(ایک ہوں مسلم....) میثاقِ مکّہ سے میثاقِ اُمّت تک - ڈاکٹر ضمیر اختر خان

12 /
میثاقِ مکّہ سے میثاقِ اُمّت تک
ڈاکٹر ضمیر اختر خان
 
اس تحریر میں میثاقِ مکّہ سے ایک قدم آگے بڑھ کر ’’میثاقِ اُمّت‘‘ کی طرف جانے کا ایک فکری و عملی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔ یہاں پاکستان کے کردار کو محض ایک مسلم ملک کی حیثیت سے نہیں بلکہ اسلامی نظریے پر قائم ریاست اور اُمّت ِمسلمہ کے اتحاد کے ممکنہ محرک کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس میں تین مرکزی تصورات باہم مربوط ہوں گے: میثاقِ مکّہ‘ میثاقِ اُمّت‘ پاکستان کا تاریخی و نظریاتی کردار۔
دنیا آج جس بحران سے گزر رہی ہے‘ وہ محض سیاسی‘ معاشی یا عسکری نوعیت کا نہیں۔ یہ دراصل انسانی تہذیب کے مقصد‘ اقدار اور مستقبل کا بحران ہے۔ جنگیں ختم نہیں ہو رہیں‘ نفرتیں بڑھ رہی ہیں‘ طاقتور کمزوروں کو روند رہے ہیں‘ قومیں اپنے مفادات کے حصار میں قید ہیں اور انسان اپنی بے پناہ مادی ترقی کے باوجود امن‘ عدل اور حقیقی اطمینان کی تلاش میں سرگرداں ہے۔
ایسے عالم میں اسلام کے پاس دنیا کو دینے کے لیے صرف ایک مذہبی دعوت نہیں بلکہ ایک مکمل عالمی تصورِ حیات موجود ہے۔وہ ہے: اللہ کی بندگی‘ انسان کی تکریم‘ عدل کا قیام‘ ظلم کا خاتمہ‘ اخلاقی ذمہ داری‘ پوری انسانیت کو ایک خالق کے بندوں کی حیثیت سے جوڑنے کا پیغام اور دنیا سے آخرت تک پہنچنے کا مکمل صراطِ مستقیم ۔ یہی وہ مقام ہے جہاں میثاقِ مکّہ کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ البتہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ میثاقِ مکّہ کے تصور کو ایک وسیع تر عملی اور سیاسی وژن میں تبدیل کیا جائے۔ اس کا اگلا مرحلہ ’’میثاقِ اُمّت‘‘ ہونا چاہیے۔
میثا ق مکّہ کا پیغام یہ ہونا چاہیے کہ اسلام دنیا کے سامنے تصادم نہیں بلکہ عدل پر مبنی امن کا تصور پیش کرتا ہے۔ قرآن مجید کا واضح اعلان ہے: 
{ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قف  }(البقرۃ:۲۵۶)                                      ’’دین میں کوئی جبر نہیں۔‘‘
اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ اسلام انسان کو ایمان کی دعوت ضرور دیتا ہے‘ لیکن کسی فرد یا قوم کو زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔ ایمان وہی معتبر ہے جو شعور‘ اختیار اور رضامندی سے اختیار کیا جائے۔ اسی لیے اسلام انفرادی مذہبی آزادی اور انسانی وقار کا احترام کرتے ہوئے دوسروں کو جینے کا حق دیتا ہے۔
مذہبی آزادی کا مطلب یہ نہیں کہ حق کو باطل کے سامنے بے اثر اور بے اختیار کر دیا جائے۔ اسلام اپنے پیغام کو محض ایک نجی عقیدہ سمجھ کر محدود نہیں کرتا بلکہ حق کے غلبے اور عدل کے قیام کا داعی ہے۔ قرآن کہتا ہے: {وَقُلْ جَآئَ الْحَقُّ وَ زَہَقَ الْبَاطِلُط} (الإسراء:۸۱) ’’اور کہہ دیجیے کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔‘‘ اسلام کسی پر ایمان مسلط نہیں کرتا‘ لیکن اگر کوئی قوت ظلم‘ جبر اور طاقت کے ذریعے حق کو دبانے‘ اہلِ ایمان کو ان کے دین سے روکنے یا انسانی آزادی اور عدل کو پامال کرنے کی کوشش کرے تو اسلام اسے محض خاموشی سے برداشت کرنے کا درس بھی نہیں دیتا۔ ظلم کے سد ِباب اور عدل کے قیام کے لیے قوت کا استعمال نہ صرف یہ کہ جائز بلکہ بعض حالات میں ناگزیر ہو سکتا ہے۔
لہٰذا ہمیں دو اصولوں میں واضح فرق رکھنا ہوگا: ایمان کے قبول کرنے میں جبر نہیں‘ لیکن ظلم و جبر کے غلبے کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام انسان کے دل کو فتح کرنے کے لیے دعوت‘ حکمت اور کردار کا راستہ اختیار کرتا ہے؛ لیکن اگر کوئی طاقت بندگانِ خدا کو حق سننے سے روکنے‘ ظلم مسلط کرنے یا حق کو بزور طاقت کچلنے کی کوشش کرے تو اسے روکنا بھی عدل کا تقاضا ہے۔ یہی وہ توازن ہے جس میں دعوتِ حق‘ مذہبی آزادی‘ عدل اور قوت کے ذمہ دارانہ استعمال کے اصول باہم جمع ہو جاتے ہیں۔
میثاقِ مکّہ انسانیت کو امن اور باہمی احترام کا راستہ دکھاتا ہے؛ میثاقِ اُمّت مسلم دنیا کو اس راستے پر متحد ہو کر چلنے کا عہد دے سکتا ہے۔
اب ضرورت ہے میثاقِ اُمّت کی!
آج تقریباً  ۵۷  مسلم ممالک دنیا کے نقشے پر موجود ہیں۔ ان میں بے پناہ انسانی وسائل ہیں‘ وسیع جغرافیائی پھیلاؤ ہے‘ قدرتی دولت ہے‘ نوجوان آبادی ہے‘ تیل اور گیس کے ذخائر ہیں‘ اہم سمندری راستے ہیں‘ دُنیا کی بڑی منڈیاں ہیں اور سب سے بڑھ کر ایک مشترک دینی و تہذیبی ورثہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے:کیا یہ سب مل کر ایک قوت ہیں؟ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جواب ابھی ’’نہیں‘‘ ہے۔
ہم سیاسی اعتبار سے بکھرے ہوئے ہیں‘ معاشی اعتبار سے ایک دوسرے سے کم جڑے ہوئے ہیں‘ دفاعی اعتبار سے مشترکہ حکمت ِعملی سے محروم ہیں اور سفارتی میدان میں اکثر انفرادی فیصلوں تک محدود رہتے ہیں۔یہی ہماری سب سے بڑی کمزوری ہے کہ ہم ایک اُمّت ہونے کے باوجود اپنے آپ کو صرف ریاستوں کے مجموعے کے طور پر دیکھتے ہیں۔
میثاقِ اُمّت کا بنیادی مقصد یہی ہونا چاہیے کہ مسلم دنیا اپنی ریاستی خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے مشترکہ مقاصد‘ مشترکہ مفادات اور مشترکہ عالمی ذمہ داریوں کے لیے ایک نئے عہد میں داخل ہو۔یہ کسی ملک کی خودمختاری ختم کرنے یا کوئی سیاسی وحدت قائم کرنے کا منصوبہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک مرحلہ وار اتحاد کا منشور ہونا چاہیے۔ اس کے کم از کم چھ بنیادی پہلو ہوسکتے ہیں:
(۱)سیاسی و سفارتی یکجہتی:مسلم ممالک اہم عالمی مسائل پر ایک دوسرے سے مشاورت کا مستقل نظام قائم کریں۔فلسطین‘ کشمیر‘ مسلم اقلیتوں‘ جنگوں‘ انسانی بحرانوں اور عالمی امن جیسے مسائل پر مشترکہ سفارتی حکمت ِعملی تشکیل دی جائے۔
(۲) مشترکہ دفاعی تعاون:قرآن مجید کا حکم ہے: {وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ} (الانفال:۶۰) ’’اور ان کے مقابلے کے لیے جہاں تک تم سے ہوسکے قوت تیار رکھو۔‘‘
اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلم ممالک دفاعی صلاحیت کو صرف قومی دفاع تک محدود نہ رکھیں بلکہ ایک دوسرے کی سلامتی کو بھی اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھیں۔ایک ایسا Muslim Collective Security Framework تشکیل دیا جاسکتا ہے جو جارحیت کی حوصلہ شکنی‘ دفاعی تعاون‘ انٹیلی جنس شیئرنگ‘ سائبر سکیورٹی‘ قدرتی آفات اور انسانی بحرانوں میں مشترکہ کارروائی کے لیے استعمال ہو۔
(۳) معاشی تعاون:اُمّت ِمسلمہ کی ایک بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس کے پاس وسائل بہت ہیں مگر ان کا مشترکہ استعمال بہت کم ہے۔مسلم ممالک باہمی تجارت بڑھائیں‘ سرمایہ کاری فنڈ قائم کریں‘ توانائی کے منصوبوں میں تعاون کریں‘ زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ کے لیے منصوبے بنائیں اور ٹیکنالوجی‘ مصنوعی ذہانت‘ طب‘ تعلیم ‘ صنعت میں مشترکہ تحقیق کو فروغ دیں۔مسلم دنیا کو صرف تیل ہی نہیں بیچنا ہو گا بلکہ علم‘ ٹیکنالوجی اور صنعت میں بھی اپنی شناخت بنانا ہو گی۔
(۴)اختلافات کا پُرامن حل:میثاقِ اُمّت کا سب سے اہم اصول یہ ہونا چاہیے کہ مسلمان ایک دوسرے کے خلاف جنگ کو ایک ناقابلِ قبول راستہ سمجھیں۔قرآن کہتا ہے:
{اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ }  (الحجرات: ۱۰)
’’مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں‘ پس اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔‘‘
اگر دو مسلم ممالک کے درمیان تنازع پیدا ہو تو باقی مسلم ممالک تماشائی نہ رہیں بلکہ مصالحانہ کردار ادا کریں۔ایک مستقل  Muslim Mediation Council قائم کی جاسکتی ہے جو مسلم ریاستوں کے باہمی تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرانے میں کردار ادا کرے۔
(۵)عالمی اَمن کا پیغام:میثاقِ اُمّت کا مقصد دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کا کوئی جارحانہ منصوبہ نہیں ہونا چاہیے۔اس کا اصل مقصد یہ اعلان ہونا چاہیے کہ:اسلام طاقت کے ذریعے دنیا کو فتح کرنے نہیں بلکہ عدل‘ اخلاق اور امن کے ذریعے انسانیت کے دل جیتنے آیا ہے۔قرآن نبی آخر الزمانﷺ کے بارے میں کہتا ہے:
{وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۷)  } (الانبیاء)
’’اور ہم نے آپ(ﷺ) کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘
لہٰذا اُمّت مسلمہ کو دنیا کے سامنے اپنے کردار سے ثابت کرنا ہوگا کہ اسلام انسانیت کے لیے رحمت ہے۔ مسلمانوں کی متحدہ قوت کا پہلا عالمی منصوبہ امن‘ انصاف‘ انسانی وقار کا قیام اور ظلم کا خاتمہ  ہونا چاہیے۔
(۶)اسلام کا آفاقی پیغام:یہ میثاقِ اُمّت کا سب سے بلند مقصد ہونا چاہیے۔ مسلمان دنیا کو صرف یہ نہ بتائیں کہ ہم کون ہیں؛ بلکہ یہ بھی بتائیں کہ اسلام انسانیت کو کیا پیش کرتا ہے۔ اسلام کسی ایک نسل‘ زبان‘ خطے یا قوم کا مذہب نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اجتماعِ عام سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
((يَا اَيُّهَا النَّاسُ، اَلَا اِنَّ رَبكُمْ وَاحِدٌ، وَاِنَّ اَباكُمْ وَاحِدٌ، اَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ، وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلٰى عَرَبيٍّ، وَلَا لِأَحْمَرَ عَلٰى أَسْوَدَ، وَلَا اَسْوَدَ عَلٰى اَحْمَرَ، إِلَّا بالتَّقْوَى)) [مسند احمد:۲۳۴۸۹]
’’لوگو! تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ بھی ایک ہے۔ یاد رکھو! کسی عربی کو کسی عجمی پر‘ کسی عجمی کو کسی عربی پر‘ کسی سرخ فام کو کسی سیاہ فام پر اور کسی سیاہ فام کو کسی سرخ فام پر‘ سوائے تقویٰ کے اور کسی وجہ سے فضیلت حاصل نہیں ہے!‘‘
بعض انسانوں کو دوسرے انسانوں پر فضیلت حاصل ہو گی تو وہ تقویٰ کی بنیاد پر ہو گی۔ یہی اسلام کی آفاقیت ہے۔
دنیا میں قومیتیں ہیں‘ نسلیں ہیں‘ زبانیں ہیں‘ جغرافیائی سرحدیں ہیں‘ تہذیبی شناختیں ہیں؛ مگر اسلام ان سب سے اوپر انسان کو انسان سے جوڑنے والا ایک روحانی و اخلاقی رشتہ پیش کرتا ہے۔قرآن کا اعلان ہے: 
{یٰٓـاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی  وَ جَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا  وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْاط  اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ ط } (الحجرات:۱۳)
’’اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘
یہ آیت دراصل انسانی وحدت کا ایک عظیم منشور ہے۔
پاکستان: میثاقِ اُمّت کا محرک کیوں؟
یہاں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ دنیا کے اکثر مسلم ممالک کی اپنی قومی شناختیں ہیں۔ کسی کے لیے عربی قومیت اہم ہے‘ کسی کے لیے ترک تاریخ‘ کسی کے لیے فارسی تہذیب‘ کسی کے لیے افریقی شناخت‘ کسی کے لیے ملائی ثقافت اور کسی کے لیے اپنی مخصوص جغرافیائی یا تاریخی شناخت۔ یہ تمام شناختیں صرف تعارف کے لیے ہیں۔پاکستان کے قیام کا بنیادی مقدّمہ ایک اسلامی نظریے سے وابستہ تھا۔ یہ صرف زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے قائم نہیں ہوا تھا۔اس کے قیام کے پس منظر میں برعظیم کے مسلمانوں کی یہ خواہش موجود تھی کہ وہ اپنی اجتماعی زندگی اسلام کی تعلیمات کے مطابق منظم کرسکیں۔ اسی لیے پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کا رقبہ‘ آبادی‘ ایٹمی صلاحیت یا جغرافیائی محلِ وقوع نہیں؛ پاکستان کا اصل اثاثہ اس کی نظریاتی شناخت ہے‘جواسے اُمّت ِمسلمہ کے اتحاد کے لیے ایک فطری کردار عطا کرتی ہے۔
پاکستان کو ’’اُمّت کا لیڈر‘‘ نہیں بلکہ ’’امّت کا خادم‘‘ بننا ہوگا۔یہاں ایک بنیادی احتیاط ضروری ہے۔ پاکستان کو یہ تصور نہیں اپنانا چاہیے کہ وہ باقی مسلم دنیا پر اپنی قیادت مسلط کرے بلکہ اسے یہ کہنا چاہیے: ہم قیادت مانگنے نہیں‘ خدمت کرنے آئے ہیں۔ہم کسی مسلم ملک کے قومی مفاد کے خلاف نہیں‘ بلکہ تمام مسلم ممالک کے مشترکہ مفاد کے لیے کھڑے ہیں۔ ہم عرب کو اس کی عربیت سے محروم نہیں کرنا چاہتے‘ ترک کو اس کی ترک شناخت سے نہیں‘ ایرانی کو اس کی فارسی تہذیب سے نہیں اور افریقی مسلم ممالک کو ان کی ثقافتی شناخت سے نہیں۔ ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ:ان تمام شناختوں کے اوپر ایک مشترک ایمانی شناخت بھی ہے: لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ۔یہ وہ رشتہ ہے جو رنگ‘ نسل‘ زبان اور جغرافیہ کی تمام حدوں کو عبور کرسکتا ہے۔
ایک تاریخی موقع
آج پاکستان کو ایک نئی سفارتی سوچ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد کو چاہیے کہ وہ تمام مسلم ممالک سے رابطہ کرکے ایک ’’میثاقِ اُمّت کانفرنس‘‘ کی تجویز پیش کرے۔اس کانفرنس میں تمام مسلم ممالک کی شرکت ہو۔باہمی تنازعات کے حل کا نظام وضع کیا جائے۔ مشترکہ دفاعی تعاون کا فریم ورک تشکیل دیا جائے۔مشترکہ معاشی منصوبہ بندی شروع کی جائے۔ مشترکہ امن مشن تشکیل دیا جائے۔فلسطین وکشمیر اور دیگر مسلم علاقوں کے دیرینہ مسائل کے لیے مشترکہ سفارتی حکمت ِعملی بنائی جائے۔سائنس‘ ٹیکنالوجی اور تعلیم کے لیے مشترکہ ادارے قائم کیے جائیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلام کے آفاقی پیغام کو دنیا تک پہنچانے کے لیے ایک مشترکہ دعوتی و فکری پلیٹ فارم قائم کیا جائے۔
یہ کوئی خواب نہیں بلکہ قابل عمل منصوبہ ہے اور نجات کی راہِ مستقیم ! 
دنیا میں علاقائی اور اقتصادی اتحاد اس بات کا ثبوت ہیں کہ مختلف ریاستیں مشترکہ مفادات کے لیے ایک پلیٹ فارم بنا سکتی ہیں۔ مسلمان جن کے پاس مشترک عقیدہ‘ مشترک قبلہ‘ مشترک رسول ﷺ‘ مشترک کتاب اور مشترک تہذیبی ورثہ ہے‘ ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟
ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد
میثاقِ اُمّت کا تصور دراصل مسلم دنیا کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنے کی دعوت ہے۔ آج دنیا میں طاقت کا نظام زیادہ تر قومی مفادات کے گرد گھومتا ہے۔ اسلام اس کے مقابلے میں عدل پر مبنی عالمی نظام پیش کرتا ہے۔ قرآن کریم کا حکم ہے:
{اِنَّ اللہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ ....} (النحل: ۹۰)
’’بے شک اللہ حکم دیتا ہے عدل اور احسان کا.....‘‘
اگر مسلم دنیا واقعی متحد ہوجائے تو اس کا لازمی نتیجہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کاقیام ہوگا اور دنیا جان لے گی کہ طاقت عدل کے تابع ہوسکتی ہے‘معیشت اخلاق کے تابع ہوسکتی ہے‘سیاست اصول کے تابع ہوسکتی ہےاور ریاست انسانیت کی خدمت کرسکتی ہے۔یہی اسلام کا اصل عالمی پیغام ہے جس کی خوش خبری نبی آخر الزمانﷺ نے دی تھی۔ 
اقامت ِدین اور عالمی دعوت 
یہاں اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا جاسکتاکہ اُمّت ِمسلمہ کا آخری مقصد محض اقتصادی ترقی‘ عسکری قوت یا سیاسی اتحاد نہیں۔ یہ سب ذرائع ہیں۔ اصل مقصد اس سے کہیں بلند ہے۔ وہ ہے اقامت ِدین اور عالمی دعوت: 
{اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط} (الشورٰی:۱۳) 
’’ اس دین کو قائم کرو اور اس میں متفرق نہ ہوجاؤ!‘‘
اور:
{کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ  اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ..... } (آل عمران: ۱۱۰)
’’تم بہترین اُمّت ہو جو لوگوں کے لیے نکالی گئی ہے.....‘‘
لہٰذا اُمّت ِمسلمہ کی وحدت کا آخری مقصد یہ نہیں کہ مسلمان دنیا کی ایک بڑی طاقت بن جائیں‘ بلکہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچانے والی اُمّت بنیں اور شہادت علی الناس کا فریضہ کما حقہ ادا ہو سکے۔ 
انسانیت کو دعوت دیں کہ اس کائنات کا ایک خالق و مالک ہے۔وہ اللہ ربّ العالمین ہے۔انسان کی زندگی بے مقصد نہیں۔موت اختتام نہیں۔ آخرت ایک حقیقت ہے۔
میثاقِ مکّہ سے میثاقِ اُمّت‘ اور میثاقِ اُمّت سے عالمی دعوت۔ اس پورے تصور کو تین دائروں میں سمجھا جاسکتا ہے:
(i میثاقِ مکّہ:مختلف مذاہب‘ اقوام اور انسانوں کے درمیان امن‘ احترام‘ مکالمہ اور بقائے باہمی
(ii میثاقِ اُمّت:مسلم ممالک کے درمیان اتحاد‘ تعاون‘ دفاع‘ معاشی شراکت‘ سیاسی مشاورت اور باہمی تنازعات کا پُرامن حل
(iii عالمی دعوت: پوری انسانیت کے سامنے اسلام کے آفاقی پیغام کو حکمت‘ اخلاق‘ دلیل اور عملی کردار کے ساتھ پیش کرنا
یہ تینوں دائرے ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔
پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائے گا یا اپنی داخلی سیاسی کشمکش میں اُلجھا رہے گا؟ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں ایک واضح اُمّت محوری (Ummah centric) کردار اختیار کرنا ہوگا۔
ہمیں عرب‘ ایران‘ ترکیہ‘ وسطی ایشیا‘ افریقہ‘ جنوب مشرقی ایشیا اور مسلم دنیا کے ہر خطے کے ساتھ اپنے تعلقات کو محض دوطرفہ مفادات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ ہمیں ایک بڑا سوال اٹھانا چاہیے:ہم سب مل کر انسانیت کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟ اگر پاکستان یہ سوال عالمی سطح پر اٹھاتا ہے تو اس کی آواز محض ایک ریاست کی آواز نہیں رہے گی؛ وہ ایک نظریے کی آواز بن سکتی ہے۔
ایک نئے عہد کی ضرورت ہے۔پاکستان اپنی نظریاتی اساس کو محض آئینی عبارت یا تاریخی یادگار نہ سمجھے بلکہ اسے اپنی ملی اور عالمی پالیسی کا فعال محرک بنائے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ مسلم دنیا سے کہے:آئیے! ہم اپنے اختلافات ختم نہ بھی کرسکیں تو انہیں اپنی وحدت کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیں۔ہم اپنی سرحدیں برقرار رکھتے ہوئے اپنے دل جوڑیں۔اپنی ریاستیں برقرار  رکھتے ہوئے اپنی اُمّت کو پہچانیں۔اپنی زبانیں برقرار رکھتے ہوئے قرآن کی زبان کو اپنا مشترک فکری حوالہ بنائیں۔ اپنی تاریخوں کا احترام کرتے ہوئے محمدرسول اللہ ﷺ کو اپنی مشترک رہنمائی کا مرکز بنائیں۔ اپنے اپنے قومی مفادات سے اوپر اُٹھ کر اُمّت کے اجتماعی مفاد کو اپنی خارجہ پالیسی کا مستقل اصول بنائیں۔
پاکستان کے پاس ایک مشن ہے۔ پاکستان کے قیام کا سوال صرف یہ نہیں تھا کہ ایک نئی ریاست وجود میں آئے گی بلکہ یہ کہ کیا ایک ایسی ریاست وجود میں آسکتی ہے جو اسلام کو اپنی نظریاتی اساس بنا کر دنیا کے سامنے ایک متبادل تہذیبی و اخلاقی تصور پیش کرے؟
یہ سوال آج بھی زندہ ہے‘اور شاید پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔دنیا کو ایک نئی طاقت کی نہیں‘ ایک نئے اخلاقی وژن کی ضرورت ہے۔ ایک اور عسکری اتحاد کی نہیں‘ عدل پر مبنی امن کے اتحاد کی ضرورت ہے۔ ایک اور قوم پرستانہ نظریے کی نہیں‘ انسانی وحدت کے آفاقی تصور کی ضرورت ہے۔ اسلام اس سب کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی نظریاتی اساس کو پہچانے‘ اپنی داخلی کمزوریوں پر قابو پائے‘ اپنے سفارتی اثر کو منظم کرے اور مسلم دنیا کے سامنے میثاقِ اُمّت کا تصور پیش کرے۔
یہ میثاق امریکہ کے خلاف نہ ہو‘ یورپ کے خلاف نہ ہو‘بھارت کے خلاف نہ ہو‘ کسی قوم کے خلاف نہ ہو۔ یہ ظلم کے خلاف ہو‘ ناانصافی کے خلاف ہو‘ جنگ کے خلاف ہو‘ انسان کی تحقیر کے خلاف ہواورانسانیت کے حق میں ہو۔اس کا پیغام ہو:آؤ! ہم جنگ کے بجائے امن کو اختیار کریں۔نفرت کے بجائے عدل کو اختیار کریں۔ استحصال کے بجائے انسانیت کی خدمت کریں۔ آخرکار اپنے خالق کی طرف لوٹنے کے لیے اپنی زندگی کو اس کی ہدایت کے مطابق ڈھال لیں۔
میثاقِ مکّہ کی روح کو میثاقِ اُمّت کے ذریعے عالمی سطح تک لے جانے کا یہی راستہ ہے۔  شاید تاریخ ایک دن یہ گواہی دے کہ پاکستان نے اپنی جغرافیائی طاقت سے نہیں بلکہ اپنی نظریاتی قوت سے اُمّت ِمسلمہ کو ایک نئے سفر پر روانہ کیا۔وہ سفر جو مکّہ سے شروع ہونے والے امن کے پیغام کو پوری اُمّت کی وحدت سے جوڑتے ہوئے پوری انسانیت تک پہنچائے گا۔ یہ صرف ایک سیاسی منصوبہ نہیں؛یہ ایک تاریخی ذمہ داری‘ ایک قرآنی مشن اور ایک عظیم عالمی دعوت ہے۔