(ابوظبی سیریز) عظمت ِ قرآن(۲) - ڈاکٹر اسرار احمد

7 /

عظمت ِقرآن (۲)ڈاکٹر اسرار احمدؒ

اَلْفَضْلُ مَا شَھِدَتْ بِہِ الْاَعْدَاء
قرآن مجید کی حقانیت (authenticity) کا پہلو اوراس کے ذریعے تاریخ ِانسانی کا عظیم ترین انقلاب برپا ہونا‘ ان دو حقائق کا اعتراف تو غیر مسلم بھی کرنے پر مجبور ہیں۔ ایچ جی ویلز نے انسانی تاریخ پر دو کتابیں لکھیں۔ The Concise History of the World میں اُس نے حضورﷺ کی شخصیت پرتعددِ ازواج کے حوالے سے رکیک حملے کیے ہیں۔ دراصل اُن لوگوں کا آئیڈیل حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ(علیہم السلام) کی شخصیات ہیں جنہوں نےایک شادی بھی نہیں کی‘ تجرد کی زندگی بسر کی ۔لہٰذا اس کے نزدیک شادی ایک گھٹیا فعل ہے‘جبکہ رسول اللہﷺ نے گیارہ نکاح کیے۔ اس کے باوجود ایچ جی ویلز نے خطبہ حجۃ الوداع کے تاریخی جملے پورے کے پورے اپنی کتاب میں quoteکیے:
’’کسی عربی کو کسی عجمی پر‘ کسی عجمی کو کسی عربی پر‘کسی گورے کو کسی کالے پر‘ کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت نہیں ‘سوائے تقویٰ کے۔تم سب کے سب آدم کی اولاد ہو اور آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی تھی۔‘‘
ان جملوں کا حوالہ دے کر وہ لکھتا ہے :
" Although the sermons of human freedom, fraternity and equality were said before, we find a lot of these sermons in Jesus of Nazareth, but it must be admitted that it was Mohammad who for the first time in history established a society based on these principles."

’’اگرچہ انسانی حریت ‘ مساوات اور اخوت کے وعظ تو دنیا میں پہلے بھی بہت کہے گئے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ ان چیزوں کے بارے میں مسیح ناصری کے ہاں بھی بہت سے مواعظ حسنہ ملتے ہیں‘ لیکن یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ یہ صرف محمد عربی (ﷺ) ہی تھے جنہوں نے تاریخ انسانی میں پہلی مرتبہ بالفعل ایک باضابطہ معاشرہ انہی اصولوں پر قائم کر کے دکھایا۔‘‘
اسی طرح گاندھی جی نے ۲۷ جولائی ۱۹۳۷ء کو صوبائی انتخابات کے بعد کانگریسی وزراءکوسادہ زندگی گزارنےکا مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا : ’’میں رام چندر اور کرشن جی کا حوالہ نہیں دے سکتا کیونکہ وہ تاریخی ہستیاں نہیں تھیں۔ میں مجبور ہوں کہ ابوبکر اور عمر(رضی اللہ تعالیٰ عنہما) کے نام پیش کروں کیونکہ وہ عظیم الشان فرماں روا یعنی بہترین حکمران تھے مگر انہوں نے حکمرانی کے باوجود سادہ اور فقیرانہ زندگی بسر کی۔‘‘ (ہفت روزہ ’’ہریجن‘‘)عربی میں کہا جاتا ہے: اَلْفَضْلُ مَا شَھِدَتْ بِہِ الْاَعْدَاء ( اصل فضیلت وہ ہے جس کا دشمن اعتراف کرے)۔ جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ مہاتما گاندھی اگر یہ اعتراف کر رہا ہے کہ حکومت کرنے کے اعتبار سے انسانی تاریخ کی عظیم شخصیات ابوبکر اور عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) ہیں تو یہ دونوں پھل درحقیقت شجر نبوت کے ہیں جن کی تربیت رسول اللہ ﷺ نے کی تھی۔ لہٰذا ہمیں ان اعتبارات سے قرآن مجید کےاعجاز کے پہلوؤں کی جانب خود بھی توجہ کرنی چاہیے اور دوسروں کو بھی متوجہ کرانا چاہیے۔
قرآن مجید کو کلامِ الٰہی ماننے والوں کو چاہیے کہ اس کی عظمت کےصحیح ادراک و شعور کے لیے قرآن مجید ہی پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی کیا مدح فرمائی ہے۔ فارسی کا ایک مصرعہ ہے ع ’’قدرِ گوہر شاہ داند یا بداند جوہری!‘‘ یعنی ہیرے جواہرات کی قدروقیمت کا اصل اندازہ یا تو بادشاہ کو ہوتا ہے یا پھرجوہری کو ۔ عام آدمی ہیرے اور کانچ کے ٹکڑے میں فرق شاید ہی محسوس کر سکے۔ لہٰذا قرآن مجید کی عظمت کا صحیح ادراک یا تو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے فرامین کی رُو سے کیا جا سکتا ہے یا محمدرسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ کی روشنی میں ۔اسی لیے مَیں نے اپنے خطاب کے آغاز میں قرآن مجید کے تین مقامات سے آیات پڑھی ہیں: سورۃ الرحمٰن کی ابتدائی چار آیات‘ سورئہ یونس کی دو آیات‘ سورۃ الحشر کی ایک آیت اور تین احادیث ِنبویہﷺ سنائی ہیں۔ اب ہم ان آیات اور احادیث کی تھوڑی سی تشریح سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی روشنی میں قرآن مجید کی عظمت کا نقش ہمارے قلوب و اذہان پر قائم ہوسکے۔
کلام : متکلم کی ذات کا عکس
قرآن مجید ایک کلام ہے اور کسی بھی کلام کی عظمت متکلم کی عظمت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کَلَامُ الْمُلُوْکِ مُلُوْکُ الْکَلامِ یعنی بادشاہ کا کلام‘ کلاموں کا بادشاہ ہوتا ہے۔ بادشاہ جب گفتگو کرے گا تو شاہانہ انداز سے کرے گا۔کوئی بھکاری یا سبزی فروش جس طرح کلام کرے گا ‘اس کے دو جملے بولنے سے ہی اس کے علم‘ عقل‘ تہذیب اور تمدن کے معیار کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ کلام دراصل متکلم کی پوری شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔اس کا مقام و مرتبہ‘ ذہن کی بلندی‘ فکر کی گہرائی‘ افق ذہنی کی وسعت کا اندازہ اس کے کلام سے ہو جاتا ہے ۔یہ تو اللہ تعالیٰ کاکلام ہے۔ صفاتِ الٰہی کا ایک کامل عکس قرآن مجید میں موجود ہے۔ اس لطیف حقیقت کو سورۃ الحشر کی آیت ۲۱میں ایک تمثیل کے پیرائے میں یوں بیان کیا گیاہے:
{لَــوْ اَنْزَلْنَا ہٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْـتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللہِ ط وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُہَا لِلنَّاسِ لَـعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ (۲۱)}
’’اوراگر ہم اس قرآن کو نازل کردیتے کسی پہاڑ پر تو یقیناً (اے نبی ﷺ) آپ دیکھتے اس کو کہ وہ دب جاتا اور پھٹ جاتا اللہ کے خوف سے۔ یہ مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور وفکر کریں۔ ‘‘
یہ نکتہ قابل غور ہے کہ اگر میں اور آپ قرآن مجید کی عظمت سے واقف نہیں ہوں گے تو اِس کے لیے وقت کیسے لگا ئیں گے! آج کے انسان کا طرزِ عمل بڑا خود پسندانہ ہے۔ وہ کسی ایسے کام کے لیے ہی وقت لگاتا ہے جس میں اس کو فائدہ ہو‘ اور اگر فائدہ نہ نظر آرہا ہو تو اس کی جانب متوجہ نہیں ہوتا ۔ اگر ہمیں قرآن مجید کی عظمت کا ادراک ہو جائے تو ہم اپنا پورا وقت اس کے لیے وقف کریں گے‘ اس کو سمجھیں گے‘ اس کی گہرائیوں میں غوطہ زنی کریں گے ۔بقول علامہ اقبال: ع ’’قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں!‘‘ اگر اس کی عظمت کا اِدراک نہیں ہوا تو بس یہ کہ اتفاقاً کبھی کھول لیا ‘ پڑ ھ لیا‘ وہ بھی بغیرسمجھے اور اس کا ثواب کسی اور کو پہنچا دیا۔ آج تو یہ کلام حصولِ ثواب کے لیے بھی نہیں‘ بلکہ ایصالِ ثواب ہی کے لیے رہ گیا ہے۔ علامہ اقبال نے فارسی شعر میں اس کیفیت کی یوں ترجمانی کی ہے:
بآیاتش ترا کارے جز ایں نیست
کہ از یاسینِ او آساں بمیری!
’’اے مسلمان! اس قرآن کی عظیم آیات سے آج تمہارا سرو کار بس اتنا رہ گیا ہے کہ جب کوئی شخص حالت ِنزع میں ہو تو سورئہ یٰسٓ پڑھ لی جائے تاکہ اس کی جان آسانی سے نکل جائے۔‘‘
یہاں یہ مقصود نہیں کہ یٰسٓ پڑھی نہ جائے۔حدیث میں ایسے موقع پر اسے پڑھنے کے لیے کہا گیا ہے‘ اس لیے ضرور پڑھنی چاہیے لیکن اس کا صرف یہی مصرف نہ رہ جائے ۔ یہ تو انسانی زندگی کی رہنما کتاب بن کر نازل ہوئی ہے لیکن اس اعتبار سے اس جانب توجہ نہیں کی جا رہی ۔چنانچہ قرآن مجیدنے اپنی عظمت کے بیان کے لیے سورۃ الحشر کی آیت ۲۱ میں یہ تمثیل بیان کی۔
مفسرین اصول بیان کرتے ہیں: اَلْقُرْآنُ یُفَسِّرُ بَعْضُہُ بَعْضًا یعنی قرآن کا ایک حصہ دوسرے حصہ کی تفسیر کرتا ہے۔سورۃ الاعراف ‘آیت۱۴۳میں یہ واقعہ آیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلامی کاشرف حاصل کرنے گئے تو درِپردہ گفتگو ہوئی۔ ایسی صورت حال میں کہ آواز آرہی ہو لیکن سامنے والا نظر نہ آرہا ہو تو یقیناً دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ یہ پردہ ذرا ساہٹ جائے اور دیدار کا شرف بھی حاصل ہوجائے۔ لہٰذا کئی بار شرفِ ہم کلامی حاصل ہونے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بڑی ہمت و جرأت سے درخواست کی: {رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْکَ ط} ’’اے میرے ربّ! تُو مجھے یارائے نظر دے کہ مَیں تجھے دیکھ سکوں۔‘‘ اے پروردگار! میرے شوق و اشتیاق کو دیکھ کر مجھے دیدار بھی عطا فرمادے۔جواب آیا: { لَنْ تَرٰىنِیْ} ’’تُو مجھے ہرگز نہ دیکھے گا۔‘‘ تم اس جسد ظاہری سے میرا دیدار نہیں کر سکتے ہو۔ ہم تم کو ایک مثال دیتے ہیں: {وَلٰکِنِ انْظُرْ اِلَی الْجَبَلِ }’’لیکن تم ذرا اُس پہاڑ کی طرف دیکھو۔‘‘ ہم اپنی ایک تجلی اس پر ڈالیں گے۔ {فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِیْ ج} ’’پھر اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو تم مجھے دیکھ لو گے۔‘‘ یعنی اگر پہاڑ ہماری تجلی کا متحمل ہو گیا تو تم بھی سوچنا کہ شاید ہمیں دیکھ سکو۔{فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوْسٰی صَعِقًاج} تو جب اس کے ربّ نے اپنی تجلی پہاڑ پر ڈالی تو وہ پھٹ گیا اور موسیٰ بے ہوش ہو کر گِر پڑے ۔‘‘ ابھی تجلی براہِ راست موسیٰ پر نہیں پڑی تھی۔یہ تجلیٔ ربانی کا بالواسطہ مشاہدہ تھا۔
نتیجہ یہ نکلا کہ جو تاثیر ذاتِ ربانی کی تجلی کی ہے ‘وہی تاثیر کلامِ ربانی کی ہے بشرطیکہ ہمیں اس کا ادراک و شعور ہواور ہمارے دل اُس استعداد اور صلا حیت کو اپنے اندر پیدا کریں۔اس کو بھی علامہ اقبال نے خوب کہا ہے:
فاش گویم آنچہ در دل مضمر است
ایں کتابے نیست چیزے دیگر است
مثلِ حق پنہاں و ہم پیدا ست ایں
زندہ و پائندہ و گویا ست ایں!
’’(اس کتاب کے بارے میں) جو بات میرے دل میں پوشیدہ ہے اسے اعلانیہ ہی کہہ گزروں؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب نہیں کچھ اور ہی شے ہے! یہ ذاتِ حق سبحانہ و تعالیٰ (کا کلام ہے لہٰذا اُسی) کے مانند پوشیدہ بھی ہے اور ظاہر بھی۔ اور جیتی جاگتی بولتی بھی ہے اور ہمیشہ قائم رہنے والی بھی! ‘‘
عالمی انقلاب کا پیش خیمہ
اللہ تعالیٰ کی کُل صفاتِ ربانیہ ‘ظاہر و باطن کی جتنی بھی صفات ہیں‘ وہی صفات اس کلام کی ہیں۔ اِس دور میں عظمت ِقرآنی کا سب سے زیادہ شعور رکھنے والے علامہ اقبال ہیں۔ قرآن مجید کی عظمت کے بارے میں ایسےالفاظ کہیں اور نہیں مل سکتے۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں :
چوں بجاں در رفت جاں دیگر شود
جاں چو دیگر شد‘ جہاں دیگر شود
’’(یہ کتاب حکیم) جب کسی کے باطن میں سرایت کرجاتی ہے تو اُس کے اندر ایک انقلاب برپا ہوجاتا ہے ‘اور جب کسی کے اندر کی دنیا بدل جاتی ہے تو اُس کے لیے پوری دنیا ہی انقلاب کی زد میں آجاتی ہے!‘‘
اور پھر اندر کا یہی انقلاب ہی عالمی انقلاب کا پیش خیمہ بنتا ہے۔جو انقلاب باہر سے ٹھونسا گیا ہو‘ وہ خارجی دبائو ختم ہونے کی صورت میں باقی نہیں رہتا۔ انسانی شخصیتوں میں جب اندر سے تبدیلی ابھرتی ہے تب ہی انسان کا پورا وجود بدلتا ہے ‘اور پھر وہ عالمی انقلاب کا سبب بنتا ہے‘جیسا کہ محمد رسول اللہﷺ کے انقلاب کی صورت میں ہوا۔
واقعہ یہ ہے کہ یہودی عبد اللہ بن سبا کی سازش کی کامیابی کی وجہ سے ہی مسلمانوں کا باہمی اختلاف ہوا۔ اسی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت‘ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں مسلمانوں کے درمیان جنگ ِجمل‘ جنگ صِفّین‘ جنگِ نہروان ہوئیں۔ اگر یہ سب نہ ہوتا تو جس رفتار سے انقلابِ محمدیﷺ کی توسیع ہو رہی تھی ‘ دنیا کی کوئی طاقت اسے روکنے والی نہ تھی۔ علامہ اقبال نے اس کا بھی نقشہ یوں کھینچا : ع’’ تھمتا نہ تھا کسی سے سیلِ رواں ہمارا!‘‘
حضور اکرم ﷺ نے قرآن مجید کے ذریعے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں اندرونی انقلاب برپا کیا۔ اس اندرونی انقلاب نے پورے عرب میں انقلاب کی شکل اختیارکی۔ اس انقلاب میں اس قدر قوت تھی کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہدِ خلافت میں بیس برس کے اندر ایک عظیم اسلامی مملکت قائم ہو چکی تھی ۔ ایسا تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔یہ معاملہ اگر چلتا رہتا تو اس کو روکنے والی کوئی طاقت نہیں تھی کیونکہ سلطنت ِروما اور سلطنت ِکسریٰ ختم ہو چکی تھیں۔درحقیقت یہودی سازش نے مسلمانوں کو اندر سے سبوتاژ کیا۔ بہرحال‘ انقلابِ محمدی ﷺکا اصل طریقہ اندرونی تبدیلی تھا ‘جیسے علامہ اقبال نے کہا:؎
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزولِ کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی‘ نہ صاحب ِکشاف
یعنی قرآن مجید کے حوالہ سے یہ محسوس کرو کہ جیسے یہ تمہارے دل پر نازل ہو رہا ہے۔حافظ ابن قیم ؒ فرماتے ہیں :’ ’قرآن کے بعض پڑھنے والے ایسے ہیں کہ جب وہ قرآن مجید پڑھتے ہیں تو یوں محسوس کرتے ہیں جیسےمصحف پر لکھا ہوا نہیں بلکہ ان کے اپنے دل پر کندہ ہے۔‘‘ قرآن مجید اور انسانی فطرت میں اتنی کامل مطابقت ہےکہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ جیسے یہ کتاب ان صفحات پر نہیں بلکہ لوحِ قلب پرلکھی ہے جہاں سے انسان اُسے پڑھ رہا ہے۔ عظمت ِقرآن کے اس پہلوکا شعورہر ایک کے لیے ممکن نہیں‘بلکہ وہی شخص جس کا باطن بیدار ہو چکا ہو‘ جس کی روح بیدار ہو چکی ہو ‘ وہ قرآن مجیدکی اس تاثیر کو محسوس کرے گا۔
تمام نوعِ انسانی کے لیے افادیت
کسی کلام کی عظمت کا دوسرا پہلو نوعِ انسانی کے لیےاس کی افادیت کے اعتبار سے ہو سکتا ہے۔یہ مقام سورئہ یونس کا ہے جس کی دو آیات عظمت ِ قرآن کا عظیم خزانہ ہیں:
{یٰٓـاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ شِفَآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِلا وَ ہُدًی وَّ رَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۵۷) قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَ بِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْاط  ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ (۵۸)}
’’اے لوگو! تمہارے پاس آ چکی ہے نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور شفا ان (بیماریوں ) کے لیے جو سینوں میں ہیں اور مؤمنوں کے لیے ہدایت اور رحمت۔ (اے نبیﷺ!) کہہ دیجیے کہ یہ (قرآن) اللہ کا فضل اور اس کی رحمت ہے ‘ پس چاہیے کہ وہ اس پر خوشیاں منائیں ۔ یہ ان چیزوں سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔‘‘
یہاں پر چار اہم الفاظ آئے ہیں :موعظہ ‘شفا‘ ہدایت اور رحمت۔ ان کی ترتیب پر غور کریں۔ پہلا لفظ مَوْعِظَۃ (یعنی نصیحت) وعظ سے نکلا ہے۔وہ بات جس سے دل نرم ہو جائے‘ دل کے اندرگداز پیدا کرنے والی شے۔ آج ہم نے قرآن مجیدکو محض ایک مقدس کتاب سمجھ لیا ہے‘ حصولِ ثواب یا ایصالِ ثواب کا آلہ۔ در اصل اعلیٰ سے اعلیٰ حکیمانہ بات بھی سخت دل پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ انسان کے دل کے اوپر ایک غلاف (crust) آجاتا ہے‘ جیسا کہ یہود کے علماء کے بارے میں سورۃ البقرۃ میں فرمایا گیا :
{وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا غُلْفٌ ط  بَلْ لَّـعَنَہُمُ اللہُ بِکُفْرِہِمْ فَقَلِیْلًا مَّا یُؤْمِنُوْنَ(۸۸)}
’’اور انہوں نے کہا کہ ہمارے دل تو غلافوں میں بند ہیں‘ بلکہ (حقیقت میں تو) اُن پر لعنت ہو چکی ہے اللہ کی طرف سے اُن کے کفر کی وجہ سے‘ پس اب کم ہی (ہوں گے ان میں سے جو) ایمان لائیں گے۔‘‘
مزید ارشاد ہوا:
{ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُـکُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً ط وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الْاَنْہٰرُط  وَاِنَّ مِنْہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَآئُ ط وَاِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللہِ ط} (آیت۷۴)
’’پھراس سب کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے جیسے پتھر یا اُن سے بھی زیادہ سخت۔ اور پتھروں میں تو وہ بھی ہیں جن سے نہریں جاری ہوجاتی ہیں‘ اور اُن میں ایسے بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں اور اُن سے پانی بہ نکلتا ہے ‘اور اُن میں ایسے بھی ہیں جو اللہ کے خوف سے گِر جاتے ہیں۔ ‘‘
واقعہ یہ ہے کہ جب انسان کا دل سخت ہو جائے تو پتھر سے بھی زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔ پھر دنیا کی کوئی شے اس کی سختی کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ چٹیل زمین کی سختی کو پہلے نرم کرنا ہو گا‘ اُس زمین پر ہل چلے گا تو بارش فائدہ دے گی ‘ورنہ چٹیل زمین پر توپانی بہ جائے گا‘ زمین میں جذب نہیں ہوگا ۔ چنانچہ پہلا لفظ استعمال کیا گیا موعظہ۔قرآن مجیدوعظ ہے‘ نصیحت ہے‘ دلوں کو نرم کرتا ہے۔ دلوں پر جوسخت تہ جم جاتی ہے اسے توڑتا ہے ‘اس پر ہل چلاتا ہے۔ پھر جب یہ جذب ہوجاتا ہے تو سینوں کے اندر موجود امراض کے لیے شفا ہے۔
علامہ اقبال نے ان ہی دو اعتبارات سے اُمّت ِمسلمہ کی حالت پر مرثیہ کہا کہ مسلمانوں نے اس قرآن مجید کو نہ موعظہ کے لیے استعمال کیا اور نہ تزکیۂنفس کے لیے‘ بلکہ اسے صرف جان آسانی سے نکالنے کا نسخہ بنا لیا‘ یا پھر ایصالِ ثواب کا آلہ۔ان کے فارسی اشعار ہیں:

واعظِ دستاں زنِ افسانہ بند

معنیٔ او پست و حرفِ اُو بلند

از خطیب و دیلمی گفتارِ اُو

با ضعیف و شاذ و مرسل کارِ اُو

’’ واعظ کا حال یہ ہے کہ ہاتھ بھی خوب چلاتا ہے اور سماں بھی خوب باندھ دیتا ہے اور اس کے الفاظ بھی پُرشکوہ اور بلند و بالا ہیں لیکن معنی کے اعتبار سے نہایت پست اور ہلکے!اس کی ساری گفتگو (بجائے قرآن کے) یا تو خطیب بغدادیؒ سے ماخوذ ہوتی ہے یا امام دیلمیؒ سے‘ اور اس کا سارا سروکار بس ضعیف‘ شاذ اور مرسل حدیثوں سے رہ گیا ہے!‘‘
وہ بخاری ‘مسلم اور ترمذی کی روایات پیش نہیں کر رہے۔ ضعیف ‘شاذ‘ مرسل روایات بیان کر رہے ہیں جن کی سند حضورﷺ سے متصل نہیں۔ سب سے بڑا موعظہ تو قرآن مجید ہے: {فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ} (ق:۴۵) ’’(اے نبیﷺ!) آپ اس قرآن کے ذریعے نصیحت کیجیے۔‘‘ یہ قرآن ہی دل کی سختی ختم کرے گا ‘ گدازپیدا کرے گا۔ پھر علامہ اقبال کہتے ہیں:

صوفیٔ پشمینہ پوشِ حال مست

از شرابِ نغمۂ قوال مست!

آتش از شعرِ عراقی در دلش

در نمی سازد بقرآں محفلش’’اونی لباس میں ملبوس اور اپنے حال میں مست صوفی قو ّال کے نغمے کی شراب ہی سے مدہوش ہے! اس کے دل میں عراقی کے کسی شعر سے تو آگ سی لگ جاتی ہے لیکن اس کی محفل میں قرآن کا کہیں گزر نہیں! ‘‘
صوفیاء ِ حق کے علاوہ تصوف کے جو معروف حلقے ہیں وہاں قوالی پر مستی و حال آتا ہے۔ اس سے کیف و سرور توحاصل ہورہا ہے مگر ان کی محفل میں قرآن مجید کا کہیں ذکر نہیں جب کہ حضورﷺ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمائش کر کے قرآن مجید سنا کرتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ((اِقْرَأْ عَلَیَّ))’’مجھے قرآن سناؤ!‘‘ مَیں نے عرض کیا : ’’آپؐ کو سناؤں ؟ آپؐ پرتو نازل ہوا ہے۔‘‘ آپؐ نے فرمایا: ’’ہاں! مجھے کسی اور سے سن کر کچھ اور لطف حاصل ہوتا ہے۔‘‘ اب چشم تصور سے دیکھیے کہ حضور ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی محفل میں تشریف فرما ہیں۔ سب ادب سے ایسے ساکت و صامت بیٹھے ہیں جیسے ان کے سروں پر پرندے ہوں کہ ذرا سی جنبش کریں گے تو وہ اُڑجائیں گے۔ ایسی محفل میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورۃ النساء پڑھنی شروع کی اور جب اس آیت پر پہنچے :
{فَکَیْفَ اِذَا جِئْـنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَہِیْدٍ وَّجِئْنَا بِکَ عَلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ شَہِیْدًا(۴۱)}
’’پس اُس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہراُمّت پر ایک گواہ لے کر آئیں گے اور (اے نبیﷺ) آپ کوان کے خلاف گواہ بنا کر لائیں گے۔‘‘
تو حضور ﷺ نے فرمایا: ((حَسْبُکَ الْآنَ))’’اب بس کرو!‘‘ جب حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نگاہ اٹھا کر دیکھا تو حضور ﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ (متفق علیہ)
یہ اُس مسنون محفل سماع کا نقشہ ہے۔ کاش کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے!قرآن مجیدکے اندر یقیناً گداز ہے ۔جیسا کہ سورۃ المائدۃ میں فرمایا گیا:
{وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُــوْا مِنَ الْحَقِّ ج } (آیت۸۲)
’’اور جب انہوں نے سنا وہ (کلام) جو نازل کیا گیا رسول(ﷺ) کی طرف تو تم ان کی آنکھوں کو دیکھتے ہو کہ وہ بہ نکلیں آنسوؤں سے اس وجہ سے جو انہوں نے پہچان لیا حق میں سے۔‘‘
دوسری چیز یہ ہےکہ سینوں میں جو روگ ہیں ان کا علاج یعنی تزکیۂ نفس کا ذریعہ درحقیقت قرآن مجیدہے۔حب ِدنیا‘ حب مال‘ حب شہرت‘ حب اقتدار(urge to dominate) یہ انسان کے جبلی تقاضے ہیں جن کی وجہ سے فساد رونما ہوتا ہے۔ ارشاد ہوا: {اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ(۱) حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ(۲)} ’’کثرت اور بہتات کی طلب تمہیں غافل کیے رکھتی ہے‘ یہاں تک کہ تم قبروں تک جا پہنچتے ہو۔‘‘ جس کے پاس دس دس نسلوں کے لیے کھانے کو موجود ہے‘ اس کی بھی مزید کی حرص ختم نہیں ہوتی۔ دل کے اِن روگوں اور سینے کے امراض کا علاج قرآن مجید ہی ہے۔
تیسرا لفظ ھُدًی (ہدایت) ہے۔ دراصل جب پہلی دونوں چیزیں ہو ں گی تو ہی ہدایت کی افادیت ہے ۔جب تک دل میں گداز اور نرمی نہ ہو‘ ہدایت بے کار ہے۔ ہدایت مؤثر نہیں ہے جب تک نیت درست نہ ہو۔کوئی شخص بڑا عالم ہو لیکن اپنے علم کو دنیا بنانے کا ذریعہ بنالے تو قرآن مجید روزِقیامت اس کے حق میں ہدایت کا ذریعہ نہیں بلکہ عذابِ الٰہی کا سبب بنے گا۔ رسول ﷺ نے فرمایا :((اَلْقُرْآنُ حُجَّۃٌ لَّکَ اَوْ عَلَیُکَ)) (صحیح مسلم:۵۳۴) ’’قرآن یا تمہارے حق میں حُجّت ہوگا یا تمہارے خلاف۔‘‘ اگر کوئی شخص قرآن مجیدکو شہرت کے حصول کا ‘یا دنیا کمانے کا ‘یا اپنی تعریف کا ذریعہ بنا رہا ہو تو اس حوالہ سے حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کی عدالت میں سب سے پہلے ان لوگوں کا معاملہ پیش ہوگا جن میں ایک عالم‘ ایک سخی اور ایک شہید ہوگا۔ اللہ تعالیٰ باری باری اُن تینوں سے اپنی نعمتوں کا ذکر کرکے پوچھے گا کہ تم کیا کر کے آئے ! اس پر وہ تینوں اپنا معاملہ بیان کریں گے ‘لیکن ان کو جواب ملے گا کہ تم نے جو کچھ کیا‘ دنیا والوں کو دکھانے کے لیے کیا اورتمہارا نام دنیا میں ہو گیا ‘لہٰذا یہاں تمہارے لیے کچھ نہیں۔ پھر فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان تینوں کو اوندھے منہ گھسیٹتے ہوئے جہنم میں ڈال دیں۔(صحیح مسلم) اَللّٰھُمَّ أعِذْنَا مِنْ ذٰلِکَ!
لہٰذا جان لیجیے کہ جب تک دل کے روگ درست نہ ہوں‘علم بے کار ہے‘ ہدایت قطعاً غیر مفید ہے۔ پہلے دل کے اوپر سے جمی ہوئی پپڑی( crust) اُترے‘ اس کی سختی دور ہو تو اس کا ذریعہ ہے مَوْعِظَۃ۔ جب دل کے اندر سے حب ِجاہ‘ حب مال‘ حب دُنیانکلے‘ تو یہ ہے تزکیہ یعنی شِفَاءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ۔اس کے بعد ہی ہدایت ِخداوندی کے تحت آپ راستہ دیکھ سکیں گے‘ اُس پر چلیں گے۔یہ ہدایت آخرت میں رحمت کی شکل میں ظاہر ہوگی۔ جنہوں نے قرآن مجیدکی ہدایت سے دنیا میں فائدہ اٹھایا‘ آخرت میں رحمت ِالٰہی کی بدلیاں اُن پر سایہ کریں گی۔ جیسا کہ حدیث ِمبارکہ ہے کہ سورۃ البقرہ اور سورۃ آلِ عمران دو بدلیوں کی صورت میں میدانِ حشر میں ظاہر ہوں گی اور ان لوگوں پر سایہ کریں گی جن کو ان سے بڑی محبت تھی۔
بہرحال اس آیت میں آنے والے چار الفاظ کی ترتیب پر غور کریں:
{یٰٓـاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْکُمْ مَّوْعِظَۃٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَشِفَآئٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِلا وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۵۷)}
یعنی وعظ‘ شفا‘ہدایت اور پھر رحمت۔یہ الفاظ عملی اعتبار سے بہت افادیت رکھتے ہیں۔
اگلی آیت کے الفاظ بھی بہت اہم ہیں:
{قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْاط ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ (۵۸) }
’’کہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے ہے ‘سو چاہیے کہ وہ اس پر خوشیاں منائیں۔ یہ بہتر ہے اُن سب سے جو وہ جمع کرتے ہیں ۔‘‘
قرآن مجید کی شکل میں ہم پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی بہت بڑی رحمت کا ظہور ہوا ہے۔ اُس کی رحمت کا مظہر ِاَتم قرآن مجیدہے۔ اُس کے فضل کا سب سے بڑا ثبوت قرآن مجیدکی صورت میں ہمیں ملا ہے۔ {فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا} اِس پر لوگوں کو خوشیاں منانی چاہئیں کہ قرآن مجید کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس قدر عظیم دولت سے سرفراز فرمایا ہے۔ اتنا بڑا احسان ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر کیا ہے۔{ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ(۵۸)} جو چیزیں یہ لوگ جمع کرنے کی فکر کر رہے ہیں ‘ اُن سے کہیں زیادہ قیمتی یہ قرآن مجیدہے۔ کاش کہ یہ دو آیات ہی ہمارے قلب کے او پر کندہ ہو جائیں !
صوتی و لفظی حسن
تیسرا مقام سورۃ الرحمٰن کا ہےجس کی بہت چھوٹی چھوٹی آیات ہیں۔ حدیث ِنبویؐ میں سورۃ الرحمٰن کو ’’عُرُوْسُ الْقرآن‘‘ (قرآن کی دلہن )قرار دیا گیا ہے۔جس طرح دلہن کو خوش نما لباس سے سجایا جاتا ہے‘ زیور اور زیب و زینت سے آراستہ کیا جاتا ہے اسی طرح سورۃ الرحمٰن کی آیات کو اللہ تعالیٰ نے آراستہ کیاہے۔ اس کا اپنا ایک ملکوتی غناء (Divine Music) ہے۔ اللہ تعالیٰ مصر کے حضرات شیخ عبدالباسط عبدالصمد اور شیخ محمود خلیل الحصری جیسے قُراء پر رحمتیں نازل فرمائے جنہوں نے قرآن مجید کے اِس غناء کو واضح کیا ہے۔ قرآن مجید کے لیے غناء(موسیقی) کالفظ خدانخواستہ اس کی توہین نہیں بلکہ حدیث ِمبارکہ میں یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ قرآن کریم کو خوش الحانی سے‘ اچھی سے اچھی آواز سے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا:((لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ)) (صحیح البخاری:۷۵۲۷) ’’جو قرآن مجید کو اچھی آواز سے(بہتر سے بہتر انداز میں) نہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘
ایک مرتبہ رات کے وقت رسول اللہﷺ کا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کے پاس سے گزر ہواتو وہ تہجد کے وقت کھڑے کیف کے عالم میں قرآن مجید کی تلاوت کررہے تھے۔ حضورﷺ کوان کی قراءت بہت پسند آئی‘ کافی دیر تک وہاں کھڑے سنتے رہے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کو تو پتہ ہی نہیں تھا کہ کون سن رہا ہے۔ صبح فجر میں جب حضورﷺ کی ان سے ملاقات ہوئی تو آپؐ نے تحسین کے انداز میں فرمایا:
((یَا اَبَا مُوْسٰی! لَقَدْ اُوْتِیْتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِیْرِ آلِ دَاوٗد))(صحیح البخاری:۵۰۴۸)
’’اے ابو موسیٰ! تمہیں تو آلِ داؤد کے سازوں میں سے ایک ساز عطا فرمایا گیاہے۔ ‘‘
لحنِ داؤدی مشہور ہے کہ جب حضرت دائود علیہ السلام حمد کے ترانے الاپتے تھے تو قرآن مجید میں آتا ہے کہ ان کے ساتھ پرندے شامل ہو جاتے تھے اور پہاڑ وجد میں آکر ان کے ساتھ شریک ہو جاتے تھے۔ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ جس طرح کان لگا کر خوش الحانی سے بآوازِ بلند پڑھے جانے والے قرآن مجیدکو سنتے ہیں‘ اس طرح کسی دوسری شے کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ۔ ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جب ہم قرآن مجید پڑھتے ہیں تو سب سے زیادہ متوجہ ہو کر سننے والا خود اللہ ہوتا ہے۔
بہرحال قرآن مجیدکا حسنِ معنوی تو ہر ہر لفظ میں موجود ہے لیکن اس کا حسنِ ظاہری یعنی حسنِ صوتی وحسنِ لفظی دراصل سورۃ الرحمٰن میں اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔
سورۃ الرحمٰن کے آغاز میں چار عظیم حقائق
یہ سورت ابتدائی چار آیات کے حوالہ سے بھی بہت ممتاز ہے۔ ان آیات پر توجہ کی جائے تو عظیم حقائق سامنے آتے ہیں۔پہلی چار آیات میں چوٹی کی چار چیزوں کا ذکر ہے۔ پہلی آیت {اَلرَّحْمٰنُ(۱) }ہے جو کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے ناموں میں سب سے پیارا نام ہے۔ اس کا مادہ رحمت سے ہے۔ انسان سب سے زیادہ رحمت ِخداوندی کا محتاج ہے‘جیسا کہ حدیث مبارکہ میں فرمایا گیا:
((مَا مِنْ اَحَدٍ یُدْخِلُہُ عَمَلُہُ الْجَنَّۃَ)) فَقِیْلَ : وَلَا اَنْتَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((وَلَا اَنَا، اِلَّا اَنْ یَتَغَمَّدَنِی رَبِّیْ بِرَحْمَۃٍ)) (متفق علیہ)
’’تم میں سے کسی شخص کو اُس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا۔‘‘ پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! آپؐ کو بھی نہیں؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’ہاں مجھے بھی نہیں‘ مگر یہ کہ میرا ربّ مجھے اپنی رحمت میں چھپا لے۔‘‘
جب محمد رسول اللہ ﷺ رحمت ِالٰہی کے اس قدر محتاج ہیں تو ہماری کیا حیثیت! قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی صفت ِرحمت کی شان کو رحمٰن اور رحیم سے ظاہر کیا گیا ہے۔ اسم ’’الرَّحِیْم‘‘ اللہ تعالیٰ کی دائمی اور مستقل رحمت کا مظہر ہے‘ جبکہ ’’الرَّحْمٰن‘‘ دراصل اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وہ شان ہے جس میں ہیجان کی کیفیت ہو ‘جیسے ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر‘ گویا رحمٰن سے مراد اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رحمت کا طوفانی جوش ہے۔
اگلی آیت{عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ(۲) }’’اُس نے قرآن سکھایا۔‘‘ رحمٰن کی رحمانیت کا سب سے بڑا مظہر قرآن مجیدہے۔ جو علم بھی انسان کو حاصل ہوا ‘وہ اللہ تعالیٰ ہی نے دیا ہے۔ سورۃ البقرۃ میں فرمایا: {وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّھَا}(آیت۳۱) ’’ اور سکھائے آدم کو ساری چیزوں کے نام۔‘‘حضرت آدم علیہ السلام کو جو علم اَسما ء دیا گیا اسی کا ظہورسائنس اور دوسرے تمام علوم ہیں۔ یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی کے دیے ہوئے ہیں لیکن جیسے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں چوٹی کا نام ’’الرحمٰن‘‘ ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو کچھ سکھایا‘ اس میں سے چوٹی کا علم ’’قرآن‘‘ ہے۔
پھر فرمایا :{خَلَقَ الْاِنْسَانَ(۳)}’’(اللہ نے )انسان کو پیدا کیا۔‘‘ غور کریں تو آسمان‘ زمین‘ فرشتے‘ حیوانات اور دیگر تمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔البتہ اُس کی تخلیق کا نقطۂ عروج ’’انسان‘‘ ہے جس کو مسجودِ ملائک بنایا گیا۔سورئہ بنی اسرائیل میں فرمایاگیا:
{وَلَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰہُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلٰی کَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا(۷۰)}
’’اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی ‘اور ان کو خشکی اور سمندر میں سواریاں عطا کیں‘ اور ہم نے ان کو پاکیزہ چیزوں میں سے رزق عطا کیا ‘اور انہیں فضیلت عطا کی اپنی بہت سی مخلوقات پر۔‘‘
اب چوتھی چیز: {عَلَّمَہُ الْبَیَانَ(۴)}’’انسان کو بیان کی صلاحیت عطا فرمائی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بینائی‘سماعت اور کئی حواس اور صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں لیکن ان میں سب سے اونچی ’’ بیان‘‘کی صلاحیت ہے۔ اسی لیے انسان کو ’’حیوانِ ناطق‘‘ قرار دیا جاتا ہے ‘یعنی گویائی کی صلاحیت ہی کی وجہ سے انسان اور حیوان کے درمیان امتیاز قائم ہوتا ہے۔پس ہم نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں چوٹی کا نام الرحمٰن ‘ اُس نے جو علوم عطا کیے ان میں چوٹی کا علم قرآن مجید‘تمام مخلوقات میں چوٹی کی مخلوق انسان اور انسان کو عطا کردہ صلاحیتوںمیں چوٹی کی اِستعداد بیان۔ ان سب کو جمع کرنے سے نتیجہ ایک حدیث ِ نبویﷺ کی شکل میں سامنے آتا ہے ‘جس کے راوی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ حسنِ اتفاق کہہ لیجیے کہ یہ تمام الفاظ ہم قافیہ بھی ہیں: رحمٰن‘ قرآن‘ انسان‘ بیان‘ عثمان‘ عفان۔
عَنْ عثمان بن عفان رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ: ((خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہُ)) (صحیح البخاری:۵۰۲۷)
حضرت عثمان(ذوالنورین) رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں۔ ‘‘
یہاں پر خیر کا لفظ مِنْ کے بغیر آیا ہے تو یہ superlative degree ہے۔خَیْرُکُمْThe best amongst you یعنی تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جو قرآن سیکھیں اور سکھائیں۔ جو قرآن پڑھیں اور اُسے بیان کریں۔
انسان کی قوتِ بیان کا بہترین استعمال
قوتِ بیان انسان کی اعلیٰ ترین صلاحیت ہے ‘ لہٰذا اس کا استعمال بھی اعلیٰ ترین ہونا چاہیے۔ اردو کا محاورہ ہے کہ توپ سے مکھی نہیں ماری جاتی۔ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوتِ گویائی عطا فرمائی ہے تو اسے قرآن مجید کو بیان کرنے کے لیے لگاؤ۔ علامہ اقبال کا ایک فارسی شعر ہے:
اگر یک قطرہ خوں داری اگر مشت پرے داری
بیا من با تو آموزم طریق شاہبازی را!
یعنی اگر تمہارے اندر خون کا ایک قطرہ بھی موجودہے او رمٹھی بھر پَر اللہ نے دیے ہیں تو میرے پاس آ ؤ کہ میں تمہیں شہبازی کے طریقے سکھاؤں۔اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیںحیوانِ ناطق بنایا ہے‘ تکلم کی صلاحیت دی ہے تو اس صلاحیت کا مصرف محض دنیا حاصل کرنے کو نہ بناؤ بلکہ اللہ کے کلام کو پھیلانے کا ذریعہ بناؤ۔
آج سب سے بڑی ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن کو موجودہ حالات کے تناظر میں پڑھا جائے۔قرآن مجید اُترا تو چودہ سو برس پہلے ہےمگر نوعِ انسانی کو تاقیامِ قیامت جتنےبھی مسائل درپیش ہوں گے‘ ان سب کا حل قرآن مجید میں موجود ہے۔ البتہ اس کے لیے قرآن مجید کی گہرائیوں میں اُترنا ہوگا اور اس میں سے موجودہ دور کے لیے رہنمائی اخذ کر کے آج کے انسان تک پہنچانا ہی اُمّت ِمسلمہ کا اصل فریضہ ہے۔خطبہ حجۃ الوداع میں حضورﷺ نے فرمایا تھا: ((بَلِّغُوْا عَنِّی وَ لَوْ آیَۃً))(صحیح البخاری:۳۴۶۱) ’’پہنچاؤ میری طرف سے چاہے ایک ہی آیت۔‘‘ پھررسول اللہﷺ نے اسی موقع پر سوا لاکھ مسلمانوں کے مجمع سے گواہی لی تھی: ((اَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ؟)) ’’کیا میں نے پہنچا دیا؟‘‘ پورے مجمع کی طرف سے جواب آیا: اِنَّا نَشْھَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسَالَۃَ، وَ اَدَّیْتَ الْاَمَانَۃَ، وَ نَصَحْتَ الْاُمَّۃَ، وَ کَشَفْتَ الْغُمَّۃَ ’’ہاں ہم گواہ ہیں کہ آپؐ نے رسالت کے فرائض کا حق ادا کر دیا ‘ آپؐ نے امانت ادا کرنے کا حق ادا کر دیا‘ آپؐ نے اُمّت کی خیر خواہی کا حق ادا کر دیا اورآپ ؐنے گمراہی کے اندھیروں کو چاک کر دیا۔‘‘تین مرتبہ آپﷺ نے سوال کیا اور تین بار آپ کو جواب ملا۔ پھر آپ ﷺنےآسمان کی طرف نگاہ اُٹھائی اور اپنی شہادت کی انگلی سے اس کی طرف اشارہ کر کے تین بار فرمایا: ((اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ)) ’’اے اللہ!تُو گواہ رہنا۔‘‘ اس طرح آپؐ نے گواہی لے کر اطمینان کا سانس (sigh of relief ) لیا کہ {اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلًا ثَقِیْلًا(۵)} (المزّمل) کا مصداق ایک بھاری بوجھ آپؐ کے کندھوں سے اُتر گیا۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺکو حکم ہوا تھا : 
{یٰٓــاَیـُّـہَا الرَّسُوْلُ بَـلِّـغْ مَـآ اُنْزِلَ اِلَـیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط وَاِنْ لَّـمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَـتَہٗ ط} (المائدۃ:۶۷)
’’اے رسول! پہنچادیجیے جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اور اگر(بالفرض) آپ نے ایسا نہیں کیا تو آپ نے رسالت کا حق ادا نہ کیا۔‘‘
حضورﷺ نے یہ پیغام پہنچانے کی گواہی لے کر اطمینان کا سانس لیا اور پھر چھوٹا سا ایک جملہ فرمایا جو ہمیں یاد کر لینا چاہیے: ((فَلْیُبَلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ)) (صحیح البخاری:۷۰۷۸)’’پس پہنچائے وہ جو یہاں موجود ہے اُس کو جو یہاں موجود نہیں۔‘‘ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت پوری انسانیت کے لیے ہے۔ ؎
وقت ِفرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے!
ہند کے لوگوں تک‘ چین کے گھروں تک ‘یورپ کے کلیساؤں تک ‘افریقہ کےتپتے صحراؤں تک اس پیغام کوپہنچانا اب اُمّت ِمحمدیہﷺ کی ذمہ داری ہے۔آپﷺ نے مزیدتاکیداً فرمایا: ((بَلِّغُوا عَنِّی وَلَـوْ آیَۃً))’’پہنچاؤ میری طرف سے چاہے ایک ہی آیت۔‘‘ گویا کوئی بھی اُمتی اس فرض سے بالکل محروم نہ رہے۔ ایک آیت بھی پہنچا سکتا ہو تو پہنچائے۔ یہ ہے وہ ذمہ داری جو اس حدیث کی رُو سے تشویق و ترغیب کے انداز میں بیان کی گئی ہے کہ اگر کوئی بہترین کیریئر ‘ اعلیٰ زندگی‘ اور اپنے وقت کو قیمتی بنانا چاہتا ہے تو قرآن مجید کو پڑھنے اور پڑھانے میں لگ جائے۔ کاش کہ ہم سمجھ سکیں کہ قرآن مجید کو سیکھنا اور سکھانا اعلیٰ ترین کیریئر ہے اور قرآن مجید کی تبلیغ و دعوت میں گزرنے والا ہر لمحہ کس قدرقیمتی اور باعث ِاجر ہے!
اُمّت ِمسلمہ کے عروج و زوال کی بنیاد
دوسری حدیث مبارکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :
((اِنَّ اللّٰہَ یَرْفَعُ بِھٰذَا الْکَتَابِ اَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ)) (صحیح مسلم:۱۸۹۷)
’’بے شک اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے کچھ قوموں کو اُٹھائے گا اور اس کو ترک کرنے کے با عث دوسروں کو رسوا کر دے گا۔‘‘
یہ ابد الآباد تک مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ اس کتاب کو لے کر اٹھیں گے تو سر بلند ہوں گے اور اس کتاب کو پیٹھ دکھائیں گے تو ذلیل کر دیے جائیں گے۔ اُمّت ِمسلمہ کے عروج و زوال کا انحصار اسی کتاب پر ہے۔’’جواب ِشکوہ‘‘ میں علامہ اقبال نے اس کیفیت کو سادہ ترین الفاظ میں کہاہے: ؎
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر!
یہی بات اقبال نے فارسی میں نہایت پُرشکوہ الفاظ اور درد انگیز پیرائے میں یوں بیان کی ہے :

خوار از مہجوریٔ قرآں شدی

شکوہ سنجِ گردشِ دوراں شدی!

اے چو شبنم بر زمیں افتندئہ

در بغل داری کتابِ زندئہ’’(اے مسلمان!) تیری ذلت اور رسوائی کا اصل سبب تو یہ ہے کہ تُو قرآن سے دور اور بے تعلق ہوگیا ہے ‘لیکن تُو اپنی اس زبوں حالی پر الزام گردشِ زمانہ کو دے رہا ہے! اے وہ قوم کہ جو شبنم کے مانند زمین پر بکھری ہوئی ہے (اور پاؤں تلے روندی جا رہی ہے) اُٹھ کہ تیری بغل میں ایک کتابِ زندہ موجود ہے (جس کے ذریعےتُو دوبارہ بامِ عروج پر پہنچ سکتی ہے!)‘‘
آج رسولِ اکرمﷺ کی اُمّت دُنیا کی قوموں کے سامنے پامال و سرنگوں ہے‘ لیکن اگر یہ ہوش میں آجائے تو اس کتابِ زندہ کی بدولت ان کی امام بن سکتی ہے ۔وہ عرب کی سرزمین جہاں تہذیب و تمدن نہیں تھا‘ اندھیرے و تاریکیاں تھیں‘ وہاں کے باسی اسی کتاب کی بدولت دنیا کے امام بن گئے۔ یہی کتاب تھی جس نےانہیں نئے نئے علوم ایجاد کرنا سکھائے۔ اس کتاب کی بدولت عرب نےیونان کے فلسفہ اور سائنس کو زندہ کیا اور سپین کی یونیورسٹیوں کے ذریعہ سےیورپ تک دوبارہ پہنچا دیا۔جب مسلمان ایک ہاتھ میں قرآن اور ایک ہاتھ میں تلوار لے کر نکلے تو پوری دنیا پر چھا گئے۔ دراصل تلوار کا ذکر معذرت خواہانہ انداز میں نہیں کرنا چاہیے۔ انقلاب کی تکمیل تلوار سے ہوتی ہے مگر تمہید قرآن مجید بنتا ہے۔ انقلاب صرف کتاب سے کبھی نہیں آیا۔ کتاب سے سوچ و فکر بدلتی ہے‘ جماعت کی قوت تیار ہوتی ہے لیکن اس سے ہرگز بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انقلابِ محمدیﷺکی تکمیل میں یقیناً تلوار کا بھی حصہ ہے۔ میدانِ بدر میں جوتین سو تیرہ نفوس موجود تھے ‘وہ یقیناً قرآن مجید کے اعجازکا ظہور تھے۔ رسول اللہﷺ نے {یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ} کے طریقہ کار کے مطابق اعلیٰ تربیت یافتہ لوگ تیار کیےتھے لیکن انقلاب کی عملی تکمیل کے لیے وہ بھی ہاتھ میں تلوار لے کر اٹھے۔
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے تزکیۂ نفس کا سارا عمل تیرہ برس تک قرآن مجید کے ذریعے ہوا تھا اور جب ایک تربیت یافتہ جماعت کی صورت میں قوت وجود میں آگئی تو پھر وہ رسول اللہﷺ کی قیادت میں باطل نظام سے ٹکرا گئے۔ تبھی عرب کی سرزمین پر اسلامی انقلاب رونما ہوا: {وَقُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ ط اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوْقًا(۸۱)} (بنی اسرائیل) ’’اور آپؐ کہہ دیجیے کہ حق آ گیا اور باطل بھاگ گیا۔ یقیناً باطل ہے ہی بھاگ جانے والا۔‘‘ بہرحال اللہ تعالیٰ نے مسلمان اقوام کے لیے اب اس کتاب کو میزان بنا دیا ہے: {وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ط}(بنی اسرائیل: ۱۰۵) ’’اور ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور حق کے ساتھ ہی یہ نازل ہوا ہے۔‘‘ {اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ(۱۳) وَّمَا ہُوَ بِالْہَزْلِ(۱۴) } (الطارق)’’بے شک یہ فیصلہ کن کلام‏ ہے ‘ اور کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے۔‘‘اس کتاب کو پیٹھ دکھانے ہی کی وجہ سے مسلمان تقریباً تین سو برس سے پوری دنیا میں زوال کا شکار ہیں۔
ایک حدیث جس کے راوی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں‘ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید جیسی دولت عطا کی ہو اور پھر بھی اُس کے دل میں یہ خیال آئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی اور بندے کوزیادہ بڑی نعمت دی ہے‘ اُس نے گویا قرآن کی ناقدری کی۔ کسی بہت دولت مندشخص کو دیکھ کر‘ کسی کا بہت بڑا محل دیکھ کراگر کسی کے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ دولت اُس نعمت سے بڑی ہے جو ہمارے پاس قرآن مجیدکی شکل میں موجود ہےتو وہ شخص قرآن مجید کی قدروقیمت سے واقف نہیں۔یہ بات دراصل ان الفاظِ قرآنی کی شرح ہے:{ ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ (۵۸) } جو کچھ دنیا قیمتی اشیاءسمجھ کر جمع کرتی ہے‘اُن سے کہیں بڑھ کر قیمتی یہ قرآن ہے۔
فتنوں سے نکلنے کا راستہ
عظمت قرآن کے ضمن میں اب تک ایک حدیث حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے‘ ایک حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور ایک حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہمارے سامنے آئی۔ آخری حدیث حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی طالب سے مروی ہے ۔
مدحِ قرآن کے حوالہ سے یہ طویل ترین اور بہت پیاری حدیث ہے۔ حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ((اِنَّھَا سَتَکُوْنُ فِتْنَۃٌ)) ’’عنقریب ایک بہت بڑا فتنہ رونما ہوگا‘‘۔ حضرت علی ؓ کہتے ہیں: فَقُلْتُ مَا الْمَخْرَجُ مِنْھَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ ’’تو مَیں نے پوچھا:اے اللہ کے رسولﷺ! اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہوگا؟‘‘ یہاں پر قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ اگر ہم جیسے عقلیت پسند لوگ ہوتے تو پوچھتے کہ وہ فتنہ کیا ہوگا! کیوں آئے گا؟ کب آئے گا؟ کہاں سے آئے گا ؟ ہمارے سوالات اکثر و بیشتر علمی نوعیت کے ہوتے ہیں جبکہ عملی اعتبار سے اہمیت اس بات کی ہے کہ بچاؤ کا راستہ کون سا ہوگا! حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی یہی بات پوچھی‘ جس پر رسول اللہ ﷺ نےجواب ارشاد فرمایا :((کِتَابُ اللّٰہ)) ’’اللہ کی کتاب !‘‘ جس کو تھامو گے تو فتنوں سے محفوظ رہو گے۔ ((فِیْہِ نَبَأُ مَا قَبْلَکُمْ وَخَبَرُ مَا بَعْدَکُمْ))’’اس میں خبریں ہیں تم سے پہلوں کی بھی اور تمہارے بعد آنے والوں کی بھی۔‘‘قرآن مجیدمیں قومِ عاد‘ قومِ ثمود‘ قومِ نوح ‘ قومِ لوط‘ آلِ فرعون وغیرہ کے واقعات بھی درج ہیں اور بعد میں آنے والوں کے حالات بھی بتائے گئے ہیں مگر وہ بین السطور between the lines) ہیں۔ اس کےلیے گہرائی سےغور و فکر اور تدبر کی ضرورت ہے۔ قرآن میں پاکستان کا ذکر موجود ہے۔ پاکستان کیسے بنا‘ اس کا بھی ذکر ہے۔ پھر پاکستان حاصل کر کے ہم نے بحیثیت قوم کیا وطیرہ اختیار کیا‘ اس کا بھی ذکر ہے‘ اور اب اس کا کیسا انجام ہونے والا ہے‘ اس کا بھی ذکر ہے۔ سورۃ الانبیاء میں اَلفاظ آئے ہیں: {لَــقَدْ اَنْزَلْنـَآ اِلَیـْـکُمْ کِتٰـبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ ط اَفَـلَا تَعْقِلُوْنَ(۱۰)} ’’(لوگو!) ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارا ذکر ہے‘ کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟‘‘((وَحُکْمُ مَا بَیْنَکُمْ)) ’’اور(تا قیامِ قیامت) تمہارے درمیان جتنے اختلافات پیدا ہو ں گے ان کا فیصلہ اس میں موجود ہے۔‘‘
آگے فرمایا: ((ھُوَ الْفَصْلُ لَیْسَ بِالْھَزْلِ)) ’’یہ قرآن ایک فیصلہ کن کتاب ہے‘ یاوہ گوئی نہیں ہے‘‘۔ یہ شاعروں کی شاعری نہیں ہے۔ یہ تو قوموں کے عروج و زوال کے فیصلے کرنے والی کتاب ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ والی روایت کے مطابق اب قوموں کی تقدیر کے فیصلے اس قرآن سے ہوں گے۔ اگر کوئی قوم اُبھرے گی تو قرآن کولے کر اُبھرے گی اور گرے گی تو قرآن کو چھوڑنے کی وجہ سے گرے گی۔ سورۃ الطارق میں الفاظ آئے ہیں: {اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ(۱۳) وَّمَا ہُوَ بِالْہَزْلِ(۱۴)}’’بے شک یہ قرآن دو ٹوک فیصلہ کرنے والا کلام ہے ‘ یہ ہنسی کی اور بے فائدہ بات نہیں ہے۔‘‘
حدیث کے اگلے الفاظ ملاحظہ کیجیے۔ دیکھیے فصاحت‘ بلاغت اور عذوبت کے ساتھ ساتھ ان الفاظ میں کس قدر غنائیت بھی ہے۔ فرمایا: ((مَنْ تَرَکَہُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَہُ اللّٰہُ))’’جو شخص اپنے تکبّر کی وجہ سے اس قرآن کو ترک کر دے گا ‘اللہ اسے پیس کر رکھ دے گا۔‘‘((وَمَنِ ابْتَغَی الْھُدٰی فِیْ غَیْرِہٖ اَضَلَّہُ اللّٰہُ))’’اور جو کوئی قرآن کے سوا کسی اور شے میں ہدایت تلاش کرے گا ‘اللہ اُسے لازماً گمراہ کر دے گا۔‘‘
آگے پھر حدیث کے تین ٹکڑے فصاحت و بلاغت اورعذوبت و غنائیت کی بہترین مثال ہیں۔ فرمایا:((وَھُوَ حَبْلُ اللّٰہِ الْمَتِیْنُ، وَھُوَ الذِّکْرُ الْحَکِیْمُ، وَھُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِیْمُ)) یہ شاعری نہیں ہے‘ لیکن آزاد شاعری سے ملتا جلتا انداز ہے۔((وَھُوَ حَبْلُ اللّٰہِ الْمَتِیْنُ))’’یہی ہے اللہ کی مضبوط رسّی۔‘‘ سورئہ آلِ عمران کی آیت ۱۰۳ میں ارشاد ہوا:{وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیْعًا وَّلَا تَفَرَّقُوْا ص} ’’اللہ کی رسّی کو مل جل کر مضبوطی سے پکڑ لو اور تفرقے میں مت پڑو۔‘‘ وہ اللہ کی رسّی کون سی ہے؟ اسے قرآن میں واضح نہیں کیا گیا‘ بلکہ اس کی صراحت حدیث سے ہوتی ہے۔ اس لیے کہ قرآن مجید میں اگر کوئی شے تشریح طلب ہو تو اُس کو واضح کرنا حضورﷺ کا فرضِ منصبی ہے۔ منکرین ِ حدیث تو حضورﷺ کا یہ حق بھی تسلیم نہیں کرتے۔ازروئے الفاظِ قرآنی: {وَاَنْزَلْنَا اِلَـیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَـیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ} (النحل:۴۴) ’’اور (اے نبیﷺ!) ہم نے آپ پر یہ ذکر (قرآن حکیم) نازل کیا تاکہ آپ واضح کر دیں اس کو لوگوں کے لیے جو اُن کی طرف نازل کیا گیاہے۔‘‘ تو آپؐ نے واضح فرما دیا کہ: ((وَھُوَ حَبْلُ اللّٰہِ الْمَتِیْنُ))’’یہ (قرآن) اللہ کی مضبوط رسّی ہے‘‘۔ اس کو پکڑ لو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ خطبہ حجۃ الوداع میں رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا تھا:
((وَقَدْ تَرَکْتُ فِیْکُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدَہُ اِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِہٖ: کِتَابُ اللّٰہِ)) (صحیح مسلم:۲۱۳۷)
’’اور میں تمہارے درمیان ایک ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوطی سے پکڑ لو گے تو اس کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے‘ وہ کتاب اللہ ہے۔‘‘
ایک اور حدیث میں ہے :
((کِتَابُ اللّٰہِ حَبْلٌ مَمْدُوْدٌ مِنَ السَّمَاءِ اِلَی الْاَرْضِ)) (الترمذی)
’’اللہ کی کتاب (کو تھامے رکھنا) جو آسمان سے زمین تک تنی ہوئی ایک رسّی ہے۔‘‘
اگر آج دُوَلِ عرب یکجا ہو جائیں تو اسرائیل ایک دن کے لیے قائم نہیں رہ سکتا۔ امریکہ بھی کچھ نہیں کر سکتا اگر اُمّت عرب ہی جمع ہو جائے‘ عالم ِاسلام تو بڑی بات ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت سے وسائل اور نعمتیں عطا فرمائی ہیں لیکن افتراق‘ انتشار اور گروہ بندیوں کی وجہ سے اسرائیل کا خنجر عرب دنیا کے سینہ میں پیوست ہو گیا۔ اختلافات کی وجہ سے ان کی ہوا اُکھڑ گئی۔حضورﷺ فرما رہے ہیں کہ یہ قرآن ہی اللہ کی مضبوط رسّی ہے۔
علامہ اقبال نے قرآن اور حدیث کے حقائق کو احسن طریقے سے اشعار کا جامہ پہنایا ہے۔ وہ کہتے ہیں :

گوہرِ دریائے قرآں سفتہ

ام شرحِ رمزِ صِبْغَۃ اللہ گفتہ ام

’’ مَیں نے قرآن کے بحربیکراں کے موتی بیندھ لیے ہیں اور ’’صِبغَۃ اللہ‘‘ کے اسرار و رموز کی شرح بیان کردی ہے۔ ‘‘
کوئی بھی غواص موتی پیدا نہیں کرتا ‘اسے دریا کی گہرائی سے نکالتا ہے۔یہ میری حکمت نہیں ہے جو میرے اشعار میں ہے‘ یہ موتی تو میں نے قرآن مجید کے دریا میں غوطہ زنی کر کے نکالے ہیں۔ حدیث کے اِس ٹکڑے کو شعر میں یوں لائے ہیں :

از یک آئینی مسلماں زندہ است

پیکرِ ملّت ز قرآں زندہ است!

ما ہمہ خاک و دلِ آگاہ اوست

اعتصامش کن کہ حَبْلُ اللّٰہ اوست!’’وحدتِ آئین ہی مسلمان کی زندگی کا اصل راز ہے اورملّت ِاسلامی کے جسد ِظاہری میں روحِ باطنی کی حیثیت صرف قرآن کو حاصل ہے۔ ہم تو سرتاپا خاک ہی خاک ہیں‘ ہمارا قلب ِزندہ اور ہماری روحِ تابندہ تو اصل میں قرآن ہی ہے۔اس کو مضبوطی سے تھام لو کہ یہی حبل اللہ (اللہ کی رسّی) ہے! ‘‘
قائد اعظم سے جب پوچھا گیا تھا کہ پاکستان کا آئین کیا ہوگا ‘تو انہوں نے یہی فرمایا تھا کہ ہمیں کسی نئے دستور کی ضرورت نہیں ‘ ہمارا دستور چودہ سو برس پہلے ہی طے ہو چکا ہے۔بد قسمتی سے آج قائد اعظم کا دیا ہوا پاکستان دنیا میں موجود نہیں ہے۔ہم نے اُس آئین کواختیار نہیں کیا بلکہ دنیا کے دوسرے نظاموں کو آزمایا۔ قرآن مجید کی تعلیمات کی جانب پیش قدمی نہیں کی۔ہم اللہ تعالیٰ کے دین کا جس طرح استہزاء اور تمسخرکر رہے ہیں‘ دعا ہے کہ ا للہ تعالیٰ میری‘ آپ کی اور ارضِ مقدس پاکستان کی حفاظت فرمائے! البتہ اس کے لیے کام کرنا ہوگا‘صرف کہنے سے بات نہیں بنے گی۔ ایک عزم کے ساتھ نئی تعمیر کرنی ہوگی۔ یہ اُمت ایک ہاتھ میں تلوار اور ایک ہاتھ میں قرآن مجید لے کر دو بارہ میدان میں آئے۔
زیر مطالعہ حدیث میں آگے فرمایا: ((وَھُوَ الذِّکْرُ الْحَکِیْمُ)) ’’اور یہی پُرحکمت ذکر ہے۔‘‘ قرآن اپنے آپ کو ’’الذکر‘‘ کہتا ہے ‘ لیکن ہم نے ذکر کے نت نئے طریقے ایجاد کر لیے ہیں۔ سب سے مضبوط اور مستحکم ذکر یہ قرآن ہے‘ لیکن اس پر توجّہ ہی نہیں‘ جبکہ ذکر و اذکار اور اوراد ووظائف کے مجموعے توجہات کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
زیر مطالعہ حدیث کے اگلے الفاظ ہیں :((وَھُوَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِیْمُ)) ’’اور یہی صراطِ مستقیم ہے۔‘‘نماز کی ہر رکعت میں ہم ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ‘‘ کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ سے سیدھے راستے کی ہدایت طلب کرتے ہیں۔ اس حدیث میں صراحت آگئی کہ صراطِ مستقیم یہی قرآن ہے۔
((ھُوَ الَّذِیْ لَا تَزِیْغُ بِہِ الْاَھْوَاءُ)) ’’یہ وہ شے ہے جس کے ہوتے ہوئے خواہشاتِ نفس (تمہیں) گمراہ نہیں کر سکیں گی۔‘‘اس قرآن سے رابطہ ہو گا تو خواہشاتِ نفسانی ٹیڑھے رُخ پر نہیں لے جا سکیں گی۔
((وَلَا تَلْتَبِسُ بِہِ الْاَلْسِنَۃُ))’’اور زبانیں اس میں گڑبڑ نہیں کرسکیں گی‘‘۔اس کے ساتھ سابقہ آسمانی کتابوں والا معاملہ کرنا ممکن نہیں ہو گا کہ ذرا سا زبان کومروڑ کر پڑھا تو کچھ کا کچھ بن گیا۔ اس طرح اُن کتابوں میں تحریف ہو گئی۔ قرآن حکیم میں اس طرح کی تحریف کے سارے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔ قرآن اپنی حفاظت خود کرتا ہے۔ قرآن میں ہے :{لَا یَاْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ  بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہٖ}(حٰمٓ السجدۃ:۴۲) ’’اس پر باطل حملہ آور ہو ہی نہیں سکتا‘ نہ سامنے سے نہ پیچھے سے۔‘‘
آگے فرمایا: ((وَلَا یَشْبَعُ مِنْہُ الْعُلَمَاءُ)) ’’اور اہلِ علم کبھی اس سے سیر نہ ہوسکیںگے۔‘‘اس پر غور کرتے رہیں‘ تدبر کرتے رہیں‘ پڑھتے رہیں‘ لیکن قرآن سے سیر نہیں ہوں گے۔ یہ اس کا اعجازہے۔
((وَلَا یَخْلَقُ عَنْ کَثْرَۃِ الرَّدِّ))’’اور تکرارِ تلاوت سے اس پر کوئی باسی پن طاری نہیں ہو گا۔‘‘دنیا کی کوئی دوسری کتاب ایسی نہیں ہے۔ کوئی کتاب ایک دفعہ پڑھی تو اب دوسری دفعہ پڑھنے کو جی نہیں چاہے گا‘ اور اگر دوسری دفعہ پڑھ لی تو اب اسے دیکھنے کو بھی جی نہیں چاہے گا۔ یہ قرآن کا اعجازہے کہ اسے پڑھتے رہیے‘ پڑھتے رہیے‘ سینکڑوں دفعہ پڑھ جایئے‘ ہر دفعہ آپ کو نئی چیزیں ملیں گی‘ نئے نئے نکتے ملیں گے۔
امام شافعیؒ اصولِ فقہ کے امام تھے۔ ان کے بارے میں آتا ہے کہ وہ فقہ کے چار مآخذ قرآن‘ سُنّت‘ اِجماع اور قیاس کے لیے قرآن سے دلائل جمع کر رہے تھے‘ لیکن اِجماع کے لیے انہیں قرآن سے کوئی دلیل نہیں مل رہی تھی۔ اس کے لیے انہوں نے تین سو مرتبہ شروع سے آخر تک قرآن پڑھا‘ لیکن دلیل نہیں ملی۔ اس کے بعد جب تین سو ایک مرتبہ پڑھ رہے تھے تو سورۃ النساء کی آیت ۱۱۵ کے ان الفاظ پر توجّہ مرتکز ہو گئی : {…وَیَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰی وَنُصْلِہٖ جَھَنَّمَ ط وَسَآئَ تْ مَصِیْرًا(۱۱۵)} ’’…اور جو کوئی مسلمانوں کے راستے کو چھوڑ کر کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے گا تو ہم اُس کو اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنّم میں جھونک دیں گے‘ اور وہ بدترین جائے قرار ہے۔‘‘ مسلمانوں کا راستہ وہ ہے جس پر اُمّت کا اجماع ہو جائے‘ کیونکہ ایک اور حدیث میں آیا ہے : ((اِنَّ اُمَّتِیْ لَا تَجْتَمِعُ عَلٰی ضَلَالَۃٍ)) (ابن ماجہ) ’’یقیناً میری اُمّت کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہو گی۔‘‘
آگے فرمایا: ((وَلَا تَنْقَضِی عَجَائِبُہُ)) ’’اور اس کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے۔‘‘ علم و حکمت کے ہیرے اور ہدایت کے موتی اس میں سے ابد الآباد نکلتے رہیں گے۔ آج کی ہدایت اس قرآن مجید سے کھود کر نکالنی پڑے گی۔ ہر دور کے لیے ہدایت اس کتاب میں رکھ دی گئی ہے مگر پوشیدہ ہے۔ اس میں تدبر کی ضرورت ہے۔ ازروئے الفاظِ قرآنی: {کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوْآ اٰیٰتِہٖ وَ لِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)} (صٓ) ’’ہم نے آپ کی طرف ایک برکت والی کتاب اتاری تاکہ وہ غور کریں اس کی آیات پر اور تاکہ عقل والے نصیحت حاصل کریں۔ ‘‘ تو معلوم ہوا کہ جس بات پر مسلمانوں کا اجماع ہو جائے‘ اس کو بھی ایک سند حاصل ہے۔مسلمانو ں کےمجمع علیہ راستہ کو ایک دلیل کی حیثیت حاصل ہے۔
(ھُوَ الَّذِیْ لَمْ تَنْتَہِ الْجِنُّ اِذْ سَمِعَتْہُ حَتّٰی قَالُوْا: {اِنَّا سَمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًاoیَّھْدِیْ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ})) ’’یہ وہ کتاب ہے کہ اسے جیسے ہی جنوں نے سنا‘ فوراً پکار اٹھے: ہم نے ایک بہت خوب صورت قرآن سنا ہے جو سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے‘ تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔‘‘ انسانوں کا حال یہ ہے کہ سینکڑوں مرتبہ سنتے ہیں مگر ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا‘ جیسے چکنے گھڑے کے اوپر سے پانی بہ جائے جبکہ جنوں کی جماعت نے اسے ایک مرتبہ سنا تو وہ اس پر ایمان لے آئی۔ اس واقعہ کا ذکر سورۃ الجن کے آغاز میں ہے۔ سورۃ الاحقاف میں بتایا گیا ہے کہ یہ جِنّات ایمان لانے کے بعد اپنی قوم کے پاس گئے تو جاتے ہی دعوت و تبلیغ کا آغاز کر دیا۔
اس حدیث کے آخرکے الفاظ یاد کر لینے والے ہیں۔ یہ اس حدیث کا کلائمکس ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا: ((مَنْ قَالَ بِہٖ صَدَقَ)) ’’جس نے قرآن کے مطابق بات کہی‘ اس نے سچی بات کہی۔‘‘ ((وَمَنْ عَمِلَ بِہٖ اُجِرَ)) ’’جس نے اس پر عمل کیا ‘وہ ثواب کا مستحق ہوا۔‘‘((وَمَنْ حَکَمَ بِہٖ عَدَلَ)) ’’جس نے قرآن کے مطابق کوئی فیصلہ کیا ‘اس نے عدل کیا۔‘‘((وَمَنْ دَعَا اِلَیْہِ ھُدِیَ اِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْم)) ’’اور جس کسی نے قرآن کی طرف بلایا تو اس کو تو صراطِ مستقیم کی ہدایت مل گئی۔‘‘ کسی اور کو ہدایت حاصل ہویا نہ ہو‘ یہ داعی کے ذمہ نہیں ہے‘ البتہ جو قرآن کی طرف بلا رہا ہے اُس کی ہدایت یقینی (ensured) ہے۔یہ حدیث امام ترمذیؒ اور امام دارمیؒ نے اپنی اپنی سنن میں اور امام بیہقیؒ نے ’’شعب الایمان‘‘ میں نقل کی ہے۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے دعا ہے کہ مجھے اور آپ کو اس کی توفیق ملے۔ اگر ہم پر کسی ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ میں بھی قرآن مجیدکی عظمت کا انکشاف ہو جائے تو پھر کسی اور چیز کے پڑھنے میں لذت محسوس نہ ہو۔یہ نہ ہو کہ ڈائجسٹ‘شکاریات اور بھوت پریت کی کہانیاں پڑھنے میں تو دلچسپی ہو لیکن قرآن مجید سے شناسائی ہی نہ ہو۔ عمر کا ایک بڑا حصہ گزر گیا لیکن قرآن مجید کا تعارف ابھی تک دل میں اُتر ہی نہ سکا ۔اس کے جلال و جمال سے کوئی حصہ ہی نہ پاسکے۔ کم از کم ہماری یہ کیفیت ہو جائےکہ قرآن مجید پڑھنے کے بعد اب کسی اور شے کے پڑھنے میں لطف محسوس نہ ہو۔ اگر کوئی دوسری چیز پڑھیں بھی تو اسی لیے کہ قرآن مجید سمجھنے کے لیے مددگار ہو۔ جیسے سبعہ معلقہ کے آخری شاعر سے جب پوچھا گیا کہ اب آپ شعر کیوں نہیں کہتے‘تو انہوں نے کہا:((أَبَعْدَ الْقُرْآنِ؟)) کیا قرآن نازل ہونے کے بعد بھی اب گنجائش ہے کہ میں شعر کہوں!
اگر کوئی شخص سمندر کے کنارے کھڑا ہو تو بھی اُس میں سے اتنا ہی پانی لے سکتا ہے جتنے حجم کا برتن اُس کے پاس موجود ہوگا۔ سمندر میں پانی کی کمی نہیں۔اسی طرح اگر ہمارا ظرفِ ذہنی کم ہوگا تو اس میں قرآن مجیدکے معارف زیادہ نہیں اُنڈیل سکیں گے۔چنانچہ ہمیں اپنے ظرف ِذہنی کو بڑھانا چاہیے اور اس کے لیے دوسرے علوم کا مطالعہ کرناضرور ی ہے۔منطق‘سائنس اور فلسفہ کا مطالعہ کرنے سے ذہن وسیع تر ہوتا ہے۔ظرفِ ذہنی کو وسیع کرنے کے لیے اِن علوم کا مطالعہ کیا جائے تاکہ قرآن مجیدکے علم و حکمت کا زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل ہو سکے ۔پھر اِن دُنیاوی علوم کے حصول کے ساتھ ((خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہُ)) کے مصداق قرآنی علوم کو حاصل کرنے اور پھر پھیلانے والے بننا چاہیے۔سب سے بڑا سخی وہی ہے جو لوگوں میں ہدایت کے خزانے بانٹتا ہو۔یہی سب سے بڑی خدمت ِخلق ہے۔ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ!