(عرض احوال) اقوامِ متحدہ کے بعد کیا؟ - رضاء الحق

12 /

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اقوام متحدہ کے بعد کیا؟

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ عمومی اجلاس ستمبر کے آخری عشرے میں نیویارک میں منعقد ہوا۔ دنیا بھر سے سربراہانِ مملکت و حکومت اور اُن کے نمائندگان اس عالمی فورم پر جمع ہوئے‘ اپنے اپنے ممالک کا موقف پیش کیا۔ عالمی امن‘ جنگوں‘ انسانی حقوق‘ معاشی مسائل اور بین الاقوامی تعاون پر اظہارِ خیال کیا اور حسب ِ روایت مسائل کے حل کے لیے تجاویز بھی پیش کیں۔ دنیا کے بعض طاقتور ممالک کے سربراہان کی تقاریر کے دوران ہال کی بہت سی نشستیں خالی دکھائی دیں۔ یوں محسوس ہوا جیسے مقرر پوری دنیا سے مخاطب ہے مگر دنیا اس کی بات سننے کے لیے موجود نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ اقوام متحدہ کے ہال میں کتنی کرسیاں خالی تھیں‘بلکہ یہ ہے کہ کیا عالمی امن‘ انسانی حقوق‘ مساوات‘ بین الاقوامی قانون اور باہمی احترام کے وہ تصورات جن کے نام پر یہ ادارہ قائم ہوا تھا‘ آج بھی اُسی قوت کے ساتھ موجود ہیں؟یا پھر اقوام متحدہ کی عمارت تو قائم ہے‘ اجلاس بھی ہورہے ہیں‘ قراردادیں بھی منظور ہورہی ہیں‘ مگر دنیا اس ادارے کی آواز سننے کی صلاحیت بتدریج کھو چکی ہے؟
۲۴ اکتوبر ۱۹۴۵ء کو دوسری جنگ ِعظیم کے اختتام پر جب اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ معرضِ وجود میں آیاتو اس کے بنیادی مقاصد میں بین الاقوامی امن و سلامتی کا قیام‘ جنگوں کی روک تھام‘ انسانی حقوق کا تحفظ‘ بین الاقوامی قانون کی پاس داری اور ممالک کے درمیان تعاون کا فروغ بتایا گیا۔ پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر لیگ آف نیشنز بھی اِسی امید کے ساتھ قائم کی گئی تھی کہ انسانیت کو ایک اور عالمی جنگ کی ہولناکی سے محفوظ رکھا جاسکے‘ لیکن وہ عالمی طاقتوں کے مفادات اور جارحیت کے سامنے بے بس ثابت ہوئی۔ دوسری جنگ ِعظیم میں کروڑوں انسان لقمۂ اجل بنے‘ معیشتیں تباہ ہوئیں اور بالآخر انسان نے ایک مرتبہ پھر یہ’ ’عہد‘‘ کیا کہ آئندہ ایسی تباہی کو روکا جائے گا۔ ادارے قائم کرناتو آسان ہے‘مگر اُنہیں ان کے مقاصد کے مطابق چلانا مشکل ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کو قائم ہوئے ۸۱ برس ہوچکے ہیں۔ اس دوران دنیا نے ہرمیدان میں غیر معمولی ترقی کی‘ مگر جنگ کے معاملے میں انسان آج بھی اُسی مقام پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں وہ صدیوں پہلے کھڑا تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج انسان کے پاس ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے زیادہ ’’مؤثر‘‘ ذرائع موجود ہیں۔
اقوام متحدہ کے قیام کے وقت ۵۱ ممالک اس کے رکن تھے جبکہ آج یہ تعداد۱۹۳ ہوچکی ہے۔ یہ اضافہ دُنیا کی سیاسی تقسیم اور بعض علاقوں کی تقسیم در تقسیم کے نتیجے میں ہوا۔اِس کے ساتھ دنیا میں ایسے خطے بھی موجود ہیں جو خود کو آزاد ریاستیں سمجھتے یا عملاً اپنی حکومتیں تو چلاتے ہیں‘ مگر اقوام متحدہ کے بعض رکن ممالک انہیں آزاد و خود مختار ریاستوں کے طور پر تسلیم نہیں کرتے۔ گویا اقوام متحدہ کی رکنیت دنیا کے سیاسی نقشے کی مکمل تصویر نہیں بلکہ اس کا ایک مخصوص سفارتی ورژن ہے۔
گزشتہ ربع صدی میں شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جب دنیا کے کسی نہ کسی خطے میں جنگ‘ بمباری‘ فوجی کشیدگی یا جنگ کے بعد کی تباہی کی خبرعوام تک نہ پہنچی ہو۔ تاریخ کی کتابوں میں پہلی اور دوسری جنگ ِعظیم کے واقعات پڑھ کر لوگوں کے دل دہل جاتے تھے۔ ہیروشیما اور ناگاساکی کا ذکر آتا تو انسان سوچتا تھا کہ اس سے بڑھ کر تباہی بھلا کیا ہوسکتی ہے‘ لیکن گزشتہ ربع صدی کے واقعات دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ تباہی کی ہماری تعریف ہی بدل گئی ہے۔
غزہ‘ افغانستان‘ عراق‘ شام‘ فلسطین‘ یمن‘ لیبیا‘ سوڈان‘ یوکرین‘ کانگو‘ میانمار اور دوسرے خطوں میں ہونے والی جنگوں نے انسانیت کو بار بار یہ یاد دلایا ہے کہ جنگ صرف سپاہیوں کو نہیں مارتی بلکہ نسلوں کو زخمی کرجاتی ہے‘ شہروں کو ویران کرجاتی ہے‘ معیشتوں کو تباہ کرتی ہے اور انسان کے اندر سے امن کا احساس تک نکال دیتی ہے۔گزشتہ چند سالوں میں دُنیا ایک ہی وقت میں کئی بڑے بحرانوں سے دوچار نظر آئی ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ اپنی جگہ موجود رہی۔ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں نے انسانی المیے کو جنم دیا۔ ایران اور اسرائیل و امریکہ کے درمیان براہِ راست عسکری کشیدگی نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو خطرے میں ڈال دیا۔ سوڈان کی جنگ نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کیا۔ یمن‘ شام‘ لبنان‘ کانگو اور دیگر خطے بھی بدستور عدمِ استحکام کا شکار رہے۔
کسی ایک جنگ کی خبر کاذکر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا کے دوسرے خطوں میں امن ہے۔ جس تنازعے کی تصویر ہمارے ٹی وی اسکرین پر نہیں آرہی‘ ضروری نہیں کہ وہاں امن قائم ہوچکا ہو۔ کشمیر کے دونوں حصوں کی صورت حال ہو یا سوڈان کا بحران‘ دنیا کے کئی ایسے خطے ہیں جہاں خاموشی کو امن سمجھ لینا حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے ۔ اس لیے یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ :کیا تیسری عالمی جنگ ابھی شروع نہیں ہوئی یا ہم اس کے مختلف ابواب پڑھ رہے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں اگردنیا کے مختلف خطوں میں جنگیں جاری ہوں‘ بڑی طاقتیں ان جنگوں میں براہِ راست یا بالواسطہ شریک ہوں‘ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو‘ سمندری راستے غیر محفوظ ہوجائیں اور ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کو دھمکیاں دینے لگیں تو اِسے ’’عالمی جنگ‘‘ کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے۔ حالیہ ایران امریکا و اسرائیل کشیدگی نے اس خطرے کو مزید نمایاں کیا۔ آج کسی ایک ملک میں شروع ہونے والی جنگ چند گھنٹوں میں پورے خطے کے امن کو متاثر کرسکتی ہے۔
دنیا نے اقوام متحدہ کا ادارہ (بظاہر) اس لیے قائم کیا تھا کہ کوئی ملک دوسرے ملک پر حملہ کرے تو عالمی برادری اُس کے خلاف اجتماعی طور پرکھڑی ہو۔ جب عالمی ادارے کے فیصلے ہی بڑی طاقتوں کے سیاسی مفادات کے تابع دکھائی دینے لگیںاورسلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار رکھنے والی طاقتیں کسی بھی قرارداد کو اپنے مفاد کے خلاف ہونے پرروک سکیں تو چھوٹی اور درمیانی طاقتوں کے لیے اپنے دفاع کے نئے راستے تلاش کرنافطری امر بن جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے مختلف حصوں میں علاقائی دفاعی اتحاد اورباہمی سلامتی کے معاہدے وجود میں آ رہے ہیں۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کوبھی اِسی بدلتی ہوئی عالمی صورتِ حال میں دیکھا جانا چاہیے۔
سعودی عرب پرحوثی حملوں کے حالیہ واقعات نے مکہ معاہدے کے حوالے سے بنیادی سوال سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ :اجتماعی دفاع کی شق عملی صورت میں کس طرح نافذ ہوگی؟ ہماری وزارتِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خود مختاری‘ علاقائی سالمیت اور سلامتی کی حمایت جاری رکھے گا ۔ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حملوں میں اضافے کے باوجود امریکا نے براہِ راست فوجی مداخلت سے گریز کیا تو یہ بنیادی حقیقت سامنے آئی کہ بین الاقوامی سیاست میں ہر طاقت سب سے پہلے اپنے مفادات دیکھتی ہے۔ تو پھر مسلم ممالک اپنے اجتماعی مفادات کے بارے میں کب سوچیں گے؟
قرآن مجید نے مسلمانوں کو واضح طور پر باہمی نزاع سے بچنے کی ہدایت فرمائی: {وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَ تَذْهَبَ رِيحُكُمْ}(الانفال:۴۶) ۔ ’’اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم ڈھیلے پڑجائو گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ ‘‘
یہ صرف روحانی یا اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کا ایک اٹل اصول بھی ہے۔ جو قومیں آپس میں تقسیم ہوجاتی ہیں‘ ان کی قوت ضائع ہوجاتی ہے؛اورجو قوت باہمی نزاع میں صرف ہوجائے‘ وہ بیرونی خطرات کے مقابلے میں باقی نہیں رہتی۔آج مسلم دنیا کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ اُس کے خلاف کون سازش کررہا ہے بلکہ اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ مسلم دنیا خود اپنے اجتماعی مفادات کا تعین کیوں نہیں کر پا رہی ! کیوں ایک مسلم ملک دوسرے مسلم ملک کے خلاف کسی غیرمسلم طاقت کا سہارا لینے پر مجبور ہوجاتا ہے؟کیوں ہماری دفاعی‘ معاشی اور سفارتی ترجیحات الگ الگ سمتوں میں بکھری ہوئی ہیں؟ کیوں ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کسی ایک مسلم ملک کو کمزور کرنا بالآخر پوری اُمّت کی اجتماعی قوت کو کمزور کرتا ہے؟
آج دنیا کے متعدد تنازعات ہمیں یہی سبق دے رہے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ جنگ عموماً ایک مسئلے کو دوسرے دس مسائل میں تقسیم کردیتی ہے۔ ایک جنگ ختم ہوتی ہے تو اس کے ملبے سے اگلی جنگ کے اسباب جنم لے لیتے ہیں۔اس لیے آج مسلم دنیا کو جذباتی نعروں سے آگے بڑھ کر ایک جامع اجتماعی حکمت ِعملی کی ضرورت ہے۔ ہمیں نہ کسی عالمی طاقت کا مہرہ بننا چاہیے‘ نہ کسی دوسری طاقت کے خلاف کسی تیسری طاقت کے آلۂ کار کے طور پر استعمال ہونا چاہیے۔ ہماری ترجیح ہونی چاہیے کہ مسلم ممالک اپنے باہمی اختلافات کو گفت و شنید سے حل کریں‘ ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام کریں اوراجتماعی دفاع کو کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ اُمّت کے امن و استحکام کے لیے استعمال کریں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اقوام متحدہ کی تاریخ ہمیں ایک آخری سبق بھی دیتی ہے۔ پہلی جنگ ِعظیم کے بعد لیگ آف نیشنز قائم ہوئی‘ مگر وہ دوسری جنگ ِعظیم کو نہ روک سکی۔ دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد اقوام متحدہ قائم ہوئی‘ مگر آج دنیا پھر متعدد جنگوں کے بیچ کھڑی ہے۔ اگر موجودہ عالمی نظام بھی اسی طرح طاقتور کے مفاد‘ کمزور کی بے بسی اور قانون کے دوہرے معیار کا شکار رہا تو تاریخ ایک مرتبہ پھر کسی نئے عالمی ادارے کے قیام کی ضرورت محسوس کرے گی۔ فرق یہ ہوگا کہ پہلےجنگوں کو روکنے کے لیے عالمی ادارہ بنایا گیا تھا اور اب جنگوں سے بچنے کے لیے کوئی نیا عالمی نظام بنانا پڑے گا۔اس سے پہلے کہ تاریخ ہمیں اس مقام تک لے جائے‘ مسلم دنیا کو اپنا راستہ خود متعین کرنا ہوگا۔
حرمین شریفین کی حفاظت ہو‘ فلسطین کا مسئلہ ہو‘مسلم ممالک کی علاقائی سالمیت ہو یا عالمی سطح پر مسلمانوں کے سیاسی و معاشی مفادات کا تحفظ‘ ان سب کے لیے اجتماعی قوت درکار ہے۔ ضرورت اِس امر کی ہے کہ مسلم ممالک ایک دوسرے کی طاقت بنیں۔ اپنی صفیں درست کریں ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے فیصلے دوسروں کی ترجیحات کے مطابق نہیں بلکہ اپنے اجتماعی مفاد‘ عدل اور امن کے اصولوں کے مطابق کریں۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اگر اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے متحد ہوسکتی ہیں تومسلم دنیا اپنے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے کیوں متحد نہیں ہوسکتی؟یہ سوال آج اقوام متحدہ کے خالی ہال میں موجود خالی کرسیوں سے کہیں زیادہ اہم ہے!