(یادِ رفتگاں) ڈاکٹر اسرار احمدؒ : فِیْ ذِمَّۃِ اللّٰہِ - محمد زکریا خان

8 /

ڈاکٹر اسراراحمدؒ:فی ذِمۃِ اللہمحمد زکریا خان

آپ کو اگر ڈاکٹر صاحب کی رہائش گاہ پر جانے کا اتفاق ہو تو ایک چیز جو اس نابغۂ روزگار ہستی کے مکان کے درو دیوار سے چھلکتی ہو ئی آپ محسوس کریں گے وہ ہے سادگی۔ صاحب خانہ کے دل کی طرح ! یہاں ’’سیٹ‘‘نام کا کوئی تکلف نہیں ملے گا۔ فرانس کا واٹر سیٹ ‘ ماربل کا ڈنر سیٹ‘ ٹی سیٹ‘فلاں سیٹ ۔ ڈاکٹر صاحب کی ہستی ایک ہی انمول سیٹ سے عبارت تھی: بندگی رب‘ دعوت و تبلیغ اور اقامت دین۔
عمر بھر کوئی جائیداد نہ بنائی۔لاہور کے علاقے کرشن نگر میں ایک رہائشی مکان تھا جسے بیچ کر ماڈل ٹاؤن میں ایک مکان بنایا‘وہ بھی زندگی ہی میں اولاد کے نام کر گئے۔نامہ ٔ اعمال میں ایک ہی چیز ساتھ لے گئے: اسلام!بینک والے ہمیشہ کڑھتے ہی رہے کہ چند روپوں کے لیے وہ اکاؤنٹ کو آخر کیوں برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ روپیہ نہ پیسہ ‘جائیداد نہ بینک بیلنس‘ شیئرز نہ کاروباری شراکت۔ کہنے کو ڈاکٹر تھے‘وہ بھی کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے فارغ التحصیل۔ پریکٹس کی مگر دل کو قرار نہ آیا۔ فرماتے تھے جس خدا کے دین کی عبادت اور دعوت کے لیے انسان پیدا ہوا ہے یہ اس میں مانع ہے۔معاشی مصروفیات سے تھک ہار کر مَیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے کلام سے بھلا کیا اخذ کر پاؤں گا! کتاب اللہ کو ہاتھ لگانا ہے تو بھر پور توانائی کے ساتھ لگاؤ۔ قرآن کے ساتھ یہی عقیدت آپ کو تنظیم کے وابستگان میں بھی نظر آئے گی۔ ایک دو نہیں سینکڑوں نے خدا کے دین کے لیے اپنے آپ کو وقف کیا۔
رائج الوقت سیاست میں کبھی حصّہ نہ لیا۔اسے جاگیر داروں اور سرمایہ داروں کا کھیل سمجھتے تھے اور اسلامی انقلاب میں بڑی رکاوٹ۔ اس لیے ہمیشہ سیاست سے کنارہ کش رہے‘ سوائے وہ دو ماہ جوجنرل ضیاءالحق کی مجلس شوریٰ میں گزارے۔ اسی دور میں انہیں مرکزی وزارت کی پیش کش بھی کی گئی تھی۔ ضیاءالحق کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کا یہ حسنِ ظن تھا‘ جو جلد ہی غلط ثابت ہوا ‘کہ وہ نیک نیت ہیں اور دین اسلام کے لیے کام کرنے میں سنجیدہ ہیں۔
میٹرک کے طالب علم کی ہستی ہی کیا ہوتی ہے:کھلنڈرا پن ‘بے پروائی‘ہنسی مذاق۔ مگر یہاں بلا کی سنجیدگی تھی۔ڈسپلن اور اسلامی بنیادی علوم کا گھر میں والد صاحب کی زیر نگرانی اہتمام۔میٹرک میں ہی ’’پاکستان کا مطلب کیا ؟‘‘کے ایسے کارکن بنے کہ عمر بھر پھراسی کے لیے جدّوجُہدکرتے رہے۔مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی رکنیت اختیار کی تو اسی لیے۔مگر یہاں تو صرف وڈیرا شاہی تھی۔علامہ اقبال کے بعد مولانا مودودی کی آواز نے بہت جلد اس ہونہار طالب علم کو اپنی طرف مائل کر لیا۔فیڈریشن چھوڑکراسلامی جمعیت طلبہ کی رکنیت اختیار کر لی۔تقسیم ہند کے بعد اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے محض محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً آگ اور خون کا دریا پار کر کے اپنے پیارے پاکستان پہنچے۔بیس دن مسلسل پیدل سفر۔خوف و ہراس اور ۱۷۰ میل کی مسافت۔
یہاں خواب تو چکنا چور ہوئے لیکن نوجوانوں کو ایک اَن تھک قائد ضرور میسّر آ گیا ۔ یہاں جو ناامیدی دیکھی گئی ‘اس کا اثر آپ کی زندگی میں بہت نمایاں تھا ‘خصوصاً آخری ایام میں۔
پاکستان کا مسئلہ کیا ہے؟کرپشن ‘ بد عنوانی‘ اقربا پروری‘ نوکر شاہی‘ اشرافیہ کی اجارہ داری‘ مارشل لاء۔ مگر ڈاکٹر صاحب کا ایک ہی جواب تھا: قرآن سے دوری! یہاں تک فرماتے تھے کہ اپنی بد اعمالیوں اور اللہ تعالیٰ سے کیے گئے عہد سے بے اعتنائی برتنے کی وجہ سے مَغْضُوْب عَلَیْہِمْ کا مصداق یہودیوں کی بجائے آج کے مسلمان ہیں۔دین اسلام کے احیاءکے لیے اپنی جوانی تج دی ۔ شب و روز کا مشغلہ صرف قرآن اور قرآن فہمی رہا۔سینکڑوں کو قرآن کے ساتھ شعوری طور پر جوڑا۔صاحب علم و فکر اور انجمن ساز۔دوسروں کو قائل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت۔ جب خطاب کریں تو عامی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ سب یکساں سمجھ لیں ۔ پنڈال میں ایسی خاموشی اور سنجیدگی جیسے سروں پر پرند بیٹھے ہوں۔رعب دار اور گرج دار آواز۔کوئی ابہام نہیں‘ کوئی پیچیدگی نہیں۔الفاظ کا بہترین چناؤ ‘اشعار کا بر محل انتخاب‘بے ساختگی‘تصنع اور بناوٹ سے پاک‘زیر و بم مناسب اورموزوں ۔آخری دم تک گلا صاف رہا اگر چہ کمر کا عارضہ کمر توڑ ثابت ہوا۔
ڈاکٹر اسرار احمد‘اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنّت نصیب فرمائے‘ ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کی نظامت علیا ہو‘ تنظیم اسلامی کی امارت ہویا آخری ایام میں تنظیم کی سرپرستی کا زمانہ ‘ان کی ایک ہی لگن اور جستجو تھی کہ ہر مسلمان ربّ کی عبادت کرنے والا بن جائے۔دین اسلام کا داعی اور مبلغ بنے اور اقامت ِدین کا فریضہ انجام دے۔پاکستان کی تاریخ میں معدودے چند ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے جوانی تا ادھیڑ عمراور پھر پیرانہ سالی میں اپنے نصب العین سے سرِ مو انحراف نہ کیا ہو۔کون ہے جس پر بدلتے حالات اثر انداز نہ ہوئے ہوں‘ پھر بیسویں صدی اور اس سے کہیں بڑھ کر اکیسویں صدی جو ہے ہی بنیادی تصوّرات اور عقائد میں تبدیلیوں کا زمانہ۔اس بے وفا دور میں ایسے وفادار!
مولانا مودودی سے ڈاکٹر اسرار احمد کی جس قدر شدید محبت اور عقیدت تھی وہ سب کو معلوم ہے۔اسلامی جمعیت طلبہ میں شمولیت سے ماچھی گوٹھ (۱۹۵۷ء) میں مولانا سے اختلاف تک ان کی ساری جوانی اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کے لیے وقف رہی۔جن ایام میں طالب علم سے کہا جاتا ہے کہ اپنا ’’کیرئیر‘ ‘بنا لو‘ اُن دنوں ڈاکٹر اسرار آخرت میں کیرئیر بنانے کے لیے فکر مند رہے۔ جمعیت کے لیے دن رات کام کیا۔ تعجب ہوتا ہے کہ ایک طالب علم جو اسلامی جمعیت طلبہ کے لیے ہی جیتا ہے اور صرف اسی کے لیے سوچتا ہے ‘اپنی تعلیمی ڈگری بھی مکمل کر لیتا ہے۔مولانا مودودی نے ہندوستان سے کیسے کیسے ہیرے نکال لیے تھے‘ ڈاکٹر اسرار احمد اس کی ایک مثال ہیں۔ان کے من میں ایک ہی لگن سمائی رہی کہ دعوت و تبلیغ اور اقامت ِدین کی جدّ وجُہد برابر جاری رہے۔علامہ اقبال اگر اس نوجوان مسلم کو دیکھتے تو ضرور اپنی شاعری کی تعبیر قرار دیتے۔
مولانا مودودی سے محبت و عقیدت اور جماعت کے لیے لازوال خدمات اس امر میں مانع نہ ہوئیں کہ جسے وہ حق سمجھیں اس کے لیے پھر انسانی رشتہ و پیوند کو قربان نہ کر سکیں۔جماعت اسلامی کا پاکستان کے انتخابات میں شمولیت کا فیصلہ صرف ڈاکٹر اسرار احمد کے لیے ہی نا قابلِ فہم نہ تھا بلکہ جماعت کی اور بھی اہم شخصیات اس کے بعدجماعت سے الگ ہو گئی تھیں۔ البتہ جتنا صدمہ ڈاکٹر اسرار کوہوا‘ شاید ہی کسی کو ہوا ہو۔
جماعت سے علیحدگی کے بعد ڈاکٹر صاحب نے ۱۹۶۵ء سے ۱۹۷۲ء تک تن تنہا کام کیا۔ حج کی سعادت حاصل کرتے ہوئے (۱۹۷۱ء میں)اپنے آپ سے عہد کیا کہ دین کے کام کے لیے ہمہ وقت فراغت حاصل کر لیں گے۔فرماتے ہیں کہ اس دن سے میرے وقت کا ایک ایک لمحہ اور میری قوت و صلاحیت کا ایک ایک شمہ محض دین کی خدمت کے لیے صرف ہوا ہے۔ ۱۹۷۲ءمیں مرکزی انجمن خدام القرآن کی بنیاد رکھی۔ ۱۹۷۵ءمیں تنظیم اسلامی قائم ہوئی‘ اُس اعلیٰ مقصد کے لیے جسے وہ سمجھتے تھے کہ انتخابی طریقے سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ جماعت اسلامی کے انتخابی سیاست میں شمولیت کے فیصلے کے بعد اس بات کا امکان تھا کہ دعوتی اور تحریکی عمل کے لیے وہ توجہ اور وقت میسر نہیں آ پائے گا جو صدیوں سے منتشر الخیال قوم کو علم و عمل پر مجتمع کرنے کے لیے چاہیے۔اس زاویے سے دیکھا جائے تو تنظیم اسلامی درحقیقت جماعت ہی کے مشن کو لے کر آگے بڑھی۔
برصغیر میں قرآن مجید مدتوں طاقِ نسیان کی زینت رہا۔ خوش نما غلافوں میں لپٹا لپٹایا‘ یا پھر گلے کا تعویذ۔خانقاہی ملاؤں نے عام آدمی کے لیے قرآن فہمی کا دروازہ بند کر رکھا تھا۔ڈاکٹر صاحب نے جب قرآن پر ملاؤں کی اجارہ داری ختم کرنے کے کٹھن کام کا آغاز کیا تو ان کی شدید مخالفت ہوئی مگر وہ یک سوئی سے اپنے مشن پر کار بند رہے۔آج تنظیم کے نو جوان بڑی بے ساختگی سے قرآن مجید پڑھنے پڑھانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ایک تحریک ہے جو پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ اب ہمارا نوجوان قرآن سے فہم لینے سے نہیں گھبراتا۔
ڈاکٹر صاحب نے جس نقطہ نظر کو درست سمجھا‘ اس پر تن دہی سے کام کیا ۔اپنی ذات اور اپنے خاندان کو اس میں شامل کیا ۔ ہر فورم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا۔
پچھلی صدی عالم اسلام میں تحریکوں کے جنم لینے کی صدی ہے۔ہندوستانی تحریکوں میں جماعت اسلامی‘تبلیغی جماعت اور دیوبند کی تحریکیں ہمہ گیر اور دُور رس ثابت ہوئی ہیں۔ان بانی اداروں سے پھر اور تحریکوں نے جنم لیا جن کا مقصد اُس خلا کو پُر کرنا تھا جو کہیں نہ کہیں رہ ہی جاتا ہے۔اگر جماعتیں بنتی رہی ہیں تو ہندوستان کو چیلنج بھی ایک قسم کا نہیں تھا۔عقائد کی خرابیاں‘ ایمان کے مفہوم میں اجنبی فلسفے ‘بدعات‘خرافات‘بدعملی‘منہج اہل سنت میں ابہام‘ منھج تلقی کا فقدان اوروحدتِ اُمّت کے تصور سے دوری تو ہماری اپنی اندر کی خرابیاں تھیں۔ اس پر مستزاد استعمار کے لائے ہوئے نئے نئے ازم ۔ہندوستان میں ان سب سے نبردآزما ہونے کے لیے ایک یا چند تحریکیں نا کافی تھیں۔ اس لیے اگر یہاں متعدد تحریکیں پائی گئی ہیں تو یہ برصغیر کے فکری اور منہج کے الجھاؤ کی وجہ سے ایک طبعی عمل ہے۔تنظیم اسلامی کو ہم اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔شیطان کی البتہ چال یہ ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے کام کرنے والی تحریکوں کو باہم متصادم کر دے ۔
ڈاکٹر اسرار احمد نے جس اعلیٰ مقصد کے لیے تنظیم بنائی تھی اس کی بھی بر صغیر میں ضرورت ہے۔تبھی تو انہیں پاکستان سے باہر خصوصاً ہند وستان میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ہم سمجھتے ہیں کہ برصغیر میں اہل سنت و الجماعت کی مختلف تحریکیں اور تنظیمیں ایک ہی کام کو مکمل کر رہی ہیں اور وہ ہے یہاں کے مسلمانوں کو شعوری طور پر بیدار کرناتا کہ وہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی تعلیمات پر اپنے آپ کو اور اپنے معاشرے کو ڈھال سکیں۔اس قاعدے کی رو سے ایک عام مسلمان کا کسی اسلامی تنظیم میں شامل ہونا اقامت ِدین کی جدّوجُہد کو آگے بڑھانے کا باعث ہے۔
’’تنظیم اسلامی‘‘ بھی اہل سنت و الجماعت کی ایک نمائندہ جماعت ہے۔یہ جاہلانہ رسوم و رواج کا رد کرتی ہے۔عام مسلمان کو قرآن مجید سے جوڑتی ہے۔پاکستان میں شریعت ِمحمدیؐ کے نفاذ اور خلافت کے قیام کے لیے شبانہ روز محنت کرتی ہے۔اپنے رفقاء میں انکساری اور ڈسپلن پیدا کرتی ہے۔ انہیں اپنے دائرئہ اختیار میں دین کے نفاذ کا درس دیتی ہے۔ انہیں انفاق فی سبیل اللہ کرناسکھاتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب کی رحلت کے ساتھ اُس کہانی کا ایک اور باب اپنے اختتام کو پہنچا جس کے سر خیل شاہ ولی اللہ دہلویؒ تھے۔دین کو خانقاہوں سے نکال کر معاشرے کی حقیقت بنانے کا مبارک کام جن شخصیات نے کیاتھا ‘اس سلسلے کی آخری کڑی ڈاکٹر اسرار احمدتھے۔اس سلسلۂ فکر کی یہ کڑی اپنا فرض نبھا کرباقی کا کام آنے والوں کے لیے چھوڑ کراپنے ساتھیوں سے جا ملی ہے۔ناتوانی میں بھی اس قافلہ خیر و برکت کو کیا ہی اچھے حدی خواں ملے تھے!اب اس قافلے کو اور بھی سبک رفتاری سے چلنا ہے! ایک نئے جذبے اور نئے آہنگ کے ساتھ!عمل کو علم سے اور تحریک کو دعوت سے بر آمد کرتے ہوئے ۔ ڈاکٹر اسرار احمد کی زندگی نوجوانوں کے لیے ایک نمونہ ہے۔ایک ایسا کردار جو تعلیم کے ساتھ تحریک کے تقاضوں کو نبھانا بھی جانتا تھا۔جو حق کے لیے جیا‘ حق پر رہا اور حق پر مرا۔(ولا نزکّی علی اللّٰہ احدًا)
خدایا! ان کی قبر کو روضۃ من ریاض الجنۃ بنا۔ان کے اہل خانہ کو صبر کی توفیق عطا فرما۔ تنظیم کی موجودہ قیادت کو توفیق دے کہ وہ اسے اس کے نصب العین کے مطابق چلاسکیں۔ ڈاکٹر صاحب نے اقامت ِدین کی جو کوشش کی‘ اسے قبول فرما۔ اس کی تکمیل فرما۔تمام مسلمانوں کوامر بالمعروف میں متحد فرما‘نہی عن المنکر کے خاتمے کے لیے قوت عطا فرما۔آمین!
(یہ مضمون ڈاکٹر صاحبؒ کے انتقال پُرملال کےبعد سہ ماہی ’’ایقاظ‘‘ جولائی تا ستمبر2010ء لاہور میں شائع ہوا تھا‘ جسے قدرے ایڈیٹنگ کے بعد میثاق میں شائع کیا جا رہا ہے۔)