(حقیقتِ دین) اسماء اللہ الحسنیٰ (۶) - پروفیسر حافظ قاسم رضوان

7 /

اسماء اللہ الحسنیٰ(۶)از پروفیسر حافظ قاسم رضوان(۴۳) الْحَقُّ
اللہ تعالیٰ الْحَقُّ (سچا‘ حقیقی‘ حق دار)‘ وہ ذات ہے جو ہر صورت میں حق سچ ہے۔ جِنّ و اِنس سچّے بھی ہو سکتے ہیں اور باطل بھی ‘ مگر پروردگار کی ذات ہی وہ واحد ذات ہے جو ہر صورت صرف حق سچ ہے۔ قرآن عظیم میں لفظ الْحَقّ بہت زیادہ مستعمل ہے‘ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن مجید کا مقصودِ اعظم حق ہی کی معرفت‘ دنیا میں حق پھیلانا‘ حق بولنا اور حق سکھانا ہے‘ یعنی کلام اللہ سراپا حق ہے اور منجانب ذاتِ حق ہے‘ حق کوہی لے کر آیا ہے اور حق اس کے ساتھ ہے۔
لغت میں حق کے متعدد معنی ہیں:
(۱)راستی اور راست بازی ۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:{ وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ قف} (الکہف:۲۹) ’’اور آپؐ کہہ دیجیے کہ یہی حق ہے تمہارے ربّ کی طرف سے۔ ‘‘سورئہ لقمان میں ارشاد ہوا: {اِنَّ وَعْدَ اللہِ حَقٌّ} (آیت۳۳) ’’یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے ۔ ‘‘ سورۃالنور میں ارشاد ہوا: {یَوْمَئِذٍ یُّوَفِّیْہِمُ اللہُ دِیْنَہُمُ الْحَقَّ وَیَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللہَ ہُوَ الْحَقُّ الْمُبِیْنُ(۲۵)} ’’جس دن اللہ ان لوگوں کو پورا پورا دے گا ان کا واقعی بدلہ اور وہ جان لیں گے کہ اللہ ہی حق ہے‘ کھول کر بیان کرنے والا۔‘‘
(۲)کسی کام کا لازمی واقع ہونا۔ سورۃالاعراف میں ارشاد ہوتا ہے: {وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذِ نِالْحَقُّج} (آیت۸)’’اور اُس روز وزن حق ہی میں ہوگا ۔ ‘‘سورۃالنبامیں ارشاد ہے: {ذٰلِکَ الْیَوْمُ الْحَقُّ ج}(آیت۳۹) ’’یہ دن حق ہے! ‘‘
(۳)کسی شخص کا معین حصہ ہونا۔ سورۃ الذاریات میں ارشاد ربانی ہے:{وَفِیْٓ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ(۱۹)} ’’اور ان کے اموال میں سائل اور محتاج کا حق ہوا کرتا تھا۔ ‘‘
(۴) عدل و انصاف کے ساتھ ہونا۔ سورۃ الجاثیۃ میں ارشاد ہے: { ہٰذَا کِتٰـبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ ط اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۲۹)}’’یہ ہمارا(تیّار کردہ) اعمال نامہ ہے جو تمہارے اوپر حق کے ساتھ گواہی دے گا۔ جو کچھ تم کیا کرتے تھے ہم اُسے لکھواتے جارہے تھے۔‘‘ سورئہ صٓ میں ارشاد ہے: {قَالَ فَالْحَقُّز وَالْحَقَّ اَقُوْلُ(۸۴) لَاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمَ مِنْکَ وَمِمَّنْ تَبِعَکَ مِنْہُمْ اَجْمَعِیْنَ(۸۵) } ’’اللہ نے فرمایا : توحق یہ ہے‘اور مَیں تو حق ہی کہتا ہوں کہ پھر مَیں بھی بھر کر رہوں گا جہنّم کو تجھ سے اور ان سب سے جو تیری پیروی کریں گے۔ ‘‘ سورۃ النساء میں ارشاد ہے: {یٰٓــاَیـُّــہَا النَّاسُ قَدْ جَآءَکُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّکُمْ} (آیت۱۷۰)’’اے لوگو! تمہارے پاس آ چکا ہے رسول ؐحق کے ساتھ تمہارے رب کی طرف سے۔ ‘‘سورئہ بنی اسرائیل میں ارشاد ہے:{ وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ط } (آیت۱۰۵) ’’اور اِس (قرآن) کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور یہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ ہی دین حق کا مالک ہے‘ اللہ تعالیٰ کے واسطے ہی حق کی دعوت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی حق کے ساتھ فیصلے فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے رسول حق پہنچاتے اور حق ہی بتلایا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہی حق کو نازل کرتا ہے اور باطل کو مٹاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خلقت اور صنعت میں حق ہے‘ بطلان نہیں۔ صحیح بخاری کے مطابق حضورﷺ کی تہجد کے وقت پڑھنے والی ایک جامع دعا کا ایک حصہ ہے : وَلَکَ الْحَمْدُ، اَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُکَ الْحَقُّ، وَلِقَاءُ کَ حَقٌّ، وَقَوْلُکَ حَقٌّ، وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِیُّوْنَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ، وَالسَّاعَۃُ حَقٌّ ’’اور (اے اللہ!) آپ کے لیے ہی حمد ہے‘ آپ حق سچ ہیں ‘اور آپ کا وعدہ سچا ہے‘ اور آپ کی زیارت / ملاقات سچ ہے ‘ اور آپ کی بات سچی ہے ‘اور بہشت حق سچ ہے‘ اور آگ (دوزخ) حق سچ ہے ‘اور تمام نبی حق سچ ہیں‘ اور محمد(ﷺ) حق سچ ہیں‘ اور قیامت حق سچ ہے۔‘‘
(۵)مستحق اور حق دار ہونا۔ سورۃ التوبۃ میں ارشاد ہے:{ فَاللہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ(۱۳) } ’’اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو۔‘‘
(۴۴) الْوَکِیْلُ
یہ اسم پاک وَکَلَ سے ہے جو ’’بِ‘‘ کے ساتھ بھروسا کرنے اور ’’اِلٰی‘‘ کے ساتھ کوئی معاملہ کسی کو سونپ کر بے فکر ہو جانے کے معنی میں آتا ہے۔ وَکِیل بروزن فَعِیل ہے‘ اس وزن کے الفاظ بمعنی مفعول بھی آتے ہیں اور بمعنی فاعل بھی۔ جس انسان پر کوئی شخص اعتماد اور وثوق کرتا ہے ‘ اسے وکیل (اٹارنی) کہتے ہیں۔ الوکیل: اللہ تعالیٰ کا نام بمعنی فاعل ہے جس سے مراد حافظ‘ نگہبان اور کارساز ہے۔ الوکیل وہ ذات ہے جس کے سپرد تمام امور کیے جائیں اور وہ ان کو پورا کر دے۔ پروردگار سے بڑھ کر کوئی ذات نہیں جو یہ تمام اُمور کماحقہ سرانجام دے سکے۔ سورئہ آل عمران میں ارشاد ہوا:{ وَقَالُــوْا حَسْبُـنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ(۱۷۳)}’’اور انہوں نے کہا: اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔ ‘‘اللہ تعالیٰ وکیل ہے کہ جملہ امور میں درستی و اصلاح اُسی سے ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ وکیل ہے کہ نظامِ عالم کا اعتماد اُسی کی ذاتِ مقدّس پر ہے۔ اللہ تعالیٰ وکیل ہے کہ عاجز نوازی اور بندہ پروری اُسی کی شان ہے۔ سورئہ بنی اسرائیل میں فرمایا گیا:{ وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلًا(۶۵)}’’اور کافی ہے تیرا رب بطور کار ساز۔‘‘ سورۃ الانعام میں ارشاد ہوتا ہے:{ذٰلِکُمُ اللہُ رَبُّکُمْ ج لَآ اِلٰـہَ اِلَّا ہُوَط خَالِقُ کُلِّ شَیْ ئٍ فَاعْبُدُوْہُ ج وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ وَّکِیْلٌ(۱۰۲)} ’’وہ ہے اللہ تمہار ا رب! اُس کے سواکوئی معبود نہیں ہے ‘ وہ ہر شے کا پیدا کرنے والا ہے ‘ پس تم اُسی کی بندگی کرو ‘اور وہ ہر شے کا کارسازہے۔ ‘‘ سورۃ المزمل میں ارشاد ہوا:{رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰــہَ اِلَّا ہُوَ فَاتَّخِذْہُ وَکِیْلًا(۹) } ’’وہ ربّ ہے مشرق کا بھی اور مغرب کا بھی‘ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘بس آپؐ اُسی کو بنا لیجیے اپنا کارساز۔‘‘
توکّل (بھروسا کرنا) بھی اسی مادہ وکل سے بنا ہے۔ قرآن کریم میں کئی مقامات پر توکّل اور اہل ِتوکّل کی مدح فرمائی گئی ہے ۔ سورئہ آلِ عمران میں ارشاد ہوتا ہے:{ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ ط اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ(۱۵۹)} ’’ پھر جب آپ ؐفیصلہ کر لیں تو اللہ پر توکّل کریں ۔ یقیناً اللہ تعالیٰ توکّل کرنے والوں کو پسند کرتاہے۔‘‘سورئہ یونس میں ارشادہوا:{وَقَالَ مُوْسٰی یٰقَوْمِ اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللہِ فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ(۸۴) } ’’اور موسیٰ ؑنے کہا:اے میری قوم کے لوگو! اگر تم اللہ پر ایمان لے آئے ہو تو اب اُسی پر توکّل بھی کرواگر تم واقعتاًفرمانبردار بن گئے ہو۔ ‘‘ سورۃ الممتحنہ میں ارشاد ہوا: {رَبَّنَا عَلَیْکَ تَوَکَّلْنَا وَاِلَیْکَ اَنَبْنَا وَاِلَیْکَ الْمَصِیْرُ(۴) } ’’پروردگار! ہم نے تجھ پر ہی تو کّل کیا اور تیری ہی طرف رجوع کیا اور ہمیں تیری طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔ ‘‘سورئہ یوسف میں ارشاد ہے:{اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِط عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ ج وَعَلَیْہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُتَوَکِّلُوْنَ(۶۷)} ’’اختیارِ مطلق تو صرف اللہ ہی کا ہے‘ اُسی پر میں نے توکّل کیا ہے‘ اور تمام توکّل کرنے والوں کواُسی پر توکّل کرنا چاہیے۔ ‘‘ سورۃ الملک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: {قُلْ ہُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِہٖ وَعَلَیْہِ تَوَکَّلْنَاج} (آیت۲۹)’’(اے نبیﷺ!) آپ کہیے: وہ تو رحمٰن ہے‘ ہم اُس پر ایمان لاچکے ہیں اور اُسی پر ہمارا توکّل ہے۔ ‘‘ صحیح مسلم میں حضور اقدسﷺ کی جامع دعا کا ایک حصہ ہے : ((اَللّٰھُمَّ لَکَ اَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَاِلَیْکَ اَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ)) ’’اے اللہ! میں تیرے سامنے سر جھکاتا ہوں‘ اور تجھ پر ایمان لاتا ہوں‘اور تجھ پر اعتمادوبھروسا کرتا ہوں‘ اور تیری ہی جانب رجوع کرتا ہوں‘ اور تیرے لیے ہی مخاصمت کرتا ہوں۔‘‘
امام احمدؒ کے بقول توکّل تو قلب کا عمل ہے‘ یعنی یہ اعضاء یا زبان کا کام نہیں اور اس کا شمار مدرکات و معلومات میں بھی نہیں‘ بلکہ اس کا تعلق صرف دل سے ہے۔ ابن ِعطاء کا فرمانا ہے کہ توکّل تو یہ ہے کہ تیرے دل میں اسباب کی جانب میلان نہ پایا جائے‘ خواہ ان کی کتنی ہی ضرورت ہو۔ سلف کے توکّل کےبارے میں مختلف اقوال ہیں۔ بعض نے ترکِ اسباب کا نام توکّل رکھا ہے اور بعض نے اس کا مفہوم اسباب پر اعتماد کو ترک کرنا بتایا ہے۔ بہرحال توکّل کا اعلیٰ مرتبہ تو یہی ہے کہ اسباب کو تو ترک نہ کرے مگر اسباب پر اعتماد کو مکمل طور پر ترک کر دے۔ یاد رکھیں کہ توکّل کا بہترین درجہ توحید پر انحصار ہےاور توکّل کی حقیقت قلب کو جملہ علائق سے علیحدہ کرکے صرف توحید پر جم جانا ہے۔اسباب کا تعلق جوارح کے ساتھ تو لگا رہے مگر اسباب کا تعلق قلب سے ذرا بھی نہ ہو۔ توحید ِقلب سے توکّل ملتا ہے اور توکّل سے ہی توحید ِقلب حاصل ہو تی ہے۔ ایک موحد کی ہی یہ شان ہے کہ اس کے منہ سے ’’نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ‘‘ کا ورد جاری رہے۔
(۴۵) الْقَوِیُّ
اللہ عزوجل‘ الْقَوِیُّ (طاقت ور)ہے‘ جو ہر شے پر مکمل طور پر حاوی ہے۔ اس لیے کہ اُس ذات کے پاس پوری کی پوری قوت ہے۔ اسی لیے وہ قوی ہے۔ یہ اسم پاک قوت سے ہے اور قوت کا استعمال قرآن کریم کے چند مقامات پر ہوا ہے۔ سورۃ الکہف میں ہے کہ جب ذوالقرنین نے تیسرا سفر (جانب شمال) کیا تو ایک مقام پر وہاں کے باشندوں نے قوم یاجوج ماجوج کی لوٹ مار کی شکایت کی اور رکاوٹ کے طور پر ایک دیوار بنانے کے لیے کچھ خرچ وغیرہ دینا چاہا تو ذوالقرنین نے نقدی لینے سے تو انکار کیا اور کہا: {مَا مَکَّنِّیْ فِیْہِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّۃٍ اَجْعَلْ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ رَدْمًا(۹۵) } ’’جو کچھ مجھے دے رکھا ہے اس میں میرے ربّ نے وہ بہت بہتر ہے ‘البتہ تم لوگ میری مدد کرو قوت (محنت) کے ذریعے سے‘ مَیں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں گا۔ ‘‘
مسلمانوں کو حکم ہے کہ دشمن کے مقابلے کے لیے اپنی بھرپور طاقت اور قوت تیار رکھیں۔ سورۃ الانفال میں ارشاد ہوا: { وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ}(آیت۶۰) ’’اور تیار رکھو اُن کے (مقابلے کے ) لیے اپنی استطاعت کی حد تک طاقت اور بندھے ہوئے گھوڑے ۔ ‘‘ سورۃ الشوریٰ میں ارشاد ہے: {وَہُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ(۱۹) } ’’اور وہ تو بہت قو ی ہے‘ بہت زبردست ہے۔ ‘‘ سورۃ الذاریات میں ارشاد ہے : { اِنَّ اللہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْـقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ(۵۸)} ’’یقیناً اللہ ہی سب کو رزق دینے والا‘ قوت والا‘ زبردست ہے۔ ‘‘سورۃ الحدید میں فرمایا: { اِنَّ اللہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ(۲۵)} ’’یقیناً اللہ بہت قوت والا‘ بہت زبردست ہے۔ ‘‘
صحیح مسلم میں حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے قُوَّۃ کی تفسیرتیر اندازی سے فرمائی تھی۔ بعد میں مفسرین نے اس کے تحت ہر دور کے جملہ جدید آلاتِ حرب مراد لیے ہیں۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ کی شرح میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے مطابق نیکی کرنے کی طاقت اور بدی سے بچنے کی قوت صرف اللہ تعالیٰ سے ہی ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قوی ہے اور تمام قوتیں اُسی سے حاصل ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ قوی ہے‘ اُسی نے جملہ مظاہر کو قوتِ ربانی سے ظہور بخشا ہے۔ اللہ تعالیٰ قوی ہے اور اُسی کانام ضعیفوں او ر مسکینوں کے لیے توانائی بخشنے والا ہے۔ پروردگار ہی دل کو قوتِ ایمان بخشتا اور روح کو قوتِ عرفان عطا کرتا ہے۔ ایک بڑی دل نشیں دعا ہے : ((اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ضَعِیْفٌ فَقَوِّنِیْ وَاِنِّیْ ذَلِیْلٌ فَاَعِزَّنِیْ وَاِنِّیْ فَقِیْرٌ فَارْزُقْنِیْ)) ’’یااللہ ! مَیں ضعیف ہوں‘ مجھے قوت عطا فرما ‘اور مَیں ذلیل و ناتواں ہوں‘ مجھے عزت عطا فرما ‘اور بے شک میں فقیر ہوں‘ پس مجھے رزق عطا فرما۔‘‘
(۴۶) الْمَتِیْنُ
پروردگار المتین(نہایت طاقت ور اور مضبوطی والا)ہے۔ مَتَنَ مَتَانَۃً: صَلُبَ وَاشْتَدَّ وَقَوِیَ۔فاعل کے معنی میں متن اور متین آتے ہیں۔ اسم پاک متین کا مطلب یہ ہے کہ وہ ذات قوی جسے اپنے افعال میں مشقت و کلفت اور تعب (تھکاوٹ) لاحق نہیں ہوتی۔ قوی اور متین میں تھوڑا سا فرق ہے۔ قدرت میں بالغ و تام کو قوی کہتے ہیں اور قدرت میں مضبوط و شدید کو متین کہا جاتا ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے: فَقَامَ مُمْتَنًّا یعنی حضور اقدسﷺ نے پوری طاقت واستقامت سے قیام فرمایا۔ قرآن کریم میں یہ اسم پاک ایک ہی مقام‘ سورۃ الذاریات میں آیا ہے : {اِنَّ اللہَ ہُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْـقُوَّۃِ الْمَتِیْنُ(۵۸) } ’’یقیناً اللہ ہی سب کو رزق دینے والا‘ قوت والا‘ زبردست ہے۔ ‘‘اللہ تعالیٰ متین ہے کہ وہ مستقل بالذات اور قائم بالذات خود ہی ہے ‘ کسی دوسری طاقت کا محتاج نہیں۔ وہی تمام مخلوقات کو رزق رسانی کرتا ہے‘ وہی پروردگار انتھک طاقتوں والا اور لامحدود قوتوں والا ہے۔
(۴۷) اَلْوَلِیُّ
یہ اسم مبارک الولی (دوست‘ مددگار‘ کارساز‘ محبت کرنے والا) ‘ ولاء سے ہے اور ولاء کے معنی محبت‘ صداقت‘ قرب‘ قرابت اور مِلککے ہیں۔ وَلِیَ یَلِی وَلْیًا : اس سے قریب ہوا یا اس کا پیروکار ہوا۔وَلٰی وِلَایَۃً و وَلَایَۃً : اس پر قیام کیا‘ اس کامالک ہوا‘ اس کی مدد کی۔ درج ذیل آیات پر غور کیجیے:{فَلْیُمْلِلْ وَلِـیُّـہٗ بِالْعَدْلِ ط }(البقرۃ:۲۸۲) ’’تو جو اُس کا ولی ہو وہ انصاف کے ساتھ املا کرا دے۔ ‘‘سورئہ بنی اسرائیل میں ارشاد ہوا:{ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَ لِیِّہٖ سُلْطٰنًا } (آیت۳۳)’’اور جسے قتل کر دیا گیا مظلومی میں ‘تو اُس کے ولی کو ہم نے اختیار دیا ہے۔‘‘سورۃ الشوریٰ میں ارشاد ہوتا ہے:{وَالظّٰلِمُوْنَ مَا لَہُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّلَا نَصِیْرٍ (۸) اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآئَ ج فَاللہُ ہُوَ الْوَلِیُّ} ’’اور جو ظالم (کافر و مشرک) ہوں گے ان کے لیے نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ کوئی مددگار۔کیا انہوں نے اللہ کے سوا کوئی اور حمایتی بنا لیے ہیں؟ سو حمایتی تو صرف اللہ ہی ہے۔ ‘‘سورۃ البقرۃ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: {اَللہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا}(آیت۲۵۷)’’اللہ ولی ہے اہل ِایمان کا۔ ‘‘سورۃ السجدۃ میں ارشاد ہے: {مَالَکُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلَاشَفِیْعٍ ط} (آیت۴)’’نہیں ہے تمہارے لیے اُس کے مقابلے میں کوئی حمایتی اور نہ کوئی سفارش کرنے والا۔ ‘‘ سورئہ یوسف میں ارشاد ہے:{ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِقف اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِج تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ(۱۰۱) } ’’اے وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے‘ تُوہی میرا کارساز ہے‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ مجھے وفات دیجیو فرمانبرداری کی حالت میں اور مجھے شامل کر دیجیو اپنے صالح بندوں میں۔ ‘‘سورۃ الکہف میں ارشاد ہے:{ہُنَالِکَ الْوَلَایَۃُ لِلہِ الْحَقِّ ط ہُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّخَیْرٌ عُقْبًا(۴۴) } ’’یہاں تو تمام اختیار اللہ ہی کا ہے جو الحق ہے وہی بہتر ہے انعام دینے میں اور وہی بہتر ہے عاقبت کے اعتبار سے۔‘‘ سورئہ یونس میں ارشاد ہوتا ہے: { اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ(۶۲) اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ(۶۳)}’’آگاہ ہو جائو! اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ لوگ جو صاحب ِایمان ہوں اور تقویٰ کی روش اختیار کریں۔‘‘سورۃ الحج میں ہے: { فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللہِ ط ہُوَ مَوْلٰىکُمْ ج فَنِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ(۷۸) } ’’ پس نماز قائم کرواور زکوٰۃ ادا کرو‘ اور اللہ کے ساتھ چمٹ جائو۔ وہ تمہارا مولیٰ ہے‘ تو کیا ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور کیا ہی اچھا ہے مددگار! ‘‘
بے شک اللہ تعالیٰ ہی ولی ہے اور بندوں کے سب کاموں کی تولیت اسی کو حاصل ہے۔ اُس کی ولایت بندے کو ایمان و تقویٰ اور عبودیت سے حاصل ہوتی ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہی ولی ہے اور اُسی کی ولایت اور محبت حاصل کرنے سے اللہ کے بندوں کو بھی اولیاء اللہ کا خطاب مل جاتا ہے۔ یہ وہ برگزیدہ بندے ہوتے ہیں جو ایمان اور تقویٰ میں درجہ ٔ بلند رکھتے ہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہی ولی اور تدبیر و قدرت والا ہے‘ تصرف و ملکیت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اسم پاک مَوْلیٰ سورۃ التحریم میں بھی آتا ہے : { وَاللہُ مَوْلٰىکُمْ ج وَھُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ(۲)} ’’اور اللہ تمہارا مددگار ہے ‘اور وہ سب کچھ جاننے والا‘ کمال حکمت والا ہے۔ ‘‘ اس اسم پاک کے حوالے سے ایک جامع دعا ہے :یَا وَلِیَّ الْاِسْلَامِ وَاَھْلِہٖ ثَبِّتْنِیْ حَتّٰی أَلْقَاکَ ’’اے اسلام اور اسلام والوں کے مددگار/کارساز! مجھے اسلام پر قائم اور ثابت قدم رکھنا‘ یہاں تک کہ میں تیرے حضور حاضر ہو جائوں۔‘‘ (جاری ہے)