حسنِ اَخلاق کے ثمرات
احمد علی محمودی
حسنِ اخلاق ( اچھا رویہ اور بہترین برتاؤ ) انسانی شخصیت کا وہ جوہر ہے جو نہ صرف فرد کی اپنی زندگی کو سنوارتا ہے‘بلکہ پورے معاشرے میں امن اور محبت کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔ یہ محض مسکراہٹ یا خوش کلامی کا نام نہیں‘ بلکہ اس میں صلہ رحمی‘والدین کی فرماں برداری‘ نرم گفتاری‘ حلم و بردباری‘ عفو و درگزر‘ بڑوں کا ادب‘ چھوٹوں پر شفقت‘ دیانت و امانت‘ عہد کی پاس داری‘ صبر و شکر‘ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی‘ بھائی چارا‘ ہمدردی اور ایثار کا جذبہ یہ سب شامل ہیں۔ خوش اخلاقی محض ایک سماجی خوبی نہیں‘ بلکہ ایسی صفت ہے جسے قرآن و سُنّت میں بارہا سراہا گیا ہے۔ بزرگانِ دین‘ صحابہ کرام‘ اہل ِبیت اطہار‘علماء‘صوفیا ءاور مفسرین نے اس کو دین ِ اسلام کی روح قرار دیا ہے۔ انسانی زندگی میں حسن اخلاق کو جو اہمیت و عظمت حاصل ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ہر مذہب اور دھرم کے لوگ اچھے اخلاق و کردار کے قائل ہیں۔
اسلام میں حسنِ اخلاق کو ایمان کی تکمیل قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ((بُعِثْتُ لِاُتَمِّمَ حُسْنَ الْاَخْلَاقِ)) [الموطَّا] ’’مجھے اچھے اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث کیا گیا ہے۔‘‘ حضورﷺ کی ذاتِ اَقدس اخلاقِ حسنہ کا کامل پیکر تھی۔ اُمّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جب آپﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: ((کَانَ خُلُقُۃُ الْقُرآنَ))(مسند احمد) ’’آپ کا خلق سراپا قرآن تھا‘‘ یعنی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے اچھا فرمایا‘ وہی آپﷺ کی طبیعت چاہتی تھی اور جس چیز کو برائی قرار دیا‘اس سے آپﷺ کو نفرت تھی۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کے اخلاق کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا: {وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ (۴)}(القلم) ’’اور بے شک آپ اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں۔‘‘ آپﷺ کی زندگی کا ہر پہلو اخلاقِ حسنہ کا عملی نمونہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:{لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ}(الاحزاب:۲۱) ’’تمہارے لیے رسول اللہ(ﷺ) کی ذات میں نہایت ہی حسین نمونۂ حیات موجود ہے۔‘‘
حسنِ اَخلاق کے بے شمار ثمرات ہیں جو انفرادی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔ ذیل میں حسنِ اَخلاق کے ان ثمرات اور فوائد کا تذکرہ ہے جو دنیا اور آخرت میں حاصل ہوتے ہیں۔
حسنِ اَخلاق کے دنیوی ثمرات
(۱) دل میں محبت: حسن اخلاق کے ذریعہ معاشرے میں بھائی چارا‘ اتحاد و اتفاق‘ پیار و محبت‘ عفو و درگزر‘ نرمی اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے۔ اسی کے ذریعہ اختلافات‘ نفرت‘ عداوت اور بغض و کینہ دور ہوتے ہیں۔ حسن اخلاق کی بدولت سخت ترین دشمن بھی دوست بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: { اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ(۳۴) } (حٰـم السجدۃ) ’’برائی کو اس بھلائی سے دفع کرو جو اس سے بہتر ہو‘ پھر وہ شخص جس کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی‘ ایسا ہو جائے گا جیسے وہ کوئی دِلی دوست ہے۔‘‘
فتح مکہ کے موقع پر نبی کریمﷺ مکہ میں فاتحانہ انداز میں بڑی شان و شوکت کے ساتھ داخل ہوئے۔ کفار و مشرکین نے ہر قدم پر آپﷺ کو اور آپ کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو تکالیف پہنچائی تھیں۔وہ آپﷺ کے جانی دشمن تھے‘ آپﷺ کے قتل کی تدبیریں اور سازشیں کرتے تھے۔ انہوں نے اسلام دشمنی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ چنانچہ اس موقع پر وہ سہمے ہوئے تھےاور ذہنی طور پر بدترین سلوک کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے۔ ایسے میں لشکر اسلام میں سے کچھ لوگوں نے نعرہ لگا دیا: ’’اَلْیَوْمَ یَوْمُ الْمَلْحَمَةِ‘‘ یعنی آج کُشت و خون کا دن ہے۔رسول اللہ ﷺ نے اسے رد کرتے ہوئے فرمایا:’’اَلْیَوْمَ یَوْمُ الْمَرحْمَۃ‘‘ یعنی آج کا دن رحمت اور معافی کا دن ہے۔پھر تاریخ نے دیکھا کہ رحمت ِدو جہاں کے پیکر اور محسنِ انسانیت ﷺ کی شفقت جوش میں آئی اور زبان رسالت سے یہ اعلان کر دیا گیا: ’’لا تثریب علیکم الیوم ، اذھبوا فأنتم الطلقاء ‘‘ جاؤ آج تم سب آزاد ہو‘ تمہیں معاف کر دیا گیا‘ اور تم سے کسی بھی قسم کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ ‘‘یہ حسنِ اخلاق کی وہ بلند ترین سطح تھی‘جس نے مکہ کے لوگوں کے دلوں کو جیت لیا۔ جو لوگ کل تک اسلام کے دشمن تھے‘ وہ اس اخلاق کو دیکھ کر حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے۔
(۲)دوستوں میں اضافہ: خوش اخلاقی انسان کے وقار کو بڑھاتی ہے۔ لوگ ایسے انسان کی طرف راغب ہوتے ہیں‘ اس کی عزت کرتے ہیں اور اس کی بات سنتے ہیں۔ خوش اخلاقی سے جہاں دوستوں میں اضافہ ہوتا ہے‘ وہیں دشمنوں میں کمی آتی ہے۔
(۳)معاشرے میں امن اور ہم آہنگی: حسن اخلاق معاشرے سے احقاد( دل کے اندر چھپی ہوئی عداوت) اور جھگڑوں کو ختم کرتا ہے۔ یہ تعاون اور اجتماعی عمل کی ترغیب دیتا ہے۔ معاشرے میں صدق‘ باہمی افہام و تفہیم‘عدل اور حلم جیسی اقدار کو فروغ دیتا ہے۔
(۴)انسان کا زیور: حسن اخلاق درحقیقت انسان کا زیور اور اس کی خوبصورتی ہے۔ اس کے ذریعہ اجتماعی اور انفرادی زندگی میں توازن اور ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے ۔ لوگوں کے دل فتح ہوتے ہیں۔درحقیقت حسن اخلاق ہی کی وجہ سے انسان اعلیٰ اور انمول ہیرا بنتا ہے۔
(۵)انفرادی اور نفسیاتی فوائد:اچھا اخلاق رکھنے والا شخص خود اپنی ذات میں سکون محسوس کرتا ہے۔ دوسروں کے ساتھ نرمی اور درگزر سے پیش آنے والا شخص حسد‘ بغض اور غصے جیسی بیماریوں سے بچا رہتا ہے‘ جس سے اسے قلبی سکون حاصل ہوتا ہے۔ خوش اخلاقی انسان کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے اور اسے ایک باوقار شخصیت کے طور پر متعارف کرواتی ہے۔ فطری طور پر انسان اچھے اخلاق والے کی طرف کھنچا چلا آتا ہے‘ جیسا کہ کہا جاتا ہے: ’’اخلاق وہ خوشبو ہے جو میلوں دور سے محسوس کی جا سکتی ہے۔‘‘
حسنِ اَخلاق کے اُخروی ثمرات
(۱) اللہ تعالیٰ اورنبی کریم ﷺ کا قرب: حسن اخلاق انسان کو اللہ تعالیٰ اورنبی کریم ﷺکے قریب کرتا ہے۔ یہ ایسی صفت ہے جو بندے کو رب کا‘ اور رب کے محبوب ﷺکا محبوب بنادیتی ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إنَّ مِنْ أَحَبِّكُمْ إلَيَّ وَأَقْرِبِكُمْ مِنِّي مَجْلِسًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَحَاسَنَکُمْ أَخْلَاقًا)) [رواه الترمذي ]
’’میرے نزدیک تم میں (دنیا میں) سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب بیٹھنے والے وہ لوگ ہیں جو تم میں بہترین اخلاق والے ہیں۔‘‘
(۲) ایمان کی تکمیل: نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
(( أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ اِيمَانًا اَحْسَنُهُمْ خُلُقًا)) [أبو داود والترمذي ]
’’مؤمنین میں کامل ترین ایمان والا وہ ہے جو اخلاق میں سب سے اچھا ہو۔‘‘
حسن اخلاق ایمان کی علامت اور اس کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔
(۳)بلندیٔ درجات: ایک حدیث میں ہے:
(( إنّ الْمُؤْمِنَ لَیُدْرِکُ بِحُسْنِ خُلُقِہِ دَرَجَةَ الصَّائمِ الْقَائِمِ))[رواہ أبوداود]
’’بندہ مؤمن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے روزہ رکھنے والے اور رات بھر عبادت کرنے والے کے درجہ کو حاصل کر لیتاہے۔‘‘
یعنی حسن اخلاق عبادت کے بلند درجےتک پہنچا دیتا ہے۔
(۴)میزان ( اعمال کا پلڑا ) بھاری کرنا: نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
((اِنَّ اَثْقَلَ شَيْءٍ يُوضَعُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُلُقٌ حَسَنٌ)) [رواہ الترمذی]
’’روزِ قیامت مؤمن کے اعمال کی میزان میں حسن خلق سے زیادہ بھاری چیز کوئی نہیں رکھی جائے گی۔‘‘
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اخلاقِ حسنہ کا اجر و ثواب انتہائی عظیم ہے۔
(۵)جنت کا سبب: حسن اخلاق جنت میں داخلے کا سبب ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے ان اعمال کے بارے میں پوچھا گیا جو لوگوں کو سب سے زیادہ جنت میں داخل کرنے والے ہیں ‘ توآپ ﷺ نے فرمایا:
((التقوىٰ وحُسْنُ الخُلُق)) [رواہ ابن ماجه والترمذي]
’’ اللہ کا تقویٰ اور حسنِ اخلاق!‘‘
حسنِ اخلاق کے چند عملی پہلو
خود کو دوسروں سے برتر نہ سمجھنا: دوسروں کی غلطیوں کو معاف کر دینا۔ قول و فعل میں سچائی اختیار کرنا۔ اللہ اور بندوں کا احسان ماننا۔
اخلاقی چارٹر: آپ اپنے موبائل میں یا کسی جگہ یہ تین باتیں لکھ کررکھ لیں‘ جو حسنِ اخلاق کی بنیاد ہیں:
i)زبان کی حفاظت: بات کرنے سے پہلے سوچیں کہ کیا یہ سچ ہے ! کیا یہ ضروری ہے ؟ کیا یہ بات کسی کا دل تو نہیں دکھائے گی ؟
ii) مسکراہٹ کا تحفہ: کسی سے ملتے وقت مسکرانا سنت بھی ہے اور صدقہ بھی۔
iii)خاموشی کا ہنر: جب بحث بڑھنے لگے تو خاموشی اختیار کر لینا‘ اعلیٰ ظرفی کی علامت ہے۔
حسنِ اَخلاق:پانچ عملی مشقیں
(۱)| پہل کرنا:جب بھی کسی سے ملیںتو مسکرا کراور سلام میں پہل کریں۔ یہ دوسرے کے دل میں آپ کے لیے جگہ بنا دیتا ہے۔
(۲) خاموشی اور سماعت: دوسرے کی بات مکمل ہونے تک غور سے سنیں اور فوراً جواب دینے کے بجائے پہلے اس کی بات سمجھیں۔
(۳) لفظوں کا انتخاب: ’’شکریہ‘‘ ، ’’معذرت‘‘ اور ’’مہربانی‘‘ جیسے الفاظ کا کثرت سے استعمال کریں۔ یہ الفاظ لہجے کی تلخی ختم کرتے ہیںاور باہمی الفت ومحبت کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔
(۴) توقف (pause) : جب غصہ آئے تو فوراً کوئی ردِّعمل نہ دیں بلکہ ۱۰تک گنتی گنیں ‘یا جگہ بدل لیں‘ یا وضوکرلیں۔ غصے میں دیا گیا جواب بدتمیزی کہلاتا ہے اور اس پر شرمندگی بھی ہوتی ہے۔
(۵) اچھا گمان: دوسروں کے افعال کی مثبت تاویل کریں۔ اگر کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا یا آپ کی کا ل اٹینڈ نہیں کی‘ تو سوچیں شاید وہ کسی پریشانی میں ہو گا یا وہ کہیں مصروف ہو گا۔ یہ سنہری اصول یاد رکھیں کہ اخلاق وہ نہیں جو آپ اپنے سے بڑے یا طاقتور کے ساتھ دکھاتے ہیں (وہ تو مصلحت یا ڈر ہو سکتا ہے )‘ بلکہ اصل اخلاق وہ ہے جو آپ اپنے ماتحت یا کسی کمزور کے ساتھ برتتے ہیں۔
ایک عملی ٹوٹکا :روزانہ رات کو سونے سے پہلے صرف دو منٹ کے لیے یہ سوچیں: ’’آج میری زبان یا عمل سے کسی کو دکھ تو نہیں پہنچا؟‘‘ اگر پہنچا ہے‘ تو جلداس کی تلافی کرنے کی کوشش کریں۔ یہ سادہ سی مشق آپ کو چند ہی دنوں میں ایک بہترین انسان بنا دے گی۔
گھریلو زندگی اور کام کی جگہ
یہ دو ایسے میدان ہیں جہاں انسان کے اخلاق کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ ان دونوں جگہوں پر خوش اخلاقی اختیار کرنے کے لیے کچھ عملی آداب درج ذیل ہیں:
(۱) گھریلو زندگی میں حسنِ اَخلاق :گھر وہ جگہ ہے جہاں ہم عموماً ’’بغیر کسی نقاب‘‘ کے ہوتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
((خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِاَهْلِهِ، وَاَنَا خَیْرُ کُمْ لِاَھْلِی))[سنن الترمذی:۳۸۹۵]
’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو۔‘‘
گھر والوں سے بات کرتے ہوئے آواز کو پست رکھنا اور محبت بھرے الفاظ استعمال کرنا سکون کا باعث بنتا ہے۔ گھر میں نوک جھونک فطری ہے‘ لیکن ’’بڑا‘‘ وہ ہے جو معاملے کورفع دفع کردے‘ غلطی ہونے پر معافی مانگنے میں پہل کرے اور اپنادل صاف کرلے۔گھر کے کاموں میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانا‘ حسنِ اخلاق کی بہترین مثال ہے۔ گھر کے افراد کی چھوٹی چھوٹی خوبیوں کی تعریف کریں اور ان کی کمزوریوں کی پردہ پوشی کریں۔ یہ تمام امور باہمی الفت ومحبت میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
(۲)جائے معاش پر حسنِ اَخلاق :ملازمت یا کاروبار میں آپ کا رویہ آپ کی پیشہ ورانہ کامیابی کا ضامن ہوتا ہے۔ اگر آپ افسر ہیں تو اپنے جونیئرز کے ساتھ سختی کے بجائے رہنمائی کا رویّہ اپنائیں۔ ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا‘آپ کی شخصیت کو معتبر بناتا ہے۔ اپنے کام کو وقت پر اور ایمان داری سے مکمل کرنا بھی حسن اخلاق کا حصہ ہے۔ یہ آپ کا وقار بڑھاتا ہے۔ ساتھیوں کے اچھے کام کی کھل کر تعریف کریں۔ حسد کے بجائے دوسروں کی کامیابی پر خوش ہونا اور مبارک باددینا‘ ایک اعلیٰ ظرف انسان کی نشانی ہے۔ اگر کسی کی اصلاح کرنی ہو تو اسے اکیلے میں پیار سے سمجھائیں‘ سب کے سامنے شرمندہ کرناحسنِ اَخلاق کے خلاف ہے۔
اقوالِ زریں اور جامع دعائیں
(۱) منتخب اقوالِ زریں ( حکمت کی باتیں )
’’تمہارا نفس تمہارا سب سے بڑا دشمن ہے‘ اسے اچھے اخلاق سے زیر کرو۔‘‘ (حضرت علیؓ)
’’تمہارا اخلاق تمہاری پہچان ہے‘ ورنہ ایک نام کے تو دنیا میں ہزاروں لوگ بستے ہیں۔‘‘ (شیخ سعدی)
’’خوب صورتی آنکھوں کو متاثر کرتی ہے‘ لیکن اچھا اخلاق دل جیت لیتا ہے۔‘‘
’’لوگوں کے ساتھ ویسا ہی رویہ ّاپناؤ‘جیسا تم چاہتے ہو کہ وہ تمہارے ساتھ اپنائیں۔‘‘
(۲)مسنون دعائیں
آئینہ دیکھتے وقت کی دعا:
(( اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي، فَأَحْسِنْ خُلُقِي ))[مسند احمد]
’’اے اللہ! جس طرح آپ نے میری صورت اچھی بنائی ہے‘ میری سیرت بھی اچھی کردیں۔‘‘
ایک جامع دعا:
((اللّٰهُمَّ اهْدِنِي لِاَحْسَنِ الْاَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِاَحْسَنِهَا اِلَّا اَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّی سَیِّئَھَا، لَایَصْرِفُ عَنِّی سَیِّئَھَا اِلَّا اَنْتَ))[صحیح مسلم:۱۸۱۲]
’’اے اللہ! مجھے حسن اخلاق کی ہدایت عطا فرما‘ ان اخلاق حسنہ کی جانب صرف تُو ہی رہنمائی کرنے والا ہے۔ اور بُرے اخلاق مجھ سے دور کر دے‘ تیرے سوا بُرے اخلاق کو مجھ سے دور کرنے والا کوئی نہیں‘‘
حاصل ِکلا م
حسنِ اَخلاق انسان کی زندگی کا قیمتی اثاثہ اور بیش بہا سرمایہ کاری ہے‘ جس کا نفع دنیا میں عزت‘ محبت اور کامیابی جبکہ آخرت میں نجات‘ بلند درجات‘ جنت‘ اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کے قرب کی صورت میں ملتا ہے۔ یہ وہ خوبی ہے جس کے لیے کسی مال و دولت کی ضرورت نہیں‘ بلکہ صرف ایک مثبت سوچ اور بڑے دل کی ضرورت ہے۔ حسنِ اَخلاق کو محض ایک نظریہ سمجھنے کے بجائے اسے اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہی اصل کامیابی ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعلیٰ اخلاق کا پیکر بنائے اور ہماری زندگی میں آسانیاں پیدا فرمائے۔( آمین یا ربّ العالمین !)