے نظام حکومت کا ہمارے ہاتھ میں آ جانا ممکن ہواور ہمیں توقع ہو کہ ہم سوسائٹی کے اخلاقی‘ تمدنی اور سیاسی و معاشی نظام کو اپنے اصولوں پر ڈھال سکیں گے تو ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں کوئی تامل نہ ہو گا۔‘‘
اور:
’’لیکن اگر کسی وقت ہم ملک کی رائے عامہ کو اس حد تک اپنے عقیدہ و مسلک سے متفق پائیں کہ ہمیں توقع ہو کہ عظیم الشان اکثریت کی تائید سے ہم ملک کا دستور تبدیل کر سکیں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس طریقہ سے کام نہ لیں۔‘‘
یعنی اگر ہمیں اس بات کی توقع ہو کہ نظام حکومت ہمارے ہاتھ میں آجائے گا اور ہم ملک کا دستور تبدیل کر سکیں گے تو ہم انتخاب میں حصّہ لیںگے۔
۱۹۵۷ء میں اس اعتراض (کہ اس وقت اگر مرکزی اور صوبائی اسمبلی کی چند نشستیں حاصل کربھی لی گئیں تو ان کا حاصل کیا ہو گا؟) کا جواب دیتے ہوئے مولانا صاحب نے کہا:
’’ اس وقت جماعت اسلامی صرف پبلک میں کام کر رہی ہے۔ جو با اختیار ادارے ملک کے نظام کو چلانے کی اصل طاقت رکھتے ہیں ان میں اس کا کوئی حصّہ نہیں ہے۔ اس لیے وہ اپنے تمام اخلاقی اور ذہنی اثرات کے باوجود یہاں کے حالات پر براہ راست اثر انداز نہیں ہوسکتی۔ انتخابات میں چند نشستیں حاصل کر لینے کے بعد یہ پوزیشن بدلنا شروع ہو جائے گی۔‘‘
(تحریک اسلامی کا آئندہ لائحۂ عمل‘صفحہ۲۲۹)
کہاں یہ موقف کہ نظامِ حکومت ہاتھ میں آنے کی توقع پر انتخاب میں حصّہ لینے کا امکان اور کہاں چند سیٹوں پر کامیابی کے امکان کی صورت میں بھی انتخاب میں حصّہ لینے پر آمادگی۔
اس تقریر میں مولانا صاحب نے فرمایا کہ:
’’یہ خیال کرنا بھی درست نہیں کہ یہ گروہ جتنی تعداد میں (اسمبلیوں کے) اندر جائے گا وہی اس کی تعداد اسمبلی کی عمر تمام ہونے تک رہے گی۔ میں اس کے برعکس یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہاں اس کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی۔‘‘
قوموں کی تاریخ پڑھیں تو شاید یہ دلیل اس وقت بھی درست نہ تھی لیکن بعد کے حالات و واقعات نے تو بدیہی طور پر اس نظریے کو سراسرغلط ثابت کیا ہے۔
(۳) جب اسلامی نظام کے قیام کو دو طریقوں سے ممکن کہا گیا تھا ‘ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ:
’’ہم اس وقت پہلے طریقہ (بذریعہ انتخاب) کو آزما رہے ہیں۔ اگر ہم اس میں کامیاب ہوگئے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ پاکستان کے قیام کے لیے ہماری قوم نے جو جدّوجُہد کی تھی وہ لاحاصل نہ تھی بلکہ اسی کی بدولت اسلامی نظام کے نصب العین تک پہنچنے کے لیے ایک سہل اور آسان ترین راستہ ہمارے ہاتھ آگیا۔ لیکن اگر خدا نخواستہ ہمیں اس میں ناکامی ہوئی اور اس ملک میں ایک غیر اسلامی ریاست قائم کر دی گئی تو یہ مسلمانوں کی ان تمام محنتوں اور قربانیوں کا صریح ضیاع ہو گا جو قیام پاکستان کی راہ میں انہوں نے کیں۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم پاکستان بننے کے بعد بھی اسی مقام پر ہیں جہاں پہلے تھے۔اس صورت میں ہم پھر دوسرے طریقہ پر کام شروع کر دیں گے جس طرح پاکستان بننے سے پہلے کر رہے تھے۔‘‘
اوّل تو مولانا صاحب کے اپنے افکار کی روشنی میں جمہوری طریقے سے انتخاب کے ذریعے اسلامی نظام کا قیام ناممکنات میں سے تھا۔ لیکن اگر اس کے کسی بھی حد تک امکان کی توقع پر انتخابات میں حصّہ لینے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا تو یقیناً جماعت اسلامی کی مجالس شوریٰ میں اس بات کا جائزہ لیا جاتا رہا ہو گا کہ انتخاب کے ذریعے اسلامی نظام کے قیام کا امکان کس حد تک ہے۔ کیا کسی بھی وقت یہ محسوس نہیں کیا گیا کہ انتخابات کے ذریعے اسلامی نظام کا قیام ممکن نہیں۔ راقم کی رائے میں۱۹۷۰ء کے انتخابات کے نتائج نے ثابت کر دیا تھا کہ مروّجہ انتخابات کے ذریعے اسلامی نظام کا قیام ممکن نہیں۔
موقف میں تبدیلی کے جواز کا تجزیہ
موقف میں اس تبدیلی کا تفصیلی جواز مولانامودودی نے ۱۹۵۷ء میں اپنی مشہور پالیسی تقریر (جو کہ’’تحریک اسلامی کا آئندہ لائحۂ عمل‘‘ کے نام سے موجود ہے) میں پیش کیا ہے۔ مولانا صاحب اس تقریر میں فرماتے ہیں:
’’اب یہ بات آخر آپ میں سے کس سے چھپی ہوئی ہے کہ۱۹۴۰ء سے ۱۹۴۷ء تک پہنچتے پہنچتے واقعات کی دنیا کس قدر بدل گئی ؟(۱) ۱۹۴۰ء میں جو راستہ اسلامی حکومت قائم کرنے کے لیے میں نے پیش کیا تھا ‘مسلمانوں نے بحیثیت مجموعی اسے اختیار نہیں کیا ۔ وہ اسی ’’درمیانی چیز‘‘ کے لیے کوشاں رہے جسے میں نے پھیر کا راستہ کہا تھا ‘حتیٰ کہ بالآخر وہ ’’لا دینی جمہوری قومی ریاست‘‘ پاکستان میں قائم ہو گئی جس کے متعلق میں نے یہ کہا تھا کہ وہ اسلامی نظامِ حکومت کے قیام میں مدد گار ہونے کی بجائے سخت مزاحم ہو گی‘ اور اسے جمہوری طریقوں سے اسلامی ریاست میں تبدیل کرنا کوئی آسان کام نہ ہو گا۔(۲) یہ سب کچھ پیش آجانے کے بعد اگر کوئی شخص مجھ سے یہ کہے کہ اس کے پیش آنے سے پہلے جن خطرات کا میں نے ذکر کیا تھا ‘اب مجھے ان کو دفع کرنے کی بجائے انہیں سچ کر دکھانے کی کوشش کرنی چاہیے تھی تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اس کی معاملہ فہمی کی داد دوں یا سخن فہمی کی۔ بے شک میں نے کہا تھا کہ جاہلیت کے اصول پر مسلمانوں کی قومی ریاست بن جانا اسلامی حکومت کے قیام کا ذریعہ نہیں ہے اس لیے اس درمیانی چیز کے لیے کوشش کرنے کی بجائے اصل مقصد کے لیے براہِ راست کوشش کرو‘ مگر کیا اس کا یہ مطلب تھا یا اب لینا درست ہے کہ وہ درمیانی چیز جب قائم ہو جائے تو ہمیں اس کو اسلام کی راہ میں اتنا ہی اور ویسا ہی سخت مزاحم بن جانے دینا چاہیے‘ اور اسے اسلامی نظام کے قیام کا ذریعہ بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے؟‘‘
اقتباس طویل ہو جائے گا‘ اس لیے جو لوگ دلچسپی رکھتے ہوں وہ اس کا اصل ماخذ (تحریک اسلامی کا آئندہ لائحۂ عمل ‘صفحات ۱۱۵ تا ۱۱۷ ) ملاحظہ فرمائیں۔
واضح رہے کہ یہ وضاحت ۱۹۵۷ءمیں کی جا رہی ہے جب کہ اس وقت تک درج ذیل واقعات ہو چکے تھے۔ کیا اتنا کچھ ہو جانے کے بعد بھی اس بارے میں دو رائے تھیں کہ جن اندیشوں اور خطرات کا اظہار کیا گیا تھا وہ درست ہیں یا نہیں!
(۱) قائد اعظم کے انتقال کے ۲۲ دن بعد ہی ۴ اکتوبر ۱۹۴۸ء کو مولانا مودودی صاحب کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب اور میاں طفیل محمد صاحب بھی نظر بند کیے گئے تھے۔ اپریل ۱۹۴۹ء میں مولانا مودودی اور ان کے ساتھیوں کی میعادِ نظربندی میں چھ ماہ کی توسیع کر دی گئی تھی اور وہ ۲۸ مئی ۱۹۵۰ء تک نظر بند رہے۔ (روداد جماعت اسلامی ‘حصّہ ششم ‘صفحہ ۱۳۳)
قرار دادِ مقاصد کی منظوری پر مجبور کرنے کا جو ’’جرم‘‘ جماعت اسلامی نے کیا تھا اس کی پاداش میں مولانا مودودی اور ان کے ساتھیوں کی میعادِ نظربندی میں مسلسل اضافہ کیا جانے لگا۔ (روداد جماعت اسلامی ‘حصّہ ششم‘صفحہ ۱۰۹)
۱۹۴۸ء ہی کے آخر میں رسالہ ’’ترجمان القرآن‘‘ اپنے ایڈیٹر‘ پرنٹر اور پبلشر مولانا مودودی کی نظر بندی کی وجہ سے بند تھا ۔ رسالہ’’چراغ راہ‘‘ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کے سیفٹی لاء کی نذر ہو چکا تھا۔ جماعت کے حامی سہ روزہ ’’کوثر‘‘ اور روزنامہ ’’تسنیم ‘‘ اگرچہ پنجاب پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت چھ ماہ بند رہ کر۲۳ فروری کو بحال ہو چکے تھے ‘لیکن اپنے مالی اور دوسرے نقصانات کی وجہ سے نڈھال تھے۔(روداد جماعت اسلامی‘ حصّہ ششم ‘صفحات ۱۰۷و۱۰۸)
۱۹۴۹ءہی میں جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے بہترین کارکنوں میں سے ۸ / ۱۰ وہاں کی جیلوں میں بند تھے۔ صوبے میں ہر قسم کی اجتماعی سرگرمیوں پر دوسرے صوبوں سے بھی شدید تر پابندیاں عائد تھیں۔ (کتاب محولہ بالا ‘صفحہ ۹۹)
’’اب صوبہ سرحد کے انتخابات ہو رہے ہیں۔ صوبے میں ہمارے سب سے بااثر کارکن اور مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن سردار علی خان صاحب اور ایک دوسرے شمس القمر صاحب کودفعہ ۴۰ سرحد کے تحت اکتوبر کے آخر میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔(حاشیہ میں درج ہے) ان کے چند روز بعد جماعت کے ایک اور بااثر رکن ارباب نعمت اللہ خان صاحب کو بھی جنہیں علاقہ کی پنچایت نے سرحد اسمبلی کے لیے نامزد کیا تھا‘ گرفتار کر لیا گیا۔ سردار علی خان صاحب کو سیفٹی ایکٹ کے تحت ایک سال کے لیے قید کر دیا گیا ۔‘‘(روداد جماعت اسلامی ‘ حصّہ ششم‘ صفحہ۱۲۱)
گرفتاریوں کی مزید تفصیل اسی کتاب کے صفحہ ۱۳۴ پر ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
(۲) نومبر۱۹۴۹ء‘ جنوری ۱۹۵۰ء‘ جون۱۹۵۰ء‘ ستمبر۱۹۵۰ء‘ مارچ۱۹۵۱ء اورجولائی ۱۹۵۱ء میں وزارت داخلہ‘ فوجی ہیڈ کوارٹر راولپنڈی اور مختلف صوبائی حکومتوں کی طرف سے خاص ہدایات اور احکام جاری کیے گئے کہ جماعت اسلامی ایک سیاسی جماعت ہے۔ سرکاری ملازموں کو نہ اس کی کارروائی میں شریک ہونا چاہیے‘ نہ اس کی مالی مدد کرنی چاہیے‘ نہ اس کی کوئی چیز پڑھنی یا سننی چاہیے‘ نہ اس کے کام یا کارکن سے کوئی واسطہ رکھنا چاہیے‘ اور نہ اپنے گھر کے لوگوں کو اس سے کسی تعاون کی اجازت دینی چاہیے ‘ورنہ قواعد ِملازمت کے تحت ان کے خلاف سخت انضباتی کارروائی کی جائے گی‘ جس کے نتیجے میں عہدے سے تنزلی کی سزا بھی دی جا سکتی ہے اور برخاست بھی کیا جا سکتا ہے۔ بعض سرکلروں میں حکومت کی طرف سے اس سختی کے جواز میں جماعت کا جرم یہ بتایا گیا کہ :’’اس جماعت کے مقاصد میں سے ایک بڑا مقصد پاکستان میں شرعی حکومت کا قیام ہے۔‘‘
ان احکام سے پہلے بھی دسمبر۱۹۴۸ء میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ جماعت کے لٹریچر کا کوئی پرزہ بھی کسی چھاؤنی کی حدود میں داخل نہ ہونے پائے ............اور مذکورہ احکام کے دو سال بعد مرکزی وزارت ِ داخلہ نے بڑے قہر کے انداز میں پھر حکم نامہ جاری کیا کہ باوجو دبار بار توجہ دلانے کے‘ جماعت اسلامی کے ہم خیال لوگ ہر جگہ بدستور کام کر رہے ہیں۔ سب محکموں کے اعلیٰ افسروں کو چاہیے کہ اپنے ماتحت لوگوں کو سختی سے متنبہ اور منع کریں۔ ) روداد جماعت اسلامی ‘ حصّہ ششم‘ صفحات۱۳۵و۱۳۶)
(۳) اس کے بعد (سابق) صوبہ پنجاب میں ڈائریکٹ ایکشن سے پیدا شدہ صورت حال کا بہانہ بنا کر۲۸ مارچ ۱۹۵۳ء کو جماعت اسلامی پر ہاتھ ڈالا گیا اور اس پر ایک ایسی کاری ضرب لگانے کا ارادہ کیا گیاکہ اگر یہ ختم نہ بھی ہو تو ایک مدت تک سر نہ اٹھا سکے۔
لاہور میں مارشل لاء کے دنوں میں امیر جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو ۲۸مارچ ۱۹۵۳ء کو بغیر کسی معقول وجہ کے گرفتار کر کے پہلے پھانسی پر لٹکانے کی اور اس کے بعدچودہ سال قید بامشقت میں رکھنے کی کوشش کی گئی۔
اسی زمانےمیں مولانا مودودی صاحب اور (مجلس شوریٰ کے بیشتر ارکان سمیت)۵۴ دوسرے اہم کارکنوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ لاہور میں گرفتار کیے جانے والوں کے خلاف فوجی عدالت کے روبرو پیش کرنے کے لیے جب کوئی الزام نہ مل سکا اور فوجی حکام نے یکے بعد دیگرے دو مرتبہ تحقیقات کے بعد ان کی رہائی کے احکام جاری کر دیے تو انہیں سیفٹی ایکٹ کے تحت نظر بند کر دیا گیا۔ اسی سلسلے کی مزید کارروائیوں کے لیے ملاحظہ فرمائیں :روداد جماعت اسلامی‘ حصّہ ہفتم‘ صفحہ ۸۰و۸۱)
اس دوران میں پہلے ایک من مانا دستور آرڈیننس کے ذریعےنافذ کرنے کی کوشش کی گئی ............تو موجودہ دستوریہ وجود میں لائی گئی ............ ان اعلانات کے چند ہی روز بعد۲۴ اکتوبر۱۹۵۴ء کو یکایک یہ خبر آئی کہ گورنر جنرل نے دستوریہ کو توڑ دیا ہے اور حکمرانی کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لےلیے ہیں۔ ساتھ ہی پورے ملک میں شدید سنسر شپ عائد کر دی گئی۔ ملک میں سناٹا چھا گیا اور مارشل لاء کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ صاف نظرآنے لگا کہ پاکستان سے اسلام ہی نہیں جمہوریت کو بھی ہمیشہ کے لیے رخصت کر دیا گیا ہے ............
دستوریہ کو توڑنے کے کے پیچھے اصل ارادہ کیا کارفرما تھا‘ وہ ایک ہفتہ کے اندر اندر ان اعلانات اور بیانات کے ذریعے سامنے آگیا جو اسلام اور اسلامی دستور کے سلسلے میں یکے بعد دیگرے نئے ذمہ داران کی طرف سے پریس میں آئے۔ جماعت اسلامی کو نام لے لے کر سخت سے سخت دھمکیاں دی گئیں کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو مذہبی حدود تک محدود رکھے‘ بلکہ صاف صاف کہا گیا کہ اگر تم لوگ مذہب کو سیاست میں دخیل بنانے سے باز نہیں آؤ گے تو تمہیں کچل کر رکھ دیا جائے گا۔
(۴) قرار دادِ مقاصد کے متعلق امیر جماعت اسلامی مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنی ایک تقریر میں ٹھیک فرمایا تھاکہ :
’’ یہ ایک ایسی عجیب(انوکھی) بارش تھی کہ نہ اس سے پہلے گھٹا اٹھی اور نہ اس کے بعد کوئی روئیدگی نمودار ہوئی۔ عوامی دباؤ کے تحت یہ قرارداد پاس تو کر دی گئی لیکن اس کے بعد نہ دستور سازوں اور نہ حکمرانوں کی طرف سے کوئی ایسی بات ظہور میں آئی جو پتا دیتی ہو کہ وہ فی الواقع اس کے مطابق پاکستان کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے برعکس ان کی ساری سرگرمیوں سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ اس قرار داد کے پاس کرنے سے ان کا مقصد عوام کی بے چینی دور کر دینے کے سوا کچھ اور نہ تھا۔‘‘ (روداد جماعت اسلامی‘ حصّہ ششم‘صفحہ ۱۰۷و۱۰۸)
اس سے بھی بڑھ کر مولانا صاحب نے نومبر۱۹۵۱ءمیں فرمایا:
’’ آخر میں ایک نہایت اہم مسئلہ ملک کے دستور کا ہے جو چار سوا چار سال سے ٹل رہا ہے۔ اس معاملے میں ہمارے اربابِ اقتدار کی روش ایک مسلسل وجۂ تشویش بنی ہوئی ہے۔ وہ ابتدا سے ملک کا دستور ملک کے باشندوں کی تمنّاؤں اور آرزوؤں کی بجائے اپنی مرضی کے مطابق بنانے پر تلے رہےہیں۔ پہلے انیس مہینے تک وہ اس بات کو ٹالتے رہے کہ اسلام کو دستور کی بنیاد قرار دینے کا سرکاری طور پر اعلان کریں ۔پھر جب لوگوں نے ہر طرف سے مطالبہ کیا تو مجبوراً قرار داد مقاصد پاس کی۔‘‘
پھر فرمایا:
’’جیسا کہ میں اس سے پہلے اپنی ایک تقریر میں کہہ چکا ہوں (مندرجہ بالا الفاظ) اگر حقیقت میں ان کے اپنے مقاصد بھی وہی ہوتے جو انہوں نے اس قرارداد میں بیان کیے تھے تو اس سے پہلے کچھ آثار ایسے پائے جانے چاہئیں تھے جو پتا دیتے کہ اسلامی نظام زندگی کو برپا کرنے کے لیے ملک کے سربراہ کاروں میں کوئی رجحان پیدا ہو رہا ہےلیکن بارش سے پہلے اس طرح کی کوئی گھٹا اٹھتی نہ دیکھی گئی۔ پھر کم از کم اتنا تو ہونا چاہیے تھا کہ قرار داد پاس کر لینے کے بعد حکام کے رویّہ میں ‘ حکومت کی پالیسی میں‘۱۹۳۵ء کے ایکٹ کی دفعات میں‘ ملک کے قوانین میں‘ تعلیم کے نظام میں‘ سول سروس وغیرہ کے طریق تربیت میں اور فوج کے طور طریقوں میں اسلام کے منشا کے مطابق کوئی تبدیلی رونما ہونا شروع ہو جاتی۔ مگر اس اتفاقی بارش کے بعد ایسی کوئی روئیدگی بھی کسی طرف سے ابھرتی نظر نہیں آئی۔ بس ایک جادو کی سی برسات تھی جو مداری نے لوگوں کے مطالبے پر برسا دی۔
مارچ ۱۹۴۹ء (یعنی قرار داد مقاصدکی منظوری کے وقت)سے ستمبر۱۹۵۰ء تک پورے ۱۹ مہینے پھر اس انتظار میں گزر گئے کہ قرار داد مقاصد کی تفسیر ایک تفصیلی دستور کی شکل میں کیا پیش کی جاتی ہے۔ آخرکار وہ سفارشات ہمارے سامنے آئیں جو بنیادی حقوق اور بنیادی اصولوں کے متعلق دستور ساز اسمبلی کی مقرر کردہ کمیٹیوں نے مرتب کی تھیں اور یہ دیکھ کر سارا ملک حیران رہ گیا کہ وہ دراصل قرارداد مقاصد کی تفسیر نہیں بلکہ عملاً اس کی تنسیخ تھیں۔ ان میں اسلام اور جمہوریت دونوں پر کچھ اس بے دردی کے ساتھ چھری چلائی گئی تھی کہ ملک کے سارے گروہ اس پر چیخ اٹھے .....اور معاملہ پھر کمیٹیوں کے حوالے کر دیا گیا جس پر آج چودہ مہینے گزر چکے ہیں۔
اب سنا جا رہا ہے کہ ’’عالم بالا‘‘ میں پھر اسی طرح کی نئی سازش کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے جیسی ۱۹۴۸ء میں نظام اسلامی کے مطالبے کو روکنے کے لیے کی گئی تھی .....اب پھر یہ غلط اندازہ کیا جا رہا ہے کہ اپنے حسب ِمنشا دستور بنا کر نافذ کرنے میں اگر کوئی ان کی راہ کا روڑا بن سکتا ہے تو وہی چند اشخاص ہیں۔ چنانچہ ان کو ہٹانے کے لیے پھر کچھ تدبیریں سوچی جارہی ہیں۔‘‘ (روداد جماعت اسلامی‘ حصّہ ششم‘ صفحہ ۸۷و۸۸)
اللہ تعالیٰ سے اس دعا کے ساتھ کہ شیطان کے شر سے محفوظ رکھے‘ انہی چند سطروں میں دیکھیں کہ کتنا تضاد ہے۔ اس قیادت کے بارے میں تقسیم سے پہلے کے تبصرے پڑھ لیں۔ پھر انہی سطروں میں آپ کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ قرارداد مجبوراً پاس کی ہے اور اس لیے پاس کی ہے کہ عوام کی بےچینی دور ہو جائے۔ پھر آپ یہ توقع بھی رکھتے ہیں کہ اس کی منظوری کے بعد یہ اور یہ تبدیلیاں آنی شروع ہو جانی چاہئیں تھیں۔
’’ تحریک اسلامی کا آئندہ لائحۂ عمل‘‘ میں پالیسی کی تبدیلی کی بنیاد تین چیزوں پر ہے: (۱)قرارداد مقاصد (۲)مسلم اکثریت کے بل پر انتخابات کے ذریعے(۳)تبدیلی ٔقیادت۔
جہاں تک قرار داد مقاصد کا تعلق ہے اس کی حقیقت کے بارے میں اوپر لکھا جا چکا ہے۔ مسلم اکثریت کی اخلاقی حالت (ضمیمہ نمبر۱) اور انتخابا ت (ضمیمہ نمبر۲) کے بارے میں مولانا مودودی مرحوم کی رائے علیحدہ سے ایک ضمیمے کے طور پر دی جارہی ہے۔ یہاں ایک مختصر سا اقتباس دینا مقصودہے۔
’’ رہے عام تعلیم یافتہ لوگ تو ان کی بے حسی کا اندازہ اس سے کر لیجیے کہ پنجاب کے پچھلے انتخابات میں‘ جبکہ پانچ سال کے لیے صوبے کی قسمت کا فیصلہ ہو رہا تھا‘ ان کی بمشکل۲فی صد آبادی ووٹ دینے کے لیے آئی۔ عوام کی رائے کو تیار کرنے میں تو ان کے ۲۵فیصد حصے نے بھی مشکل ہی سے کوئی دلچسپی لی ہو گی۔ باقی سب اس سوال سے بالکل بے پروا تھے کہ کن لوگوں کے ہاتھ میں آئندہ پانچ سال کے لیے صوبے کے انتظام کی باگیں دی جاتی ہیں۔ گویا یہ انتخاب کہیں اور ہو رہے تھے‘ اور ان کا کوئی اچھا یا برا اثر خود ان کی زندگی پر تو پڑنا ہی نہیں تھا۔ غور کیجیے کہ جس ملک کے اہل دماغ طبقے کا یہ حال ہو اس کو تنزل اور تباہی کی طرف جانے سے کون روک سکتا ہے۔‘‘ (روداد جماعت اسلامی‘ حصّہ ششم‘ صفحہ۹۳)

اوپر کیے گئے تجزیے کا محور یہ ہے کہ جب معاشرے کو جڑ سے ٹھیک کرنے کی بجائے انتخاب کے ذریعے اسلامی نظام کے قیام کے راستے کو اختیار کر لیا گیا تو پھر اس کے مطابق ہی بیانات میں بھی تبدیلی کرنا پڑی۔ ذیل میں صرف تین مثالیں دی جا رہی ہیں ۔ پہلے معاشرے کو جڑ سے ٹھیک کرنا پیش نظر تھا اس لیے مرض کی صحیح تشخیص کی جارہی تھی‘ لیکن اب چونکہ رائے عامہ کے بل پر انتخابات میں کامیابی پیش نظر تھی اس لیے عوام کو معصوم اور اسلام پسندقرار دیا گیا۔ اس لیے اپنی ہی تشخیص کے برعکس بیانات دیے گئے۔
نکتہ۱
پہلا موقف

’’مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ان کا سوادِ اعظم اسلامی تہذیب اور اس کی اسلامی خصوصیات سے ناواقف ہے‘ حتیٰ کہ اس میں ان حدود کا شعور تک باقی نہیں رہا ہے جو اسلام کو غیر اسلام سے ممیز کرتی ہیں ............ان کا قومی کردار اب مردانہ نہیں رہا بلکہ زنانہ بن گیا ہے .......... ہرطاقتور ان کے خیالات کو بدل سکتا ہے‘ ان کے عقا ئد کو پھیر سکتا ہے‘ ان کی ذہنیت کو اپنے سانچے میں ڈھال سکتا ہے‘ ان کی زندگی کو اپنے رنگ میں رنگ سکتا ہے۔ ان کے اصول ِ حیات میں اپنی مرضی کے مطابق جیسا چاہے تغیّر و تبدل کر سکتا ہے۔ اوّل تو وہ اتنا علم نہیں رکھتے کہ یہ امتیاز کر سکیں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم کس خیال اور کس عملی طریقے کو قبول کر سکتے ہیں اور کس کو نہیں ۔دوسرے ان کی قومی تربیت اتنی ناقص ہے کہ ان کے اندر کوئی اخلاقی طاقت ہی باقی نہیں رہی۔ جب کوئی چیز قوت کے ساتھ آتی اور گرد و پیش میں پھیل جاتی ہے تو وہ خواہ کتنی ہی غیر اسلامی ہو‘ یہ اس کی گرفت سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکتے اور غیر اسلامی جاننے کے باوجود طو عاً و کرہاً اس کے آگے سپر ڈال دیتے ہیں....... ہماری سوسائٹی میں اتنی قوت ہی نہیں رہی کہ وہ اپنے افراد کو اس کے باہر قدم رکھنے سے باز رکھ سکے۔‘‘
(۱۹۳۷ء ‘تحریک آزادئ ہند اور مسلمان ‘ حصّہ دوم‘ صفحہ۵۴)
دوسرا موقف
’’اگر ہم اپنے دشمن نہیں ہیں تو ہمیں بہر حال یکسو ہو جانا چاہیے۔ اس یکسوئی کی صرف دو ہی صورتیں ممکن ہیں۔ ہم کو دیکھنا ہے کہ ہم میں سے کون کس صورت کو پسند کرتا ہے۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ ہمارے سابق حکمرانوں نے اور ان کی غالب تہذیب نے جس راستے پر اس ملک کو ڈالا تھا‘ اسی کو اختیار کر لیا جائے۔ پھر خدا‘ آخرت ‘ دین اور دینی تہذیب و اخلاق کا خیال چھوڑ کر ایک خالص مادہ پرستانہ تہذیب کو نشو و نما دی جائے تاکہ یہ ملک بھی ایک دوسرا روس یا امریکہ بن سکے۔ مگر علاوہ اس کے کہ یہ راہ غلط ہے‘ خلافِ حق ہے اور تباہ کن ہے‘ مَیں کہوں گا کہ پاکستان میں اس کا کامیاب ہونا ممکن بھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہاں کی نفسیات اور روایات میں اسلام کی محبت اور عقیدت اتنی گہری جڑیں رکھتی ہے کہ انہیں اکھاڑ پھینکنا کسی انسانی طاقت کے بس کی بات نہیں۔‘‘
(۱۹۵۱ء ‘روداد جماعت اسلامی ‘حصّہ ششم‘ صفحہ۴۰۰)
نکتہ۲
پہلا موقف

’’ایک قوم کے تمام افراد کو محض اس وجہ سے کہ وہ نسلاً مسلمان ہیں‘ حقیقی معنوں میں مسلمان فرض کر لینا اور یہ امید رکھنا کہ ان کے اجتماع سے جو کام بھی ہو گا اسلامی اصول پر ہی ہو گا‘ پہلی اور بنیادی غلطی ہے۔ یہ انبوہ عظیم جس کو مسلمان قوم کہا جاتا ہے‘ اس کا حال یہ ہے کہ اس کے نوسو ننانوے (۹۹۹) فی ہزارـ(۱۰۰۰) افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں نہ حق اور باطل کی تمیز سے آشنا ہیں۔ نہ ان کا اخلاقی نقطہ نظر اور ذہنی رویہ اسلام کے مطابق تبدیل ہوا ہے۔ باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو بس مسلمان نام ملتا چلا آ رہا ہے اس لیے یہ مسلمان ہیں۔ نہ انہوں نے حق کو حق جان کر اسے قبول کیا ہے‘ نہ باطل کو باطل جان کر اسے ترک کیا ہے۔ ان کی کثرتِ رائے کے ہاتھ میں باگیں دے کر اگر کوئی شخص یہ امید رکھتا ہے کہ گاڑی اسلام کے راستے پر چلے گی تو اس کی خوش فہمی قابلِ داد ہے۔‘‘
(جنوری۱۹۴۱ء‘تحریک آزادئ ہند اور مسلمان ‘ حصّہ دوم ‘صفحہ۱۴۰)
دوسرا موقف
’’یکسوئی کی دوسری صورت یہ ہے کہ ہم اپنی انفرادی اور قومی زندگی کے لیے اُس راہ کا انتخاب کر لیں جو قرآن اور سنّت محمدﷺ نے ہم کو دکھائی ہے۔ یہی ہم چاہتے ہیں اور یہی ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی مسلم آبادی کے کم از کم نو سو ننانوے(۹۹۹) فی ہزار (۱۰۰۰) باشندے چاہتے ہیں‘ اور یہی ہر اس شخص کو چاہنا چاہیے جو خدا اور رسول کو مانتا ہو اور زندگی بعد موت کا بھی قائل ہو۔‘‘(نومبر۱۹۵۱ء ‘روداد جماعت اسلامی ‘حصّہ ششم‘ صفحہ۴۰۱)
نکتہ ۳
پہلا موقف

’’یہ لوگ کہتے ہیں کہ برطانوی نظامِ اطاعت اسلامی نصب العین کی راہ کی بڑی رکاوٹ ہے‘ ہم تنہا اس رکاوٹ کو دور نہیں کر سکتے‘ اس لیے پہلے دوسروں کی مدد سے اس کو دور کر لیں‘ پھر اصل منزل مقصود کی طرف بڑھنے کا راستہ آسان ہو جائے گا۔ مگر میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ راستہ آسان کیسے ہو جائے گا؟ ظاہر بات ہے کہ ایک نظامِ اطاعت یا دین کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسرا نظامِ اطاعت یا دین کبھی قائم نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ نفوسِ انسانی میں پہلے نظام کی تخریب اور دوسرے نظام کی تعمیر کا خیال اور ارادہ کمال درجہ قوت کے ساتھ مستحکم نہ کر دیا جائے۔‘‘(جنوری ۱۹۴۰ء‘اسلام کی راہ راست اور اس سے انحراف کی راہیں:تحریک آزادئ ہند اور مسلمان‘ حصّہ دوم‘ صفحہ۱۳۵)
دوسرا موقف
’’۱۵ اگست ۱۹۴۷ء سے پہلے کی صورت حال تو یہ تھی کہ ہمارے اوپر ایک غیر مسلم اقتدار مسلّط تھا‘ اس وجہ سے ہم اسلامی خطوط پر اپنی ملت کی تعمیر میں ریاست اور اس کی طاقتوں اور اس کے ذرائع سے کوئی مدد نہیں پارہے تھے ........ اب جو سیاسی انقلاب ۱۵ اگست کو رونما ہوا ہے اس کے بعد ہمارے سامنے یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ آیا اب ہماری قومی ریاست اسلامی زندگی کی تعمیر میں وہ حصّہ لے گی جو ایک معمار کا حصّہ ہوتا ہے؟........ اس وقت چونکہ پاکستان کا آئندہ نظام زیرتشکیل ہے اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ایسی ریاست بن جائے جو اسلامی زندگی کی معمار بن سکے۔ ہماری یہ خواہش اگر پوری ہو گئی تو ریاست کے وسیع ذرائع اور طاقتوں کو استعمال کر کے پاکستان کے باشندوں میں ذہنی اور انقلابی انقلاب برپا کرنا آسان ہو جائے گا۔ پھر جس نسبت سے ہمارا معاشرہ بدلتا جائے گا اسی نسبت سے ہماری ریاست بھی ایک مکمل اسلامی ریاست بنتی چلی جائے گی۔‘‘
(جون ۱۹۵۸ء‘تحریک آزادئ ہند اور مسلمان ‘حصّہ دوم ‘صفحہ۳۳۳و۳۳۴)
یہاں ایک اور وضاحت ہو جائے تو شاید نامناسب نہ ہو‘ کہ مختلف ادوار میں جو سوال اٹھتا رہا ہے کہ طاقت کے ذریعے انقلاب لے آیا جائے وہ بھی در اصل نصب العین کی ترجیح میں تبدیلی ہی کا نتیجہ ہے ۔ جب اسلامی نظام کے قیام کو مقصد اور نصب العین قرار دے دیا گیاتو اُس کے لیے انتخاب ہی واحد راستہ قرار پایا جبکہ انتخابات کے نتائج سے کوئی خاطر خواہ کامیابی ہوتی نظر نہیں آئی تو یہ سوال پیدا ہونا شروع ہوا کہ طاقت کے زور پر انقلاب لے آیا جائے۔
دو ضمیمے بھی اس پورے تجزیے کے ساتھ دیے گئے ہیں:(۱)مسلمانوں کی اخلاقی حالت‘ اور (۲)انتخابات کے بارے میں مولانا مودودی صاحب کی رائے۔ ان کی اہمیت اس لحاظ سے بہت زیادہ ہے کہ جس رائے عامہ کے بل پر اور جن انتخابات کے ذریعے مولانا مودودی صاحب اسلامی نظام قائم کرنا چاہ رہے تھے ان دونوں کے بارے میں خود ان کی رائے کیا تھی۔
ضمیمہ۱:مسلمانوں کی اخلاقی حالت
جس رائے عامہ کے بل پرنظام کی تبدیلی کی کوششوں کا تذکرہ کیا گیا ہے ‘مختلف مواقع پر اس رائے عامہ کے تجزیے خود مولانا صاحب کی اپنی تحریروں کی روشنی میں:
(۱) ’’ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ ان کا سوادِ اعظم اسلامی تہذیب اور اس کی اسلامی خصوصیات سے ناواقف ہے‘ حتیٰ کہ اس میں ان حدود کا شعور تک باقی نہیں رہا ہے جو اسلام کو غیر اسلام سے ممیز کرتی ہیں ............ان کا قومی کردار اب مردانہ نہیں رہا بلکہ زنانہ بن گیا ہے ............ ہرطاقتور ان کے خیالات کو بدل سکتا ہے‘ ان کے عقائد کو پھیر سکتا ہے‘ ان کی ذہنیت کو اپنے سانچے میں ڈھال سکتا ہے‘ ان کی زندگی کو اپنے رنگ میں رنگ سکتا ہے۔ ان کے اصولِ حیات میں اپنی مرضی کے مطابق جیسا چاہے تغیّر و تبدل کر سکتا ہے۔ اوّل تو وہ اتنا علم نہیں رکھتے کہ یہ امتیاز کر سکیں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم کس خیال اور کس عملی طریقے کو قبول کر سکتے ہیں اور کس کو نہیں ۔دوسرے ان کی قومی تربیت اتنی ناقص ہے کہ ان کے اندر کوئی اخلاقی طاقت ہی باقی نہیں رہی۔ جب کوئی چیز قوت کے ساتھ آتی اور گرد و پیش میں پھیل جاتی ہے تو وہ خواہ کتنی ہی غیر اسلامی ہو‘ یہ اس کی گرفت سے اپنے آپ کو نہیں بچا سکتے اور غیر اسلامی جاننے کے باوجود طو عاً و کرہاً اس کے آگے سپر ڈال دیتے ہیں ...... ہماری سوسائٹی میں اتنی قوت ہی نہیں رہی کہ وہ اپنے افراد کو حدودِ اسلامی کے باہر قدم رکھنے سے باز رکھ سکے ......افراد کو قابو میں رکھنا تو درکنار‘ ہماری سوسائٹی تو اب افراد کے پیچھے چل رہی ہے۔ پہلے چند سرکش افراد اسلامی قانون کے خلاف بغاوت کرتے ہیں‘ سوسائٹی چند روز اس پر ناک بھوں چڑھاتی ہے‘ پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہی بغاوت ساری قوم میں پھیل جاتی ہے۔‘‘
(۲)’’کوئی بڑی سے بڑی قومی مصیبت بھی آج مسلمانوں کے رہنماؤں اور ان کے قومی کارکنوں کو اتحادِ عمل اور مخلصانہ اور بے غرضانہ عمل پر آمادہ نہیں کر سکتی ............ان کے اندر اتنی زندگی تو ضرور باقی ہے کہ جب کوئی مصیبت پیش آتی ہے تو تڑپ اٹھتے ہیں‘ مگر وہ اخلاقی اوصاف باقی نہیں جن کی بدولت یہ قومی مفاد کی حفاظت کے لیے اجتماعی کوشش کر سکیں۔ان میں اتنی تمیز نہیں کہ صحیح رہنما کا انتخاب کر سکیں۔ ان میں اطاعت کا مادہ نہیں کہ کسی کو رہنما تسلیم کرنے کے بعد اس کی بات کو مانیں اور اس کی ہدایت پر چلیں۔ ان میں اتنا ایثار نہیں کہ کسی بڑے مقصد کے لیے اپنے ذاتی مفاد‘ اپنی رائے‘ اپنی آسائش‘ اپنے مال اور اپنی جان کی قربانی کسی حد تک بھی گوارا کر سکیں۔‘‘
(۳)’’ افلاس‘ جہالت اور غلامی نے ہمارے افراد کو بے غیرت اور بندۂ نفس بنا دیا ہے۔ وہ روٹی اور عزّت کے بھوکے ہو رہے ہیں۔ ان کا حال یہ ہے کہ جہاں کسی نے روٹی کے چند ٹکڑے اور نام و نمود کے چند کھلونے پھینکے ‘ یہ کتوں کی طرح ان کی طرف لپکتے ہیں اور اس کے معاوضے میں اپنے دین و ایمان‘ اپنے ضمیر‘ اپنی غیرت و شرافت ‘ اپنی قوم و ملت کے خلاف کوئی خدمت بجا لانے میں ان کو کوئی باک نہیں ہوتا۔ مسلمان کا ایمان جو کبھی سارے جہان کی دولت سے بھی زیادہ قیمتی تھا‘ آج اتنا سستا ہو گیا ہے کہ ایک حقیر سی تنخواہ اسے خرید سکتی ہے‘ ایک ادنیٰ درجہ کی کرسی پر وہ قربان ہو سکتا ہے‘ ایک آبرو باختہ عورت کےقدموں پر وہ نثار کیا جاسکتا ہے ...... گزشتہ ڈیڑھ سو برس کا تجربہ بتا رہا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دشمنوں نے جو کچھ کرنا چاہا اس کے لیےان کو خود مسلمانوں ہی کی جماعت سے ایک دو نہیں ہزاروں اور لاکھوں خائن اور غدار مل گئے جنہوں نے تقریر سے‘ تحریر سے‘ ہاتھ اور پاؤں سے حتیٰ کہ تلوار اور بندوق تک سے اپنے مذہب اور قوم کے مقابلہ میں دشمنوں کی خدمت کی۔‘‘
(۴)’’ہماری قوم میں منافقین کی بھی ایک بڑی جماعت شامل ہے اور ان کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ بکثرت اشخاص‘ تعلیم یافتہ‘ صاحب ِقلم ‘ صاحب ِزباں ‘ صاحب ِمال و زر‘ صاحب ِاثر ایسے ہیں جو دل سے اسلام اور اس کی تعلیمات پر یقین نہیں رکھتے مگر نفاق اور قطعی بے ایمانی کی راہ سے مسلمانوں کی جماعت میں شریک ہیں۔ یہ اسلام سے عقیدۃً اور عملاً نکل چکے ہیں مگر اس سے براءت کا صریح اعلان نہیں کرتے‘ اس لیے مسلمان ان کے ناموں سے دھوکا کھا کر انہیں اپنی قوم کا آدمی سمجھتے ہیں‘ ان سے شادی بیاہ کرتے ہیں‘ ان سے معاشرت کے تعلقات رکھتے ہیں اور ان زہریلے جانوروں کو اپنی جماعت میں چل پھر کر اور رہ بس کر زہر پھیلانے کا موقع دے رہے ہیں ............آنکھیں کھول کر دیکھیے کہ یہ منافقین کیسا مہلک زہر ہماری قوم میں پھیلا رہے ہیں ۔ یہ اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ‘ اس کی اساسی تعلیمات پر حملے کرتے ہیں‘ مسلمانوں کو دہریت اور الحاد کی طرف دعوت دیتے ہیں‘ ان میں بے دینی اور بے حیائی اور قانون اسلامی کی خلاف ورزی کو نہ صرف عملاً پھیلاتے ہیں بلکہ کھلم کھلا زبان و قلم سے اس کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ان (مسلمانوں) کی تہذیب کو مٹانے کی ہر کوشش میں آپ دیکھیں گے کہ یہ دشمنوں سے چار قدم آگے ہیں۔ ہر وہ اسکیم جو اسلام اور مسلمانوں کی بیخ کنی کے لیے کہیں سے نکلی ہو ‘اس کو مسلمانوں کی جماعت میں نافذ کرنے کی خدمت یہی ناپاک گروہ اپنے ذمہ لے لیتا ہے۔‘‘
(۱۹۳۷ء ‘ تحریک آزادئ ہند اور مسلمان ‘ حصّہ اول‘ صفحہ ۵۴تا۵۷)
(۵)’’جس قوم میں خود زندہ رہنے اور اپنی زندگی اپنے بل بوتے پر قا ئم رکھنے کی صلاحیت نہیں‘ اس کو دوسرے کب تک زندہ رکھ سکیں گے ............رہا دوسرا گروہ تو وہ آزادی کے جوش میں اپنی قوم کی ان بنیادی کمزوریوں کو بھول جاتا ہے جنہیں ہم گزشتہ صفحات میں تفصیل سے بیان کر چکے ہیں۔ اگر یہ ثابت کر دیا جائے کہ وہ کمزوریاں واقعی نہیں ہیں اور مسلمان اس قدر طاقتور ہیں کہ جدید نیشنل ازم (قومیت پرستی) سے ان کی قومیت اور قومی تہذیب کو کسی قسم کا خطرہ نہیں تو ہم اپنی رائے واپس لینے کو تیار ہیں۔ لیکن اگر یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا اور ہم یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ نہیں کیا جا سکتا ............ محض جذبات سے اپیل کر کے آپ حقائق کو نہیں بدل سکتے ۔ جہاں مریض کی آدھی جان نکل چکی ہو‘ اس کے سامنے سپہ سالار بن کر آنے سے پہلے آپ کو حکیم بن کر آنا چاہیے۔ پہلے اس کی نبض دیکھیے اور اس کے مرض کا علاج کیجیے‘ پھر اس کی کمر سے تلوار باندھ لیجیے گا۔ یہ کہاں کی ہوش مندی ہے کہ مریض تو بستر پر پڑا ایڑیاں رگڑ رہا ہے اور آپ اس کے سرہانے کھڑے خطبہ دے رہے ہیں کہ اُٹھ بہادر اپنی طاقت کے بل پر کھڑا ہو ‘ باندھ کمر سے تلوار اور چل میدان کارزار میں۔‘‘
(۱۹۳۷ء ‘ تحریک آزادئ ہند اور مسلمان ‘ حصّہ اول ‘صفحہ ۸۰ و۸۱)
(۶)’’ڈیڑھ سو برس تک مسلسل اور پیہم انحطاط کی طرف لے جانے کے بعد یہ انقلاب ہم کو ایک ایسے مقام پر چھوڑ رہا ہے جہاں ہماری جمعیت پراگندہ‘ ہمارے اخلاق تباہ‘ ہماری سوشل لائف ہر قسم کی بیماریوں سے زار و نزار اور ہمارے دین و اعتقاد تک کی بنیادیں متزلزل ہو چکی ہیں اور ہم موت کے کنارے پر کھڑے ہوئے ہیں۔‘‘
(۷)’’ یہاں جس قوم کا نام مسلمان ہے وہ ہر قسم کے رطب و یابس سے بھری ہوئی ہے۔ کیریکٹر کے اعتبار سے جتنے ٹائپ کافر قوموں میں پائے جاتے ہیں اتنے ہی اس قوم میں بھی موجود ہیں۔ عدالتوں میں جھوٹی گواہیاں دینے والے جس قدر کافر قومیں فراہم کرتی ہیں غالباً اسی تناسب سے یہ بھی فراہم کرتی ہے۔ رشوت‘ چوری‘ زنا‘ جھوٹ اور دوسرے تمام ذمائم اخلاق میں یہ کفار سے کچھ کم نہیں ہے۔ پیٹ بھرنے اور دولت کمانے کے لیے جو تدبیریں کفار کرتے ہیں وہی اس قوم کے لوگ بھی کرتے ہیں۔ ایک مسلمان وکیل جان بوجھ کر حق کے خلاف اپنے مؤکل کی پیروی کرتے وقت خدا کے خوف سے اتنا ہی خالی ہوتا ہے جتنا ایک غیر مسلم وکیل ہوتا ہے۔ ایک مسلمان رئیس دولت پا کر یا ایک مسلمان عہدے دار حکومت پا کر وہی سب کچھ کرتا ہے جو غیر مسلم کرتا ہے۔ یہ اخلاقی حالت جس قوم کی ہو اس کی تمام کالی اور سفید بھیڑوں کو جمع کر کےایک منظّم گلّہ بنا دینا اور سیاسی تربیت سے ان کو لومڑی کی ہوشیاری سکھانا یا فوجی تربیت سے ان میں بھیڑیے کی درندگی پیدا کر دینا جنگل کی فرماں روائی حاصل کرنے کے لیے تو مفید ہو سکتا ہے‘ مگر میں نہیں سمجھتا کہ اس سے اعلائے کلمۃ اللہ کس طرح ہو سکتا ہے۔ ‘‘
(ستمبر۱۹۴۰ء‘تحریک آزادئ ہند اور مسلمان ‘ حصّہ دوم ‘صفحہ۱۷۳)
(۸)’’ پس بجائے اس کے کہ ہم سادگی اور سادہ لوحی سے خود کام لیں یا دوسروں کو سادہ لوح فرض کر کے ان کی توجہ حقیقی مسائل سے ہٹانے اور فرضی مسائل کی طرف پھیرنے کی کوشش کریں‘ ہمیں واضح طور پر دیکھنا چاہیے کہ فی ا لواقع پاکستان کا بقا و تحفظ اور اس کا استحکام کن مسائل سے وابستہ ہے اور ہم کس طرح انہیں حاصل کر سکتے ہیں۔
اولین مسئلہ ملک کے اخلاق کا ہے جو تشویش ناک حد تک گر چکے ہیں۔ ہماری تمام مشکلات میں سب سے زیادہ اخلاق ہی کی خرابیاں کار فرما ہیں۔ اس بگاڑ کا زہر اتنے وسیع پیمانے پر ہماری سوسائٹی میں پھیل گیا ہے اور اتنا گہرا اتر چکا ہے کہ اگر ہم اسے اپنا قومی دشمن نمبر ایک قرار دیں تو ہرگز مبالغہ نہ ہو گا۔ کوئی بیرونی خطرہ ہمارے لیے اتنا خوف ناک نہیں ہے جتنا یہ اندرونی خطرہ ہے۔ یہ ہماری قوتِ حیات کو کھا گیا ہے اور کھائے چلا جا رہا ہے۔
پچھلے سال کے فسادات میں بد اخلاقی کا جو طوفان اٹھا تھا وہ ہماری آبادی کے ایک بہت بڑے حصّہ کو بہا کر لے گیا ہے۔قتل و خون‘ آتش زنی اور عورتوں کے بھگانے کی مشق تو شاید ہزاروں ہی کو ہوئی ہو گی لیکن لوٹ مار کی آلائش نے لاکھوں کو ملوث کر کے چھوڑا۔اس اخلاقی زوال کی وسعت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک گائوں کی ڈیڑھ ہزار کی آبادی میں سے صرف ایک شخص ایسا نکلا جس نے لوٹ میں حصّہ لینے سے پرہیز کیا تھا اور ایک قصبہ کے سات سو گھروں میں سے بمشکل پچیس گھر ایسے پائے گئے جن میں لوٹ کا مال نہ پہنچا تھا۔ پھر ان لٹیروں میں محض جاہل عوام اور بازاری لوگ ہی شامل نہ تھے‘ بڑے بڑے شرفاء اور معززین ‘ اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ‘ سوسائٹی اور حکومت میں بڑے مرتبے رکھنے والے حضرات بھی اسی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے تھے‘ بلکہ وہ تو اس میں خوب جی بھر کر نہائے۔ پولیس کے چھوٹے بڑے افسر‘ امن و امان کے ذمہ دار مجسٹریٹ‘ حکومت کے اعلیٰ سے اعلیٰ عہدہ دار‘ بڑے بڑے نامور قومی کارکن ‘ اسمبلی کے ممبراور بعض وزراء تک اس گندگی میں غوطہ لگا گئے۔ یہ واقعات کسی سے چھپے ہوئے نہیں‘ایک دنیا ان کو جانتی ہے اور شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپانے سے کچھ حاصل نہیں۔ یہ حقیقت اب کھل چکی ہے کہ ہمارے اخلاق کے جوڑ بند بری طرح ڈھیلے ہو گئے ہیں۔ ہم میں ہزارہا آدمی ایسے موجود ہیں جو قتل و خون کے مشاق ہوچکے ہیں‘ ہزاروں ایسے لوگ ہیں جو موقع ملنے پر بد سے بد تر جرائم کا ارتکاب کر سکتے ہیں اورنیچے سے لے کر اونچے طبقوں تک کم از کم ۹۵ فی صد تعداد ان لوگوں کی ہے جنہیں حرام کا مال سمیٹنے میں قطعاً کوئی تامل نہیں ہے بشر طیکہ انہیں قانون کی گرفت سے محفوظ رہنے کا اطمینان ہو۔
ان حالات میں ہمارے لیے یہ کوئی وجۂ تسلی نہیں ہے کہ اس سے بدرجہا زیادہ بد تر اخلاقی صفات کا ظہور ہندوستان میں ہندوؤں اور سکھوں سے ہوا ہے۔ جو زہر انہوں نے کھایا اس کی فکر انہیں ہو یا نہ ہو‘ ہمیں تو اس زہر کی فکر ہے جو ہماری رگوں میں اتر گیا ہے۔ کیا مشاق مجرموں اور بے باک خائنوں کی اتنی کثیر تعدا داپنے اندر لیے ہوئے ہم اپنی قومی زندگی کو مستحکم بنا سکتے ہیں؟ کیا وہ بد اخلاقیاں جو کل غیروں کی جان و مال اور عصمت کے معاملے میں برتی گئی تھیں‘ ان کے ساتھ ہی ختم ہو گئیں اور اپنا کوئی پائدار اثر ہماری سیرت و کردار پر نہیں چھوڑ گئیں؟ کیا یہ بگڑے ہوئے اخلاق اب خود اپنوں پر ہاتھ صاف کرنے سے رکے رہ جائیں گے؟
ایک سال کا تجربہ ہمیں بتا رہا ہے کہ جس اخلاقی زوال کی خبر گزشتہ فسادات نے دی تھی وہ وقتی اور محدود نہیں تھا۔ در اصل وہ ایک نہایت خوف ناک مرض کی حیثیت سے ہمارے اندر اب بھی موجود ہے اور ہماری قومی زندگی کے ہر شعبے کو خراب کر رہا ہے .........لیکن یہ سب کچھ بڑی آسانی سے انگیز کیا جا سکتا تھا اگر ہمارےعوام و خواص اور ہمارے سر براہ کاروں کے اخلاق اتنے بگڑے ہوئے نہ ہوتے ............لیکن غور سے دیکھیے کہ اس طرح جو مشکلات حقیقتاً رونما ہوئی تھیں ان پر کتنا اضافہ ہماری اخلاقی خرابیوں نے کر دیا۔ہندوؤں اور سکھوں نے جو عمارات‘ سامان‘ اموال‘ دکانیں‘ کارخانے‘ زمینیں اور دوسری چیزیں پاکستان میں چھوڑی تھیں اگر ان پر خود پاکستان کے باشندے ‘ حکومت کے عمال اور قومی کارکن قبضے کرکے نہ بیٹھ جاتے توکیا مہاجرین کو بسانے میں ہم کو وہی دِقتیں پیش آ سکتی تھیں جن سے اب ہم دوچار ہیں۔ مغربی پنجاب ‘ سرحداور سندھ کی حکومتوں سے پوچھئے کہ جانے والوں نے کیا کچھ چھوڑا تھا اور اس کا کتنا حصّہ آنے والوں کو دیا گیا اور کتنا حصّہ کن کن غیر مستحقین کو پہنچا۔ اگر یہ اعداد و شمار روشنی میں آ جائیں تو دنیا یہ دیکھ کر دنگ رہ جائے کہ مہاجرین کے مسئلے کا جو زخم غیروں نے ہم کو لگایا تھا اسے سرطان کا پھوڑا بنا دینے والے دراصل کون لوگ ہیں۔ نہیں کہا جاسکتا کہ اس حمام میں آپ کس کس کو برہنہ دیکھیں گے۔
پھر جو لوگ کل تک’’پاکستان زندہ باد‘‘کے نعرے لگا رہے تھے‘ جن سے بڑھ کر قوم کے درد میں تڑپنے والا کوئی نظر نہ آتا تھا‘ اور جو آج بھی زبان سے بہت بڑے ’’مجاہد ِملت‘‘ بنے ہوئے ہیں ‘ان میں عظیم اکثریت آپ کو ایسے افراد کی نظر آئے گی جو پاکستان بننے کے بعد ہر زاویے سے اس کی کشتی میں سوراخ کیے جا رہے ہیں۔ یہ رشوت خوریاں‘ یہ خیانتیں‘ یہ غبن‘ یہ قومی خرچ پر اقرباء پروریاں اور دوست نوازیاں‘ یہ فرائض سے غفلت‘ یہ ڈسپلن سے گریز‘ یہ غریب قوم کی دولت پر عیاشیاں‘ جن کا ایک طوفان سا ہمارے نظام حکومت کے ہر شعبے میں برپا ہے اور جس میں بکثرت چھوٹے اہل کارو ںسے لے کر بہت سے عالی مقام حکام اور وزراء تک آلودہ ہیں‘ کیا یہ سب پاکستان کو مضبوط کرنے والی چیزیں ہیں؟ یہ دوکانوں اور کارخانوں کی ناجائز تقسیم جس کی بدولت ملک کی صنعت و تجارت کا ایک بڑا حصّہ نا اہل اور ناتجربہ کار ہاتھوں میں چلا گیا ہے‘ کیا یہ پاکستان کی طاقت کو مستحکم کرنے والی چیز ہے؟ یہ پبلک کا بالعموم حکومت کےٹیکس ادا کرنے سے گریز کرنا اور ان سے بچنے کے لیے نیز دوسرے ناجائز فوائد حاصل کرنے کے لیے سرکاری ملازموں کو رشوت دینا ‘ اور جہاں بھی قانون کی گرفت سے بچ نکلنے کی امید ہو پبلک فنڈ کا بڑے سے بڑا نقصان کرنے میں بھی تامل نہ کرنا‘ کیا یہی وہ چیزیں ہیں جن سے پاکستان مضبوط ہو سکتا ہے؟ ملک کے باشندوں کی اخلاقی حالت اس قدر گر چکی ہے کہ ہندوستان سے آنے والے مہاجرین کی لاشیں جب واہگہ اور لاہور کے درمیان پڑی سڑ رہی تھیں اور کیمپوں میں بھی موت کا بازار گرم تھا اس وقت بارہ تیرہ لاکھ کے شہر میں سے چند ہزار نہیں چند سو آدمی بھی ایسے نہ نکلے جو اپنے بھائیوں کو دفن کرنے کی زحمت اٹھاتے۔ متعدد مثالیں ہمارے علم میں ایسی ہیں کہ کوئی مہاجر مر گیا اور اس کے عزیزوں کو نماز جنازہ پڑھنے کے لیے اجرت پر آدمی فراہم کرنے پڑے۔ یہاں تک بھی نوبت پہنچی ہے کہ سرحد کے قریب کسی گاؤں میں مہاجرین کو زمینیں دی گئیں اور مقامی مسلمانوں نے سرحد پار سے سکھوں کو بلا کر ان پر حملہ کرا دیا تاکہ یہ بھاگ جائیں اور زمین ہمارے قبضہ میں رہ جائے۔ حد یہ کہ قوم کی جو بیٹیاں ہندوستان سے بچ کر آ گئی تھیں ان کی عصمتیں یہاں خود اپنے بھائیوں کے ہاتھوں محفوظ نہ رہ سکیں ........اس قسم کے واقعات شاذ نہیں ہیں بلکہ بکثرت ہمارے علم میں آئے ہیں اور ان شرم ناک جرائم کے مرتکب صرف عام شہدے ہی نہیں تھے........کیا اتنے شدید اخلاقی تنزل کے ہوتے ہوئے ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ کسی بڑی اندرونی یا بیرونی مصیبت کے مقابلے میں ہم مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہو سکیں گے؟ اور کیا یہ اخلاقی تنزل اپنے ملک کی تعمیر کے لیے ہماری کسی اسکیم کو کامیابی کے ساتھ چلنے دے گا؟‘‘(اگست ۱۹۴۸ء‘تحریک آزادئ ہند اور مسلمان ‘ حصّہ دوم‘ صفحہ ۳۱۷تا۳۲۲)
(۹) ’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری آبادی کا بڑا حصّہ –‘بہت بڑا حصّہ احکامِ الٰہی سے بُعد رکھتا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں اعلانیہ خدا کے احکام کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور ایسے نازک وقت میں بھی لوگ اُس سے باز نہیں آتے جب کہ ہم اپنے آپ کوچاروں طرف سے خطرات میں گھرا ہوا پا تے ہیں اور خدا سے نصرت مانگ رہے ہوتے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے ملک میں فرنگیت اور فسق و فجور کی رو بڑھتی چلی جارہی ہے اور آج وہ کچھ ہو رہا ہے جو انگریز کے زمانے میں بھی نہ ہوتا تھا۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسلام آج بھی اسی طرح بے بس ہے (اسلام کبھی بے بس نہیں ہوتا:مرتّب) جس طرح انگریز کے زمانے میں تھا۔ بلکہ اس کے اصول ‘ قوانین اور احکام اس وقت کچھ زیادہ پامال کیے جا رہے ہیں‘ جرأت اور جسارت کے ساتھ کیے جارہے ہیں‘ کھلم کھلا کیے جارہے ہیں‘ بڑے پیمانے پر کیے جارہے ہیں۔ ان کے خلاف چلنے کی اعلانیہ تبلیغ ہو رہی ہے اور عوام الناس کو ان کے خلاف چلانے کی منظم کوششیں کی جارہی ہیں۔
ملک کے تمام طبقے کیریکٹر کے بودے پن اور بے ضمیری میں مبتلا ہیں۔ اخلاقی خرابیاں ایک وبا کی طرح پھیل رہی ہیں۔ تمام اخلاقی حدود توڑ کر رکھ دی گئی ہیں اور عام طور پر لوگوں کے دلوں سے یہ احساس مٹتا جا رہا ہے کہ اخلاق بھی کوئی چیز ہے جس کے تقاضوں کا کچھ لحاظ آدمی کو کرنا چاہیے۔ عوام ہوں یا تعلیم یافتہ حضرات‘ سرکاری افسر اور اہل کار ہوں یا سیاسی لیڈر اور پارٹیوں کے کارکن‘ اخبار نویس ہوں یا اہل قلم‘ تاجر ہوں یا اہل حرفہ‘زمین دار ہوں یا کسان‘ جس طبقے کو دیکھیے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اخلاقی ذمہ داریوں کو بھول چکا ہے اور کسی ایسی حد سے واقف نہیں رہا جس پر وہ اپنی اغراض و خواہشات کے پیچھے دوڑتے ہوئے رک جائے۔ ہر شخص اپنا مطلب حاصل کرنے کے لیے ہر بد تر سے بد تر ذریعہ اختیار کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ حرام اور حلال کی تمیز اُٹھ چکی ہے۔ گناہ اور صواب کا احساس مٹ گیا ہے۔ برائی اور بھلائی کے فرق سے نگاہیں بند کر لی گئی ہیں ۔ لوگوں کے ضمیر نے ان کے ذاتی مفاد کے آگے سپر ڈال دی ہے۔ فرائض کو لوگ بھول چکے ہیں اور حقوق سب کو یاد ہیں۔ جھوٹ ‘ فریب اور چال بازی کام نکالنے کے مقبول ترین ہتھیار بن گئے ہیں۔ رشوت‘ خیانت اور حرام خوری کے دوسرے ذرائع شیر مادر کی طرح حلال ہو گئے ہیں۔ مال والوں کے مال ضمیروں ‘ عصمتوں اور شرافتوں کے خریدنے میں صرف ہو رہے ہیں اور بیچنے والے دھڑلے سے اخلاق کے وہ سارے جَوہر بیچ رہے ہیں جو ان کی نظر میں روپے سے کم قیمت رکھتے ہیں۔انگریز کے زمانے میں سرکاری محکموں کے ڈسپلن‘ کارکردگی اور سرکاری ملازمین کی فرض شناسی کا جو حال تھا‘ آج اس کا۲۵ فی صدی بھی نہیں ہے۔ البتہ رشوت‘ دوست نوازی‘ اقربا پروری‘ خیانت‘ غبن اور سعی و سفارش کی کارفرما ئی میں سو فی صدی اضافہ ہو گیا ہے۔ ............بڑے افسروں سے چھوٹے کارکن تک بالعموم اس قدر خود غرض‘ نا فرض شناس اور بے باک ہو چکے ہیں کہ اپنے ذرا سے فائدے کے لیے قوم اور ریاست کا بڑے سے بڑا نقصان کر دینے میں بھی دریغ نہیں کرتے۔ حق اور انصاف ان کے لیے بے معنی الفاظ بن گئے ہیں۔ ڈیوٹی کی انہیں کوئی پرواہ نہیں رہی ہے۔‘‘(روداد جماعت اسلامی‘ ششم‘صفحہ ۶۱‘۶۲‘ ۶۵‘۶۶‘۶۹)
ضمیمہ۲: انتخابات کی حقیقت
’’سب سے زیادہ خطرناک حرکت جو یہ لوگ کر رہے ہیں وہ یہ ہے کہ انہوں نے انتخابات کو اس ملک میں بالکل دھن‘ دھونس‘ دھوکے اور دھاندلی کا کھیل بنا کر رکھ دیا ہے اور اس کھیل میں یہ حکومت کے اختیارات اور ذرائع کو کھلم کھلا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ صرف ایک بد دیانتی ہی نہیں ہے بلکہ صریحاً ملک کی تخریب ہے۔ یہ ایک سخت حماقت ہے جس کے خوف ناک نتائج کا شاید انہیں اندازہ نہیں ہے۔ یہ اس ملک کے ساتھ سب سے بڑی غداری‘ بد خواہی اور دشمنی ہے کہ یہاں کے لوگوں کو جمہوری و آئینی ذرائع سے مایوس کر دیا جائے اور انہیں یقین دلایا جائے کہ اب یہاں جو سیاسی تغیر بھی ہو گا‘ غیرآئینی اور غیر جمہوری طریقوں ہی سے ہو سکے گا......جمہوری انتخابات ہمیں اس پُر خطر راستے پر جانے سے بچا لیتے ہیں‘ لیکن ان کا حقیقی فائدہ ہم کو صرف اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جبکہ ہمارے ہاں انتخابات بالکل ایمان داری کے ساتھ آزادانہ فضا میں ہوں.......
اب دیکھیے آپ کے ملک میں انتخابات کس ڈھب پر ہو رہے ہیں۔
یہاں انتخاب کا پہلا مرحلہ اس طرح طے ہوتا ہے کہ مخالف پارٹیوں کو پریس کی طاقت سے بالکل یا بڑی حد تک محروم کر دیا جاتا ہے۔ (واضح رہے کہ یہ تحریر۱۹۵۱ ءکی ہے) ............مولویوں اور پیروں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور روپے دے دے کر ان سے خطرے کی گھنٹیاں بجائی جاتی ہیں۔ اصل مسائل زندگی سے لوگوں کی توجہ ہٹا کر طرح طرح کے مذہبی اور غیر مذہبی جھگڑے کھڑے کیے جاتے ہیں۔ پوری کوشش کی جاتی ہے کہ عوام الناس کو جتنا دھوکا دیا جا سکتا ہے دیا جائے اور انہیں بے لاگ طریقے سے صاف فضا میں کچھ سوچنے اور سمجھنے کے قابل نہ چھوڑا جائے۔
اس کے بعد انتخابات کے دوسرے مرحلے کی مہم اس طرح سر کی جاتی ہے کہ رائے دہندوں کی فہرستوں میں ہزارہا جعلی ووٹروں کے نام درج کرائے جاتے ہیں اور ہزار ہا اصلی ووٹروں کے نام ساقط کروا دیے جاتے ہیں۔ یہ خدمت سرکاری عملے سے لی جاتی ہے۔
پھر اصل انتخابات کا موقع آتا ہے اور اس وقت کوئی قسم بے ایمانی کی ایسی نہیں ہوتی جو نہ کی جاتی ہو۔ ہزارہا کرائے کے آدمی لاریوں اور ٹرکوں میں بھر بھر کر لائے جاتے ہیں۔ وہ علی الاعلان پولیس اور پریزائیڈنگ افسروں کے سامنے جعلی ووٹ ڈالتے ہیں اور اعتراض کرنے والوں کی کوئی نہیں سنتا۔ ایک ایک شخص پندرہ پندرہ اور بیس بیس مرتبہ مختلف ناموں سے آتا ہے اور ووٹ ڈالتا ہے اور فی ووٹ ایک مقررہ رقم حاصل کرلیتا ہے۔پنجاب میں ایک مثال ایسی بھی دیکھی گئی کہ ایک شخص نے ۵۱ مرتبہ ووٹ ڈالا۔ حد یہ ہے کہ قوم کی بیٹیوں تک کو سکھایا جاتا ہے کہ وہ کبھی کسی کی بیوی بن کر ووٹ ڈالیں اور کبھی کسی کی بیٹی بن کر۔ یہ کام اسکولوں اور کالج کی لڑکیوں تک سے لینے میں شرم نہیں کی جاتی اور نہیں سوچا جاتا کہ ہم اپنی قوم کی لڑکیوں کو یہ کیسے اخلاق سکھا رہے ہیں۔‘‘
(روداد جماعت اسلامی ‘حصّہ ششم‘ صفحہ۸۲تا۸۶)
۱۹۵۱ءہی کے اجتماع عام میں جناب نعیم صدیقی صاحب اپنے مقالہ ’’ اسلامی تحریک دوسری اجتماعی تحریکوں کے مقابل‘‘میں فرماتے ہیں:
’’جمہوری نظام میں تبدیلیاں لانے میں اولین اور سب سے بڑی بھاری رکاوٹ دستور کی رکاوٹ ہوتی ہے۔پھر دوسری بڑی مشکل یہ ہے کہ رائے عامہ کے بنانے میں جن ذرائع و وسائل سے کام لیا جاتا ہے وہ سارے کے سارے سرمایہ دار طبقے کے ہاتھ میں ہیں۔ خصوصیت سے پریس کی طاقت ‘جو رائے عامہ پر کمانڈ کرتی ہے ‘ایک ہی طبقے کے چند گنے چنے افراد کے قابو میں ہے اور وہ اس طاقت کے ذریعے رائے عامہ کے بہاؤ کو اپنے طبقے کے مفاد کے خلاف کبھی جانے نہیں دیتے۔ قوم کی قوم کو چند افراد حالت کا ایک خاص رنگین عینک سے مطالعہ کراتے ہیں‘ ان کو ایک زاویۂ نظر دیتے ہیں‘ ان کا سامنے ایک خاص طرزِ فکر کو ابھار ابھار کر لاتے ہیں اور ان کے بعض رجحانات کو خاص طور پر غیر اہم بنا بنا کر پیچھے دھکیلتے رہتے ہیں۔ چنانچہ یہ پریس انتخابات کے زمانے میں ذہنی فضا کو اتنا مکدر کر دیتا ہے کہ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں کام نہیں کر سکتیں اور رائے عامہ کا بہاؤ خالص جذباتی ہو جاتا ہے۔ اس طرح جب ووٹروں کے فکر کے جہاز بے لنگر ہو جاتے ہیں تو پروپیگنڈے کی ہوا ان کو جدھر چاہتی ہے دھکیل کر لے جاتی ہے۔
پھر جمہوریت کا جوہر آزادئ انتخاب اور آزادئ رائے کا متقاضی ہے لیکن دنیا کا کوئی جمہوری نظام ایسا نہیں کہ جہاں ووٹروں کی آزادئ انتخاب صحیح معنوں میں کام کر سکے۔ آزادئ انتخاب کی جڑ تو امیدواری کا اُصول اول قدم پر کاٹ دیتا ہے۔
پھر بات اتنی ہی نہیں بلکہ ووٹوں کے باقاعدہ سودے ہوتے ہیں اور انتخاب کی منڈی کے بعض ’’ہول سیل ڈیلر‘‘ تو بہت بڑے پیمانے پر کاروبار کرتے ہیں۔ جی ہاں پاکستان ہی میں نہیں‘ برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک میں بھی یہ کاروبار ہوتا ہے۔ مروّت کی قیمت پر بھی ہوتا ہے اور عورتوں کے حسن و جمال کی قیمت پر بھی ۔ اپنی پارٹی کے حامیوں اور ووٹروں کو امیدوار سب سے بڑا لالچ جو دیتے ہیں وہ حکومت کے انتظامی عہدوں اور سرکاری محکموں سے مختلف کام نکالنے کی آسانیوں کا لالچ ہوتا ہے۔ علاوہ بریں انتخابی پارٹیاں اور عام امیدوار کامیاب ہونے کے لیے عوام کے ووٹ اس قیمت پر حاصل کرتے ہیں کہ وہ بر سرِ اقتدار آکر ان کی کچھ خواہشات پوری کریں گے‘قطع نظراس سے کہ ان خواہشات کا پورا کرنا ملک کے مجموعی مفاد کے لیے کتنا ہی مہلک کیوں نہ ہو۔یہ انتخابی کاروبار ووٹروں کی آزادئ رائے کا درحقیقت خاتمہ کر دیتا ہے۔
علاوہ بریں‘ برطانوی نظام انتخاب کے بارے میں خود برطانوی لیبر پارٹی کا مشہور رہنما رمزے میور اپنی رائے دیتے ہوئے اس کو’’انتہائی غیر منصفانہ‘ غیر اطمینان بخش اور خطرناک‘‘ قرار دیتا ہے۔ اس کا تجزیہ یہ ہے کہ اگر ووٹوں کے استعمال کی حقیقت کو دیکھا جائے تو کتنے ووٹ اس لیے نہیں ڈالے جاتے کہ بہت سے ووٹروں کی پسند کے مطابق صحیح معیاری امیدوار موجود نہیں ہوتا۔ اور کتنے ووٹ ایک معیاری امیدوار کے سامنے نہ ہونے کی وجہ سے’’ بڑی بلا کے مقابلے میں چھوٹی بلا‘‘ کے اصول پر نا اہل لوگوں کو دے دیے جاتے ہیں۔ اور کتنے ووٹ ناکام امیدواروں کو دیے جانے کی وجہ سے بلحاظ نتیجہ ضائع ہو جاتے ہیں۔ (اس طرح) ستر فی صدی رائے دہندگان حالات پر اثر انداز ہونے سے محروم رہ جاتے ہیں اور ملک کا نظام صرف تیس فی صدی ووٹروں کی مرضی پر چلتا ہے............مشکل اتنی ہی نہیں‘ مشکل یہ بھی ہے کہ پارٹی سسٹم پرجمہوری نظام کے چلنے کی وجہ سے لوگوں کی وہ اکثریت جو نہ تو اپنے تقاضوں کے مطابق کوئی پارٹی میدان میں پاتی ہے اور نہ پارٹی بنانے کے لیے نمایاں شخصیتیں اور صلاحیتیں اور ذرائع و وسائل رکھتی ہے‘ اسے مجبوراً با اثر اور نمایاں پارٹیوں کے ساتھ مصالحت کر کے اپنے آپ کو ان کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح عوام کے بہت سے حقیقی رجحانات جمہوری نظاموں میں اپنے لیے کوئی راستہ ہی نہیں پا سکتے۔‘‘
دستور میں ترمیم کے طریقہ کار کی پیچیدگیوں کا ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
’’اس توضیح سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ جمہوری نظاموں میں کسی بڑی اصولی تبدیلی کے لیے کوئی راستہ کھلا ہوا نہیں ہے۔‘‘(روداد جماعت اسلامی ‘حصّہ ششم‘ صفحہ ۲۲۶تا۲۳۲)
’’لہٰذا اگر ہم فی ا لواقع اپنے ملک کے نظامِ زندگی کو فسق و ضلالت کی راہ سے ہٹا کر دین حق کے صراط مستقیم پر چلانا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے ناگزیر ہے کہ بگاڑ کو مسند اقتدار سے ہٹانے اور بناؤ کو اس کی جگہ متمکن کرنے کی براہ راست کوشش کریں............یہ تبدیلی کس طرح ہو سکتی ہے؟ ایک جمہوری نظام میں اس کا راستہ صرف ایک ہے‘ اور وہ ہے انتخابی جدّوجُہد ............ہماری تشخیص یہ ہے کہ اس ملک کے سیاسی نظام کی خرابیوں کا بنیادی سبب یہاں کے طریق انتخاب کی خرابی ہے۔ جب انتخاب کا موسم آتا ہے تو منصب و جاہ کے خواہش مند لوگ اٹھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور دوڑ دھوپ کر کے یا تو کسی پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرتے ہیں یا آزاد امیدوار کی حیثیت سے اپنے لیے کوشش شروع کر دیتے ہیں۔ اس کوشش میں وہ کسی اخلاق اور کسی ضابطے کے پابند نہیں ہوتے۔ کسی جھوٹ‘ کسی فریب‘ کسی چال‘ کسی دباؤ اور کسی ناجائز سے ناجائز ہتھکنڈے کے استعمال میں بھی ان کو دریغ نہیں ہوتا۔ جسے لالچ دیا جاسکتا ہے اس کا ووٹ لالچ سے خریدتے ہیں۔ جسے دھمکی سے مرعوب کیا جاسکتا ہے اسے مرعوب کر کے ووٹ حاصل کرتے ہیں۔ جسے دھوکا دیا جا سکتا ہے اس کا ووٹ دھوکے سے لیتے ہیں اور جس کو کسی تعصب سے اپیل کرنا ممکن ہوتا ہے اس کا ووٹ تعصب کے نام پر مانگتے ہیں۔ اس گندے کھیل کے میدان میں قوم کے شریف عناصر اول تو اُترتے ہی نہیں‘ اور بھولے بھٹکے کبھی اُتر بھی آتے ہیں تو پہلے ہی قدم پر انہیں میدان چھوڑ دینا پڑتا ہے۔ مقابلہ صرف ان لوگوں کے درمیان رہ جاتا ہے جنہیں نہ خدا کا خوف ہو‘ نہ خلق کی شرم اور نہ کوئی بازی کھیل جانے میں کسی طرح کا باک۔ پھر ان میں سے کامیاب ہو کر وہ نکلتا ہے جو سب چال بازوں کو چال بازی میں شکست دے دے۔ رائے دینے والی پبلک جس کے ووٹوں سے یہ لوگ کامیاب ہوتے ہیں نہ اُصولوں کو جانچتی ہے‘ نہ پروگراموں کو پرکھتی ہے‘ نہ سیرتوں اور صلاحیتوں کو دیکھتی ہے۔ اس سے جو بھی زیادہ ووٹ جھپٹ لے جائے وہ جیت جاتا ہے۔ بلکہ اب تو اس کے حقیقی ووٹوں کی اکثریت بھی کوئی چیز نہیں رہی ہے۔ کرائے پر ووٹ دینے والے جعلی ووٹر اور بددیانت پولنگ افسر اپنے ہاتھوں کے کرتب سے بارہا ان لوگوں کو شکست دے دیتے ہیں جن کو اصلی رائے دہندگان کی اکثریت کا اعتماد حاصل ہوتا ہے ............ ہر شخص جو کچھ بھی عقل رکھتا ہے‘ ان حالات کو دیکھ کر خود یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ جب تک یہ طریق انتخاب جاری ہے‘ کبھی قوم کے شریف‘ نیک اور ایمان دار آدمیوں کے ابھرنے کا امکان ہی نہیں ہے۔ اس طریقے کا تو مزاج ہی ایسا ہے کہ قوم کے بد تر سے بد تر عناصر چھٹ کر سطح پر آئیں اور جس بد اخلاقی و بد کرداری سے وہ انتخاب جیتتے ہیں اُسی کی بنیاد پر وہ ملک کے انتظام کو چلائیں۔‘‘(روداد جماعت اسلامی‘ حصّہ ششم‘ صفحہ ۴۰۹تا۴۱۱)
انتخابات ہی سے متعلق ایک اقتباس جو کہ اصلاً تو تقابلی جائزے کا حصّہ ہے لیکن فی الوقت یہاں درج کیا جا رہا ہے:
’’رسولِ برحقﷺ کے یہ ارشادات بجائے خود حکمت و دانائی کے جواہر تھے جن کی سچائی پر عقلِ عام گواہی دے رہی تھی‘ لیکن اب تو زمانے کے تجربات نے بھی ان پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ اب ہم کو اس امر میں کوئی شک باقی نہیں رہا ہے کہ ہماری اجتماعی زندگی اور قومی سیاست کو جن چیزوں نے سب سے بڑھ کر گندا کیا ہے ان میں سے ایک یہ امیدواری اور پارٹی ٹکٹ کا طریقہ ہے۔ اسی بنا پر جماعت اسلامی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس ناپاک طریق انتخاب کی جڑ کاٹ دی جائے۔ جماعت نہ اپنے پارٹی ٹکٹ پر آدمی کھڑے کرے گی نہ اپنے ارکان کو آزاد امیدوار کی حیثیت سے کھڑا ہونے کی اجازت دے گی۔ نہ کسی ایسے شخص کی تائید کرے گی جو خود امیدوار ہو اور اپنے لیے آپ ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کرے‘ خواہ انفرادی طور پر یا کسی پارٹی ٹکٹ پر۔ یہی نہیں بلکہ جماعت اپنی انتخابی جدّوجُہد میں خاص طور پر یہ بات عوام الناس کے ذہن نشیں کرائے گی کہ امیدوار بن کر اٹھنا اور اپنے حق میں ووٹ مانگنا آدمی کے غیر صالح اور نا اہل ہونے کی پہلی اور کھلی ہوئی علامت ہے۔ ایسا آدمی جب کبھی اور جہاں کہیں سامنے آئے ‘لوگوں کو فوراً سمجھ لینا چاہیے کہ یہ ایک خطر ناک شخص ہے۔ اس کو ووٹ دینا اپنے حق میں کانٹے بونا ہے ..........پنچائتی نظام کے ذریعے نمائندے کے انتخاب کے بعد کہا گیا: اس طریقے سے جو شخص چھانٹا جائے گا اسے حلقۂ انتخاب کے عوام کی طرف سے کھڑا کیا جائے گا ..... کو یہ حق تو ضرور ہو گا کہ کسی دوسرے حلقے میں کسی دوسرے مردِ صالح کی تائید کے لیے جا کر انتخابی جدّوجُہد کرے‘ مگر خود اپنے حلقے میں اپنے لیے وہ کوئی جدّوجُہد کرنے کا حق دار نہ ہو گا۔ اپنے حلقے میں زیادہ سے زیادہ جو کچھ اسے کرنا ہو گا وہ صرف یہ کہ اگر حلقے کے عام لوگ اس کو دیکھنا اور اس کے خیالات سننا چاہیں گے تو وہ ان کے جلسوں میں آئے گا اور ان کو موقع دے گا کہ وہ اسے اچھی طرح سمجھیں اور ہر پہلو سے پرکھ لیں ۔ ‘‘ (جماعت اسلامی کی انتخابی جدّوجُہد)
حواشی
(۱) نہیں معلوم کہ مولانا صاحب کی نظرمیں۱۹۴۰ء سے ۱۹۴۷ء تک واقعات کی دنیا میں کیا تبدیلی آگئی تھی۔ کیا قوم کی اخلاقی حالت میں کوئی نمایاں تبدیلی آگئی تھی؟یا اس وقت کی مسلمانوں کی قیادت کی سوچ یا عمل میں کوئی تغیر واقع ہو گیا تھا؟ ایک تغیر ہوا تھا جو بقول مولانا صاحب مسلمانوں کی کافرانہ حکومت کا قیام تھا۔
(۲) جی نہیں ۔یہ نہیں کہا گیا تھا کہ اُسے تبدیل کرنا آسان نہ ہو گا بلکہ یہ کہا گیا تھا :
’’بعض لوگ یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ غیر اسلامی طرز کا ہی سہی مسلمانوں کا قومی اسٹیٹ قائم تو ہو جائے‘ پھر رفتہ رفتہ تعلیم و تربیت اور اخلاقی اصلاح کے ذریعے سے اس کو اسلامی ریاست (اسٹیٹ) میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مگر میں نے تاریخ‘ سیاسیات اور اجتماعیات کا جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے اس کی بنا پر اس کو ناممکن سمجھتا ہوں‘‘ اور’’ پس جو لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر مسلم اکثریت کے علاقے ہندو اکثریت کے تسلط سے آزاد ہو جائیں اور یہاں جمہوری نظام قائم ہوجائے تو اس طرح حکومت ِالٰہی قائم ہو جائے گی‘ ان کا گمان غلط ہے اور اس کا جواب عقل اور تجربہ دونوں کی روشنی میں نفی کے سوا کچھ نہیں دیا جا سکتا۔‘‘