روح کا سفر اور حالاتِ برزخ
شجاع الدین شیخ‘امیر تنظیم اسلامی
جامع القرآن ‘ قرآن اکیڈمی لاہور میں ۴ ستمبر ۲۰۲۶ء کا خطابِ جمعہ
آج کی نشست میں‘ان شاء اللہ تعالیٰ‘ہم رسول اکرم ﷺ کی ایک خاصی طویل حدیث کا مطالعہ کریں گے۔زندگی کے بدلتے ہوئے حالات اور گزرتے ایام میں انسان پر غفلتیں طاری ہو جاتی ہیں۔ایسے میں قرآن حکیم میں جابجا اور احادیث ِمبارکہ میں متعدد مرتبہ قبر اور برزخ کے حوالے سے‘ جنّت و جہنّم کے ذکر کے حوالے سے ہمیں متوجہ کیاگیاہے۔ اس حدیث مبارک کو مسند احمد میں بھی نقل کیا گیا‘ امام بیہقیؒ اور امام حاکم نے بھی نقل فرمایا‘جبکہ اس کے مختلف حصے احادیث کی دیگر کتب میں بھی شامل ہیں۔اکثر محدثین نے اس حدیث مبارک کو صحیح قرار دیا ہے۔ ہمارے عہد کے مستند محدث شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے بھی اس حدیث کو اپنی کتب میں نقل کیا اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اللہ کےرسول ﷺ کے تعلق سے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث روایت کی گئی ہے۔
عَنِ البراء بن عازب رضي اللّٰه عنه، قال: خرَجْنا معَ رَسُولِ اللّٰهِ ﷺ في جِنازةِ رَجُلٍ مِنَ الأنصارِ، فَانْتَهَينا إلى القَبرِ ولمَّا يُلحَدْ، فجَلسَ رَسُولُ اللّٰهِﷺ وَ جَلَسنا حولَهُ كأنَّما علٰى رُءُوسِنا الطَّيرُ، وَفي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ في الأرضِ، فرَفعَ رَأسَهُ، فقالَ: ((اِسْتَعِيذُوا باللّٰهِ مِنْ عَذابِ القَبرِ)) مَرَّتينِ، أو ثلاثًا۔
’’حضرت برا بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کہ ہم رسول اللہ ﷺکے ساتھ ایک انصاری صحابی کے جنازے میں نکلے۔ جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی۔ رسول اللہﷺ تشریف فرما ہوئے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ارد گرد ا س طرح بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں (یعنی ہم نہایت خاموشی سے اور توجہ سے سن رہے تھے)۔ آپﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے ۔آپﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور دو یا تین مرتبہ فرمایا کہ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو! ‘‘
اس حدیث کی روشنی میں بہت سارے نکات سامنے آتے ہیں‘مثلاً جنازے میں اور تدفین میں شرکت کرنا۔ اس سے ثواب بھی ملتا ہے‘ عبرت بھی حاصل ہوتی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم رسول اللہﷺ کی بات سننے کے لیے ایسے با ادب بیٹھے کہ جیسے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ اللہ کے رسول ﷺکے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کو کرید رہے تھے۔ اس سے بھی بہت سے نکات اخذ کیے گئے ہیں کہ یہ طرزِ عمل غور و فکر میں توجہ حاصل کرنے کے لیے ‘ ذہنی ارتکاز کے حصول کی خاطر ہوتا۔ اسی کیفیت میں اللہ کے رسول ﷺ نے (راوی کہتے ہیں کہ دو یا تین مرتبہ) فرمایا: ((اِسْتَعِيْذُوْا بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ)) ’’قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو۔‘‘ اللہ کے رسولﷺ صرف زبانی تعلیم نہیں دیتے تھے بلکہ عملی راہنمائی بھی فراہم کرتے تھے ۔ہر نماز کے آخر میں جو مسنون دعائیں ہمیں اللہ کے رسول ﷺسے منقول ملتی ہیں‘ ان میں یہ دعا بھی شامل ہے :
((اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ))
’’اے اللہ !میں تیری پناہ میں آنا چاہتا ہوں قبر کے عذاب سے۔‘‘
پھر رسول اللہﷺ نے بندئہ مومن کے انتقال کے بعدکے کچھ حالات کے حوالے سے فرمایا:
((إنَّ العبدَ المُؤمِنَ إذا كان في انقِطاعٍ مِنَ الدُّنيا و إقبالٍ مِنَ الآخرةِ، نزل إليه مَلائكةٌ مِنَ السّماءِ، بِيضُ الوُجوهِ، كانَّ وُجُوهَهم الشّمسُ، معهم كَفَنٌ مِن أكفانِ الجنَّةِ، و حَنُوطٌ مِن حَنُوطِ الجنَّةِ، حتى يجلسوا منه مدَّ البصر، ثُمَّ يَجئُ مَلكُ الموتِ عليه السلام حتى يجلسَ عند رأسِه فيقولُ: أيَّتهُا النفسُ الطيبةُ اخرجي إلَى مَغفِرَةٍ من اللّٰهِ و رِضوانٍ))
’’بے شک جب مؤمن بندہ کے دنیا سے رخصت ہونے اور آخرت کی طرف متوجہ ہونے کا وقت ہوتا ہے تو آسمان سے سفید چہروں والے فرشتے اترتے ہیں۔ان کے چہرے سورج کی طرح چمک دار ہوتے ہیں‘ ان کے پاس جنّت کا کفن اور جنّت کی خوشبو ہوتی ہے۔ یہ( فرشتے کثرت سے آتے ہیں اور) اُس کے پاس حد ِنگاہ تک بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ملک الموت (حضرت عزرائیل) علیہ السلام اُس کے سرہانے بیٹھ کر کہتے ہیں: اے پاکیزہ نفس! اللہ کی بخشش اور اس کی رضا کی طرف نکل۔‘‘
ظاہر پرست اور مادّہ پرست لوگ ان باتوں کو نہیں سمجھیں گے مگر غیب پر ایمان لانے والے انہیں سمجھ سکتے ہیں ۔ میرا اور آپ کا ایمان اسی بات پر قائم ہے: تصدیق بما جاء النبیﷺ۔ ایمان کی ٹیکنیکل تعریف یہ ہے کہ ہر وہ خبر جو رسول اللہﷺ نے عطا فرمائی اس کی تصدیق کی جائے۔ ایک کفن اور خوشبو دنیا والے تیار کرتے ہیں ‘جبکہ اللہ تعالیٰ آسمان سے روشن چہرے والے فرشتوں کو بھیج رہا ہے جن کے پاس جنّت کا کفن اور جنّت کی خوشبو ہوتی ہے ۔ سبحان اللہ! یہ مرنے کے ساتھ ہی بشارت کا معاملہ ہے۔ اس سے آگے بھی بہت کچھ ہے۔ ابھی ساتوں آسمانوں کی سیر بھی اس پاک روح کو میسر آئے گی۔ یہ وہ بندئہ مؤمن ہے جو ایمان کے تقاضوں پر بھی عمل کرے۔ مزید فرمایا:
((فتخرُجُ تَسِيلُ كمَا تَسِيلُ القطرةُ مِنْ فِیِّ السِّقاءِ، فيأخُذُها، فإذا أخَذَها لَمْ يَدَعُوها في يَدِهِ طَرفةَ عَين، حتى يأخُذُوها فيَجْعَلُوها فی ذٰلك الكفن، وفي ذٰلك الحَنُوط، و يَخرُجُ منها كأطْيَبِ نفحةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ علَى وَجْهِ الأرض))
’’تو وہ روح اس طرح آسانی سے باہر نکلتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے پانی کا قطرہ ٹپکتا ہے۔ ملک الموت اسے حاصل کر لیتے ہیں ‘اور جیسے ہی وہ اسے لیتے ہیں‘ دوسرے فرشتے اسے پلک جھپکنے کے برابر وقت کے لیے بھی ان کے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے‘ یہاں تک کہ وہ اسے لے کر جنّت کے کفن اور جنّت کی خوشبو میں رکھ دیتے ہیں۔ اس سے زمین پر پائے جانے والی بہترین مشک جیسی خوشبو مہکنے لگتی ہے۔ ‘‘
البتہ قرآن کریم میں موت کی سختی کا ذکر بھی ہے۔ سورۃ قٓ میں فرمایا:
{وَجَآئَ تْ سَکْرَۃُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ط } (آیت۱۹)
’’اور آگئی موت کی سختی حق کے ساتھ۔‘‘
رسول اللہﷺ نے اپنے آخری لمحات میں فرمایا:
((لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰهُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰهُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰهُ، اِنَّ لِلْمَوتِ سَکَراتٌ، اِنَّ لِلْمَوتِ سَکَراتٌ،اِنَّ لِلْمَوتِ سَکَراتٌ))
’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں‘ یقیناً موت کی سختی ہے ۔‘‘ (بار بار فرمایا)
اللہ کے رسول ﷺدعا فرمایا کرتے تھے:
((اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ ِمنْ سَکَرَاتِ الْمَوْتِ))
’’ اے اللہ ! میں تیری پناہ میں آنا چاہتا ہوں موت کی سختی سے۔‘‘
’’سکراتِ موت‘‘ کی کیفیت سب پر طاری ہوتی ہے۔ البتہ پھر مؤمن کے ساتھ یہ معاملہ بھی ہے جو اس روایت میں نقل کیا جا ر ہا ہے کہ روح اس طرح آسانی سے بہ نکلتی ہے جیسے مشکیزے کے منہ سے پانی کا قطرہ ٹپکتا ہے۔ اس کے آگے ذکر ہے:
((فَيُصْعِدُون بها فلا يَمُرُّونَ علَى مَلأٍ مِنَ الملائكةِ إلَّا قالوا: ما هذا الرُّوحُ الطيِّبُ؟ فيقولون: فُلانُ ابنُ فُلان – بِأحسنِ أسمائِهِ التي كانوا يُسَمُّونه بها في الدُّنيا، حتى ينتهوا بها إلى السّماءِ الدُّنيا، فيَسْتَفْتِحُون لَهُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ، فَيُشِيعُهُ مِنْ كُلِّ سَماءٍ مُقَرَّبُوها إلى السَّماء التي تَلِيها، حتى يَنتهوا بها إلى السَّماء السَّابِعة، فيقولُ اللّٰهُ عزّ وَجَلَّ: اكتُبُوا كِتابَ عَبْدِي في عِلِّیِّینَ، وَ أعِيدُوهُ إلى الأرضِ، فإنِّي مِنها خَلَقْتُهُمْ، وَ فِيها أُعِيدُهم وَ مِنها أُخْرِجُهُمْ تارةً أُخْرٰى))
’’فرشتے اس روح کو لے کر اوپر کی طرف پرواز کرتے ہیں۔ وہ فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرتے ہیں وہ پوچھتے ہیں کہ: یہ کون سی پاکیزہ روح ہے؟ وہ دنیا میں پکارے جانے والے اُس کے بہترین نام کے ساتھ بتاتے ہیں کہ فلاں کا بیٹا فلاں ہے۔ یہاں تک کہ وہ اسے لے کر آسمانِ دنیا ( پہلے آسمان) پر پہنچتے ہیں۔ وہ (اصولوں کے مطابق) دروازہ کھلوانا چاہتے ہیں تو ان کے لیے دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ ہر آسمان کے مقرب فرشتے اگلے آسمان تک اس کی مشایعت میں چلتے ہیں‘یہاں تک کہ وہ اسے لے کر ساتویں آسمان پر پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں اللہ عزوجل فرماتا ہے: ’’میرے اس بندے کا نامہ اعمال علیین میں لکھ دو (عِلِّیِّین کا لفظ سورۃ المطفّفین میں آیا ہے) اور اسے زمین کی طرف واپس لوٹا دو ‘کیونکہ مَیں نے انہیں مٹی ہی سے پیدا کیا‘ اسی میں انہیں لوٹائوں گا اور اسی سے دوبارہ نکالوں گا ۔‘‘
آسمانوں کے دروازے اصولوں کے مطابق کھلتے ہیں‘ ہر ایک کو دروازہ کھلوانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ معراج کا واقعہ ذہن میں رہے۔ اس روح کے لیے بھی دروازہ اصولوں کے مطابق کھلتا ہے۔ اس طرح روح کا یہ سفر آگے سے آگے بڑھتا ہے۔ حدیث کے الفاظ ((فإنِّي مِنها خَلَقْتُهُمْ، وَ فِيها أُعِيدُهم وَ مِنها أُخْرِجُهُمْ تارةً أُخْرٰى)) سے بعض حضرات کو سورۃ طٰہٰ (آیت ۵۵) کے الفاظ یاد آئے ہوں گے۔ زیر مطالعہ حدیث میں آگے فرمایا:
((وَتُعـادُ رُوحُه في جَسَدِهِ، فيأتيهِ مَلَكـان فَيُجْلِسانِـه فيقولان لَهُ: مَن رَبُّكَ؟ فيقول: ربّي اللّٰهُ، فيقولانِ لَهُ: ما دِينُك؟ فيقولُ: دِيني الإسلامُ، فيقولان لَهُ: ما هٰذا الرجلُ الذي بُعِثَ فيكم؟ فيقولُ: هو رسولُ اللّٰه صلى اللّٰه عليه و سلم، فيقولان لَهُ: وما عَمَلُك؟ فيقول؟ قرأتُ كِتابَ اللّٰه، فآمَنْتُ بِهِ، وصَدَّقَتْ، فيُنادي مُنادٍ في السَّماء أنْ صَدقَ عبدي، فأفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وألْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بابًا إلَى الْجَنَّةِ، قال: فَيَأتِيه مِن رُوحِها و طِيبها، ويُفْسَحُ لَهُ في قبرهِ مدَّ بَصَرهِ، قال: ويأتيه رجلٌ حَسَنُ الْوَجه، حَسَنُ الثِّيابِ، طيِّبُ الريحِ، فيقولُ: أبشِر بالذي يَسُرُّكَ، هٰذا يَومُك الذي كُنْتَ تُوعدُ، فيقولُ لَهُ: منْ أنتَ؟ فوجهُك الوجهُ يجئ بالخيرِ، فيقولُ: أنا عَمَلُك الصالِحُ ، فیقول: رَبِّ أقِمِ السَّاعۃ، حتیٰ أرجع إلى أهلي ومالي))
’’چنانچہ اُس کی روح اُس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے۔ پھر اس کے پاس دو فرشتے (منکر نکیر) آتے ہیں اور اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں: تمہارا رب کون ہے؟ وہ جواب دیتا ہے: میرا رب اللہ ہے! پھر پوچھتے ہیں: تمہارا دین کیا ہے؟ وہ جواب دیتا ہے: میرا دین اسلام ہے! پھر اُس سے پوچھتے ہیں: یہ شخص کون ہیں جو تمہارے درمیان مبعوث کیے گئے؟ وہ جواب دیتا ہے: یہ اللہ کے رسولﷺ ہیں۔ (احادیث کی بعض روایات میں یہ ذکر بھی آتا ہے کہ رسول اللہﷺ کا چہرئہ انور پیش کیا جائے گا۔) پھر وہ پوچھتے ہیں: تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ وہ جواب دیتا ہے: مَیں نے اللہ کی کتاب پڑھی‘ اس پر ایمان لایا اور تصدیق کی ۔اس کے بعد آسمان سے ایک ندا دینے والا (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) پکارتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا۔ (اس کے بعد کہا جاتا ہے ) اس کے لیے جنّت کا بچھونا بچھا دو‘ اسے جنّت کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنّت کا ایک دروازہ کھول دو۔ (چنانچہ اس کے لیے یہ دروازہ کھول دیا جاتا ہے) یہاں سے جنّت کی لطیف ہوائیں اور خوشبوئیں اس کے پاس آنے لگتی ہیں اور اس کی قبر کو حد ِنگاہ تک وسیع کر دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک خوب صورت چہرے‘ نفیس لباس اور بہترین خوشبو والا شخص اُس کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ تمہیں اُس چیز کی خوش خبری ہو جو تمہیں خوش کردے۔ یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ مؤمن اس سے پوچھتا ہے: تم کون ہو؟ تمہارا چہرہ تو بھلائی ہی لانے والا معلوم ہوتا ہے۔ وہ جواب دیتا ہے: مَیں تمہارا عمل صالح ہوں۔اس پربندئہ مؤمن پکار اٹھتا ہے:’اے میرے ربّ! قیامت ابھی قائم کر دے‘ تاکہ مَیں اپنے اہل و عیال اور اپنے مال کی طرف لوٹ سکوں۔‘‘
اصل مال اور اہل و عیال جنّت میں ہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ اسے کہا جائے گا : ابھی تو تُو نے یہیں رہنا ہے۔ ابھی یہ برزخ ہی کا معاملہ رہے گا ‘قیامت تو اپنے وقت پر برپا ہوگی۔
روح کے حوالے سے استاد محترم ڈاکٹر اسرار احمدرحمہ اللہ کے دروس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک عالم امر کا معاملہ ہے جبکہ ایک عالم خلق کا معاملہ۔ عالم امر میں فرشتے بھی ہیں ‘وحی بھی ہے اور انسان کی روح بھی ہے۔ عالم امر کے لیے ٹائم فیکٹر زیرو ہے۔ دراصل یہ کسی اور ہی عالم کی سیر ہے جو اس حدیث مبارک میں ہمیں کرائی جا رہی ہے۔
آج ہمیں بہت سارے سوالات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ بہت سارے سٹیٹس
اَپ ڈیٹس ہیں ‘ بہت ساری ہیڈ لائنز ہیں‘ لیکن ان سوالات کا کہیں تذکرہ نہیں ہوتا جو ہم سے قبر میں پوچھے جائیں گے۔ یہ باتیں کہیں ذکر میں نہیں آتیں‘ نہ سیٹلائٹ چینل پر ‘نہ اخبارات کی ہیڈ لائنز میں ‘نہ ہماری گفتگو میں۔ دنیا اگرچہ ایک حقیقت ہے لیکن اصل حقیقت نہیں ہے۔ یہاں پر ہمیشہ نہیں رہنا۔ دُنیا عمل کا موقع ہے جبکہ آخرت نتیجے کا موقع ہے۔ اس آخرت کی تیاری کے لیے ہمیں دنیا میں بھیجا گیاہے۔
متذکرہ بالا سوالات میں سے چوتھا سوال عام طور پر بیان میں نہیں آتاکہ :’’ تم کیسے کہہ رہے ہو کہ یہ اللہ کے رسولﷺ ہیں؟‘‘ بندئہ مؤمن جواب دیتا ہے کہ مَیں نے اللہ کی کتاب پڑھی‘ اس پر ایمان لایا اور تصدیق کی۔ اس بنیاد پر میں جانتا ہوں کہ آپﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ ایک دوسری حدیث ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے پوچھا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ سب سے خوب صورت ایمان کس کاہے؟‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا: فرشتوں کا! حضورﷺ فرماتے ہیں: ’’وہ کیسے ایمان نہ لائیںجبکہ وہ تو اپنے رب کے پاس ہی ہیں!‘‘ وہ تو اللہ تعالیٰ کی تجلیات کا ظہور دیکھ رہے ہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا: انبیاء اور رسل کا ایمان! رسول اکرمﷺ نے فرمایا: ’’وہ کیسے ایمان نہ لاتے‘ ان پر تو اللہ کی وحی نازل ہوتی ہے۔‘‘پھر صحابہؓ نے عرض کیا: حضورﷺ! پھر ہمارا ہوگا۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’تم کیسے ایمان نہ لاتے جبکہ مَیں تمہارے مابین بنفس نفیس موجود ہوں۔‘‘ پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا:
((إِنَّ أَعْجَبَ الْخَلْقِ إِلَيَّ إِيمَانًا لَقَوْمٌ يَكُونُونَ مِنْ بَعْدِي يَجِدُونَ صُحُفًا فِيهَا كِتَابٌ يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا.)) [مشکاۃ المصبیح، کتاب المناقب، ح۶۲۸۸]
’’میرے نزدیک مخلوق میں خوب صورت ترین ایمان ان لوگوں کا ہے جو میرے بعد ہوں گے (ان کو میری صحبت میں سے حصہ نہیں ملے گا)‘ وہ صحیفے پائیں گے‘ ان میں ایک کتاب ہو گی‘ وہ اس میں موجود حقائق پر ایمان لائیں گے۔‘‘
افضل الگ شے ہے‘ یہاں خوب صورت ایمان کی بات ہو رہی ہے۔ بلاشبہ افضل ایمان تو انبیاء ورُسل اور صحابہ کرامؓ ہی کا ہے۔ البتہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا: سب سے خوب صورت ایمان ان کا ہوگا جن کو یہ قرآن ملے گا اور وہ مانیں گے کہ یہ محمدرسول اللہﷺ پر نازل ہوا۔
ایک اور ذرا گہری بات۔ قرآن کریم میں دجال کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ سورۃ الکہف کی تلاوت جمعہ کے دن کرنے کا کہا گیاہے ‘ لیکن اس میں بھی دجال کا ذکر نہیں۔ عالم ِعرب کے ایک عالم دین نے بڑی پیاری بات لکھی کہ جو سنت کی اتھارٹی تسلیم نہیں کرے گا وہ دجال کے فتنے سے بچ ہی نہیں سکتا۔ حدیث میں دجال کو پہچاننے کا طریقہ یہ درج ہے کہ بندئہ مؤمن اپنی ایمانی بصیرت کی روشنی میں دجال کے ماتھے پر ’’ک ف ر‘‘ لکھا ہوا دیکھے گا۔ اگر ایمانی بصیرت کی روشنی میں ایک بندئہ مؤمن دجال کو پہچان سکتا ہے تو کیا وہ اللہ کے رسولﷺ کو نہیں پہچانے گا؟ بعض نومسلم کہتے ہیں کہ جس لمحے ہم نے کلمہ پڑھا‘ ہمیں اپنے اندر کچھ محسوس ہوا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ جیسے سورج کی کرنیں ہر طرف روشنی پھیلاتی ہیں تو حضورﷺ کی ذات وہ سورج ہے جس سے ایمان کی کرنیں ایمان والوں کو ملیں۔ دل میں اگر یہ ایمان ہوگا تو اس کی روشنی میں حضرت محمدﷺ کو ہم پہچانیں گے‘ ان شاء اللہ تعالیٰ!
حدیث مبارک کا ایک حصہ مکمل ہوا جہاں خوش خبری کا پہلو ہے ۔اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو یقین بھی عطا کرے اور کل کی تیاری کی توفیق بھی عطا فرمائے ۔ہم بھی بدلتے حالات میں ذرا ظاہر ہی میں کھو جاتے ہیں جبکہ اصل حقائق کو بھلا دیتے ہیں۔ عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد موت آئے گی‘ یا پھر ۷۰، ۸۰ کی عمر کے بعد آئے گی۔ بچوں کی شادیاں‘ ان کی خوشیاں‘ اُن کے بچوں کی بہاریں دیکھ لوں۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ موت کسی عمر میں بھی آ سکتی ہے۔ تین سانس والا بچہ بھی جاتا ہے ‘ڈیڑھ برس والی بچی بھی جاتی ہے۔ مَیں نے خود بچوں کے جنازے پڑھائے‘ خود اپنے ہاتھوں سے دفن کیے۔ اس حوالے سے کوئی ضمانت (surety) نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو تیاری کی توفیق عطا فرمائے!
حدیث مبارک کے اگلے حصے میں اِنذار (warning)ہے‘ ڈراوا ہے۔ کافروں‘ فاجروں‘ فاسقوں‘ نافرمانوں کے لیے برے انجام کا ذکر ہے۔ رسول اللہﷺ فرماتے ہیں :
((وإنَّ العَبْدَ الكافِرَ إذا كان في انقطاعٍ مِنَ الدُّنيا و إقبالٍ من الآخرةِ، نَزَلَ إليه مِنَ السَّماء مَلائكةٌ سُودُ الوُجُوهِ، مَعَهُم المُسُوحُ، فيجلِسون منه مدَّ البصر، ثم يجئُ ملكُ الموتِ حتى يجلسَ عند رأسِه، فيقولُ: أيَّتُها النَّفسُ الخبيثةُ اخْرُجي إلَى سَخَطٍ مِنَ اللّٰه وَ غَضبٍ، قال: فتفرّقُ في جَسَدِهِ فينتزعُها كَمَا يُنتَزع السُفودُ مِنَ الصُّوفِ المبلولِ، فيأخذها، فإذا أخذها لَمْ يدَعُوها في يَدِهِ طرفةَ عينٍ حتى يجعلُوها في تلك المُسُوحِ، وَ يخْرُجُ منها كرِيحٍ جِيفةٍ وُجِدَتْ علَى وجهِ الأرض، فيصعدُون بها، فلا يمُرُّون بها على ملأ من الملائكةِ إلاّ قالوا: ما هٰذا الرُّوحُ الخبيثُ؟ فيقولون: فلانُ ابنُ فلان – بأقبحِ أسمائِـه التي كان يُسَمَّى بها في الدُّنيـا، حتى يُنتهى بها إلى السَّماءِ الدُّنيا، فيُستَفتح له، فلا يُفتحُ له)) ثم قَرَأَ رَسُولُ اللّٰهِ ﷺ: {لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ}
’’ جب کافر (یا فاجر) بندہ دنیا سے رخصت ہونے اور آخرت کی طرف متوجہ ہونے کے قریب ہوتا ہے تو آسمان سے سیاہ چہروں والے فرشتے اترتے ہیں ‘جن کے پاس ٹاٹ ہوتا ہے۔ وہ اس شخص کے پاس حد ِنگاہ تک بیٹھ جاتے ہیں۔ پھر ملک الموت تشریف لاتے ہیں اور اس کے سرہانے بیٹھ کر کہتے ہیں: اے خبیث نفس! اللہ کے غضب اور اُس کی ناراضگی کی طرف نکل۔ تو وہ روح اس کے پورے جسم میں پھیل جاتی ہے۔ چنانچہ وہ اسے یوں کھینچ کر نکالتے ہیں جیسے گیلے اون سے لوہے کی کثیر شاخوں والی سیخ کھینچی جاتی ہے۔ (روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اس سے رگیں اور پٹھے کٹ جاتے ہیں۔) جب وہ فرشتے اس (روح) کو حاصل کرتے ہیں تو پلک جھپکنے کے برابر وقت بھی اسے ہاتھ میں نہیں رہنے دیتے اور فوراً اس ٹاٹ میں لپیٹ دیتے ہیں۔ اس سے زمین پر پائی جانے والی بدترین مخلوق جیسی تعفن آمیز بدبو نکلنے لگتی ہے۔ فرشتے اسے لے کر اوپر چڑھتے ہیں اور فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے گزرتے ہیں‘ وہ پوچھتے ہیں :یہ کون سی ناپاک روح ہے؟ فرشتے دُنیا میں پکارے جانے والے اس کے بدترین نام کے ساتھ بتاتے ہیں کہ فلاں کا بیٹا فلاں ہے۔ جب وہ اسے لے کر آسمانِ دنیا تک پہنچتے ہیں اور پہلا دروازہ کھلوانا چاہتے ہیں تو اُس کے لیے دروازہ نہیں کھولا جاتا۔ پھر رسول اللہﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
{ لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ} ( الاعراف :۴۰ )
’’اُن کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنّت میں داخل ہوں گے ‘یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے۔ ‘‘
جیسے یہ ظاہری طور پر ممکن نہیں‘ ایسے ہی ان لوگوں کا جنّت میں داخلہ بھی ممکن نہیں۔ حدیث مبارک کے اگلے الفاظ ہیں:
((فيقولُ اللّٰهُ عزّ و جلّ: اكتُبُوا كِتابَهُ في سِجِّين، في الأرض السُّفلَى، فتُطْرَحُ رُوحُه مِنَ السَّماء طَرًحًا حتى تقعَ في جسدِه، ثم قرأ:{وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآئِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَہْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ(۳۱)} ثم قال: فتُعادُ رُوحُه في جسدهِ، ويأتيه ملكانِ و يُجلسانهِ، فيقوُلانِ لَهُ: مَنْ ربُّك؟ فيقول: هاه هاه لا أدري، فيقُولان لَهُ: ما دينُك؟ فيقولُ: هاه هاه لا أدري، فيقولانِ لَهُ: ما هٰذا الرَّجُلُ الذي بُعِثَ فيكم؟ فيقولُ: هاه هاه لا أدري))
’’پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال سجین میں لکھ دو یعنی زمین کے سب سے نچلے حصے میں۔ (سِجِّین کا لفظ بھی سورۃ المطفّفین میں آیا ہے۔) پھر اس کی روح کو اُوپر ہی سے پٹخ دیا جاتا ہے۔ پھر آپ ﷺنے آیت تلاوت فرمائی:
{وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللہِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآئِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَہْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ(۳۱) }(الحج)
’’اور جس نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا تو وہ گویا آسمان سے گر گیا ‘پھر اسے پرندے اچک لیں یا ہوا اسے کسی دُور دراز جگہ پھینک دے۔‘‘
پھر اُس کی روح جسم میں دوبارہ لوٹائی جاتی ہے ۔پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں: تمہارا ربّ کون ہے؟ وہ کہتا ہے: ہائے ہائے میری خرابی‘ میری تباہی‘ میری بربادی ۔ ہائے ہائے میں نہیں جانتا۔‘‘ دوسرا سوال: ’’تمہارا دین کیا ہے؟‘‘وہ کہتا ہے :’’ہائے ہائے میں نہیں جانتا۔‘‘ تیسرا سوال :’’یہ شخص کون ہیں جو تمہارے درمیان مبعوث کیے گئے تھے ؟‘‘ وہ کہتا ہے:’’ ہائے ہائے میں نہیں جانتا۔‘‘
اس کے بعد حدیث کا اگلا حصہ ہے:
((فيُنادِي مُنادٍ مِنَ السَّماءِ أنْ: كذَبَ، فَأفْرِشُوا لَهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوا لَهُ بابًا إلى النَّارِ، فيأتيهِ مِنْ حَرِّها وَ سمُومِها، وَيُضَيَّقُ عليه قبرهُ حتى تختلفَ فيه أضْلاعُهُ، و يأتيهِ رجلٌ قبيحُ الوجهِ، قبيحُ الثياب، مُنتِنُ الرِّيحِ، فيقولُ: أبشِرْ بِالَّذِي يَسُوؤك، هٰذا يَوْمُك الذين كُنتَ تُوعَدُ، فيقولُ: مَنْ أنتَ؟ فوجهُك الوَجْهُ يجئ بِالشَّرِّ! فيقولُ: أنا عَمَلُكَ الخبيثُ، فيقول: رَبِّ لا تُقِمِ السَّاعَةَ))
’’تب آسمان سے ایک ندا دینے والا پکارتا ہے: اس نے جھوٹ کہا ‘پس اس کے لیے آگ کا بچھونا بچھا دو‘ اسے آگ کا لباس پہنا دو اور اس کے لیے جہنّم کی طرف کا ایک دروازہ کھول دو۔ چنانچہ اس دروازے سے جہنّم کی لو اور گرم ہوا اُس کے پاس آنے لگتی ہے ۔ اُس کی قبر اُس پر اس طرح تنگ کر دی جاتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں۔ (استغفراللہ! اس کے ساتھ یہ کام بار بار ہوتا ہے ۔ ) پھر اُس کے پاس ایک انتہائی بدصورت چہرے‘ قبیح لباس اور انتہا درجے کی بدبو والا شخص آکر کہتا ہے: ’’تمہیں اس چیز کی بشارت ہو جو تمہیں غم ناک اور پریشان کر دے۔ یہی وہ دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ پوچھتا ہے: تم کون ہو؟ تمہارا چہرہ تو برائی ہی لانے والا معلوم ہوتا ہے۔ وہ جواب دیتا ہے: میں تمہارا خبیث عمل ہوں۔ پس وہ کہتا ہے: اے ربّ! قیامت قائم نہ کرنا۔‘‘
ابھی تو عذاب ِقبر ہے جس کو دیکھ کے ہوش ٹھکانے آگئے۔
اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
’’اے اللہ! ہم تیری پناہ میں آنا چاہتے ہیں قبر کے عذاب سے۔‘‘
دیگر روایات میں اس کے تسلسل میں ایک اور حصہ بھی ہے۔ یہ شخص جو برے چہرے کے ساتھ آیا (یعنی اُس کا عمل) اس کو کہتا ہے: ’’اللہ کی قسم! میں تمہیں ہمیشہ اللہ کی فرماں برداری میں سست اور اس کی نافرمانی میں تیز پاتا تھا۔ پس اللہ تمہیں برا بدلہ دے۔ (لوگ کہتے ہیں کہ مولوی ڈراتے ہیں ‘سنیے اللہ کے رسول ﷺکیا ڈرا رہے ہیں!) پھر اس پر ایک ایسا فرشتہ مسلط کر دیا جاتا ہے جو اندھا ‘ بہرا اور گونگا ہو تا ہے (نہ سنتا ہے نہ دیکھتا ہے)۔ اُس کے پاس لوہے کا ایک ہتھوڑا ہوتا ہے کہ اگر اس سے کسی پہاڑ پر ضرب لگائی جائے تو مٹی مٹی ہو جائے۔ وہ اسے ایک ضرب لگا تا ہے جس سے وہ مٹی ہو جاتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے پہلی حالت میں بحال فرما دیتا ہے اور وہ اسے دوبارہ ضرب لگاتا ہے ۔اس پر وہ اتنی تیز آواز سے چیختا ہے کہ انسان و جِنّات کے علاوہ مشرق و مغرب کے درمیان کی ہر مخلوق اس کی چیخ سنتی ہے۔ چنانچہ اس کے لیے آگ کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور آگ کا بستر بچھا دیا جاتا ہے۔ اس حدیث میں قبر کے عذاب‘ برزخ کے عذاب اور ہتھوڑوں کا ذکر ہے ۔ سورۃ الحج کی آیات ۱۹ تا ۲۲ میں بھی جہنّم کے ہتھوڑوں کا ذکر ہے۔ایک دفعہ معاملہ ختم نہیں ہوگا بلکہ دوبارہ بحال کیا جائے گا اور مستقل عذاب ملے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قبر و جہنّم کے عذاب سے محفوظ رکھے!
کبھی تنہائی میں سوچیں کہ ہمیں قبر کی کتنی فکر ہے! قبر کی سختی سے بچنے کی کس قدر فکر ہے ؟ جنّت کے حصول کے لیے ہم کس قد ر فکر مند ہیں؟ جہنّم سے بچنے کے لیےہم کس قدر فکر مند ہیں؟ میری اور آپ کی ٹینشن میں یہ فکر شامل ہے کہ ہم قبر کے عذاب سے بچ جائیں؟ ہمیں تو بس اپنی تنخواہ کی فکر ہوتی ہے ‘ کاروبار میں منافع کی فکر ہوتی ہے ‘ سرمایہ کاری کی فکر ہوتی ہے ۔ اس بارے میں ہم ذرا بھی متردّد نہیں ہیں کہ قبر کے عذاب سے بچ جائیں‘ جہنّم کے عذاب سے بچ جائیں‘ جنّت ہمیں مل جائے ‘اللہ کی رضا ہمیں مل جائے‘ اللہ کا دیدار ہمیں حاصل ہو جائے ۔یہ حقیقت میں ہمارے سب سے بڑے مسئلے ہیں۔ یہ سب سے بڑے حالات ہیں جو پیش آنے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ’’لوگو تم آج سو رہےہو ‘جب موت آئے گی تب تم جاگوگے۔‘‘
That would be the begining of time, not the end of time.
آج جمعہ کا دن ہے ‘مبارک موقع بھی ہے۔ تنہائی میں بیٹھ کر سوچیے گا: کیا آپ مرنے کو تیار ہیں ؟ آپ کے تیار نہ ہونے سے کیا عزرائیل ؑرک جائیں گے۔اللہ تعالیٰ کسی کے اجل کو موخر نہیں کرتا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللہُ نَفْسًا اِذَا جَآئَ اَجَلُہَاط} (المنٰفقون:۱۱)
’’اور اللہ ہرگز مہلت نہیں دے گا ‘ کسی جان کو جب اُس کا وقت معیّن آ پہنچے گا۔‘‘
کیا ہم تیار ہیں مرنے کو ؟قبر کا عذاب ہمیں رلاتا ہے ؟ایک دن میری اور آپ کی ماں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رورہی تھیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے پوچھا: ’’عائشہ کیوں روتی ہو؟‘‘ کہنے لگیں: ’’جہنّم کے عذاب نے مجھے رلا دیا ۔‘‘ اُمّ المؤمنین کو اس پر کبھی رونا نہیں آیا کہ ایک ہی جوڑے میں گزارا ہوتا تھا‘ گھر چھوٹا تھا‘ دو دو مہینے چولہا نہیں جلتا تھا۔
{وَلْـتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍج } (الحشر:۱۸)
’’چاہیے کہ تم میں سے ہر ایک دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا تیاری کی ہے۔ ‘‘
آج جب کہ مہلت ہے ‘ اللہ تعالیٰ ہمیں کل کی تیاری کی توفیق عطا فرمائے!
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ ربِّ العالمین!!