(ابوظبی سیریز) حقیقت ِنفاق - ڈاکٹر اسرار احمد

12 /
حقیقت ِنفاق
ڈاکٹر اسرار احمدؒ
خطبہ ٔمسنونہ کے بعد:
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ --------- بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
 {وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّـقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللہِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ(۸) یُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاج  وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ(۹) فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ فَـزَادَھُمُ اللہُ مَرَضًاج وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ لا بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ(۱۰) وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ لا قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱) اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰـکِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲) وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَھَآئُ ط اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَھَآئُ وَلٰــکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ(۱۳)}   (البقرۃ)

 

 {اِذَا جَآئَ کَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللہِ   وَاللہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ ط وَاللہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَــکٰذِ بُوْنَ(۱) اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَہُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللہِ ط  اِنَّہُمْ سَآئَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۲) ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَہُمْ لَا یَفْقَہُوْنَ(۳) وَاِذَا رَاَیْتَہُمْ تُعْجِبُکَ اَجْسَامُہُمْ ط وَاِنْ یَّـقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِہِمْ ط کَاَنَّہُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌط یَحْسَبُوْنَ کُلَّ صَیْحَۃٍ عَلَیْہِمْ ط ہُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْہُمْ ط قَاتَلَہُمُ اللہُ ز اَنّٰی یُؤْفَـکُوْنَ(۴) }  (المنافقون)

 

 {اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِج وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا(۱۴۵)}(النساء) صَدَقَ اللّٰہُ الْعَظِیْم 

 

رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَ یَسِّرْ لِیْ اَمْرِیْ وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِی یَفْقَھُوْا قَوْلِی اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّ ارْزُقْنَا اتِّبَاعَہُ، وَ اَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَ ارْزُقْنَا اجْتِنَابَہُ ------  اَللّٰھُمَّ طَهِّرْ قُلُوْبَنَا مِنَ النِّفَاقِ، وَ أَعْمَالَنَا مِنَ الرِّيَاءِ، وَ أَلْسِنَتَنَا مِنَ الْكَذِبِ، وَ أَعْيُنَنَا مِنَ الْخِيَانَةِ، فَإِنَّكَ تَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَمَا تُخْفِي الصُّدُوْرُ

 

آج کا موضوع نسبتاًمشکل اور پیچیدہ ہے۔ اس کی اہمیت اس لیے بہت زیادہ ہے کیونکہ نفاق کے روگ اور بیماری کے انجام کے بارے میں سورۃ النساء کی آیت ۱۴۵میں وضاحت کر دی گئی ہے کہ ’’منافقین جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔‘‘ یہ اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کو کفر کے مقابلہ میں نفاق سے کہیں زیادہ نفرت ہے۔ کافر تو کھلم کھلا منکر ہوتا ہے ‘وہ اسلام کا دعویٰ نہیں کرتا جبکہ منافق دوہرا مجرم ہے۔اس کا کردار آستین کے سانپ کی طرح ہوتا ہے۔ وہ اسلام کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن اسلام ہی کے خلاف سازشیں بھی کررہاہوتا ہے۔ 
  ہر مسلمان اپنے لیے رسول اکرمﷺ کی شفاعت کو آخری سہارا سمجھتا ہے کہ اگر حضورﷺ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دعا فر مادیں ‘ہماری خطاؤں کی معافی کے لیے سفارش کر دیں تواُمید ہوتی ہے کہ یہ ہماری نجات کا ذریعہ بن جائے‘ لیکن سورۃ التوبہ کی آیت ۸۰ میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے لیے یہ امید بھی ختم کر دی۔فرمایا گیا:
{اِسْتَغْفِرْ لَہُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ ط اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّۃً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللہُ لَہُمْ ط }
’’(اے نبیﷺ!) آپ خواہ ان کے لیے استغفار کریں یا نہ کریں۔ اگر آپ ان کے لیےسترمرتبہ بھی استغفار کریں گے پھر بھی اللہ ان کوہرگز نہیں بخشے گا۔‘‘
قرآن مجید کے ان الفاظ میں انتہائی سختی سے منافقین کی مغفرت کی تردید کردی گئی۔ چونکہ آپ ﷺ سراپا رحمت و شفقت تھے؛ رحمت ‘مؤدت‘ نرمی آپؐ کی طبیعت میں کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی تھی اس لیے آپؐ کو مخاطب کر کے قرآن پاک میں دو مقامات پریہ بھی کہا گیا : 
{یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ ط وَمَاْوٰىہُمْ جَھَنَّمُ ط وَ  بِئْسَ الْمَصِیْرُ(۹)} (التحریم)
’’ اے نبی(ﷺ!) آپ کفار اور منافقین سے جہاد کریں اور ان پر سختی کریں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے ‘اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔ ‘‘
رسول اکرمﷺ نے اپنے اس مزاج کی وجہ سے سورۃ التوبہ کی آیت نازل ہونے پر فرمایا تھاکہ اگر مجھے یہ امید ہوتی کہ ان کی بخشش ہو سکتی ہے تو میں ۷۰مرتبہ سے زیادہ استغفار کرلیتا ۔ اس پر سورۃ التوبۃ کی آیات ۸۴ و مابعد نازل ہوئیں:
{وَلَا تُصَلِّ عَلٰٓی اَحَدٍ مِّنْہُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّلَا تَقُمْ عَلٰی قَبْرِہٖ ط  اِنَّہُمْ کَفَرُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَاتُوْا وَہُمْ فٰسِقُوْنَ(۸۴)}
’’اور (اے نبیﷺ!) ان میں سے کوئی مرجائے تو اُس کی نمازِ جنازہ کبھی بھی ادا نہ کریں اور اُس کی قبر پر بھی کھڑے نہ ہوں۔ یقیناً انہوں نے کفر کیا ہے اللہ اوراُس کے رسول ؐکے ساتھ اور وہ مرے ہیں اسی حال میں کہ وہ نافرمان تھے۔‘‘ 
لہٰذا اِن دو باتوں یعنی منافقین کا ٹھکانا جہنم کا سب سے نچلا گڑ ھا ہوگا اور منافقین کی مغفرت کسی شکل میں نہیں ہو سکتی ‘سے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ نفاق کا مرض نہایت خوف کے لائق ہے اور ہمیں اس سے بچنے کی شعوری کو شش کرنی چاہیے۔
نفاق کا اندیشہ کس کو؟
اس ضمن میں ہم مسلمان ایک مغالطے کا شکار ہیں اور وہ یہ کہ ہم سمجھتے ہیں کہ منافق کوئی علیحدہ جنس ہے‘ہم تو منافق ہو ہی نہیں سکتے۔ اسی وجہ سے جب ہم قرآن حکیم میں نفاق اور منافقین سے متعلق آیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو سرسری طور پر پڑھ کر گزر جاتے ہیں‘ہمارے دل لرزتے نہیں۔ ہم سوچتے ہی نہیں کہ ان آیات میں ہمارا کوئی ذکر بھی ہو سکتا ہے ۔اسی سوچ کی وجہ سے ہم اپنا محاسبہ نہیں کرتے اور ان آیات کی تاثیرسے محروم رہتے ہیں۔ نہ آنکھیں نم ہوتی ہیں اور نہ ہی دِل نرم پڑتے ہیں ‘جب کہ ان ہی آیات کو جب صحابہ کرام  رضی اللہ تعالیٰ عنہم  پڑھتے تھے توکانپ جاتے تھے ۔ ہمیں ان آیات کو پڑھ کر کچھ ہوتا ہی نہیں‘ کیونکہ ہم نے اپنے ذہن میں اس بات کو بٹھا لیا ہے کہ ہم تو محمد رسول اللہﷺ کی اُمّت میں سے ہیں اور بخشے بخشائے ہیں۔ ہمارے اور صحابہ کرام  رضی اللہ تعالیٰ عنہم  کے اس طرزِ عمل کی  برعکس کیفیت کو سمجھنے کے لیے نبی اکرمﷺ کے دو واقعات پر غور کرتے ہیں: 
(iحضرت حنظلہ (بن ربیع) اسیدی   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے کہ (ایک دن)حضرت ابوبکر  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  مجھ سے ملے اور دریافت کیا: ’’حنظلہ! آپ کیسے ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔‘‘ (حضرت ابوبکر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے) کہا: ’’سبحان اللہ! تم کیا کہہ رہے ہو؟ ‘‘میں نے کہا: ’’ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں۔ آپؐ ہمیں جنت اور دوزخ کی یاد دلاتے ہیں‘ حتیٰ کہ ایسا لگتا ہے گویا ہم انہیں آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ پھر جب ہم رسول اللہﷺ کے ہاں سے نکلتے ہیں تو بیویوں‘ بچوں اور کھیتی باڑی (اور دوسرے کام کاج) کو سنبھالنے میں لگ جاتے ہیں اور بہت سی چیزیں بھول بھلا جاتے ہیں۔‘‘ حضرت ابوبکر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ’’اللہ کی قسم! یہی کچھ ہمیں بھی پیش آتا ہے۔‘‘ پھر میں اور حضرت ابوبکرؓ چل پڑے اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے عرض کی: ’’اللہ کے رسولﷺ! حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔‘‘ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’وہ کیا معاملہ ہے؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’اللہ کے رسولﷺ! ہم آپؐ کے پاس حاضر ہوتے ہیں‘ آپؐ ہمیں جنت اور دوزخ کی یاد دلاتے ہیں‘ تو حالت یہ ہوتی ہے گویا ہم (جنت اور دوزخ کو) اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں‘ اور جب ہم آپؐ کے ہاں سے باہر نکلتے ہیں تو بیویوں‘ بچوں اور کام کاج کی دیکھ بھال میں لگ جاتے ہیں‘ ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں۔‘‘ اس پر رسول اللہﷺ نے تین بار ارشاد فرمایا:
((وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ لَوْ تَدُومُونَ عَلٰى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي، وَ فِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ وَ فِي طُرُقِكُمْ، وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَ سَاعَةً)) [صحيح مسلم، كتاب التوبة، حدیث:۶۹۶۶]
’’اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہو جس طرح میرے پاس ہوتے اور ذکر میں لگے رہو تو تمہارے بچھونوں پر اور تمہارے راستوں میں فرشتے (آ کر) تمہارے ساتھ مصافحے کریں‘ لیکن اے حنظلہ! کوئی گھڑی کسی طرح ہوتی ہے اور کوئی گھڑی کسی (اور) طرح۔‘‘
یعنی رسول اللہ ﷺ نے حضرت حنظلہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو اطمینان دلایا کہ یہ نفاق نہیں ہے۔ باقی تمہاری ایمان اور یقین کی جو کیفیت میری صحبت میں ہوتی ہے‘ اگر وہ دائم ہوجائے تو فرشتے تم سے تمہارے بستروں میں اور راستوں میں مصافحہ کرنے لگیں ۔ یہ کیفیت تو کبھی کبھی ہی میسر آ سکتی ہے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام  رضی اللہ تعالیٰ عنہم   کبھی بھی اپنے آپ کو نفاق سے بالکل محفوظ نہیں سمجھتے تھے ‘بلکہ اس معاملہ میں اس قدرحساس تھے کہ ہمہ وقت اپنا جائز ہ لیتے رہتے تھے۔
(ii غزوئہ تبوک سے واپسی پر جب مسلمانوں کا لشکر اندھیری رات میں ایک تنگ گھاٹی پرسے گزرا تو وہاں مدینہ کے کچھ منافقین رسول اللہ ﷺ کو (نعوذباللہ) شہید کرنے کے لیے چھپ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ جب آپﷺ اس تنگ جگہ سے گزرے تو انہوں نے حملہ کر دیا۔ آپﷺ کے ساتھ جو صحابہؓ تھے ‘اللہ تعالیٰ نے ان کو ہمت دی اور انہوں نے اپنی لاٹھیوں کو منافقین کے اونٹوں کے منہ پر ایسے مارا کہ وہ پلٹ کر واپس بھاگ گئے۔ اگرچہ ان منافقین نے منہ پر کپڑے باندھے ہوئے تھے لیکن آپﷺ  نے حضرت حذیفہ بن یمان  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے نام بتا دیے کہ یہ فلاں فلاں افراد تھے۔ حضورﷺ نے حضرت حذیفہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو اپنا رازدار بنانے کا شرف بخشا تھا اور آنے والے فتنوں سے متعلق‘ اور تمام منافقین کے ناموں اور ان کے احوال سے متعلق پوری تفصیل سے  ان کو آگاہ فرمایا تھا۔ چنانچہ حضرت حذیفہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کا نام صَاحِبُ سِرِّالنَّبِیﷺ (نبیﷺ کے رازدان) مشہور ہوگیا۔ایک مرتبہ حضرت عمر   رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے حضرت حذیفہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کو اللہ کی قسم دے کر پوچھا تھا کہ مجھے صرف یہ بتا دو کہ کہیں میرا نام تو منافقین میں نہیں ہے!
ان واقعات کوسننے کے بعد ہم اپنے بارے میں غور کریں تو یہ واضح ہوگا کہ ہمارے سوچنے اور صحابہ کرام   رضی اللہ تعالیٰ عنہم  ے سوچنے کا انداز بالکل بر عکس ہے۔ انہوں نے کبھی اپنے آپ کو نفاق سے محفوظ نہیں سمجھا بلکہ ہمیشہ ڈرتے رہتے تھے اور مسنون دعا کرتے تھے :
((اللّٰهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ النِّفَاقِ، وَ عَمَلِي مِنَ الرِّيَاءِ، وَ لِسَانِي مِنَ الْكَذِبِ، وَ عَيْنِي مِنَ الْخِيَانَةِ، فَإِنَّكَ تَعْلَمُ خَائِنَةَ الْأَعْيُنِ وَ مَا تُخْفِي الصُّدُورُ)) [مشكوٰة المصابيح، كتاب الدعوات،ح:۲۵۰۱]
’’اے اللہ! میرے دل کو نفاق سے‘ میرے عمل کو ریا سے‘ میری زبان کو جھوٹ سے اور میری آنکھوں کو خیانت سے پاک کر دے‘ کیونکہ تُو خیانت کرنے والی آنکھوں کو جانتا ہے اور جو کچھ سینے (دل) چھپاتے ہیں (تُو اسے بھی جانتا ہے)۔‘‘
یہ کیفیت ایک بندۂ مومن کی لازماً ہونی چاہیے‘کیونکہ مومن ہمیشہ نفاق سے ڈرتا ہے جبکہ منافق ہمیشہ اپنے آپ کو نفاق سے محفوظ سمجھتا ہے۔ ابن ابی ملیکہؒ کہتے ہیں: ’’میں نبی اکرمﷺ کے تیس صحابہؓ سے ملا ہوں‘ ان میں سے ہر ایک کو اپنے بارے میں نفاق کا اندیشہ تھا۔ ان میں سے کوئی ایک بھی یہ نہیں کہتا تھا کہ اُس کا ایمان جبریل اور میکائیل کے ایمان کی طرح ہے۔‘‘ مشہور تابعی حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے: مَا خَافَہُ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا أَمِنَہُ إِلَّا مُنَافِقٌ ’’نفاق سے وہی ڈرتا ہے جو مومن ہو‘ اور اس سے خود کو محفوظ وہی سمجھتا ہے جو منافق ہو۔‘‘[صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب خوف المومن من ان یحبط عملہ]یعنی مومن کو ہر وقت یہ خطرہ لا حق ہوتا ہے کہ کہیں مجھ پر نفاق کا حملہ نہ ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ جس کے پاس دولت ہوتی ہے اسے ہی چوری کا ڈر ہوتا ہے‘ جس کے پاس کچھ ہے ہی نہیں تو اُسے چوری کا ڈر بھی نہیں ہوتا ۔بالکل اسی طرح جس کے پاس ایمان کی دولت ہوگی ‘ اُسے نفاق کا بھی خوف ہوتا ہے لیکن جس کے پاس ایمان ہی نہیں تو اسے نفاق کا کیا خوف ہوگا!گویا صرف صاحب ِایمان کو اپنے بارے میں نفاق کا خوف ہوتا ہے جبکہ منافق اپنے آپ کونفاق سے بالکل محفوظ سمجھتا ہے۔
الحمد للہ ہم منافق نہیں ہیں‘ لیکن ہمیں یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہمارا نفاق سے کوئی تعلق نہیں اور ہم تو منافق ہو ہی نہیں سکتے۔ آج کی کیفیت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ضرور ادا کریں لیکن یہ جان لیں کہ یہ بیماری کسی وقت بھی حملہ آور ہو سکتی ہے ۔ اس لیے ہمیں ہمیشہ اپنی دلی کیفیت اور طرزِ عمل کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ سے نفاق سے بچنے کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ نفاق دراصل کیا ہے! اس بیماری کی علامات کیا ہیں؟ اس کا آغاز کیسے ہوتا ہے؟
نفاق کی علامات
اس حوالہ سے دوا حادیث ِمبارکہ پیش کی جا رہی ہیں:
 حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
((آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ: إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَ إِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَ إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ)) [صحیح البخاری:۳۳ وصحیح مسلم:۲۱۱]
’’منافق کی تین نشانیاں ہیں: (۱) جب بات کرے جھوٹ بولے۔ (۲) جب وعدہ کرے خلاف ورزی کرے ۔(۳)جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔‘‘
یہ الفاظ بخاری ومسلم دونوں کے ہیں ۔آگے جو الفاظ ہیں‘ وہ مسلم شریف میں مزید اضافہ ہے : ((وَإِنْ صَامَ وَ صَلّٰى وَ زَعَمَ اَنَّهُ مُسْلِمٌ))  ’’خواہ ایسا شخص نماز پڑھتا ہو‘ روزہ  رکھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔‘‘
 دوسری حدیث بھی متفق علیہ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر و   رضی اللہ تعالیٰ عنہما  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا :
((أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَ مَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتّٰى يَدَعَهَا، إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَ إِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَ إِذَا خَاصَمَ فَجَرَ))[صحیح البخاری:۳۴ وصحیح مسلم:۲۱۰]
’’چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ چاروں ہوں گی وہ تو خالص (کٹر) منافق ہوگا‘ اور جس میں ان میں سے ایک خصلت ہوگی اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی‘ یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے: (۱) جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے‘ خیانت کرے۔ (۲) جب بات کرے ‘جھوٹ بولے۔ (۳) جب وعدہ کرے‘ خلاف ورزی کرے۔ (۴) جب کسی سے جھگڑ پڑے توآپے سے باہر ہوجائے (یعنی اس کے جذبات بے قابو ہو جائیں اور وہ گالم گلوچ پر اتر آئے۔)‘‘
یہ منافقین کی چارخصلتیں ہیں۔ اگر کسی میں چاروں ہوں تو وہ پکا منافق ہے‘ اگر ایک ہوتو اسی نسبت سے منافق ہوگا۔اس کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ یہاں بتایا گیا ہے کہ چار صفات کی وجہ سے سو فیصد منافق ہوا اور ایک صفت کی وجہ سے پچیس فیصد۔ پس اسی طرح اگر دو صفات ہوں گی تو پچاس فیصد اور تین ہوں گی تو پچھتر فیصد منافق ہوا۔
نفاق کا لغوی و اصطلاحی مفہوم
نفاق(منافقت) کا لفظ  نفق  اور نافقاء سے بنا ہے۔ نفق کا مطلب سُرنگ ہے‘ یعنی زمین دوز راستہ جس کے دو منہ ہوتے ہیں۔ دوسرا عربی کا لفظ نافقاءہے‘ جس کا مطلب گوہ کا بِل ہے۔ گوہ ایک جانور ہے جس کاعرب شکار کیا کرتے ہیں ۔وہ زمین کے اندر اپنا گھر ایسے بناتا ہے کہ اس کے دو راستے ہوتے ہیں۔ اگر شکاری کتا ایک طرف سے آئے تو وہ دوسری طرف سے نکل جاتا ہے اور اس طرح اپنا تحفظ کرلیتاہے۔یہ نفاق کی اصل حقیقت ہے جو ان دونوں الفاظ سے سامنے آرہی ہے ‘یعنی دوغلا پن۔ کسی محفل میں جاکر ان کی خوشامد اوردوسروں کی مخالفت ‘اور دوسروں کی محفل میں جا کر ان کی خوشامد اور پہلوں کی مخالفت ظاہر کرنا۔سورۃ البقرہ کی آیت ۱۴ میں اس کیفیت کا نقشہ یوں کھینچا گیا:
{وَاِذَا لَـقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّاج وَاِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِھِمْ لا قَالُوْٓا اِنَّا مَعَکُمْ لا اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَھْزِئُ‘وْنَ(۱۴)}
’’اور وہ جب بھی ملتے ہیں ان لوگوں سے جو ایمان لائے تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان لائے ہیں‘ لیکن جب یہ تنہائی میں ہوتے ہیں اپنے شیطانوں کی طرف تو کہتے ہیں کہ بےشک ہم تو آپ کے ساتھ ہیں‘ ہم تو بس مذاق کرنے والے ہی ہیں۔‘‘
اس طرزِ عمل کی اصل وجہ اپنی حفاظت اور بچاؤہے۔ایک رویّہ تو یہ ہوتا ہے کہ جو نظریہ بھی قبول کیا تو اب ہر حال میں اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی بھرپور کوشش کی جائے ۔ دوسرا رویّہ یہ ہے کہ انسان ایک راستہ پر چلنا تو چاہے لیکن دامن بچا بچا کر کہ مجھے کوئی نقصان نہ ہو۔علامہ اقبال کا بہت پیارا شعر ہے:؎
تُو بچا بچا کے نہ رکھ اِسے ‘ ترا آئینہ ہے وہ آئینہ 
کہ شکستہ ہو تو عزیزتر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں!
 دینی تقاضوں کے سامنے آ جانے کے بعد بھی اگر انسان جان بچانے اور مال بچانے کا رویہ اختیار کیے رہے تو یہ ایک خطرناک کیفیت ہے۔ حقیقی ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جان اور مال کھپایا جائے ‘لیکن انسان کو جان بھی پیاری اورمال بھی محبوب۔ انسان عموماً دین کےلیے جان ‘مال نہیں لگانا چاہتا۔ وہ جان کو مال کمانے کےلیے ہی خرچ کررہا ہوتا ہے۔ مال کماتے کماتے اس کی کیفیت یہ ہو تی جاتی ہے:
 {اَلْہٰىکُمُ التَّکَاثُرُ(۱) حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ(۲)}
’’تمہیں غافل کیے رکھا ہے بہتات کی طلب نے!یہاں تک کہ تم قبروں کوپہنچ جاتے ہو۔‘‘
اگر اللہ کے دین کے لیے مال لگائے تو دنیاوی لحاظ سے مال بھی گیا‘ اور اگر جان لگائے تو اسی وقت کو مال حاصل کرنے کے لیے لگا سکتا تھا ‘لہٰذا یہ بھی دُنیاوی طور پر نقصان کی صورت ہے ۔سو نفاق کی اصل حقیقت یہی ہے کہ اپنے مال اور اپنی جان کا تحفظ‘اُسے بچا بچا کر رکھا جائے۔ یہی دراصل نفاق کی اصل جڑ اور رُوح ہے‘ کیونکہ قرآن کریم میں بندئہ مؤمن سے مطلوب ہے کہ اپنا مال اور جان اللہ کی راہ میں لگائے۔ 
نفاق کی اقسام
  علماء کرام نے نفاق کی دو اقسام بتائی ہیں: 
(۱)عقیدے کا نفاق (۲)عمل کا نفاق
نفاق کی بیماری کو قرآن و حدیث کی روشنی میں اس طرح سمجھنا زیادہ آسان ہے:
(۱) ارادی نفاق/شعوری نفاق (جان بوجھ کر نفاق اختیار کرنا)
(۲) غیر ا رادی نفاق/غیر شعوری نفاق (جس میں انسان کو پتہ نہیں چلتا کہ نفاق کا آغازہو گیا)
(۱) ارادی /شعوری نفاق:
(i) مثال کے طور پراگر کوئی یہودی جاسوس بن کر عرب میں آتا ہے۔ جیسے وہ یہودی جو رسول اللہﷺ کے جسداطہر کو نکالنے آئے تھے ‘وہ دراصل ارادی منافق تھے۔ وہ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ بظاہر اولیاء اللہ بنے ہوئے تھے۔ رسول اللہﷺ نور الدین زنگی  رحمہ اللہ  کے خواب میں آئے اور کہا کہ دو کتے مجھے پریشان کررہے ہیں ۔یہ خواب ان کو جب تین دن تک نظر آیا تو انہوں نے مدینہ کا رخ کیا ۔وہاں پہنچ کر تمام لوگوں کی کھانے کی دعوت کی۔ دعوت میں ہر آنے والے آدمی سے وہ خود ملے۔ ان کو خواب میں ان دو آدمیوں کی شکلیں دکھا دی گئی تھیں۔جب مدینہ کے سب لوگ دعوت میں آگئے تو پوچھا: ’’اب کوئی رہ تو نہیں گیا؟ ‘‘اُن دونو ں نے اپنی عبادت ‘ زہداور نیکی کا ایسا رُعب ڈالا ہوا تھا کہ نور الدین زنگی ؒکو بتایا گیا کہ دواللہ والے ہیں جو بس عبادت میں مصروف رہتے ہیں‘ کہیں آتے جاتے نہیں۔ چنانچہ نور الدین زنگی ؒنے جا کر ان کے گھر کی تلاشی لی تو ان کے مصلیٰ کے نیچے سے اس سرنگ کا راستہ نظر آیا جس سے وہ نبی مکرمﷺ کے روضۂ مبارک کی دیوار کے قریب پہنچ چکے تھے۔ اب یہ دیکھیں کہ ان کو کتنا وقت لگاہوگا اپنے آپ کو مسلمانوں کے درمیان رہ کر اس تأ ثر کو پیدا کرنے کےلیے کہ نہ صرف ان کو مسلمان سمجھا جا رہا تھا بلکہ ولی اللہ سمجھا گیا۔ چنانچہ یہ منافق بلکہ ارادی منافق تھے ۔ان کو پتہ تھا کہ ہم تو ایک دن کے لیے بھی ایمان نہیں لائے بلکہ صرف مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے مسلمان ہونے کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔ دراصل ایسے لوگ شعوری طور پر اسلام اور اہل ِ ایمان کے دشمن ہوتے ہیں لیکن ظاہر میں قانونی طور پر مسلمان بنے ہو تے ہیں۔ یہ ارادی منافقت ہے ۔
(ii) اسی طر ح آج اگر ہندوستان کاکوئی ہندو یا سکھ جاسوس بن کر پاکستان آئے ۔بظاہر اس کا حُلیہ مسلمانوں جیسا ہو‘ نماز اور قرآن پڑھنے کا اہتمام کرتا ہواور کسی سرحدی گاؤں کی مسجد میں مولوی بن کر بیٹھ جائے توپہچاننا آسان نہیں ہوگا ۔بہر حال ایسا شخص بھی ارادی منافق کہلائے گا۔
(iii) اس کی ایک مثال کا ذکر قرآن حکیم میں بھی آیا جو کہ رسول اللہﷺ کے دور کی ہے۔ یہود اسلام کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔ انہوں نے جب یہ دیکھا کہ اسلام‘ حضرت محمدﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کی تو بڑی ساکھ بنتی جا رہی ہے‘ کیوں کہ جو ایک بار کلمہ پڑھ لے چاہے اس پر جتنا بھی تشدد کر لیا جائے‘ لیکن وہ واپس نہیں پلٹتا۔ اس ساکھ کو ختم کرنے کے لیے انہوں نے یہ تدبیر کی کہ صبح کے وقت یہ ظاہر کردیا جائے کہ ہم ایمان لے آئے لیکن شام کو مُرتد ہونے کا اعلان کر دیا جائے۔ اس طرح لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ اِ ن عالم لوگوں نے پورا دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گزارا تو وہاں پر کوئی خرابی دیکھی ہوگی تبھی تو اسلام لا کر بھی ہٹ گئے۔ عوام کے اندر شک کی کیفیت پیدا ہوگی اور اسلام کی یہ ساکھ ختم ہو جائے گی کہ جو ایک بار ایمان لے آئے وہ واپس نہیں پلٹتا۔ سورئہ آ لِ عمران میںا ن کی اس سازش کا ذکر اس طرح کیا گیا: 
{وَقَالَتْ طَّـآئِفَۃٌ مِّنْ اَہْلِ الْـکِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْ اُنْــزِلَ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْہَ النَّہَارِ وَاکْفُرُوْٓا اٰخِرَہٗ لَـعَلَّـہُمْ یَرْجِعُوْنَ(۷۲)}
’’اور کہا (طے کیا) اہل ِکتا ب میں سے ایک گروہ نے کہ ایما ن لا ؤ اس کلا م پر جو کہ نازل کیا گیا ہے ان لو گو ں پر جو ایمان لا ئے ہیں دن کے ابتدائی حصہ میں اوراس کا انکار کردو دن کے آخری حصہ میں‘ شا ید کہ وہ بھی لوٹ جا ئیں۔‘‘
دیکھنے والوں کو تو وہ لوگ چند گھنٹوں کے لیے اہل ایمان نظر آئے لیکن انہوں نے تو ایمان کی لذت چکھی ہی نہیں ۔وہ تو کفر کی حالت میں آئے‘کفر ہی میں رہے اور کفر ہی میں چلے گئے۔ ایک خاص وقت کے لیےقانوناً مسلمان تو تھے لیکن ان کو معلوم تھا کہ وہ مسلمان نہیں ‘محض فریب دینے کےلیے لبادہ اوڑھا تھا۔
چنانچہ یہ شعوری نفاق کی تین مثالیں سامنے آگئی ہیں۔ ایک حضورﷺ کے زمانے کی‘ایک نورالدین زنگی  رحمہ اللہ  کے زمانہ کی اور ایک آج کے دور کی۔بہر حال اس نفاق کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔
(۲) غیر شعوری /غیراراد ی نفاق:
یہ وہ نفاق ہے جس کے بارے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ  اور حضرت حنظلہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  پریشان ہوئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھے پتہ بھی نہ چلے اور میرے ایمان کی دولت پر پر ڈاکا پڑ جائے ۔لہٰذا ہمیں جس نفاق کوپہچاننا اور سمجھنا ہے وہ یہ غیرارادی و غیر شعور ی نفاق ہے۔ قرآن حکیم میں بھی اکثر و بیشتر اسی نفاق کا ذکر آیا ہے۔
نفاق کی اس قسم کو سمجھنے کے لیے اس پہلو پر غور کرنا ضروری ہے کہ تمام لوگ قوتِ ارادی کے اعتبار سے برابر نہیں ہوتے۔جیسے کوئی جسمانی لحاظ سے قوی ہے کوئی کمزور‘ اسی طرح دماغی طور پرکوئی زیادہ ذہین اور کوئی کم ذہین ہوتا ہے ۔پھر یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ دین اسلام ایک انقلابی دعوت ہے۔ دین کے تقاضوں پرشعوری طور پر عمل کرنے کے لیے مصائب اور مشکلات ضرور آتی ہیں۔ سود سمیت ہر حرام کام کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ پھر دین کا تقاضایہ بھی ہے کہ اسے پھیلایا جائے اور غالب کیا جائے۔ اس کے لیے اللہ کی راہ میں مال اور جان خرچ کرنے کا مطالبہ آ تا ہے ۔ چنانچہ کچھ تو قوی ہمت لوگ ہوتے ہیں جو اتنی مضبوط قوتِ ارادی کے ساتھ ایمان لاتے ہیں کہ ہر حال میں دین کے احکامات پر مضبوطی سے ڈٹ جاتے ہیں۔ چاہے لوگ کچھ بھی کہیں ‘ طنز کریں یا مذاق اڑائیں‘ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ جب فیصلہ کر لیا تو خواہ تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں یا شدید ایذائیں سہنا پڑیں‘  ہر چہ بادا باد!یہ مؤمن صادق کی کیفیت ہوتی ہے کہ وہ شعوری فیصلہ کر لیتا ہے کہ: 
{ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (۱۶۲) }  (الانعام)
’’بے شک میری نماز اور میری قربانی ‘میرا جینا او ر میرا مرنا اُس اللہ کے لیے ہے جو کہ تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘
 مؤمن صادق کی یہی کیفیت سورۃ التوبہ میں بھی بیان کی گئی:
{اِنَّ اللہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَہُمْ وَ اَمْوَالَہُمْ بِاَنَّ لَہُمُ الْجَنَّۃَط یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ قف وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىۃِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ ط وَمَنْ اَوْفٰی بِعَہْدِہٖ مِنَ اللہِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِہٖ ط وَذٰلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۱۱)}
’’یقیناً اللہ نے خرید لی ہیں اہلِ ایمان سے اُن کی جانیں بھی اور اُن کے مال بھی اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنّت ہے۔ وہ جنگ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں‘ پھر قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں۔ یہ وعدہ اللہ کے ذمے ہے سچا‘ تورات‘ انجیل اور قرآن میں۔ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو وفا کرنے والا کون ہے؟ پس خوشیاں منائو اپنی اِس بیع پر جس کا سودا تم نے اُس کے ساتھ کیا ہے۔ اور یہی ہے بڑی کامیابی۔‘‘
اگر کوئی اللہ اور اس کے رسولﷺ کا ماننے والا ہے تو ایمان کا یہ بھی تقاضا ہے کہ اللہ کا دین قائم کرنے کی جدّوجُہد کرے‘ چاہے کتنی ہی قربانیاں دینا پڑیں۔ ایسا فیصلہ کرنے والے لوگ ہی انقلاب برپا کر سکتے ہیں ورنہ اسلام کا نظام قائم نہیں ہو سکتا۔ لاکھ ہم اسلام کو پسند کر لیں لیکن جب تک ’’ہر چہ بادا باد‘‘ کی شان کےساتھ میدان میں نہیں اتریں گے‘ اُس وقت تک اسلام غالب نہیں ہو سکتا۔ایسے مردانِ کار مطلوب ہیں کہ جو فیصلہ کیا ‘اس پر ڈٹ گئے۔ انسانوں میں کمزور ہمت لوگ بھی ہوتے ہیں جو کسی عادت کو چھوڑنا چاہیں لیکن چھوڑ نہیں پا رہے ہوتے‘کسی کام کے کرنے کی خواہش و ارادہ رکھتے ہیں لیکن عین وقت پر قوتِ ارادی ڈھیلی پڑ جاتی ہے اور لاکھ خواہش کے باوجود وہ کام نہیں ہو پاتا۔ ایک شخص دیانت داری سے اسلام قبول کرتا ہے‘ اس کے تقاضے بھی پورے کرنا چاہتا ہے کہ سچا مومن بن جائے لیکن ہو سکتا ہے کہ دین کے مشکل احکامات اُسے آزمائش لگ رہے ہوں۔حقیقی مؤمن کی تعریف سورۃ الحجرا ت میں یوں بتائی گئی:
{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَ رَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ط  اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ(۱۵) }
’’مومن تو بس وہ ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول(ﷺ) پر پھر شک میں نہ پڑے‘ اور انہوں نے جہاد کیا اللہ کی راہ میں اپنی جانوں اور مالوں سے۔ یہی ہیں جو (اپنے دعوائے ایمان میں) سچے ہیں۔‘‘
سو ایمان کا لازمی تقاضا ہے کہ ایمان والے اللہ کے راستہ میں اپنے جان و مال ضرور کھپاتے ہیں۔
ضعف ِایمان یہ ہے کہ جب دین کے مشکل مطالبات سامنے آتے ہیں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کےلیے نکلو یا انفاق کرو تواُس وقت جان و مال زیادہ عزیز ہوجاتا ہے ۔ اب وہ ایک گو مگو کی حالت میں گرفتار ہوجاتاہے‘سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ آگے بڑھوں یا نہ بڑھوں!یہ تذبذب کی کیفیت ہے جس کوسورۃ النساء کی آیت ۱۴۳ میں یوں بیان کیا گیا: 
{لَآ اِلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ وَلَآ اِلٰی ہٰٓــؤُلَآئِ ط} 
’’ نہ تو وہ اِن کی طرف ہیں نہ اُن کی طرف ہیں۔‘‘
  ایسی صورت حال میں ضعیف الایمان شخص تو اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتا ہے کہ اُس وقت قوت ِارادی کمزورپڑ گئی تھی‘ ایمان پر نفس غالب ہو گیا تھا اور دین پر دنیا غالب آگئی تھی ۔پھر وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہے اور آئندہ کےلیے دین کے تقاضے سامنے آنے پر ثابت قدم رہنے کا وعدہ کرلیتا ہے۔جب تک اپنی غلطی کو تسلیم کر لیا جائے‘اپنی تقصیر پر معافی طلب کی جائے ‘ اپنی کوتاہی کو مانا جائے تو یہ کیفیت ایمان کی کمزوری کہلائے گی۔ البتہ اگر ماننے کے بجائے جھوٹے بہانے بنانا شروع کر دیے تو یہاں سے نفاق کی سرحد کا آغاز ہو جاتا ہے۔ جس طرح TB کی بیماری کی تین stagesہوتی ہیں اور آخری مرحلہ پر آکر یہ بیماری عموماً لاعلاج ہو جاتی ہے ‘بالکل یہی حال نفاق کی بیماری کا بھی ہے۔ 
نفاق کی پہلی سٹیج
کئی مرتبہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے بعد آدمی کانفس اُسے آمادہ کرتا ہے کہ کیوں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے ذلیل کرواتے ہو۔ جھوٹ بول دو کہ میری تو پوری آمادگی تھی مگر عین وقت پریہ عذر ہو گیا‘ یہ رکاوٹ آگئی‘ یہ مجبوری تھی‘ فلاں بیماری ہو گئی۔ اس صورت میں عزّتِ نفس تو بچ جائے گی لیکن یہاں سے جھوٹ کا آغاز ہو گیا۔ گویا اب ضعف ِایمان نہیں رہا بلکہ نفاق شروع ہو گیا ہے(جیسا کہ آغاز میں حدیث ِمبارک میں منافق کی پہلی نشانی جھوٹ ہی بتائی گئی تھی)۔
نفاق کی دوسری سٹیج 
جب کئی مرتبہ کوئی نہ کوئی عذر پیش کیا جائے تو لوگوں کی نگاہوں میں اعتبار کم ہوتا جاتا ہے۔ظاہر ہونے لگتا ہے کہ ان کے ساتھ ہی ہر دفعہ کوئی نہ کوئی عذر ہوجاتا ہے ۔ چنانچہ ا ب ایسا شخص جھوٹے بہانوں کے بجائے جھوٹی قسموں کا سہارا لیتا ہے۔ خدا کو گواہ بنا کرلوگوں کو طرح طرح کے بہانے زور دار انداز میں پیش کرے گا۔ اب یہ مرض دوسری سٹیج میں داخل ہوگیا ۔ ان دونوں سٹیجوں میں ابھی شفا کا امکان ہے کہ انسان اگر چاہے تو اپنے رویے کی اصلاح کرسکتا ہے ۔چنانچہ یہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت ہے کہ سورۃالبقرہ کے دوسرے رکوع کے آغاز میں نفاق کا ذکر آیا ہے مگر کسی کا نام نہیں لیا گیا۔
{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّـقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللہِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ(۸) یُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْاج وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ(۹) فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ فَـزَادَھُمُ اللہُ مَرَضًاج وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ لا  بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ(۱۰)}
’’بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں۔وہ دھوکا دینا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو‘ اور وہ دھوکا نہیں دیتے سوائے اپنی جانوں کو اور وہ نہیں سمجھتے ۔ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیااس کی وجہ سے جو وہ جھوٹ بولتے تھے ان کے لیے درد ناک عذاب سزا ہے ۔‘‘
دراصل یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ اگر آپ ہدایت کی طرف آئیں گے تو اللہ آپ کی ہدایت میں اضافہ کرے گا۔ایک نیکی کریں گے‘ دس نیکیوں کی مزید توفیق ملے گی لیکن اگر غلط راستے کی طرف جائیں گے تو ا للہ آپ کے لیے اُس راستے کو بھی کھول دے گا ۔ ایک برا کام کریں گے ‘دس برائیوں کا راستہ مزید کھلتا جائے گا۔اسی طرح نفاق کا راستہ اختیار کریں گےتو وہ آپ کے لیے اس راستے کو کھول دے گا۔ یہ ہے وہ مرض جو ان کے دلوں میں ہے ۔اللہ نے یہ روگ بڑھادیاہے۔ اس طرح نفاق کی اہم ترین علامت جھوٹ کو اِن آیات میں واضح کیا گیا ہے ۔
سورۃ البقرۃ میں منافق کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے بلکہ صرف علامات واضح کرتے ہوئے خبر دار کیا جا رہا ہے کہ اپنا محاسبہ کرلو۔ اگر تمہارے اندر یہ علامات موجود ہیں تو اپنی اصلاح کر لو۔ سورۃ البقرۃ کے بعدسورۃ المنافقون نازل ہوئی ہے تو اس کے آغاز میں باقاعدہ منافقین کا لفظ آیا ہے ۔ارشاد ہوتا ہے:
{اِذَا جَآئَ کَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْہَدُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللہِ }
’’(اے نبیﷺ!) جب یہ منافق آپ کے پاس آتے ہیں توکہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں۔‘‘
گواہی اور قسم دراصل ایک ہی چیز ہے۔ منافقین کے اس بیان پر اللہ تعالیٰ نے زبردست تبصرہ فرمایا:
{ وَاللہُ یَعْلَمُ اِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ ط وَاللہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَــکٰذِ بُوْنَ(۱)}
’’ہاں اللہ جانتا ہے کہ آپ یقیناً اس کے رسول ہیں۔ لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں۔‘‘
دراصل ان منافقوں کا قول تو سچا تھا کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ یہ سچ بول رہے ہیں مگر اللہ کے نزدیک جھوٹے ہیں کیونکہ صرف زبان سے یہ اقرار کررہے ہیں‘ ان کے دل اور عمل ا س کی گواہی نہیں دیتے۔گویا ان کی بات جھوٹ نہیں ہے ‘سچ ہے لیکن بولنے والا جھوٹا ہے ۔انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اس طرح یہ لوگ اللہ کے راستے سے خود رکتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں۔جب ان منافقوں سے کہا جاتا ہے کہ تم اُحد میں کیوں نہیں پہنچے‘ اپنی ذمہ داری کیوں نہیں پوری کی تو پہلے تو باتیں بناتے ہیں اور جب یہ دیکھتے ہیں کہ لوگ مان نہیں رہے تو فوراً اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں۔اب کوئی شریف آدمی کیسے جھٹلا سکے گا جبکہ محمد رسول اللہﷺ تو اشرف الناس ہیں‘ سو آپؐ خاموشی اختیار کرلیتے۔ یہ بات نہیں تھی کہ اللہ کے رسولﷺ ان کو جانتے نہیں تھے‘ آپﷺ کو معلوم تھا کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں مگر آپؐ ظاہر نہیں کرتے تھے۔ یہ آپﷺ کی شرافت و نرمی تھی۔ چنانچہ ان منافقین نے اللہ کے راستے سے رُکنے کے لیے اپنی قسموں کو ڈھال بنارکھا تھا۔ (جاری ہے)