(تذکیر و موعظت) ندامت کے آنسو: خطا کار کا قیمتی سرمایہ - حافظ محمد اسد

12 /
ندامت کے آنسو: خطاکار کا قیمتی سرمایہ
حافظ محمد اسد
استادقرآن اکیڈمی ‘یٰسین آباد‘ کراچی
 
اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نے بنی آدم پر بڑا احسان فرمایا ہے کہ توبہ کا دروازہ ہر خاص و عام کے لیے ہر وقت کھلا رکھا ہے۔ غیر مسلم کے لیے تو خصوصی اعزاز ہے کہ دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہی’’ نو مولود بچے‘‘کی مانند پاک صاف ہو جاتا ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ چاہے کتنا ہی بڑا گناہ سرزد ہو جائے ‘فوری طور پر سچے دل سے توبہ کر لے اور ندامت کے آنسو بہا لے ‘اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ اپنے فضل و احسان سے سب معاف فرما دیتے ہیں۔ اصل میں شیطان ہمیں توبہ کرنے سے روکتا ہے ۔کہتا ہے:’’ارے احمق! روز یہ گناہ کرتا ہے اور معافی مانگتا ہے۔ شرم کر‘کس منہ سے معافی مانگتا ہے!‘‘ چنانچہ انسان مایوس ہو کر توبہ کرنا ترک کر دیتا ہے۔ 
گناہ اور قصور انسان کی فطرت میں شامل ہیں۔ کیا اس کی وجہ سے اللہ کا دربار چھوڑ دیاجائے؟ اللہ کا دربار چھوڑ کر کوئی اور جائے پناہ کہاں ہے جس کا سہارا لیا جائے؟ اس لیے تمام گناہ گار توبہ کریں اور ندامت کے آنسو بہا کر اللہ سے معافی مانگیں۔ وہ یقیناً معاف کرے گا اور خطاؤں کو بخش دے گا۔ رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ مبارک گنا ہوں اور خطاؤں سے پاک تھی۔ آپﷺ  معصوم عن الخطا تھے۔ اس کے باوجود آپﷺ کثرت سے توبہ کرتے تھے‘ محض ہماری تعلیم کے لیے۔ لہٰذا ہمیں بھی زیادہ سے زیادہ توبہ واستغفار کرنا چاہیے‘ کیوں کہ ہم سے چھوٹے بڑے بے شمار گناہ شب و روز ہوتے رہتے ہیں۔ حدیث میں ہے:
((يَا اَيُّهَا النَّاسُ تُوْبُوْا إِلَی اللّٰہِ، فَإِنِّيْ اَتُوْبُ فِيْ الْيَوْمِ إِلَيْهِ مِائَةَ مَرَّةٍ))(۱) 
’’اے لوگو! اللہ کے حضور توبہ کرو‘ کیوں کہ میں دن بھر میں اُس کے سامنے سو بار توبہ  کرتا ہوں۔‘‘
ایک دوسری روایت میں ہے: 
((وَاللّٰہِ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ اَکْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةٍ))(۲)
’’اللہ کی قسم ! میں ایک دن میں ستر بار سے زیادہ اللہ تعالیٰ کےسامنے استغفار اور تو بہ  کرتا ہوں۔‘‘
بار بار توبہ کی تعلیم سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرکسی گناہ سے ایک مرتبہ توبہ کرنے کے بعد پھر سے وہی گناہ سرزد ہوجائے تو دوبارہ توبہ کرلی جائے۔ اس میں شرم کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس توبہ واستغفار کے نتیجہ میں گناہ کو ترک کرنے کا داعیہ پیدا کردیا جاتا ہے۔
گناہ پر اصرار یعنی بے فکری اور بے خوفی کے ساتھ گناہ کرتے رہنا اور توبہ بھی نہ کرنا بڑی بدبختی اور بہت برے انجام کی نشانی ہے۔ ایسا عادی مجرم اللہ کی رحمت کا مستحق نہیں۔ اس لیے احادیث میں گناہ پر ندامت اور توبہ کی تاکید کی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اس بات کا احساس رہتا ہے کہ ہم سے دن بھر میں کتنے گناہ سرزد ہورہے ہیں؟ کیا ہمیں گناہ کے فوراً بعد اللہ سبحانہٗ و تعا لیٰ کی طرف رجوع کرنے کی توفیق ہوتی ہے؟ اگر نہیں‘ تو لمحہ فکریہ ہے‘ کیونکہ موت سامنے کھڑی ہے۔ کس وقت زندگی کا معاملہ لپیٹ دیا جائے‘ کچھ خبر ہی نہیں ۔ اصل میں توبہ ’’ندامت‘‘ کا نام ہے لیکن جب گناہ کا احساس تک نہ ہو تو پشیمانی کیسے ہو؟ احساسِ گناہ نہ ہونا ایک خطرناک روحانی بیماری ہے کیونکہ اس میں مبتلا مریض اپنی اصلاح نہیں کرتا۔ گناہ کرتے کرتے بالآخر وہ وقت آجاتا ہے کہ اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ اس حالت کو جناب رسول کریمﷺ نے یوں واضح فرمایا ہے:
((إِنَّ العَبْدَ إِذَا أَخْطَأَ خَطِیئَةً نُکِتَتْ فِی قَلْبِهِ نُکْتَةٌ سَوْدَاءُ، فَإِذَا هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ سُقِلَ قَلْبُهُ، وَإِنْ عَادَ زِیدَ فِیهَا حَتَّی تَعْلُوَ قَلْبَهُ))(۳)
’’بے شک جب بندہ ایک گناہ کرتا ہے تو ایک سیاہ نقطہ اس کے دل میں لگا دیا جاتا ہے‘ پھر جب وہ گناہ چھوڑ دیتا ہے اور استغفار و توبہ کرتا ہے‘ تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے‘ اور یہ (بغیر توبہ کیے ہوئے) دوبارہ گناہ کرتا ہے تو اس نقطہ میں زیادتی کر دی جاتی ہے‘ یہاں تک کہ وہ پورے دل پر چھا جاتا ہے۔‘‘
کوئی شخص توبہ و استغفار نہ کرے‘ بلکہ مستقل گناہ کرتا رہے‘ تو سیاہ نقطہ بڑھتا چلا جاتا ہے‘ یہاں تک کہ اس کا دل زنگ آلود ہوجاتا ہے۔ پھر حق قبول کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔  توبہ سے غفلت کی وجہ گناہوں کا وہ ماحول ہے جس میں ہماری اکثریت ملوث رہتی ہے۔ مثلاً فلمیں اور ڈرامے دیکھنا‘ شادی بیاہ میں آلات موسیقی اور مخلوط محافل ‘ اسمارٹ موبائل کا بے جا استعمال۔ اس کے ساتھ معیشت کے اعتبار سے سودی کاروبار اور دھوکا دہی کرنا‘ رشوت کا لین دین‘ ناپ تول میں کمی‘ مادی عیش کی ہوس اور دنیا ہی کے غم میں رات دن گھلتے رہنا۔ یہ وہ ماحول ہے جس میں آخرت کا خیال آنا تو درکنار‘ گناہ کا احساس تک ختم ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً برائی بری نہیں لگتی بلکہ کچھ عرصہ ایسے ماحول میں رہنے سے برا ئی سے منع کرنے والوں کو ہی برا سمجھا جانے لگتا ہے۔ گویا کانوں اور آنکھوں پر پردے پڑ جاتے ہیں‘ عقل وحواس کھو جا تےہیں۔ ایسے افراد کا سننا‘ دیکھنا‘ چلنا پھرنا گویا جانوروں کی طرح ہے۔ اللہ سبحانہٗ وتعا لیٰ کا فرمان ہے:
{وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِز  لَہُمْ قُـلُوْبٌ لَّا یَـفْقَہُوْنَ بِہَاز وَلَہُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُـبْصِرُوْنَ بِہَاز وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِہَاط اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ ط اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ(۱۷۹)}(الاعراف)
’’اور ہم نے جنات اور انسانوں میں سے بہت سے لوگ جہنم کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے پاس دل ہیں جن سے وہ سمجھتے نہیں‘ ان کے پاس آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں‘ ان کے پاس کان ہیں جن سے وہ سنتے نہیں۔ وہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں‘ بلکہ وہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جوغفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘
جانوروں میں اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی آیات سمجھنے‘ دیکھنے اور سننے کی قوت ہی نہیں‘ لہٰذا اگر وہ نہ سمجھیں تو معذور ہیں‘ لیکن انسان کے اعضاء میں یہ قوت موجود ہے‘ پھر بھی وہ اس سے کام نہیں لیتا لہٰذا وہ جانوروں سے بھی بدتر ہے۔ بظاہر یہ آیت کفار کے بارے میں ہے لیکن ایسے مسلمان جو اپنا معاملہ اللہ سبحانہٗ وتعا لیٰ سے (سچی توبہ کے ذریعے) درست نہیں کرتے‘ اُن کامعاملہ بھی بالآخر دل پر مہر اور گمراہی پر ہی تمام ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ عقیدے کی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ گناہ پر ڈٹے رہنا اور اپنی غلطی نہ ماننا شیطان کی خصلت ہے جبکہ اپنی خطا پر ندامت کے آنسو بہانا حضرت آدم  علیہ السلام  کی صفت ہے۔ اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ نےسب سے پہلے توبہ کا طریقہ ہمارے جدّ ِامجد (حضرت آدم اور امّاں حوّا علیہما السلام) کو سکھایا تھا۔ اس واقعہ کو قرآن مجید میں متعدد مرتبہ بیان کیا گیاہے‘ جس سے ابلیسیت اور آدمیت کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔ ندامت کے آنسو خطا کار کے لیے کتنا قیمتی اثاثہ ہیں‘ اس کا اندازہ لگانے کے لیے یہ روایات قابل غور ہیں۔ رسولِ اکرمﷺ فرماتے ہیں:
((اللّٰہُ اَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِہِ مِنْ اَحَدِکُمْ سَقَطَ عَلَی بَعِيرِہِ وَقَدْ اَضَلَّهُ فِي اَرْضِ فَلَاۃٍ))(۴) 
’’اللہ  تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ سے تم میں سے اس شخص کے مقابلے میں زیادہ خوش ہوتا ہے‘ جس نے اپنا اونٹ پالیا ہو‘ حالانکہ اس نے اس کو ایک چٹیل میدان میں گم کردیا تھا۔‘‘
((التَّائِبُ مِنْ الذَّنْبِ كَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَهُ))(۵)
’’گناہ سے توبہ کرنے والا اس شخص جیسا ہے جس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔‘‘
((اِذَا تَابَ الْعَبْدُ اَنْسَى اللّٰهُ الْحَفَظَةَ ذُنُوبَهُ وَاَنْسَى ذَالِكَ جَوَارِحَهُ وَمَعَالِمَةَ مِنَ الْأَرْضِ حَتَّى يَلْقَى اللّٰهَ وَلَيْسَ عَلَيْهِ شَاهِدٌ مِّنَ اللّٰهِ بِذَنْبٍ))(۶)
’’ بندہ جب توبہ کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ ملائکہ (کراماً کاتبین) کو بھی بھلا دیتا ہے اور جن اعضا ءسے گناہ ہوا تھا ان اعضا ءسے بھی بھلا دیتا ہے‘ اور جہاں جہاں زمین پر گناہ ہوئے تھے زمین کے نشانات بھی مٹادیتا ہے‘ یہاں تک کہ وہ شخص قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے گناہ پر کوئی گواہی دینےوالا نہ ہوگا۔‘‘
حضرت تھانوی ؒاس حدیث کونقل کر کے فرماتے ہیں کہ اللہ سبحانہٗ و تعا لیٰ نے ہما رے گناہوں کو مٹانے کے لیے ملائکہ کو بھی استعمال نہیں کیا بلکہ اپنی طرف نسبت فرمائی کہ اَنْسَی اللُّٰہُ  یعنی اللہ سبحانہٗ و تعا لیٰ بھلا دے گا۔ اس کا راز یہ ہے کہ فرشتے قیامت کے دن طعنہ نہ دے سکیں کہ تم تھے تو نالائق مگر ہم نے تمہاری خطاؤں کو مٹا دیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے احسان سے اپنے بندوں کو بچا لیا اور ان کی آبرو رکھ لی۔ دنیا کے حکمران ایسا نہیں کرتے‘ وہ اگر معاف بھی کرتے ہیں تو عدالتوں میں متعلقہ فرد کے جرم کا ریکارڈ محفوظ رکھا جاتا ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ جس کو معافی دیتے ہیں‘ اس کے تمام گواہ اور دستاویزات سمیت تمام ریکارڈختم کر دیتے ہیں۔ کیا شان ہے اس کریم سلطان السلاطین کی!  (بحوالہ التشرف بمعرفۃ احادیث التصوف)
ان فضائل کے بعد بھی اگر کوئی شخص’’رجوع الی اللہ‘‘ میں کوتاہی کا ارتکاب کرے تو اس سے بڑا نادان کوئی نہ ہوگا۔ اس کیفیت کا حصول کہ’’احساسِ گناہ‘‘ پیدا ہوجائے‘ یہ کیسے ہو گا؟ ایسا نہیں ہو گا کہ ہم برے ماحول میں رہیں اور نیکو کار بھی بن جائیں۔ اچھے نتائج اُسی وقت بر آمد ہوں گے جب انسان اچھی صحبت اختیار کرے گا۔ اچھی صحبت علمائے کرام اور اللہ والوں کی مجالس میں شرکت کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک بہتر صورت یہ بھی ہے کہ خطاب ِجمعہ میں اہتمام کے ساتھ شرکت کو لازمی سمجھیں۔ قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کا تشریحات کے ساتھ بغور مطالعہ کریں۔ خواتین کو ایسے مواقع عموماً کم حاصل ہوتےہیں۔ لہٰذا مَردوں کو چاہیے کہ اپنےاہل خانہ کی دینی تعلیم کے لیے وقت معین کریں‘ اور اس میں ناغہ نہ کریں۔ بچوں پر ان کے دوستوں کے حوالے سے بھی کڑی نظر رکھیں تاکہ وہ بری صحبت سے محفوظ رہیں۔ اصل تیاری آخرت کی ہے ‘جس کے بارے میں باز پُرس کی جائے گی۔ خدارا! اپنے بچوں کی دنیا ہی نہیں  بلکہ آخرت بنانے کی بھی فکر کریں۔ آج کے بچے کل ملک و ملت کے معمار بنیں گے۔ ان کی تعلیم و تربیت اسلامی خطوط پر ہوگی تو دُنیا اور آخرت دونوں سنور جائیں گے‘ ان شاء اللہ۔ اللہ سبحانہ ٗ وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نبوی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پورے اخلاص کے ساتھ رجوع الی اللہ کی فکرکو ہمارے طرزِ عمل کا لازمی حصہ بنادے۔ آمین یا ربّ العالمین!
حواشی
(۱)  صحیح مسلم: ۲۷۰۲
(۲) صحیح البخاری:۶۳۰۷  
(۳) سنن الترمذی:  ۳۳۳۴
(۴) صحیح البخاری: ۶۳۰۹ ، صحیح مسلم:۶۹۶۱ 
(۵) سنن ابن ماجة:۴۲۵۰
(۶) جامع الصغیر، ج اول، ص۲۱