(درسِ قرآن ) سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ(۱۲) - ڈاکٹر اسرار احمد

12 /
سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃ(۱۲)
مدرّس:ڈاکٹر اسرار احمدؒ
سور ۃ البقرہ کا زیر مطالعہ یہ چوتھا رکوع اپنے مضامین کےاعتبار سے جس قدر اہم ہے‘ اُسی قدر مشکل بھی ہے۔ میرا اپنا احساس یہ ہے کہ یہ واقعتاً قرآن حکیم کا مشکل ترین مقام ہے۔ فلسفے کے اہم مسائل اپنی جگہ پر مشکل ہیں‘ اور جن بنیادی حقیقتوں پر اُن کا دارومدار ہے اُن کا ادراک وشعور بھی کوئی آسان کام نہیں ہے۔ چنانچہ اِس درسِ قرآن کے دورِثانی کےآغاز کےوقت دو نکات مسلسل پیش نظر رہنے چاہئیں ۔ 
ایک یہ کہ قرآن مجید کی تفہیم‘ تشریح ‘ تفسیر یا تاویل کے ضمن میں میرا اپنا ایک ذوق ہے‘جو دلیل اور برہان پر قائم ہے۔ وہ یہ ہے کہ جہاں تک قرآن حکیم کا وہ حصہ ہے جو اعمال سے بحث کرتا ہے کہ حلا ل کیا ہے اور حرام کیا ہے‘ جائز کیا ہے اور ناجائز کیا ہے‘ اوامر کیا ہیں اور نواہی کیا ہیں‘ یعنی قرآن حکیم کی عملی تعلیمات‘ تو اس کے بارے میں ہمارا رویّہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم پیچھے سے پیچھے کی طرف جائیں ۔ اَسلاف کی آراء کو دیکھیں‘ بلکہ انتہائی پیچھے پہنچ کر صاحب ِقرآن ﷺتک پہنچ جائیں۔ اس لیے کہ اس کے ضمن میں اصل دلیل نبی اکرم ﷺ کی تعبیرات اور آپ ؐ کی عملی تشریح ہے۔ یعنی جس طرح آپ ﷺ نے قرآن مجید کے احکامات پر عمل کرکے دکھایا ‘وہ اصل سند اور اصل دلیل ہے۔ ؎
بمصطفیٰ ؐ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی‘ تمام بولہبی است
گویا دین تو نام ہی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ہے‘ اور بالخصوص جو اس کا عملی حصہ ہے اس کے ضمن میں تو اوّلین سند بھی حضور ﷺ کا قول وعمل اور آخری سند بھی آپ ﷺ کی سُنّت ہے۔ اس کے بعد صحابہ کرام  رضی اللہ تعالیٰ عنہم  کے آثار و اقوال اور اُن کا طرزِ عمل ہے۔ پھر درجہ بدرجہ تابعینؒ، تبع تابعینؒ اور ہمارے ائمہ فقہ کے اقوال وآراء ہیں۔ ائمہ فقہاء نے   حضور ﷺ سے منقول تمام روایات ‘ آپ ﷺ کی سُنّت‘ نیز آثار ِ صحابہ ؓ سب کا جائزہ لے کر جو آراء مرتّب کی ہیں انہوں نے مستقل مکاتب فقہ کی صور ت اختیار کرلی۔ درجہ بدرجہ یہ سب چیزیں آئیں گی۔ چنانچہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ قرآن حکیم کی عملی تعلیمات کے لیے اسلاف کی طرف رجوع کریں ‘ یہاں تک کہ اپنے آپ کو رسول      اللہ ﷺ کے قدموں میں پہنچا دیں۔
البتہ جہاں تک اُن مسائل کا تعلق ہے جو خالصتاً علمی ہیں ‘ بالخصوص جن سے سائنس کے شعبے بھی بحث کرتے ہیں‘ اس کائنات کے وہ حقائق کہ جن کے ضمن میں انسانی علم نے ارتقاء کیا ہے‘ انسان نے بہت سی معلومات حاصل کی ہیں‘ سائنس کے ذریعہ انکشافات و اکتشافات ہوئے ہیں‘ پھر ایسے حقائق بھی ہیں جن کی تصدیق ہوچکی ہے اور ان کو انسان نے ٹیکنالوجی کی بنیاد بنایا ہے‘ اگر قرآن حکیم میں ان چیزوں کے حوالے ہیں تو ان کے ضمن میں آگے کی طرف چلنا ہوگا‘ اور جو سائنسی ترقی ہوئی ہے‘ انسانی علم میں جو ارتقا ء ہو اہے‘ اس کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے قرآن حکیم کے ان مقامات کو سمجھنا ہوگا۔ اس میں ہمارے لیے اسلاف کا قول سند نہیں ہے‘ اس لیے کہ ان کا تعلق اُس دور سے ہے جب انسان کا یہ علم ابتدائی مراحل میں تھا‘ ابھی معلومات کا دائرہ بہت محدو د تھا۔ انہوں نے اپنے دور کی معلوماتی اور علمی سطح کے مطابق تعبیر (interpretation) کی ہے‘ جس کی حیثیت ہمارے لیے ایک طرح سے reference کی تو ہوسکتی ہےکہ ہم یہ بھی دیکھیں کہ اُن کی کیا آرا ء تھیں‘ لیکن وہ کسی دلیل یاسند کے درجے میں نہیں ہیں۔ یہ تو ایک بنیادی بات تھی جو تفصیلاً تعارفِ قرآن کے ضمن میں عرض کی جا چکی ہے ۔ 
دوسری بنیادی بات یہ ہے کہ عالم ِغیب کے جو حقائق ہیں‘ بالخصوص عالم آخرت اور عالم برزخ وغیرہ سے متعلق جو بعض چیزیں یہاں زیر ِ بحث آرہی ہیں‘ ان کی صحیح صحیح تعبیرات کرنا ہمارے لیےممکن نہیں ہے۔ قرآن حکیم میں جو متشابہات کا دائرہ ہے اس ضمن میں اجمال پر اکتفا کرنا چاہیے اور جو نتیجہ نکلتا ہے وہ حاصل کرلینا چاہیے۔ ہمارا طرزِعمل یہ ہونا چاہیے جو سورۂ آلِ عمران کے آغاز میں بیان کیا گیا: 
{وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْـلَہٗ اِلَّا اللہُ م وَالرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَــقُوْلُــوْنَ اٰمَنَّا بِہٖ لا کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَاج } (آیت۷)
’’اور ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ علم میں راسخ ہیں وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اس (کتاب) پر‘ یہ کل کا کل ہمارے ربّ کی طرف سے ہے۔‘‘
جن کورسوخ فی العلم حاصل ہوجاتا ہے‘ قرآن مجید میں اُن کے اصل اعتناء ودلچسپی کا معاملہ محکمات کے ساتھ ہوتا ہے۔ متشابہات کی اصل تاویل اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے علم میں نہیں ہے۔ متشابہات کے ذیل کی بھی بہت سی چیزیں اس رکوع میں آرہی ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے ان دونوں چیزوں کو ذہن میں رکھیے۔ اس سلسلہ ٔدرس کی گزشتہ نشستوں میں تخلیق کے تین مدارج (level) بیان کیے گئے تھے۔ ایک ہے عالم ِ اَمر میں نور کا ابتدائی دور‘ جس میں ارواحِ انسانیہ اور ملائکہ کی تخلیق ہوئی۔ اس کے بعد جو دوstages ہیں یہ تنزلات ہیں۔ پھر نار کا دور ہے۔ بڑے بڑے ناری کر ّے وجود میں آئے ہیں اور بڑا دھماکا (Big Bang) ہوا ہے۔ عالم اَمر کے پہلے مرحلہ تک ہماری رسائی قطعاً ممکن نہیں ہے۔ سائنس کبھی بھی اُس کے بارے میں نہیںجان سکے گی‘ اس لیے کہ وہ اُس کے دائرے سے خارج ہے۔ بہرحال جب یہ کرۂ زمین ٹھنڈا ہوا اور اس پرcrust  وجود میں آیا تو یہاں حیوانات کی تخلیق کا سلسلہ شروع ہوا‘ جن میں چوٹی پر Homo sapiensہیں۔ اس کے ضمن میں صرف ایک وضا حت کرنی ہے کہ ’’نور‘‘کا جو لفظ استعمال کیا جا رہا ہے کہ ملائکہ نوری الاصل ہیں یا ان کی تخلیق نور سے ہوئی ہے‘ اُس نورکو اِس نور پر قیاس مت کیجیے جو ہمارے ہاں light  کا مترادف ہے۔یہ’’ لائٹ‘‘ فزکس کا ایک موضوع ہے۔ اگرچہ ہم اس پر نور کا اطلاق کررہے ہیں‘ لیکن وہ نور جو عالم امر کا ہے اُس کے اور اِس کے مابین نوعیت کا فرق ہے۔ یہ لائٹ عالم مادّی کی شےہے ‘ جو ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار (velocity) سے حرکت کرتی ہے۔ عالم مادّی میں ہمیں اس رفتار سے زیادہ کا علم نہیں ہے‘ لیکن پھر بھی اس میں وقت کا معاملہ (time element) ہے۔ پھر اس نو رکے ساتھ نار یعنی حرارت گویا ملی جلی ہوئی ہے۔ یہ نور (light) سورج سے آرہا ہے جو ناری کر ہ ہے‘ جس کا ٹمپریچر انتہائی زیادہ ہے۔ چنانچہ یہ نور اور نار باہم ملے ہوئے ہیں۔ یہ روشنی مادّی نور ہے جس کا ہم فزکس میں مطالعہ کرتے ہیں جبکہ عالم امر کا نور ایک مختلف شے تھا۔ وہ ایک ’’خنک نور‘‘ تھا۔ وہ کوئی ٹھنڈی روشنی تھی جس کو ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اُ س کی اصل حقیقت کیا تھی۔ وہ نور اصل مادّۂ تخلیق ہے ملائکہ کا بھی اور ارواحِ انسانیہ کا بھی۔ یہ نور جس سے ہم واقف ہیں‘ یہ بگ بینگ کے بعد وجود میں آیا ہے اور بہت چھوٹے چھوٹے ذرات (پروٹانز) پر مشتمل ہے۔ اس کے لیے ایک رفتار ہے اور اس کے ساتھ وقت کا معاملہ منسلک ہے‘ جبکہ عالم امر اِن معاملات سے ماوراء ہے۔ وہاں تو کُنْ فَیَکُوْن  والی بات ہے‘ جبکہ عالم خلق میں جو بھی چیز ظہور پذیرہوتی ہے تواس میں time element   لازمی ہے۔ آسمان اور زمین کی تخلیق چھ دنوں میں ہوئی ہے (یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ اس سے کوئی چوبیس گھنٹے والا دن مراد نہیں ہے)۔ اسی طرح رحم مادر میں بچہ پرورش پاتا ہے تو اُسے وجود میں آنے میں نومہینےلگتے ہیں۔ بہرحال  time element عالم خلق کا ایک لازمی عنصر ہے جبکہ عالم اَمر اس سے ماوراء ہے۔ 
ایک اشتباہ کا ازالہ
آیت ۳۰ میں ہم نے پڑھا کہ فرشتوں نے یہ بات کہی کہ :پروردگار! آپ زمین میں ایسا خلیفہ بنائیں گے جو وہاں فساد اور خوں ریزی کرے گا؟ جبکہ ہم آپ کے احکام کی تعمیل میں ہروقت سرگرم ہیں‘ آپ کی حمد وثنا کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں‘ آپ کا شکر بجا لاتے ہیں کہ آپ نے ہمیں اس خدمت پر مامور کیا ہے۔ اس ضمن میں ایک اشتباہ سا ہوتا ہے کہ یہ گویا فرشتوں کی طرف سے اعتراض کی کوئی شکل ہے۔ ہمارے مفسرین کا ذہن یہ بات قبول نہیں کرتا کہ فرشتوں کا جو مقامِ عبدیت ہے‘ انہیں جو قرب ذاتِ باری تعالیٰ کے ساتھ حاصل ہے اس اعتبار سے وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے زبانِ اعتراض بھی کھول سکتے ہیں۔ چنانچہ اس کی جو مختلف انداز سے تعبیرات کی گئی ہیں‘ ان میں ایک یہ بھی ہے کہ یہ ایک استفہام تھا‘ سمجھنے کی کوشش تھی۔ جیسے سورۃالبقرہ ہی میں آگے حضرت ابراہیم علیہ السلام   کا  واقعہ بیان ہوا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی : {رَبِّ اَرِنِیْ کَیْفَ تُحْیِ الْمَوْتٰی ط} ’’پروردگار! مجھے مشاہدہ کرادے کہ تُو مُردوں کو کیسے زندہ کرے گا ؟‘‘ اس پر فوری طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پوچھا گیا: {اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ط} ’’کیا تم ایمان نہیں رکھتے؟‘‘ کیا تمہیں یقین نہیں ہے؟ تو حضرت ابراہیم  علیہ السلام  نے عرض کیا : {بَلٰی وَلٰـکِنْ لِّیَطْمَئِنَّ قَلْبِیْ ط} ’’کیوں نہیں ! لیکن مَیں ذرا اپنے دل کا اطمینا ن چاہتا ہوں۔‘ ‘ میرا اس پر ایمان ہے اور مَیں اس کی تصدیق کرتاہوں ‘ لیکن اپنے ایمان ویقین میں مزید پختگی چاہتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ میرا یقین آخری درجے تک پہنچ جائے۔ اسی درجے میں یہ بات سمجھیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں سے بھی کہا جاتا کہ کیا تمہیں اعتماد نہیں ہے‘ تمہیں یقین نہیں ہے کہ جو کام مَیں کرنے چلا ہوں وہی درست ہے‘ تو ان کا جواب یہی ہوتا کہ ہم چاہ رہے تھے کہ ہمیں اطمینانِ قلب حاصل ہوجائے! تو یہ استفہام ہے۔
اس ضمن میں مولانا اصلاحی صاحب نے بہت عمدہ تعبیر کی ہے کہ: ’’(فرشتوں کا) اصل مقصود اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کی حکمت و مصلحت معلوم کرنا تھا۔ اس غرض کے لیے انہوں نے ایک طرف تو اس اندیشہ کو ظاہر کر دیا جو انسان کی خلافت کے اندر ان کو نظر آیا۔ دوسری طرف اس بات کو بھی ظاہر کر دیا کہ انسان کی تخلیق سے مقصود محض تسبیح وتقدیس تو ہو نہیں سکتا‘ اس لیے کہ یہ کام تو ہم کر ہی رہے ہیں۔‘‘
تاویل ِخاص کے اعتبار سے غور کریں تو سورۃ البقرہ کے اس مضمون کے بعد ہم اس مضمون کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں جہاں یہود سے براہ ِراست خطاب شروع ہوجائے گا۔ ان کا باہم ربط یہ ہے کہ دراصل اس سرگزشت میں ایک آئینہ دکھایا جا رہا ہے کہ دعوتِ حق کے معاملے میں ایک شکل یہ ہوسکتی ہے کہ کوئی اشتباہ لاحق ہوجائے‘ کہیں کوئی اشکا ل ہو‘ بات سمجھ میں نہ آرہی ہو‘ اس کی وجہ سے اس دعوت کو قبول کرنے میں تاخیر ہوجائے۔ اس صورت میں غالب امکان ہے کہ شبہ واقع ہو اہے تو یہ رفع بھی ہوجائے گا‘ اشکال ہے تو اس کا ازالہ ہوجائے گا۔ ایسےلوگ جن پر حقیقت منکشف ہوجائے گی وہ بات کو تسلیم کرلیں گے۔ البتہ اس کے برعکس تکبّر اور حسد کی بنیاد پر جو انکار ہوتاہے وہ مستقل اور دائمی ہوتاہے‘ وہ رفع ہو نے والا نہیں ہوتا۔ چنانچہ فرشتوں کو جو اشکال پیش آیا یا جو اشتباہ ہوا‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اُس کی وضاحت ہوگئی اور انہوں نے اس کو قبول کرلیا۔ یہ گویا طرز ِ عمل تھااُن لوگوں کا کہ جنہیں حضورﷺ کی بات کو سمجھنے میں کچھ وقت لگا۔ کچھ اشکالات‘ کچھ شبہات تو ہوئے‘ لیکن جیسے جیسے وہ شبہات رفع ہوتے گئے‘ اشکالات دور ہوتے گئے وہ ایمان لاتے چلے گئے۔ اس کے برعکس علماء یہود کا طرزِ عمل تکبّر اور حسد کی بنیاد پر تھا کہ ہم بنی اسماعیل کی نسبت بلند مرتبہ کی حامل قوم ہیں‘ اعلیٰ نسل سے ہیں‘ chozen  people  of the Lord  ہیں۔ ابھی تک ہماری یہ امتیازی شان رہی ہے کہ نبوت اور رسالت ہم میں رہی ہے‘ کتابوں کا نزول ہم سے متعلق رہا ہے۔ آج اگر یہ نعمت ہم سے سلب کرکے ان کو دی جا رہی ہے تو ہم اس کی بھرپور مخالفت کریں گے‘ حالانکہ وہ پہچان گئے تھے کہ محمد عربیﷺ آخری نبی ہیں۔ قرآن مجید میں ایک سے زائد مرتبہ یہ الفاظ آئے ہیں: {یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ} کہ یہ حضرت محمد ﷺ کو ایسے پہچانتےہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں ۔ البتہ حسد اور تکبرکا کوئی علاج نہیں ہے۔ جیسے ہمارے ہاں کہا جاتا ہے کہ سوتے کو جگایا جاسکتاہے‘ جاگتے کو جگانا ممکن نہیں ہے۔ جنہیں اشتباہ ہوا وہ سوئے ہوئے تھے‘ آپﷺ نے جگا دیاتو جاگ گئے۔ البتہ جو جاگے ہوئے ہیں‘ پہچانے ہوئے ہیں‘ ان کے انکار کا سبب تکبّر اور حسدہے‘ تو ان کا کوئی علاج نہیں ہے۔ چنانچہ سرگزشت آدم ؑ وابلیس کی تفصیل جو یہا ں آرہی ہے یہ ایک طرح سے تمہید باندھی جا رہی ہے‘ علمائے یہود کو آئینہ دکھایا جارہا ہے کہ تمہارا طرزِ عمل ابلیس سے مشابہ ہے۔ جس بنیادپر اُس نے استکبار کیا اور کفر کی روش اختیا رکی‘ اللہ کی نافرمانی کی اور راندۂ درگاہ ہوگیا‘ بعینہٖ وہی روش تم اختیار کررہےہو۔ 
اگر یہ کہا جائے کہ فرشتوں کے دل میں خلافت کی خواہش پیدا ہوئی تھی‘ تو اس کی ایک تاویل یہ ہوجائے گی کہ ایک وسوسہ تھا جو اُن کے ذہن میں آیا۔ ہمارے ہاں اُصول یہی ہے کہ وسوسہ جب تک وسوسہ کے درجے میں رہے اور اُس پر انسان عمل نہ کرے تو اس پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ فرشتوں کو احساس ہواہو کہ ہم اس کے زیادہ اہل ہیں۔ خلافت کا یہ منصب حضرت آدم ؑ یا ذُرّیت ِآدم کو دیا جارہا ہے تو ہمارے اندر اس کی اہلیت کے سارے تقاضےپورے ہیں‘ لیکن جب اُن کے سامنے بات واضح ہوگئی اور انہوں نے تسلیم کرلیا تو اس ضمن میں اُن پر کوئی ملامت کا پہلو نہیں ہے۔ لہٰذا یہ ایک استفہام اور اشکال کو رفع کرنے کی صورت ہے۔ 
آیت۳۱   { وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ کُلَّھَا ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلٰٓـئِکَۃِ لا  فَقَالَ اَنْبِئُوْنِیْ بِاَسْمَآئِ ھٰؤُلَآئِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱)} ’’اور اللہ نے سکھا دیے آدم کو تمام کے تمام‘نام‘ پھر اُن (تمام اشیاء) کو پیش کیا فرشتوں کے‘سامنےاور فرمایا کہ بتائو مجھے ان چیزوں کے نام اگر تم سچّے ہو۔‘‘
صدق کا لفظ عربی زبان میں صرف سچ کے لیے نہیں آتا‘ بلکہ کسی شے کے درست ہونے کے لیے بھی آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ اگر تمہارا خیا ل صحیح اور تمہارا موقف درست ہے تو ان اشیاء کے نام مجھے بتا ؤ! اسی طرح کذب جھوٹ کے لیے بھی آتا ہے اور جب کوئی آدمی جان بوجھ کر خلافِ حقیقت بات کہہ رہا ہو یا بیان کررہا ہو‘ اگر مغالطہ میں آکر بھی کوئی شخص خلافِ حقیقت بات کررہا ہو‘ خلافِ واقعہ بات بیان کررہا ہو‘ تو اُس پر بھی کذب کا اطلاق ہو جاتا ہے۔ چنانچہ صدق اور کذب کا اردو میں جو مفہوم ہم سمجھتے ہیں‘ عربی میں اس سے وسیع تر ہے۔ 
آیت۳۲ {قَالُوْا سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَا اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ(۳۲)}’’انہوں نے کہا: (پروردگار!) نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے‘ ہمیں کوئی علم حاصل نہیں سوائے اُس کے جو آپ نے ہمیں سکھادیا ہے۔ یقیناً آپ ہی ہیں جو سب کچھ جاننے والے کامل حکمت والے ہیں۔‘‘
یہاں پر حصر کا اسلوب ہے: اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ یقینا ً تُو ہی واحد ہستی ہے کہ جو پورے علم کا احاطہ کرتی ہے‘ جس کے پاس کل علم ہے‘ ہر شے جس کے علم میں ہے‘ اور واحد تیری ہی ذات ہے جو حکمت کا بھی احاطہ کرنے والی ہے۔ 
آیت۳۳   {قَالَ یٰٓـاٰدَمُ اَنْبِئْھُمْ بِاَسْمَآئِھِمْ ج فَلَمَّـآ اَنْبَاَھُمْ بِاَسْمَآئِھِمْ لا  قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّــکُمْ اِنِّــیْ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لا وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا کُنْتُمْ تَـکْتُمُوْنَ(۳۳)} ’’اللہ نے فرمایا کہ اے آدم ‘ ان کو بتائو ان چیزوں کے‘نام!تو جب اُس نے بتا دیے ان کو اُن سب کے نام تو (اللہ نے) فرمایا: کیا مَیں نے تم سے کہا نہ تھا کہ مَیں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی ہوئی چیزوں کو اور مَیں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کر رہے تھے اور جو کچھ تم چھپا رہے تھے۔‘‘
حضرت آدمؑ کی خلافت ِارضی کی اساس
یہ چند آیات ہیں جن میں ایک ہی مضمون آیا ہے‘ بحیثیت مجموعی ہم اس پر کلام کریں گے۔ یہاں سب سے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ یہ نام کن چیزوں کے تھے؟ اصل میں یہ وہ انداز نہیں ہےکہ فرشتوں کا کوئی امتحان لیاگیا تھا ‘ بلکہ فرشتوں کے سامنے ایک شے کی وضاحت پیش کی جا رہی ہے کہ جس ہستی کو مَیں خلافت عطافرمارہا ہوں اس میں جہاں شر کا پہلو ہے وہاں خیر کا پہلو بھی ہے۔ پھر یہ کہ جہاں مَیں اُس کو اختیار دے رہا ہوں وہاں ساتھ ہی علم بھی دے رہا ہوں‘ اور اس کےاندر جو بھی شر کا امکان ہےیہ علم اس کو متوازن (balance)کرے گا اور خلافت کی بنیاد بنے گا۔ 
یہاں اصل میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم   علیہ السلام  کو کن کے نام سکھائے تھے؟ اس حوالے سے دو آرا ء ہیں۔ ہمارے اکثر وبیشتر مفسرین متقدمین و متاخرین کا تقریبا ً اس پر اجماع ہے کہ اس سے اشیاء کے صرف نام نہیں‘ بلکہ ان کے خوا ص اور خاصیتیں(properties)  مراد ہیں‘ اس لیےکہ انسان مادّی علم اپنے حواس (sense organs) اورپھر عقل کے ذریعہ سے حاصل کرتا ہے۔ ہمارے حواس معلومات (sense data) فراہم کرتے ہیں۔ آنکھ نے کچھ دیکھا‘ کان نے کچھ سنا‘ زبان نے کچھ چکھا‘ ہاتھ نے کچھ چھوا‘ ناک نے کچھ سونگھا۔ اس طرح ہمارے دماغ نے مختلف ذرائع سے کچھ معلومات حاصل کیں‘ پھر ان معلومات کو مرتّب کیا اور ان سے استنباط کیا۔ ان سے استدلال اور استخراج کرتے ہوئے انسان اپنے غوروفکر اور منطق کے ذریعے سے اُن بہت سی معلومات اور حقیقتوں تک پہنچ جاتاہےجو غیرمعلوم تھیں۔ یہ انسانی علم ہے‘ جس کو آج سائنسی یا مادّی علم کہا جاتا ہے۔ اسی میں فلسفیانہ علم کا بھی اضافہ ہو جاتا ہے کہ انسان کو جومعلومات حاصل ہوتی ہیں اس پر وہ اپنے دماغ کی برتر صلاحیتوں کوبروئے کار لاکر کائنات کے کچھ کلی حقائق کے بارے میں بھی رائے قائم کرتاہے۔ تاہم ابھی ہم فلسفہ کی بات نہیں کر رہے۔ اس وقت بنیادی انسانی علم یعنی حواس کے ذریعہ سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر مزید استدلال اور استنباط سے کچھ اور چیزوں کو معلوم کرتے ہوئے آگے بڑھنا‘ یہ علم قدم بقدم ترقی کرتا چلا آرہا ہے۔ کبھی شاید اتفاقاً ہی ایسا ہوا ہوگا کہ دو پتھر آپس میں ٹکرائے ہوں اور ان سے چنگاری پیدا ہوگئی ہو۔ جس انسان نے پہلی مرتبہ اس کا مشاہدہ کیا ہوگا تو اس کے سامنے بہت بڑا اکتشاف اور انکشاف ہوا ہوگا۔ اس کے بعد پتھروں کو ٹکرا کر چنگاری پیدا کرکے آگ کی دریافت ہوگئی تھی جو توانائی (energy) کا ایک بہت بڑاذریعہ تھی۔ پہلے پہل یہی توانائی کا واحدذریعہ ہوگی اور وہ شخص بہت بڑا موجدقرار پایا ہو گا جس نے آگ دریافت کی۔ اسی طرح یہ تو سب ہی دیکھتے رہے ہوں گے کہ درختوں کے پھل اوپر سے زمین پر گرتے ہیں‘ لیکن ایک سائنس دان نے اس کا غور سے مشاہدہ کیا اور یہ نتیجہ نکالا کہ زمین میں کوئی قوت ہے‘ کوئی کشش ثقل ہے جو ان چیزوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ ایسے ہی کسی نے آگ کے اوپر دیگچی میں پانی کو کھولتے ہوئے دیکھا کہ بھاپ کی وجہ سے دیگچی کا ڈھکن ہل رہا ہے تو اسے اندازہ ہوا کہ اس کے اندر کوئی طاقت و قوت ہے جو اس ڈھکن کو ہلا رہی ہے۔ چنانچہ بھاپ کے اندر اللہ نے جو قوت رکھی ہے وہ انسان کومعلوم ہوگئی اور سٹیم انجن دریافت ہوگئے۔ 
یہ انسانی علم کا تدریجاً ارتقا ء ہورہا ہے‘ لیکن اس علم کا مدار انسان کے مشاہدے پر ہے۔ اُس نے کوئی شے‘ کوئی قدرتی عمل (phenomenon) دیکھا اور اس کے لیے کوئی نام یا عنوان تجویز کیا۔ انہی ناموں اور عنوانات (terms)کے ذریعے سے ہی انسان نے اپنی معلومات کو منضبط ومرتب کیا اور انہی کے ذریعہ سے یہ علم ایک نسل سے اگلی نسل کو منتقل ہوا۔ یہ ’’علم الاسماء ‘‘ حضرت آدم ؑکو گویا پورے کا پورا بالقوہ (potentially) دے دیا گیا۔ تمام مادّی اور سائنسی علوم اُسی کی exfoliation اور اُسی کا ظہور ہیں۔ جیسے کہ بیج اور گٹھلی کے اندر پورا درخت بالقوۃ موجود ہوتا ہےاور اسی میں سے وہ برآمد ہوتاہے۔ اس کوہم یوں بھی تعبیر کرسکتے ہیں کہ علم حاصل کرنے کے جو ذرائع و آلات ہیں وہ حضرت آدم ؑ کو عطا کردیے گئے۔ ازروئے الفاظِ قرآنی: { اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُوْلًا(۳۶)} (الاسراء)  ان کووہ استعدادات عطا کردی گئیں جن کے ذریعہ سے انسا ن کو تمام مادّی علوم حاصل ہونے والے تھے۔ یہ اس کی مختلف تعبیرات ہوں گی۔ 
اکثر وبیشتر مفسرین نے علم الاسماء سے یہی اشیاء کا علم یعنی مادّی اور سائنسی علم مراد لیا ہے۔البتہ مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے ایک بات ذرا ہٹ کر کہی ہے کہ اس سے مراد حضرت آدم علیہ السلام  کی ذُرّیت کے نام ہیں۔ دلیل اُن کی یہ ہے کہ یہاں جو ضمیریں اور اشارے وغیرہ استعمال ہوئے ہیں وہ عربی زبان میں عام چیزوں کے لیے نہیں بلکہ خاص طور پر عقل و ادراک اور شعور و ارادہ رکھنے والی چیزوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثلاً فرمایا: {ثُمَّ عَرَضَھُمْ عَلَی الْمَلٰئِکَۃِ} ’’پھر پیش کیا اُن کو ملائکہ کے سامنے۔‘‘ یہ ھُم کی ضمیر ذوی العقول کے لیے ہے۔ اسی طرح : {اَنْۢبِئُوْنِیْ بِاَسْمَاۗءِ ھٰٓؤُلَاۗءِ} ’’مجھے ان لوگوں کے نام بتاؤ۔‘‘ {یٰٓـاٰدَمُ اَنْبِئْھُمْ بِاَسْمَآئِھِمْ } ’’اے آدم! ان کو ان کے ناموں سے آگاہ کرو۔‘‘ اس سے انہوں نے یہ نتیجہ برآمد کیا ہےکہ اصل میں حضرت آدم علیہ السلام   کی تمام ذُریت کی تخلیق ارواح کی شکل میں ہوچکی تھی‘ تو اُن میں جو عظیم شخصیات پیدا ہونے والی تھیں‘ جن میں عظیم ترین ہستی محمد ـ رسول اللہﷺ ہیں‘ انہی میں حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم‘ حضرت اسماعیل‘ حضرت اسحاق ‘ حضرت یعقوب ‘ حضرت موسیٰ ‘ حضرت عیسیٰ علیہم السلام   ہیں‘ تو ان کا گویا مشاہدہ کرایا گیا۔ حضرت آدم علیہ السلام  کو ان کے نام بتادیے گئے اور پھر فرشتوں کے سامنے ان کو پیش کردیا گیا۔ اصلاحی صاحب نے لکھا ہے کہ فرشتے حضرت آدم علیہ السلام  کی ذُرّیت کے متعلق گمان رکھتے تھے کہ یہ خلافت پاکر زمین میں فساد مچائے گی‘  خون ریزیاں کرے گی۔اس گمان کی تردید کے لیے ان کو ذُریت ِ آدم کا مشاہدہ کرایا گیا‘ تاکہ ان پر یہ بات واضح ہوسکے کہ اگر اولادِ آدمؑ کے اندر ایسے لوگوں کے پیدا ہونے کا امکان ہے جو اللہ تعالیٰ کے تفویض کردہ اختیارات کو بے جا طور پر استعمال کریں گے تو ساتھ ہی ان کے اندر ایسے لوگ بھی اٹھیں گے جو خیر کے پیکر اور ہر اعتبار سے نیکی وبھلائی کے علم بردار ہوں گے۔
یہ مولانا اصلاحی صاحب کی رائے ہےاور ایک اعتبار سے اس میں کچھ وزن بنتا ہے کہ یہاں ضمائر وہ آئی ہیں جو ذوی العقول کے لیے استعمال ہوتی ہیں‘ لیکن اکثر وبیشتر مفسرین کی رائے وہی ہے جو پہلے بیان ہوچکی۔ اس اختلاف کا جواب یہ ہوگا کہ چونکہ حضرت آدم علیہ السلام  کو تمام علم الاسماء دے دیا گیا تھا تو اس میں اشخاص بھی شامل تھے اور اشیاء بھی۔ اس اعتبار سےبرسبیل تغلیب ضمائر وہ استعمال کردی گئیں جو ذوی العقول کے لیے آتی ہیں۔تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ انہی پر حصر ہورہا ہو۔ میرے نزدیک بھی اصل موضوع ’’خلافت‘‘ سے زیادہ مناسبت اور تعلق رکھنے والی رائے یہی ہےکہ یہ علم الاسماء  وہ علم ہے جو انسان نے اپنے ذرائع اور مشاہدے سے تدریجاً حاصل کیا ۔ حضرت آدم علیہ السلام   کو وہ پورے کا پورا علم بالقوہ (potentially) ودیعت کردیا گیا تھاجو کائنات کو مسخر کرنے کےلیے درکار تھا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اَلَمْ تَرَوْا اَنَّ اللهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمٰوَاتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ} (لقمان:۲۰) ’’ (لوگو!) کیا تم نے نہیں دیکھا کہ اﷲ نے تمہارے لیے ان تمام چیزوں کو مسخر فرما دیا ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں۔ ‘‘نیز فرمایا: {وَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْهُ} (الجاثیۃ:۱۳) ’’اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب تمہارے لیے مسخر کردیا۔‘‘
آیت ۲۹ میں جو الفاظ آئے ہیں: {ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَـکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا} ’’وہی ہے جس نے پیدا کیا تمہارے لیے جو کچھ بھی زمین میں ہے‘‘ وہاں صرف  زمین کا معاملہ ہے۔ ہماری ضروریات کی بہم رسانی کے لیے اور جہاں تک ہماری دسترس ہے اس کی حد تک تو زمین میں جو کچھ پیدا کیا گیا ہےوہ ہمارے لیے ہے۔ ہمیں خلافت ِ ارضی دی گئی ہے‘ پوری کائنات کی خلافت نہیں دی گئی۔ البتہ علم کی وہ بنیاد حضرت آدم علیہ السلام  ذُریت ِ آدم ؑ کو عطا کردی گئی جس کے نتیجے میں وہ کائنات کی تسخیر کرسکیں گے۔ قوائے فطریہ (forces of the nature) کی دریافت اور پھر ان کو اپنے کنٹرول میں لانا‘ ان سے فائدہ اٹھانا تسخیر کائنات ہی کی طرف انسان کا قدم ہے۔ آ ج انرجی کے مختلف خزانے جس طرح انسان کے اختیار میں آتے چلے جارہےہیں ‘ چاند تک اُس کی رسائی ہوچکی ہے‘ مریخ پر کمند ڈالنے کو تیار ہے‘ یہ تسخیر کائنات ہی کا سفر ہے۔ یہ تسخیر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو عطاکردہ صلاحیتوں کے ذریعے سے ہورہی ہے۔ اصلاً یہ شر(evil)نہیں ہے۔ اسے اس چیز نے شر بنا دیا ہے کہ اس کے ساتھ جو روحانی ترقی ہونی چاہیے‘ ایمان باللہ ہونا چاہیے‘ اصل حقائق انسان کے سامنے رہنے چاہئیں وہ فراموش کر دیے گئے ہیں۔ 
انسان کو اپنی حیثیت خالق ِکائنات کے حوالے اور نسبت سے سمجھنی چاہیے۔ اگر انسان کی نظروں سے یہ چیزیں اوجھل ہوجائیں اور صرف عالم مادّی اور یہ دنیا ہی اس کے پیشِ نظر رہ جائے تو پھر یہ وہی کانے دجال والا تصور ہے۔ دجال کے بارے میں  احادیث میں جو صفات بیان ہوئی ہیں ان کے اندر یہی تسخیر کا معاملہ ہے‘ لیکن دجال کی صرف ایک آنکھ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کود و آنکھیں عطا فرمائی ہیں۔ ایک آنکھ یہ علم انسانی ہے کہ جس سے اُ س کی ساری کی ساری استعداد‘ اُس کی مشینری ‘ اُس کے سارے آلا ت و ذرائع انسان میں ودیعت کردیے گئے ہیں۔ یہ ایک علم ہے جس کا دائرہ اور دروازہ اس کے لیے کھلا ہوا ہےاور میدان وسیع ہے۔ 
دوسرا علم وہ ہے کہ جس کے ذکر پر یہ رکوع ختم ہوگا : {فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی..... } ’’تو جب جب بھی میری طرف سے تمہارے پاس ہدایت آئے گی .....‘‘ یہ علم وحی ہے جو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام   کے ذریعہ سے نازل فرمایا۔ یہ سلسلہ ٔہدایت حضرت آدم علیہ السلام   ہی سے شروع ہوا ہے اور حضرت محمد ﷺ پر تکمیل پذیرہوا۔ یہ مضامین بھی تعارفِ قرآن کے ضمن میں تفصیل سے عرض کیے جا چکے ہیں۔ مشہور مقولہ ہے: العلم علمان: علم الابدان و علم الادیان ( علم دو ہیں: جسمانی علم اور دینی علم) یعنی ایک مادّی علم اور دوسرا علم ہدایت جو وحی کے ذریعہ سے انسان کو حاصل ہوا۔ مادّی علم کا ذریعہ ہمارے حواس اور ہماری عقل ہے۔ درحقیقت اسی سے سارا فساد پیدا ہوا ہے کہ جب وحی کے علم سے انسان نے منہ موڑ لیا‘ اس ہدایت کو اُس نے ترک کردیا‘ اس کی پیروی اختیارکرنی چھوڑ دی‘ تو اب یہ مادّی ترقی اُس کے گلے کا طوق بن گئی ہے۔اس کے   زیر ِاثر تخریبی قوتیں (destructive forces) جمع ہوتی چلی جارہی ہیں۔ سوویت یونین (USSR) کی ٹوٹ پھوٹ (disintegration)کے بعد مغرب میں سخت تشویش ہے کہ پینتیس ہزار ایٹمی وار ہیڈز ان نئی وجود میں آنے والی چھو ٹی چھوٹی جمہوری ریاستوں کے ہاتھ آگئے ہیں‘ لہٰذا انہیں فوری طور پر کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک خبر تو یہاں تک آئی تھی کہ امریکہ اپنی فوجیں اتارنے کے لیے تیار ہے۔ اس لیے کہ وہ چند ایٹم بم تو پورے امریکہ کی تباہی کے لیے کافی ہیں‘ بلکہ شاید پوری دنیا کی ہلا کت کا ذریعہ بن جائیں۔ اس کے علاوہ ہائیڈروجن بم اور نہ جانے کتنی کچھ ہلاکت آفریں قوتیں انسان نے جمع کرلی ہیں۔ درحقیقت یہ سائنسی ترقی دجالیت اسی وجہ سے بن گئی ہے کہ اب یہ علم یک رُخا ہوگیا ہے‘ دونوں آنکھوں میں سے ایک آنکھ بند ہے۔ وحی کی طرف سے انسان نے اپنی آنکھ بند کرلی اور صرف مادّی علم کا دائرہ آگے بڑھتا اور پھیلتا چلا گیا۔ معلومات کا ذخیرہ بے انتہا بڑھتا چلاگیا۔ ٹیکنالوجی ترقی کررہی ہے۔ خلا میں انسان بہت دُور تک ہو کر آگیا ہے۔ درحقیقت یہ سب علم الاسماء کی exfoliation ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کو دیا گیا‘اور خلافت کا تعلق اسی علم سے ہے۔ 
خلافت کے علاوہ دوسرا لفظ ہے امامت۔ امامت کا تعلق درحقیقت وحی کے ذریعے حاصل ہونے والے علم ہدایت سے ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام  کی کوئی حکومت زمین میں قائم نہیں ہوئی تھی‘ لیکن آپ ؑ کو جو چیز دی گئی وہ ہے امامت۔ ارشاد ہوا: {اِنِّیْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا}(البقرۃ:۱۲۴) ۔واضح فرما دیا گیا کہ اب آپؑ ہی کی ذُرّیت میں نبوت و رسالت رہے گی‘ کتابیں آئیں گی۔ چنانچہ حضرت موسیٰ ‘ حضرت عیسیٰ اور تمام انبیاءِ بنی اسرائیل علیہم السلام ‘ اور آخری رسول حضرت محمد ﷺ بھی ذُریت ِ ابراہیمؑ میں سے ہیں۔ امامت کا تعلق علم وحی سے ہے لیکن خلافت جو زمین پر حضرت آدم علیہ السلام  کو عطاکی گئی اس کی بنیاد درحقیقت یہ علم انسانی ہے جس کو یہاں ’’علم الاسما ء‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے : {وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاۗءَ کُلَّھَا} 
حضرت آدم علیہ السلام  کو علم الاسماء عطا کرکے فرشتوں کے سامنے لانے میں بھی کوئی مقابلہ کرانا پیش نظر نہیں تھا‘ صرف یہ حقیقت بتانا مقصود تھا کہ یہ علم جو ہم آدمؑ کو دے رہے ہیں اس کی بنیاد پر یہ خلافت ِ ارضی کا حق دار اور اس کا اہل ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اگرچہ فرشتوں کے پاس بھی علم ہے‘ لیکن ان کا علم صرف اپنے اپنے شعبے تک محدودہے۔ کسی فرشتے کی خدمات جس شعبہ سے وابستہ ہیں اُس کے پاس اسی سے متعلق معلومات ہیں‘ جبکہ حضرت آدم علیہ السلام  کو علم الاسماءکل کا کل دیا گیا۔ اسی اعتبار سے {وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاۗءَ کُلَّھَا} میں لفظ کُل پر زور ہے۔ یعنی وہ علم جو کُلیت کا حامل ہے۔ جسے ابھی وقت لگنا تھا کہ پورے طور پر اُس کا ظہو ر ہو۔ فرشتوں کا علم محدود تھا‘ لہٰذا انہوںنے کہا : {سُبْحٰنَکَ لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا} ’’اے اللہ! تُوپاک ہے‘ ہمیں تو کوئی علم حاصل نہیں ‘ سوائے اُس کے جو علم تُونے ہمیں سکھایا ہے۔‘‘ اس سے زائد ہمارے پاس کوئی علم نہیں ہے۔ 
{اِنَّکَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ(۳۲)}’’یقیناً آپ ہی ہیں جو سب کچھ جاننے والے‘ کامل حکمت والے ہیں۔‘‘ بے شک العلیم اور الحکیم تو صرف آپ کی ذات ہے۔ یہاں حصر کا اسلوب ہے۔ آپ ہی کی ذات ہے جوکل کے کل علم کی مالک ہےاور جس کی حکمت بھی کامل ہے۔ باقی مخلوق میں سے ہر ایک کا علم ناقص ہے۔ 
{قَالَ یٰٓـاٰدَمُ اَنْبِئْھُمْ بِاَسْمَآئِھِمْ ج} ’’اللہ نے فرمایا کہ اے آدم ‘ ان کو بتائو ان چیزوں کے‘نام!‘‘ 
{فَلَمَّـآ اَنْبَاَھُمْ بِاَسْمَآئِھِمْ  لا }’’تو جب اُس نے بتا دیے ان کو اُن سب کے نام‘‘ 
{قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّــکُمْ اِنِّــیْ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لا} ’’تو (اللہ نے) فرمایا: کیا مَیں نے تم سے کہا نہ تھا کہ مَیں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی ہوئی چیزوں کو‘‘ (جو تمہاری نگاہوں سے اوجھل اور مخفی ہیں۔)
{وَاَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا کُنْتُمْ تَـکْتُمُوْنَ(۳۳)}’’اور مَیں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کر رہے تھے اور جو کچھ تم چھپا رہے تھے۔‘‘ 
ان الفاظ سے محسوس ہوتا ہے کہ فرشتوں کی خواہش یہ تھی کہ خلافت ہمیں ملے۔ ہم خدّامِ ادب ہیں‘ ہر وقت تسبیح و تحمید اور تقدیس میں مصروف ہیں‘ جو حکم ملتا ہے بجا لاتے ہیں‘ تو یہ خلافت کسی اور مخلوق کو کیوں دی جا رہی ہے؟ سیاق وسباق سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ کوئی کلمہ ٔملامت بنتا ہےکہ ایک بات تو وہ تھی جو تم نے کہی‘ ایک پہلو اور بھی تھا جو تم نے جی میں رکھا ‘ اُسے ظاہر نہیں کیا۔ اس سے انسان کا ذہن ادھر ہی جاتا ہےکہ فرشتوں کو یہ احساس ہوگا کہ ہم اس خلافت کے اہل ہیں۔ اس کی طرف اللہ تعالیٰ نے صر ف اس اعتبار سے اشارہ کردیاکہ میرے علم میں یہ بھی ہے جو تم نے اپنے جی میں چھپایاہوا تھا۔ البتہ میری طرف سےیہ demonstration ہوجانے کے بعد اب تمہا را وہ سا را اشتباہ یا اشکال رفع ہو جانا چاہیے۔ (جاری ہے)