آیت الکرسی
فضیلت‘ مفہوم اور تقاضےامیر تنظیم اسلامی شجاع الدین شیخ
مسجدجامع القرآن ‘ قرآن اکیڈمی کراچی میں ۳۱/ اکتوبر ۲۰۲۵ء کا خطابِ جمعہ
خطبہ ٔمسنونہ اور تلاوتِ آیات کے بعد!
ابھی آپ کے سامنے ’’آیت الکرسی‘‘ کی تلاوت کی گئی ہے۔ اس کا ترجمہ اور مختصر تشریح آج کی نشست میں یاد دہانی کے طور پر پیش کرنا مقصود ہے۔ یہ سورۃ البقرہ کی آیت۲۵۵ ہے جو قرآن حکیم کی طویل آیات میں سے ہے۔احادیث مبارکہ کے مطابق یہ قرآن حکیم کی عظیم ترین آیت اور تمام آیات کی سردار ہے۔اس ایک آیت میں دس جملے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا بڑا جامع بیان ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا تذکرہ آیا ہے۔ جس طرح سورۃ الاخلاص کی چار مختصر آیات ہیں اور وہاں ہمیں توحید کا بڑا جامع ذکر ملتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ایک جامع تعارف ہمارے سامنے آتا ہے‘ اسی انداز میں یہاں اللہ تعالیٰ کی توحید کا بہت ہی جامع بیان اس آیت میں ہمارے سامنے آتا ہے۔ اس کا ہم ترجمہ بھی کریں گے ‘کچھ احادیث میں جو اس کی فضیلت کا تذکرہ ہے وہ بھی ہمارے سامنے آئے گا‘ اور اس ایک آیت میں جو دس جملے ہیںاس پر مختصر کلام بھی کریں گے ۔ مزید یہ کہ اس کے کچھ وہ پہلو جو ہمارے عمل سے متعلق ہیں‘ ان پر بھی ان شاء اللہ تعالیٰ گفتگو ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
{اَللہُ لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَج اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ج لَا تَاْخُذُہٗ سِنَـۃٌ وَّلَا نَوْمٌ ط لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ط یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ ج وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْ ئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَاشَآئَ ج وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ج وَلَا یَــــُٔوْدُہٗ حِفْظُہُمَاج وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ(۲۵۵)}
آیت الکرسی کے فضائل
آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا بڑا جامع تذکرہ بھی ہے۔ اس کی فضیلت میںچند احادیث جو اکثر مفسرین نے تفاسیر میں نقل کی ہیں‘ ان کا حاصل مَیں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔
٭ آیت الکرسی کی عظمت کے حوالے سے صحیح مسلم کی حدیث ہے ‘ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ یہ قرآن حکیم کی عظیم ترین آیت ہے۔
٭ ایک حدیث میں آپﷺ نے فرمایا کہ آیت الکرسی تمام آیتوں کی سردار ہے۔
٭ ایک حدیث میں ذکر آیا ہےکہ ہر فرض نماز کے بعد اس کی تلاوت کا اہتمام کرنا چاہیے ۔
٭ ایک حدیث میں ارشاد ہوا کہ جوکوئی ہر فرض نماز کے بعد اس کا اہتمام کرے تو اللہ تعالیٰ اگلی نماز تک اس کی حفاظت فرمائے گا۔
٭ ایک حدیث میں ذکر آیا ہے کہ جو کوئی ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی کی تلاوت کا اہتمام کرے تو جنت میں اس کے داخلے میں موت ہی رکاوٹ ہے۔ یعنی جیسےہی اس کی موت واقع ہوگی وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔
٭ ایک طویل حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہﷺ نےمالِ زکوٰۃ کی حفاظت پر مامور کیا ۔رات کو ایک شخص آیا اور غلہ چوری کرنے لگا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میںنے اُسےپکڑ لیا‘ لیکن اُس نے یہ بہانہ بنا کر جان چھڑالی کہ میں بہت محتاج ہوں اور میرے بچے بھوک پیاس سے مر رہے ہیں۔ میں نے ترس کھا کر اسے چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو رسول کریمﷺ نے مجھ سے پوچھا: اے ابوہریرہ! رات تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ میں نے سارا ماجرا سنایا۔ آپﷺ نے فرمایا: وہ تم سے جھوٹ بول کر گیا ہے اور پھر آئے گا ۔ چنانچہ دوسری رات بھی وہ آ کر غلہ اٹھانے لگ گیا۔ میں نے پھر اسے پکڑ لیا لیکن اب بھی اس کی وہی التجا تھی‘ مجھے پھر اس پر رحم آ گیا اور اسے چھوڑ دیا۔ صبح پھر رسول اللہﷺ نے وہی استفسار فرمایا کہ ابوہریرہ! رات تمہارے قیدی نے کیا کیا؟ اس پر میں نے رات والا واقعہ پھر سنایا۔ آپﷺ نے اس مرتبہ بھی یہی فرمایا : وہ تم سے جھوٹ بول کر گیا ہے اور پھر آ ئے گا۔ تیسری رات میں اس کی تاک میں تھا کہ اس نے پھرآ کر غلہ اٹھانا شروع کر دیا۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا: اب تو میں تجھے ضرور رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش کروں گا۔ اس نے کہا: اگر تم مجھے جانے دو گے تو میں تمہیں ایسے چند کلمات سکھادوں گا جن کے پڑھنے سے اللہ کی طرف سے تمہاری اور تمہارے مال کی صبح تک حفاظت کی ضمانت ہو گی۔ اُس نے کہا کہ رات کو بستر پر لیٹنے سے پہلے آیت الکرسی پڑھ لیا کرو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر ایک نگران فرشتہ مقرر رہے گا اور صبح تک شیطان تمہارے قریب بھی نہیں پھٹکے گا ۔ اس پر میں نے اسے چھوڑ دیا۔ صبح ہوئی تو رسول اللہﷺ کے استفسار کرنے پر میں نے پورا واقعہ آپﷺ کے سامنے بیان کیا۔ آپﷺ نےفرمایا: ’’اگرچہ وہ پرلے درجے کا جھوٹا ہے لیکن تم سے یہ بات سچ کہہ گیا ہے۔‘‘ پھر آپﷺ نے ابوہریرہؓ کو بتایاکہ’’ وہ شیطان تھا۔‘‘ (صحیح البخاری:۲۳۱۱)
٭ ایک حدیث میں ذکر ہے کہ رات کو سوتے وقت اس کی تلاوت کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ویسے تو رات کے اور مسنون معمولات بھی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم سمارٹ فون کو بند کر کے سوئیں ‘ورنہ وہ کھلا رہتا ہے اور ہم سو جاتے ہیں۔ چنانچہ آیت الکرسی اور دیگر مسنون معمولات کی جگہ کچھ اور ہی چل رہا ہوتا ہے ۔
رات کے معمولات میں آیت الکرسی کے علاوہ سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات جو معراج کی شب عطا ہوئیں‘ان کی تلاوت بھی ہے۔ اسی طرح سورۃ الکافرون کی تلاوت بھی ہے ۔پھر سورۃالاخلاص ‘ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کی تلاوت کر کے ہاتھوں پر پھونکنا اور پورے جسم پر پھیرنا اور یہ عمل تین مرتبہ کرنا مسنون ہے۔ سورۃ الملک کی تلاوت کرنا بھی ثابت ہے جو کہ قبر کے عذاب سے بچانے والی اور شفاعت کرنے والی ہوگی۔ اسی طرح رات کو سوتے وقت تسبیح فاطمہ کا اہتمام کرنا بھی ثابت ہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔
٭ ایک حدیث میں یہ ذکر بھی آیا کہ جس گھر میں آیت الکرسی کی تلاوت کا اہتمام ہو شیطان وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔ چنانچہ حفاظت کے اعتبار سے آیت الکرسی بڑی عظیم آیت ہے جو ہمیں عطا کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے کی اور اس کواپنے معمولات میں شامل رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آیت کریمہ کامطالعہاب ہم اس آیت کریمہ( آیت الکرسی)کا ترجمہ‘ مختصر تشریح،اور اس میں موجود دس جملوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں:
(۱) اللہ تعالیٰ کا جامع تعارف
آیت الکرسی کی ابتدا میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے فرمایا :
{اَللہُ لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَج}
’’اللہ وہ معبود ِبرحق ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔‘‘
اسم ’’اللہ‘‘ کو اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام مانا جاتا ہے ۔ باقی سب اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں‘ جیسے الرحمٰن‘ الرحیم‘ الحکیم ‘۱ لسمیع‘ البصیر‘ الخبیر وغیرہم ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کا ادراک کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے‘ ایسے ہی اُس کی صفات کامکمل احاطہ کرنا بھی ہمارے لیے ممکن نہیں ہے‘لیکن اللہ تعالیٰ کا کچھ نہ کچھ تعارف ہمیں اُس کی صفات کے ذریعے سے حاصل ہوتا ہے اور وہ سارا جمع ہو کر اسم ’’اللہ‘‘ میں آ جاتا ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ’’اُس(اللہ) کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں‘‘۔ اِلٰـہ کا عام ترجمہ معبود کیا جاتا ہے جو کہ بالکل ٹھیک ہے ‘البتہ الٰہ کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ہستی جس سے سب سے بڑھ کر محبت کی جائے ‘جس کی طرف لپکا جائے ‘وہ ہستی جسے مشکلات میں پکارا جائے‘ وہ ہستی جس کی طرف سب سے بڑھ کر محنتیں کی جائیں۔ یہ تمام مفاہیم بھی الٰہ میں شامل ہیں اور ان کا اصل حق دار اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے علاوہ اور کون ہو سکتا ہے؟ جیسا کہ فرمایا گیا:{وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّـلّٰہِ ط}(البقرۃ:۱۶۵) ’’اور جو لوگ واقعتاً صاحب ِایمان ہوتے ہیں ان کی شدید ترین محبّت اللہ کے ساتھ ہوتی ہے۔ ‘‘اس کا تقاضا یہ ہے کہ سب سے بڑھ کر جدوجہد اللہ کے لیے ہو ۔ قربانی کے موقع پر بھی ہم یہ الفاظ ادا کرتے ہیں:
{ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (۱۶۲) } (الانعام)
’’یقیناًمیری نماز‘ میری قربانی‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔‘‘
الٰہ کا یہ مفہوم بالکل ٹھیک ہے کہ وہ ذات جس کی عبادت کی جائے ‘اور اللہ ہی عبادت کے لائق ہے ۔اللہ کو چھوڑ کر مخلوق میں سے کسی کو بھی پکارو گے تو تم اپنے شرف کو کھودو گے۔انسان کو تو اشرف المخلوقات بنایا گیا۔ تمام انبیاء کی یہی دعوت تھی کہ اللہ ہی کی عبادت کرو۔ جیسے حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا :{یٰـقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗ ط} (الاعراف: ۵۹) ’’اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی بندگی کرو ‘ تمہارا کوئی معبود اُس کے سوا نہیں ہے۔‘‘
(۲) اللہ تعالیٰ ازلی اور ابدی ہے
{اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ج}
’’وہ زندہ ہے‘ سب کا قائم رکھنے والا ہے۔‘‘
اَلْحَیُّ وہ ہے جو از خود زندہ ہو ۔اُس کی زندگی کا انحصار کسی اور پر نہیں ہے۔ اُس کی زندگی مستعار (borrowed)نہیں ہے ۔الْقَیُّوْمُ کا ترجمہ: قائم رکھنے والا ‘تھامنے والا ‘ نشوونما کرنے والا ‘ربوبیت کرنے والا ‘ایک ایک حاجت کو پورا کرنے والا‘ مشکلات کو دور کرنے والا ‘ مخلوق کی زندگی کو برقرار رکھنے والا ۔یہ سارے مفاہیم الْقَیُّوْمُ میں شامل ہیں۔اَلْحَیُّ از خود زندہ ہے جبکہ الْقَیُّوْمُ سب کوتھامنے والا ہے۔ہمارے استاد ڈاکٹر اسراراحمدؒنے بڑی پیاری بات کہی کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں ’’احد‘‘ہے اور ساری کائنات اور مخلوق کے لیے ’’ صمد‘‘ہے۔ جیسے سورۃ الاخلاص میں فرمایا:
{ قُلْ ہُوَ اللہُ اَحَدٌ(۱) اَللّٰہُ الصَّمَدُ(۲)}
’’کہہ دیجیے وہ اللہ یکتا ہے‘اللہ سب کا مرجع ہے۔‘‘
اللہ اکیلا ہے ۔ اس کا وجود ا ز خود ہے۔ باقی سب کا وجود اُس کے دم سے ہے۔ الصمد سے مراد یہ ہے کہ سب اس کے محتاج ہیں ‘وہ کسی کا محتاج نہیں ۔احادیث کی روشنی میں اکثر مفسرین کا خیال یہ ہے کہ آیت الکرسی کے پہلے دو جملوں (اَللہُ لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَج اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ج) کو پڑھ کر اگر دعا مانگی جائے تو اللہ قبول فرماتا ہے۔اس کو اور finetune اس طرح کیا گیا کہ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ میں اسم اعظم موجود ہے۔ چنانچہ ایک روایت مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ نے بھی اپنی تفسیر میں نقل کی ہے کہ غزوئہ بدر سے پہلے پوری رات حضورﷺ حالت سجدہ میں دعا کر رہے تھے تو حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں‘ میں نے سنا حضورﷺ بار بار ’’یاحی یا قیوم‘‘ پکار کر دعا کر رہے تھے۔ ایک اور مشہور اور مسنون دعا ہم سب کو یاد ہوگی :یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اسْتَغِیْثُ ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں یقین کے ساتھ مانگنے والا بنائے! دعائیں رٹنی نہیں چاہئیں۔ محض الفاظ ادا نہیں کر دینے چاہئیں‘بلکہ دعا کا ترجمہ بھی یاد ہو۔ مانگتے تب ہیں جب ہمیں اپنی محتاجی کا احساس ہو ۔اللہ کی عظمتوں کا ہمیں ادراک ہونا چاہیے۔ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ کے بارے میں اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ اس میں اسم اعظم موجود ہے۔
(۳)اللہ تعالیٰ غافل نہیں
{لَا تَاْخُذُہٗ سِنَـۃٌ وَّلَا نَوْمٌ ط}
’’نہ اس پر اونگھ غالب آتی ہےاور نہ نیند۔‘‘
اونگھ کیا ہے؟ یہ نیند کا مقدّمہ ہے۔ اونگھ کے بعد نیند آتی ہے۔ تھکاوٹ اور دیگر وجوہات کی وجہ سے بندہ تھوڑا غفلت میں جاتا ہے تو اونگھ سی آتی ہے۔جب سارے حواس معطل ہو جاتے ہیں اورادراک ‘فہم‘ غور و فکر کی صلاحیت معطل ہو جاتی ہے تو یہ نیند کی کیفیت ہے۔ اللہ تعالیٰ کو نہ تو اُونگھ آتی ہے اور نہ نیند ۔ اس کے ساتھ کوئی غفلت کا ‘ کوئی تھکاوٹ کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ تصورات مسیحیت کے ماننے والوں میں ہیں اور بائبل کے تمام معروف نسخوں میں یہ الفاظ موجود ہیں:
" For in six days the LORD made the heavens and the earth, the sea, and all that is in them, but he rested on the seventh day. " (Exodus 20:11)
یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب کو چھ دنوں میں بنایا اور ساتویں دن تھک گیا تو اُس نے آرام کیا ۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ! اللہ کے ساتھ کوئی کمزوری وابستہ نہیں ہے۔ یہ تو مخلوق کا مسئلہ ہے ۔اللہ کی شان یہ نہیں ہے کہ وہ تھک جائے یا اسے اونگھ اور نیند آئے۔مخلوقات میں سے بعض پیغمبروں کو اللہ کی الوہیت میں شامل کر دیا گیا۔ مسیحیت کے ماننے والوں نےحضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدائی کا درجہ دے دیاجبکہ بائبل میں لکھا ہے کہ وہ سوتے بھی تھے‘ انہوں نے کھایا پیابھی‘ ان پر بیماری کا معاملہ بھی آیا تھا۔ جس میں یہ کمزوریاں ہوں وہ معبود نہیں ہو سکتا۔ اللہ وہ ہے جو اَلْقَیُّوْم ہے ۔ ہرایک کو تھامنے والا اور ہر ایک کی حاجات کو پورا کرنے والا ہے۔ اس کائنات کو بنانے اور چلانے والا ہے۔ اس کے اِذن کے بغیرہماری زندگی برقرار نہیں رہ سکتی ۔ایک صاحبِ دل جو باطن کے معاملات پر کلام کرتے ہیں‘ ان کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توجہ تو تمہاری طرف سے کبھی نہیں ہٹتی لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ تم اللہ کو بھلا دیتے ہو‘ فراموش کر دیتے ہو‘ اُس کے احکامات کو پامال کرتے ہو ۔اُس کی نعمتیں استعمال کرتے ہو مگر اُس کا شکر ادا نہیں کرتے۔ ڈاکٹرز کے کہنے پر حلال کو چھوڑ دیتے ہولیکن اللہ کے کہنے پر حرام کو نہیں چھوڑتے۔ تمہیں ایمان مطلوب نہیں ہے‘اپنی روحانی ترقی مطلوب نہیں ہے۔جنت تمہیں مطلوب نہیں ہے ۔اللہ کو پا لینا اور اُس کو راضی کر لینا تمہیں مطلوب نہیںہے۔ تم کس قدر غفلت میں چلے جاتے ہو‘لیکن اللہ تعالیٰ بالکل بھی غافل نہیں ہے۔ اللہ ہمیں غفلت سے محفوظ رکھے!
(۴) اللہ زمین و آسمان کا مالک ہے
{ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط}
’’جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اُسی کا ہے۔‘‘
ہم روزانہ ان الفاظِ قرآنی کی تلاوت کرتے ہیں لیکن پھر بھی حقیقت کو بھول جاتے ہیں اور دعوے کرتے ہیں کہ میرا جسم‘ میرا مال‘ میری جائیداد‘ میرا اختیار‘میری کرسی‘ میرے اصول۔
کس بات کا ’’میں میں میں‘‘ لگا رکھا ہے ہم نے! یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ آسمانوں اور زمین کے الفاظ قرآن کریم میں اس کائنات کی وسعتوں کو بیان کرنے کے لیے آتے ہیں‘ اور ان وسعتوں کو سمجھنا ہمارے لیے ممکن نہیں۔ بگ بینگ سے expansiveیونیورس کے تصوّرات تو ہمارے سامنے آگئے ہیں مگر جتنا انسان آگے بڑھ رہا ہے اتنا اسے پتہ چلتا ہے کہ یہ کائنات ابھی غیردریافت شدہ (unexplored)ہے۔کائنات کی وسعتوں کو بیان کرنے کے لیے قرآن کریم کے عام الفاظ یہ ہیں کہ آسمان اور زمین اللہ ہی کے لیے ہیں‘اللہ ہی کی ملکیت میں ہیں جبکہ بندے توtrusteesہیں‘ custodianہیں‘ امین ہیں ۔ یہ وجود اللہ کا عطا کردہ ہے ‘ اس کے بارے میں مَیں نے جواب دینا ہے۔ مال اللہ کا عطا کردہ ہے‘اس کے بارے میں جواب دینا ہے ۔اولاد اللہ کی عطا کردہ ہے‘ اس کے بارے میں جواب دینا ہے۔یہ کائنات ربّ تعالیٰ نے میرے لیے سجائی‘بے شمار نعمتیں اُس نے عطا فرمائیں جن کا کل جواب دینا ہے۔{ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیْمِ(۸)}(التکاثر) ’’پھر اُس دن تم سے ضرور پوچھا جائے گا نعمتوں کے بارے میں۔‘‘ اللہ تعالیٰ ہم سب کے حساب کو آسان فرمائے!
یہ پورا عقیدہ اس میں بیان ہو گیا کہ تمہارا کچھ بھی نہیں ‘ سب کچھ اللہ کا ہے۔ لہٰذا بندے بندوں پر حاکم بن کر نہ بیٹھ جائیں۔ بندے بندوں کو غلام نہ سمجھ لیں۔ پیغمبروں کی دعوت کا ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر رب کی غلامی میں لے آئیں۔ بندوں کے پاس جو کوئی نعمت‘ اختیار‘ طاقت یا مال ہے وہ اللہ کی امانت ہے اور اس کے ذریعے بندوں کی آزمائش کی جا رہی ہے۔ جامع ترمذی کی روایت ہے کہ روزِ محشر ابن آدم کے قدم اُس کی جگہ سے ہٹ نہیں سکیں گے جب تک وہ پانچ سوالات کے جوابات نہ دے دے۔زندگی کہاں لگائی؟ جوانی کہاں کھپائی؟ مال کہاں سے کمایا؟ مال کہاں خرچ کیا؟ جو علم حاصل کیا اس پر کتنا عمل کیا ؟ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کے لیے تیاری کی توفیق عطا فرمائے!
(۵) اللہ کا کوئی سفارشی نہیں
{ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ط}
’’کون ہے وہ جو شفاعت کر سکے اُس کے پاس کسی کی مگر اُس کی اجازت سے!‘‘
ایک شفاعت وہ ہے جو روزِقیامت امام الانبیاءﷺ فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نبی مکرم ﷺ کی شفاعت عطا فرمائے! پھر درجہ بدرجہ اللہ تعالیٰ کے اِذن سے انبیاء‘ صدیقین‘ شہداء‘ حفاظ ‘حجاج بھی اپنے اپنے دائرے میں رہ کر سفارش کریں گے۔ احادیث میں تذکرہ آتا ہے ان کو اللہ کے اذن سے شفاعت کرنے کا حق ملے گا۔ تاہم سفارش اللہ کے حکم سے ہو گی۔ یہ بات سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ اسی سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ نے تین مرتبہ مطلق شفاعت کی نفی فرمائی ہے۔ دو مرتبہ بنی اسرائیل کے ذکر میں فرمایا:{وَلَا یُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ} (آیت۴۸) ’’اور اُس سے کوئی شفاعت قبول نہ کی جائے گی‘‘ اور{وَلَا تَنْفَعُہَا شَفَاعَۃٌ} (آیت۱۲۳)’’اور کوئی شفاعت اس کے کام نہیں آئے گی‘۔ اور یہاں پر ذکر کیا جا رہا ہے اسی آیت سے پہلے :
{ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْہِ وَلَا خُلَّـۃٌ وَّلَا شَفَاعَۃٌط } (آیت۲۵۳)
’’وہ دن کہ جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہو گی‘ نہ کوئی دوستی کام آئے گی اور نہ کوئی شفاعت مفید ہو گی۔‘‘
البتہ آیت الکرسی میں اللہ تعالیٰ نے استثناء(exeption) دیا ہے کہ اللہ کے حضور شفاعت کا امکان ہے اور وہ اللہ کے اِذن سے ہو گی ۔سورئہ طٰہ میں ارشاد ہے :
{یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہٗ قَوْلًا(۱۰۹)}
’’اُس دن کوئی شفاعت ہرگز مفید نہیں ہو گی مگر جس کے لیے رحمٰن نے اجازت دی ہو‘ اور اُس کے لیے اُس نے بات پسندکی ہو۔‘‘
معلوم ہوا کہ اصل شافع تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے‘ اُس کے اِذن سے شفاعت ہوگی اور جس کے لیے اللہ تعالیٰ پسند فرمائے گا اُس کے لیےہو گی۔ معاملہ یہ ہے کہ بقیہ لوگوں کے مقابلے میں سب سے بڑھ کر امام الانبیاءﷺ کو مقامِ محمود عطا ہوگا ۔اللہ شفاعت کبریٰ کا حق نبی مکرم ﷺ کو دےگا۔ پھر دیگر انبیاء ‘ نیک بندوں کا مقام لوگوں کے سامنے واضح فرمائے گا کہ تم شفاعت کرو‘ مَیں فلاں فلاں کو بخش دوں گا۔ البتہ اس میں مزید تفصیلات کے لیے تفاسیر کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
روزِ محشر کے حوالے سے یہ نکتہ بھی ذہن میں رہے کہ اُس وقت اللہ تعالیٰ کا جو جلال ہو گا اس کے سامنے تو انبیاء‘ صدیقین‘ شہداء‘ صالحین اور فرشتے سب لرزاں و ترساں ہوں گے۔ کسی میں اتنی ہمت نہ ہو گی کہ وہ اللہ کے سامنے کلام کر سکے۔ اللہ تعالیٰ جب اجازت دے گا تو کلام ہوسکےگا‘ اور اللہ اجازت دے گا تو شفاعت ہو سکے گی۔یہ بھی اللہ ربّ العالمین کی عظمت کا تذکرہ ہے کہ کون ہے جو اس کے سامنے بات پیش کر سکے‘ کون ہے جو اس کے سامنے شفاعت کرسکے مگر اسی کے اذن سے!
{ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ ط } (سبا:۲۳)
’’اور نہ نفع دے گی اُس کے ہاں کوئی سفارش مگر اُسی کے حق میں جس کے لیے اُ س نے اجازت دی ہو۔ ‘‘
(۶) اللہ ظاہر و باطن سے باخبر ہے
{یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ ج }
’’وہ جانتا ہے جو کچھ اُن کے سامنے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہے۔‘‘
بعض مفسرین نے اس سے یہ مراد بھی لی ہے کہ اللہ ایک بندے کی پیدائش سے پہلے کے حالات سے بھی واقف ہے اور بندے کی موت کے بعد جو کچھ ہو گا وہ سب بھی اللہ کے علم میں ہے۔لہٰذا جب پیدائش سے پہلے اور موت کے بعد کا کُل علم اللہ ہی کے پاس ہے تو وہ حال کے متعلق کیوں نہ جانے گا کہ بندہ جب زمین پر چل پھر رہا ہے تو کیا بول رہا ہے‘ کیا سوچ رہا ہے۔ ایک اور مراد یہ لی گئی کہ جو کچھ بندے کے ظاہر میں ہے یعنی اس کا قول و فعل‘ کردار‘ اخلاقیات اور جو کچھ اس کے باطن میں ہے یعنی اس کی نیت ‘ ارادے اور خیالات سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔
تیسری بات معروف ہےکہ {عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ} ’’ اللہ غیب کو بھی جانتا ہے اور ظاہر کو بھی۔ ‘‘اللہ کے لیے غیب اور ظاہر کی تقسیم نہیں ہے ۔یہ تو ہمارے لیے ہے کہ ہم سب کچھ نہیں دیکھ سکتے۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے ‘سب کچھ دیکھتا ہے۔ہمیشہ سے سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔ جو چیز ہمارے اعتبار سے hidden اور unseenہے‘ ہمارے اعتبار سے غیب میں ہے‘ اللہ اسے بھی جانتا ہے۔
(۷) اللہ جس کو چاہتا ہے‘ علم عطا کرتا ہے
{وَلَا یُحِیْطُوْنَ بِشَیْ ئٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلَّا بِمَاشَآئَ ج}
’’اور وہ احاطہ نہیں کر سکتے اللہ کے علم میں سے کسی شے کا بھی سوائے اس کے جو اللہ چاہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی ذات کو سمجھنا ناممکن ہے لیکن اللہ کی صفات کے ذریعے اس کا کچھ تعارف ملتا ہے ۔ تاہم اللہ تعالیٰ کی صفات کو بھی سو فیصد سمجھنا ممکن ہی نہیں ہے۔اللہ کی دو صفات کے ساتھ کُل کا لفظ قرآن حکیم میں بار بار آیا ہے: {وَھُوَ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ(۲۹)} (البقرۃ) ’’ اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔‘‘{وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌo}’’اور وہ ہر ہر بات پر قدرت رکھنے والا ہے۔‘‘ کُل کا لفظ اللہ کے پورے علم اور اس کی پوری قدرت کا عکاس ہےجو یہ بتاتا ہے کہ اللہ کی قدرت اور اس کے علم نے پوری کائنات کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ وہ کائنات کے ایک ایک ذرے پر گزرنے والے حالات کی مکمل واقفیت رکھتا ہے۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے علم میں سے کسی شے کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر سوائے اُس کے جو اللہ چاہے۔ اب اس میں تفصیل ہے کہ علم تو اللہ نے مخلوق کوبھی عطا کیا‘ انبیاء کو بھی عطا کیا اور سب سے بڑھ کر امام الانبیاءﷺ کو عطا کیا ۔ بعض لوگ غلطی کر جاتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ کے علم پر بحثیں کرتے ہیں اور ناپنے بیٹھ جاتے ہیں ۔معاذ اللہ‘ ثم معاذ اللہ! اس ضمن میں اصولی بات یہ ہے کہ اللہ کا علم ذاتی ہے‘ اپنا ہے‘ جب کہ مخلوق میں سے ہر کسی کا علم عطائی ہے‘ اللہ کا عطا کردہ ہے ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اللہ کا علم ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔فلسفے کی اصطلاح میں کہا جاتا ہے کہ اللہ کا علم ’’قدیم‘‘ ہے ۔ اس میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ مخلوق کا علم نہ ہمیشہ سے ہے‘ نہ ہمیشہ رہے گا‘یہ پلس مائنس بھی ہو سکتا ہے۔ اس کو فلسفے کی اصطلاح میں ’’حادث‘‘ کہتے ہیں۔
تیسری سادہ سی بات ہے کہ اللہ کا علم لامحدود جبکہ مخلوق کا علم محدود ہے ۔انبیاءو رسل علیہم السلام کوسب سے بڑھ کر اللہ نے علم عطا کیا مگر اللہ کے علم کے مقابلے میں ان کاعلم بھی محدود ہے۔
یہ فلسفے سے ہٹ کر چونکہ عقیدے کے مسائل بھی ہیں‘ہمارے استاد ڈاکٹر اسرار احمدؒ کی اس موضوع پر معروف کتاب ہے ’’حقیقت و اقسامِ شرک ۔‘‘ان کے چھ گھنٹے کے آڈیو کیسٹس بھی اب ڈیجیٹائز ہو چکے ہیں‘وہ ماسٹر پیس ہیں۔ پھر انہوں نے ۱۹۸۵ء میں ابو ظبی میں نو دن خطابات کیے تھے ‘وہ بھی موجود ہیں۔بعد ازاں جب ڈاکٹر ذاکر نائیک کی دعوت پر ڈاکٹر اسرار احمد ؒ ہندوستان تشریف لے گئے تھے تو وہاں بھی انہوں نے اس موضوع پر خطاب کیا تھا۔
چنانچہ معلوم ہوا کہ اللہ کی صفات ذاتی ہیں ‘ قدیم ہیں‘ ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔ یہ لامحدود ہیں۔ مخلوق کی صفات عطائی ہیں‘حادث ہیں‘ہمیشہ سے نہیں ہے اور ہمیشہ نہیں رہیں گی۔ مخلوق کی صفات محدود ہیں ۔اگریہ اصول سامنے رہیں تو بہت ساری علمی غلطیوں یا بحثوں سے ان شاءاللہ تعالیٰ ہم بچ جائیں گے۔
(۸) اللہ کی کرسی آسمانوں اور زمین پر محیط ہے
{وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ج }
’’اس کی کرسی تمام آسمانوں اور زمین کو محیط ہے۔‘‘
قرآن مجید کا یہ مقام متشابہات میں سےہے۔ متشابہات قرآن پاک کے وہ امور ہیں جن کی حقیقت ہمارے علم میں نہیں ۔ ان باتوں کو ہم مانتے ہیں۔ اللہ کی جنت کیسی ہے ‘ اسے بس اتنا ہی بیان کر سکتے ہیں جتنا قرآن و سُنّت میں وضاحت آئی ۔ پوری حقیقت بیان نہیں ہو سکتی۔ جِنّات کو سائنسی طور پر بیان نہیں کر سکتے ‘لیکن ان کی موجودگی کو مانتے ہیں۔ فرشتوں کو بھی مانتے ہیں‘ اگرچہ کسی لیبارٹری میں اس کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ہمارے ساتھ دو فرشتے ہیں کراماً کاتبین۔ یہ غیب کے مسائل ہیں۔ بہرحال ‘اللہ کی کرسی کا عام مفسرین نے اس کے اقتدار اور عظمت کے حوالے سے ترجمہ کیا ہے۔ اللہ کا اقتدار اور اختیار پوری کائنات پر ہے۔
یہ کائنات کتنی وسیع ہے انسان ابھی تک اس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکا۔اس پوری کائنات پر جو ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہے‘ کل اقتدار‘ کل اختیار اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ہے۔
ایک اور مفہوم بھی بیان کیا گیا کہ کوئی کرسی یا تخت ہے لیکن اس کی کیفیت کو ہم سمجھ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کے تعلق سے ان امور کا تذکرہ جب بھی آتا ہے تو بچپن سے عقیدے کے الفاظ ہمیں یاد ہیں:
((اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ کَمَا ھُوَ بِاَسْمَائِہٖ وَصِفَاتِہٖ وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ اِقْرَارٌ بِاللِّسَانِ وَتَصْدِیْقٌ بِالْقَلْبِ))
’’میں ایمان لایا اللہ پر جیسا کہ وہ اپنے اسماء اورصفات کے ساتھ ہے‘ اور میں نے اُس کے تمام احکام کو قبول کیا‘ زبان سے اقرار کرتے ہوئے اور دل سے تصدیق کرتے ہوئے۔‘‘
ایک حدیث میں ذکر ہے کہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہﷺ سے پوچھا: اللہ کی کرسی کیسی ہے؟حضورﷺ نے فرمایا: ’’ابوذر! یہ آسمان و زمین اللہ کی کرسی کے سامنے ایسے ہیں جیسے ایک صحرامیں انگوٹھی ہو۔‘‘اللہ کی کرسی کے سامنے آسمان و زمین کی وسعت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اللّٰہ اکبرُ کبیراً !ایسے میں اس زمین پر بسنے والوں کی اوقات اور حیثیت کیا ہے!
(۹)کائنات کا نظام اللہ کو تھکانہیں سکتا
{ وَلَا یَــــُٔوْدُہٗ حِفْظُہُمَاج }
’’اور اس پر گراں نہیں گزرتی ان دونوں کی حفاظت۔‘‘
کائنات کس قدر وسیع ہے‘ ہم نہیں جانتے اوراس کائنات کے اندر کیا کچھ ہے‘ وہ بھی ہم نہیں جانتے مگر اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کا نظام چلاتے ہوئے ذرہ برابر بھی نہ تو غافل ہوتا ہے اور نہ ہی تھکتا ہے۔ تھکاوٹ تو کمزوری کی علامت ہے اور جس میں کوئی کمزوری ہو‘ وہ مالک‘ معبود اور ربّ کیسے ہو سکتا ہے!
(۱۰) اللہ سب سے عظیم ہے
{وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ(۲۵۵)}
’’اور وہ بلند و بالا (اور) بڑی عظمت والا ہے۔‘‘
ان سب باتوں کو سننے کے بعد بندہ یہی کہے گا: وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ وہی سب سے بلند مرتبے والا ہے‘ وہی سب سے بڑھ کر عظمتوں والا ہے۔
یہ ہے آیت الکرسی ۔ہر فرض نماز کے بعد اس کی تلاوت کی تلقین کی گئی ہے۔ میں اور آپ یہ باتیں مانتے ہیں۔ اس قدر عظیم رب کے لیے ہمارے مسائل حل کر دینا‘ اُمّت ِمسلمہ کو زوال سے نکال کر عروج عطا کرنا کون سا مشکل ہے ! کیا آج ہم اس عظیم رب پر اتنا ایمان رکھتے ہیں جتنا کہ رکھنے کا حق ہے ؟
بتوں سے تجھ کو امیدیں ‘ خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے!اللہ کی مدد اور نصرت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اُس پر دلی یقین والا ایمان لائیں ـ۔ اُس کے احکامات کو مانیں۔ اُسی پر توکّل اور بھروسا کریںـ ۔ ہماری زندگی کی ہر جدّوجُہد‘ ہر عمل اُس کی رضا کے لیے ہو۔ اُس کے دین کی سربلندی‘ غلبہ و قیام کے لیے جدّوجُہد کریں۔ جب یہ ہو گا تو اُس عظیم ربّ کی مدد ہمیں حاصل ہو گی اور ہمارے تمام مسائل حل ہو جائیں گے‘ ان شاء اللہ!
وہ ایک سجدہ جسے تُو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات!اللہ تعالیٰ ہمیں آیت الکرسی کے فضائل کو سمجھتے ہوئے اس کے تقاضوں کو صحیح معنوں میں پورا کرنے اور اس پرعمل کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین یا ربّ العامین!
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ ربّ العالمینoo
tanzeemdigitallibrary.com © 2026