وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا
بیگم ڈاکٹر عبدالخالق
حقوق و فرائض پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے‘ لیکن جب تک عملاً اور ذہناً یہ قبول نہیں کیا جائے گا کہ حقوق و فرائض کا تعین اللہ تعالیٰ کا وضع کردہ ہے{وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ(۷)} (الرحمٰن) اُس وقت تک افراد‘ خاندان اور حکومتی ادارے تک افراط و تفریط کا شکار ہوتے رہیں گے ۔سورۃ الحدید کی آیت۲۵ کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کتاب کے ساتھ میزان بھی نازل کی ہے تاکہ لوگ نظامِ عدل و قسط پرقائم ہوں ۔حقیقت یہ ہے کہ خاندانی نظام پر بھی انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے ‘ورنہ تو بقول صائب تبریزی ؎
خشت اوّل چوں نہد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کجانقلاب ہمیشہ فردِ واحد کی زندگی سے شروع ہوتا ہے۔ بندگی ٔربّ‘ شہادت علی الناس اور اقامت ِدین کی جدّوجہد کا پہلا میدان ایک انسان خود اور اس کا گھر ہے ۔ ہم جب تک اجتماعیت ہی پر توجہ رکھیں گے ‘حقوق و فرائض سے نظریں چرائیں گے اور ع: ’’کہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی ‘‘کے مصداق گھر میں عملاً غیر عادلانہ رویے اپنائیں گے توہم ایک اچھے اور کامیاب انسان بھی نہیں بن سکتے۔ ع ’’ ایں خیال است و محال است و جنوں!‘‘
اقامت ِدین کا اولین مرحلہ تو انقلابی ذہن تیار کرنا ہے۔ بقول جگر مراد آبادی ع ’’جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ!‘‘ دل و دماغ پر انقلاب لانے کے لیے پیار محبت‘ ایثار و قربانی‘ عفوو درگزر‘ اپنے گھر والوں کی کڑوی کسیلی باتیں صبر سے سننا‘ تحمل سے ان کو دینی اور دُنیوی ذمہ داریوں کا شعور دلانا‘ انتہائی ضروری ہے۔ اسی کو Passive Resistance کہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے پیارے رسولﷺ کی تعریف میں فرمایا: {فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْ ج وَلَـوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَانْـفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ ص}(آل عمران:۱۵۹) ’’اللہ کی کتنی رحمت ہے کہ آپ ان کے ساتھ بہت نرم دل ہیں‘اور اگر آپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے ہٹ جاتے۔‘‘
خاندانی نظام میں مَردوں کو عدل و قسط کی میزان کو مضبوطی سے پکڑنا ہے۔ زندگی کے ہر مرحلے پر معاملات میں توازن رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ ایک حدیث میں بھی اس کی وضاحت ملتی ہے کہ نبی اکرمﷺ فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! میں نے ظاہری چیزوں میں پورا پورا عدل کیا ہے ‘ باقی جہاں تک میرے دل کے میلان کا تعلق ہے تو مجھے امید ہے کہ اس بارے میں تُو مجھ سے مواخذہ نہیں کرے گا۔
مَردوں کو بحیثیت بیٹا کیسا ہونا چاہیے؟ یہ سورئہ بنی اسرائیل کی آیات (۲۳و مابعد)سے بہت اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ رفقاءِ تنظیم نے مطالعہ قرآن حکیم کے منتخب نصاب میں ان آیات کا درس تو بہت اچھی طرح سنا ہوگا۔ عملاً والدین کے ساتھ ہمارا رویہ‘ اخلاق اور عمل کیسا ہونا چاہیے‘ اس کے لیے ان آیات کے الفاظ کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے جو ممکنہ فرائض بیٹے پر عائد ہوتے ہیں ان کی تشریح کی کوشش کی جائے گی۔
بیٹے کے عمومی فرائض اور والدین کے حقوق
(i ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنا (سورئہ بنی اسرائیل کی مذکورہ آیات کا مطالعہ کرنا اور ان پر غور و فکر کرنا کہ یہ مَردوں کی لازمی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔)
(ii ان کے ساتھ مناسب وقت گزارنا ۔کبھی کبھی ان کے ساتھ کھانا بھی کھانا۔ ضرورت پڑنے پر ان کے ساتھ سونا (والدین کی خواہش کے مطابق بھی اور ان کی ضرورت کے مطابق‘ لیکن اعتدال اور عدل کے ساتھ)
(iii اپنی حیثیت کے مطابق والدین پر خرچ کرنا
(iv ضرورت پڑنے پر والدین کی خدمت کرنا۔ اپنے بیوی بچوں کو کہنے کے بجائے خود اس امر پر توجہ دینا اور اللہ کا شکر ادا کرنا کہ جنت اُس کی اپنی والدہ کے قدموں تلے ہے۔ ان کی خدمت کو اپنے لیے سعادت سمجھنا ۔ ع ’’یہ منصب ِبلند ملا جس کو ‘ مل گیا!‘‘
(v بیوی کو والدین کی خدمت پر ہرگز مجبور نہ کرنا
شادی شدہ بیٹوں کی ذمہ داریاں
{اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَی النِّسَآئِ .......} (النساء:۳۴)
’’مَرد عورتوں پر حاکم ہیں .......‘‘
خاندان کے ادارے میں اللہ تعالیٰ نے مَردوں کو قوام بنایا ہے ۔ قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنے بارے میں فرمایا:{قَائِمًام بِالْقِسْطِ} (آل عمران:۱۸) کہ وہ عدل و انصاف پر قائم ہے۔ سورۃ المائدۃ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا : {کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلہِ شُہَدَآءَ بِالْقِسْطِ}(آیت۸) ۔ سورۃ النساء میں ارشاد ہوتا ہے: {کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَآءَ لِلہِ }۔(آیت۱۳۵) جو ذات ِباری تعالیٰ خود انصاف پر قائم ہے وہ ہم اہل ِ ایمان سے بھی اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ انصاف پر قائم ہو جائو‘ اللہ کے حق میں گواہی دینے والے۔ خاص طور پر مَردوں کو علیحدہ سے یہ منصب عطا کیا گیا ہے کہ وہ عورتوں پر حاکم ہیں۔
ہمارا المیہ ہے کہ ہم اولاد کو دنیاوی علوم میں ہی ڈگریاں دلواتے رہ جاتے ہیں۔ صرف ایک خاندان کے حقوق و فرائض بھی نہ خود ہمارے ہاں عمل میں ہیں نہ ہم اولاد کو سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عبادات میں تو ہم سبقت لے جانے بلکہ عزیمت کی باتیں کرتے ہیں لیکن معاملات کی طرف توجہ نہیں کرتے۔
یہاں صرف بیٹوں کے فرائض کی بات ہو گی جو شادی کے بعد ان پر والدین کی طرف سے عائد ہوتے ہیں ۔ گویا من جانب اللہ یہ والدین کے حقوق یعنی بیٹوں کے فرائض ہیں۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ واحد مذکر کے صیغے میں یہ بات بیوی کو بھی لازم آتی ہے‘ لیکن قصّہ آدم و ابلیس میں اللہ تعالیٰ نے مسلسل ’’ھُمَا‘‘ کا صیغہ استعمال کیا ہے۔ قرآن کریم میں یہ واقعہ سات مقامات پر آیا ہے لیکن ایک مرتبہ بھی صرف مذکر کے صیغے سے خطاب نہیں کیاگیا‘جبکہ یہاں مسلسل واحد مذکر مخاطب کا صیغہ ہے۔ مثلاً : عِنْدَکَ، لَا تَقُلْ، لَا تَنْھَرْ، قُلْ، وَاخْفِضْ۔
(۱) والدین کا معروف حکم ماننا فرض ہے۔
(۲) والدین کی خدمت (اگر انہیں ضرورت ہے تو) بیٹوں کا فرض ہے۔اس ضمن میں حدیث مبارکہ بھی ہے کہ بیٹے کو والدین کی وجہ سے حج اور جہاد پر جانے سے روکا گیا ۔ (علاوہ ازیں والدین خوشی سے اجازت دے دیں‘ یا پھر بیٹے ایک سے زیادہ ہوں تو جسمانی اور مالی خدمت بانٹی جا سکتی ہے۔)
(۳) یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ ہمارے قلم یا زبان بیٹوں کے فرائض بتاتے ہوئے جانب داری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ میرا یہ احساس ہے کہ مَرد/ بیٹے کو اپنے معاش کے لیے بھی والدین سے دور ہرگز نہیں جانا چاہیے۔ یقین جانیں کہ حلال اور محنت کی کمائی میں برکت ڈالنے والی چیز والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اور وہ بہترین دعائیں ہیں جو والدین اولاد کے حق میں کرتے ہیں۔ چنانچہ کوئی موچی سیدناموسیٰ علیہ السلام کا ہمسایہ بن جاتا ہے اور کسی لکڑ ہارے بیٹے کی اپنے والدین کی مثالی خدمت پر غاروں کے دہانے سے پتھر ہٹ جاتے ہیں ‘وغیرہ وغیرہ۔
(۴) سورئہ بنی اسرائیل میں والدین کے حقوق کے ضمن میں آیات کو پڑھتے ہوئے شدید احساس ہوتا ہے کہ ہماری تنظیم کو بھی اس ضمن میں ایسے اصول بنانے اور اپنانے بہت ضروری ہیں جن کا اللہ نے حکم دیا ہے۔
سورئہ بنی اسرائیل کی آیات کا مطالعہ
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاط}
’’اور تمہارے ربّ نے یہ فیصلہ فرما دیا ہے کہ اُس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔‘‘
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے کیا مراد ہے‘اس کی تشریح اگلی آیات میں آ رہی ہے : {اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَآ اَوْکِلٰہُمَا فَلَا تَقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ} (واحد مذکرمخاطب کے صیغے میں والدین کے حقوق بیٹے کو سمجھائے جا رہے ہیں کہ ) ’’ان دونوں (والدین )میں سے اگر ایک یا دونوں تیرے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو اُف تک نہیں کہنا ‘‘(جیسے کہ ہم کہتے ہیں کہ ’’اُف تم نے یہ کیا کر دیا‘‘)۔ والدین بھی انسان ہیں‘ ان سے بھی غلطی ہو سکتی ہے تو بیٹے نے پیار و محبت سے سمجھانا ہے۔ہم اُف کا ترجمہ صرف اردو والا ’’اُف‘‘ ہی کریں گے لیکن اگر عربی لغت میں دیکھیں تو اس لفظ میں اور بھی بہت سی قباحتیں موجود ہیں۔
{وَّلَا تَنْہَرْہُمَا}’’اورنہ ہی ان کو ڈانٹنا ہے۔‘‘ والدین تو کیا ‘ہمیں تو ملازمین اور اپنے ماتحت افراد کو بھی ڈانٹنے سے منع کیا گیا ہے۔نبی اکرم ﷺ نے اپنے غلام حضرت زیدؓ کو کبھی نہیں ڈانٹا حالانکہ وہ چھوٹی سی عمر میں آپﷺ کے پاس آ گئے تھے اوراس عمر میں تو بچے بہت غلطیاں کر لیتے ہیں ‘لیکن آپؐ غلاموں کے حق میں بہت شفیق تھے۔
اولاد بالعموم اپنے والدین کے ساتھ زیادتی ‘نافرمانی ‘ تحقیر اور بداخلاقی سے پیش آتی ہے جبھی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص ہدایات دی جا رہی ہیں ۔ جتنا ہو سکتا ہے ‘خود ان کے ساتھ بھلائی بلکہ احسان کا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ والدین کے ساتھ سختی کا رویہ اپنانے سے گریز کریں بلکہ ایسا سوچنا بھی نہیں چاہیے ۔اسی طرح ان کی جائز خواہشات کو احسن طریقے سے پورا کریں۔ اگر بڑھاپے میں ارذل العمر کی وجہ سے وہ کوئی ناجائز یا غلط بات بھی کر لیتے ہیں تو اسے نظر انداز کر دینا‘ عفوودرگزر کرنا اور پیار سے سمجھانا ضروری ہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے کہی ہے کہ {وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا}۔
{وَقُلْ لَّہُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا(۲۳)} نرمی اور ملائمت سے اُن کی عزّتِ نفس کا خیال کرتے ہوئے بات کی جائے۔اپنے والدین کی خدمت کو جنت کی کنجی سمجھتے ہوئے انہیں کسی اور کے حوالے نہ کریں۔ بیٹے کی جنت اس کی والدہ کے قدموں میں ہے ۔ ایک بیٹے کا اپنے ماں باپ کے کھانے‘ لباس اور دوسری ضروریاتِ زندگی کاخیال رکھنا ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ بیٹے کے لیے جنت کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ اپنے بچوں کی وجہ سے کسی پریشانی یا بیوی کے سخت رویہ کا غصہ والدین پر نہ نکالیں۔ بیوی‘ بچے والدین کی خدمت میں مددگار ہوں تو فبہا‘ لیکن اصل ذمہ داری بیٹے پر ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو حرزِ جان بنائے۔ بڑھاپے میں والدین کو بوجھ سمجھنے کی بجائے قرآن تو ہمیں ’’احسان‘‘ کا رویہ اپنانے کا کہہ رہا ہے۔ ’’بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا‘‘ کے الفاظ قرآن میں چار مرتبہ والدین کے حق میں آئے ہیں۔ لفظ ’’اِحْسَانًا‘‘ کو سمجھنے کی کوشش کریں: بڑھاپے میں ان کے سخت رویے‘ اولاد کو برا بھلا کہنا ‘ کسی بات پر ضد کر کے بیٹھ جانا یا کسی بھی ناگوار لہجے یا رویے کے باوجود والدین کے اس طرزِ عمل سے صرفِ نظر کرنا ‘بلکہ ردّ ِعمل کے طور پر ان کے ساتھ اچھا برتائو کرنا ۔
بیٹا اگر خود تھکا ہوا ہے ‘ بے آرام ہے‘ یا باہر سے ابھی گھر آیا ہے اور والدین کی طرف سے کوئی جائز مطالبہ پیش آ جائے تو ان کے لیے تیوری نہیں چڑھانی‘ غصہ نہیں لانا‘ منہ نہیں بسورنا‘ ماتھے پر بل نہیں لانے ۔ ان کے ساتھ احسن طریقے سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ اگر کام فوری نوعیت کا ہو تو سعاد ت مندی سے کر دینا چاہیے ‘ورنہ نرمی سے ان کو کسی اور وقت کا کہہ دینا چاہیے۔ اپنے والدین کو کوئی فالتو چیز سمجھ کر ان سے اعراض اور چشم پوشی نہ کریں۔ {وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ } نوٹ کریں یہاں بھی واحد مذکر کے صیغے میں بیٹے کو بتایا جا رہا ہے کہ اصل میں تمہاری ذمہ داری ہے کہ اپنے والدین کے سامنے عاجزی سے کندھےجھکا کر رکھو۔یہ ہماری تہذیب کا المیہ ہے کہ بیٹا اپنے والدین کے سامنے بھی عاجزی کا رویہ نہیں رکھتا ‘ بیوی کے والدین کے سامنے تو کیا ہی کہنا ہے ۔ مزید یہ کہ والدین نے اگر اپنے بیٹے کو بھی ڈانٹنا ہو تو بہو کو ہی ڈانٹتے ہیں۔ بیٹا اپنے والدین کی ضروریات کا خیال خود رکھے۔ یہ اس کی اپنی ذمہ داری ہے۔
یہ واضح کرناضروری ہے کہ سورئہ بنی اسرائیل کے تیسرے رکوع میں والدین کے حق میں اولاد کو جو ہدایات اور ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں وہ والدین کے بڑھاپے کی صورت میں ہیں۔ جوانی کی صورت میں تو والدین عام طور پر خود کفیل ہوتے ہیں ۔احسن صورت یہی ہے کہ جب تک ہو سکتا ہے‘ وہ اپنا بوجھ خود ہی اٹھائیں۔ اپنا کام خود کریں‘ بیٹوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالیں۔ بیٹوں کی اپنی بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔ معاش کی ذمہ داری ‘ اپنے بیوی بچوں کی کفالت کی ذمہ داری ان پر ہے۔ بہت سے والدین تو بڑھاپے میں اپنی ذمہ داریاں اٹھانے کے ساتھ اپنی دوسری نسل کی دیکھ بھال میں بھی حصہ لیتے ہیں اور یوں اپنے بیٹوں کے دست و بازو بنتے ہیں ۔ اس اعتبار سے والدین اپنی اولاد کے لیے اس عمر میں بھی’ ’رحمت‘‘ ہوتے ہیں۔ شاید اسی موقع کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا نقل کی گئی ہے:
{وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ(۸۴) } (الشعراء)
’’اورمیرے لیے بنا دے سچّی ناموری پچھلے لوگوں میں۔‘‘
اس مقام پر بڑھاپے میں نرمی کے ساتھ والدین کے سامنے بیٹے کوکندھے جھکانے کا حکم دیا جا رہا ہے ۔مزید بیٹے کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ خود اپنے والدین کی آواز پر لبیک کہے نہ کہ بیوی کو کچھ کہے۔ ایسا نہ ہو کہ بیٹا خود تو موبائل میں مصروف رہےیا تھکاوٹ کا کہہ کر بستر پر دراز ہو اور بیوی گھریلو کام کاج کے ساتھ والدین پر بھی توجہ دے۔ خدا کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں ‘ورنہ قیامت کے دن آپ کو نہ صرف فرائض میں غفلت کی سزا ملے گی بلکہ فرسودہ روایات کے مطابق اپنا بوجھ دوسروں پر ڈالنے کے بھی ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے۔ آج تو بیوی محکوم ہے اور آپ کی ملکیت ہے لیکن قیامت کے دن وہ آزاد ہو گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًاط } (الانبیاء:۴۷ )
’’ پھر کسی جان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا ۔‘‘
ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی سمجھیں اور اپنی نسلوں کو بھی ان کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے بتائیں‘ کیونکہ آگے ہمارا رب ہماری اولاد سے یہ بھی فرما رہا ہے :
{وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا(۲۴) }
’’اور کہو:اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے کہ انہوں نے مجھے بچپن میں پالا ۔‘‘
والدین کی خدمت : بیٹے کی ذمہ داری‘ نہ کہ بہو کی
’’رَبَّیٰنِیْ‘‘ کا لفظ واضح کر رہا ہے کہ ان دونوں (والدین) نے میری پرورش کی۔یعنی پرورش تو بیٹے کی کی ‘نہ کہ بہو کی۔ ہمارے معاشرے میں بہوئوں کے لیے ناجائز ذمہ داریاں ایسی رچی بسی ہوئی ہیں کہ دین دار طبقہ بھی یہی کہتا ہوا نظر آتا ہے کہ ساس سسر کی خدمت کرنا بہوئوں کی ذمہ داری ہے۔ ان غلط نظریات کو ختم کرنااگرچہ آسان نہیں لیکن ناممکن بھی نہیں ہے۔ معاشرے کی پہلی اینٹ خاندان ہی ہوتا ہے۔ یہی خاندان اگر فتنہ وفساد اور افراط و تفریط کا شکار رہے تو اس کو کون ٹھیک کرے گا۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ خاندان میں حقوق و فرائض کا معاشرے میں عدل و انصاف کے قیام سے کوئی تعلق نہیں ہے‘جبکہ واقعتاًایسا نہیں ہے ۔ پہلے تو علماء کرام کو بھی اس کا کوئی حل نہیں ملتا تھا کہ ساس بہو ‘ نند بھاوج کے جھگڑے کو کیسے ختم کیا جائےاور شوہر کو دو طرفہ میدانِ جنگ کا حصہ بننے سے دور کیسے رکھا جائے ‘لیکن اب کچھ علماء اس طور سے اظہارِ خیال کرتے ہیں کہ ’’میں نے اپنی والدہ سے کہا کہ میری بیوی کو آپ نے کچھ نہیں کہنا ‘جو کہنا ہے مجھے کہیں۔ اس بات کوعملی جامہ پہنانے میں کچھ دیر تو لگی لیکن پھر والدہ کو سمجھ میں آ گئی۔‘‘
اصل با ت یہ ہے کہ اب اس جھگڑے کو ختم کیسے کیا جائے! ایک جوان بیٹا ہےجو شوہر بھی ہے اور اس کو قوام بنایا گیا ہے ‘تو درحقیقت وہی ان مسائل کو حل کر وا سکتا ہے۔ وہ خود اپنے والدین کی خدمت کو فرض سمجھے۔ دل و جان سے اس بات پر راضی ہو ۔ اپنی بیوی کو یہ احساس دلائے کہ تمہارے اوپر میرے والدین کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے‘ بس تم نے مجھے روکنا نہیں۔ اگر میرے والدین کو رات کے وقت بھی میری ضرورت پڑی تو میں جائوں گا‘تم روکو گی نہیں۔ اگر روکو گی توگناہ گار ہو گی۔اس بات پر یقین رکھیں کہ بیوی کے سینے میں پتھر نہیں ہے۔ شوہر کا حسنِ سلوک اور عفوودرگزر رہے تو وہ بھی آگے بڑھ کر شوہر کے والدین کی خدمت کر سکتی ہے لیکن غصہ اور دھونس جمانا کہ میرے ماں باپ کی خدمت تمہارا فرض ہے ‘بالکل غلط ہے۔
مَرد کے حسن سلوک اور اچھے اخلاق کی وجہ سے بیوی خود شوق اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر شوہر کے والدین کی خدمت کرے تو نہ صرف اللہ سے اپنا اجر پائے گی بلکہ شوہر پر احسان کر کے اس کے شکریے کی بھی مستحق ہو گی ۔ مَرد کو اللہ تعالیٰ نے اگر قوام بنایا ہے تو اس کے کچھ تقاضے بھی ہیں کہ وہ گھر میں عدل و انصاف کا بول بالا رکھے۔ جب تک والدین میں ہمت و طاقت ہے ‘ان کو اپنا گھر خود سنبھالنے دیں۔ البتہ کسی بھی قسم کی خدمت کے لیے ہمیشہ حاضر رہیں۔ جب وہ بیمار ہوں تو عملاً ان کی خدمت کریں اور ان کے حقوق کو پہچانیں۔ گھر آ کر صرف بیوی اور بچوں میں ہی مگن نہ رہیں کہ والدین انتظار کرتے رہ جائیں۔ والدین کی اپنی اولاد خصوصاً بیٹوں کے ساتھ ایسی محبت ہوتی ہے جو وقت گزرنےکے ساتھ کم ہونے کے بجائے بڑھتی جاتی ہے۔ شادی کے بعد جب بیٹے کی محبت تقسیم ہو جاتی ہے تو وہ بہت جذباتی ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ بیوی کے ساتھ والدین خصوصاً والدہ کو بھی احسن طریقے سےسمجھانے کی ضرورت ہے کہ میری بیوی اور اہل خانہ کا بھی مجھ پر حق ہے کہ ان کو وقت دوں ۔ ان کے جائز مطالبات کو پورا کروں۔ بچوں کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھوں۔
ذہنی انقلاب کی ضرورت
گھر میں عدل و انصاف کا نظام قائم کرنے کے لیے ہمیں ذہنی انقلاب لانے کی ضرورت ہے۔ ایک مَرد کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے یہ استطاعت رکھی ہے کہ وہ والدین‘ بہن بھائیوں اور بیوی بچوں کے درمیان توازن قائم رکھ سکتا ہے۔ حق پر چلنے کے لیے مخالفتیں بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں۔بیٹے کو اپنے ذہن میں یہ بات بٹھانے کی ضرورت ہے کہ میرے والدین نے مجھے پیدائش سے بچپن اور جوانی تک بے انتہا محنت و مشقت کر کے سنبھالا ۔یہاں تک کہ میں طاقتور ہو گیا اور وہ کمزور ہو گئے ۔اب جبکہ ان کو میری ضرورت ہے تو میں اپنے والدین کو کیوں کسی کے حوالے کروں ‘ خواہ وہ میری بیوی ہی کیوں نہ ہو۔ مجھے ان کی خدمت کے عوض جنت ملے گی‘ اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہو سکتی ہے ۔ میرے والدین کو جو راحت میری خدمت سے ملے گی وہ کسی اور سے نہیں مل سکتی۔
اپنے ماہانہ خرچ میں بھی عدل کے اصول کو قائم رکھیں۔ اہل خانہ کی ضروریات اور والدین کی ضروریات کے درمیان توازن قائم رکھیں۔ دونوں فریقین کی جائز ضروریات پوری ہونے کے بعد جو بچ جائے اس کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
اوقات میں بھی اعتدال کرنا بہت ضروری ہے ۔ گھر والوں اور والدین دونوں کو وقت دینا چاہیے۔ یہ سب کچھ آسان نہیں ہے۔ جنت کمانا اگر صرف عبادات سے ممکن ہوتا تو کافی آسان تھا۔ سورۃ العنکبوت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(۲) }
’’کیا لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ وہ چھوڑ دیے جائیں گے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا؟‘‘
حقوق اللہ میںکمی رہ جائے تواللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ باقی معاف کر دیں گے (ان شاء اللہ)لیکن حقوق العباد پورے نہ ہوئے تو خالص توبہ بھی قبول نہیں۔ ان کی معافی نہیں ہے۔ حقوق العباد میں سرفہرست والدین کے حقوق ہیں۔ مَرد اپنے اوپر یہ لازم کریں کہ والدین کے حقوق ازروئے قرآن پورے کریں گے تو ہی ہمارے گھروں میں‘ ان شاء اللہ‘ انقلاب آئے گا۔
خواتین کے حقوق کی اہمیت
آخر میں ’’بیان القرآن‘‘میں سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۲۸ کی طویل تشریح میں سے یہ اقتباس پیش ہے جو خواتین کے حقوق کے ضمن میں ہے :
’’البتہ اس معاملے کا ایک دوسرا رُخ بھی ہے ۔ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق دیے ہیں بدقسمتی سے ہم مسلمانوں نے وہ بھی ان کو نہیں دیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ذہنوں پر ابھی تک ہمارا ہندوانہ پس منظرمسلط ہے اور ہندوئوں کے معاشرے میں عورت کی قطعاً کوئی حیثیت ہی نہیں۔وراثت کا حق تو بہت دُور کی بات ہے‘ اسے تو اپنے شوہر کی موت کے بعد زندہ رہنے کا حق بھی حاصل نہیں ہے۔ اسے تو شوہر کی چتا کے ساتھ ہی جل کر ستی ہو جانا چاہیے۔ گویا اس کا تو کوئی قانونی وجود(legal entity) ہے ہی نہیں۔ ہمارے آباء و اَجداد مسلمان تو ہو گئے تھے‘ لیکن اسلامی تعلیمات کے مطابق ان کی تربیت نہیں ہو سکی تھی‘ لہٰذا ہمارے ذہنوں پر وہی ہندوانہ تصورات مسلط ہیں کہ عورت تو مَرد کے پائوں کی جوتی کی طرح ہے۔ یہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں کہ ان کے جائز حقوق بھی ان کو نہیں دیتے‘ اس کے نتیجے میں ہم اپنے اوپر ہونے والی مغربی یلغار کو مؤثّر کرنے میں خود مدد دے رہے ہیں۔ اگر ہم اپنی خواتین کو وہ حقوق نہیں دیں گے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ نے ان کے لیے مقرر کیے ہیں تو ظاہر بات ہے کہ آزادیٔ نسواں‘ حقوقِ نسواں اور مساواتِ مَرد و زن جیسے خوش نما عنوانات سے جو دعوت اُٹھی ہے وہ لازماً انہیں کھینچ کر لے جائے گی۔ لہٰذا اس طرف بھی دھیان رکھیے۔ ہمارے ہاں دین دار گھرانوں میں خاص طور پر عورتوں کے حقوق نظر انداز ہوتے ہیں۔ اس کو سمجھنا چاہیے کہ اسلام میں عورتوں کے کیا حقوق ہیں اور ان کی کس قدر دل جوئی کرنی چاہیے۔‘‘
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہمیں سنجیدگی سے حقوق و فرائض کے ضمن میں حقوق العباد پر عملاً توجہ دینی چاہیے ۔خواتین کو بھی ان کے جائز حقوق خوش دلی سے دیے جائیں۔ اس حوالے سےجب تک مَرد ہمت نہیں کریںگے ‘ ہمارا معاشرہ جو ہندووانہ کلچر پر عمل پیرا ہے ‘اس کی کبھی اصلاح نہیں ہو سکے گی۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026