مشرقِ وسطیٰ کی پھیلتی جنگ اورہمارے مسائل
ایوب بیگ مرزا
عالمی جنگجو ہرگزرتے ہوئے دن کے ساتھ اس دنیا کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں اور یہ عمل اب اتنی تیز رفتاری سے جاری ہے کہ نئے نئے محاذ کھل رہے ہیں۔ جغرافیائی لحاظ سے جنگ اب مشرقِ وسطیٰ کی حدود پھلانگتی نظر آرہی ہے۔ پھر یہ کہ اسلحہ اور بارود تو ۲۸فروری۲۰۲۶ء سے ہی اس میں جھونکا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے تیل کا بحران پیدا ہوا تو عالمی اقتصادی اور مالیاتی معاملات بھی متاثر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ اب تک یہ دنیا کی اقتصادیات کو بالواسطہ متاثر کر رہی تھی۔امریکہ کی طرف سے ایران پر وسیع اور سخت ترین پابندیاں عائد کرنے سے اب اقتصادی طور پر دنیا اس سے براہ راست اور بلاواسطہ متاثر ہو رہی ہے۔گویا تیر و تفنگ کے ساتھ تجوریوں کو بھی سیاسی اور عسکری طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے۔ لہٰذا اب صرف مشرق وسطیٰ یا ایشیا کے لوگ ہی نہیں بلکہ دنیا کا ہر ملک اور ہر شہری اس جنگ سے متاثر ہوگا۔ مثال کے طور پر چین دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جو کسی صورت میں جنگ کی چنگاری کو اپنے دامن پر گرنے نہیں دیتا‘لیکن ایران پر اتنی سخت اقتصادی پابندیاں عائد ہونے پر وہ بھی چیخ اُٹھا ہے۔گویا اب دنیا میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میرا اس جنگ سے کیا تعلق !کوئی بلاواسطہ ملوث ہے اور کوئی بالواسطہ متاثر ہے۔
۲۸ فروری کو اس جنگ کا آغاز ہوا تو عاجز نے عرض کیا تھا کہ یہ ایک طویل اور تھکا دینے والی جنگ ہوگی ‘ تاہم خیال یہی تھا کہ بہرحال ایک محدود جنگ ہوگی‘ لیکن اب یہ جنگ خوف ناک حد تک پھیلتی نظر آتی ہے۔ اللہ نہ کرے کہ یہ عالمی جنگ بن جائے!حقیقت یہ ہےکہ امریکہ نے یہ جنگ اسرائیل کے ایماء‘ترغیب بلکہ دباؤ پر شروع کی تھی۔ یہ کوئی اندازہ یا تبصرہ نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا اب امریکی بھی برملا اعتراف کر رہے ہیں۔ بہرحال اب امریکہ اپنی چودھراہٹ سمیت اس میں بری طرح پھنس چکا ہے۔ یعنی یہ جنگ امریکہ کے لیے ایسی دلدل بن گئی ہے کہ جتنا زیادہ وہ اس میں سے نکلنے کی کوشش کرتا ہے اتناہی پھنستا چلا جا رہا ہے۔یہ اسرائیل کی چال کا کمال ہے یاپھر امریکہ کی اس آوارگی کا نتیجہ جو وہ سپر پاور بنتے ہی کرتا چلا آ رہا ہے۔خاص طور پر سوویت یونین کو کامیابی سے شکست و ریخت سے دوچار کرنے کے بعد اس نے دنیا میں اپنی قوت کے اظہار کا طوفان برپا کر رکھا تھا۔ مثال کے طور پر چند ماہ پہلے وینزویلا کے صدر کو گرفتار کر کے اپنے ملک میں قید کر دینادہشت گردی جیسا ایک عمل تھا جو بلاجھجھک کیا گیا۔اسرائیل دنیا کا واحد ملک ہے جویہ سمجھتا ہے کہ جنگ کا زیادہ سے زیادہ پھیلائو اس کے مفاد میں ہے‘اس لیے کہ اسے اپنی سرحدوں کو وسیع کرنا ہے جو ظاہر ہے پُرامن طریقے سے تو ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جغرافیائی حدود کو تو صرف تلوار کے زور پر بڑھایا جاتا رہا ہے اور بڑھایا جا سکے گا۔ کون آسانی سے یا مذاکرات کے ذریعے اپنی حدود میں داخل ہونے دیتا ہے!لہٰذا گزشتہ چھ ماہ میں اس نے جنگ بندی کے حوالے سےہر قسم کے مذاکرات کو سبوتاژ کیاتاکہ گریٹر اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار ہوسکے۔ علاوہ ازیں جب ایران کی طرف سے خلیج میں امریکی اڈوں پر حملے رکتے یا کم ہوتے تو اسرائیل یہ کمی پوری کر دیتاجبکہ الزام ایران پر آ جاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے ایک ہدف طے کیا ہوا ہےجس کی طرف بڑھتے ہوئے وہ نہ کسی عالمی قانون کی پروا کرتا ہے‘ نہ حلیف اور حریف میں فرق رکھتا ہے۔ ایک پختہ رائے یہ ہے کہ ایران کو ملیامیٹ کرنے کے لیے اسرائیل امریکہ کواستعمال کرے گا‘پھر امریکہ سے نمٹے گا‘ اس لیے کہ اسے عالمی قوت کے مرکز کو واشنگٹن سے تل ابیب یا یروشلم منتقل کرنا ہے۔ گویا اسے جنگ کو نہ صرف جاری رکھنا ہےبلکہ پھیلانا بھی ہےتاکہ ایک فریق تباہ وبرباد ہو اور دوسرا فریق کمزور پڑے۔ راقم نہیں جانتا کہ وہ ایسا کر سکے گا یا نہیں! گریٹر اسرائیل کا قیام جو اسرائیل کا اصل ہدف ہے‘ وہ اسے چھپاتا نہیں ۔ شنید یہ ہے کہ اسرائیل کی پارلیمنٹ کی عمارت کے ماتھے پر یہ تحریر کندہ ہے: ’’اسرائیل! تیری سرحدیں دجلہ اور فرات تک ہیں۔‘‘ یہودی اس کاتاریخی بیک گراؤنڈیہ بتاتے ہیں کہ انہیں ماضی بعید میں ان علاقوں سے بزور قوت نکالا گیاتھا۔جو صورتِ حال پیدا ہوچکی ہےاس کی روشنی میںوہ گریٹر اسرائیل کا ہدف حاصل کرتا ضرور نظر آرہا ہے۔ جنگ کی موجودہ صورت حال دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ صہیونیوں کی خواہشات حقیقت کا روپ دھار رہی ہیں۔دوسری طرف مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ باہم گتھم گتھا ہیں بلکہ اب تو ان کے درمیان گھمسان کا رَن پڑ چکا ہے۔ یمن کی تنظیم ’’انصار اللہ‘‘ کوحوثی کہا جاتا ہے‘جس کے بارے میں یہ رائے ہے کہ وہ ایران کی پراکسی ہے یا کم از کم اتحادی ہے‘ اس نے سعودی عرب پر حملہ کر کےوہاںبہت سے باشندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔ جواب میں سعودی فضائیہ نے حوثیوں کے اڈوں پر شدید بمباری کی ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ ایران جنگ نے رخ بدل لیا ہے ۔ یہ مسلمان دشمن عناصر کی عیاری جبکہ مسلمانوں کی انا پرستی اور حماقت کا نتیجہ ہے کہ مسلمان باہم خون ریزی پر اتر آئے ہیں۔جنگ کی صورت حال سمجھنے اور علاقے میں حالات کیا رخ اختیار کر رہے ہیں اس کا جائزہ لینے کے لیے یمن میں حکومت اور باغیوں کے درمیان معاملات کو سمجھنا ہوگا۔ دیکھنا ہوگا کہ مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔
یمن میں قائم حکومت کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے جبکہ باغیوں کو ایران کی پشت پناہی۔ چھوٹی بڑی جھڑپیں ایک عرصے سے جاری ہیں‘لیکن سعودی عرب کا حوثیوں پر فضائی حملہ یہ فریقین کے درمیان اب تک کی شدید ترین جنگ ہے۔اس لڑائی سے پہلے یمن میں کون سے علاقے پرحکومت اور کون سے علاقوں پر باغیوں کا کنٹرول تھا‘اس کی وضاحت سے ہم دیکھیں گے کہ جنگ کے نتیجے میں کون آگے بڑھ رہا ہے اور کون پسپا ہو رہا ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ بین الاقوامی سطح پر یمن کی حکومت کو تسلیم کیا جاتا ہے لیکن حقیقت میں اس کا کنٹرول ملک کے جنوبی اور مشرقی حصوں کے چند اہم علاقوں پر ہے۔ حکومت کا دارالحکومت عدن ہے اور یہی انتظامی مرکز ہے۔ جنوبی علاقہ میں حکومتی فورسز اور اتحادی موجود ہیں۔ صوبہ مارب میں تیل اور گیس کے ذخائر ہیں‘ یہ بھی حکومت کے زیر اثر ہیں۔ صوبہ شبو اور حضرموت یمن کے مشرقی اور وسطی اضلاع ہیں جہاں حکومتی اثر و رسوخ ہے۔علاوہ ازیں لمج‘ ابین اور المیرہ کے اضلاع بھی حکومتی کنٹرول میں ہیں۔’’انصار اللہ‘‘ زیادہ تر ملک کے شمالی‘ مغربی اور وسطی پہاڑی علاقوں پر قابض ہیں۔ صنعاء دارالحکومت اور انتظامی و سیاسی مرکز ہے۔ باغیوں کے زیر کنٹرول الحدیدہ بحیرۂ احمر پر واقع انتہائی اہم ساحلی اور بندرگاہی شہر ہے۔ گنجان آباد وسطی صوبہ پر بھی اب حوثیوں کو کنٹرول حاصل ہے۔ حوثی انتظامیہ ان علاقوں پر کنٹرول رکھنے کی وجہ سے یمن کی غالب آبادی اور بحیرۂ احمر کی ساری پٹی کے اہم حصوں پر عمل داری رکھتی ہے۔صورتِ حال میں ایک حیران کن تبدیلی یہ آئی ہےکہ حوثیوں کی کارکردگی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔یمن میں سرکاری حکام نے اعتراف کیا ہے کہ حوثیوں نے باب المندب کے یمنی حصے پر قبضہ کر لیا ہے جو بحیرۂ احمر اور نہر سویز کا جنوبی دروازہ ہے۔ حکومتی سطح پر یہ بھی اعتراف کیا گیا ہے کہ مغربی ساحل پر جو کچھ بھی ان کے کنٹرول میں تھا وہ ہاتھ سے نکل چکا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ باب المندب پر حوثیوں کامکمل کنٹرول نہیں ہوا‘ البتہ وہ اس طرف برابر بڑھ رہے ہیں۔ادھر غیر متوقع طور پر سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر عراق سے حملہ ہوا ہے جس سے پائپ لائن کو شدید نقصان پہنچا اور وہاں سے تیل کی سپلائی بند ہو گئی ہے۔ عراق کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں حکومت امریکہ کی مسلط شدہ ہے لیکن بہت سے عوام اور غیر ریاستی عناصر کو ایران کی حمایت حاصل ہے ۔ عراق کی حکومت نے اس پر ایکشن لیا اور اپنے ایک اعلیٰ فوجی عہدے دار کو معطل کر دیا ہے۔ اگر حوثیوں کو باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے تو سعودی عرب کے لیے سنگین مسائل پیدا ہو جائیں گے۔
اب یہاں سمجھنے والی بات یہ ہے کہ حوثی یکدم اتنے برق رفتار کیسے ہو گئے!حقیقت یہ ہے کہ سیاست اور اس کی بنیاد پر عسکریت اتنی ظالم شے ہے کہ مفادات حاصل کرنے کے لیے دشمنوں کی بھی مدد کی جاتی ہے۔ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ اسرائیل نے اس حوالے سے حوثیوں کی مدد کی ہے‘حالانکہ وہ اس کے دشمن ایران کے اتحادی ہیں۔ یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ اسرائیل اتنا بڑا قدم امریکہ کی رضامندی کے بغیر نہیں اٹھا سکتا۔یہی وجہ ہے کہ جب ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ٹرمپ کو ایک دن میں دو مرتبہ رابطہ کیا اور حوثیوں کے خلاف مدد کے لیے پکاراتوانہوں نے صاف انکار کر دیا۔حوثیوں کی مدد کرنا اسرائیل کا ایک بہت بڑا ٹریپ ہے جو اُس نے پاکستان اور شاید ترکیہ کو بھی پھانسنے کے لیے بچھایا ہے۔ وہ یوں کہ جب حوثیوں کو اتنی زیادہ قوت و پشت پناہی فراہم کر دی جائے گی تو وہ نہ صرف یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت کو پچھاڑنے میں کامیاب ہو جائیں گےبلکہ سعودی عرب پر بھی حملہ آور ہوں گے۔ لہٰذا وہ سعودی عرب پر مسلسل حملے کر رہے ہیں۔ اگر حوثی باب المندب پر مکمل قبضہ کر لیتے ہیں تو سعودی عرب کی تیل کی برآمد کے دونوں ذرائع ( آبنائے ہرمز اور باب المندب)بند ہو جائیں گے۔ حوثیوں نے یہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ ہماری دشمنی صرف ایک ملک یعنی سعودی عرب سے ہے۔ اگر سعودی عرب کے تیل کی برآمد بند ہو گئی تو ان کے پاس صحرا کے سوا کچھ نہ رہے گا۔آگے بڑھنے سے پہلے یہ عرض کر دوں کہ سعودی عرب ایک ہمالیائی غلطی کر چکا ہے‘ وہ یہ کہ حوثیوں کا ایک وفد خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کر کے واپس آیا تو صنعاء کے ہوائی اڈے پر سعودی عرب نے بمباری کر دی۔ حوثیوں کا وفد بچ گیا لیکن حوثیوں نے اعلان کیا کہ وہ اس کا بدلہ لیں گے ۔ حوثی اس حملہ کی وجہ سے بڑے مشتعل ہوئے اور اب وہ پوری قوت سے حملہ آور ہوئے ہیں۔
ابھی تک کی اطلاعات کے مطابق سعودی عرب خود ہی حوثیوں کے حملوں سے نمٹ رہا تھا‘ صرف صدر ٹرمپ سے مدد مانگی گئی تھی جس نے صاف انکار کر دیا۔ اگر سعودی عرب کو محسوس ہوا کہ اقتصادی لحاظ سے اس کی گردن حوثیوں نے دبوچ لی ہے اور وہ اپنے بازوؤں پر یہ قبضہ نہیں چھڑوا سکتا‘ تو پھر وہ’’ مکہ دفاعی معاہدے ‘‘کے حلیفوں یعنی پاکستان اور ترکی کو پکارے گا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ راقم نے ان سطور میں اس معاہدے کو پاکستان کے مفاد کے خلاف قرار دیا تھا‘ لیکن جوشیلے لوگوں نے اس مخالفت کو کفر کے مترادف قرار دیا تھا۔ راقم نے اس وقت بھی عرض کیا تھا کہ یہ پاکستان کو اس جنگ میں ملوث کرنے کی ایک سازش ہے۔ اب جو صورتِ حال سامنے آرہی ہے‘ اس کے مطابق اگر ہم سعودی عرب کی پکار پر لبیک نہیں کہتے تو وہ ناراض ہوجائے گا۔ سعودی عرب کا پاکستان سے ناراض ہوناکسی عام ملک کا ناراض ہونا نہیں ہے۔ ہماری دال روٹی سعودیہ کی مدد سے ہی چل رہی ہے۔ اُس نے ہمارے خزانے میں آٹھ ارب ڈالر رکھوائے ہوئے ہیں تاکہ پاکستان اقتصادی طور پر اپنے آپ کو گھسیٹتا چلا جائے۔ خزانے میں اتنی رقم کا ہونا آئی ایم ایف کی شرط بھی ہے۔ اگر سعودی عرب ناراض ہو کر یہ رقم نکال لے تو ہمارا کیا بنے گا! دوسری طرف اگر ہم جذباتی فیصلے کرتے ہوئے سعودی عرب کی پکار پر حوثیوں کے خلاف میدان جنگ میں کود پڑتے ہیں تو اس کے نقصانات سوچ کر بھی راقم لرز اٹھتا ہے۔ ایک طرف ایران ہے‘ جو مسلمان ہونے کے ساتھ ہمارا ہمسایہ بھی ہے۔ پہلے ہی صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں ہمیں چین نہیں لینے دے رہیں۔ ایران کے اتحادیوں سے جنگ کی صورت میں وہ بلوچستان میں کیا کچھ نہیں کر سکے گا۔ اس سے بڑی اور اہم تر بات یہ ہے کہ پاکستان میں اہل ِتشیع بہت بڑی تعداد میں ہیں‘ جن کی ایران کے ساتھ زبردست ہمدردیاں ہیں۔ ہمارے سِول اور ریاستی اداروں میں بھی اہل تشیع کی ایک بڑی تعداد اہم پوسٹوں پر موجود ہے۔لہٰذا ریاست کو ایک اور بڑے مسئلہ کا سامنا ہو گا۔
اس بگڑنے والی صورتِ حال کو پاکستان کیسے سنبھالے گا؟ دشمن کو اس ساری صورتِ حال کا اندازہ تھا‘ اسی لیے صدر ٹرمپ نے دفاعی معاہدے پر خوشی کا اظہار کیا تھا کہ ٹریپ کامیاب رہا ہے۔ ترکیہ کو بہت سی وجوہات کی بنا پر لڑائی کا رخ بدلنے یعنی سعودی عرب اور حوثیوں کے یوں آمنے سامنے آنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ ایک تو وہاں اتنی بڑی تعداد میں اہل ِتشیع نہیں ہیں‘ نہ حکومت اور ریاستی اداروں میں ان کا اتنا اثر و رسوخ ہے‘ نہ سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات اتنے مثالی تھے‘ نہ مالی معاملات میں وہ سعودی عرب کے اتنے محتاج ہیں‘ وغیرہ وغیرہ۔ البتہ پاکستان کے لیے معاملہ انتہائی خطرناک ہو چکا ہے۔ اپنی اقتصادی صورت حال کی وجہ سے وہ نہ سعودی عرب کو ناراض کر سکتا ہے اور نہ اپنے ہمسائے ایران کو‘ جو عسکری طور پر بھی علاقے میں ایک زبردست قوت کی حیثیت سے ابھرا ہے۔ ایسے میں ہم کسی طرح بھی جنگ سے پہلو تہی نہیں کر سکیں گے۔ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے کہ پاکستان کو جال میں پھنسانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی اور اس کا موجودہ صورتِ حال سے کیا تعلق ہے‘ تاریخ کے کچھ اوراق پلٹنے پڑیں گے۔
۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ میں عربوں کو مکمل شکست ہوئی اور اسرائیل فتح یاب ہوا۔ اسرائیل نے عربوں کے بہت سے علاقے ہتھیا لیے۔ جمال عبدالناصر جو خود اپنے اور مصریوں کے بارے میں بڑے تکبر سے کہتا تھا:We are the sons of Firaun۔ گویا وہ بدبخت اپنا تعلق اللہ کے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دشمن فرعون کے ساتھ بڑے فخر سے جوڑتا تھا‘ بری طرح شکست کھا گیا۔ دکھاوے کے لیے صدارت سے ایک نمائشی استعفاء دے دیا جو جلد واپس بھی لے لیا۔ اسرائیل نے اس فتح کا جشن فرانس کے شہر پیرس میں بڑے زوردار انداز میں منایا۔ اس تقریب میں اسرائیلی وزیراعظم بن گوریان کی تقریر ظاہر کرتی ہے کہ اسرائیل پاکستان کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہے۔ اس نے کہا کہ ان عربوں کو شکست دینا توکوئی مسئلہ نہیں‘ ہمارے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہیں‘ ہمارا اصل دشمن اور اصل مقابلہ پاکستان سے ہوگا۔یاد رہے کہ اُس وقت تک پاکستان نے ایٹمی صلاحیت بھی حاصل نہیں کی تھی‘ لیکن پاکستانی فوج کے پیشہ ورانہ معیار اور اس کے جوانوں کی بے پناہ بہادری کو وہ اچھی طرح جانتا تھا۔ اب اللہ کی مدد اور رحمت سے پاکستان ایک ایٹمی قوت بن چکا ہے‘ تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسرائیل موجودہ جنگ کا دائرہ وسیع کر کے پاکستان کو کیوں ملوث کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ اسرائیل حوثیوں کی مدد کر کے اور ان سے سعودی عرب پر حملے کروا کر پاکستان کو جنگ میں گھسیٹ لینا چاہتا ہے۔ اسی لیے مکہ دفاعی معاہدے پر امریکہ نے خوشی کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان خواہی نخواہی اس جنگ میں ملوث ہوگااور ہم اس کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ آور ہو سکیں گے۔ اگرچہ اللہ کی ذات بچانے والی ہے‘ اس نے اگر ناموافق حالات میں پاکستان کو ایٹمی قوت بنا دیا تھا تو وہ اس کو بچا لینے کی بھی قدرت رکھتا ہے‘ لیکن ہم کو سوچ سمجھ کر صرف قومی اور اُمّت ِ مسلمہ کے مفاد میں پالیسی بنانا چاہیے۔ صرف جذبات اور ڈالروں کے لالچ میں کسی معاہدے میں خود کو جکڑ لینا دانش مندی نہیں ہے۔
ظاہری طور پر مکہ دفاعی معاہدے کے مطابق تو پاکستان اور ترکیہ کو آگے بڑھ کر حوثیوں پر حملہ آور ہونا چاہیے‘ اور یہ شاید سعودی عرب کی خواہش بھی ہو۔البتہ پاکستان حوثیوں کے حملوں کی مذمت کر رہا ہے اور اس حوالے سے وزارتِ خارجہ کے ترجمان ہی نہیں ‘خود وزیراعظم بھی حوثیوں کو تنبیہہ جاری کر چکے ہیں لیکن حوثیوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے جب زیادہ چرچا ہوا اور حکومت سے پوچھا گیا تووزارتِ خارجہ کے ترجمان نے باقاعدہ وضاحت کی کہ مکہ دفاعی معاہدہ ریاست کا ریاست کے ساتھ معاہدہ ہے‘اگر غیر ریاستی عناصر معاہدے کے کسی فریق سے جنگ کریں گے تو دوسرے ممالک ملوث نہیں ہوں گے۔ جیسے پاکستان ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے غیر ریاستی عناصر سے خود جنگ کر رہا ہے اور معاہدے کے کسی دوسرے ملک سے مدد کا طالب نہیں‘ اسی طرح حوثی غیر ریاستی عناصر ہیں جن سے سعودی عرب خود نمٹے گا۔ بہرحال حوثیوں نے امریکہ‘ اسرائیل ‘ ایران جنگ کا رخ کافی حد تک موڑ دیا ہے۔پاکستان کو اس جنگ میں گھسیٹنے کے لیے اسرائیل ہر حربہ استعمال کر رہا ہے ۔ مختلف ذرائع سے پاکستان نے یہ عندیہ دیا ہے کہ اگر حوثی سعودی عرب جنگ سے حرمین شریفین کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان جنگ میں لازماً کود جائے گا۔ لہٰذا حال ہی میں مکہ مکرمہ پر ایک ڈرون حملہ کیا گیا ۔ حوثیوں نے بڑی شدت سے اس کی تردید کی کہ یہ ڈرون اُن کی طرف سے آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ہونے کے ناطے ہم ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔ معلوم ہوتا ہے بلکہ کافی حد تک یقینی دکھائی دیتا ہے کہ یہ جعل سازی اسرائیل کر رہا ہے۔ ایک تو اس سے مسلمان حوثیوں کے خلاف ہوں گے‘ دوسرا پاکستان کو اس جنگ میں ملوث ہونا پڑے گا ۔ اسرائیل اسے مسلمانوں کی باہم جنگ بنانے میں ہر حربہ اختیار کر رہا ہے اور کسی حد تک کامیاب بھی ہو رہا ہے ۔
یہاں ایک بڑا اہم نکتہ قابلِ غور ہے کہ حوثی ایران کے اتحادی ہیں بلکہ انہیں ایران کی پراکسی بھی کہا جاتا ہے‘ لیکن اس وقت ایران کا بدترین دشمن اسرائیل حوثیوں کی مدد کر رہا ہے۔ امریکہ نے بھی حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی کسی عملی مدد سے انکار کر دیا ہے۔ حقیقت میں امریکہ اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ حوثیوں کی مدد سے وہ دو طرح کے فائدے حاصل کریں۔ اگر حوثیوں کی وجہ سے سعودی عرب اتنا مجبور ہو جائے کہ امریکہ سے مدد کی درخواست کرے ‘تو وہ مستقبل کے حوالے سے سعودی عرب سے کچھ غیر معقول شرائط تسلیم کروائیں ۔ مثلاً سعودی عرب سے ابراہام اکارڈ تسلیم کرنے کی شرط رکھی جا سکتی ہے یعنی اسرائیل کو تسلیم کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ پاکستان اور ترکیہ میدان میں اتریں تاکہ وہ خاص طور پر پاکستان سےدو دو ہاتھ کر سکیں‘ اس لیے بھی کہ وہ کبھی کسی اسلامی ملک کو ایٹمی طاقت کے طور پر برداشت نہیں کر سکتے۔لہٰذا ساری جنگ نے اب یہ رخ اختیار کر لیا ہے۔
جنگ کی موجودہ صورتِ حال عالمی سطح پر تیل کا بہت بڑا بحران پیدا کر دےگی۔ تیل کی رسد متاثر ہو چکی ہے لیکن معاملہ اس لحاظ سے بدترین سطح پر جا سکتا ہے جس سے تیل کی قیمتیں اللہ ہی بہتر جانتا ہے کس حد تک بڑھ جائیں گی اور عالمی تجارت کس حد تک متاثر ہوگی! پاکستان جیسا غریب اور مقروض ملک جو پہلے ہی اقتصادی لحاظ سے انتہائی بُری حالت میں ہے‘ اس کی تو بقا کا مسئلہ بن سکتا ہے۔جہاں تک پاکستان کے حالات کا تعلق ہے‘ یہاں چار سال سے ایک ایسا نظام کارفرما ہے جس کے اسٹیک ہولڈرز اور اس سے مستفید ہونے والے (یہاں تک کہ وفاقی کابینہ کے وزراء بھی) اسے ایک ہائبرڈ نظام کہتے ہیں۔ فوج کی سرپرستی میں ایک انتہائی غیر مقبول اور لاغر سیاسی جماعت کی حکومت قائم ہے جو تمام سیاسی و معاشی اور خارجی معاملات میں غیر مؤثر ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہ صرف حکومتی وسائل سے لطف اندوز ہوتی ہے اور اس کی توجہ صرف اپنے ذاتی حالات کو بہتر کرنے پر مرکوز رہتی ہے۔ اس کے سرپرست اب تک یہ سب کچھ اس لیے برداشت کر رہے تھے کہ انہیں دنیا سے ڈیل کرنے کے لیے ایک نمائشی حکومتی سیٹ اَپ کی ضرورت تھی‘ لیکن حالات و واقعات بتا رہے ہیں کہ یہ سرپرست ان کی بدعنوانی اور نااہلی سے بالکل تنگ آ چکے ہیں‘ لہٰذا اس طرح کی خبریں گرم ہیں کہ وہ اس حکومت کو کسی وقت بھی چلتا کریںگے۔ اسٹیبلشمنٹ کو بھی اصل مسئلہ یہ درپیش ہے کہ جس شخصیت پر وہ سیاسی لحاظ سے قلم پھیر ہیں (یعنی عمران خان)‘ اس کو کسی بھی صورت میں اقتدار میں واپس نہیں آنے دینا۔ اس کی جماعت تحریک ِ انصاف دن بہ دن عوامی حمایت حاصل کرتی جا رہی ہے‘ کیونکہ عوام یہ سمجھتے ہیںکہ ۸ فروری کے انتخابات میں سخت پابندیوں اور کوئی انتخابی نشان الاٹ نہ ہونے کے باوجود اس نے شاندار کامیابی سمیٹی تھی لیکن فارم ۴۷ کو استعمال کرتے ہوئے اسے حکومت نہیں بنانے دی گئی۔ البتہ اس کی جماعت کے پی کے میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی۔ اب کے پی کے کی حکومت اور وفاقی حکومت میں کھینچا تانی ہو رہی ہے۔ کے پی کے کی حکومت کو ختم کرنے کے لیے کئی حربے اختیار کیے گئے لیکن ناکام رہے۔ عمران خان پر۳۰۰ کے قریب مقدمات قائم کر دیے گئے تاکہ وہ سرنڈر کر کے خود میدان چھوڑ جائے‘ لیکن وہ تمام تر تکالیف کو برداشت کرتے ہوئے مقتدرہ کے آگے جھکنے کو تیار نہیں۔ یوں دوسرے صوبوں میں بھی اس کی حمایت میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ پھر یہ کہ نمائشی حکومت کی بدعنوانیوں اور نااہلی نے بھی اسٹیبلشمنٹ کے لیے بہت سے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔
اس صورتِ حال کے تناظر میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے پاکستان کے مسائل کو بھی بہت گمبھیر بنا دیا ہے‘ جس سے ملک میں سیاسی کیفیت بھی بہت غیر یقینی ہو چکی ہے۔ معاشی حالات تو اس قدر دگرگوں ہیں کہ آئی ایم ایف مکمل طور پر پاکستان کی داخلی‘ معاشی ہی نہیں بلکہ خارجی پالیسیوں کو بھی کنٹرول کر رہا ہے۔ لہٰذا اسٹیبلشمنٹ اب مجبور ہوئی ہے کہ وہ تحریک ِ انصاف کے چیئرمین عمران خان سے رابطہ کرے اور مذاکرات کے ذریعے کچھ لے دے کر ملک کو جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات اور پاکستان کی سیکورٹی کے حوالے سے کوئی جامع پالیسی بنائی جا سکے۔
شنید یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو مکمل ریلیف اور رہائی دینے کے لیے تیار ہے لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ عمران خان آئندہ انتخابات تک خاموشی سے بیٹھا رہے اور ریاست کو کوئی مسئلہ نہ ڈالے۔ جبکہ عمران خان اگر یہ بات قبول کر لے تو وہ قریباً چار سال سے جو قید با مشقت کاٹ رہا ہے وہ محنت اور مشقت ضائع ہو جائے گی‘ لہٰذا مذاکرات بار بار ناکام ہو رہے ہیں۔ لیکن ریاست کو بھی پہاڑ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ تحریک انصاف ۲۷ ستمبر کو اسلام آباد آ کر سارے ملک کے نظام کو مفلوج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے مارچ کی مشروط اجازت بھی دے دی ہے۔ ریاست کو یہ مسئلہ درپیش ہے کہ جماعت اسلامی بھی ۲۰ ستمبر کو اسلام آباد میں ڈیرے ڈالنے آ رہی ہے۔ جماعت کا مطالبہ ہے کہ پٹرول پر سے لیوی ختم کریں۔ ریاست کے اگرچہ جماعت اسلامی سے بڑے اچھے تعلقات ہیں جس نے ملک کے کئی مقامات پر دھرنے دیے ہیں لیکن ریاست لیوی ختم نہیں کر سکتی کیونکہ محصولات کا وہ ٹارگٹ پورا کرنا ہے جو اسے آئی ایم ایف نے دیا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں ۲۵ ستمبر کو کسانوں نے بھی اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔ لیکن ریاست کو اصل خطرہ پی ٹی آئی کے ۲۷ ستمبر کے دھرنے سے ہے کیونکہ پی ٹی آئی اور خاص طور پر قیدی ۸۰۴ یعنی عمران خان جو تحریک انصاف کا سربراہ ہے اس کا معاملہ یہ ہے کہ اگر ایک طرف ریاست نے اس پر اور اس کی سیاست پر کراس لگا رکھا ہے تو دوسری طرف عوام کی اکثریت نے بھی اس کی رہائی کو اپنی ضد بنا لیا ہے۔ سیاسی تجزیہ اور ماضی کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اگر کوئی سیاسی شخصیت اور اس کی جماعت ملک میں انتہائی پاپولر ہو جائے تو اس کا اول تو راستہ روکا نہیں جا سکتا لیکن اگر جبر اور قوت کی بنا پر روکا جائے تو اس کے نتائج بڑے خوفناک ہوتے ہیں۔۱۹۷۱ء میں شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کی جماعت عوامی لیگ کا راستہ روک کر پہلے ہی ہم خمیازہ بھگت چکے ہیں۔ خاکسار دعا گو ہے کہ ملک کے بڑے کسی صورت اختلافات کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں ۔طاقت اور سیاست دونوں ضد کی بجائے ملکی مفاد کا سوچیں۔ خاص طور پر موجودہ جنگوں کے تناظر میں کہ دنیا مکمل طور پر بدلنے جا رہی ہے۔ اس میں اگر ہم نے حالات و واقعات کو سامنے رکھتے ہوئے معاملہ فہمی نہ کی تو نقصان سب کا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ذاتیات سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کا سوچیں۔آمین یاربّ العالمین!