قدیم انگلینڈ میں بیویوں کی خرید و فروخت
رضی الدین سید
آج انگلینڈ سمیت تمام مغربی دنیا میں عورتوں کے حقوق کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے۔ عورت کو مرد کے سر کا تاج مانا جا رہا ہے اور ان کی حدود وسیع کرنےکی خاطر بہت سارے قدیم قوانین ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیے گئے ہیں۔ ایسے میں چند صدیاں پیچھے جاکر اُس دور کی مظلوم خواتین کی تاریخ دیکھنی چاہیے کہ ان کے ساتھ کس قدر نفرت انگیز سلوک روا رکھا جاتا تھا۔ ایک جیتی جاگتی ہستی جس کے سینے میںدل اور سر میں ایک دماغ تھا‘ جس کی فطرت بھی کچھ حقوق مانگتی تھی اور جو اپنے لیے کسی تحفظ کی بھی طلب گار تھی‘ وہ ایک بے کار شے سمجھی جاتی تھی۔ اس کے اور غلاموں کے درمیان کسی قسم کا فرق روا نہیں رکھا جاتا تھا۔ نہ صرف عام خواتین ‘ بلکہ ملکائوں تک کے ساتھ یہ جبر اور بربریت بلا کسی شرم و حیا کے جائز سمجھی جاتی تھی۔ یورپ کی تاریخ بتاتی ہے کہ شادی کے کچھ عرصے بعد ہی‘ عیسائی بادشاہ اپنی بیویوں کو بلا وجہ قتل کردیتے تھے یا ملکہ ہونے کے باوجو د غلام سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے تھے۔ اس کے برعکس اسلام کا یہ مسئلہ ہے ہی نہیں۔ اس کی یہ تعلیم ہی نہیں کہ عورت کو خریدو فروخت والی جنس سمجھا جائے۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں عورت کا مقام اور اس کے حقوق ہمیشہ سے واضح ہیں۔چنانچہ ہماری تاریخ اس قسم کے گھنائونے اور دردناک قصوں سے یکسر پاک ہے۔ اسلام خواتین کے لیے ایک دین رحمت ثابت ہوا‘ جس نے انہیں مَردوں ہی کی مانند ایک مکمل وجود اور قابل احترام شخصیت دے کر مکمل حقوق دیے۔
یہ تاریخ کا ایک دلچسپ باب ہے کہ برطانیہ میں سترھویں صدی کے آخرسے بیسویں صدی کے آغاز تک بیویاں باقاعدہ فروخت ہوا کرتی تھیں۔ اس ضمن میں ملکہ وکٹوریہ کا دور بہت معروف ہے۔ یہ تب ہوتا تھا جب میاں بیوی میں اختلافات نفرت کی حد تک پہنچ جاتے تھے۔ طلاق بھی اس کا ایک حل تھا‘ لیکن اس میں قانونی پیچیدگیاں بہت تھیں اور عام افراد نہ صرف اس کے اخراجات ادا نہیں کرسکتے تھے بلکہ بیوی پر زنا کے جھوٹے الزام پر شوہرکوجیل بھی بھیجا جا سکتا تھا۔ واضح رہے کہ توراتی قانون کے تحت میاں بیوی میں علیحدگی صرف بدکاری کے جرم میں ہوسکتی ہے۔ دولت مند طبقہ ہی طلاق کے جرمانے ادا کرنے کے قابل تھا‘ اس لیے ایک دوسرے سے تعلق توڑنے کی خاطر یہ جوڑے باہمی رضامندی سے فروخت کا قدم اٹھاتے تھے۔ بیوی باقاعد ہ اجازت دیتی تھی کہ اسے کسی اور کے ہاتھوں فروخت کرکے اس کی جان چھوڑ دی جائے۔ ا س طریقے سے مرد کو طلاق کی بھاری رقم کی ادائیگی سے بھی بچائو ہوجاتا تھا اور کسی ایک فریق کے قتل ہونے کے امکانات بھی ختم ہوجاتے تھے۔ طریقہ یہ ہوتا تھا کہ بیوی کی گردن ‘ کمر اور بازوئوں کے گرد لگام جیسی رسّی باندھ کرشوہر اسے کسی جانور کی مانند مارکیٹ میں لے کر جاتا تھا اور کسی درخت یا جنگلے سے اس کی لگام کو باندھتایاسب کے سامنے گھماتا پھراتا تھا۔ اس کے بعد اس کی نیلامی کی جاتی تھی۔ مرد حضرات اس کا معائنہ کرتے اور سودے بازی کرتے‘ جس کے بعد بیویطے شدہ قیمت پر فروخت ہو کر نئے خریدارکے پاس چلی جاتی تھی۔
سودے کے بعد باقاعدہ اعلان کیا جاتا تھا کہ مذکورہ عورت کا سابق شوہر سے تعلق اب ختم ہوگیا ہے اور فلاں شخص اس کا نیا قانونی شوہر ہے۔ قدیم رومن قوانین میں کسی داشتہ کو اپنی بیوی قرار دینے کے لیے لازمی تھا کہ اس کادوست کسی دن بہت سےلوگوں کے سامنے داشتہ کے چہرے پر نقاب ڈال دے اورکہے کہ آج سے یہ میری بیوی ہے۔ اگرا س نے یہ عمل سب کے سامنے نہیں کیا اور بس اکیلے ہی میں اعلان کردیاکہ یہ میری بیوی ہے تو وہ قانونی طورپر اس کی بیوی نہیں گردانی جاتی تھی۔ اگرچہ برطانوی قانون اس کے برعکس تھااورایسے عمل کی سزا بھی مقرر تھی‘ لیکن قانون بس ڈھیلا ڈھالا ہی تھا اور حکام اس سے چشم پوشی ہی کرتے تھے۔ ایک مجسٹریٹ کا تو علی الاعلان کہنا تھا کہ و ہ نہیں سمجھتا کہ اس عمل پر کوئی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔ اخبارات کے اِجراء کے بعد تو بیویوں کی خرید وفروخت کا یہ کاروبار پھیلتا ہی چلا گیا ۔ کبھی کبھی تو یہ عمل اخبارات میں باقاعدہ اشتہارات کے ساتھ بھی انجام پاتا تھا۔ اگر کبھی کسی عورت کا بچہ ساتھ ہوتا توخاتون کے ساتھ وہ بچہ بھی کسی اور کے پاس چلا جاتا تھا‘ جس کی قیمت عورت سے بہت کم رکھی جاتی تھی۔ اُس دورمیں چونکہ عورت کو شوہر کی ملکیت ہی سمجھا جاتا تھا اس لیے یہ اس کا جائز حق مانا جاتا کہ اپنی بیوی کو وہ عام ملکیت کی مانند کہیں بھی فروخت کردے۔ اس کاروبار کے لیے باقاعدہ مارکیٹیں وجود میں آچکی تھیں جہاں رش پایا جاتا تھا۔
ایک برطانوی قانون دان اور تاریخ نویس ’’جیمس برائس‘‘ نے ۱۹۰۱ ء میں لکھا کہ یہ کاروبار اُس کے اپنےدور تک بھی جاری تھا ۔حتیٰ کہ ایک عورت نے ’’لیڈز پولیس ‘‘کے سامنے اقرار کیاکہ اس کے شوہر نے اسے اپنے دوست کو صر ف ایک پائونڈ میں بیچا ہے۔ عورت کی قیمت توہین آمیز حد تک گری ہوئی ہوتی تھی۔ کبھی کبھی تو وہ محض تین شلنگ میں بھی بک جاتی تھی۔ بچوں کی کہانیاں لکھنے والے ایک مصنف’’ بیرنگ گولڈ‘‘ نے اپنی کتاب میں پورا ایک باب ہی اس موضوع پر تحریر کیا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ اپنے بچپن میں اس نے ایک شاعر کو دیکھا کہ مارکیٹ سے وہ ایک عورت کے ساتھ لوٹ رہا ہے اور اسے اپنی بیوی کہہ رہا ہے۔ بتا رہا ہے کہ سودا بہت مناسب طورپرہوا کیونکہ وہ مذہب اور قانون‘ دونوں کے عین مطابق تھا۔ انیسویں صدی کے ایک جج کا یہ تبصرہ ریکارڈ پرہے کہ وہ محسوس کرتاہے کہ اسے بیویوں کی فروخت روکنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ بیویوں کی خرید و فروخت کا یہ سلسلہ انگلینڈ سے ہوتا ہوا آسٹریلیا ‘ فرانس اور امریکہ تک پھیل چکا تھا۔ اُس وقت کے بادشاہ اپنے عوام پر اس قدر زیادہ ٹیکس اور مالی بوجھ لاد دیتے تھےکہ غریب ‘غریب تر ہوجاتاتھا اور سرکاری رقم کی ادائیگی کے لیے مجبور ہوکر نہ صرف اپنی بیوی کو مارکیٹ میں فروخت کرتاتھابلکہ اپنے بچوں کو بھی۔
جیسے جیسے شعور بیدار ہوتا گیا‘ بیویوں نے اعتراضات شروع کردیے۔ تاہم مسئلہ حل ہونے کا امکان نہیں تھا‘کیونکہ مذہبی عدالتوںمیں طلاق کا حصول بہت مہنگا‘ طویل اور تکلیف دہ تھا۔ اس لیے بیویوں کی خرید و فروخت کا سلسلہ جاری ہی رہا۔ کمزور مالی حیثیت اور سخت مزاج شوہروں والی عورتیں تو اصرار کرتی تھیں کہ گھریلو تشدد کی وجہ سے انہیں فروخت ہی کر دیا جائے۔ ایسے ہی ایک سودے میں ہوتے ہوتے بیوی کا آخری دام پانچ شلنگ ہی لگ سکا۔بیوی کو وہ آدمی اچھا نہیں لگا تو دام مزیدگرگئے اور کسی دوسرے نے اسے محض تین شلنگ ہی میں خرید لیا۔ ایک با ر لندن کے کسی دوکاندار نے اپنی بیوی کو کسی اورکے ساتھ قابل اعتراض حالت میںدیکھا تو بجائے غصے میں آنے کے اُس کے آشنا سے کہا کہ وہی اس عورت کو خرید لے‘ اور اس طرح یہ سودا مکمل ہوگیا۔ کسی کی بیوی کا رضاکارانہ طور پرکسی اور کی بیوی بن جانے کا عمل بھی بہت عام تھا۔ کبھی کبھی بیوی اپنے شوہر سے اس قدر بیزار ہوجاتی کہ کسی غریب خریدار کو قیمت خود ہی دے دیتی تاکہ وہ اسے اس کے شوہر کو ادا کرسکے۔
اُس دور تک عیسائیت میں تحریری نکاح نامہ بھی نہیں ہوتا تھا‘ جبکہ شادی کے لیے مناسب عمر لڑکے کے لیے ۱۴ سال اور لڑکی کے لیے ۱۲ سال سمجھی جاتی تھی۔ ۱۷۵۳ء تک شادیاں نہ تو گرجائوں میں ہوتی تھیں اور نہ نکاح نامہ تیار کیا جاتا تھا۔ شادی کے بعد بیوی کی تمام آمدنی و جائیداد ‘اگر کوئی ہو تو از روئے قانون شوہر کی ملکیت بن جاتی تھی۔ عور ت کو کسی قسم کا مالی اختیار نہ تھا۔ حال یہ ہوگیا تھا کہ کلیسا نے بھی اسے ایک ’’ناگزیر برائی‘‘ کے طورپر قبول کیا ہوا تھا۔
اٹھارہویں صدی کے وسط میں‘ جبکہ بیشتر مرد جنگ کے لیے رخصت ہوگئے تھے اوران کی واپسی کا امکان نہ رہا تھا‘ بیویاں خود بھی اپنے آپ کو بیچنے کے لیے نکل کھڑی ہوتی تھیں۔ سات سال تک غائب رہنے کا عرصہ طلاق کے لیے قانونی سمجھا جاتا تھا‘ مگر کبھی ایسا بھی ہوتا کہ اس عرصے کے بعد جب شوہر واپس آتا تو اپنی بیوی کو کسی اور کے گھر پاتا۔ پھر وہ نئے شوہر سے اس کی کوئی قیمت وصول کرکے اسے گویا قانونی علیحدگی دے دیتا تھا۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ بیوی خریدنے والے کے پاس پوری رقم نہیں ہوتی تھی اور وہ قسطوں میں ادائیگی کی درخواست کرتا۔پھرایک لڑائی جھگڑاکھڑا ہوجاتا تھا۔ایک طرف شوہر بیوی کو کھینچ رہا ہوتا اور دوسری جانب نیا خریدار اپنی جانب کھینچ رہا ہوتا ۔ یہ صورت حال دیکھ کر کبھی کبھی ہمدرد لوگ بقیہ قیمت سابقہ شوہر کو ادا کردیتے تھے اوریوں بیچاری بیوی اس کھینچا تانی کے بعد اپنے نئے ’’شوہر‘‘ کے ساتھ رخصت ہوجاتی تھی۔ برطانوی تاریخ کا یہ باب اس قدر بدنما و مضحکہ خیز ہے جسے کبھی مٹایا نہ جاسکے گا۔ مغرب سے مکالمہ کرتے ہوئے ہمیں لازماً ان کی عورتوں کی اس شرم ناک بے بسی کابھی ذکر کرنا چاہیے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ مغرب میں عورت کا مقام آج بھی اس قدیم حیثیت سے کچھ زیادہ نہیں ہے۔ وہ سب کی ہوکر بھی کسی کی نہیں ہے۔ تنہائی کے صحر امیں وہ آج بھی لاچار و بے سہارا کھڑی ہے۔ حقوق کی بھرمار کردینے کے نام پر ان کے مَردوں نے کمال ہوشیاری سے انہیں ایک جدید شکل میںبار ِدگرغلام اور بکنے والی شے بنا کے رکھ دیا۔ انٹرنیٹ پر اس موضوع پر اس قدر مواد موجود ہے کہ ان گوری چمڑی والوں کے کالے کرتوت اظہر من الشمس ہو جاتے ہیں ۔