غزہ میں معرکہ روح و بدنریان بن نعمان
طالب علم رجوع الی القرآن کورس (سالِ دوم)قرآن اکیڈمی ‘کراچی
یہ اُجڑا اُجڑا چمن کیسا ہے جو بہارِ نو کا منتظر ہے؟ یہ ویران ویران سی بستی کیسی ہے جو زبانِ حال سے اپنے مٹنے کی کہانی سنا رہی ہے؟ یہ کھنڈر نما شہر کیسا ہے جو ع ’’کھنڈر بتارہے ہیں عمارت عظیم تھی‘‘ کے مصداق اپنی عظمت ِرفتہ کا پتا دے رہا ہے؟ یہ دھویں اور مٹی کا طوفان کیسا ہے جو ایک عظیم تباہی کا تتمہ لگ رہا ہے؟ یہ مرجھائے ہوئے پھول اور بے رونق کلیاں کیسی ہیں جو موسمِ خزاں کی شدّت کی نشان دہی کر رہی ہیں؟ یہ خاک و خون میں لتھڑے ہوئے ہزاروں وجودِ انسانی کس کے ہیں جن میں زندگی کے ہونے یا نہ ہونے میں احتمال ہے؟ یہ سینکڑوں کٹے پھٹے لاشے کس کے ہیں جن کے چہرے اپنی بےبسی اور اپنوں کی بے حسی کی تصویر ِمجسم ہیں؟ یہ محفوظ پناہ گاہوں کے متلاشی کون ہیں جن کے ظاہر سے خوف وہراس مگر باطن سے عزم وجزم کی کیفیات نمایاں ہیں؟ یہ کیسے قلب و جگر رکھنے والے سپوت ہیں جو اپنوں کو دفنانے کے بعد دوسروں کے آنسو پوچھتےنظر آرہے ہیں؟ صبر و شکر کے درجاتِ عالیہ پر فائز یہ کیسی مائیں ہیں جو کبھی اپنے جگر کے ٹکڑوں کو قربانی و استقامت کا درس دیتی دکھائی دے رہی ہیں تو کبھی بوقت شہادت کلمۂ طیبہ کی تلقین کرتی نظر آ رہی ہیں؟ یہ آزادی کے متوالے کون ہیں جو جذبہ و جنوں سے سرشار اور تن من دھن کی قربانی کے لیے تیار ہیں؟ یہ معصوم بچے اور بچیاں کون ہیں جن کی ڈبڈباتی آنکھیں ایک طرف تو وقت کے صلاح الدین ایوبی ؒ اور عمرِ فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کھوج میں ہیں تو دوسری طرف تباہی و بربادی ‘ وحشت و دہشت سے پتھرائی ہوئی ہیں ‘ جن کے کان یا تو اپنوں کی جدائی کی خبر سُن چکے ہیں یا بس……سننے ہی والے ہیں؟
ہاں یہ اندوہ ناک نقشہ القدس کا ہے۔ وہی القدس جو برکتوں والی سرزمین ہے۔ وہی القدس جو ہزاروں انبیاء کا مسکن و مدفن اور ان کی روایتوں کا امین ہے۔ وہی القدس جو سفرِ معراج کا مبدأ بنا ‘ توحید کا عظیم الشان مرکز بنا ‘ بعد از اں مسلمانوں کا حرمِ ثالث کہلایا‘ جس کی خاک قدم بوسیٔ سیّد المرسلینﷺ کی سعادت حاصل کر چکی ہے‘ جہاں کے نباتات و جمادات منتقلی ٔ تولیت ِاقصیٰ کےعینی شاہد ہیں۔ ہاں یہ وہی القدس ہے جو آج اپنے متولیوں کے لیے مقتل گاہ بنا دیا گیا ہے‘ اپنے محافظین کے لیے تنگ کر دیا گیا ہے‘ اپنے فدائین کے لیے جائے آز مائش بنا دیا گیا ہے۔
اسلام انسانی مساوات کا علم بردار ہے‘جومعیارِتکریم و شرف تقویٰ کو قرار دے کر معاشرے کو ایک صحت مند بنیاد پر پروان چڑھانا چاہتا ہے۔ معاشرے کی مجموعی اُٹھان افراد کی سیرت و کردار پر منحصر ہوا کرتی ہے۔گویا معاشی و معاشرتی و سیاسی سطح پر ایک مضبوط‘ پاکیزہ اور پُرامن معاشرہ وہاں کے افراد کی سیرت و کردار کی بلندی کی دلیل اور عظمت ِاخلاق کی علامت ہوتا ہے۔ افراد کے خارج (عالمِ اکبر) میں قیامِ امن ممکن نہیں ہو سکتا جب تک دل کی دنیا (عالمِ اصغر) سے انتشار و بے چینی کو رفع نہ کیا جائے ۔اس انتشار واِفسادِ قلب کے اختتام کی کوئی شکل بجز اس کے موجود نہیں کہ خالق و مخلوق سے متعلق نفسِ انسانی میں اٹھنے والےسوالات کے تسلی بخش جوابات فراہم کر دیے جائیں ۔ اس فراہمی ٔ جواب کی کوئی صورت اس کے علاوہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ‘ رسول اللہﷺ‘ اُخروی حیات اور دیگر امورِ غیبی پر ایمان و تیقّن اور اعتماد و اسناد رکھا جائے ۔ معلوم ہوا کہ معاشرے کے امن و استحکام کی حقیقی اور واحد اساس ایمان ہے جبکہ وہاں امن و سلامتی کی صورت حال بلاواسطہ متعلق ہے افراد کی ایمانی کیفیات سے ‘ اعتقادات وایقان سے‘ افکار و نظریات سے۔ فرقانِ حمید اسی نظریہ کو اجمالاً یوں بیان کرتا ہے :
{فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ ج اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۸۱) اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ(۸۲)} (الانعام)
’’پس دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی و اطمینان کا مستحق ہے؟ بتاوٴ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا‘حقیقت میں تو امن انہی کے لیے ہے اور راہِ راست پر وہی ہیں۔‘‘
اگر کسی فرد کے نظریات کی بِنا ہی دہشت گردی پر ہو‘ افکار کی اُٹھان ہی بربریت پر ہو‘ دیگر نوعِ انسانی سے اسقاط ِحقِ انسانیت ہی اس کے اعتقادات کا جزوِ لاینفک ہو‘ اِفساد و تخریب ہی اس کا نصب العین ہو ‘عبادت ِ نفس و شیطان اور کینہ و بغض و حسد و عداوت کے ظلمات سے اس کے دل کی دنیا اندھیر ہو ‘ تو کیا توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ خارج میں فروغِ امن اور اشاعت ِسلامتی کا ذریعہ بنے گا! ذرا تصوّر تو کریں کہ اگر ایک پورا معاشرہ ہی درندے نما انسانوں پر مشتمل ہو اور ستم در ستم یہ کہ اقوامِ عالم کی باگ ڈوربھی انہی کے خون آشام ہاتھوں میں ہو تو زمین میں انتشار و اضطراب کی اور کیا توجیہہ پیش کی جائے گی! بازارِ کشت وخون کے گرم ہونے کو اور کس سبب کے ساتھ ملحق کیا جائے گا! بےرحمی اور ظلم و تشد ّد کی انتہا کو آخر کس منبع سے متعلق کیا جائے گا !
ربّ ِکائنات ہر دور میں ایسے سخت گیروں کو انسانیت کے امتحان کے لیےمسلط کرتا رہا ہے۔ دورِ حاضر میں اس پوری تصویر کا کامل انطباق اگر کسی معاشرے پر ہو سکتا ہے تو وہ یہودی و صہیونی معاشرہ ہے۔ ان کے عقائد میں یہ بات بڑی نمایاں ہے کہ انسان کہلانے کے حق دار اور اس عنوان کے تحت ملنے والے حقوق و مراعات کے اصلاًمستحق تو صرف یہود ہیں جبکہ غیر یہود تو عوام کالانعام کے مانند ہیں کہ جیسے چاہیں ہم ان سے سلوک رَوا رکھیں۔ فلسطین میں بالعموم پون صدی سے اور بالخصوص گزشتہ ایام سے جاری صہیونی بربریت کے پیچھے اصلاًیہی نظریات کار فرما ہیں جوان کی ظالمانہ و جابر انہ اور رحم کے ہرعنصر سے عاری ذہنیت کی عکاسی و ترجمانی کر رہے ہیں۔ مذہبی اعتقادات و نظریات کے تضاد ہی نہیں تصادم کے علی الرغم عالمی طاقتوں خصوصاً عیسائی دنیا کی غیر مشروط پشت پناہی پنجۂ یہود کی مضبوط گرفت اورمکارانہ و شاطرانہ حربوں کی گہرائی کا پتا دے رہی ہے ۔انسانی حقوق ‘ حتیٰ کہ حقوقِ حیوانات کے علم بردار یورپی ممالک القدس کی آہ و بکا‘ تڑپتے لاشوں ‘ مچلتے زخمیوں‘سسکتے بچوں‘ دہائیاں دیتی عورتوں‘ قربان ہوتی جوانیوں کو نظر انداز کر کے دھونس و دھمکی اور ناجائزطور سے وجود میںآنے والے غاصب و قابض وقاتل اسرائیل کی پیٹھ ٹھونکتے نظر آرہے ہیں۔ جانوروں کے حقوق کی پامالی پر واویلامچانے والوں کو فلسطین میں یہ انسانی المیہ جنم لیتاہوا نظر نہیں آتا۔ حقوقِ نسواں کے محافظوں کو غزہ میں ظلم و ستم کا نشانہ بنتی صنف ِنازک پریشان نہیں کرتی۔بچوں کے حقوق کی ضامن بننے والی تنظیموں کو ننھی جانوں کے ضیاع پر مشتمل یہ ہوش رُبا اعداد نہیں ستاتے۔العجب! ثم العجب! ثم العجب!
غیروں سے شکوہ کے بعد ذرا اپنوں کے احوال بھی ملاحظہ ہوں ۔گزشتہ صدی میں جب اغیار اپنے اقتدار کی بِساط لپیٹ رہا تھا اور سلطنت ِاسلامیہ کی وحدت میں سرحدوں کی لکیریں کھینچ کر اسے ممالک میں تقسیم کر رہا تھاتو جاتے جاتے اپنا فرسودہ نظام اور اس کے رکھوالے ‘جو مغربی فکر کے دل دادہ اور سامراجی حکومتوں کے پٹھوتھے‘ چھوڑ گیا۔ انہی پٹھوؤں کی معنوی اور نسلی اولادیں آج مسلم اُمّت پر مسلط ہیں کہ جن کو اپنے زیر تسلط زمین کے باسیوں سے ہی وفاداری نہیں ‘کجا یہ کہ کئی لکیریں پار کر کے’’دوسروں‘‘کی غم خواری کریں۔جن کٹھ پتلیوں کی باگیں ہی کہیں اور سے ہلتی ہوں‘ جن کا قبلہ ہی کبھی ماسکو کبھی بیجنگ تو کبھی واشنگٹن ہو ‘جن کی افواج ہی طاغوتی قوتوں کی ذہنی وعملی غلام ہوں‘ جن کےفیصلے ہی ’’بیرونی آقاؤں‘‘ کی مداخلت بغیر ادھورے رہتے ہوں‘ جن کی پالیسی اںہی خود مختار نہ ہوں‘ جن کی مراعات ہی کی کوئی انتہا نہ ہو‘ جن کے گہرے مفادات نظامِ باطل سے وابستہ ہوں‘ جن کے قلوب ہی حلاوتِ ایمانی اور دینی حمیت و غیرت سے یکسر خالی ہوں‘ جن کا گفتار و کردار ہی ع ’’وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود‘‘ کے مصداق اغیار سے مرعوبیت کا مظہر ہو‘ جن کے اذہان ہی فرنگی ساخت کے ہوں تو کوئی سلیم الفطرت اور ذی عقل و شعور انسان کیوں کر اِن سنگ دلوں سے مصیبت زدوں کی امداد اور مظلوموں کے لیے اقدام کی اُمید لگا کر اپنی توقعات کا خون کرے!البتہ مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ کی اُمید کے ساتھ ان سے گزارشات ‘معروضات ‘التجائیں کرتے رہیں گے کہ یہی ہمارے بس میں بھی ہے اورہماری ایمانی غیرت و حمیت کا تقاضا بھی۔ ؎
اِک طرزِتغافل ہے سو وہ اُن کو مبارک
اِک عرضِ تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے!پاکستان جو مرضِ اسرائیل کے علاج کے طور پر وجود میں آیا تھا‘ آج اپنے فلسطینی بھائیوں‘ بہنوں ‘ بزرگوں کے زخموں پر مرہم رکھنے سے قاصر ہے۔ عربوں کی پُرتعیّش زندگی نے انہیں کھوکھلا کر دیا ہے ۔غیر عرب کو بھی عملی و نظری سطح پر مادہ پرستی ‘الحاد‘ سیکولرازم و جدیدیت کے اندھیروں نے اپنی ظاہری چکا و چوند میں گم ہو کر ایمانی رمق کو انتہائی مدھم کر دیا ہے کہ انہیں آ ج نہ جائے مقتل سے اٹھنے والی بوئے خونِ شہیداں سونگھائی دیتی ہے‘ نہ دہائیاں دیتی اور چیختی چلّاتی صدائے پریشاں کچھ ستاتی ہے۔ نہ بے گورو کفن لاشوں کی کثرت دل میں کچھ ہلچل مچاتی ہے‘ نہ علاج کی سہولیات سے محروم ‘ بے یار و مددگار لوگوں کے زخم ان کی آنکھوں کی نمی میں کچھ اضافہ کرتے ہیں۔ اس کے علی الرغم عالمِ اسلام میں حزب الشیطان کی کارروائیوں میں زبردست اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس کے نمونے کبھی کنسرٹس میں تھرکتے اجسام کی شکل میں سامنے آتے ہیں تو کبھی گیندبلے کے تماشوں میں دھڑکتے قلوب کی صورت میں عیاں ہوتے ہیں۔کبھی تعلیمی اداروں سے آنے والی نازیبا ویڈیوزسے واضح ہوتے ہیں تو کبھی قضیہ ٔ فلسطین سے اظہارِ بیزاری کے ذریعے آشکارا ہوتے ہیں۔کبھی حماس کے ۷ اکتوبر کے حملے کو معصوم جانوں کے ضیاع اور خودکشی کے مترادف گرداننے سے نظر آتے ہیں تو کبھی شقاوتِ قلبی کی انتہا پر پہنچتے ہوئے اسرائیل کی حمایت میں دلائل پیش کرنے سے ظاہر ہوتے ہیں۔ غرض معاشرے کے مختلف طبقات کی مختلف کیفیات ہیں۔ جہاں اِن رذیل کیفیات کے حامل ‘اسفل سافلین کے طبقے سے متعلق گروہِ انسانی اپنی مستیوں ‘راگ رنگینیوں میں مست ہے تو وہیں زندہ ضمیر رکھنے والے‘ اُمّت کادرد رکھنے والے ‘ فلسطین کے مسلمانوں پر گزرنے والے ایک ایک کرب کو اپنے دل میں محسوس کرنے والے‘ رات کے پہروں میں بہتی آنکھوں اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اپنے مظلوم بھائیوں کی مظلومیت کا شکوہ ربّ المستضعفین کی بارگاہ میں کرنے والے‘ سوزِ دل اور نفَسِ گرم سے معمور بے باک تقاریر و تحاریر کے ذریعہ اُمّت کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے والے‘ فلسطینی علَم تھامے اسرائیل مخالف نعرے لگاتے‘ سڑکوں اور میدانوں کو پُر کرنے والے باغیرت ‘ باہمت‘ پُرعزم اور غیور رجالِ کار کی بھی ایک کثیر تعداد منظر ِعام پر ہے۔ حیرت انگیز طور پر اسرائیل مخالف فلسطینیوں کے حق میںقول و فعل سے اظہارِ جذبات کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ان غیرمسلموں کی بھی ہے جن کی فطرت کسی درجہ ظلماتِ تعصب سے سلامت ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے لیے ایک لمحہ فکریہ اور گریبان میں جھانکنے کی داعی ہے بلکہ جسد ِغیرتِ ملّی کے رخسار پر ایک زناٹے دار طمانچہ بھی ہے۔
دربارِ نبوی ﷺ سے اُمّت ِمسلمہ کو ایک جسد ِواحد قرار دیا گیا ہے کہ اگر آنکھ دُکھے تو سارا جسم اس کی تکلیف محسوس کرے مگر کیا کیجیے اُس شل اور بے حِس وجود کا کہ جس کو اپنے ایک جزو کے کٹنے کا احساس ہی نہیں ہو پا رہا ہو۔ ملّت ِاسلامیہ کو ایک عمارت کی اینٹوں سے تشبیہ دی گئی ہے کہ وہ باہم مربوط و مضبوط ہوتی ہیں مگر کیاکیجیے اس کھوکھلی عمارت کی اینٹوں کا کہ جن کا ایک دوسرے کے لیے ذریعۂ تقویت بننا تو درکنار اپنے قیامِ وجود ہی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ایک حساس دل رکھنے والے‘ تمنائے شہادت رکھنے والے‘ جذبۂ قربانی رکھنے والے ‘ سوزِ جگر رکھنے والے مسلمان کے لیے کیااعصاب شکن مقامِ آزمائش ہے‘ انتہائی بے بسی اور مجبورِ محض کی سی کیفیت ہے کہ وہ مالکِ کون و مکاں سےصرف دُعائیں ہی کر سکتا ہے‘ فقط مالی امداد ہی کر سکتا ہے اور بارگاہِ خداوندی میں اپنے عذرِ بے بسی کو وسیلہ ٔ معذرت ہی بنا سکتا ہے ‘اس حال میں کہ یہ دعوتِ ربانی و شکوۂ مظلوماں اس کے دل کو چیر اور اس کے بدن کو جھنجھوڑ رہی ہوتی ہے :
{وَمَالَکُمْ لَا تُـقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآئِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَـقُوْلُوْنَ رَبَّــنَــآ اَخْرِجْنَا مِنْ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَہْلُہَاج وَاجْعَلْ لَّــنَا مِنْ لَّـدُنْکَ وَلِــیًّاج وَّاجْعَلْ لَّــنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا(۷۵)}(النساء)
’’اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم قتال نہیں کرتے اللہ کی راہ میں اور ان بے بس مردوں‘ عورتوں اور بچوں کی خاطر جو مغلوب بنا دیے گئے ہیں‘ جو دُعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار‘ ہمیں نکال اِس بستی سے جس کے رہنے والے لوگ ظالم ہیں۔ اور ہمارے لیے اپنے پاس سے کوئی حمایتی بنا دے‘ اور ہمارے لیے خاص اپنے فضل سے کوئی مددگار بھیج دے ۔‘‘
ایک بار پھر دنیا اور ہوس کے بزدل پجاریوں کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے نڈر غلاموں سے معرکہ چھڑ ا ہوا ہے۔ ایک طرف مادیت کی دبیز تہ میں لپٹے ہوئے کرائے کے سپاہی ہیں تو دوسری طرف سر تا پا روحانیت میں مستغرق اور توکّل علی اللہ کی معراج پر فائز مجاہدین فی سبیل اللہ ہیں۔ ان جواں مَردوں نے فضائے بدر تو پیدا کر دی ہے ‘ کیا عجب کہ فرشتوں کا نزول بھی ہو رہا ہو۔اس کیفیت کی بہترین عکاسی ’’ قافلۂ ملّی کے حُدی خواں‘‘ کے ان ا شعار میں ملتی ہے:؎
دنیا کو ہے پھر معرکۂ رُوح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درِندوں کو اُبھارا
اللہ کو پامردئ مومن پہ بھروسا
اِبلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
تقدیرِ اُمَم کیا ہے‘ کوئی کہہ نہیں سکتا
مؤمن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارا!علامہ اقبال مزید کہتے ہیں: ؎
کیا نہیں اور غزنوی کارگہِ حیات میں
بیٹھے ہیں کب سے منتظر اہل حرم کے سومنات
قافلۂ حجاز میں ایک حُسین بھی نہیں
گرچہ ہے تاب دار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات
ربّ ذوالجلال کےحضور دست بستہ یہ التجا ہے کہ اُمّت ِمسلمہ کے احوالِ دُنیوی و اُخروی کو درست فرما دے۔ ان پر ہونے والے ظلم و ستم کو امن وسکون و عافیت ِکاملہ سے بدل دے! مسجد اقصیٰ اور اس کے محافظوں کی حفاظت کا انتظام فرما دے۔ ان کے زخمیوں کو شفائے کاملہ عاجلہ دائمہ مستمرہ اور شہیدوں کو جنّت الفردوس میں درجۂ عالیہ عطا فرما دے۔ روزِ قیامت اپنے حبیبﷺ اور اپنے اِن محبوبوں کے رُو برورسوائی سے ہماری حفاظت فرما دے! اے ارحم الراحمین! اے اکرم الاکرمین! اے وہ کہ انتظام و انصرامِ ارض و سماءجس کے قبضہ ٔقدرت میں ہے! کائنات کا ذرہ ذرہ اپنی حرکت میں جس کے اِذن کا محتاج ہے! واقعات جس کے کلمہ ٔ کُن سے جنم لیتے ہیں‘ قلوب العباد جس کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں! اے خدائے بزرگ و برتر! تیری زمین فساد سے پُر ہو چکی اور مفسدین ہر قانونِ دنیوی سے بالا تر دندناتے پھر رہے ہیں۔ اے اِلٰہ العالمین! ہم اعتراف کرتے ہیں اپنی کمزوری کا ‘ وسائل کی دستیابی کے باوجود ان کے صحیح استعمال پر عدمِ قدرت کا۔ اے اللہ! تو کمزوروں کا ربّ ہے اور تو ہمارا بھی ربّ ہے! اے رَبُّ المستضعفین! اپنے ان مظلوم بندوں کو اپنے چہرے کے نور کی پناہ عنایت فرما کہ جس سے تاریکیاں روشن ہوگئیں اور جس پر دنیا و آخرت کے معاملات درست ہوئے کہ تو ان پر یا ہم پر اپنا غضب نازل کرے یا تیرا عتاب ان پر یا ہم پر وارد ہو۔ تیری ہی رضا مطلوب ہے یہاں تک کہ تو خوش ہوجائے اور تیرے بغیر کوئی زور اور طاقت نہیں۔ ولَاحول ولَا قوّۃ اِلَّا بِاللّٰہ!
فلسطین میں جنم لیے ہوئے اس انسانی المیے اور اقوامِ عالم کی افسوس ناک صورتِ حال کے پس ِمنظر میں ڈاکٹر ظفر کمالی نے بصورتِ نظم کیا خوب منظر کشی کی ہے ۔ طویل نظم میں سے منتخب اشعار پیشِ خدمت ہیں :؎
خاموش ہیں وہ دیکھ کے ہر ظلم و ستم کو
سب بھول گئے اپنے کیے قول و قسم کو
محسوس کریں کیسے ترے درد و الم کو
فرصت ہی نکاحوںسے نہیں شیخِ حرم کو
بگڑے ہوئے گھوڑے پہ کَسے کیسے کوئی زین
اے ارضِ فلسطین‘ مری ارضِ فلسطین!
پامال ہوئے تیرے لیے سارے قوانین
ٹھوکر میں یواین او کی ہیں شاہوں کے فرامین
عادل ہی عدالت کی یہاں کرتے ہیں توہین
چنگیز و ہلاکو کو بھی ہے قبروں میں تسکین
تاریخ کے اوراق لہو سے ترے رنگین
اے ارضِ فلسطین‘ مری ارضِ فلسطین!
کہنے کوبہت ہیں ترے زردار مسیحا
ہیں باعثِ افزونیٔ آزار مسیحا
گفتار کے غازی ہیں یہ لاچار مسیحا
ہوتے ہیں کہیں ایسے بھی بیمار مسیحا!
حاجت ہے دواؤں کی تو وہ پڑھتے ہیں یٰسین
اے ارضِ فلسطین‘ مری ارضِ فلسطین!
ہے پیشِ نظر سب کے قیامت کا یہ کہرام
خاموش ہے مجرم کی طرح مجلسِ اقوام
امداد ہو ظالم کی‘ ملے اُس کو ہی انعام
کس درد کی آخر ہیں دوا تیرے چچا سام
ہم لوگ فرشتے ہیں یہ کہتے ہیں شیاطین
اے ارضِ فلسطین‘ مری ارضِ فلسطین!
موسم ہو کوئی ‘گرتے رہے ظلم کے اولے
ٹھنڈے نہ ہوئے آج بھی بارود کے گولے
دیکھے گا یہاں کون ترے دل کے پھپھولے
کیا وقت کی گردش ہے کہ ہٹلر کے ممولے
انساں کا لہو پی کے بنے بیٹھے ہیں شاہین
اے ارضِ فلسطین‘ مری ارضِ فلسطین!
ہوتا ہی نہیں ختم یہ کھیل اب بھی ہے جاری
دِن رات تماشا ہی دکھاتے ہیں مداری
دولت کے پجاری ہیں یہ دولت کے پجاری
جال اپنا بچھائے ہوئے بیٹھے ہیں شکاری
بجتی ہے سیاست کے سپیروں کی بہت بین
اے ارضِ فلسطین‘ مری ارضِ فلسطین!
بھرتے ہیں دکھاوے کے لیے جتنے یہاں آہ
انجم ہے کوئی ان میں کوئی مہر کوئی ماہ
اے کاش کہ ہوتے وہ ترے سچے بہی خواہ
سب تجھ کو سیاست کی سمجھتے ہیں چراگاہ
کیوں فکر انہیں ہو کہ یہ حالات ہیں سنگین
اے ارضِ فلسطین‘ مری ارضِ فلسطین!
سینہ جو ترے سامنے وہ تان رہے ہیں
یہ کھیل ہے کس کا یہ سبھی جان رہے ہیں
منہ سے نہ کہیں دل سے مگر مان رہے ہیں
پردے میں چھپے شخص کو پہچان رہے ہیں
اک روز یہ بدلے گی فضا بدلے گا یہ سین
اے ارضِ فلسطین‘ مری ارضِ فلسطین!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026