دورۂ ترجمۂ قرآن
سُوْرَۃُ الْبُرُوْجِ
ڈاکٹر اسرار احمد
تمہیدی کلمات
سورۃ البروج اور اس کے بعد والی سورت یعنی سورۃ الطارق کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے۔ اس سورت کی ابتدائی آیات میں ایک تاریخی واقعہ کا ذکر ہواہے جو یمن میں ۵۲۳ عیسوی کے لگ بھگ‘ حضورﷺ کی ولادت سے تقریباً پچاس سال قبل پیش آیا۔ قدیم یمن میں بہت عرصہ تک عیسائی بادشاہ برسراقتدار رہے۔ لیکن چھٹی صدی عیسوی کے آغاز کے زمانے میں وہاں ’ذونواس‘ نامی یہودی بادشاہ کی حکومت قائم ہو گئی جو عیسائیوں کا شدید مخالف تھا۔ یہودی اور عیسائی دراصل شروع ہی سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے رہے ہیں۔ ان کے باہمی اختلافات کی نوعیت ایسی ہے کہ اصولی طور پر ان کے درمیان کبھی بھی صلح نہیں ہو سکتی۔ ظاہر ہے عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا رسول مانتے ہیں بلکہ ان کی اکثریت تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کابیٹا قرار دیتی ہے‘ جبکہ یہودی آپؑ کو مرتد‘ جادوگر اور ولد الزنا قرار دیتے ہیں (نعوذ باللہ)۔ ظاہر ہے ایسی صورتِ حال میں ان لوگوں کے باہمی اختلافات کیسے ختم ہو سکتے ہیں۔
البتہ آج کل اس حوالے سے بہت غیر معمولی صورتِ حال دیکھنے کو مل رہی ہے۔ آج پوری عیسائی دنیا یہودیوں کی مٹھی میں ہے اور عیسائیوں کی مدد سے انہوں نے یہودی ریاست بھی قائم کر لی ہے ۔اس کے علاوہ بھی وہ عیسائیوں کی معاشی اور جنگی طاقت کو جہاں اور جیسے چاہتے ہیں استعمال کر رہے ہیں۔ یہ دراصل یہودی ذہانت اور محنت کا جادو ہے جو آج پوری دنیا کے سرچڑھ کربول رہا ہے۔ اس غیر معمولی صورتِ حال کی وجوہات اور ممکنہ نتائج کے بارے میں میری تقاریر کی ریکارڈنگ موجود ہے۔ مزید معلومات کے لیے ان تقاریر سے استفادہ کیاجا سکتا ہے۔ بہرحال یمن کے یہودی بادشاہ ذونواس نے عیسائی دشمنی کے جنون میں یہ کارنامہ سرانجام دیا کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بڑی بڑی خندقیں کھدوا کر ان میں ایندھن بھرا اور پھر وسیع پیمانے پرآگ جلا کر بیس ہزار کے لگ بھگ بے گناہ عیسائیوں کو زندہ جلا دیا۔ اس سورت کی ابتدائی آیات میں اسی واقعہ کا ذکر ہے۔
یہ سورئہ مبارکہ مکّہ معظمہ کے اُس دور میں نازل ہوئی جب کُفّارِ مکّہ مسلمانوں کو سخت سے سخت عذاب دے کر ایمان سے پھیر دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ چنانچہ اس میں کُفّار کو ان کے ظلم و ستم کے بُرے انجام سے خبردار کیا گیا ہے اور اہل ِایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر وہ ان مظالم کے مقابلے میں ثابت قدم رہیں گے تو ان کو اس کا بہترین اجر ملے گا اور اللہ تعالیٰ ظالموں سے بدلہ ضرور لے گا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ (۱) وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ (۲) وَشَاھِدٍ وَّمَشْھُوْدٍ (۳) قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ (۴) النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ (۵) اِذْ ھُمْ عَلَیْھَا قُعُوْدٌ (۶) وَّھُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُھُوْدٌ (۷) وَمَا نَقَمُوْا مِنْھُمْ اِلَّآ اَنْ یُّؤْ مِنُوْا بِاللّٰہِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ (۸) الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَاللہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَھِیْدٌ (۹) اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَھُمْ عَذَابُ جَھَنَّمَ وَلَھُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ (۱۰) اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ڛ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْکَبِیْرُ(۱۱) اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ (۱۲) اِنَّہٗ ھُوَ یُبْدِیُٔ وَیُعِیْدُ (۱۳) وَھُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ (۱۴) ذُوالْعَرْشِ الْمَجِیْدُ (۱۵) فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ (۱۶) ھَلْ اَتٰىکَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِ (۱۷) فِرْعَوْنَ وَثَمُوْدَ (۱۸) بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ تَکْذِیْبٍ (۱۹) وَّاللہُ مِنْ وَّرَاۗئِھِمْ مُّحِیْطٌ (۲۰) بَلْ ھُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ (۲۱) فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (۲۲)
آیت ۱{وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ(۱)} ’’قسم ہے آسمان کی جو بُرجوں والا ہے۔‘‘
بُرجوں سے مراد آسمان کے عظیم الشان ستارے اور سیارے لیے گئے ہیں۔
آیت۲{وَالْیَوْمِ الْمَوْعُوْدِ(۲)}’’اور قسم ہے اُس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے ۔‘‘
یعنی قیامت کا دن ‘جو آکر رہے گا۔
آیت ۳{وَشَاہِدٍ وَّمَشْہُوْدٍ(۳)}’’اور قسم ہے حاضر ہونے والے کی اور اُس کی جس کے پاس حاضر ہوا جائے ۔‘‘
اس آیت کی بہت سی تعبیرات کی گئی ہیں ‘جن میں سے ایک تعبیر یہ ہے کہ شَاہِد سے مراد جمعہ کا دن ہے‘ جو شہر شہر بستی بستی لوگوں کے پاس حاضر ہوتا ہے ‘جبکہ مَشْہُوْد عرفہ (۱۰ذی الحجہ) کا دن ہے جس کے پاس لوگوں کو خود میدانِ عرفات میں جا کر حاضر ہونا پڑتا ہے۔
آیت۴{قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ(۴)} ’’ہلاک ہو گئے وہ کھائیوں والے۔‘‘
’’اصحاب الاخدود‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے خندقیں کھودیں اور اہل ِایمان کو ان خندقوں میں ڈال کر جلایا۔ بظاہر تو وہاں اہل ِایمان ہلاک ہوئے تھے‘لیکن وہ تو اپنی جان‘جان آفریں کے سپرد کر کے آخرت کی نعمتوں اور کامیابیوں کے مستحق ٹھہرے اورواقعتاً ہلاکت اور بربادی ان لوگوں کے حصّے میں آئی جنہوں نے خندقیں کھود کر اہل ِایمان کو ان میں ڈال کرجلایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مفتی محمد تقی عثمانی اپنے ’’آسان ترجمہ ٔ قرآن‘‘ کی تشریحات میں ’’اَصحابُ الا ُخدود‘‘ کے واقعہ کے بارے میں یوں رقم طراز ہیں:
’’مشہور تفسیر کے مطابق ان آیتوں میں ایک واقعے کی طرف اشارہ ہے جو حضور اقدسﷺ سے صحیح مسلم کی ایک حدیث میں منقول ہے۔ اور وہ یہ کہ پچھلی کسی اُمّت میں ایک بادشاہ تھا جو ایک جادوگر سے کام لیا کرتا تھا۔ جب وہ جادوگر بوڑھا ہو گیا تو اُس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دیا کرو جسے میں جادو سکھائوں‘ تاکہ میرے بعد وہ تمہارے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیجنا شروع کر دیا۔ یہ لڑکا جب جادوگر کے پاس جاتا تو راستے میں ایک عبادت گزار شخص کے پاس سے گزرتا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصلی دین پر تھا (ایسے شخص کو راہب کہتے تھے) اور توحید کا قائل تھا۔ یہ لڑکا اُس کے پاس بیٹھ جاتا اور اُس کی باتیں سنتا تھا جو اُسے اچھی لگتی تھیں۔ ایک دن وہ جا رہا تھا تو راستے میں ایک بڑا جانور نظر آیا جس نے لوگوں کا راستہ روکا ہوا تھا‘ (بعض روایتوں میں ہے کہ وہ جانور شیر تھا‘ اور لوگ اُس سے ڈر رہے تھے) لڑکے نے ایک پتھر اُٹھایا‘ اور اللہ تعالیٰ سے دُعا کی کہ یا اللہ! اگر راہب کی باتیں آپ کو جادوگر کی باتوں سے زیادہ پسند ہیں تو اس پتھر سے اس جانور کو مروا دیجیے۔ اب جو اُس نے پتھر اُس جانور کی طرف پھینکا تو جانور مر گیا‘ اور لوگوں کا راستہ کھل گیا۔ اس کے بعد لوگوں کو اَندازہ ہوا کہ اس لڑکے کے پاس کوئی خاص علم ہے۔ چنانچہ ایک اندھے شخص نے اُس سے درخواست کی کہ اُس کی بینائی واپس آجائے۔ لڑکے نے اُس سے کہا کہ شفا دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہے‘ اس لیے اگر تم یہ وعدہ کرو کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر اِیمان لے آئو گے تو میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دُعا کروں گا۔ اُس نے یہ شرط مان لی۔ لڑکے نے دُعا کی تو اللہ تعالیٰ نے اُس کو بینائی عطا فرمادی‘ اور وہ توحید پر اِیمان لے آیا۔ ان واقعات کی خبر جب بادشاہ کو ہوئی تو اُس نے اُس نابینا کو بھی گرفتار کر لیا‘ اور لڑکے اور راہب کو بھی۔ اور ان سب کو توحید کےانکار پر مجبور کیا۔ جب وہ نہ مانے تو اُس نے اُس نابینا شخص اور راہب کو تو آرے سے چروا دیا‘ اور لڑکے کے بارے میں اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ اُسے کسی اونچے پہاڑ پر لے جاکر نیچے پھینک دیں۔ لیکن جب وہ لوگ لڑکے کو لے کر گئے تو اُس نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی‘ پہاڑ پر زلزلہ آیا جس سے وہ لوگ مر گئے‘ اور لڑکا زندہ رہا۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اُسے کشتی میں لے جا کر سمندر میں ڈبو دیا جائے۔ لڑکے نے پھر دُعا کی‘ جس کے نتیجے میں کشتی اُلٹ گئی‘ وہ سب ڈوب گئے‘ اور لڑکا پھر سلامت رہا۔ بادشاہ جب عاجز آگیا تو لڑکے نے اُس سے کہا کہ اگر تم مجھے واقعی مارنا چاہتے ہو تو اُس کا ایک ہی طریقہ ہے‘ اور وہ یہ کہ تم سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کر کے مجھے سولی پر چڑھائو‘ اور اپنے ترکش سے تیر نکال کر کمان میں چڑھائو‘ اور یہ کہو کہ : بِاسْمِ اللہِ رَبِّ الْغُلَامِ ’’اُس اللہ کے نام پر جو اس لڑکے کا پروردگار ہے‘‘ پھر تیرسے میرا نشانہ لگائو۔ بادشاہ نے ایسا ہی کیا‘ اورتیر اُس لڑکے کی کنپٹی پر جا کر لگا‘ اور اُس سے وہ شہید ہو گیا۔ لوگوں نے جب یہ نظارہ دیکھا تو بہت سے ایمان لے آئے۔ اس موقع پر بادشاہ نے اُن کو سزا دینے کے لیے سڑکوں کے کناروں پر خندقیں کھدوا کر اُن میں آگ بھڑکائی‘ اور حکم دیا کہ جو کوئی دین ِحق کو نہ چھوڑے‘ اُسے ان خندقوں میں ڈال دیا جائے۔ چنانچہ اس طرح ایمان والوں کی ایک بڑی تعداد کو زندہ جلا دیا گیا۔ ‘‘ (صحیح مسلم‘ ح:۳۰۰۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت ۵{النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ(۵)} ’’وہ آگ جو بڑی ایندھن والی تھی۔‘‘
یعنی وہ خوفناک آگ جسے بہت زیادہ ایندھن جمع کر کے بھڑکایا گیاتھا۔
آیت ۶{اِذْ ہُمْ عَلَیْہَا قُعُوْدٌ(۶)} ’’جبکہ وہ اس (کے کناروں) پر بیٹھے ہوئے تھے۔‘‘
آیت ۷{وَّہُمْ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ شُہُوْدٌ(۷)} ’’اور مؤمنین کے ساتھ وہ جو کچھ کر رہے تھے خود اس کا نظارہ بھی کر رہے تھے۔‘‘
ان صاحب ِاقتدار و اختیار لوگوں نے اہل ِایمان کو زندہ جلانے کے احکام جاری کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان خندقوں کے کناروں پر انہوں نے باقاعدہ براجمان ہو کر اس دلدوز منظر کا نظارہ کرنے کا اہتمام بھی کیا۔ اسی طرح پچھلی صدی میں ہٹلر نے بھی بہت ’’پُرتکلّف‘‘ منصوبہ بندی کے ساتھ یہودیوں کے قتل ِعام کا اہتمام کیاتھا۔اس مقصد کے لیے اس نے بڑے بڑے گیس چیمبر ز نصب کیے اور انسانی لاشوں کو سائنٹیفک انداز میں ٹھکانے لگانے کے لیے نئے نئے طریقے ایجاد کیے۔
آیت ۸{وَمَا نَقَمُوْا مِنْہُمْ اِلَّآ اَنْ یُّؤْمِنُوْا بِاللہِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ(۸)} ’’اور وہ نہیں انتقام لے رہے تھے اُن سے مگر اس لیے کہ وہ ایمان لے آئے تھے اللہ پر جو زبردست ہے اور اپنی ذات میں خود ستودہ صفات ہے۔‘‘
آیت ۹{الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط}’’ جس کے لیے بادشاہی ہے آسمانوں کی اور زمین کی ۔‘‘
{وَاللہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ شَہِیْدٌ(۹)} ’’اور اللہ تو ہر چیز پر خود گواہ ہے ۔‘‘
آیت ۱۰{اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا} ’’یقیناً جن لوگوں نے ظلم و ستم توڑا مؤمن مَردوں اور مؤمن عورتوں پر پھرانہوں نے توبہ بھی نہیں کی‘‘
اگر ان میں سے کسی نے مرنے سے پہلے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا تو اُس کا یہ جرم معاف ہو سکتا ہے۔
{فَلَہُمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَلَہُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِ(۱۰)} ’’تو ان کے لیے ہو گا جہنم کا عذاب اور جلا ڈالنے والا عذاب۔‘‘
آیت۱ ۱{اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ}’’یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے‘‘
{لَہُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُط}’’ان کے لیے وہ باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔‘‘
{ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْکَبِیْرُ(۱۱)}’’ یہ ہے اصل بڑی کامیابی۔‘‘
آیت ۱۲{اِنَّ بَطْشَ رَبِّکَ لَشَدِیْدٌ(۱۲)}’’یقیناً تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ حلیم بھی ہے ‘ وہ انسان کو ڈھیل بھی دیتا ہے اور اس کی رسّی دراز بھی کرتا ہے (اللہ تعالیٰ کی اس صفت کا ذکر اگلی سورت میں آئے گا)لیکن جب وہ کسی فرد یا قوم کی گرفت کرتا ہے تو اس کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے۔
آیت ۱۳{اِنَّہٗ ہُوَ یُـبْدِیُٔ وَیُعِیْدُ(۱۳)}’’وہی ہے جو پہلی مرتبہ پیدا کرتا ہے اور وہی اعادہ بھی کرے گا۔‘‘
جب اُس نے انسان کو پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے تو دوسری مرتبہ وہ اسے پیدا کرنے پر بھلا کیونکر قادر نہیں ہو گا؟
آیت ۱۴{وَہُوَ الْغَفُوْرُ الْوَدُوْدُ(۱۴)} ’’اور وہ بخشنے والا بھی ہے‘ محبّت کرنے والا بھی ہے۔‘‘
آیت ۱۵{ذُو الْعَرْشِ الْمَجِیْدُ(۱۵)} ’’ عرش کا مالک ہے‘ بڑی شان والا ہے۔‘‘
آیت ۱۶{فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ(۱۶)} ’’وہ جو ارادہ کر لے ‘ کر گزرنے والا ہے۔‘‘
ظاہر ہے اُس کے ارادے کے آگے کوئی رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔
آیت ۱۷{ہَلْ اَتٰىکَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِ(۱۷)}’’کیا آپ کے پاس لشکروں کی خبر پہنچی ہے؟‘‘
آیت ۱۸{فِرْعَوْنَ وَثَمُوْدَ (۱۸)} ’’فرعون اور ثمود (کے لشکروں) کی؟‘‘
آیت ۱۹{بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ تَکْذِیْبٍ(۱۹)}’’لیکن یہ کافر جو ہیں یہ جھٹلانے ہی میں لگے رہیں گے۔‘‘
آیت ۲۰{وَّاللہُ مِنْ وَّرَآئِہِمْ مُّحِیْطٌ(۲۰)} ’’جبکہ اللہ ان کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔‘‘
آیت ۲۱{بَلْ ہُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِیْدٌ(۲۱)}’’بلکہ یہ تو قرآن ہے بہت عزّت والا ۔‘‘
آیت ۲۲{ فِیْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ (۲۲)}’’لوحِ محفوظ میں (نقش ہے)۔‘‘
یعنی اصل قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے پاس لوحِ محفوظ میں ہے۔ جس مقام کا ذکر یہاں لوحٍ مَّحْفوظ کے نام سے ہوا ہے‘ سورۃ الزخرف کی آیت۴ میں اسے اُمُّ الْکِتٰب‘ سورۃ الواقعہ کی آیت ۷۸ میں کِتٰبٍ مَّـکْنُوْن اور سورئہ عبس کی آیات ۱۳ اور ۱۴ میں اسے صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ کہا گیا ہے۔
سُوْرَۃُ الطَّارِقِبسم اللہ الرحمن الرحیم
وَالسَّمَاۗءِ وَالطَّارِقِ (۱) وَمَا اَدْرٰىکَ مَا الطَّارِقُ (۲) النَّجْمُ الثَّاقِبُ (۳) اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْھَا حَافِظٌ(۴) فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ (۵) خُلِقَ مِنْ مَّاۗءٍ دَافِقٍ (۶)یَّخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَاۗئِبِ (۷) اِنَّہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ (۸) یَوْمَ تُبْلَی السَّرَاۗئِرُ(۹) فَمَا لَہٗ مِنْ قُوَّۃٍ وَّلَا نَاصِرٍ (۱۰) وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الرَّجْعِ (۱۱) وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ (۱۲) اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ (۱۳) وَّمَا ھُوَ بِالْھَزْلِ (۱۴) اِنَّھُمْ یَکِیْدُوْنَ کَیْدًا (۱۵) وَّاَکِیْدُ کَیْدًا (۱۶) فَمَھِّلِ الْکٰفِرِیْنَ اَمْھِلْھُمْ رُوَیْدًا(۱۷)
آیت ۱{وَالسَّمَآئِ وَالطَّارِقِ(۱)}’’قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی۔‘‘
آیت۲{وَمَآ اَدْرٰىکَ مَا الطَّارِقُ(۲)}’’اور تم کیا جانتے ہو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے؟‘‘
آیت ۳{النَّجْمُ الثَّاقِبُ(۳)} ’’وہ ستارہ ہے چمکدار۔‘‘
آیت۴{اِنْ کُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْہَا حَافِظٌ(۴)} ’’کوئی جان ایسی نہیں جس پر کوئی نگہبان نہ ہو۔‘‘
سورۃ الانفطار کی ان آیات میں یہ مضمون زیادہ وضاحت کے ساتھ آیا ہے : {وَاِنَّ عَلَیْکُمْ لَحٰفِظِیْنَ(۱۰) کِرَامًا کَاتِبِیْنَ(۱۱) یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ(۱۲)}’’جبکہ ہم نے تمہارے اوپر محافظ (فرشتے) مقرر کر رکھے ہیں۔ بڑے باعزّت لکھنے والے۔ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کررہے ہو‘‘۔ انسان کے محافظ فرشتوں کا ذکر سورۃ الانعام کی اس آیت میں بھی ہے: {وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃًط} (آیت۶۱)’’ اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح غالب ہے اور وہ تم پر نگہبان بھیجتا رہتا ہے‘‘۔ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے ساتھ متعدد فرشتے مقرر کر رکھے ہیں۔ ان میں سے کچھ اس کے اعمال کاریکارڈ مرتّب کرنے میں مصروف ہیں جبکہ کچھ کو اس کی حفاظت کی ذِمّہ داری سونپی گئی ہے۔
آیت ۵{فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ(۵)}’’تو انسان کو غور کرنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیاگیاہے۔‘‘
آیت ۶{خُلِقَ مِنْ مَّآئٍ دَافِقٍ(۶)} ’’وہ پیدا کیا گیا ہے اُچھلتے ہوئے پانی سے۔‘‘
آیت ۷{یَّخْرُجُ مِنْ بَیْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَآئِبِ(۷)}’’جو نکلتا ہے پیٹھ اور پسلیوں کے درمیان سے۔‘‘
مرد کے مادہ منویہ کا اصل منبع ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان ہے۔ یہاں سے پیدا ہوکر یہ مادہ ان غدودوں تک پہنچتا ہے جو اس کے لیے مخصوص ہیں۔
آیت ۸{اِنَّہٗ عَلٰی رَجْعِہٖ لَقَادِرٌ(۸)} ’’یقیناً وہ اسے لوٹانے پر بھی قادر ہے۔‘‘
جس اللہ نے پانی کی ایک بوند سے انسان کی تخلیق کی ہے وہ یقیناً اس پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے اسے اپنے پاس واپس بلا لے۔اور یقیناً وہ اس کے مرنے کے بعد اسے دوبارہ زندہ کر دینے پر بھی قدرت رکھتا ہے۔
آیت ۹{یَوْمَ تُـبْلَی السَّرَآئِرُ(۹)} ’’جس دن تمام چھپے ہوئے رازوں کی جانچ پڑتال ہو گی۔‘‘
آیت ۱۰{فَمَا لَہٗ مِنْ قُوَّۃٍ وَّلَا نَاصِرٍ(۱۰)} ’’تو نہیں ہو گی کسی انسان کے لیے کوئی طاقت اور نہ ہوگا اس کا کوئی مددگار۔‘‘
آیت۱ ۱{وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الرَّجْعِ(۱۱)}’’قسم ہے اس آسمان کی جو بارش برساتا ہے وقفے وقفے سے۔‘‘
آیت ۱۲{وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ(۱۲)}’’اور قسم ہے اس زمین کی جو پھوٹ پڑتی ہے۔‘‘
آسمان سے بارش ہوتی ہے اور بارش کی وجہ سے نباتات زمین کو پھاڑتے ہوئے اُگ آتے ہیں۔ یعنی آسمان اور زمین اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ:
آیت ۱۳{اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ(۱۳)} ’’یہ (قرآن) قولِ فیصل ہے۔‘‘
آیت ۱۴{وَّمَا ہُوَ بِالْہَزْلِ(۱۴)} ’’اوریہ کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے۔‘‘
جیسے سورئہ بنی اسرائیل میں فرمایا گیا:{وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ط} (آیت ۱۰۵) ’’اور اس (قرآن) کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور یہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے۔‘‘
آیت ۱۵‘۱۶{اِنَّہُمْ یَکِیْدُوْنَ کَیْدًا(۱۵) وَّاَکِیْدُ کَیْدًا(۱۶)} ’’(اے نبیﷺ!) یہ لوگ اپنی سی چالیں چل رہے ہیں اور میں بھی اپنی چال چل رہا ہوں۔‘‘
آیت ۱۷{فَمَہِّلِ الْکٰفِرِیْنَ اَمْہِلْہُمْ رُوَیْدًا(۱۷)}’’تو آپؐ ان کافروں کو ذرا مہلت دے دیجیے‘ تھوڑی دیر انہیں (ان کے حال پر) چھوڑ دیجیے !‘‘
ابتدائی مکّی دور کی سورتوں میں حضورﷺ کے لیے یہ ہدایت بہت تکرار کے ساتھ آئی ہے کہ آپؐ ان لوگوں کے لیے جلدی نہ کریں‘ان کے بارے میں تھوڑی دیر انتظار کریں: {فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ ط} (الاحقاف:۳۵) ’’تو (اے محمدﷺ!) آپ بھی صبر کیجیے جیسے اولوالعزم رسول ؑصبر کرتے رہے ہیں اور ان کے لیے جلدی نہ کیجیے!‘‘اس دور میں چونکہ مشرکینِ مکہ ّنے اہل ِایمان پر عرصۂ حیات تنگ کیا ہوا تھا ‘اس لیے ان آیات کے ذریعے حضورﷺ کی وساطت سے اہل ِایمان کو بھی بار بار تسلی دی جاتی تھی اور سمجھایا جاتا تھا کہ ابھی ہم ان لوگوں کو کچھ مزیدمہلت دینا چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپ لوگ ان کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر کرتے ہوئے ہمارے فیصلے کا انتظار کریں۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026