(دعوت و تحریک) احیائی تحریکیں اور قیادت کا امتحان - ڈاکٹر فواد لوہانی

12 /
احیائی تحریکیں اور قیادت کا امتحان
ڈاکٹر فواد لوہانی
بیسویں صدی کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو تین طرح کی تحریکیں نمایاں طور پر سامنے آتی ہیں: اشتراکی‘ قومی اور احیائی ۔ اشتراکی تحریکوں میں بنیادی طور پر دو رجحانات غالب رہے: ارتقائی اور انقلابی۔ ایک گروہ تبدیلی کو بتدریج ارتقائی عمل کے ذریعے آگے بڑھانے کا قائل تھا‘ جبکہ دوسرا فوری اور انقلابی تبدیلی کا خواہاں۔ روس کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی میں یہی بنیادی اختلاف بالآخر منشویک اور بولشویک تقسیم کا سبب بنا۔ 
قومی تحریکوں میں بھی عموماً دو مزاج نمایاں ہوتے ہیں: عقابی اور فاختائی؛ یعنی Hawks اور Doves۔ بعض اوقات یہ دونوں رجحانات الگ الگ سیاسی جماعتوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں اور کبھی ایک ہی جماعت کے اندر مختلف دھڑوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ برصغیر کی ہندو قومی سیاست اس کی ایک قابل فہم مثال ہے۔ گاندھی اور نہرو فاختائی مزاج کے نمائندہ تھے‘ جبکہ ساورکر اور سبھاش چندر بوس عقابی مزاج رکھتے تھے۔ چنانچہ یہ اختلاف الگ الگ سیاسی جماعتوں کی صورت میں ظاہر ہوا۔ تاہم‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ فاختائی جماعت‘ یعنی کانگریس‘ کے اندر بھی عقابی روح رکھنے والے عناصر موجود تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ سردار پٹیل اتنے عقابی مزاج کا حامل نہیں تھا کہ ساورکر یا چندربوس کی صف میں کھڑا ہوتا‘ لیکن بہرحال اس کا مزاج نہرو سے واضح طور پر مختلف تھا۔ یوں ایک ہی جماعت کے اندر عقابی اور فاختائی رجحانات الگ الگ دھڑوں کی صورت میں موجود رہے۔برصغیر کی مسلم قومی تحریکوں میں بھی یہی صورتِ حال دکھائی دیتی ہے۔ مسلم لیگ کے اندر سائمن کمیشن کے مسئلے پر بمبئی لیگ اور لاہور لیگ کے نام سے مختلف دھڑے وجود میں آئے۔
جہاں تک تعلق ہے احیائی تحریکوں کا ‘ ان کا معاملہ اشتراکی و قومی تحریکوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔یہاں ایک وضاحت ضروری ہے کہ احیائی تحریکوں سے مراد بیسویں صدی کی اسلامی احیائی تحریکیں ہیں‘ فاشسٹ تحریکیں نہیں۔ اس وضاحت کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ فاشسٹ تحریک اپنی اصل میں تو قومی تحریک ہی ہوتی ہے ‘البتہ کچھ قومی عناصر کو اپیل کرنے کے لیے تہذیبی احیاء کے نعرے بھی اس کی پوٹلی میں ہوتے ہیں‘ جس کی بناء پر سرسری مطالعہ کرنے والوں کو وہ احیائی نظر آتی ہے۔ 
اسلامی احیائی تحریکوں میں عقابی اور فاختائی مزاج تو موجود ہوتے ہی ہیں‘ لیکن ان کے ساتھ دو مزید مزاج بھی نمایاں ہوتے ہیں یعنی روحانی اور تحریکی۔ یوں ایک اسلامی احیائی تحریک میں بیک وقت چار مختلف رجحانات پرورش پا سکتے ہیں:عقابی‘ فاختائی‘ روحانی اور تحریکی۔
عقابی مزاج رکھنے والے افراد تحریک کو زیادہ تیز رفتار‘ زیادہ جرأت مندانہ اور بعض اوقات مسلح مزاحمت کی طرف لے جانے کے خواہش مند ہو سکتے ہیں۔ فاختائی مزاج رکھنے والے افراد تصادم اور انقلابی راستے سے گریز کرتے ہوئے انتخابات اور پارلیمانی سیاست کی طرف بڑھنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔بظاہر یہ دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف دکھائی دیتے ہیں‘ لیکن نفسیاتی اعتبار سے کبھی کبھی دونوں کے پیچھے ایک ہی چیز کارفرما ہوتی ہے‘ اور وہ ہے ’’جلد بازی کی ذہنیت‘‘۔ ایک فوری انقلاب چاہتا ہے‘ دوسرا فوری انتخابی کامیابی!اسی طرح روحانی مزاج رکھنے والے افراد تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن کو ہی تمام مسائل کا حل سمجھتے ہوئے پوری تحریک کو خانقاہی ماحول میں محدود کرنے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب تحریکی مزاج رکھنے والے افراد نظریاتی اور سیاسی جدّوجُہد میں اس قدر منہمک ہو سکتے ہیں کہ فرائض و واجبات اور اصلاحِ باطن کی بنیادی اہمیت پس ِ پشت چلی جائے۔ گہرائی سے دیکھا جائے تو ایک گروہ عیسائیت و بدھ مت کے خانقاہی نظام سے متاثر ہوتا ہے تو دوسرا گروہ کمیونسٹ و نازی پارٹی کے charm سے متاثر ہوتا ہے۔ یوں ایک طرف تحریک خانقاہ بننے کا خطرہ رکھتی ہے اور دوسری طرف محض سیاسی تنظیم بن جانے کا۔ 
ایسی صورتِ حال میں‘ بانی ٔتحریک کی شخصیت ایک نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب تک بانی ٔجماعت یا بانیٔ تحریک زندہ رہتے ہیں‘ عموماً یہ مختلف (اورکافی حد تک متصادم) مزاج کسی نہ کسی طرح ایک وسیع تر قیادت کے تحت باہم مربوط رہتے ہیں۔ بانی کی شخصیت ان مختلف رجحانات کے درمیان ایک توازن قائم رکھتی ہے۔ البتہ جیسے ہی نئی قیادت سامنے آتی ہے‘ مختلف مزاج رکھنے والے افراد اپنی اپنی ترجیحات کو تحریک پر غالب کرنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔ ہر گروہ سمجھتا ہے کہ تحریک کو اصل راستے پر وہی لے جا سکتا ہے۔
عقابی مزاج رکھنے والے افراد تحریک کو‘ بعض اوقات‘ ناکافی تیاری کے باوجود مسلح مزاحمت کی طرف لے جانے پر آمادہ ہوتے ہیں؛ فاختائی مزاج رکھنے والے افراد انقلابی راستے کو ترک کرکے انتخابات اور پارلیمانی سیاست کی طرف بڑھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ روحانی مزاج رکھنے والے محسوس کرتے ہیں کہ تحریک کو اپنی تمام تر توجہ تزکیۂ نفس اور اصلاحِ باطن پر مرکوز کر دینی چاہیے؛ تحریکی مزاج رکھنے والے نظریاتی اور سیاسی جدوجہد کو تحریک کا بنیادی فریضہ قرار دیتے ہیں۔
نئی قیادت کے لیے ان چاروں مزاجوں کو تحریک کے اندر متوازن رکھنے کے دو بنیادی طریقے ہیں۔ پہلا یہ کہ جماعت کے تمام افراد کو مسلسل یہ احساس دلایا جاتا رہے کہ تحریک کسی ایک فرد‘ گروہ یا مزاج کی ملکیت نہیں۔ تمام مزاجوں کے حامل افراد کو مسلسل یہ باور کرایا جاتا رہے کہ تحریکی زندگی میں نجویٰ‘ گروہی عصبیت اور اپنی ذاتی رائے کو پوری تحریک پر مسلط کرنے کی خواہش سے بچنا ضروری ہے۔ کسی مخصوص مزاج یا گروہ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی ترجیحات و مزاج کو پوری تحریک کا واحد راستہ قرار دے۔ اس ضمن میں تربیتی اجتماعات و کورسز میں رفقاء و کارکنان کو قرآن و حدیث کے حوالوں کے ذریعے نجویٰ کے دُنیوی و اُخروی نقصانات سے مسلسل آگاہ کرنا ضروری ہے۔ 
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ قائد ِتحریک خود کسی ایک مزاج کی طرف غیر متوازن جھکاؤ کا مظاہرہ نہ کرے۔ قائد کا یہ توازن صرف اس کے ذہن میں موجود ہونا کافی نہیں؛ اسے اپنے قول و فعل سے مسلسل ظاہر کرنا ضروری ہے۔ یہاں سے شروع ہوتا ہے قائد کا امتحان۔ اگر وہ اپنی روحانی کیفیت کو زیادہ نمایاں کرے تو تحریکی مزاج رکھنے والے اسے خانقاہی سمجھنے لگتے ہیں۔ اگر وہ سیاسی اور انقلابی تجزیے زیادہ پیش کرے تو روحانی مزاج رکھنے والے اسے محض تحریکی سمجھنے لگتے ہیں۔ اگر وہ سیاسی عمل سے گریز کرے تو فاختائی مزاج رکھنے والے اسے غیر عملی سمجھ سکتے ہیں‘ اور اگر وہ مزاحمت کی بات کرے تو عقابی مزاج رکھنے والے اسے اپنا ہم مزاج سمجھنے لگتے ہیں۔ چنانچہ قائد کی خاموشی بھی کبھی کبھی ایک مسئلہ بن جاتی ہے۔ ہر گروہ اسے اپنی خواہش کے آئینے میں دیکھنے لگتا ہے۔ اسے کسی ایک مزاج کا نمائندہ بننے کے بجائے مختلف مزاجوں کو تحریک کے بنیادی مقصد کے تابع رکھنا ہوتا ہے۔
قائد ِتحریک کے لیے اصل چیلنج یہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی ایک مزاج کے حامل افراد کو تحریک سے نکال دے یا کسی ایک رجحان کو مکمل طور پر مسترد کر دے۔ اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مختلف مزاج رکھنے والے افراد کو تحریک کے بنیادی مقصد اور اس کی اصل اساس کے تابع رکھے۔  عقابی مزاج رکھنے والوں کی جرأت اور عزم سے فائدہ اٹھائے‘ فاختائی مزاج رکھنے والوں کے تدبر اور سیاسی بصیرت کو بھی جگہ دے‘ روحانی مزاج رکھنے والوں کی اصلاحِ باطن اور تزکیۂ نفس کی اہمیت کو برقرار رکھے‘ تحریکی مزاج رکھنے والوں کی نظریاتی و عملی جدّوجُہد کو بھی تحریک کی قوت بنائے۔اس پورے عمل میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ کوئی ایک مزاج پوری تحریک کی شناخت نہ بن جائے۔ 
تنظیم اسلامی کے حوالے سے امیر ِ ثانی محترم حافظ عاکف سعید کی قیادت کا نمایاں پہلو یہی رہا کہ انہوں نے کسی ایک مزاج کی جانب اپنا جھکائوغیر متوازن نہیں ہونے دیا۔ نہ تنظیم اسلامی کو محض ایک روحانی جماعت بننے دیا‘ نہ اسے صرف نظریاتی و فکری بحثوں تک محدود ہونے دیا‘ نہ اسے جلد بازی میں کسی مسلح مزاحمت کی طرف لے جانے کی کوشش کی اور نہ ہی اس کی انقلابی و احیائی اساس کو ترک کرکے اسے محض ایک انتخابی سیاسی جماعت بنانے کی طرف پیش قدمی کی۔ان کی کوشش یہی رہی کہ تنظیم اسلامی کی اصل شناخت‘ یعنی اس کا احیائی ہونا‘ برقرار رہے۔
احیائی تحریک صرف فرد کی اصلاح کا نام نہیں‘ اگرچہ یہ اس کا بنیادی نقطۂ آغاز ہے۔ یہ صرف سیاسی تبدیلی کا نام بھی نہیں‘ اگرچہ معاشرے اور ریاست کی اصلاح بھی اس کے مقاصد میں شامل ہے۔ یہ محض روحانی تربیت بھی نہیں‘ اگرچہ تزکیۂ نفس اس کی بنیاد ہے۔یہ صرف نظریاتی و سیاسی جدوجہد بھی نہیں‘ اگرچہ فکر اور عمل کے بغیر کوئی احیائی تحریک زندہ نہیں رہ سکتی۔ احیائی تحریک دراصل ان تمام عناصر کو ان کے صحیح مقام پر رکھتے ہوئے ایک جامع دینی مقصد کی طرف پیش قدمی کا نام ہے۔
قائد ِتحریک کا کمال یہ نہیں ہوتا کہ وہ مختلف مزاجوں کو ختم کر دے۔ اصل خوبی یہ ہے کہ وہ ان مختلف مزاجوں کو ایک بڑے مقصد کے تابع رکھے۔ احیائی تحریک میں قیادت محض انتظامی منصب نہیں ہوتی بلکہ مختلف مزاجوں کے درمیان توازن قائم رکھنے‘ تحریک کی اصل شناخت کی حفاظت کرنے اور ہر گروہ کو یہ یاد دلاتے رہنے کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے ۔ مزاج مختلف ہو سکتے ہیں‘ مگر مقصد ایک ہی رہے گا۔ وہ کسی ایک مزاج کا نمائندہ بنے بغیر‘ اور کسی دوسرے مزاج کا مزاحم بنے بغیر‘ تمام مزاجوں کو تحریک کے اصل مقصد کا نمائندہ بنا سکے۔راستے کے بارے میں اختلاف ہو سکتا ہے‘ رفتار کے بارے میں اختلاف ہو سکتا ہے‘ ترجیحات کے بارے میں اختلاف ہو سکتا ہے؛ لیکن اگر منزل ہی نگاہ سے اوجھل ہو جائے تو تحریک اپنے وجود کا بنیادی جواز کھو دیتی ہے۔ احیائی تحریک میں تزکیۂ نفس بھی ہے‘ فکر و شعور کی بیداری بھی؛ دعوت بھی ہے‘ تنظیم بھی؛ اصلاحِ فرد بھی ہے‘ اصلاحِ معاشرہ بھی؛ اور ایک عادلانہ نظام کے قیام کی جدوجہد بھی۔
امیر ِثانی محترم حافظ عاکف سعید نے اسی جامعیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ ان کی قیادت میں تنظیم اسلامی کے حوالے سے یہی کوشش نمایاں بھی دکھائی دیتی ہے کہ ان میں سے کوئی ایک پہلو پوری تحریک کی شناخت نہیں بنا۔ وہ جانتے تھے کہ:اگر روحانی مزاج غالب آجائے تو تحریک خانقاہ بن سکتی ہے۔ اگر تحریکی مزاج غالب آ جائے تو اصلاحِ باطن پس ِ پشت  جا سکتی ہے۔ اگر فاختائی مزاج غالب آ جائے تو احیائی مقصد انتخابی سیاست میں تحلیل ہو سکتا ہے۔اگر عقابی مزاج غالب آ جائے تو تحریک وقت سے پہلے تصادم اور مزاحمت کی طرف دھکیلی جا سکتی ہے۔ کسی بھی احیائی تحریک کی کامیابی و بقا کا بنیادی راز یہی ہے کہ ان تمام پہلوؤں‘ مزاجوں اور رجحانات کو ان کے صحیح مقام پر رکھے۔ 
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ڈاکٹر اسرار احمدؒ بانی ٔ تنظیم ہیں‘ تو حافظ عاکف سعید محسن تنظیم۔ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے تنظیم اسلامی کی بنیاد رکھی‘ اس کے فکر و نظریے کو تشکیل دیا‘ اس کی سمت متعین کی اور اسے ایک مکمل اسلامی احیائی تحریک بنایا۔ حافظ عاکف سعید نے مختلف مزاجوں کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے تنظیم اسلامی کوآگے بڑھایا‘ اس کی اصل احیائی شناخت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی اور اسے کسی ایک رجحان کے غلبے سے محفوظ رکھا۔ ایک نے بنیاد رکھی‘ دوسرے نے عمارت کو سنبھالا۔ کسی بھی احیائی تحریک کے لیے سب سے بڑی خوش بختی ہے کہ اسے ایسا بانی ملے جو اس کی نظریاتی سمت قرآن و سُنّت کی روشنی میں متعین کرے‘ اور دوسری بڑی خوش بختی یہ کہ اسے ایسا جانشین ملے جو اس کے وجود‘ مزاج اور مقصد کی حفاظت کرے۔
احیائی تحریکوں کو جو دوسرا مسئلہ درپیش ہوتا ہے وہ شخصیت پرستی کا ہوتا ہے۔ قومی و اشتراکی تحریکیں شخصیت پرستی کا شکار ہوں یا نہ ہوں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا‘ کیونکہ ان کا مطمح نظر دنیا ہی ہوتا ہے؛ لہٰذا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لینن‘ ماؤ اور کم ال سونگ کے مجسمے نصب ہوتے ہیں یا نہیں ۔ اس سے بھی فرق نہیں پڑتا کہ آپ مارکس کو follow کر رہے ہیں‘ لینن کو یا سٹالن کو۔ البتہ جب بات آتی ہے اسلامی احیائی تحریک کی تو یہاں ذرا سی غفلت افراد و تحریک کو حقیقی نصب العین (اللہ کی رضا) سے ہٹا دیتی ہے۔ احیائی تحریکوں کے کارکنان کے ذہن میں اس بات کو راسخ کرنا بھی قیادت کا کام ہے کہ ان کے لیے اصل اتھارٹی شاہ ولی اللہ‘ علامہ اقبال‘ ابوالکلام آزاد‘ حسن البنا‘ سید مودودی یا ڈاکٹر اسرار احمد رحمہم اللہ نہیں‘ بلکہ قرآن و سُنّت ہی ہیں۔ 
اللہ ربّ العزت کا صد شکر ‘ کہ تنظیم اسلامی اس محاذ پر بھی کامیاب رہی۔ اس کے رفقاء کی تربیت اسی نہج پر ہوتی ہے کہ اصل اتھارٹی بانی تنظیم یا امیر تنظیم نہیں‘ بلکہ کلامِ الٰہی اور 
سُنّت ِخاتم الانبیاء ﷺ ہیں۔ بانی ٔتنظیم کوئی رسول یا نبی نہیں کہ ان سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا‘ اور امیر تنظیم کی اطاعت بھی مطلق نہیں‘ بلکہ ’’فی المعروف‘‘ ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایک اسلامی احیائی تحریک اور دیگر تحریکوں میں فرق واضح ہوتا ہے۔ 
جہاں ایک جانب شخصیت پرستی احیائی عمل کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے‘ وہیں دوسری جانب ایک اور نفسیاتی واردات بھی احیائی عمل کے لیے مضر ہوتی ہے ۔ وہ یہ کہ تحریک کے رفقاء کسی قسم کے تحزب کا شکار نہ ہو جائیں۔ رفقاء تنظیم کو تواتر سے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ تنظیم اسلامی ’’الجماعت‘‘ نہیں۔ جس طرح معاشرے کے لیے نسلی و لسانی تعصب زہر قاتل ہوتا ہے‘ اسی طرح احیائی عمل کے لیے جماعتی تحزب مہلک ہوتا ہے۔ تحزب کے جذبات ہی بعد میں فرقے کی بنیاد بنتے ہیں۔ بانی محترم کا کتابچہ ’’دینی جماعتوں کے باہمی تعاون و اتحاد کے ضمن میں تنظیم اسلامی کی مساعی‘‘ درحقیقت اسی سوچ کا آئینہ ہے کہ تنظیم اسلامی تحزب کے جذبات سے پاک ایک تحریک ہے۔ 
امیر ِ ثانی حافظ عاکف سعیدکی قیادت کا ایک اور تاریخی پہلو یہ ہے کہ انہوں نے نئے امیر کے لیے دستورِ تنظیم کے مطابق طریقہ کار اختیار کیا اور محترم شجاع الدین شیخ کو امیر ِ ثالث مقرر کرکے تنظیم اسلامی میں موروثی قیادت کے ہر امکان کی نفی کر دی۔ برصغیر کی متعدد سیاسی و مذہبی جماعتوں کے برعکس‘ جہاں قیادت وقت کے ساتھ ایک خاندان کی میراث بن گئی‘ تنظیم اسلامی نے یہ واضح کر دیا کہ وہ کسی ایک خاندان کی میراث نہیں بلکہ اُمّت ِمسلمہ کی احیائی تحریک ہے۔باپ کے بعد بیٹے کا امیر بننا شرعاً حرام نہیں‘ تاہم اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ قیادت ایک ہی خاندان کی میراث بن کر رہ جائے۔ قیادت نسب سے نہیں بلکہ اہلیت‘ تقویٰ اور تحریکی صلاحیت سے متعین ہوتی ہے۔ محترم حافظ عاکف سعید نے عملاً ثابت کیا کہ تنظیم اسلامی پر کسی ایک خاندان کی اجارہ داری نہیں۔بانی ٔ امیر نے تنظیم کی بنیاد رکھی‘ امیر ثانی نے عمارت سنبھالی‘ اور اس فکر کو راسخ کیا کہ تنظیم بذاتِ خود مقصد نہیں‘ بلکہ حقیقی نصب العین (رضائے الٰہی) کے حصول کا ذریعہ ہے۔ 
احیائی تحریکوں اور ان کے کارکنان کو معاشرتی زندگی میں جو کچھ درپیش ہوتا ہے‘ ان کا حل قرآن و سنت میں موجود ہے۔ بانی محترم کا مرتب کردہ مطالعہ قرآن حکیم کا منتخب نصاب نمبر ٢ (حزب اللہ کے اوصاف اور امیر و مامورین کا باہمی تعلق) وہ کتاب ہے جو تمام سماجی و نفسیاتی مسائل کا حل بتاتی ہے؛ کیونکہ یہ قرآن کریم کی منتخب آیات کے دروس پرمشتمل نصاب ہے۔ اللّٰھم صَلِّ علٰی مُحَمَّد و علٰی آلِ مُحَمَّد !