اسرائیلی ریاست
اور
سورۃ الاسراء کی ابتدائی آیاتزین العابدین
فاضل جامعہ دارالعلوم کراچی و مدرس جامعہ دارالعلوم ‘بڈھ بیر ‘پشاور
بنو اسرائیل وہ قوم ہے جنہیں اپنے دور میں دنیا کی افضل ترین قوم کا درجہ حاصل تھا۔ یہ انبیائے کرام علیہم السلام کی اولاد تھی۔ان میں کثرت سے انبیاء و رسل تشریف لائے‘ لیکن ان کا رویّہ انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ ہمیشہ منفی رہا۔ بار بار اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں کی گستاخیاں کیں‘ اُن کی تکذیب کی بلکہ اُنہیں قتل کیا‘ زمین میں فساد پھیلایا اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی‘ جس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر ذلت و مسکنت کا ٹھپا لگایا‘ جو قیامت تک ان پر لگا رہے گا۔
اس ذلت و مسکنت کا مظاہرہ صدیوں سے ہورہا تھا‘ جب سے یہ در بدر پھر رہے تھے۔ کوئی قوم انہیں مستقل اپنے ساتھ نہیں رہنے دیتی تھی‘ البتہ مسلمانوں نے ہمیشہ ان کے ساتھ رواداری کا معاملہ کئے رکھا۔ یہ آستین کے سانپ کی مانند اپنے بہی خواہوں کو ہی ڈستے رہے‘ تاآنکہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد انہوں نے اپنے لیے’’اسرائیل‘‘کے نام سے فلسطین کی مقدّس سرزمین پر ایک یہودی ریاست قائم کی۔
ذلت و مسکنت کی چھاپ ان سے پھر بھی علیحدہ نہیں ہوئی‘ اور یہودی ریاست کے قیام کے باوجود رسوائی ہمیشہ ان کا مقدر رہی۔ فلسطینی مسلمانوں پر ظلم کی وجہ سے اقوامِ عالم نے انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھا‘ لیکن چونکہ مغرب اور عالم ِاسلام کی حکومتیں ان سے خائف تھیں اس لیے انہیں ایک طرح کی برتری حاصل رہی۔ اپنی سازشوں کے بل بوتے پر یہ امریکہ اور یورپ کی اقتصادیات اور سیاست پر ایسے حاوی ہوگئےجس کی وجہ سے بعض حضرات کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہوا کہ قرآنی وعدہ تو ان پر غضب اور ذلت کا ہے جبکہ موجودہ صورتِ حال اس کے خلاف ہے!حقیقت یہ ہے کہ یہود کی ذلت و مسکنت بھی خدا کی طرف سے طے شدہ ہے اور اُمّت ِمسلمہ کے دور میں بالخصوص آخری زمانے میں ان کے علو اور برتری کا بھی خدائی وعدہ ہے جو یقیناً پورا ہوکر رہے گا۔دیکھنا یہ ہے کہ یہ دونوں حالتیں بیک وقت کیسے اکٹھی ہوسکتی ہیں!
دو مرتبہ کا فساد اور عظیم بالادستی
سورۃ الاسراء جس کا ایک نام سورۃ بنی اسرائیل بھی ہے‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے شروع میں ہی یہود کا تذکرہ کیا ہے:
{وَقَضَیْنَآ اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ فِی الْکِتٰبِ لَتُفْسِدُنَّ فِی الْاَرْضِ مَرَّتَیْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا کَبِیْرًا(۴) }
’’اور ہم نے کتاب میں فیصلہ کر کے بنو اسرائیل کو اس بات سے آگاہ کر دیا تھا کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد مچاؤگے‘ اور بڑی بلندی حاصل کروگے۔‘‘
یعنی یہودی دو مرتبہ زمین میں فساد پھیلائیں گے‘ اور انہیں زمین میں عظیم ترقی اور بالادستی نصیب ہوگی۔ دو مرتبہ فساد پھیلانے پر یہودیوں کو سزا دینے کا بھی تذکرہ موجود ہے۔ فساد کا ذکر دو مرتبہ ہے جبکہ بلندی کا تذکرہ ایک بار ہے۔ یہ بالادستی غلبے کی صورت میں ہوگی۔یہ بات بھی آیات کے سیاق سے اور طرز سے معلوم ہوتی ہے کہ یہ غلبہ مقامِ مدح میں نہیں بلکہ ذم میں ہے۔ علّامہ ماتریدی رحمہ اللہ اپنی تفسیر ’’تاویلات اہل ِسُنّت‘‘ میں فرماتے ہیں:
وقيل لتَقهَرُنَّ ولَتَعلُنَّ غَلَبَةً كقوله:{اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ} (القصص:٤) أي قَهَرَ و غَلَبَ. ألا تری أنه قال: { وَجَعَلَ اَہْلَہَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَآئِفَۃً مِّنْہُمْ}(القصص:٤) ثَبَتَ أنَّه علی الغلبة والقهر.(تفسير ماتريدي)
’’ کہا گیا ہے کہ تم غالب اور بالادست بنو گے‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد فرعون کے بارے میں ہے کہ’’بے شک فرعون زمین میں بالادست بن گیا تھا‘‘اس طرح اس میں بھی غور کریں کہ آگے اللہ تعالیٰ نے فرعون کے بارے میں فرمایاکہ: ’’اُس نے لوگوں کو گروہ در گروہ بنایا‘ کہ ان میں ایک گروہ کو کمزور کرنا چاہتا تھا‘‘۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اس آیت میں’’علوّ‘‘سے مراد غلبہ ہی ہے۔ ‘‘
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دو مرتبہ کا فساد کب اور زمین کے کون سے حصے میں پھیلا؟ اللہ نے انہیں اس کی سزا کب دی؟ حالانکہ یہودیوں نے ہمیشہ فساد پھیلایا ہے‘ اور انبیاء علیہم السلام کے قتل سے بڑا فساد اور کیا ہوگا!یہودیوں نے جنگوں کی آگ بھڑکانے کی کوششیں کی ہیں‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{کُلَّمَآ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَہَا اللہُ لا وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًاط وَاللہُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ (۶۴)} (المائدۃ)
’’جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے‘ اور یہ زمین میں فساد مچاتے پھرتے ہیں‘ جبکہ اللہ فساد مچانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘
ان جرائم کی سزا میں یہودی سینکڑوں سال سے زمین میں دربدر پھر رہے تھے اور ان پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی طاقت مسلط ہوتی رہی ہے‘ جیسا کہ سورۃ الا عراف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{ وَاِذْ تَاَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْہِمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ مَنْ یَّسُوْمُہُمْ سُوْٓئَ الْعَذَابِ ط اِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ ج وَ اِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۶۷)} (الاعراف)
’’ اور جب تمہارے ربّ نے اعلان کیا کہ وہ ان پر قیامت کے دن تک کوئی نہ کوئی ایسا شخص مسلط کرتا رہے گا جو ان کو بری تکلیفیں پہنچائے گا۔ بے شک تمہارا ربّ جلد سزا دینے والا ہے‘اور یقیناً وہ بہت بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔ ‘‘
ان کی تاریخ زیادہ تر بیت المقدس کے گرد گھومتی ہے۔وہاں جب یہودیوں کی پہلی سلطنت قائم ہوئی تو بعثت ِنبوی تک یہ شہر متعدد بار تاراج ہوا۔ اس کا مال و دولت لوٹا گیا۔ عورتوں اور بچوں کو قتل کیا گیا۔ یہودیوں کو تہ تیغ کیا گیا۔ دو مرتبہ یہ مکمل طور پر برباد ہوا‘۲۳ بار اس کا محاصرہ ہوا‘۵۲ مرتبہ یہ مختلف حملہ آوروں کا نشانہ بنا‘ اور یہ سب یہودیوں کی بداعمالی کی بدولت ہوا۔ انہوں نے جب بھی سچی توبہ کی ‘بیت المقدس انہیں واپس ملا اور جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانیاں کیں تو انہیں بیت المقدس سے نکالا گیا۔ البتہ دو مواقع ایسے ہیں جب انہوں نے فساد پھیلایا اور یہاں خوب تباہی پھیلی‘ جنہیں عموماً مفسرین نے اسی آیت کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔
۵۸۷ ق م میں یہودیوں کی بار بار کی شرارت پر بخت نصر (Nebuchadnezzar) نے یروشلم پر حملہ کر کے اسے تاراج کر دیا۔ یہودیوں کا قتل ِعام کیا۔ یروشلم کی گلیوں میں خون کی ندیاں بہ نکلیں۔اُس نے ہیکل سیلمانی کو جلادیا اور شہر کو زمین کے برابر کر دیا۔ مالِ غنیمت اور بچے کھچے یہودیوں کو اپنے ساتھ بابل لے گیا‘ جن کی تعداد پچاس ہزار بتائی جاتی ہے۔
یہ یہود کی پہلی تباہی تھی۔ اس تباہی میں نہ صرف ہیکل سلیمانی کا نشان مٹ گیا بلکہ دیگر صحائف کے ساتھ تورات اور تابوتِ سکینہ بھی غائب ہوگیا۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ بابل میں یہودی غلاموں کو دریائے فرات کے کنارے آباد کیا گیا اور انہوں نے اس بستی کا نام’’تل ابیب‘‘رکھا۔ اسرائیل کا موجودہ دارالحکومت’’تل ابیب‘‘اسی دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔
اس کے بعد فارسیوں نے عراق‘ شام اور بابل پر قبضہ کیا تو ۵۳۹ ق م میں ایرانی حکمران ’’کوروش‘‘(Cyrus)نے یہودیوں کو یروشلم جانے کی اجازت دی۔ تقریباً۵۰ ہزار یہودی بیت المقدس آگئے جبکہ اکثر عراق (بابل) ہی میں رہ گئے۔
۶۶ء میں رومی سلطنت کے خلاف یہودیوں کی بغاوت کی وجہ سے انہیں تھوڑے عرصے کے لیے آزادی مل گئی‘ لیکن یہ بغاوت ناکام ہوگئی‘ اور۸۰ء میں رومی حکمران طیطس (Titus) نے بیت المقدس پر حملہ کرکے یہودی بغاوت کو کچل دیا۔ ہیکل سلیمانی دوسری مرتبہ جل کر راکھ ہوگیا۔ ایک لاکھ سے زائد یہودی قتل ہوئے اور ایک لاکھ کے قریب غلام بنائے گئے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان آیات میں پہلے وعدے سے مراد بخت نصر کی طرف سے مسلط ہونے والی تباہی ہے اور وَعْدُ الْاٰخِرَة سے مراد رومی بادشاہ ٹائٹس کی چڑھائی ہے جس نے مسجد(ہیکل) بلکہ پورے شہر کو تباہ کر دیا تھا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ دونوں نہیں‘ بلکہ یہود کے فساد پھیلانے اور ترقی کرنےکے ان وعدوں کا تعلق اس اُمّت سے ہے کیونکہ رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے انہوں نے متعدد مرتبہ فساد پھیلایا ‘ جس کی سزا انہیں دی گئی اور اس جگہ پر اس دور کا ذکر ہے جب ان کا واسطہ اس اُمّت سے پیش آیا۔ اس لیے اس سورت کی ابتدا میں’’ اِسراء‘‘ کا ذکر کیا گیا جو مسجد حرام سے بیت المقدس تک کے خطے کی اس اُمّت کے حق دار ہونے کی ایک دلیل ہے۔ پھر بیت المقدس کو قبلہ بنا کر اسے مزید مؤکد بنادیا گیا‘ اور اس حق میں جھگڑا کرنے والے بنی اسرائیل کا ذکر کیا گیا جس کی بنیاد ارضِ مقدسہ بننے والی تھی۔ جدید مفسرین میں علامہ متولی شعراوی رحمہ اللہ نے بھی اس کو ترجیح دی ہے کہ یہ فساد اس اُمّت کے دور میں رونما ہونے والے ہیں:
وهذه التفسيرات علی أنَّ الفَسَادَينِ سَابِقَانِ للإسلامِ، والأولیٰ أن نَقُولَ إِنَّهُمَا بعدَ الإسلامِ، وسَوفَ نَجِدُ فِي هذا رَبطًا لقصة بني إسرائيل بسورة الإسراء. (تفسير الشعراوي، ص۸۳٥)
’’یہ تمام تفسیرات اس پر مبنی ہیں کہ یہ دونوں فساد اسلام سے پہلے گزر چکے ہیں‘ لیکن بہتر یہ ہے کہ ہم یوں کہیں کہ یہ دونوں اسلام کے ظہور کے بعد ہیں۔ اس صورت میں ہمیں بنی اسرائیل کے قصے کا سورۃ الاسراء کے ساتھ ربط بھی سمجھ میں آجائے گا۔ ‘‘
مصر سے تعلق رکھنے والے شیخ عبد المعز عبد الستار رحمہ اللہ کی بھی یہی رائے تھی‘ جو مجلہ ’’الأزهر‘‘میں جمادی الآخرہ ۱۳۷۶ھ میں شائع ہو چکی ہے۔ نیز کئی دوسرے عرب محققین بھی اس تفسیر کے راجح ہونے کے قائل ہیں۔
سورۃ الاسراء کی ان آیات میں یہود کے ساتھ کیے گئے وعدوں کے متعلق چند باتیں قابلِ غور ہیں۔
پہلی مرتبہ کے فساد پر اللہ تعالیٰ نے جن لوگوں کو یہودیوں پر مسلط کرنے کی دھمکی سنائی ہے‘ اُن کے بارے میں مذکور ہے کہ:
{فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ اُوْلٰىہُمَا بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّـنَــآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِط وَکَانَ وَعْدًا مَّفْعُوْلًا(۵) } (الإسراء)
’’چنانچہ جب ان دو واقعات میں سے پہلا واقعہ پیش آیا تو ہم نے تمہارے سروں پر اپنے ایسے بندے مسلط کر دیے جو سخت جنگجو تھے‘ اور وہ تمہارے شہروں میں گھس کر پھیل گئے۔ اور یہ ایک ایسا وعدہ تھا جسے پورا ہو کر رہنا تھا۔‘‘
جن بندوں کو یہود پر مسلط کرنے کی دھمکی دی گئی اُن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے عِبَادًا لَّنَا فرمایا یعنی’’ہمارے اپنے بندے‘‘‘ اور ان کے لیے’’بعث‘‘کا صیغہ استعمال کیا گیا جو عموما ً انبیاء علیہم السلام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی یہ بندے مسلمان ہوں گے‘ اور ایک دینی جذبے سے یہاں آئیں گے۔ جس طرح سورت کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کے لیے عَبْدِه کہہ کر اعزاز و تکریم فرمائی‘ اسی طرح ان آیات میں بنی اسرائیل کے اوپر مسلط ہونے والے بندے بھی’’اللہ کے بندے‘‘یعنی نیک ہوں گے۔ بخت نصر سمیت ماقبل اسلام انہیں تہ تیغ کرنے والے سارے دشمن کافر تھے‘ کیونکہ اُس وقت دینِ حق کے حاملین صرف یہودی یا عیسائی تھے‘ البتہ یہ اپنے دین پر پوری طرح عمل پیرا نہیں تھے۔ شیخ متولی شعراوی رحمہ اللہ نے اس استدلال کا بھی جواب دیا ہے کہ ’’عبد ‘‘کا لفظ مومن و کافر دونوں پر بولا گیا ہے۔
پہلے دشمن کے بارے میں یوں فرمایا ہے کہ’’وہ تمہارے گھروں میں گھس کر پھیل گئے‘‘جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دشمن یہودیوں کی آبادی میں گھس کر انہیں سزا دے گا جبکہ آبادی اور تعمیرات باقی رہنے دی جائیں گی۔ بخت نصر اور رومی بادشاہ ٹائٹس نے تو پورے شہر کو تاراج کر دیا تھا‘ اور یہاں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی‘ جس میں بیت المقدس کی پوری عمارت بھی منہدم ہوگئی تھی۔
اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود کو فرمایا:
{ثُمَّ رَدَدْنَا لَـکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْہِمْ وَاَمْدَدْنٰـکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَجَعَلْنٰـکُمْ اَکْثَرَ نَفِیْرًا(۶) } (الاسراء)
’’پھر ہم نے تمہیں یہ موقع دیا کہ تم پلٹ کر اُن پر غالب آؤ‘ اور تمہارے مال و دولت اور اولاد میں اضافہ کیا‘ اور تمہاری نفری پہلے سے زیادہ بڑھادی۔‘‘
یعنی جس دشمن نے تمہیں گھروں میں گھس کر مارا تھا انہی لوگوں پر ہم نے تمہیں غلبہ دیا‘ نیز تمہاری نفری بھی بڑھائی‘ اور بعد میں وہی دشمن دوبارہ طاقت وَر بن کر تمہارے چہروں کو سیاہ کرڈالیں گے۔ بخت نصر کی غلامی میں ستر سال رہنے کے بعد ایرانی بادشاہ سائرس نے بابل پر حملہ کرتے ہوئے اسے فتح کیا اور یہودیوں کی حالت زار پر رحم کرتے ہوئے ان کو آزاد کر کے دوبارہ فلسطین میں بسا دیا۔ یہودیوں کو بخت نصر یا ایرانی بادشاہ یا ان کی نسل پر غلبہ نہیں ملا‘ نہ ہی ان کی نفری کبھی اتنی بڑھی تھی جتنی آج ہے۔اس سے واضح ہوا کہ دونوں مرتبہ کے فساد اور اس کے ساتھ بڑی برتری اور غلبہ اس اُمّت کے دور میں ہوگا۔
اس لیے راجح یہی ہے کہ یہودیوں کا پہلا فساد رسول اللہ ﷺ کے دور میں ہوا۔ یہودیوں نے مدینہ میں مسلمانوں اور اللہ کے آخری نبی ﷺ کے خلاف سازشیں کیں‘ مشرکینِ مکّہ سے خفیہ ساز باز کر کے اُن سے تعاون کیا‘ بلکہ رسول اللہ ﷺ کو شہید کرنے کی کوشش کی‘ جس کی وجہ سے یہود کو پہلے مدینہ سے نکالا گیا اور پھر خیبر سے بھی۔ اللہ کے رسولﷺ اور ان کے صحابہ جو اللہ کے مقبول بندے تھے‘ جہاد کرتے ہوئے یہودیوں کی آبادی میں گھس گئے‘ بنو قریظہ کو قتل کر دیا ‘ ان کے بچوں کو غلام بنایا گیا‘ اور بنو نضیر کو شام کی طرف جلاوطن کر دیا گیا۔
سورۃ الاسراء کی اس آیت میں مسجد کا ذکر بھی اسی وجہ سے نہیں ہے بلکہ صرف گھروں کا تذکرہ ہے‘ کیونکہ یہ پہلے فساد کی سزا تھی‘ اور وعد المرة الأولیٰ ہے‘جب اللہ نےان پر اہلِ مدینہ کو بھیجا تھا جو سخت جنگجو تھے۔ اس کی پیشین گوئی اللہ تعالیٰ نے پہلے فرمادی تھی‘ جس پر دلیل لفظ ’’اِذَا‘‘ ہے‘ جو مستقبل کے لیے وضع کیا گیا ہے۔ نیز لفظ’’وعد‘‘بھی مستقبل کے لیے استعمال ہوتا ہے نہ کہ ماضی کے لیے۔ مسجد میں پہلی بار کے دخول کا وعدہ بعد میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں پورا ہوگیا۔
پہلے فساد اور اس کی سزا کے وعدے کے بعد یہودیوں کو زمین میں ایسی برتری مل گئی جس کا واضح منظر ہمارے سامنے ہے کہ بہت سے عالمی اداروں کے مالکان اور دنیا کی سیاست کو کنٹرول کرنے والی شخصیات یہودی یا صہیونی ہیں۔ عالمی معیشت‘ سیاست‘ میڈیا میں یہودی چھائے ہوئے ہیں۔ غزہ کی تازہ صورت حال بھی یہ واضح کرنے کے لیے کافی ہے کہ عیسائی دنیا اور عالم عرب بلکہ چند ایک استثنائی صورتوں کو چھوڑ کر عالم اسلام کا برسراقتدار طبقہ ان کی مٹھی میں ہے۔ اربوں مسلمانوں کی نظروں کے سامنے غزہ کو تباہ کیا جارہا ہے جبکہ کوئی کچھ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ یہودیوں کی تعداد دنیا بھر میں تقریبا ًڈیڑھ کروڑ ہوچکی ہے جو ان کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔ انہیں وعدے کی سرزمین میں قدم جمانے کا موقع بھی مل چکا ہے جہاں انہوں نے ریاست قائم کی ہے۔ شاید یہ اس آیت کا واضح مصداق ہے۔
{ثُمَّ رَدَدْنَا لَـکُمُ الْکَرَّۃَ عَلَیْہِمْ وَاَمْدَدْنٰـکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَجَعَلْنٰـکُمْ اَکْثَرَ نَفِیْرًا(۶) } (الإسراء)
’’ پھر ہم نے تمہیں یہ موقع دیا کہ تم پلٹ کر اُن پر غالب آؤ‘ اورتمہارے مال و دولت اور اولاد میں اضافہ کیا‘ اور تمہاری نفری پہلے سے زیادہ بڑھا دی۔ ‘‘
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ لِیَسُوْٓئٗ ا وُجُوْہَکُمْ وَلِیَدْخُلُوا الْمَسْجِدَ کَمَا دَخَلُوْہُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّلِیُتَبِّرُوْا مَا عَلَوْا تَتْبِیْرًا(۷) } (الإسراء)
’’چنانچہ جب دوسرے واقعے کی میعاد آئی (تو ہم نے دشمنوں کو تم پر مسلط کر دیا) تاکہ وہ تمہارے چہروں کو بگاڑ ڈالیں‘ اور تاکہ وہ مسجد میں اُسی طرح داخل ہوں جیسے پہلے لوگ داخل ہوئے تھے‘ اور جس جس چیز پر اُن کا زور چلے اُس کو تہس نہس کر کے رکھ دیں۔‘‘
دوسرے واقعے کو وَعْدُ الآخرة کہا گیا کہ جب اس کے پورا ہونے کا وقت آئے گا تو ایک بار پھر کچھ لوگ آکر یہود کو اُن کے کیے کی سزا دیں گے۔ وہ یہود کے چہروں کوبگاڑ دیں گے۔ یہ لوگ بھی اسی طرح مسجد میں داخل ہوجائیں گے جس طرح پہلے لوگ مسجد میں داخل ہوئے تھے۔ اِن لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے مستقل کوئی لفظ ذکر نہیں کیا ہے بلکہ ضمیر لانا کافی سمجھا‘ گویااس مرتبہ کے لوگ بھی پہلی قسم کے ہوں گے یا ان جیسے لوگ ہوں گے۔ گویا دونوں مرتبہ یہود کے ساتھ لڑائی صرف ایک ہی اُمّت کی ہوگی اور وہ مسلم اُمّت ہوگی۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ مسجد اس اُمّت کے ساتھ مخصوص عبادت گاہ ہے‘ اور اس کا یہاں پر ذکر بھی یہ راجح قرار دیتا ہے کہ ان دونوں فسادوں کا وقت اس اُمّت کے دور میں ہوگا۔
اس فساد کی سزا یہودیوں کو بالکل آخری زمانے میں حضرت امام مہدی کے دور میں دی جائے گی‘ جب مسلمانوں کو مسجد ِاقصیٰ پر بالادستی حاصل ہوجائے گی اور القدس دارالخلافہ بن جائے گا۔ ثُمَّ کی دلالت بھی یہ بتلا رہی ہے کہ دوسری بار کا فساد کچھ وقفے کے بعد ہوگا۔ بالفور کے وعدے سے ان کے عالمگیر فساد فی الارض کی ابتدا ہوئی اور انتہا حضرت امام مہدی کے دور میں ہوگی۔ چنانچہ حضرت امام مہدی کے بارے میں واضح روایات موجود ہیں کہ آپ کا دارالخلافہ بیت المقدس ہوگا‘ اور یہ یہودیوں کو یہاں سے نکالے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔ بیت المقدس کی پاک سرزمین ان سے پاک کر دی جائے گی۔
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن حوالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا تھا:
((يَا ابنَ حَوَالَةَ! إِذَا رَأَيتَ الخِلَافَةَ قَدْ نَزَلَتِ الأَرْضَ المُقَدَّسَةَ فَقَدِ اقْتَرَبَتِ الزَّلَازِلُ وَ البَلَابِلُ والأُمُورُ العِظَامُ، والسَّاعَةُ يَومَئِذٍ أَقرَبُ إِلَی النَّاسِ مِنْ يَدِيْ هٰذِه مِنْ رَأْسِكِ.))(أبو داود‘ كتاب الجهاد)
’’اے ابن حوالہ! جب تم دیکھو کہ خلافت ارضِ مقدسہ (بیت المقدس) میں آگئی ہے تو زلزلے‘ مصیبتیں اور عظیم الشان امور بہت قریب آچکے ہوں گے‘تب قیامت اس سے زیادہ قریب ہوگی جتنا میرا ہاتھ تمہارے سر کے قریب ہے۔‘‘
روایات سے وضاحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ آخر زمانے میں ایک بار پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہوگی اور ایسا حضرت امام مہدی کے ذریعے ہو گا۔ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ارشادہے:
المَهدِيُّ مَولِدُه بِالمدينة مِنْ أَهلِ بيتِ النبيِّﷺ واسمُه اسمي، ومُهَاجَرُه بيتُ المَقدِس. (رواه نعيم بن حماد في كتاب الفتن)
’’ امام مہدی کی ولادت مدینہ میں ہوگی‘ آپ نبی ﷺ کے اہلِ بیت میں سے ہوں گے‘ آپ کا نام میرے نام کی طرح ہوگا‘ اور آپ کی ہجرت کی جگہ بیت المقدس ہوگی۔ ‘‘
اس بارے میں چند باتیں قابلِ غور ہیں۔
مذکورہ بالا آیت کو اگر اسی سورت کی آیت ۱۰۳‘ ۱۰۴ کے ساتھ ملائیں تو اس کی تفسیر بہت واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{فَاَرَادَ اَنْ یَّسْتَفِزَّہُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰـہُ وَمَنْ مَّعَہٗ جَمِیْعًا (۱۰۳) وَّقُلْنَا مِنْ بَعْدِہٖ لِبَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ اسْکُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآئَ وَعْدُ الْاٰخِرَۃِ جِئْنَا بِکُمْ لَفِیْفًا(۱۰۴) } (الإسراء)
’’پھر فرعون نے یہ ارادہ کیا تھا کہ ان سب (بنو اسرائیل) کو اس سرزمین سے اکھاڑ پھینکے‘ لیکن ہم نے اُسے اور جتنے لوگ اُس کے ساتھ تھے‘ اُن سب کو غرق کر دیا ۔ اور اس کے بعد بنو اسرائیل سے کہا کہ: تم زمین میں بسو‘ پھر جب آخری وعدہ پورا ہونے کا وقت آئے گا تو ہم تم سب کو جمع کر کے حاضر کردیں گے۔‘‘
فرعون کی خواہش تھی کہ بنی اسرائیل کو مصر کی سرزمین سے نکال باہر کردے تاکہ اُس کی ساری رکاوٹیں دور ہوں‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو پانی میں غرق کر دیااور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو نجات دی‘ بلکہ انہیں فرعون اور اس کی قوم کے چھوڑے ہوئے مال و دولت کا وارث بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے یوں فرمایا: ’’زمین میں رہو‘ البتہ جب آخری وعدے کا وقت آجائے گا تو ہم تم سب کواکٹھے کر کے لے آئیں گے۔ ‘‘
اِس آخری وعدے سے متعدد مفسرین نے آخرت کا وعدہ مراد لیا ہے‘ یعنی دنیا میں جتنا عرصہ رہو اس کے بعد آخرت میں اللہ تم سب کو زندہ کر کے لے آئے گا۔ لیکن جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا‘ وعدُ الاٰخرة سے مراد آخرت کا وعدہ نہیں بلکہ یہ حضرت امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے وقت پورا ہوگا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے وعدے کو’’آخری وعدہ‘‘قرار دیا ہے‘ یعنی اُنہیں اس کے بعد کسی قسم کے فساد کا موقع نہیں ملے گا بلکہ یہی سزا دنیا میں اُن کا آخری انجام ہوگا۔ اگر اس کی بجائے’’الاخيرة‘‘کہا جاتا تو اُس میں یہ احتمال ممکن تھاکہ ایک بار پھر یہ کوئی فساد پھیلادیتے۔
اس لیے بہت سے مفسرین نے اس وعدے سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول لیا ہے‘ جیسا کہ محی السنۃ علامہ ابو محمد الحسین بن مسعود البغوی (المتوفی ۵۱۶ھ) کی تفسیر بغوی میں اسی آیت کے ذیل میں درج ہے:
فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الآخِرَةِ يعني يوم القيامة جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا.... وقال الكلبي: فإذا جاء وعد الآخرة يعنی مجيئ عيسی من السماء جئنا بكم لفيفا أي النزاع من كل قوم‘ من هاهنا و من هاهنا لفوا جميعا (تفسير البغري)
’’ جب آخرت یعنی قیامت کا وعدہ آئے گا تو ہم تم کو اکٹھا کرکے لائیں گے۔ کلبی کا قول ہے کہ: جب آخری وعدہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان سے نزول ہوگا تو ہم تم کو اکٹھا کرکے لائیں گے‘ یعنی ہر قوم سے کھینچ کر لائیں گے‘ یہاں سے اور وہاں سے‘ سب کو اکٹھا کریں گے۔ ‘‘
بہت وضاحت کے ساتھ اس منظر کا تذکرہ ہے کہ یہودی دنیا کے مختلف خطوں سے کھنچے چلے آرہے ہیں اور وعدئہ آخر کا وقت پورا ہونے والا ہے۔
علامہ ابو منصور ماتریدی رحمہ اللہ کی تفسیر تاویلات اھلِ السُّنَّۃ میں بھی یہ قول ذکر کیا گیا ہے:
وقال بعضهم {اسكنوا الأرضَ} ليس في أرض دون أرض ولکن اسكنوا أي أرض شئتم مشارقها و مغاربها، آمنين لا خوف عليكم علی ما أرادوا أن يخرجوكم من مشارق الأرض ومغاربها بالقتل كقوله:{واورثنا القوم الذين كانوا....}وهو قول ابن عباس رضي الله عنهما‘ وعلی هذا قال في قوله {فإذا جاء وعد الاٰخرة} بعث عيسی بن مريم {جئنا بكم لفيفا} أي جميعا مجتمعين من مشارق الأرض و مغاربها علی ما تفرقوا، وقال بعضهم {فإذا جاء وعد الآخرة} يعني حياة عيسی و نزوله من السماء {جئنا بكم لفيفا} أي جميعا بانتزاع من القری هاهنا و هاهنا لفوا جميعا و هو مثل الأول. (تفسير الماتريدي)
’’بعض کا قول ہے کہ اسکنوا الارض کا معنی یہ نہیں ہے کہ ایک جگہ رہو دوسری جگہ نہ رہو‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین میں جہاں کہیں رہنا چاہو رہو‘ مشرق ہو یا مغرب۔ امن کے ساتھ کسی خوف کے بغیر‘ جبکہ اس سے پہلے یہ خوف لاحق تھا کہ فرعونی تمہیں قتل کرکے مشرق و مغرب سے نکال رہے تھے۔ جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے اس قوم کو (زمین کا) وارث بنایا جنہیں کمزور سمجھا جاتا تھا۔ اور یہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے۔ اس قول کے مطابق انہوں نے فرمایا کہ وعد الاٰخرۃ سے مراد یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ بھیجنے کا وقت آئے گا‘ تو ہم تم سب کو مشرق و مغرب سے اکٹھا کریں گے‘ جیسا کہ تم اس سے پہلے منتشر تھے‘ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ: جب آخری وعدہ آئے گا‘ اس سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور آسمان سے نزول ہے‘ تو ہم تم سب کو اکٹھا کر کے لائیں گے‘ یعنی ادھر اُدھر کے سب علاقوں سے اکٹھا کریں گے۔ یہ قول بھی پہلے قول جیسا ہے۔ ‘‘
علامہ ابو الحسن علی بن محمد بن حبیب ماوردی رحمہ اللہ نے بھی اپنی تفسیر النکت والعیون میں یہ قول نقل کیا ہے:
{فإذا جاء وعد الآخرة} فيه ثلاثة أقاويل: أحدها وعد الإقامة، و هي الكرة الآخرة، قاله مقاتل، الثاني: وعد الكرة الآخرة في تحويلهم إلی أرض الشام‘ الثالث: نزول عيسی علیہ السلام من السماء، قاله قتادة. {جئنا بكم لفيفا}، فيه تأويلان: أحدهما مختلطين لا تتعارفون، قاله رزين، الثاني: جئنا بكم جميعا من جهات شتی، قاله ابن عباس و قتادة، مأخوذ من لفيف الناس. (تفسير الماوردي ص ۲۷۸)
’’جب آخری وعدے کا وقت آئے گا‘‘ اس کی تفسیر میں تین قول ہیں: پہلا قول یہ ہے کہ اس سے مراد لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنا ہے‘ یہ قول مقاتل کا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ وعدئہ آخرہ سے مراد ان یہودیوں کو شام کی جانب پھیرنا ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد آسمان سے نزول عیسیٰ علیہ السلام ہے‘ یہ قول قتادہ کا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کہ’’ہم تمہیں اکٹھا کرکے لائیں گے‘‘اس کی دو تفسیریں کی گئی ہیں: کہ تم ایسے خلط ملط ہوجاؤگے کہ ایک دوسرے کو نہیں پہچانوگے‘ یہ قول رزین کا ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ ہم تم سب کو مختلف اطراف سے لے کر آئیں گے‘ یہ قول ابن عباسؓ اور قتادہؒ کا ہے۔ ‘‘
اس سورت کے شروع میں بھی بنی اسرائیل کے ساتھ دو وعدے فرمائے گئے تھے۔ پہلے وعدے کو وَعْدُ اُوْلٰىہُمَا کہا گیا اور دوسرے کو وَعْدُ الْاٰخِرَةِ کہا گیا ہے‘ یعنی آخری وعدہ ‘اور یہاں بھی اُسے وَعْدُ الْاٰخِرَةِ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اصولِ تفسیر کے مشہور قاعدے القرآن يفسِّر بعضُه بعضا (قرآن کی ایک آیت دوسری آیت کی تفسیر کرتی ہے)کے مطابق آخر ِسورت اوّلِ سورت کی تائید کرتی ہے۔
سیاق و سباق کے مناسب بھی یہی معنیٰ ہے‘ کہ جب فرعون جیسے ظالم نے بنی اسرائیل پر قسم قسم کے مظالم کیے اور ان کا بالکلیہ خاتمہ کرنا چاہا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو غرق کردیا۔بنی اسرائیل کو نہ صرف اُن جگہوں کا وارث بنایا بلکہ اُنہیں پوری زمین میں بقا اور سکونت کا احسان یاد دلایا۔ آیت کے آخری حصے میں اسی بقا کی انتہا بتلائی گئی ہے‘ یوں سورت کی ابتدا سورت کی انتہا کے مناسب ہوگئی کہ یہ آخری وعدہ ہے۔ جس طرح یومِ آخرت کو آخرت اس لیے کہتے ہیں کہ وہ آخری دن ہے اُس کے بعد کوئی دوسرا دن نہیں ‘ اسی طرح یہ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ اس لیے ہے کہ اس کے بعد تمام یہودیوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔
اس دوسرے وعدے کے لوگ بھی وہی ہوں گے جو پہلے وعدے کے تھے‘ یعنی مسلمان۔ البتہ اس مرتبہ یہودیوں کے چہرے سیاہ کر دیے جائیں گے‘ یعنی انتہائی ذلت و رسوائی کا عذاب دیا جائے گا‘ جس کا اثر ان کے چہروں پر ظاہر ہوجائے گا‘ اور اس مرتبہ بھی فاتح لوگ مسجد میں داخل ہوجائیں گے جس طرح پہلی مرتبہ داخل ہوئے تھے۔ پہلی مرتبہ مسلمان حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورمیں بیت المقدس میں داخل ہوگئے تھے‘ اور دوسری بار حضرت امام مہدی کے زمانے میں داخل ہوں گے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں مسجد ِاقصیٰ عیسائی قبضے میں تھی‘ یہودیوں کے قبضے میں نہیں تھی۔ یہ کوئی ضروری نہیں کہ پہلے فساد کے وقت مسجد یہود کے قبضے میں ہو‘ کیونکہ مسجد کا ذکر آخری وعدے میں ہے{كَمَا دَخَلُوْهُ اَوَّلَ مَرَّةٍ } لیکن اس دوبارہ داخلے کو پہلے داخلے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ پہلے وعدے میں صرف گھروں میں داخل ہونے کی پیشین گوئی کی گئی ہے‘ اُس وقت اُن کے گھر مدینہ میں تھے‘ اور مسلمان اُن کے گھروں میں گھس گئے تھے۔ یہودیوں کے پہلے فساد کے بعد مسلمان مسجد اقصیٰ میں داخل ہوئے اور پُر امن انداز میں داخل ہوئے۔ یہودیوں کے’’آخری وعدے‘‘کے وقت بھی وہ اُسی فاتحانہ شان سے ایک بار پھر مسجد میں داخل ہوں گے۔ گویا مسجد میں پہلا داخلہ یہودیوں کے خلاف پہلی فتح اور پہلے وعدے سے الگ تھا۔ یہود کے ساتھ کیے گئے آخری وعدے کی بنیاد ہی’’مسجد‘‘ہوگی‘ کیونکہ اب کے بار یہودی قبلۂ اوّل پر غاصبانہ طور پر قابض ہوچکے ہیں۔ اس لیے پہلے وعدےمیں اس کاذکر نہیں ہےلیکن آخری وعدے میں ہے۔
اسلامی تاریخ کے اس پورے عرصے میں یہودی جس طرح بیت المقدس پر غاصبانہ طور پر قابض ہوچکے ہیں اور انہوں نے وہاں کے مسلمانوں کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے‘ اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان کا مقصد مسجد کو شہید کرکے اس کی جگہ ہیکل سلیمانی کے نام سے دجالی مرکز بنانا ہے۔ خدا کبھی یہ دن نہ دکھائے! اللہ تعالیٰ کے اس مقدس گھر سے ممانعت اور ویرانی کی کوشش ایسا فساد ہے جس پر اللہ انہیں ضرور سزا دے گا۔ ازروئے الفاظِ قرآنی:
{وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْہَا اسْمُہٗ وَسَعٰی فِیْ خَرَابِہَاط اُولٰٓئِکَ مَا کَانَ لَہُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْہَآ اِلَّا خَآئِفِیْنَ ط لَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّلَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۱۱۴)}(البقرۃ)
’’اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں پر اس بات کی بندش لگا دے کہ ان میں اللہ کا نام لیا جائے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے۔ ایسے لوگوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ان (مسجدوں) میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے۔ ایسے لوگوں کے لیے دنیا میں رسوائی ہے‘ اور انہی کو آخرت میں زبردست عذاب ہوگا۔‘‘
’’تفسیر طبری‘‘ میں ابن جریر طبریؒ نے سورۃ البقرۃ کی اس آیت کےذیل میں لکھا ہے:
أما خِزيُهُم في الدّنيا فَإِنَّه إِذَا قَامَ المَهدِيُّ قَتَلَهُمْ وأَسَرَهُمْ وسَبَاهُمْ كَذٰلِكَ الخِزي.
’’ان کی رسوائی دنیا میں اس وقت ہوگی جب امام مہدی کا ظہور ہوگا‘ تو وہ انہیں قتل کریں گے‘ قید کریں گے‘ اور غلام بنائیں گے‘ یہی ان کی رسوائی ہوگی۔‘‘
مزید یہ خبر بھی دی کہ یہ لوگ اُس ترقی کو بھی زیر و زبر کردیں گے جو یہودیوں نے حاصل کررکھی تھی۔ اس سے اس جانب بھی اشارہ کر دیا گیا کہ دوسرے وعدے کا وقت وہی ہے جب یہودی انتہائی عروج حاصل کر لیں گے اور اللہ تعالیٰ کے موعودہ عُلوّ تک پہنچیں گے۔ موجودہ زمانہ اس کی تصدیق کرتا ہے‘ کہ یہودی کھلم کھلا اور درپردہ اپنے سازشی منصوبوں کے ذریعے دنیا پر چھائے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی صورت میں (اِس اُمّت کے دور میں) پہلی بار انہیں ایک ریاست مل چکی ہے‘ جسے آباد کر کے انہوں نے عروج اور ترقی حاصل کر رکھی ہے۔ یہ ساری برتری حضرت امام مہدی کی خلافت کے ذریعے ہی ختم ہوگی۔
اگر اس آیت (۱۰۳) میں وَعْدُ الْاٰخِرَة سے مراد یومِ قیامت لیں تو یہ اس آیت کے خلاف ہے جس میں مذکور ہے کہ قیامت کے دن سارے انسان اکیلے ہی اپنے رب کی جانب آئیں گے‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰی کَمَا خَلَقْنٰکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ} (الانعام:۹۴)
’’تم ہمارے پاس اسی طرح تنِ تنہا آؤگے جیسے ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا۔‘‘
جبکہ سورۃ الاسراء کی مذکورہ آیت میں جميعًا کا لفظ ہے جس کا معنیٰ علامہ ماتریدیؒ نے مجتمعين سے کیا ہے۔اس کا واضح مصداق آخری زمانے میں یہود کا گروہ در گروہ فلسطین میں آنا ہے‘ جبکہ ان پر ایک طویل دور حضرت موسیٰ علیہ السلام ے بعد ایسا گزر چکا تھا کہ یہ زمین میں بکھرے ہوئے تھے‘ اور ان کی کوئی ریاست نہیں تھی‘ جیسا کہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
{وَقَطَّعْنٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًاج} (الأعراف:۱۶۸)
’’اور ہم نے دنیا میں ان کو مختلف جماعتوں میں بانٹ دیا۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے لیے زمین کے کسی خطے کو خاص نہیں کیا تھا لہٰذا یہ پوری زمین میں دربدر پھرتے رہے تھے۔ اس کے بعد یہ فلسطین میں آنا شروع ہوگئے‘ اور اپنے لیے ’’ریاست‘‘ بنا کر قوت اور بلندی حاصل کی جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا۔
البتہ حضرت امام مہدی کے دورِ خلافت کے آخر میں جب دجال کا خروج ہوگا تو وہ پوری دنیا میں گھومے گا لیکن مکہ و مدینہ کے ساتھ بیت المقدس بھی اس کی دست برد سے محفوظ رہے گا۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دجال کے بارے میں فرمایا:
((مَا شُبِّهَ عَلَيكُم فَإِنَّ اللّٰهَ عزَّوجَلَّ لَيسَ بِأَعوَرَ، يخرُجُ فَيَكُونُ فِي الأَرضِ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا، يَرِدُ مِنْهَا كُلَّ مَنهَلٍ إلَّا الكَعبَةَ وبَيتَ المَقدِسِ والمَدِينَةَ.)) (رواه الطبراني)
’’ یہ تمہارے اوپر مشتبہ نہیں ہونا چاہیے‘ کیونکہ (یہ کانا ہے‘ اور) اللہ عز ّو جل یک چشم نہیں ہے۔ یہ جب خروج کرے گا تو زمین میں اس کی زندگی چالیس دن باقی رہی ہوگی‘ یہ ہر جگہ اترے گا‘ سوائے کعبہ‘ بیت المقدس اور مدینہ کے۔ ‘‘
جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کا وقت ہوگا تو دجال حضرت امام مہدی اور ان کے ساتھیوں کا بیت المقدس میں محاصرہ کیے ہوئے ہوگا۔ ایسے وقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نزول فرمائیں گےاور دجال کا خاتمہ کرکے تمام یہودیوں کو قتل کریں گے۔ یہی وہ وقت ہوگا جب یہودیوں کے فساد سے زمین پاک کر دی جائے گی۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026