بچے: اقتدار سے زیادہ اہم!خالد نجیب خان
معاون مرکزی شعبہ نشرو اشاعت
ابھی اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں۱۴ نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کی خبر کی سیاہی خشک نہیں ہوئی تھی کہ ظالم ایک اور خبر لے آئے کہ مٹھی کے سول ہسپتال میں صرف آٹھ ماہ کے دوران۴۸۰ نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے ہاں بچوں کی موت بھی اب خبر نہیں رہی‘ صرف اعداد و شمار رہ گئی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اسلام آباد میں اگر ایک نومولود کی سانس رک جائے تو خبر بنتی ہے‘ جبکہ مٹھی میں سینکڑوں بچوں کی سانسیں رُک جائیں توشاید فائل بنتی ہے‘ رپورٹ بنتی ہے‘ اور پھر کسی میز کی دراز میں دفن ہو جاتی ہے۔
مٹھی تھرپارکر میں ہے‘ اسلام آباد سے سینکڑوں کلومیٹر دور۔ اتنی دور کہ وہاں کے بہت سے عام لوگ شاید یہ بھی نہیں جانتے کہ اسلام آباد میں آج کل کس کے بیان پر کس کی پریس کانفرنس ہورہی ہے‘ کس نے کس کو دھمکی دی ہے‘ کس نے کس کے خلاف قرارداد لانے کا اعلان کیا ہے اور کس صوبے کو کس سے بچانے کے لیے سیاسی جنگ لڑی جارہی ہے۔ البتہ اسلام آباد میں اقتدار کے ایوانوں کو یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ مٹھی میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی پہلی ضرورت کسی سیاسی نعرے‘ کسی قرارداد‘ کسی پریس کانفرنس یا کسی انتخابی جلسے کی نہیں ہوتی؛ اسے دودھ‘ دوا‘ آکسیجن‘ ڈاکٹر اور ایک محفوظ ہسپتال چاہیے۔
مٹھی کے سول ہسپتال کے ریکارڈ کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات نہایت پریشان کن ہیں۔بتایا گیا ہے کہ جنوری سے اگست ۲۰۲۶ء تک ۲۷۳۲ بچوں کو ہسپتال میں داخل کیا گیا۔اِن میں سے ۱۳۸۷ بچوں کو صحت یاب ہونے پر ڈسچارج کیا گیا‘ جبکہ ۱۰۶کو مزیدعلاج کے لیے دوسرے ہسپتالوں میں ریفرکیا گیا۔ باقی بچوں کا کیا ہوا؟ موصول ہونے والے اعداد و شمار اس سوال کا جواب نہیں دیتے۔اگر یہی اعدادو شمار درست ہیں تو ۱۲۳۹ بچوں کا حساب باقی رہ جاتا ہے جن میں سے ۴۸۰ تو اللہ کے پاس پہنچ گئے مگر باقی نہ گھر پہنچے نہ کہیں اور۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جسے کسی سیاسی تقریر‘ کسی سرکاری وضاحت یا کسی رسمی بیان کے ذریعے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ہماری دعا ہے کہ یہ بچے بھی صحت یاب ہوکر گھروں کو لوٹنے والوں میں ہی شامل ہوں‘ کیونکہ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر معاملہ اعداد و شمار کے ایسے گورکھ دھندے کا ہے جس کی سنگینی کا اندازہ شاید ابھی ہم نے لگایا ہی نہیں۔
۴۸۰ بچوں کی اموات کا عدد درست خیال کرتے ہوئے ہی ایک اور سوال سامنے آتا ہے۔ جنوری سے اگست تک ۲۴۳ دن میں اوسطاً دو نومولود روزانہ موت کے منہ میں گئے۔ یعنی ہر روزدو خاندان اپنے بچوں کی موت کا غم لے کر واپس جاتے رہے۔ ذرا تصور کیجیے‘ اگر اسلام آباد‘ لاہور‘ کراچی یا کسی بڑے شہر کے کسی معروف ہسپتال میں مسلسل آٹھ ماہ تک روزانہ تقریباً دو نومولود بچے مر رہے ہوتے تو کیا ہمارا قومی ضمیر اتنا ہی خاموش رہتا؟ یقیناً نہیں!لیکن مٹھی میں ایسا ہوتا ہے تو ہم کہہ دیتے ہیں کہ تھر تو ویسے ہی پس ماندہ ہے۔ یہ ’’ویسے ہی‘‘ بڑا ظالم لفظ ہے۔
تھر میں غذائی قلت ہے‘ ماؤں کی غذا ناقص ہے‘ کم عمری کی شادیاں ہیں‘ وبائی امراض ہیں‘ غربت ہے‘ دور دراز بستیاں ہیں‘ صحت کی سہولتوں کی کمی ہے۔ یہ سب ایسی حقیقتیں ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام مسائل آسمانی فیصلے ہیں جنہیں بدلنے کی کوئی انسانی کوشش نہیں کی جاسکتی؟ کیا غذائی قلت کو ختم نہیں کیا جاسکتا؟ کیا حاملہ خواتین کو مناسب خوراک نہیں دی جاسکتی؟ کیا بنیادی مراکز صحت کو فعال نہیں کیا جاسکتا ؟کیا تربیت یافتہ دائیوں‘ نرسوں اور ڈاکٹروں کی دستیابی یقینی نہیں بنائی جاسکتی؟ کیا نومولود بچوں کے لیے ضروری ادویات‘ آکسیجن اور طبی آلات فراہم نہیں کیے جاسکتے؟ کیا دور دراز علاقوں میں زچہ و بچہ مراکز قائم نہیں ہوسکتے؟ اگر اِن سوالوں کا جواب ’’ہاں‘‘ ہے تو پھر سوال بیماری کا نہیں‘ ترجیحات کا ہے‘اور ترجیحات کا تعلق براہ راست اقتدار سے ہوتا ہے۔
تھرپارکر سندھ کے اُن دور دراز علاقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں ریاست کی موجودگی کا احساس بعض اوقات انتخابات کے موسم میں زیادہ اور باقی دنوں میں کم ہوتا ہے۔ یہاں آبادی کی اکثریت مسلمان ہے جبکہ ایک بڑی تعداد ہندو برادری سے تعلق رکھتی ہے۔ قومی اسمبلی میں اِس علاقے کی نمائندگی بھی برسوں سے سیاسی طور پر اہم رہی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ قومی اسمبلی میں کون بیٹھا ہے‘ صوبائی اسمبلی میں کون منتخب ہوا ہے یا کس جماعت کا امیدوار کامیاب ہوا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جس علاقے کے لوگوں نے اپنے نمائندے منتخب کرکے اسلام آباد اور کراچی بھیجے‘ اُن کے بچوں کو زندگی کی بنیادی ضمانت کیوں نہیں مل رہی؟ ’’بھٹو زندہ ہے‘‘ کے نعرے اپنی جگہ‘ مگر تھر کا وہ بچہ جس کی سانس علاج نہ ملنے کے باعث رُک جائے‘ وہ کس نعرے کے سہارے زندہ ہوگا؟ اگر بھٹو واقعی زندہ ہے تو اُسے اِس سوال کا جواب ضرور دینا ہوگا کہ اُس کے نام پر کئی دہائیوں سے سیاست کرنے والوں کے زیر اقتدار صوبے کے ایک دور افتادہ علاقے میں بچے کیوں مر رہے ہیں؟
سندھ کی تقسیم کا سوال اُٹھتا ہے تو سیاسی قیادت فوراً متحرک ہوجاتی ہے۔ صوبے کی وحدت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ قراردادوں کی بات ہونے لگتی ہے۔ بیانات جاری ہوتے ہیں۔ تاریخ یاد دلائی جاتی ہے۔ جغرافیہ سمجھایا جاتا ہے۔ سب سے بڑھ کر اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والے کو اچانک احساس ہوتا ہے کہ صوبہ اُس کے بغیر ادھورا ہے۔چند روز قبل وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی کہا کہ اگر کسی میں ہمت ہے تو سندھ کی تقسیم کی قرارداد لاکر دکھائے۔ جب تک ایک بھی رکن زندہ ہے‘ صوبہ تقسیم نہیں ہوگا۔ہم اس بحث کے سیاسی پہلو میں نہیں جاتے۔ سندھ ایک صوبہ ہے۔ اس کی تاریخی‘ ثقافتی اور سیاسی شناخت اپنی جگہ اہم ہے۔ صوبوں کی تشکیل یا تقسیم آئینی‘ جمہوری اور عوامی عمل کے ذریعے ہونی چاہیے۔البتہ ایک سوال بہرحال پوچھا جاسکتا ہے کہ صوبہ کس کے لیے ہوتا ہے؟ کیا صوبہ نقشے پر ایک لکیر کا نام ہے؟ کیا صوبہ اسمبلی کی نشستوں کا مجموعہ ہے؟ کیا صوبہ اقتدار کی تقسیم کا نام ہے؟ یا صوبہ دراصل اُن انسانوں کا نام ہے جو اس خطے میں رہتے ہیں؟ اگر صوبے کی وحدت کا مطلب یہ ہے کہ اُس کی سرحدیں تو سلامت رہیں لیکن اُس کے دور افتادہ علاقوں میں بچے مرتے رہیں تو ہمیں اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ زیادہ اہم کیا ہے: صوبہ بچانا یا صوبے کے بچے؟ یہ سوال صرف سندھ سے متعلق نہیں۔ یہی سوال بلوچستان‘ خیبرپختون خوا‘ پنجاب‘ گلگت بلتستان‘ آزاد کشمیر اور پاکستان کے ہر اُس علاقے سے متعلق ہے جہاں ریاست کے وسائل اور شہری کی ضرورت کے درمیان فاصلہ بڑھتا جارہا ہے۔ صوبے بڑے ہوں یا چھوٹے‘ دارالحکومت قریب ہو یا دور‘ حکومت کسی ایک جماعت کی ہو یا دوسری کی‘ بنیادی سوال وہی رہتا ہے: شہری کو زندگی کی بنیادی سہولت کب ملے گی؟
یہاں ایک اور تلخ حقیقت بھی سامنے آتی ہے۔ پاکستان میں صوبوں کی تقسیم کی بحث روزبروز شدت اختیار کررہی ہے۔ ہر صوبے میں کچھ لوگ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کو بہتر حکمرانی کا ذریعہ سمجھتے ہیں‘ جبکہ کچھ سیاسی جماعتیں اِسے اپنی سیاسی قوت کے لیے خطرہ تصور کرتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ جو جماعتیں ایک صوبے میں نئے صوبوں کی حمایت کرتی ہیں‘ دوسرے صوبے میں اُسی مطالبے کو ملک دشمنی یا صوبہ دشمنی قرار دینے لگتی ہیں۔گویا اصول وہ نہیں ہوتا جو درست ہو‘ اصول وہ ہوتا ہے جو اُس وقت ہمارے مفاد میں ہو۔ نئے صوبے اگرصرف اس لیے بنائے یا نہ بنائے جائیں کہ کس سیاسی جماعت کو کتنا فائدہ ہوگا تو پھر یہ عوام کا نہیں‘ اقتدار کا مسئلہ ہے۔ اقتدار کے بارے میں ہمارا ایمان اس سے کہیں زیادہ واضح ہے جتنا ہماری سیاست نے اِسے بنا دیا ہے۔اقتدار کسی انسان‘ خاندان‘ جماعت یا نسل کی جاگیر نہیں۔ قرآن مجید ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اقتدار دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ یعنی اقتدار انعام سے زیادہ امتحان ہے۔
دین تواقتدار کو ذِمّہ داری قرار دیتا ہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منسوب یہ مشہور قول کہ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر جائے تو مجھے اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھ سے اُس کے بارے میں سوال کرے گا‘ ہمارے حکمرانوں کے لیے محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حکمرانی کا ایک اخلاقی معیار ہونا چاہیے۔ ذرا اس معیار کو سامنے رکھ کر آج کے حکمران اپنے دفتر میں بیٹھ کر سوچیں۔ مٹھی میں مرنے والا بچہ کس کا ذمہ ہے؟ وہ بچہ جو غذائی قلت کا شکار ہوا‘ کس کا ذمہ ہے؟ وہ ماں جو مناسب طبی سہولت کے بغیر بچے کو جنم دیتی ہے‘ کس کی ذمہ داری ہے؟ اگر ہسپتال پہنچنے کے بعد بھی اس کے بچے کو مناسب علاج نہیں ملتا تو وہ کس دروازے پر دستک دے؟ سرکاری ہسپتالوں میں نوزائیدہ بچوں کی نرسریوں میں ہونے والی آتشزدگیوں میں جاں بحق ہونے والے بچے کس کی ذمّہ داری ہیں؟
ایک طرف ہم اربوں‘ کھربوں روپے کے ریکارڈ خسارے کے بجٹ بناتے ہیں‘ ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کرتے ہیں۔سیاسی اجتماعات میں قومی ترقی کے دعوے کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف ایک ماں اپنے نومولود بچے کو محض اس لیے نہیں بچا پاتی کہ ہسپتال میں وہ سہولت موجود نہیں جس کی لاگت شاید کسی بڑے منصوبے کے ایک معمولی حصے سے پوری ہوسکتی تھی۔ اگر ہم نے ترقی کے تمام پیمانے بنا لیے لیکن ایک غریب بچے کی زندگی کو محفوظ نہ بنا سکے تو پھر ہمیں اعداد و شمار میں ترقی یافتہ اور حقیقت میں ناکام معاشرہ کہلوانے میں شرم محسوس نہیں ہونی چاہیے۔
ریاستی ذِمّہ داریوں کو اللہ کے کھاتے میں ڈال دینا توکّل نہیں‘ بدانتظامی ہے۔ایسے واقعات کا یہ جواز دینا غلط ہے کہ تھر میں غربت اور پس ماندگی ہے۔ سوال یہ ہے کہ غربت کم کرنے کے لیے گزشتہ برسوں میں کیا کیا گیا؟یہ کہنا غلط ہے کہ وہاں غذائی قلت ہے۔ سوال یہ ہے کہ غذائی قلت کے خاتمے کے لیے مختص وسائل کہاں خرچ ہوئے؟یہ کہنا غلط ہے کہ ہسپتال دور ہے۔ سوال یہ ہے کہ موبائل ہیلتھ یونٹس‘ ایمبولینسز اور بنیادی مراکز صحت کیوں مؤثر نہیں؟
صوبے تقسیم ہوں یا نہ ہوں‘ اس پر بحث ہوتی رہے گی۔ نئی انتظامی اکائیاں بنیں یا موجودہ صوبے برقرار رہیں‘ اس پر بھی دلائل آتے رہیں گے۔ سیاسی جماعتیں اپنی اپنی مصلحت کے مطابق موقف بدلتی رہیں گی۔ البتہ ایک چیز پر تو کم از کم اتفاق ہوسکتا ہے: ’’بچے نہیں مرنے چاہئیں!‘‘ مٹھی میں‘نہ پمز میں‘نہ پاکستان کے کسی ایسے کونے میں جہاں ایک ماں اپنے بچے کو گود میں لے کر ریاست کی طرف اُمید سے دیکھ رہی ہو۔
حکمرانو! صوبوں کے نقشے یاد رکھنے سے پہلے اُن ماؤں کے چہرے یاد رکھوجن کی گودیں تمہارے مقاصد کے حصول میں اُجڑ جاتی ہیں ۔یہ بھی یاد رکھو کہ تاریخ حکمرانوں کے بنائے ہوئے نقشے بھول سکتی ہے‘ سیاسی جماعتوں کے نعرے بھول سکتی ہے‘ انتخابی منشور بھول سکتی ہے‘ مگر ایک بے گناہ بچے کی موت کا سوال شاید کبھی نہیں بھولتی۔ آخرت میں تو نقشے بھی نہیں ہوں گے‘ نعرے بھی نہیں ہوں گے‘ جماعتیں بھی نہیں ہوں گی‘ عہدے بھی نہیں ہوں گے۔ وہاں صرف اعمال ہوں گے اور ان اعمال کی جواب دہی ہوگی!
tanzeemdigitallibrary.com © 2026