(درسِ قرآن ) سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ (۴) - ڈاکٹر اسرار احمد

7 /

سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ(۴)
مدرّس:ڈاکٹر اسرار احمدؒ

آیات ۸ تا ۱۶وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّـقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ(۸) یُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاج وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ(۹) فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ فَـزَادَھُمُ اللہُ مَرَضًاج وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ لا بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ(۱۰) وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ لا قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰـکِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَھَآئُ ط اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَھَآئُ وَلٰــکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ(۱۳) وَاِذَا لَـقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّاج وَاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِھِمْ لا قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ لا اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَھْزِئُ‘وْنَ(۱۴) اَللہُ یَسْتَھْزِیُٔ بِھِمْ وَیَمُدُّھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ(۱۵) اُولٰٓـئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰـلَۃَ بِالْھُدٰی ص فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُھُمْ وَمَا کَانُوْا مُھْتَدِیْنَ(۱۶)
سورئہ لقمان کی ابتدائی آیات سے تقابل
گزشتہ نشست میں ہم نے سورۃ البقرہ کے پہلے رکوع کا مطالعہ مکمل کرلیا تھا ‘ لیکن اُس سلسلہ کا ایک قرض مجھے اداکرنا ہے۔ مَیں نے سورۃ البقرہ کےپہلے رکوع کے مضامین کی نظیر یا اُس کے مثنیٰ کے طور پرسورئہ یٰسٓ کے پہلے رکوع کی آیات کا تقابلی مطالعہ کرایا تھا‘ اس لیےکہ جو الفاظ سورۃ البقرہ کے پہلے رکوع میں آئے ہیں: {سَوَآئٌ عَلَیْھِمْ ءَاَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۶)} بعینہٖ یہی الفاظ سورئہ یٰسٓ (آیت۱۰) میں بھی آئے ہیں ۔ اس اعتبار سے ان دونوں مقامات میں باہم بڑی مشابہت ہے۔ پھر سورۃا لبقرہ کےشروع میں آنے والے الفاظ {یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ} کے بارے میں  مَیں نے عرض کیا تھا کہ ایک رائے کے مطابق یہ بِ ظرف کی ہے ‘ یعنی غیب میں رہتے ہوئے ایمان لانا‘ اس کی مثال بھی سورئہ یٰسٓ میں موجود ہے: { وَخَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ ج } وہ لوگ کہ جو رحمٰن سے خوف رکھتے ہیں ‘اس کے باوجود کہ غیب میں ہیں۔ یہ چند چیزیں ایسی تھیں جو ان دونوں مقامات کے مابین مشترک ہیں‘ لیکن واقعہ یہ ہے کہ سورۃ البقرہ کی ابتدائی پانچ آیات کا مثنیٰ قرآن حکیم میں سورئہ لقمان کی ابتدائی پانچ آیات ہیں۔ حسنِ اتفاق یہ بھی ہےکہ جیسے سورۃ البقرہ کا آغاز ہوا ہے حروفِ مقطعات الٓمّٓ سے ‘ ویسے ہی سورئہ لقمان کا بھی آغاز الٓمّٓ سے ہوتا ہے۔چنانچہ پہلے ہم ان آیات کا مطالعہ کرتے ہیں جس سے یہ اندازہ ہوگاکہ سورۃ البقرہ کی ابتدائی پانچ آیا ت اورسورئہ لقمان کی ابتدائی پانچ آیا ت میں کتنی گہری مشابہت ہے۔

 

{ الٓمّ(۱) تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ(۲) ہُدًی وَّرَحْمَۃً لِّلْمُحْسِنِیْنَ(۳) الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ(۴) اُولٰٓئِکَ عَلٰی ہُدًی مِّنْ رَّبِّہِمْ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵) }
آپ نے نوٹ کیا کہ سورۃ البقرۃ کی پانچویں آیت بھی انہی الفاظ پر ختم ہوئی اور یہاں بھی بعینہٖ وہی الفاظ ہیں: {اُولٰٓـئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ ق وَاُولٰٓـئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵)}  حروفِ مقطعات بھی وہی ہیں۔ وہاں آغاز میں الفاظ آئے: {ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ ٻ فِيْهِ ڔ} یہاں فرمایا: { تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْحَکِیْمِ(۲)}’’یہ آیات ہیں اس کتاب کی جو حکمت بھری ‘ محکم اور پختہ ہے۔‘‘ یہ تقابلی مطالعہ بہت دلچسپی کا حامل ہے ۔سورۃ البقرہ میں فرمایا: {ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ(۲)} یہاں فرمایا: {ہُدًی وَّرَحْمَۃً لِّلْمُحْسِنِیْنَ(۳)} امر ِواقعہ ہے کہ اسلام‘ ایمان اور احسان میں ’’احسان‘‘ کا درجہ بلند ترین ہے ۔تقویٰ درحقیقت وہ روحِ باطنی ہے جو اگر ان تینوں مدارج اور مراحل پر موجود ہے تو حقیقتاً اسلام اسلام ہے‘ ایمان ایمان ہے‘ احسان احسان ہے۔ البتہ بلند ترین درجہ احسان ہے۔ یہاں سورئہ لقمان میں لِلْمُتَّقِیْنَ کی بجائے لِلْمُحْسِنِیْنَ فرمایا‘ لہٰذا محض ہدایت کے لفظ پر کفایت نہیں کیا بلکہ فرمایا:{ہُدًی وَّرَحْمَۃً لِّلْمُحْسِنِیْنَ(۳)}۔ اس کے بعد وہاں تھا: {وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰــھُمْ یُنْفِقُوْنَ(۳)} اور یہاں ہے : {الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ } وہاں انفاق اوریہاں زکوٰۃ کی اصطلاح لائی گئی۔پھر وہاں فرمایا: {وَبِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ(۴)}اوریہاں ہے : {وَہُمْ بِالْاٰخِرَۃِ ہُمْ یُوْقِنُوْنَ(۴) }۔
البتہ خاص طورپر یہ بات لائق ِتوجّہ ہے کہ سورۃ البقرہ کی ابتدائی پانچ آیات کا ایک مضمون ایسا ہے جو سورئہ لقمان کی ابتدائی پانچ آیات میں بالکل نہیں ہے:{وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَـیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ ج }۔ سورۃ البقرہ میں جو یہ الفاظ آئے ہیں اوریہاں نہیں آئے ‘ اس کا سبب نوٹ کرلیجیے۔ سورئہ لقمان مکی سورت ہے اور اہل ِمکّہ کو جو دعوت دی جا ر ہی تھی وہ محمد رسول اللہﷺ پر ایمان لانے کی دعوت تھی۔ اہل ِمکّہ چونکہ آپﷺ سے پہلے کی کسی کتاب پر ایمان نہیں رکھتے تھے‘لہٰذا اس کے تذکرے کی چنداں ضرورت نہیں تھی۔ محض حضورﷺپر اور قرآن حکیم پر ایمان لے آنا ان کے لیے کفایت کرتاتھا۔میں نے عرض کیا تھا کہ سورۃ البقرہ ’’سُورۃُ الاُمَّتَین‘‘ ہے۔ اس کے نصف اوّل میں تمام تر خطاب اہل ِکتاب بالخصوص یہود سے ہے‘ چاہے صراحتاً ہے یا اشارۃً‘اور اُن کے ضمن میں تعریض کے طور پر یہ کہنے کی ضرورت ہے: {وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَـیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ جیعنی جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والے ہیں اور جنہوں نےقرآن حکیم کی ہدایت سے استفادہ کیا ہے ان میں وہ تنگ نظری نہیں ہے کہ صرف اُسی کو مانیں جو حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا گیاہے ‘ بلکہ پوری وسعت ِقلب کے ساتھ وہ ایمان رکھتے ہیں ان تمام کتابوں پر بھی جو آنحضورﷺ سے پہلے نازل ہوئیں۔ اس میں درحقیقت یہود پر تعریض ہے کہ تمہارے اندر وہ تنگ نظری اور تعصب ہے‘ تم اس تنگ دلی میں گرفتار ہو کہ صرف اپنی کتاب کو ماننے پر ہی اکتفا کر رہے ہو اور قرآن مجید پر ایمان نہیں لا رہے ہو۔ چونکہ سورۃ البقرہ مدنی سورت ہے اورسورۃ لقمان مکی سورت ‘ اس اعتبار سےیہ فرق قابلِ ذکر ہے کہ یہاں سورئہ لقمان میں وہ مضمون نہیں ہے جو سورۃالبقرہ میں آیا ہے۔
آج کے ہمارے سبق کے اعتبار سے بھی اہم بات یہ ہے کہ سورۃ البقرۃ کے پہلے چار رکوعوں میں بنی اسرائیل سے صراحتاً خطاب کہیں نہیں ہے‘اگرچہ اصلاً روئے سخن انہی کی طرف ہے۔ اس سورت کے پورے نصف اوّل یعنی اٹھار ہویں رکوع تک میں سے صرف دس درمیانی رکوع وہ ہیں جن میں براہِ راست خطاب ہے۔{یٰبَنِیْٓ اِسْرَاۗءِیْلَ اذْکُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاَوْفُوْا بِعَھْدِیْٓ اُوْفِ بِعَھْدِکُمْ ۚ} (آیت۴۰) سے بات شروع ہو کر پندرہویں رکوع تک مسلسل گفتگو چلی ہے۔ پہلے چاررکوع اور اس کےبعد کے چا ررکوع میں اگرچہ صراحتاً خطاب یہود یا بنی اسرائیل سےنہیں ہےلیکن یہاں بھی روئے سخن انہی کی طرف ہے۔
آیات کا رواں ترجمہ
اب ہم سورۃ البقرۃ کے دوسرے رکوع کامطالعہ شروع کررہے ہیں۔زیر مطالعہ آیات کا پہلے ایک رواں ترجمہ کرلیں تاکہ اندازہ ہوجائے کہ ان میں کیا مضامین آرہے ہیں ‘ پھر کچھ تمہیدی گفتگو کرنا ہوگی۔ ایک اہم مسئلہ ہے کہ یہاں کچھ لوگوں کاذکر ہے لیکن انہیں باقاعدہ معیّن نہیں کیا گیاکہ وہ کون لوگ ہیں ‘ اس کے لیے غور کرنا پڑے گا۔ جو باتیں یہاں کہی جارہی ہیں انہی کے حوالے سے معیّن کرنا ہوگا کہ یہاں خطاب کن سے ہورہا ہے ۔
فرمایا:{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّـقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ}’’اور لوگوں  میں سے بعض وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اللہ پر اوریوم آخرت پر‘‘یا ’’ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اوریوم آخرت پر‘‘----یہ دونوں ترجمے مَیں اس لیے بیان کررہا ہوں کہ اس ضمن میں دو مختلف آراء ہیں کہ یہاں خطاب کن سے ہورہا ہے ۔چنانچہ یہ دونوں ترجمے ان دونوں آراء سے مطابقت رکھنے والے ہیں۔{وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ(۸)} ’’درآنحالیکہ وہ مؤمن نہیں ہیں۔‘‘
{یُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ} ’’وہ دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں اللہ کو اور اہل ایمان کو‘‘ {وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّا اَنْفُسَھُمْ} ’’اور نہیں دھوکا دے رہے مگر صرف اپنے آپ کو‘‘ {وَمَا یَشْعُرُوْنَ(۹)} ’’لیکن انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔‘‘ یا ’’لیکن وہ غور نہیں کرتے۔‘‘ یہ بھی دو مختلف تراجم ہیں ۔
{فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ } ’’اُن کے دلوں میں ایک روگ ہے‘‘ یا ’’ایک روگ تھا‘‘ {فَزَادَھُمُ اللہُ مَرَضًا ۚ} ’’تو بڑھا دیااللہ نے ان کے لیےان کے مرض کو۔‘‘ان کی بیماری میں اور ان کے روگ مَیں اضافہ کر دیا۔{وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ لا بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ(۱۰)} ’’اوران کے لیے دردناک عذاب ہے اس جھوٹ کے سبب جو وہ بولتے رہے۔‘‘ یا دوسرا ترجمہ ہے: ’’ اس جھوٹ کے سبب جو وہ کہتے رہے۔‘‘ اس کی وضاحت بعد میں ہو گی کہ مَیں یہ دوترجمے کیوں بیان کررہاہوں۔
{وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَاتُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ} ’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے مت فساد مچائو زمین میں‘‘{قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) }’’وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔‘‘ہم تو مصلحین ہیں۔ {اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ} ’’آگاہ ہو جائو‘ یقیناً وہی مفسد ہیں ‘‘{وَلٰـکِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)}’’لیکن انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔‘‘ وہ اس کی سمجھ نہیں رکھتے‘ اُنہیں اس کا احساس نہیں ہے۔
{وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ} ’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لائو جیسے کہ ایمان لائے دوسرے لوگ‘‘ یا ’’جیسے کہ ایمان لائے سب لوگ‘‘ {قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَھَاۗءُط } ’’وہ کہتے ہیں: کیا ہم ایمان لائیں جیسے کہ احمق لوگ ایمان لائے ہیں!‘‘ ناسمجھ ‘بے وقوف لوگ ایمان لائےہیں۔ {اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَھَاۗءُ}’’آگاہ ہو جائو! (سن رکھو!) یقیناً وہی احمق ہیں‘‘ وہی ناسمجھ ہیں {وَلٰــکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ(۱۳)}’’لیکن وہ علم نہیں رکھتے۔‘‘
{وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا ښ }’’اور جب ان کی ملاقات ہوتی ہے (یا وہ ملاقات کرتے ہیں) اہل ِایمان سے‘ تو کہتے ہیں ہم ایمان رکھتے ہیں (یا ہم ایمان لے آئے)۔‘‘{وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِھِمْ ۙ} ’’اور جب وہ علیحدہ ہوتے ہیں اپنے ان شیطانوں (اورسرداروں) کی مجلسوں میں‘‘ {قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ ۙ} ’’وہ کہتے ہیں ہم تو آپ ہی کے ساتھ ہیں‘‘ {اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَھْزِئُ‘وْنَ(۱۴)} ’’ہم تو صرف استہزاء کر رہے ہیں۔‘‘ مذاق کر رہے ہیں‘ تمسخر کر رہے ہیں۔ {اَللہُ یَسْتَھْزِیُٔ بِھِمْ} ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے‘‘ یا ’’اللہ ان کا مذاق اُڑا رہاہے‘‘ {وَیَمُدُّھُمْ فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ(۱۵)}’’اوراُن کو ڈھیل دے رہا ہے (ان کی رسّی دراز کر رہا ہے) کہ وہ اپنی سرکشی (اور نافرمانی) میں بڑھتے چلے جا رہے ہیں اندھے ہو کر بغیر بصیرت کے۔‘‘ یعنی اندھے بہرے ہوکر۔ اس کا مفہوم تفصیل سے بعد میں عرض کیا جائے گا۔
{اُولٰۗئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالْھُدٰی} ’’یہ ہیں وہ لوگ کہ جنہوں نے ہدایت کے بدلے (ہدایت کے عوض) گمراہی خرید لی۔‘‘ {فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُھُمْ} ’’تو نہ مفید ہوئی اُن کے حق میں اُن کی یہ تجارت۔‘‘ اُن کا یہ سوداان کے لیے مفید اور نفع بخش نہ ہوا۔{وَمَا کَانُوْا مُھْتَدِیْنَ(۱۶)}’’اور نہ ہی ہوئے وہ ہدایت پانے والے۔‘‘ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مِنْھُمْ ۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَھُمْ ۔
تمہیدی گفتگو
ان آیات میں جس گروہ کا ذکر ہے ‘تقریباً تمام مفسرین نے اس کا مصداق منافقین کو قرار دیا ہے۔ گویا کہ سورۃ البقرہ کے پہلے رکوع میں دو گروہوں کی طرف اشارہ کر دیا گیا۔ ایک مؤمنین صادقین جنہوں نے قرآن حکیم کی ہدایت سے کما حقہ استفادہ کیا۔ درخت کواُس کےپھل سے پہچانا جاتا ہے‘ چنانچہ ہدایت ِقرآنی کےنتائج و ثمرات تمہارے سامنے ہیں۔ دیکھ لو ابو بکر‘عمر‘ عثمان اور علی کو‘دیکھ لو حمزہ کو‘ ابو عبیدہ بن الجراح کو‘ طلحہ کو‘ زبیر کو‘ مصعب بن عمیر کو‘رضی اللہ تعالیٰ عنہم وارضاہم اجمعین۔ یہ وہ جماعت ہے: {اُولٰٓـئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْق وَاُولٰٓـئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵)}۔ دوسرے گروہ کے لیے اگرچہ الفاظ عام ہیں: { اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا} لیکن اس سے مراد خاص ہے یعنی کفارِ قریش بالخصوص ان کے سردار جو کفر پر اَڑ گئے تھے۔ تعصب ‘تکبر اور حسد کی بنا پر شقاق اور ضدم ضدا میں مبتلا ہو گئے تھے۔ان کے بارے میں فرما دیا گیا کہ اے نبیﷺ‘ آپ انہیں  خواہ کتنا ہی سمجھائیں‘ خبردار کریں‘ یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں:{سَوَآئٌ عَلَیْھِمْ ءَاَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۶)} اس میں اشارہ ہو گیا ابو جہل اور ابو لہب وغیرہ کی طرف۔
اب ایک تیسری جماعت ‘مؤمنین ِصادقین اور کھلم کھلا جومعاندین ہیں‘ جو دشمن ہیں‘ کھلم کھلا مخالفین ہیں‘ان کے بین بین کی ایک جماعت ہے۔ہم سب جانتے ہیں کہ ان کے لیے اصطلاحی نام ہے ’’منافق‘‘۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں سارا بیان اسی گروہ کا ہے‘ اگرچہ یہاں لفظ منافق کہیں نہیں آیا۔ نفاق کا لفظ بھی کہیں نہیں آیا‘ لیکن یہ کہ اس پر تقریباً اجماع ہے۔ امام رازی ؒ نے تو کہا ہے : ’’اجمع المفسرون‘‘ یعنی اس پر اجماع ہے تمام مفسرین کاکہ یہاں مراد منافقین ہیں۔ان آیات کا جو ترجمہ آپ کےسامنے آیا ہےیہ خودبھی بول رہا ہے‘بغیر نام لیے گویا کہ اشارہ ہو رہاہےکہ کن لوگوں کے بارے میں گفتگو ہورہی ہے۔یہ کن کے خصائص ہیں‘ کن کی صفات ہیں‘ کن کا طرزِعمل ہے‘ کن کے اقوال ہیں جو نقل کیے جا رہے ہیں!
تاہم ایک منفرد رائے مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے پیش کی ہے‘اور مجھے اس میں بھی کچھ وزن نظر آتا ہے‘چنانچہ مَیں اسے بھی پیش کررہا ہوں ۔ ان کی رائے یہ ہے کہ درحقیقت ان آیات میں یہود ‘ بالخصوص ان کےعلماء کا تذکرہ ہے۔ یہ ان کی تصویرہے جو ان الفاظ میں کھینچی گئی۔ اس رائے کو تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ آپ باقی پوری سورۃالبقرۃ کھنگال جائیے‘ منافقین کا تذکرہ کہیں نہیں آ رہا۔نہ کہیں لفظ نفاق آیا ہے نہ لفظ ِمنافق ۔ یہ تو سورئہ آلِ عمران میں آئے گا یاپھر بڑے شرح وبسط کے ساتھ سورۃ النساء میں مرضِ نفاق پر گفتگو ہوئی ہے ۔ پھر سب سے زیادہ سورۃ التوبہ میں منافقین کا ذکر آیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی مدنی سورتیںجو بعد کے دور کی ہیں‘ اُن میں لفظ منافق موجود ہےاور منافقین کی صفات بیان کی گئی ہیں ‘لیکن اس سورئہ مبارکہ میں جو خطاب ہے وہ یا تو یہود سے ہےیا اہل ِایمان سے۔ نصف ِاوّل میں تمام ترخطاب یہود سے اور نصف ِ ثانی میں  تمام تر خطاب اہل ایمان سے‘ مسلمانوں سے ہے۔اس کی گویا اس بات سے زیادہ مناسبت ہے کہ یہاں بھی اشارہ یہود کی طرف کیا جارہا ہے۔
ایک اور بڑی دلیل بھی اس میں مضمر ہے‘ اس لیے کہ ان کا جو دعویٰ ہے :{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّـقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ} اس میں محمد رسول اللہﷺ پر ایمان لانے کا دعویٰ ہی نہیں ہے۔ ان کا دعویٰ جو نقل کیا گیا کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پراوریومِ آخرپر‘ یہاں صراحت کے ساتھ ان کے حضورﷺپر ایمان لانے کی بات نہیں کی گئی‘ جبکہ منافقین کے بارے میں ہمیں معلوم ہے کہ وہ پورے شد ّو مدّ کے ساتھ کہتے تھے کہ ہم محمدﷺ کو اللہ کا رسول مانتے ہیں۔ جیسے کہ سورۃ المنافقون کی پہلی آیت ہی یہ ہے :
{اِذَا جَآئَ کَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللہِ  وَاللہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ ط وَاللہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَــکٰذِ بُوْنَ(۱)}
’’(اے نبیﷺ !)جب یہ منافق آپ کے پاس آتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بلاشبہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ اور اللہ سے بڑھ کر کس کو معلوم ہوگا کہ آپؐ اُس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹ کہہ رہے ہیں ۔‘‘
ان کا آپﷺ کی رسالت پر ایمان کا دعویٰ تو ہے‘ لیکن درحقیقت انہیں ایمان حاصل نہیں ۔ اس اعتبار سے واقعہ یہ ہے کہ بات میں وزن نظر آتا ہے۔اس لیے کہ آگے چل کرسولہویں رکوع میں الفاظ آئے ہیں:
{فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اہْتَدَوْاج} (آیت۱۳۷)
’’پھر اگر وہ ایمان لائیں اس طور سے جس طور سے کہ (اے مسلمانو!) تم ایمان لائے ہو تو وہ ہدایت یافتہ ہیں۔‘‘
تمہارا ایمان اللہ پر بھی ہے‘ آخرت پر بھی ہے اور سب سے بڑھ کرمحمدرسول اللہﷺ پر ہے۔ اصولی اعتبار سے ‘نظری اعتبار سے‘ علمی اعتبار سے اصل ایمان ایمان باللہ ہے۔ ایمان بالرسول یا ایمان بالرسالت اور ایمان بالآخرہ یا ایمان بالمعاد‘ یہ دونوں فروع (شاخیں) ہیں ایمان باللہ کی۔ رسالت اللہ تعالیٰ کی صفت ِ ہدایت کی توسیع(extention) ہے اور آخرت اللہ تعالیٰ کی صفت ِ عدل کا ظہور ہے۔ اسی لیے ’’ایمانِ مجمل‘‘ میں صرف اللہ تعالیٰ پر ایمان کا ذکر ہے: آمَنْتُ بِاللّٰہِ کَمَا هُوَ بِاَسْمَائِهٖ وَ صِفَاتِهٖ وَقَبِلْتُ جَمِيْعَ اَحْکَامِهٖ، اِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ وَ تَصْدِيْقٌ بِالْقَلْبِ کسی اور شے کاذکر ہی نہیں ۔ اسی طرح عملی اعتبار سے انسان کے رویے کے درست ہونے کے اعتبار سے‘ اہم ترین ایمان ہے ایمان بالآخرۃ۔ آخرت پر یقین ہو گا تو آدمی سیدھا رہے گا۔ بولنے سے پہلے تولے گا ‘ کوئی عمل کرنےسےپہلے سوچے گاکہ میرے لیے جائز ہے یا نہیں!اسی طرح جہاں تک قانونی ایمان کا تعلق ہے‘ اصل ایمان ہے ایمان بالرسولؐ۔ ایمان باللہ بھی وہی معتبر ہو گا جو اللہ تعالیٰ کے اُن اَسماء وصفات کے ساتھ ہو جس کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی ہے۔ ایمان بالآخرۃ بھی وہی معتبر ہو گا جو اُن تمام تفاصیل کے ساتھ ہو جس کا علم انسان کو نبوت و رسالت ہی کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ بعث بعد الموت‘ حشر و نشر ‘ حساب کتاب‘ جزا و سزا‘ جنت و دوزخ‘ ان کی تفاصیل نبوت ورسالت ہی کے ذریعے سے انسان کے علم میں آ سکتی ہیں۔
اس اعتبار سے نوٹ کیجیے کہ سولہویں رکوع میں ساری گفتگو اہل ِکتاب کے بارے میں ہو رہی ہے :
{قُوْلُوْٓا اٰمَنَّا بِاللہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَـیْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓی اِبْرٰہٖمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی وَمَآ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّہِمْ ج لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ز وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَ(۱۳۶) فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٖ فَقَدِ اہْتَدَوْاج}
’’کہو: ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر‘ اور جو کچھ نازل کیا گیا ہماری جانب اور جو کچھ نازل کیا گیا ابراہیم‘ اسماعیل‘ اسحاق‘ یعقوب اور اولادِ یعقوب کی طرف‘ اور جو کچھ دیا گیا موسیٰ اور عیسیٰ کو‘ اور جو کچھ دیا گیا تمام نبیوں کو اُن کے ربّ کی طرف سے۔ ہم اُن میں سے کسی کے مابین تفریق نہیں کرتے‘ اور ہم اُسی کے مطیع فرمان ہیں۔ پھر (اے مسلمانو!) اگر وہ (یہودو نصاریٰ) بھی اُسی طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تب وہ ہدایت پر ہوں گے۔‘‘
اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ سورۃ البقرہ کے پورے نصف اوّل میں سارا روئے سخن یہود کی طرف ہے‘ چنانچہ اس اعتبارسے مجھے مولانا اصلاحی صاحب کی رائے میں کچھ وزن نظر آیاہے۔
دونوں آراء میں تطابق
میرےنزدیک یہ دونوں موقف reconcile کرتے ہیں‘اور وہ مطابقت (reconciliation) اس اصول کے حوالے سے ہو گی کہ قرآن کی ایک تاویل ِخاص ہے‘ ایک تاویل ِعام ۔ تاویل خاص یہ ہے کہ آپ ان آیات کو اُس خاص سیاق و سباق (context) جن میں وہ نازل ہوئیں‘ وہ حالات کیا تھے‘ مخاطب کون تھے‘ اُس وقت کی کیفیات کیا تھیں‘ اس frame of reference میں رکھ کر اُن میں غور و فکر کریں۔ تاویل ِعام کے لیے اصول یہ ہے : الاعتبار لعموم اللفظ لا لخصوص السبب یعنی خصوصِ سبب کے حوالے سے اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ الفاظ پراُن کے عموم کو پیش نظر رکھ کر تاویل کی جائے گی۔ اَبد الآباد کے لیےقرآن مجید اگر ہدایت نامہ ہے تو شانِ نزول سے ہٹ کر بھی عمومِ لفظی کے حوالے سے اس کے مفہوم کو سمجھا جائے گا۔
واقعہ یہ ہے کہ تاویل ِعام کے اعتبار سے یہ آیات صد فی صد منافقین پر منطبق ہوتی ہیں‘ لیکن تاویل خاص کے اعتبار سے ان کا زیادہ انطباق یہود پر ہے‘ اس لیے کہ نفاق کا پودا تو ابھی بالکل شروع ہی میں تھا۔ اس پر تقریباًاجماع ہے کہ سورۃالبقرہ کا زمانہ نزول‘ چند استثناآت کو چھوڑ کر‘ہجرت کے فوراً بعد سے غزوۂ بدر سے متصلاً قبل تک ہے۔ اس وقت تک نفاق ابھی بالکل ابتدائی مراحل میں تھا ‘جو مدینہ میں پروان چڑھا۔ ایک مکی دَور کا نفاق تھا جبکہ ایک خاص مدنی دَور کانفاق ہے ‘ان دونوں میں فرق ہے( بعد میں‘ ان شاء اللہ‘ میں اس کی وضاحت کردوں گا )لیکن ابتدائی مدنی دور میں نفاق کی یہ پنیری درحقیقت یہود ہی کےزیر ِاثر (undergrowth) تھی۔اصل میں تناور درخت علماءِ یہود تھے جن کا مدینہ کے معاشرے پر بڑا اثر تھا۔ ان کے علم اور ان کے تدین کا بڑاشہرہ تھا کہ ان کے پاس شریعت ہے۔یہ مہذب و متمدن لوگ ہیں۔ان کے ہاں قاضی ہیں‘ان کا قانون ہے جس کے تحت فیصلے ہوتے ہیں۔ یہ صاحب ِکتاب ہیں‘ صاحب ِعلم ہیں۔چنانچہ اوس و خزرج کے لوگوں پر ان کا خاص رعب تھا اوروہ لوگ ان کے زیر اثر تھے۔ البتہ سیاسی اعتبار سے یہود دبے ہوئے تھے بمقابلہ اوس و خزرج کے ‘اور وہ یہی کہا کرتے تھے کہ اب آخری نبیؐ کے ظہور کا وقت قریب ہے ‘ جب وہ آئیں گے اور انؐ کے ساتھ مل کر ہم تم سے مقابلہ کریں گے تو اے اوسیو اور خزرجیو! تم ہمارا مقابلہ نہیں کر سکو گے‘ تم ہم پر غالب نہ آسکو گے۔بہرحال تہذیبی و تمدنی اور علمی اعتبار سے غلبہ یہود کا تھا۔ چنانچہ یہ دونوں (منافقین اور یہود) ایک اعتبار سے ایک ہی شے ہیں‘ ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔
قرآن مجید نے یہاں بہت ہی حکمت اختیار فرمائی کہ نام لیے بغیر خصائص بیان کردیے۔ ایک دروں بینی کی دعوت دی جا رہی ہے کہ ہر شخص اپنا جائزہ لے کہ یہ ناپسندیدہ اوصاف کس پر منطبق رہے ہیں! جیسا کہ حضورﷺکا بڑا حکیمانہ طرزِ عمل تھا کہ آپؐ اگرکچھ معیّن لوگوں پر تنقید بھی فرمانا چاہتے تو عموم کے الفاظ میں فرماتے: کیا ہوگیا ہےقوم کو‘کیا ہوگیا ہے لوگوں کو کہ ایسا اورایسا کررہےہیں! بجائے اس کے کہ معیّن کر دیا جائے کہ فلاں شخص نے یہ کیا غلط حرکت کی ہے ‘اُسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ظاہر بات ہےکہ جب نشان دہی ہو جاتی ہےتو ضدم ضدا کے پیدا ہونے کا بھی اندیشہ ہے ‘کچھ ہٹ دھرمی پیدا ہوجاتی ہے کہ اب رسوائی تو ہوہی گئی (ع ہم پہ الزام تو ویسے بھی ہے‘ ایسے ہی سہی!)۔ اس طرح لازماًکچھ تناؤ آجاتاہے اور ایک طرح کی ڈھٹائی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کی بجائے بہتر یہ ہے کہ جب تک اصلاح کی توقع ہو اس وقت تک کسی کو سرعام رُسوا نہ کیا جائے بلکہ ڈھکے چھپے انداز میں بات کی جائے کہ نشان دہی بھی ہو جائے۔ جس کے اندر بھی اصلاح پزیری کا کوئی مادہ ہے تووہ خود اپنے گریبان میں جھانکے۔ {وَمِنَ النَّاسِ....} ’’اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں.....‘‘ کچھ لوگ ایسے ہیں جو یہ کررہے ہیں۔لوگوں کو کیا ہو گیا ہے ؟ما بال اقوامٌ یفعلون کذا وکذا:’’لوگوں کا یہ کیا حال ہے کہ ایسے ایسے کام کررہے ہیں!‘‘ قرآن کریم کا اور نبی اکرمﷺ کا یہ نہایت حکیمانہ انداز ہے۔
جب مَیں یہ مقام پڑھتا ہوں تومجھے یاد آجاتا ہے کہ تقسیم ِہند سے پہلے میرے سکول کے دور میں نئی دہلی میں ’’کناٹ پیلس‘‘ ایک بڑی مارکیٹ ہوا کرتی تھی۔ وہاں ایک جوتوں کی دکان تھی جس کے باہر ایک بہت بڑا ‘کئی فٹ لمبابوٹ لٹکاہوا تھااور اس کے ساتھ انگریزی کا بڑا پیار ا جملہ لکھا ہوا تھا:’’ Free to whom it fits! ‘‘یعنی جس کے پاؤں میںیہ فٹ آئے وہ اسے مفت میں لے جائے! یہ پبلسٹی کا ایک خوبصورت انداز تھا۔ یہاں بھی قرآن مجید نے کردار نگاری کر دی ہے‘ ایک نقشہ کھینچ دیا ہے۔ اب ہر شخص اپنا جائزہ لے لے کہ کہیں یہ اوصاف اور خصائص اس کےاندر تو موجود نہیں ہیں! ایک تو وہ انتہا ہے کہ جو حد سے گزر گئے: {خَتَمَ اللہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰٓی سَمْعِھِمْ ط وَعَلٰی اَبـْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ ز وَّلَـھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(۷)} اور{ءَاَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۶)} جو اُس حد کو پہنچ گیا اُس کا معاملہ جدا ہے لیکن جن میں کوئی اصلاح پزیری کی گنجائش ہے‘ کوئی مادہ موجود ہے وہ دروں بینی کریں‘اپنے گریبان میں جھانکیں۔
اس اعتبار سے میرے نزدیک دونوں باتیں صحیح ہیں۔ تاویل ِخاص کے اعتبار سے کہ یہ آیات ایک خاص contextمیں نازل ہوئیں۔ سورۃ البقرۃ کے نصف ِاوّل میں روئے سخن جن کی جانب ہے اس کے اعتبار سے دیکھیں کہ یہاں مخاطب جو ہیں یا جن کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے (مشار الیہ ) وہ یہود ہیں‘ بالخصوص ان کے علماء۔ اگر اس کے عموم کو لیں‘عمومِ لفظ کو سامنے رکھیں‘ ابد الآباد کے لیے تو یہ منافقین پر منطبق ہوتی ہیں۔
دعوتِ انقلاب اور تین گروہ
واقعہ یہ ہے کہ کسی بھی نئی دعوت کے ردّ ِعمل میں‘ بالخصوص جبکہ وہ دعوت انقلابی ہو تو تین طرزِعمل لازماً پیدا ہوں گے۔ ہمیشہ ہوئے ہیں اور آئندہ بھی ہمیشہ ہوں گے۔ ایک وہ لوگ جو اس دعوت کو اس کی face value پرکھلے دل کے ساتھ‘ پوری ہمت اور جرأت کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ بات صحیح ہے لہٰذا ہم قبول کرتے ہیں۔ نئی دعوت جب بھی آئے گی تو ترک و اختیار کا معاملہ ہوگا۔ جو اسے قبول کرے گا وہ اپنے پرانے معاشرے سے کٹے گا۔ اس کو کچھ نئی باتیں قبول کرنی ہوں گی ‘پرانی چھوڑنی ہوں گی۔ اس کی بنا پر ایک تصادم ہو گا‘ کشمکش ہو گی‘کشاکش ہوگی۔ یہ سارے مسائل آئیں گے۔ یہ تصادم کبھی passive بھی ہو سکتا ہے‘ کبھی active بھی ۔ اس میں جان کے لالے بھی پڑ سکتے ہیں‘ لیکن بہرحال کچھ لوگ ہوتے ہیں کہ جب ایک دفعہ قدم رکھ دیا توپھر ع’’ ہر چہ بادا باد ‘ما کشتی در آب انداختیم!‘‘ کہ ہم نے تو اپنی کشتی پانی میں ڈال دی ‘اب جو ہو سوہو۔ اب یہ کشتی تیرے گی توہم بھی تیریں گے‘ ڈوبے گی تو ہم بھی ڈوبیں گے۔ ہم نے اپنے آپ کو اس کشتی سے وابستہ کر دیا ہے۔
ان کے مقابلے میں کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنی پرانی عصبیت اورتعصب پر اَڑ جاتے ہیں ۔ وہ کھلم کھلامقابلہ کرتے ہیں ‘ مخالفت کرتے ہیں۔ ان کا عناد اور شقاق بالکل سامنے کی شے ہوتا ہے۔وہ سامنے سے وار کرتے ہیں‘ راستہ روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ یہ دوسرا طرزِ عمل ہے۔جن کےاندر اپنے سابقہ عقائد و نظریات کے ساتھ عصبیت ہے وہ اس پر پختگی سے جم جاتے ہیں کہ ہم نئی بات کی مخالفت کریں گے۔
ان کے بین بین ایک تیسرا طبقہ بھی ہوتا ہے۔ انہیں نئی بات اچھی تو لگتی ہے‘ لیکن اسے قبول کرنے کے نتیجے میں جو کشاکش پیدا ہوئی کہ اب کچھ چھوڑنا پڑرہا ہے ‘کچھ نئی چیزیں اختیار کرنا پڑرہی ہیں‘ پرانی دوستیاں ٹوٹ رہی ہیں ‘پرانی رشتہ داریاں ختم ہورہی ہیں‘ گھروں میں اب کشاکش شروع ہو گئی ہے‘تصادم ہے ‘اس میں وہ ثابت قدم نہیں رہ پاتے اور مذبذب ہو کر رہ جاتے ہیں: {مُذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِکَ ق لَآ اِلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ وَلَآ اِلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ ط} (النساء:۱۴۳)۔ وہ ان دونوں طبقات کےدرمیان مذبذب ہو کر رہ جاتے ہیں۔ نہ اِدھر کے‘ نہ اُدھر کے۔ ان کی کوشش مصالحت کی ہوتی ہےکہ کسی طریقے سے یہ کشاکش شدت اختیار نہ کرے۔ کسی طرح رواداری‘ مصالحت اور صلح ِکل کا انداز اختیار کیا جائے تاکہ کسی امتحان کا کوئی آخری مرحلہ نہ آئے کہ اب طے کرو یا اِدھر یا اُدھر! اس سے بچنے کے لیے ان کی کوشش ہوتی ہے کوئی مفاہمت ہو جائے‘ کچھ give and take ہوجائے۔ اصل میں تو ان کے پیشِ نظر اپنا تحفظ ہے۔ جان و دل عزیز ہے ‘ اپنے مفادات عزیز ہیں‘ یا یہ کہ اگر کو ئی چودھراہٹ ہے‘ سابقہ وابستگیوں کی بنا پر کوئی منصب یا منفعت حاصل ہے اس کو چھوڑنے پر طبیعت آمادہ نہیں۔ لیکن نام وہ لیں گے صلح کا‘مصالحت کا‘ رواداری کا کہ دونوں باتیں ماننی چاہئیں۔
یہ تیسرا طبقہ ہر دَور میں رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ جب بھی کسی معاشرے میں کوئی نئی دعوت سامنے آتی ہے ‘ بالخصوص جو انقلابی ہو‘ یہ طبقہ وجود میں آجاتا ہے ۔ کوئی ایسی دعوت بھی ہوسکتی ہے جو علمی و فکری ہو۔ ایک خیال یا نظریہ ہو جس کااس ملک میں قائم نظام پر کوئی اثر نہیں پڑتا ‘کوئی ضرب نہیں لگتی۔ وہ ایک طرح کا cultہے ‘ محض ایک نظریاتی سا معاملہ ہے ۔ایک school of thought ہے‘ لیکن یہ کہ اس سے نظام پر زد پڑرہی ہو ۔ ع’’نظامِ کہنہ کے پاسبانو یہ معرضِ انقلاب میں ہے!‘‘جب یہ انقلابی دعوت سامنے آئے گی تو کشاکش شدیدہو گی‘ polarization بہت نمایاں ہوگی۔ جیسا کہ مَیں نے عرض کیا‘ کچھ لو گ ہر چہ بادا باد کے انداز میں اس کو تسلیم کریں گے ‘ قبول کریں گے‘کچھ صریحاً اورکھلم کھلا مخالفت اوردشمنی پر اَڑجائیں گے‘ جب کہ کچھ لوگ بیچ کے طبقات میں ہوں گے۔ چنانچہ مکی دور میں ایسا ہی ایک کردار سامنے آتا ہے۔ ایک کردار تو ابو جہل کا تھا‘ کھلم کھلا معاند ‘سامنے سے حملہ کرنے والا۔ ایک کردار ابو لہب کا تھا‘ ہرخیر وخوبی سے خالی ‘جبکہ ایک کردار ولید بن مغیرہ کا تھا‘جو مفاہمت اور مصالحت کا داعی تھا۔ اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ غضب اس تیسرے کردارپر بھڑکاہے۔ سورۃالقلم میں آیاہے:
{فَلَا تُطِعِ الْمُکَذِّبِیْنَ(۸)وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُوْنَ(۹)}
’’وہ تو چاہتے ہیں کہ آپؐ ذرا ڈھیلے پڑیں تووہ بھی ڈھیلے پڑ جائیں۔‘‘
اس کے بعد اس کردار کی نشان دہی کرتے ہوئے فرمایا:
{وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلَّافٍ مَّہِیْنٍ(۱۰) ہَمَّازٍمَّشَّآئٍ  بِنَمِیْمٍ(۱۱) مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ (۱۲) عُتُلٍّ  بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ (۱۳) }
’’اور آپؐ مت مانیے کسی ایسے شخص کی بات جو بہت قسمیں کھانے والا انتہائی گھٹیاہے۔ رُو در رُو طعنے دیتا ہے ‘ چغلیاں کھاتا پھرتا ہے۔ خیر سے روکنے والا‘ حد سے بڑھنے والا ‘گنہگار ۔بالکل گنوار ہے ‘اس کے بعد یہ کہ بداصل بھی ہے۔‘‘
اس کی مذمت کےلیے بڑے ہی سخت (strong) الفاظ قرآن نے استعمال کیے ہیں‘اور اس پر تقریباً اجماع ہے کہ یہ ولید بن مغیرہ کامصالحانہ کردار ہےکہ کچھ دو‘ کچھ لو۔ اے محمد(ﷺ)!کچھ اپنی منوا لو‘کچھ اپنی قوم کی مان لو۔ اس تصادم اور فساد کا آخر کیا فائدہ ہے؟ ہر گھر میدانِ جنگ بنا ہوا ہے۔بھائی آپس میں لڑ گئے ہیں ‘اولاد اوروالدین کے مابین جدائی ہوگئی ہے ۔بہرحال یہ تیسرا کردار مکہ میں بھی تھا ۔مصالحت ‘ رواداری اور مفاہمت کےنام پر ‘ کچھ give and take کے ذریعے سے آپس میں صلح کرنے کا انداز۔اوریہی کردارپھر مدینہ کے اندر بھی آیا۔ اس میں یہود بھی تھے اور منافقین بھی۔ جیسے بڑے درختوں کے نیچے گھاس اورکچھ چھوٹے پودےاُگ آتے ہیں‘ اسی انداز میں مدینہ میں نفاق کی یہ فصل اُگی ہے۔ درحقیقت علمائِ یہود ہی کے زیر ِ اثر ‘ان ہی کی undergroth کی حیثیت سے پروان چڑھی ہے۔
اب آئیے ہم ان آیات کے ایک ایک لفظ کے حوالے سے بات کرتے ہیں ۔
آیت ۸ {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّـقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ(۸)}
لفظ النَّاس کا ماخذ
یہاں مِنْ تبعیضیہ ہے‘یعنی لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں... چونکہ یہاں ’’النّاس‘‘ کا لفظ پہلی مرتبہ آرہا ہے‘ تواس کی بھی تھوڑی سی وضاحت کیے دیتا ہوں۔ اِنس اورانسان ( اسم جمع : النَّاس) کے بارے میں تین آراء ہیں کہ اس کا اصل مادہ اور ماخذکیا ہے ۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ’’ نسیان ‘‘سے بنا ہے۔ نَسِیَ یَنْسَی نِسْیَانًا:بھول جانا‘فراموش کر دینا۔ یہ رائے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے: سُمِّیَ اِنْسَانًا لِاَنَّہُ عَھِدَ اِلَیْہِ فَنَسِیَ۔ سورئہ طٰہٰ میں ہے: {وَلَقَدْ عَهِدْنَـآ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَـنَسِىَ} (آیت۱۱۵)’’اوراس سے پہلے ہم نے آدم سے ایک عہد لیا تھا لیکن وہ بھول گیا۔‘‘ تو ’’نَسِیَ‘‘سے ’’اِفعِلَان‘‘ کے وزن پر ’’اِنْسِیَان‘‘ اصل لفظ ہے جس کے درمیان میں سے ایک ’’ی ‘‘ حذف ہو گئی تو ’’اِنْسَان‘‘ بن گیا۔ چنانچہ یہ مبالغے کا صیغہ ہے اِفْعِلان کے وزن پر۔
دوسری رائےیہ ہے کہ یہ اُنس سے بنا ہے‘ یعنی باہمی محبت وموانست‘ ایک دوسرے سے قرب و تعلق۔ اردو میں’’ اُنس‘‘ کا لفظ اور مفہوم معروف ہے۔ عربی میں اَنِسَ (س) وَ اَنُسَ (ک) اَنَسًا وَ اَنَسَۃً وَ اَنَسَ (ض) اَنْسًا کا معنی مانوس ہونے کا ہے اور بِہٖ اور اِلَیْہِ کے ساتھ محبت کرنا‘ سکونِ قلب پانا کے معنوں میں آتا ہے۔ اسی سےیہ بات بھی ذہن میں رکھیے کہ انسان کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ یہ مدنیٔ الطبع حیوان (greogorious animal) ہے۔ آپس میں مانوس ہو کر‘مل جل کر رہنا اس کی طبیعت کا حصہ ہے۔
تیسری رائے یہ ہے کہ یہ ’’آنَسَ‘‘ سےبنا ہے جو دیکھنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں  آیا ہے کہ انہوں نے طور کے ایک جانب آگ دیکھی {اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا}(القصص:۲۹) تو اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ذرا یہاں انتظار کرو‘ میں جا کر دیکھتا ہوں۔ اس اعتبار سے انسان درحقیقت بمقابلہ جِنّ ہے۔ جِنّ کا مادّہ ج ن ن ہے جو مخفی شے کے لیےآتا ہے۔وہ چونکہ غیر مرئی مخلوق ہیں‘ نظر نہیں آتے‘اس لیے وہ جِنّ کہلاتے ہیں۔ انسان ‘انسان اس لیے کہلاتا ہے کہ وہ مرئی ہے‘ نظر آتا ہے ‘دیکھا جا سکتا ہے۔تو یہ تیسری رائے ہے۔ اِنس کی جمع اَنَاسِیَّ ہے۔ سورۃ الفرقان میں آیاہے: {وَاَنَاسِیَّ کَثِیْرًا(۴۹)} ’’اور بہت سے انسانوں کو۔‘‘پھر اسی پر ’’ال‘‘لگتاہے تو ’’الانَاس‘‘کی بجائے ’’النّاس‘‘استعمال ہوتا ہے۔
محمد رسول اللہﷺ کو مانے بغیر ایمان معتبر نہیں!
{وَ مِنَ النَّاسِ}’’اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں‘‘{مَنْ یَّـقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ(۸)}  ’’جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یومِ آخر ت پر درآں حالیکہ وہ مؤمن نہیں ہیں‘‘۔ اٰمَنَّا : ’’ایمان رکھتے ہیں‘‘ کا یہ ترجمہ تاویل خاص کے اعتبار سے ہے۔ یہود کا دعویٰ یہ تھا کہ اے مسلمانو! ہم تو پہلے سے مانتے ہیں اللہ کو اور اس کی توحید کو‘ ہم پہلے سے ایمان رکھتے ہیں آخرت پر ‘ بعث بعد الموت پر‘ لہٰذا ہمیں مؤمن مانو‘ ہم بھی مؤمن ہیں۔ محمد (ﷺ) پر ایمان لاناکوئی ضروری تو نہیں ہے ۔ بظاہر یہ دلیل بڑی منطقی معلوم ہوتی ہے کہ اصولی باتیں تو یہی دو ہیں‘ باقی تو ایک شخص معیّن کا معاملہ ہے‘اسے مانا جائے یا نہ مانا جائے! اصولی اعتبار سے غور کیا جائے کہ ’’ایمانیاتِ ثلاثہ‘‘ میں سے اگر اللہ کو مان لیا جائے توحید کے ساتھ اورآخرت کو مان لیا جائے ‘قانونِ مکافات ومجازات کو تسلیم کرلیا جائےکہ اعمال کے نتائج نکلیں گے تو کیا ایمان کی تکمیل ہو گئی؟ درحقیقت اس آیت ِ مبارکہ : {..... اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّــآ اِلَـیْہِ رٰجِعُوْنَ(۱۵۶)} (البقرۃ) میں یہی دو ایمان جمع کیے گئے ہیں۔یعنی ایک اللہ پر ایمان‘ دوسرا اللہ کی طرف لوٹ جانے پر یقین۔ یہ دو چیزیں اصل ہیں۔ باقی رہا نبوت و رسالت کا معاملہ تو وہ بعض لوگوں کے نزدیک اشخاص کا معاملہ ہے جس کی کوئی خاص اہمیت نہیں۔
مَیں اس بات کا تذکرہ خاص طور پر اس لیے کررہا ہوں کہ ہمارے ہاں ایک بہت بڑا تفسیری مسئلہ اور اشکال رہا ہے۔ سورۃ المائدۃ میں ارشاد ہے:
{ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالصّٰبِئُـوْنَ وَالنَّصٰرٰی مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وعَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۹)}
’’بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے ‘اور وہ لوگ جو یہودی ‘ صابی اور نصاریٰ (عیسائی) ہوئے‘جو کوئی (ان میں سے) ایمان لایا اللہ پر اور یومِ آخرت پر اور اُس نے اچھے عمل کیے تو اُن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غم سے دوچار ہوں گے۔‘‘
یہی مضمون سورۃ البقرہ‘ آیت ۶۲میں بھی آیا ہے۔ وہاں پر بھی ایمان بالرسالت کا ذکر نہیں ہے کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والے ہیں۔ ان دو مقامات پر بہت سے لوگوں نے ڈیرا لگایا ہے کہ نجات کے لیے ایمان بالرسالت کی ضرورت نہیں۔ ان کا موقف ہے کہ ایمانیات میں سے ایمان باللہ اور ایمان بالآخرۃ اور ان کا نتیجہ عمل صالح‘ یہ دونوں چیزیں انسان کی نجات کے لیے کافی ہیں۔ اس فکر کے ڈانڈے ملتے ہیں یہود کے اس فکر کے ساتھ جو اس آیت میں آ رہا ہے: {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّـقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ(۸)} ’’اورلوگوں میں سے کچھ وہ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور روزِ آخرت پردرآں حالیکہ وہ مؤمن نہیں ہیں۔‘‘
اگر یہ آیت منافقین پر منطبق کی جائے تو ترجمہ ہو گا: ’’ہم ایمان لے آئے اللہ پر اور یومِ آخر پر درآںحالیکہ وہ ایمان نہیں لائے۔‘‘ لیکن اگر یہود کا قول پیشِ نظر رکھیں تو اس کی زیادہ مناسبت معلوم ہو رہی ہے اس تاویل ِخاص کے ساتھ کہ یہود حضورﷺپر ایمان نہیں لا رہے تھے لیکن مدّعی تھے کہ ہمیں بھی مؤمن مانو! اس لیے کہ جواصل ایمان ہےیعنی اللہ پر ایمان اور آخرت پر ایمان ‘ اس میں ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ہمارے اور تمہارے مابین یہ قدرِ مشترک ہے ۔جبکہ حقیقتاً وہ مؤمن نہیں ہیں۔ بہرحال اس کا انطباق ان دونوں پر کیا جا سکتا ہے۔
آیت۹{یُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاج وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ(۹)}’’وہ دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں اللہ کو اور اہل ِایمان کو‘ اور نہیں دھوکا دے رہے مگر صرف اپنے آپ کو‘ اورانہیں اس کا شعور نہیں ہے۔‘‘
اللہ کو دھوکا دینا : چہ معنی دارد
خَدَعَ یَخْدَعُ کا معنی ہے کسی کو دھوکا دینا‘ فریب دینا‘ چال بازی کرنا۔ حدیث ِنبویؐ ہے: ((اَلْحَرْبُ خَدْعَۃٌ)) (متفق علیہ) ’’جنگ تو ایک چال ہے۔‘‘بڑا حکیمانہ قول ہے کہ جنگ میں مکر اورحیلہ درست ہے۔ اس کے لیے بڑی پیاری مثال ہے :کجا می نمائی کجا می زنی !جب دوبدو جنگ ہوا کرتی تھی تو اس میں یہی سب سے بڑی چال ہوا کرتی تھی کہ آپ اپنے مقابل پر ظاہر کریں کہ اِدھر سے وار کر رہاہوں لیکن وار کسی اور طرف ہوجائے۔ یہ چال اور دھوکا درحقیقت جنگی حکمت عملی ہے۔ یُخٰدِعُوْنَ بابِ مفاعلہ ہے‘ جس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ دو فریق ایک دوسرے کے مقابلے میں ہوتے ہیں۔ جیسے مُقاتَلہ‘ یہ اُس کو قتل کرناچاہتا ہے وہ اِس کو قتل کرنا چاہتا ہے‘ لیکن ضروری نہیں کہ قتل کرسکیں۔ لہٰذا {یُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا} کا ترجمہ مَیں نے کیا ہے: ’’یہ کوشش کرتے ہیں دھوکا دینے کی اللہ کو اور اہل ِایمان کو۔‘‘
اللہ کو دھوکا دینا کس معنی میں ہے؟ یہ میرے لیے ایک لمحہ ٔفکریہ رہاہے۔ظاہربات ہے کوئی انسان بھی‘ چاہے وہ منافق ہو یا یہود میں سے ہو ‘ یہ گمان تو نہیں کر سکتا کہ اللہ کو دھوکا دیا جا سکتا ہے۔اس ضمن میں مَیں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ رسول ﷺ کو دھوکا دینا درحقیقت اللہ کو دھوکا دینا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
{مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللهَ ج} (النساء:۸۰)
’’ جو اطاعت کرتا ہے رسول (ﷺ)کی اُسی نے درحقیقت اللہ کی اطاعت کی۔‘‘
{اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللهَ ط یَدُ اللهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ ج}
’’( اے نبیﷺ!) جو لوگ آپ سے بیعت کر رہے ہیں وہ درحقیقت اللہ سے بیعت کر رہے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔‘‘ (الفتح:۱۰)
بظاہر تو یہ دو ہی ہاتھ ہیں‘ ایک آپ ﷺ کا دست ِمبارک اوردوسرا آپؐ کےدست ِ مبارک پر بیعت کرنے والے کا ہاتھ ہے‘لیکن ایک تیسرا ہاتھ بھی ہے: {یَدُ اللهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ}۔ چنانچہ یہاں { یُخٰدِعُوْنَ اللہَ} سے مرادمیرے نزدیک یہ ہے کہ یہ اللہ کے رسول ﷺکو دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔واللہ اعلم!
{ وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّا اَنْفُسَھُمْ} ’’اور نہیں دھوکا دے رہے مگر صرف اپنے آپ کو۔‘‘ اب یہاں ثلاثی مجرد سے آیا ہے خَدَعَ یَخْدَعُ (دھوکا دینا)جیسے قَتَلَ یَقْتُلُ ( قتل کر دینا) حتمی اور یقینی بات کے لیے ہے‘ جبکہ مُخَادَعَۃ دھوکا دینے کی کوشش ہے۔ وہ اس کوشش میں ہیں کہ دھوکا دیں اللہ کو ‘ اللہ کے رسول ﷺکو اور اہل ِایمان کو‘ اور نہیں دھوکا دے رہے مگر اپنے آپ کو۔ یہ خوددھوکے اور فریب میں آ گئے ہیں۔ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہماری چال ہمارے حق میں مفید ہو گی درآں حالیکہ یہ اپنی عاقبت برباد کررہے ہیں‘اپنے لیے کانٹے بو رہے ہیں‘ اپنی تباہی کاسامان فراہم کررہے ہیں۔
{وَمَا یَشْعُرُوْنَ(۹)} ’’اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔‘‘ شعور کا بنیادی مفہوم ہے کوئی ایسی چیز جو محسوس ہو۔ ایسی شے جس کا احساس حواسِ خمسہ کے ذریعے حاصل ہوجائے۔ اس سے آگے بڑھ کر اس کے مفہوم میں غور ‘فکر‘ سوچ جیسی معنوی حقیقت کا ادراک بھی شامل ہے۔ یہ لفظ اِن سب کا احاطہ کرتا ہے۔{وَمَا یَشْعُرُوْنَ(۹)} ’’انہیں اس کی سمجھ نہیں ہے‘‘ یا ’’وہ سمجھتے نہیں‘‘ یا ’’انہیں شعور نہیں۔‘‘ شیخ الہندؒ نے ترجمہ کیا ہے : ’’اور وہ نہیں سوچتے۔‘‘
شعوری اور غیر شعوری نفاق
اس اعتبار سے مَیں یہ چاہتاہوں کہ اس ایک لفظ ’’شعور‘‘کے حوالے سے نفاق کی اقسام یہیں واضح ہو جانی چاہئیں‘ اس لیے کہ ان آیات میں دومرتبہ آیا ہے: {وَمَا یَشْعُرُوْنَ(۹)}اور {وَلٰـکِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)}۔دراصل ایک رہا ہے شعوری نفاق‘ جان بوجھ کر نفاق‘ جس کی مثال سورئہ آلِ عمران میں آئی ہے:
{وَقَالَتْ طَّـآئِفَۃٌ مِّنْ اَہْلِ الْـکِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْٓ اُنْــزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّہَارِ وَاکْفُرُوْٓا اٰخِرَہٗ لَـعَلَّـہُمْ یَرْجِعُوْنَ(۷۲)}
’’ اور اہل ِکتاب کے ایک گروہ نے کہا کہ ان اہل ِایمان پر جو چیز نازل کی گئی ہے‘ اس پر ایمان لائو صبح کے وقت اور اس کا انکار کر دو دِن کے آخر میں‘ شاید (اس تدبیر سے) ان میں سے بھی کچھ پِھر جائیں۔‘‘
یہ ایک سازش تھی۔ اہل ِکتاب میں سےیہود کےایک گروہ نےیہ طے کیا کہ ایمان کی یہ جو ساکھ قائم ہو گئی ہے کہ جو ایک دفعہ محمد (ﷺ) کے دامن میں آجائے‘چاہے اس کے ٹکڑے کردیے جائیں وہ کسی طرح بھی اس تعلق کو توڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا‘ اپنی ہر شے قربان کرنے کو تیار ہو جاتا ہے‘ تو اس ساکھ کو توڑنے کی ایک شکل یہ ہے کہ صبح کے وقت ایمان کااعلان کروکہ ہم بھی قرآن پر اور محمد(ﷺ) پرایمان لائے اور شام کو مرتد ہوجائو۔ (مَیں اس میں اضافہ کررہاہوں کہ وہ اپنا پورادن حضور ﷺ کی صحبت میں  گزارتے ہوں گےتاکہ لوگوں پر یہ اثر ڈال سکیں کہ ہم نےتو بہت قریب جاکر دیکھ لیا مگر دُور کےڈھو ل سہانے ہیں۔ہم تو ان پر ایمان لائے ‘ ان کی محفل میں بیٹھے ‘ انہیں قریب سے دیکھ لیامگر کچھ حاصل نہیں ہوا‘ کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس لیے واپس آگئے۔)
{لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ} اس سے ہو سکتا ہے کہ وہ بھی لوٹ آئیں۔یعنی ان کے دلوں میں کچھ نہ کچھ شبہ تو پید اہوجائے گا کہ بھئی !یہ بہت سمجھ دار اور بڑے ثقہ لوگ تھے‘ بڑے خلوص کے ساتھ آئے تھے۔یہ دن بھر محمد ﷺ کی صحبت میں رہے‘آخر کچھ نہ کچھ تو ضرور دیکھا ہو گا‘یونہی تو انسان ساتھ نہیں چھوڑتا۔ اس طرح ہم کچھ نہ کچھ شبہ تو لوگوں کے دلوں میں پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ 
اس کا تجزیہ کیجیےکہ جن لوگوں نے اس سازش کے طور پر صبح ایمان لانے کا اور شام کو مرتد ہونے کااعلان کیاتو انہوں نے جو بھی چند گھنٹے قانونی طور پر اسلام میں گزارے ‘ لوگوں نے تو یہی سمجھا کہ یہ ایمان لے آئے‘ لیکن خود اُن کو معلوم تھا کہ ہم یہ سب کچھ محض دھوکا دینے کے لیے کر رہے ہیں۔ گویا ایمان کی کوئی رمق کسی درجے ایک لمحے کے لیے بھی ان کے دل میں داخل تو کیا ہوتی ‘ان کے قریب بھی نہیں پھٹکی۔ اس لیے کہ انہیں بخوبی معلوم ہے کہ یہ سازش ہے ‘ یہ بہروپ ہے جو ہم بھر رہے ہیں ‘کسی درجے میں بھی ہم ایمان نہیں لائے۔ یہ ہے شعوری نفاق‘ جیسے کوئی ہندو جاسوس مسلمان کا روپ دھار کر آ جائے۔ اخبارات میں ایسی خبریں آتی رہی ہیں کہ کوئی ہندو جاسوس امام مسجد بن کر کسی سرحدی گائوں میں امامت کراتا رہا‘بعد میں معلوم ہوا کہ یہ تو جاسوس تھا۔ ظاہر ہے جو اس کام کے لیے آئے گاوہ تو پوری طرح تیار ہوکر آئے گا۔ ختنہ کراکرآئے گا‘قرآن یاد کرکے ‘ نماز سیکھ کر ‘ داڑھی رکھ کرآئے گا‘ لیکن خود اسے تواپنی حقیقت معلوم ہے ۔ اسی طرح سازش کے طور پر ایمان کا اعلان کرنے والوں کو تو معلوم تھا کہ ہم ایمان نہیں لائے۔
یہ شعوری نفاق بہت کم اور بہت شاذ تھا۔ اکثر و بیشتر نفاق غیر شعوری تھا کہ لوگوں کو خود اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ ہم منافق ہیں ۔وہ اپنے آپ کوسمجھتے تھے کہ ہم ٹھیک ٹھاک مسلمان ہیں۔ ہم ایمان لائے ہیں‘ البتہ کیا ضروری ہے کہ ہر بات مانی جائے؟ کیا ضروری ہے کہ ہر مرحلے پر جب پکارا جائے توہم حاضر ہو جائیں؟ کیا ضروری ہے کہ محمد( ﷺ) کےہر حکم کی تعمیل کی جائے؟ سوچ سمجھ کر ‘ دائیں بائیں دیکھ کر چلنا چاہیے‘آگے پیچھے دیکھنا چاہیے‘ تحفظ ِجان ومال بھی ضروری ہے۔ اس اعتبار سے مکی دور کے نفاق کی نوعیت قوتِ ارادی میں کمزوری کی تھی۔پورے مکی قرآن میں صرف ایک سورۃالعنکبوت ہے جس میں نفاق کا ذکر ہےاور وہ تذکرہ بھی آزمائشوں کے ذیل میں ہے۔ سورۃالعنکبوت کی ابتدائی آیات کا مطالعہ کیجیے : 
{الٓمّٓ (۱) اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(۲) وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ فَلَیَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ(۳)}
’’کیا لوگوں نے یہ سمجھا تھاکہ وہ چھوڑ دیے جائیں گے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لائے اور اُنہیں آزمایا نہ جائے گا؟(اُنہیں امتحان اور ابتلا کی کٹھالی میں سے گزرنانہ پڑے گا ؟)اور ہم نے تو اُن کو بھی آزمایا تھا جو ان سے پہلے (ایمان کے دعوے دار) تھے‘ پس اللہ تو ظاہر کر کے رہے گا اُن کو جو سچے ہیں (حقیقی مؤمن ہیں) اور اُن کو بھی جو جھوٹے ہیں ( جن کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے)۔‘‘
اسی رکوع میں آگے چل کر جو الفاظ آتے ہیں ان کا اس مقام سے تقابل کرلیجیے :
{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللہِ فَاِذَآ اُوْذِیَ فِی اللہِ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللہِ ط وَلَئِنْ جَآئَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّکَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا کُنَّا مَعَکُمْ ط اَوَلَیْسَ اللہُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ(۱۰) وَلَیَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ(۱۱)}
’’اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر‘ مگر جب انہیں اللہ کی راہ میں ایذا پہنچائی جاتی ہے تو وہ لوگوں کی ایذا رسانی کو اللہ کے عذاب کی مانند سمجھ لیتے ہیں۔ اور (اے نبیﷺ!) اگر آپ کے رب کی طرف سے مدد آ جائے تو یہ ضرور کہیں گے کہ ہم آپ لوگوں کے ساتھ ہی تو تھے۔ تو کیا اللہ بخوبی واقف نہیں ہے اس سے جو جہان والوں کے سینوں میں مضمر ہے؟اور یقیناً اللہ ظاہر کر کے رہے گا سچّے اہل ِ ایمان کو بھی اور ظاہر کر کے رہے گا منافقین کو بھی۔‘‘
پورے مکی قرآن میں یہ واحد مقام ہے جہاں لفظ منافق آیاہے۔ فرمایا کہ لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو دعویٰ تو کر بیٹھتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر ‘لیکن جب اللہ کی راہ میں تکلیف آتی ہے ‘ایذا پہنچتی ہے‘ مصیبت آتی ہے‘ آزمائش کی بھٹی میں سے گزرنا پڑتا ہے تو وہ لوگوں کی طرف سے ڈالی ہوئی آزمائش سے ایسے گھبرا اُٹھتے ہیں جیسے کہ اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔ چنانچہ وہ پسپائی اختیار کرتے ہیں ‘ان کے حوصلے جواب دے جاتے ہیں‘اعصاب ڈھیلے پڑجاتے ہیں ۔ فرمایا: اگر تیرے رب کی مدد آ جائے‘ اگرسہولت کا وقت آ جائے تو یہی لوگ پھر آکھڑے ہوں گےاور کہیں گے ہم بھی آپ کے ساتھ تھے ‘ مالِ غنیمت میں سے ہمیں بھی کچھ حصہ ملنا چاہیے۔ تو کیا اللہ تعالیٰ اس سےخوب واقف نہیں ہے جو لوگوں کے سینوں میں پنہاں ہے؟اور اللہ تعالیٰ تو ظاہر کر دے گااُن کو جو حقیقتاً مؤمن ہیں اور پردہ چاک کر دے گا ان کا بھی جو منافق ہیں۔
یہ مکی دور کا نفاق ہے جو یوں سمجھیے کہ ضعف ِارادہ یعنی قوتِ ارادی کی کمی سے عبارت ہے۔ آدمی چلنا چاہتا ہے ۔ایک بات اچھی اور صحیح لگی ہے ‘دل گواہی دیتا ہے کہ حق ہے‘ چلوبھئی قبول کر لو‘ قبول کر لیا‘ لیکن پھر آزمائش آئی‘ رشتے ٹوٹ رہے ہیں‘ گھر سے نکالا جارہا ہے‘ ماریں پڑ رہی ہیں تواب اعصاب ڈھیلے پڑ گئے۔ یہ عزیمت اور ہمت کی کمی ہے‘ قوتِ ارادی کا ضعف ہے۔یہ ہے درحقیقت وہ چیز جس کا تذکرہ کیا گیا سورۃ العنکبوت میں۔
مدینہ منورہ میں آ کر اس میں ایک اور شے کا اضافہ ہوا کہ اب شعوری نفاق بھی شروع ہو گیا‘جس کی مثال وہ سازشی نفاق ہے کہ محض دھوکا دینے کے لیے ایمان کا اعلان کیا جائے۔مدینہ میں ایک اور چیز کا اضافہ بھی ہوا کہ اب قبائلی سطح پر فیصلے ہو رہے تھے۔ ایک گھرانہ طے کرتا ہے کہ ایمان لے آئو! جیسے کہ مدنی دور کے آخر کا نقشہ کھینچا گیا ہے: {وَرَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللہِ اَفْوَاجًا(۲)} (النصر) جب لوگ گروہ در گروہ دائرئہ اسلام میں داخل ہو گئے تو ظاہر بات ہے ہر شخص کے دل میں وہ یقین والا ایمان تو داخل نہیں ہوگیا تھا ۔ ایک قبیلے کی سطح پر طے کیا گیا کہ چلو اب ایمان لے آئو‘اب مزاحمت جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اب محمد( ﷺ) اوراہل ایمان کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔ اس وقت جو لوگ ایمان لاتے تھے ان میں یقیناًمؤمن صادق بھی تھے اوران میں یقیناً منافق بھی ہوں گے کہ ٹھیک ہے اس وقت تو گردن جھکا لو ‘جب موقع آئےگا پھردیکھیں گے۔ یہ گویا شعوری نفاق ہے۔ کچھ ایسے لوگ بھی تھے کہ جنہوں نےکہا بھئی ٹھیک ہے ‘بات تو صحیح ہے ‘دل گواہی دیتا ہے ‘فطرت کی بات ہے‘ ایمان لے آئو! انفرادی سطح پر ایک سنجیدہ اورسوچا سمجھا فیصلہ اورشے ہوتی ہے ‘جب کہ اجتماعی فیصلہ‘ برادری اور قبیلے کی سطح پر فیصلہ‘ دوسری بات ہے۔ ظاہر ہے راستے میں جب تکالیف آئیں گی‘ مصائب آئیں گے تو پھر قدم ڈگمگائیں گے۔ تویہ بھی نفاق کی ایک شکل تھی جو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئی۔ سورۃالحجرات میں ارشاد ہوا:
{قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّاط قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ط وَاِنْ تُطِیْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ لَا یَلِتْکُمْ مِّنْ اَعْمَالِکُمْ شَیْئًاط  اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۴) }
’’یہ بدوکہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔(اے نبیﷺ!ان سے) کہیے: تم ایمان نہیں لائے ہو ‘بلکہ یہ کہو کہ ہم مسلمان ہوگئے( ہم نے اطاعت قبول کرلی) اور ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ۔ لیکن اگر تم اللہ اور اُس کے رسول(ﷺ) کی اطاعت کرتے رہو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں کچھ کمی نہیں کرے گا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا ‘ بہت رحم کرنے والا ہے۔‘‘
اگر دھوکا تمہارے پیشِ نظر نہیں ہے‘ چاہےایمان حقیقتاً دل میں داخل نہ بھی ہوا ہو ‘لیکن اطاعت کرو گے تو دل میں بھی ایمان داخل ہوجائے گا ‘ اس لیے کہ عمل سے بھی ایمان پیدا ہوتا ہے اوراللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کے اجروثواب میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔ البتہ یہ جان لو کہ حقیقی مؤمن کو ن ہے:
{ اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ط اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ(۱۵) }
’’حقیقی مؤمن تو وہی ہیں جو ایمان لائے اللہ پر اوراُس کے رسول (ﷺ) پر ‘ پھر شک میں ہرگز نہیں پڑے اوراُنہوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔صرف یہی ہیں سچے مؤمن ۔‘‘
یہ ہیں درحقیقت نفاق کی مختلف صورتیں جو{وَمَایَشْعُرُوْنَ} کے حوالے سے مَیں نے چاہا کہ یہیں پر واضح ہوجائیں۔ (جاری ہے)