بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
فیض حمید کو سزا: احتساب کی ایک نئی روایت؟
لیفٹیننٹ جنرل (ر)فیض حمید کو ۱۴ سال قید ہونے پر جس طرح قوم کے خوشیاں منانے کی خبریں آرہی ہیں اُس سے اندازہ ہورہا ہےکہ مملکت ِخداداد پاکستان میں ’’انصاف‘‘ ہونے لگا ہے۔فوجی عدالت (جس کی کارروائی کی تو کسی کو خبر نہیں) کا فیصلہ آنے سے پہلے تک تو ملک میں صورت حال یقیناً یہی تھی کہ سزا صرف اور صرف غریب اور پس ماندہ طبقے کے لوگوں کو مل رہی تھی۔ کہیں کسی غریب دکاندار کو سڑک پر مال رکھنے پر پولیس اہل کار سزا دے رہا تھا تو کہیں ہیلمٹ نہ پہننے پر چار پانچ ٹریفک پولیس وارڈن سفید پوش نوجوان کو اس کے بیوی بچوں کے سامنے سزا دے رہے تھے۔ دوسری طرف پاکستان کے لوگ یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ ایک اعلیٰ عہدیدار کا کمسن بچہ اپنی زور آور ڈرائیونگ سے کسی کو کچل دیتا ہے اور اُس کو کوئی سزا دینے یا سرزنش کرنے کی بجائے مقتول کے اہل ِخانہ اسے ’’ معصوم بچہ ‘‘سمجھ کر معاف کردیتے ہیں۔ ایسی ’’معافی‘‘ کی مثالوں سے ہماری عدالتی تاریخ بھری پڑی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا فیض حمید کی سزا نے سب بدل دیا؟ کسی حاضر سروس فوجی افسر کو سزا ملنے کی مثالیں تو موجود ہیں مگر وہ اتنی محدودہیں کہ ہاتھ کی انگلیوں کی تعداد بھی زیادہ ہو جاتی ہے ۔
فیض حمید کے خلاف یہ مقدّمہ سپریم کورٹ کے حکم پر چلایا گیا تھا۔جنرل فیض حمید کو سزا کورٹ مارشل کارروائی مکمل ہونے کے بعد سنائی گئی ۔اُن کا مقدمہ کم و بیش ۱۵ ماہ تک فوجی عدالت میں چلتا رہا ۔ اُس کی رپورٹنگ عام آدمی تک تو نہیں پہنچ سکی حتیٰ کہ فیصلے کا اصل متن جیسا کہ اکثر مقدمات میں دستیاب ہوجاتا ہے ‘ وہ بھی کسی عام شہری نے نہیں دیکھا ہے۔ یقیناً اس میں کوئی مصلحت ہی ہو گی! بہرحال یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ فوجی عدالت نے اُنہیں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث پایا‘ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا جس کی وجہ سے ریاست کے راز اور مفادات متاثر ہوئے۔ اُنہیں اختیارات اور سرکاری وسائل کاغلط استعمال کرتے ہوئے پایا اور افراد کو نقصان پہنچاتے ہوئے پایا۔ فوجی عدالت کا کہنا ہے کہ ملزم کو تمام قانونی حقوق فراہم کیے گئےجن میں اپنی پسند کے مطابق دفاع کرنا بھی شامل تھا۔مقدمے میں نہ صرف ثبوت پیش کئے گئے بلکہ جرح بھی کی گئی اور مجرم کوآرمی چیف یا متعلقہ فورم کے سامنے اپیل کا حق بھی حاصل ہوگا۔
فیض حمیدکو جن جرائم کی سزا دی گئی ہے ‘اخبارات کے آرکائیوز میں ایسی کئی خبریں ‘ تبصرے اور مضامین موجود ہیں جنہیں دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ایسے جرائم کے مرتکب اِس سے قبل بھی کئی افراد ہوئے ہیں مگر اُنہیں نہ تو فوجی عدالتوں میں لایا گیا اور نہ ہی اُن کے جرائم کو ثابت کیاگیا۔بہرحال کسی فوجی یا سویلین کاکورٹ مارشل کوئی نئی بات نہیں ہے‘بلکہ یہ ویسی ہی معمول کی بات ہے جیسی کسی سویلین عدالت میں کسی فوجداری کیس کا معاملہ ہو ۔عام آدمی کو یہ فرق صرف اس لیے محسوس ہوتا ہے کہ سول عدالتوں میں لوگوں کو خواہ انصاف ہوتا ہوا نظر نہ بھی آئے مگر انصاف (یا انصاف کے خون) کی مکمل کارروائی اور فیصلہ کی تفصیل تک رسائی بہرحال حاصل ہوجاتی ہے۔ فوجی عدالتوں یا کورٹ مارشل کے کیسزعوام کو عموماً اس لیے بھی نظر نہیں آتے کہ ان کی کارروائی سےمیڈیاکو دور رکھا جاتا ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں کسی سابق فوجی افسر کو سزا ملنے کا واقعہ اس سے قبل جنرل پرویز مشرف کا ہے جنہیں ۱۷ دسمبر ۲۰۱۹ءکو اسلام آباد کی خصوصی عدالت نےآئین ِپاکستان کے آرٹیکل ۶ کے تحت سنگین غداری کا مجرم قرار دیا اور اُنہیں سزائے موت کا حکم دیا گیا ۔ اس سزا پر عمل درآمد نہیں ہوسکا کیونکہ عدالت کے حکم سنانے کے وقت وہ پاکستان میں موجود نہیں تھے۔ لاہور ہائی کورٹ نے ۲۰۲۰ءمیں اُس خصوصی عدالت کے قیام کو غیر آئینی قرار دے کر فیصلہ ہی کالعدم کر دیا اور یوں عملی طور پر یہ سزا نافذ نہ ہو سکی۔ اپنی وفات سے کچھ دن پہلے جب وہ پاکستان آئے تو اچھے خاصے سمجھ دار لوگ بھی یہ توقع کررہے تھے کہ انہیں پھانسی کے پھندے پر لٹکانا چاہیے جبکہ قانون کی نظر میں وہ معصوم تھے۔ اُن کے جسد ِخاکی کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا۔
نوے کی دہائی میں پاکستان بحریہ کے سابق چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل منصور الحق کا نام بدعنوانی کے مقدّمات میں لیا جاتا رہا۔منصور الحق نے پاکستان نیوی میں ۱۹۵۴ء میں خدمات شروع کیں اور بعد میں پاکستان نیوی کے سب سے اعلیٰ عہدے تک پہنچے ۔ اُنہوں نے پاک بحریہ کے دفاعی سودوں میں کمیشن وصول کیا‘ خصوصاً فرانس سے آبدوزوںاور بحری جہازوں کی خریداری کے معاملات میں‘ جس سے ملکی خزانے کو نقصان پہنچا۔ اِن الزامات کے باعث اُنہیں جون ۱۹۹۷ء میں قبل از وقت ریٹائر کیا گیا۔ ان کے رینکس‘ انعامات‘ پنشن اور سروس مراعات بھی واپس لے لی گئیں ۔۲۰۰۱ء میں قانونی کارروائی کے نتیجے میں وہ امریکہ میں گرفتار ہوئے اور اُنہیں پاکستان میں مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ اُن پر مقدمہ فوجی عدالت کی بجائے احتساب عدالت میں چلا‘ جس میں اُنہیں سات سال قید اور جرمانے کاحکم سنایا گیا۔بعد میں پلی بارگین (معاہدہ) کے تحت تقریباً ۵ ۷. ملین امریکی ڈالر جمع کروائے ‘ جس کے بدلے میںاُن پر کئی مقدمات ختم ہوگئے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ۱۴ سال قید بامشقت کی سزا سنا کر عسکری اداروں میں خود احتسابی کی ایک اچھی روایت قائم کی گئی ہے۔ اسلام ہمیں واضح حکم دیتا ہے کہ کوئی شخص چاہے کتنے ہی بڑے عہدے پر فائز کیوں نہ ہو‘ وہ احتساب سے مبرا نہیں۔ خود نبی اکرمﷺ نے اور اُن کے وصال کے بعد خلفاء ِراشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے اس دینی اصول کی عملی مثالیں قائم کر کے دکھائیں‘ جو آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ مشہور واقعہ ہے کہ بنی مخزوم قبیلے کے ایک بڑے خاندان کی عورت پر جب چوری کا جرم ثابت ہوا اور آپﷺ نے اُس پر حد نافذ کی تو کچھ لوگوں نے اُس کے حسب و نسب کی بنیاد پر اُسے معاف کرنے کی سفارش کی ۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ اے لوگو !تم سے پہلے لوگ اِس لیے بھی ہلاک ہوئے کہ جب اُن میں کوئی معزز شخص جرم کرتا تو اُسے چھوڑ دیتے تھے اور اگر کوئی عام آدمی جرم کرتا تو اُسے سزا دیتے تھے۔ اگر (بالفرضِ محال )فاطمہؓ بنت محمد ﷺ بھی چوری کرتیں تو میں اُن پربھی ہاتھ کاٹنے کی قرآنی حد نافذ کرتا۔‘‘ خلفاءِ راشدینؓ کے دور میں بھی بلا تفریق احتساب کی بے شمار مثالیںموجود ہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں سقوط ڈھاکہ سے بڑھ کر کوئی بڑا المیہ نہیں ہے۔قانونی اور عدالتی معیار پر دیکھیں تو کسی بھی بڑے ذمہ دار کو باضابطہ سزا نہیں دی گئی۔ ۱۹۷۲ء میں چیف جسٹس حمودالرحمٰن کی سربراہی میں کمیشن قائم ہوا‘ جس نے فوجی اور سیاسی قیادت کی سنگین غلطیوں‘ نااہلی‘ بدعنوانی اور اخلاقی جرائم کی نشان دہی کی۔ بعض جرنیلوں کےکورٹ مارشل کی سفارش کی‘ لیکن کمیشن کی سفارشات پر مکمل عمل نہیں ہوا۔ان میں سب سے اہم جنرل یحییٰ خان تھے۔ اُنہیں کوئی عدالتی سزا نہیں ہوئی‘ فقط اقتدار سے ہٹادیا گیا۔ نظر بندی ہوئی‘ مگر بعد میں رہا کر دیا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل اے اے کے نیازی جو مشرقی پاکستان میں فوجی کمانڈر تھے‘ جنگی قیدی بنے۔ بعد میں پاکستان واپس آگئے‘ اُن کاکوئی کورٹ مارشل نہیں ہوا اور ریٹائرمنٹ کے بعد خاموش زندگی گزاری۔حقیقت یہ ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ کے ذمہ داران تاریخ میں تو شاید ملک کے بدترین مجرم ٹھہرے‘ مگر قانون کی کسی بھی عدالت میں اُنہیں مجرم نہیں ٹھہرایا گیا۔
کئی صحافیوں نے انکشاف کیا ہے کہ فیض حمید نے اُن پر کب کب اور کس کس طرح سے دباؤ ڈالا جن میں سے بعض تو دباؤ میں آگئے اور بعض نے بیچ کی راہ اختیار کی ۔ صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون تصور کیا جاتا ہے‘جسے بدقسمتی سے کھوکھلا کیا جاچکا ہے۔ملک کا استحکام اسی بات میں پوشیدہ ہے کہ صحافی اور صحافت کو کسی بھی طرح دباؤ میں نہ لایا جائے۔ہماری رائے میں ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے کہ ریاستی ادارے آئین اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔ ریاست کو ماں کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ملکی سلامتی کے لیے لازم ہے کہ سب اپنی غلطیوں کو تسلیم کریں۔
قصہ ٔکوتاہ‘ ایک سابق جرنیل کو اُس کے جرائم ثابت ہونے پر سزا دینے سے جس اچھی روایت کا آغاز کیا گیا ہے‘ اُس کو نہ صر ف جاری رکھا جائے بلکہ ضرورت اِس امر کی ہے کہ مجرم خواہ کوئی بھی ہو اور کسی بھی بڑے سے بڑے عہدے پر فائز ہو اُسے احتساب کے دائرہ میں لایا جائے۔ سیاسی اور عسکری و عدالتی بیوروکریسی کے دیگراہم عہدوں پر فائز ماضی اور حال کے تمام مجرموں‘ بالخصوص جنہوں نے کرپشن کر کے قومی خزانہ کو لُوٹا ہے‘ کو قانون اپنی گرفت میں لے۔اُنہیں نہ صرف قرار واقعی سزا دی جائے بلکہ اُن سے لُوٹا ہوا پیسہ بھی برآمد کر کے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026