(فکر و نظر) نالۂ فلسطین - ڈاکٹر ربیعہ ابرار

8 /

نالۂ فلسطینڈاکٹر ربیعہ ابرار

حالیہ اسرائیلی جارحیت میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کو شمار کرنے کے لیے جب کوئی عدد درج کیا جاتا ہے تو اسے قلم بند کرنے سے قبل ہی کئی اور لاشیں گر چکی ہوتی ہیں۔ ۷ اکتوبر۲۰۲۳ء سے تادمِ تحریر ۳۵ ہزار سے زائد فلسطینی محض غزہ میں شہید کیے جاچکے ہیں جن میں تقریباً ۱۵ ہزاربچے اور۱۱ ہزار خواتین شامل ہیں۔ اسپتال زخمیوں کے لیے کم پڑ رہے ہیں اور قبریں شہداء کے لیے۔ اجتماعی قبروں میں بے نام لاشے اتارے جارہے ہیں۔ کئی ایسے کفن ہیں جن میں مختلف لوگوں کے اعضاء اکٹھے دفنائے جارہے ہیں۔ گویا زندہ رہنے کو جن کے پاس زمین نہ تھی‘ دفن ہونے کو الگ قبر بھی نہیں۔ جسم ایسے سلامت نہ رہے کہ ان کو کفن ہی انفرادی مل جاتا!جو زندہ ہیں وہ اس سے بدتر حال میں ہیں۔
اسرائیل اعلانیہ طور پر بجلی‘ پانی‘ کھانے اور دیگر امداد کی فراہمی بند کر چکا ہے۔ ہم اپنے گھروں میں بیٹھے اس کرب کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے جس کو فلسطینی جواں مردی سے جھیل رہے ہیں۔ رات کی تاریکی میں آبادی کی طرف بڑھتے ہوئے اسرائیلی افواج کے ٹینک‘ فضائی حملے پہلے ہی کتنی عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا چکے ہیں۔ کوئی سمت بھی محفوظ نہیں۔ مائیں اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کے جسموں پر ان کے نام لکھتی ہیں تاکہ جب ملبے کے ڈھیر تلے ان کے تباہ شدہ لاشے نکالے جائیں تو شناخت ممکن ہوسکے۔ وقت کے فرعون اپنی روایت کو برقرار رکھے بچوں کا قتل عام کررہے ہیں۔ سات اکتوبر کے واقعات کو جواز بنا کر اسرائیل بے باکی سے عالمی قوانین کو توڑتے ہوئے اپنا بہیمانہ کھیل جاری رکھے ہوئے ہے اور پشت پناہ مغربی سیاست دان اسے اسرائیل کا دفاعی حق قرار دے رہے ہیں۔ اس ساری صورت حال میں ہمارا کیا کردار ہے؟ کیا ہم اس ظلم اور ستم کے بنیادی حقائق سے آشنا ہیں؟ کیا ہم فلسطین کی اس تاریخ سے واقف ہیں جو موجودہ صورت حال کا سبب ہے؟ اسرائیلی جارحیت اور فلسطینیوں کا استحصال چند ماہ پرانا نہیں بلکہ اس کی تقریباً ایک صدی پرانی تاریخ ہے‘ جس کا آغاز خلافت عثمانیہ کے خاتمہ سے ہوتا ہے۔
مختصر تاریخ
بنی اسرائیل جب چنی ہوئی اُمّت کے عہدے سے معزول ہوئے تو ذلت ورسوائی ان کا مقدر بنی۔ آج جہاں کسی یہودی کے لیے کوئی سخت بات کہہ دینا انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے وہیں اب سے چند دہائیوں پہلے تک یہود عموماً انتہائی رسوائی اور پستی کا شکار تھے۔ یورپ میں وہ دوہزارسال تک مغلوب اور مقہور رہے ہیں۔ ایک عرصے تک نچلے درجے کے شہریوں کی طرح زندگی گزارتے اور برابر کے حقوق کے لیے لڑتے ہوئے کئی یہود مفکر یہ ماننے لگے کہ اس قوم کے لیے باعزت زندگی گزارنے کا واحد ذریعہ ایک الگ ریاست کا قیام ہے۔ ساتھ ہی ارضِ مقدس میں لوٹنے اور ماضی کی اپنی تاب کو بحال کرنے کی خواہش بھی ان کے دلوں میں ایک عرصے سے موجود تھی۔ اس سوچ نے صہیونیت کو جنم دیا ‘ گو کہ یہ تحریک کوئی خاص مقبول نہ ہو سکی۔ بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ انہیں اپناوطن اور گھر چھوڑ کر کسی دوسری جگہ بسنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس تحریک کو ایک سیاسی اور عملی شکل دینے والا شخص تھیوڈور ہرزل تھا۔ اس نے ۱۸۹۶ء میں ’’Der Judenstaat‘‘نامی ایک پمفلٹ چھاپا تھا ‘جس کا حاصل یہ تھا کہ یہود اقلیت کی صورت میں کبھی ترقی کی بلندی کو نہیں پہنچ سکتے اور فلسطین یا ارجنٹائن میں ایک یہودی ریاست کا قیام ضروری ہے۔ ان دونوں ممالک میں سے کسی ایک میں استعماری نظام کے ذریعہ قابض ہونا واحد حل ہے۔ اس کے اگلے ہی سال ۱۸۹۷ء میں سوئٹزر لینڈ میں ایک عالمی صہیونی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں ہرزل کے منصوبے کے تحت ارضِ فلسطین میںیہودی ریاست کے قیام کو منظور کیا گیا۔ اس وقت فلسطین ایک عرب اکثریتی ملک تھا جس میں مسلمانوں کے ساتھ عیسائی (دس فی صد) اور یہود (پانچ فی صد) اقلیتیں پُر امن طریقے سے رہ رہی تھیں۔ فلسطین اگرچہ خلافت ِعثمانیہ کے زیر حکومت تھا ‘لیکن وہاں عرب قوم پرستی سر اٹھا رہی تھی۔ وہاں کے کئی باشندے آزاد ریاست کے حق میں تھے۔ برطانیہ صہیونیوں اور عربوں دونوں کے عزائم سے باخبر تھا‘ اس نے یہ موقع اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنا غنیمت جانا ۔۱۹۱۴ء میں پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ کو اپنے حریف خلافت عثمانیہ کا سامنا تھا‘ لہٰذا ۱۹۱۵ء میں برطانوی نمائندے نے قاہرہ میں عرب نمائندوں سے ملاقات کرکے انہیں عربوں کی آزادی کا یقین دلایا بہ شرطے کہ وہ برطانوی حکومت کے ساتھ مل کر ترکوں سے لڑیں۔ ۱۹۱۷ء میں برطانیہ کے خارجہ سیکرٹری نے معروف یہود خاندان روتھس چائلڈ کے ایک فرد والٹر روتھس چائلڈ کو خط لکھا جس میں فلسطین میں یہود کے لیے ایک وطن کے قیام کی حمایت کی گئی تھی۔ اسے ’’بالفورڈیکلریشن‘‘ کہا جاتا ہے اور موجودہ فساد کی جڑ یہی خط ہے۔
۱۹۱۸ء میں خلافت ِعثمانیہ کے خاتمے کے ساتھ فلسطین پر ترکوں کا چار سو سالہ دور حکومت بھی ختم ہوگیا۔ ہزاروں کی تعداد میں یہودی مہاجرین تمام یورپ سے فلسطین لائے جارہے تھے۔ وہاں وہ زمینیں خریدنے‘ گھر بنانے ‘ تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے آزاد تھے‘ یہاں تک کہ انہوں نے هاگاناه (Haganah) نامی اپنی فوج تک منظم کرلی تھی۔ دوسری طرف فلسطین کے رہائشی عربوں سےکسی بھی معاملے میں ان کی مرضی معلوم کرنا گوارا نہ کیا گیا۔
یہود کی تیزی سے بڑھتی تعداد دیکھ کر عربوں کو یقین ہو گیا کہ ان سے کیا گیا آزادی کا وعدہ جھوٹا تھا‘ لہٰذا ۱۹۲۹ء میں انہوں نے بغاوت کا آغاز کیا ۔ یہود کی تعداد دوگنی ہوگئی تھی‘ یعنی دس فیصد۔۱۹۳۶ء میں دوبارہ فسادات ہوئے۔ اس بار برطانوی افواج نے شدید رد عمل دیا اور دو سے پانچ ہزار کے درمیان عرب مارے گئے۔ برطانیہ کوئی حتمی فیصلہ کرنا چاہتا تھا ‘وہ یہ کہ فلسطین کے دو حصے کر دیے جائیں: ایک یہود کے لیے ‘ایک عرب کے لیے۔ عرب سربراہوں نے اسے مسترد کر دیا کیونکہ وہ پورے فلسطین کے حق دار تھے۔ نتیجتاً فسادات میں شدت آئی اور وہ طویل ہوتے ہوئے ۱۹۳۹ء تک چلتے رہے ۔اب تک عربوں کی ایک بڑی تعداد یعنی کل بالغ مردوں کی دس فیصد آبادی قتل یا جلا وطن کردی گئی تھی۔ پھر اس مسئلے کا ایک متبادل حل سوچا گیا۔ برطانوی حکومت نے ۱۹۳۹ء میں وائٹ پیپر جاری کیا جس میں زمین کے بٹوارے کو رد کیا گیا اور اس کے بدل میں دس سال کے بعد فلسطین کو آزاد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس میں فلسطین میں یہود کیمزید نقل مکانی اور زمین خریدنے پر بھی چند پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پہلی بار صہیونیوں اور برطانوی حکومت میں اختلافات پیدا ہوئے۔ اس کا اظہار انہوں نے فلسطینیوں پر بم حملے کر کے کیا‘ جس میں درجنوں فلسطینی شہید ہوئے۔۱۹۴۵ء میں دوسری جنگ عظیم نے اس معاملے کو مزید سنگین رخ دیا۔ نازیوں کے ہاتھوں یہود کے قتل عام نے ایک بڑی تعداد میں انہیں فلسطین کا رخ کرنے کا جواز دیا ۔ برطانیہ کی پابندی کے باوجود سینکڑوں یہود فلسطین میں سکونت اختیار کررہے تھے کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ عسکری اعتبار سے وہ فلسطین پر غالب ہیں ۔ دوسری جنگ عظیم نے برطانیہ کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے لہٰذا اب وہ من مانی کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ اور ہوا بھی یہی کہ۱۹۴۷ء میں‘ تیس سالہ قبضے کے بعد برطانیہ فلسطین میں پھیلائے ہوئے اپنے فتنے سے برطرف ہو گیا اور معاملہ نئی تشکیل شدہ ’’اقوام متحدہ‘‘ کے سپرد کر دیا۔
صورت حال یہ تھی کہ بین گوریان (Ben Guiron) نامی صہیونی رہنما کی سربراہی میں فلسطینی یہود اب ایک منظم گروہ تھے۔ ان کی اپنی فوج تھی جو جدید ہتھیاروں سے لیس اور تجربہ کار فوجیوں پر مشتمل تھی۔ ان کی تعداد بھی اب تیس فیصد ہو چکی تھی اور وہ فلسطین کا چھ فیصد حصّہ خرید چکے تھے۔ نومبر ۱۹۴۷ء میں اقوام متحدہ نے فلسطین کے بٹوارے کا فیصلہ دیا اور فلسطینیوں کی اکثریت ہونے کے باوجود پچپن فیصد زمین اسرائیل کے لیے نامزد کر دی۔ فلسطینیوں بلکہ تمام عرب دنیا نے اس کی مخالفت کی۔ اقوام متحدہ کے اس فیصلے کو بظاہر تسلیم کر رہے یہود نے پس پردہ ایک دوسری ہی سازش تیار کر رکھی تھی۔ اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر انہوں نے اقوام متحدہ کی نامزد کردہ زمین سے بھی زیادہ حصے پر قبضہ کر لیا۔ بے رحمی سے فلسطینیوں کو قتل کرتے یا ان کو زمین چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کر دیتے۔ جب کسی علاقے کو خالی کروا لیتے تو اس کی تمام عمارتیں زمین بوس کر دیتے تاکہ اصل مالکان وہاں کبھی لوٹ کر اپنی ملکیت کا دعویٰ نہ کر سکیں۔
اس سلسلے کا ایک اہم واقعہ گاؤں دیر یاسین کا ہے۔۹ اپریل ۱۹۴۸ء کو صہیونی فوج نے اس گاؤں پر حملہ کیا۔ اقوام متحدہ کی انکوائری رپورٹ کے مطابق یہ حملہ نہایت وحشیانہ تھا۔ تقریباً ۲۵۰ افراد قتل کیے گئے‘ عورتوں اور بچوں کو بے لباس کرکے ان کی تصاویر لی گئیں اور پھر انہیں قطار میں کھڑا کر کے خود کار پستولوں سے ان پر فائر کھول دیے گئے۔ جنہیں قیدی بنایا گیا ‘ان کے ساتھ بھی غیر انسانی سلوک کیا گیا۔ اس واقعے نے خوف کی ایسی لہر پھیلائی کہ لوگ اپنے علاقے خالی کرتے گئے۔ اس طرح کے اور واقعات بھی رونما ہوئے اور فلسطین عربوں سے خالی ہوتا چلا گیا‘ یہاں تک کہ ۱۹۴۸ء کے آخر تک ڈھائی لاکھ فلسطینی ہجرت کر چکے تھے۔
۱۴ مئی ۱۹۴۸ء کو اسرائیل نے ایک آزاد ریاست کااعلان کردیا ۔امریکی صدر ہیری ٹرومین نے محض گیارہ منٹ میں اسرائیل کو تسلیم بھی کرلیا ‘ حالانکہ اس کی بنیاد ہزاروں لوگوں کی موت اور لاکھوں کی دربدری پر قائم ہوئی تھی۔
اطراف کے عرب ممالک نے مدد کے لیے حملہ تو کیا لیکن نہ وہ منظم تھے نہ ہی متحد۔ مزید یہ کہ ان کے پاس جدید اسلحہ بھی نہ تھا۔ نتیجہ شکست فاش رہا۔ مزید فلسطینی علاقے‘ جیسے رملہ اور لِدّہ‘ بھی اسرائیلی قبضے میں چلے گئے۔ پچاس ہزار فلسطینی ہجرت پر مجبور ہوئے‘ جن میں سے بیشتر پیدل تھے۔ اسے ’’لِدّہ ڈیتھ مارچ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ۷۸ فیصد فلسطینی علاقہ اسرائیل بن چکا تھا۔ تین چوتھائی لوگ مہاجر بن چکے تھے۔ اس واقعے کو ’’نکبہ‘‘ یعنی آفت کہا جاتا ہے۔۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے غزہ اور دریائے اردن کے مغربی کنارےپر بھی قبضہ کرلیا۔ وہاں رہ رہے لاکھوں لوگ اس کے زیر تسلط آگئے۔
اسرائیلی تسلط میں فلسطینیوں کی زندگی
پچھلی کئی دہائیوں سے قید و ستم کی زندگی گزارتے فلسطینی شہری حقوق سے محروم ہیں۔ اگر غزہ کی بات کی جائے تو خطہ ارض کی اس پٹی کو جو اسرائیل اور مصر کے درمیان واقع ہے‘ آج ’’زمین پر جہنم‘‘ کہا جارہا ہے۔ ایک سابقہ اسرائیلی افسر نے اسے قیدخانے سے تعبیر کیا تھا۔ ۴۱کلو میٹر طویل اور ۱۰ کلو میٹر چوڑی غزہ کی پٹی پر سات اکتوبر ۲۰۲۳ء سے قبل تقریباً ۲۲ لاکھ نفوس کی آبادی تھی‘ جن میں سے نصف بچوں پر مشتمل تھی۔۷۰ فیصد نوجوان طبقہ روزگار سے محروم اور ۹۰ فیصد کو پینے کا صاف پانی مہیا نہیں تھا۔۶۳ فیصد کو خوراک کی کمی کا سامنا اور ۵۹ فیصد غربت کی لکیر کے نیچے تھے۔
غزہ کے موجودہ حالات
حالیہ اسرائیلی جارحیت پچھلے ۱۴ برس میں اسرائیل کا پانچواں حملہ ہے۔ اس سے قبل ۲۰۰۹ء‘ ۲۰۱۲ء‘ ۲۰۱۹ء اور ۲۰۲۱ء میں اسرائیل ہزاروں فلسطینی جانیں لے چکا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ غزہ میں رہنے والے اس حبس بے جا سے نکل بھی نہیں سکتے۔ ایک جانب سے سمندر‘ دو اطراف سے اسرائیل اور ایک طرف سے مصر سے ملحق چھوٹی سی زمینی پٹی میں محصور مکین ۲۰۰۷ءسے ناکا بندی کا شکار ہیں۔ ایک طرف مصر نے اپنی سرحد یعنی رفح بند کر رکھی ہے۔ دوسری طرف غزہ میں آنے اور جانے والی ہر چیز پر اسرائیل کی کڑی نگرانی ہے۔ غزہ زمینی ‘ فضائی اور بحری لحاظ سے اسرائیل کے تسلط میں ہے۔
غزہ میں رہنے والے لوگوں کے لیے زندگی اور موت دونوں ہی سفاک صورت حال اختیار کر گئے ہیں۔ کتنے ہی خاندان صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ بین الاقوامی فلاحی اداروں کے مطابق ہر روز غزہ میں اوسطاًدس بچوں کے ہاتھ یا پاؤں کاٹنے پڑتے ہیں۔ جسمانی زخم اور اذیتیں تو شاید وقت کے ساتھ ختم بھی ہو جائیں لیکن جو ذہنی اور جذباتی گھائو یہ بچے اپنی معصومیت کی عمر میں کھا رہے ہیں ‘اس کا مداوا کیسے ممکن ہوگا!
سات اکتوبر۲۰۲۳ء سے قبل غزہ میں ۳۵ اسپتال تھے۔ اس وقت وہاں کے تمام ہی اسپتال تباہ ہو چکے ہیں یا تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ بجلی ‘بنیادی سہولیات اور ادویات سے محروم صرف گياره اسپتال اپنی گنجائش سے کئی گنا زیادہ مریضوں کو سموئے ہوئے ہیں۔ ایک ایک بستر پر کئی مریض ہیں ۔راہ داریوں پر ہر جگہ زخمی لوگ موجود ہیں۔ پورا دن مسلسل کام کرتے ہوئے ڈاکٹرز اور رضاکار مریضوں کو بے ہوش کیے بغیر موبائل فون کی روشنی میں آپریشن کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ آپریشن معمولی نوعیت کے نہیں بلکہ اعضاء کو جسم سے الگ کرنے والے آپریشن ہیں۔ اسرائیل چن چن کر غزہ کے قابل اشخاص خصوصاً سرجنز اور ڈاکٹروں کو اٹھوا لیتا ہے۔ انہیں بدترین تضحیک ‘ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔ کئی دنوں تک بے لباس رکھنا‘ بھوکا پیاسا رکھنا‘ واش روم کی سہولت کے بجائے ڈائیپر استعمال کرنے پر مجبور کرنا‘ اتنی مارپیٹ کرنا کہ ہڈیاں ٹوٹ جائیں عام معمولات ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کہ غزہ کے لوگوں کی قو ّتِ ارادی ہی مر جائے اور وہ پھر کبھی اس شہر کو دوبارہ آباد کرنے کے قابل نہ رہیں۔
چند ماہ میں ایک پوری آبادی ملبے کا ڈھیر بن گئی ہے۔ ڈیڑھ لاکھ سے زائد فلسطینی کسی محفوظ مقام کی تلاش میں غزہ کے ایک حصے سے دوسرے حصے کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہیں‘ جس نے ان کے ذہنوں میں نکبہ کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔بے سرو سامانی کے عالم میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر نامعلوم منزل کی طرف پیدل چلتے یہ قافلے اپنے دائیں بائیں اسرائیلی بمباری کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ درحقیقت ان فلسطینیوں کے لیے کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں۔ جن مقامات کو اسرائیل نے محفوظ قرار دیا تھا انہی پر زمینی اور فضائی حملے کئی لوگوں کی جان لے چکے ہیں۔ مدارس‘ عبادت خانے حتیٰ کہ ایمبولنس اور اسپتال تک محفوظ نہیں۔ سردی‘ غذا اور پانی کی قلت ‘کھلے آسمان تلے خیمے لگائے ٹھنڈے فرش پر سوتے‘ قضائے حاجت کے لیے چار سے پانچ گھنٹے کی قطار میں لگنے جیسی مشکلات سے نبرد آزما غزہ کے لوگوں کے لیے امید کی کوئی کرن بھی روشن نہیں۔ بھوک کا یہ عالم ہے کہ بچے گھاس اور جانوروں کا دانہ کھانے پر مجبور ہیں۔ سمندر کا پانی پینا اور نامناسب غذا کھانامختلف بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ علاج کی سہولیات اور ادویات مفقود ہیں۔ گویا جو گولی سے یک دم نہیں مرے گا وہ بھوک سے آہستہ آہستہ مر جائے گا۔ مائیں عجیب آزمائش کا شکار ہیں۔ کسی کی اولاد ہڈیوں کے ڈھانچے میں تبدیل ہونے کے بعد بھوک سے مر گئی ہے ‘ تو کسی نے جانوروں کے دانے سے پیس کر بنائی گئی روٹی کھلا کر اپنی اولاد گنوائی ہے۔ اسرائیلی فوج اخلاقی گراوٹ کی ہر حد کو پار کر چکی ہے۔ امداد وصول کرنے والے بھوکے لوگوں پر اندھا دھند فائرنگ کر کے سینکڑوں کو شہید کر دینا ان کے لیے کسی مذاق سے کم نہیں۔ خالی گھروں سے قیمتی اشیاء کی لوٹ مار کر کے سوشل میڈیا پر فخریہ ان کی ویڈیوز اَپ لوڈ کرنا‘فلسطینیوں کی بے کسی اور ان کی موت کا مذاق بنانا معمولی اور روزمرہ کی بات ہے۔ اسرائیل اپنے ناپاک منصوبے کے تحت فلسطینی عربوں کی نسل کشی کر کے یہ علاقہ اپنے مکینوں کے لیے خالی کروا رہا ہے۔ غزہ میں موجود قدرتی گیس کا معاہدہ چھ ممالک کی کمپنیوں کے ساتھ پہلے ہی ہو چکا ہے۔ گریٹر اسرائیل کے اپنے خواب کو پورا کرنے میں اسرائیل پوری طرح سرگرم عمل ہے۔
مغربی کنارہ
غزہ اگر محض ایک زمینی ٹکڑا ہے تو مغربی کنارہ جس میں القدس کا علاقہ شامل ہے‘ اسرائیل کو اور بھی زیادہ شدّت سے مطلوب ہے۔ یہ نہ صرف قدرتی ذخائر سے مالا مال ہے بلکہ تاریخی اعتبار سے یہود‘ نصاریٰ اور مسلمانوں تینوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ دریائے اردن کے مغربی کنارے پر موجود فلسطینیوں کی اس آبادی پر اسرائیل۱۹۶۷ء سے ظالمانہ طور پر قابض ہے۔ انبیاء کی سرزمین آج مسلمانوں پر تنگ ہے۔بین الاقوامی قانون کے تحت ناجائز ہونے کے باوجود اسرائیل نے اپنے باشندے اِس فلسطینی زمین پر آباد کرنے شروع کر دیے تھے۔ اس وقت تقریباًسات لاکھ یہود فلسطینی مسلمانوں کی نجی زمینوں پر قابض ہیں۔ اسرائیلی فوج اور ان کے سینکڑوں ناکے فلسطینیوں کے روزمرہ امور اور آمد و رفت کو انتہائی مشکل بنائے ہوئے ہیں۔ یہاںایسی سڑکیں اور جگہیں ہیں جہاں فلسطینیوں کا گزر ممنوع ہے۔ اپنی زمینوں اور کام کاروبار پر جانا حتیٰ کہ بچوں کا اپنی درس گاہوں تک پہنچنا ایک دشوار گزار عمل ہے۔ ماضی میں ایسے واقعات بھی پیش آئے کہ ایک دس سالہ بچے پر اسرائیلی فوج نے اس لیے فائر کھول دیا کیونکہ وہ رک کر زمین پر سے اپنے گرے ہوئے چپس اٹھا رہا تھا۔ لوگ اپنے گھروں تک میں بھی سکون سے نہیں۔ رات کے کسی بھی پہر اسرائیلی فوج گھر میں گھس کر تلاشی لے سکتی ہے ۔ یہ اس لیے تاکہ مسلمانوں کو یاد رہے کہ وہ یہاں محکوم ہیں۔
صرف فوج ہی نہیں‘ مغربی کنارے کے شہروں میں بسنے والے یہود بھی مسلمانوں پر ہر طرح کا ظلم و ستم کرتے رہتے ہیں۔ ان کے علاقوں میں کچرا پھینکنا‘ ان کو مارنا پیٹنا ‘ان کی املاک کی توڑ پھوڑ اور آتش زدگی حتیٰ کہ تفریحاً ان کی جان لینا معمولات میں شامل ہے۔ مغربی کنارے پر بسنے والے فلسطینی ہر طرح کی ذہنی اور جسمانی اذیت کا شکار ہیں۔ یہ تمام مظالم اسرائیلی فوج کی سرپرستی میں ہوتے ہیں۔ اگر آپ مغربی کنارے میں بسنے والے فلسطینی ہیں اور آپ کا یہودی پڑوسی بے وجہ آپ کے گھر میں گھس کے توڑ پھوڑ کرتا ہے‘ آپ کے بچوں کو چھت سے لٹکا دیتا ہے‘ انہیں نیچے پھینکنے کی دھمکی دیتا ہے تو آپ بے بس ہیں۔ایسے میں اگر آپ حکام کو شکایت کریں گے تو آپ ہی سے باز پرس ہو گی۔سات اکتوبر کے بعد اسرائیل کے وزیر دفاع نے دس ہزار رائفلز وہاں مقیم یہودیوں میں بانٹی ہیں ۔ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ قابض اسرائیلی مسلمانوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کر سکتے ہیں۔
۲۰۲۳ء میں تقریباً ۵۰۰ فلسطینی مغربی کنارے میں شہید کیے گئے۔ ہزاروں قید میں ہیں۔ شہداء اور قیدیوں میں خاصی تعداد بچوں کی ہے۔ اسرائیل کا مقصد فلسطینیوں کی آنے والی نسلوں کو مٹانا اور ان کو دہشت زدہ رکھنا ہے۔ قید میں موجود فلسطینی بچوں اور عورتوں پر ہوئے تشدد اور مظالم کی داستان نہایت الم ناک ہے۔ بے جا مار پیٹ‘ بھوکا پیاسا رکھنا ‘ بے لباس کرنا اور ذہنی‘ جسمانی ‘ جنسی تشدد کا نشانہ بنانا عام ہے۔ اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جہاں تین سال سےپندرہ سال تک کے بچوں‘ عورتوں اور بوڑھوں پر قائم بےبنیاد کیسز کی سماعت فوجی عدالتوں میں ہوتی ہے۔ بعض دفعہ بنا سماعت ہی کے قید سنا دی جاتی ہے۔ کئی بچے جو بے قصور قید کیے گئے‘برسوں بعد جب رہا کیے گئے تو تشدد کے باعث اپنے حواس کھو چکے تھے۔کئی علاقوں میں اسرائیلی حربے کامیاب بھی رہے۔ وہاں کے باشندے مجبور ہو کر اپنی زمین چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ البتہ بہت سے مسلمان اپنے پیاروں کو کھو کر اور ہر طرح کا ظلم و ستم سہنے کے بعد بھی اپنے حقوق کے لیے جواں مردی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ عالمی تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ غزہ کی صورتِ حال مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو بھی کسی نہ کسی صورت پیش آکر رہنے والی ہے۔
دنیا کا ردّ ِعمل
غزہ اور بقیہ مقبوضہ فلسطین میں جاری مسلمانوں کا قتل عام جہاں عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے وہیں چند لوگ ایسے بھی ہیں جو جھوٹے پروپیگنڈے کا شکار ہو کر اسرائیلی ہمدردی میں کھڑے ہیں۔ اسرائیل کا ساتھ دینے والوں کی اکثریت طاقت کے نشے میں چُور با اثر لوگ ہیں جن کا کوئی نہ کوئی مفاد فلسطینیوں کے خاتمے اور اسرائیل کی بقا سے جڑا ہے۔ امریکہ‘ برطانیہ جیسے ممالک میں جہاں عوام کی اکثریت مسلمانوں کے قتل عام پر سراپا احتجاج ہے‘ وہیں ان کی حکومتیں اسرائیل کے خلاف بولنے والوں کو مجرم قرار دے رہی ہیں۔ مسلمانوں کی نسل کشی پر آواز اٹھانے والوں کو یہود دشمن کہا جا رہا ہے۔
امریکہ کی پشت پناہی
حق دفاع کے نظریہ کی آڑ میں امریکہ روزِ اول سے اسرائیل کے جرائم کا پشت پناہ بنا ہوا ہے۔ بظاہر وہ دنیا بھر میں عورتوں اور بچوں کا ہمدرد بنتا ہے جبکہ غزہ میں معصوم جانوں کے قتل عام میں ہر طرح سے تعاون کر رہا ہے۔پچھلے ۷۵ برسوں میں جب کبھی بھی اقوام متحدہ میں فلسطین کے مسئلے کو حل کرنے یا جنگ بندی کے سلسلے میں اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کی بات ہوئی‘ امریکہ نے ہمیشہ ہی اس فیصلے کو ویٹو کر دیا۔ امریکہ ایک ایسی طاقت ہے جس کی چودھراہٹ عالمی عدم استحکام سے وابستہ ہے۔ دنیا میں جنگیں ہونا اس کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند ہے ۔ مختلف ممالک کا حالت جنگ میں ہوکر غیر مستحکم ہونا اس کے عالمی تسلط کو قائم رکھنے میں معاون ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر افغانستان‘ شام اور عراق جیسے ممالک سے قدرتی ذخائر کی چوری‘ اسلامی ممالک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنا ‘ ان کو آپس میں لڑوا دینا یا پھر مختلف ممالك میں باغی تحریکوں کی مدد کر کے وہاں کی حکومتوں کو گرا دینا! امریکہ کے جرائم کی فہرست نہایت طویل ہے۔ مشرق وسطیٰ پر تو ہر عالمی طاقت کی ہمیشہ سے نظر رہی ہے کیونکہ یہ علاقہ تیل اور دوسرے قدرتی ذخائر سے مالا مال ہے۔ ساتھ ہی یہ یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کا راستہ بھی ہے۔
امریکہ ساری دنیا میں امن اور اپنی اعلیٰ اقدار کا پرچار کرتا رہتا ہے لیکن دراصل سامراجی ذہنیت کا مالک ہے۔ یہ اپنے قیام کے ۲۴۵ سال میں سے ۲۲۸ سال حالت جنگ میں رہا ہے۔ اپنے مفاد اور برتری کو قائم رکھنے کے لیے یہ کتنے ہی ممالک کے معاملات اور جنگوں میں مداخلت کرتا رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل امریکہ کا ایک آلہ ٔ کارہے جس کے ذریعے سے بلا واسطہ وہ اس علاقے کو اپنے دباؤ میں رکھتا ہے۔اس کی ایک مثال ۱۹۶۷ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ ہے جب دو ایسی حکومتوں کا پاسا الٹا گیا تھا جو امریکہ کی مرضی کے خلاف جانا چاہتی تھیں‘ یعنی مصر اور شام۔ اگرچہ موقف یہ اپنایا گیا تھا کہ یہود کے خلاف عربوں کے حملے روکنے کے لیے جنگ کی گئی تھی لیکن درحقیقت معاملات کچھ اور تھے ‘یعنی عرب زمین پر قبضہ۔ Mattity Peled جو اس جنگ میں اسرائیلی کمانڈر تھا ‘اس نے اسرائیلی اخبار Haarettz کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ’’یہ نظریہ کہ عربوں کے ہاتھوں یہود کی نسل کشی سے بچنے اور اسرائیلی زمین کے دفاع کے لیے۱۹۶۷ء کی جنگ لڑی گئی تھی ‘ایک فریب تھا جو کہ جنگ کے بعد گھڑا گیا تھا۔‘‘۱۹۸۱ء میں اسرائیل نے امریکہ کی شہ پر اچانک فضائی حملہ کر کے عراق میں ایک زیر تعمیر جوہری ری ایکٹر Osivak کو تباہ کیا۔ اس وقت عراق ایران جنگ میں امریکہ بظاہر توعراق کا حامی تھا لیکن درحقیقت وہ ان دونوں اسلامک ممالک کی تباہی کا خواہاں تھا۔ پھر۱۹۸۲ء میں اسرائیل نے امریکہ کی امداد کے بل پر لبنان پر حملہ کر دیا تاکہ وہاں موجود فلسطینی مجاہدین کی سرکوبی کی جا سکے۔
مشرق وسطیٰ سے باہر بھی جب امریکہ جنوبی افریقہ میں نسلی عصبیت پر مبنی نظام کو اعلانیہ فروغ دینے سے قاصر تھا‘ اس کے لیے کارِ سیاہ اسرائیل ہی انجام دیتا رہا۔ چِلی میں آمریت کی بقا کی کوشش‘ گوئٹے مالا میں مقامی لوگوں کی نسل کشی‘ یہ سبھی کام امریکہ کے لیے اسرائیل کرتا رہا۔ اس کے علاوہ ایران پر دباؤ بنائے رکھنے کے لیے بھی امریکہ اس کے بحری جہازوں پر حملے‘ اس کے جوہری ماہرین کو قتل اور جاسوسی کے کام اسرائیل کے ذریعے ہی کرواتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ شام اور لبنان کے علاقوں پر اسرائیل مستقل بم باری بھی کرتا رہتا ہے۔ انہی سب مقاصد کے لیے امریکہ ہر معاملے میں اسرائیل کا غیر مشروط حامی اور مددگار ہے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک بار کہا تھا:’’ اگر موجودہ اسرائیل نہ ہوتا تو امریکہ کو کوئی اسرائیل ایجاد کر کے اس کا دفاع کرنا ہوتا۔‘‘
مسلمان ممالک کا کردار
جہاں اسرائیل کو دنیا بھر سے بڑی بڑی قوتوں کی غیر مشروط حمایت حاصل ہے وہاں فلسطین پر پچھلی کئی دہائیوں سے جاری ظلم و ستم کا تاحال کوئی مداوا نہیں۔ موجودہ صورتِ حال نے تو صاف عیاں کر دیا ہے کہ فلسطین کے لوگوں کا اللہ کے سوا کوئی آسرا نہیں۔ مسلمانوں میں سے جو طاقتور ہیں‘ ان کو فلسطین سے کوئی غرض نہیں۔ جو دنیاوی اعتبار سے کمزور ہیں‘ انہوں نے کسی قدر غیرتِ دینی کا ثبوت دیا ہے۔ یمن کی حوثی تحریک نے غزہ کے مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر اسرائیل جانے والے بحری جہازوں پر جو حملے کیے‘ اس کے ردّ ِ عمل کے طور پر امریکہ اور برطانیہ نے کینیڈا‘ آسٹریلیا‘ بحرین اور نیدرلینڈز کی حمایت کے ساتھ یمن کے ۷۰سے زائد مقامات پر فضائی حملے کیے۔ یمن جو اس وقت دنیا کے مفلوک الحال ممالک میں سرفہرست ہے‘ اس پر دنیا کی دو طاقتور ترین ریاستوں کا حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل کو امریکہ اور اتحادیوں کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ سوال یہ ہے کہ مسلمان جن کا ایمان ہی اپنے مسلمان بھائی کی خیر خواہی کے بغیر مکمل نہیں‘ پچھلے۷۶ سال میں اپنے فلسطینی بھائیوں کی تباہی پر خاموش کیوں ہیں؟ اگر وہ اپنے تئیں کوشش کر رہے ہیں تو انصاف کیوں نہیں ہو رہا؟
فرمانِ رسول اللہﷺ ہے :’’قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔‘‘ ایک کہنے والے نے کہا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں‘ بلکہ تم اس وقت بہت ہو گے لیکن تم سیلاب کی جھاگ کے مانند ہو گے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے سینوں سے تمہارا خوف نکال دے گا‘ اور تمہارے دلوں میں’’وہن‘‘ڈال دے گا۔‘‘ ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسولﷺ! ’’وہن‘‘ کیا چیز ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’دنیا کی محبت اور موت کا ڈر ۔‘‘ (سنن ابی دائود: ۴۲۹۷)۔ آج کا ہمارا دور یہی ہے کہ دنیا کی محبت‘ حرص اور اقتدار کی چاہ مسلمانوں اور خصوصاً ان کے حکمرانوں میں ہمیشہ سے زیادہ ہے۔ ایک طرف غزہ کے مسلمان محاصرے اور قید کا شکار تھے تو دوسری طرف متحدہ عرب امارات اور بحرین تجارت اور مالی فوائد کے لیے اسرائیل سے ہاتھ ملا رہے تھے۔ اسرائیل میں سیاحت کے فروغ کے لیے متحدہ عرب امارات میں بڑے بڑے بینرز سڑکوں پر آویزاں کیے جا رہے تھے۔
جنوبی افریقہ نے‘ جو خود سامراجی حکومت کے ظلم و ستم کا شکار رہ چکا ہے‘ عالمی عدالت میں اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا کیس دائر کر کے اپنے تئیں کچھ عملی اقدام تو کیا۔ یہ کیس تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد کیس ہے۔ عدالتی کارروائی کے خاتمے کے اگلے روز ۴۵ ممالک میں فلسطین کی حمایت میں لوگوں کے ہجوم مظاہروں کے لیے گھروں سے نکلے جب کہ مصر‘ الجیریا اور سعودی عرب کے عوام کو ایسا کرنے کی اجازت نہ ملی۔ مصر کی سرحد غزہ سے لگتی ہے لیکن اس نے اسے سنگ دلی سے بند کر رکھا ہے ۔ غزہ میں قحط سالی کا علم ہے‘ لیکن امداد ضرورت سے کئی گنا کم پہنچ رہی ہے۔ انتہائی ضروری علاج کے لیے جن مریضوں کو مصر منتقل کیا جانا ہوتا ہے انہیں اس قدر سکیورٹی مراحل کا سامنا ہوتا ہے کہ کئی راستے ہی میں دم توڑ جاتے ہیں۔ مصری حکومت کو اگر کسی چیز کی پروا ہے تو وہ یہ کہ ان کے اپنے تعلقات اسرائیل سے خراب نہ ہوجائیں۔
دنیا کی آبادی کا ۲۴ فیصد حصّہ ہو کر بھی مسلمان آج واقعتاً سمندر کا جھاگ ہو کر رہ گئے ہیں۔ آج ہم میں کوئی صلاح الدین ایوبی یا شاہ فیصل جیسا باحمیت حکمران موجود نہیں۔اپنے مفاد کی بلند دیواروں کے پار اہلِ فلسطین کی آہوں اور مسجد اقصیٰ کی پکار کوئی نہیں سن پا رہا!
فلسطین اور ہمارا کردار
فلسطین کے ماضی اور حال کو جاننے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک عام مسلمان شہری دعا کے علاوہ اور کیا کر سکتا ہے؟ سب سے پہلےتو یہ یاد رکھا جائے کہ اپنا حصّہ اور کردار ہر شخص نے ضرور ادا کرنا ہے۔ یہ معاملہ محض ہمدردی اور رحم دلی کا نہیں بلکہ ہمارے ایمان کی کسوٹی ہے۔ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں کہ ایک حصے کی سوزش سارے بدن کو جگائے رکھتی ہے۔اگر اہلِ غزوہ کی پکار ہمیں رلا نہیں رہی ہےتو ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کو ٹٹولیں۔اہلِ فلسطین کے لیے اس وقت واحد ہتھیار اور امید کی آخری کرن وہ آواز ہے جو وہ سوشل میڈیا کے ذریعے سے لوگوں کو پہنچارہے ہیں۔ مغربی میڈیا فلسطین کے بارے میں صرف جھوٹ کو فروخت دے رہا تھا لیکن اب موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے سچ دنیا تک پہنچ رہا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اہلِ فلسطین کے مددگار بن جائیں ۔ اسرائیل لاکھوں ڈالر خرچ کر کے اپنے جھوٹ کو مختلف پلیٹ فارمز پر نشر کررہا ہے۔ ہم اتنا تو کر ہی سکتے ہیں کہ اہل غزہ کی زندگی کو جہنم بنانے والی کوششوں کو ناکام کریں۔
اس سلسلے میں ہر شخص کی کوشش اور کردار اہم ہے۔ ضروری ہے کہ مستند ذرائع سے اہل غزہ کے بارے میں خود کو باخبر رکھیں۔ ہمیں اپنے دل کو زندہ رکھنا ہے۔اگر ہمارے لیے اس بربریت کی پوسٹس کو محض دیکھنااور شیئر کرنا مشکل ہو رہا ہے تو جو لوگ دن رات ایسی زندگی جی رہے ہیں وہ کس حال میں ہوں گے۔ جو لوگ سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں وہ وہاں پیغام آگے پہنچائیں۔جو لکھ سکتے ہیں وہ لکھیں۔ جو بول سکتے ہیں وہ بولیں۔ا سرائیل کے پروپیگنڈے کو بھی بے نقاب کریں۔ وہ جو خود کو مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوری حکومت بتاتے ہیں اور ہولو کاسٹ کی آڑ میں اہل غزہ کی نسل کشی کو اپنا دفاع بتاتے ہیں‘ ان کے جرائم کو اَن دیکھا اور اَن سنا نہ رہنے دیں۔
دوسرا عملی قدم ایسی مصنوعات کا بائیکاٹ ہے جن کی فروخت سے حاصل شدہ آمدنی اسرائیل کو اس کے جرم میں معاونت کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں درست اشیاء کا تعین ضروری ہے تاکہ خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں۔دنیا کے مختلف ممالک جن کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں‘ وہ بھی انسانیت کے ناطے اسرائیلی اور امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کر رہے ہیں جبکہ ہمارے یہاں کئی لوگ کھوکھلے بہانے تراش کر اسرائیلی مصنوعات اور برینڈز کو استعمال کر رہے ہیں۔ کیا ہم میں ذرا بھی کوئی دینی حمیت باقی نہیں رہی! اِدھر آپ برگر اور کولڈ ڈرنک کے ذائقے پر سمجھوتا نہیں کرسکتے‘ ادھر غزہ میں لاکھوں لوگ قحط سالی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ بائیکاٹ کا حصّہ ضرور بنیں۔ خود بھی رکیں اور دوسروں کو بھی روکیں۔تیسری چیز مسلمانوں کا آپس میں اختلافات بھلا کر متحد ہونا ہے۔ آج مسلمان دوسرے مسلمان کا دشمن جبکہ کافر کا دوست بنا ہوا ہے۔ دنیاکی ۲۴ فیصد آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ اگر ہم متحد ہو جائیں تو دشمن کی کیا مجال ہو سکتی ہے کہ وہ آنکھ اٹھا کر بھی ہمیں دیکھے۔ ہماری جان اور حرمت کو پامال کرے! ہمارے مقدس مقامات کو روندے۔ یہ اتحاد قرآن اور سُنّت کی رسی کو مضبوط تھامنے ہی سے ممکن ہے۔
آخری اور انتہائی اہم چیز مسلمانوں کا ترقی کے میدان میں پیچھے رہ جانا ہے۔ ہمارے تابناک ماضی کی بنیاد علم سے مضبوط رشتے میں تھی۔ کوئی بھی میدان مسلمان سائنس دانوں اور محققین سے خالی نہ تھا۔ آج ہم ہر طرح کی ٹیکنالوجی کے لیے غیروں کے محتاج ہیں۔ علم و تحقیق کے میدان میں پیچھے رہ جانے کے سبب آج دنیا میں ہماری کوئی عزت ہے نہ وقعت۔کیا ہم صرف اس امر کا انتظار کرتے رہیں گے کہ دنیا کا ضمیر جاگے۔کوئی مقام اور حیثیت بنانے کے لیے ہمیں خود محنت کرنی ہو گی۔ یاد رکھیں ہماری عزت صرف اور صرف اسلام سے جڑی ہے۔ مسلمانوں کا اتحاد فہم دین سے وابستہ ہے۔ یہی ہمیں زوال کی کیفیت سے باہر نکالے گا!