(عرض احوال) شعورِ مقصد اور غلبہ دین کی جدّوجُہد - رضاء الحق

11 /

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
شعورِ مقصد اور غلبہ ٔ دین کی جدّوجُہد

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس دنیا میں بے مقصد پیدا نہیں کیا‘ نہ ہی اس کی زندگی کا حاصل محض معاشی آسودگی‘ مادی ترقی اور دنیوی کامیابیوں کا حصول ہے ۔ انسان کی تخلیق کا اصل مقصد اپنے خالق کی بندگی اختیار کرنا اور اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کو اُس کے عطا کردہ احکام کے تابع کرنا ہے۔ یہی بندگی انسان کی انفرادی زندگی کو پاکیزگی عطا کرتی ہے اور جب یہی تصور اجتماعی زندگی کی بنیاد بن جائے تو معاشرے میں عدل و انصاف‘ خیر و صلاح اور حقیقی فلاح کی راہیں کھلتی ہیں۔ تاہم اِس مقصد کا شعور محض نظریاتی اعتراف سے پیدا نہیں ہوتا‘ بلکہ اس کے لیے ایمان کی مسلسل تجدید‘ قرآن و سنت سے وابستگی اور عملی جدّوجُہد ناگزیر ہے۔
آج اُمّت ِمُسلمہ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب اور خاتم النّبیین حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی تعلیمات پرایمان رکھنے کے باوجود اپنی اجتماعی زندگی میں ان تعلیمات کی مکمل رہنمائی سے محروم ہے۔ عبادات اور مذہبی رسوم سے وابستگی اپنی جگہ‘ لیکن سیاست‘ معیشت‘ معاشرت اور اجتماعی نظمِ زندگی میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کو عملاً تسلیم کرنے کا تقاضا پورا نہیں ہو رہا۔ نتیجتاً مسلم معاشرے بھی انہی مسائل‘ ناانصافیوں‘ استحصال اور اخلاقی زوال کا شکار ہیں جن سے نجات کے لیے اسلام انسانیت کو ایک جامع نظامِ زندگی عطا کرتا ہے۔ اس صورتِ حال میں ضرورت محض اصلاحِ احوال کی خواہش کا اظہار کرنے کی نہیں‘ بلکہ ایسی ہمہ گیر جدّوجُہد کی ہے جو انسانوں کے دلوں میں ایمان کی حرارت پیدا کرے‘ اُن کے اذہان میں مقصد ِ زندگی کو واضح کرے اور اجتماعی زندگی کو قرآن و سنت کے تابع بنانے کے لیے منظم کوشش کرے۔
تنظیم اسلامی اِسی بنیادی تصور کے تحت قائم کی گئی تھی کہ دین ِاسلام محض چند انفرادی عبادات یا نجی زندگی کے بعض معاملات تک محدود نہیں‘ بلکہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات ہے۔ ہر مسلمان کا نصب العین اللہ کی رضا اور اُخروی نجات کا حصول ہونا چاہیے اور اِس دور کے ہر مسلمان کو اپنی زندگی کا ہدف اقامت ِدین اور غلبہ ٔ دین کی جدّوجُہد میں کسی اجتماعیت سے جُڑ کر حصّہ ڈالنا بنانا چاہیے۔ یعنی پہلے افراد کی زندگی میں ایمان‘ اطاعت اور تقویٰ کی بنیاد مضبوط ہو‘ پھر ایک منظم جماعت کی صورت میں قرآن و سُنّت کی رہنمائی کے مطابق اجتماعی زندگی کی اصلاح اور دین کے قیام کے لیے کوشش کی جائے۔
یہ جدّوجُہد کسی وقتی سیاسی کامیابی‘ اقتدار کے حصول یا محض افراد کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں۔ اِس کی اصل بنیاد اللہ تعالیٰ کی رضا‘ آخرت کی جواب دہی اور دین کے تقاضوں کی ادائیگی ہے۔ تنظیم اسلامی کا تصور یہ ہے کہ جب تک انسانوں کے دلوں میں ایمان راسخ نہ ہو‘ ان کےا ذہان میں منزل واضح نہ ہو اور اُن کی زندگی میں اطاعت و نظم پیدا نہ ہو‘ اُس وقت تک کسی پائیدار اسلامی تبدیلی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اسی لیے اس جدّوجُہد کا آغاز فرد کی اصلاح اور اُس کی ایمانی و فکری تربیت سے ہوتا ہے‘ لیکن اِس کا ہدف فرد کی ذات تک محدود نہیں رہتا؛ وہ معاشرے اور اجتماعی نظام کی اصلاح کا تقاضا بھی کرتاہے۔
اقامت ِ دین کی یہ جدّوجُہد قرآن مجید اور سُنّت ِ رسول ﷺ سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔ قرآن ہمیں مقصد ِ حیات‘ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کے احکام کی اطاعت کا شعور عطا کرتا ہے‘ جب کہ سیرتِ نبویﷺ اِس مقصد کے حصول کے عملی طریقے اور مراحل کی وضاحت کرتی ہے۔ چنانچہ دین کے غلبے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض منزل کا نام جاننے پر اکتفا نہ کریں‘ بلکہ اس راستے کو بھی سمجھیں جس کی رہنمائی قرآن و سنت نے کی ہے۔ مقصد درست ہومگرطریقِ کارغیر واضح ہو‘ یا جذبہ تو موجود ہومگر اس کے ساتھ علمی و عملی تربیت نہ ہو‘ تو جدّوجُہد اپنی سمت کھو سکتی ہے۔
تنظیم اسلامی کا سالانہ اجتماع اِسی فکروعمل کی تجدید کا ایک اہم موقع ہے۔چار مقامات پر ۷نومبر ۲۰۲۶ء سے شروع ہونے والےزونل اجتماعات محض ایک تنظیمی سرگرمی یا افراد کے جمع ہونے کا نام نہیں‘بلکہ اِس کا اصل مقصد رفقاء کے ایمان کو تازگی بخشنا‘اُن کے شعورِمقصد کونکھارنا‘منہج ِ عمل کوواضح کرنا اور باہمی اخوت و نظم کو مضبوط بنانا ہے۔اِس اجتماع کی افادیت کوسمجھنے کے لیے اِس کے چار بنیادی مقاصد پرغور کرنا ضروری ہے۔
اوّل: ایمان کی تجدید اور ایمانی کیفیات کی بحالی
انسان کا دل بھی غفلت‘ دنیا کی محبت اور مسلسل مصروفیات کے باعث زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ ایمان کی بنیادی حقیقت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے‘لیکن اِس کے عملی تقاضوں کے لیے درکار حرارت اور جذبہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرمﷺ نے دلوں کے زنگ کا ذکر کرتے ہوئے اِس کے علاج کے طورپرموت کی کثرت سے یاد اور قرآن مجید کی تلاوت کی طرف رہنمائی فرمائی۔
دنیا کی مصروفیات انسان کو یہ بھلا دیتی ہیں کہ اُس کی اصل منزل آخرت ہے جبکہ یہ زندگی ایک عارضی سفر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔موت کوکثرت سے یاد کرنے سے انسان یہ بات نہیں بھولتا کہ وہ کہیں جواب دہ بھی ہے‘ جب کہ قرآن مجید کی تلاوت اور اُس میں غور و فکر انسان کے دل کو ایمان کی روشنی سے منور کرتا ہے۔ چنانچہ سالانہ اجتماع کا پہلا مقصد یہ ہے کہ رفقاء روزمرہ کی مصروفیات سے نکل کر کچھ وقت اپنی روحانی وایمانی کیفیت کی اصلاح کے لیے وقف کریں۔قرآن و سُنّت کے دروس‘ذکر و تلاوت اوردینی ماحول سے وابستگی کے ذریعے اپنے اندروہ عزم اورولولہ پیدا کریں جو ایک طویل جدّوجُہد کے لیے ضروری ہے۔
یہ بات رفقا کے پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اجتماع میں شرکت اُسی وقت حقیقی معنوں میں مفید ہوگی‘جب اس کے اثرات اجتماع گاہ سے باہر بھی محسوس ہوں۔اگر چند روزہ دینی ماحول انسان کووقتی طور پرمتاثر کرے لیکن واپسی پراُس کی زندگی کے معمولات میں کوئی تبدیلی نہ آئے تومقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ اجتماع سے حاصل ہونے والی ایمانی تازگی انسان کے کردار‘ عبادات‘ معاملات اور دعوتی جدّوجُہد میں نمایاں ہو۔
دوم: مقصد ِزندگی اور منہج ِ عمل کا شعور
تنظیم اسلامی کے رفقاء اپنے ہدف اور اُس کے حصول کے طریقِ کار کو پوری وضاحت کے ساتھ سمجھیں۔ کسی بھی جدّوجُہد میں محض سرگرمی کافی نہیں ہوتی بلکہ یہ شعورہونا بھی ضروری ہوتا ہے کہ یہ کام کیوں کیا جا رہا ہے‘اِس کی منزل کیا ہے اوراِس منزل تک پہنچنے کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ رفقاء اگرمسلسل مصروف بھی رہیں مگراُنہیں اپنی جدّوجُہد کے مقصد اور اس کے مراحل کا واضح ادراک ہی نہ ہوتواُن کی محنت مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کرسکتی۔
اقامت ِ دین کا فریضہ ایک سنجیدہ‘ہمہ گیراورصبرآزما جدّوجُہد کا تقاضا کرتا ہے۔اس کے لیے قرآن مجید سے براہِ راست رہنمائی‘سُنّت ِرسولﷺ کے عملی نمونے اور سیرتِ نبوی ﷺ کے مختلف مراحل کامطالعہ ازحدضروری ہے۔قرآن اور سُنّت کو ایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا؛قرآن مقصد‘اصول اورہدایت فراہم کرتا ہے‘ جب کہ رسول اللہﷺ کی سنت و سیرت ان اصولوں کے عملی نفاذ کی روشن مثال پیش کرتی ہے۔
آج فکری انتشار‘ مختلف نظریات اور متضاد دعوتوں کے ماحول میں یہ امکان موجود رہتا ہے کہ انسان اپنی منزل کے بارے میں تذبذب کا شکار ہو جائے یا کسی دوسرے طریقِ کار کواختیار کرنے کی طرف مائل ہوجائے۔ایسے میں سالانہ اجتماع رفقاء کو اپنے نصب العین‘ ہدف اور ہدف کو حاصل کرنے کے منہج عمل پرازسر ِنوغور کرنے‘ سوالات کے جواب تلاش کرنے اوراپنی فکری سمت کو درست رکھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔اِس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ رفقاء تنظیمی سرگرمیوں میں محض روایت یا معمول کے تحت شریک ہونے کے بجائے شعوری وابستگی اختیار کریں۔ جب مقصد واضح ہو اور طریق ِ کار کا ادراک بھی موجود ہو تو مشکلات کے باوجود استقامت پیدا ہوجاتی ہے۔
سوم: باہمی تعارف‘ دینی اخوت اور محبت کا فروغ
کسی بھی منظم جدّوجُہد کی کامیابی کے لیے افراد کا ایک دوسرے سے جڑا ہونا ضروری ہے۔ ایک مشترک مقصد افراد کو قریب تو لاتا ہے‘ لیکن ان کے درمیان اعتماد‘ خیر خواہی اور باہمی محبت پیدا کرنے کے لیے مسلسل رابطہ اور ایک دوسرے کے حالات سے واقفیت بھی درکار ہوتی ہے۔ تنظیم اسلامی کا سالانہ اجتماع ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے رفقاء کو باہم ملنے اور اپنے دینی تعلق کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
اسلام میں باہمی محبت محض معاشرتی خوش گوار تعلق کا نام نہیں‘ بلکہ جب یہ محبت اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی سربلندی کے لیے ہو تو اِسے غیر معمولی فضیلت حاصل ہو جاتی ہے۔ احادیث ِ مبارکہ میں اِن لوگوں کے لیے بشارتیں وارد ہوئی ہیں جو اللہ کے لیے ایک دوسرے سے محبت کرتے‘ اسی مقصد کے لیے مل بیٹھتے اور ایک دوسرے کے ساتھ خیر خواہی کا تعلق قائم رکھتے ہیں۔ یہ محبت کسی شخص کی ذات یا گروہی مفاد کے گرد نہیں گھومتی‘ بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کے تقاضوں سے وابستہ ہوتی ہے۔اسی لیے اجتماع میں شرکت کرنے والے رفقاء کے لیے ضروری ہے کہ وہ پروگراموں میں حاضری کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے تعارف اور رابطے کے لیے بھی وقت نکالیں۔ کسی ساتھی کی مشکلات کو سمجھنا‘ اُس کے تجربات سے فائدہ اٹھانا‘ نئے رفقاء کی رہنمائی کرنا اور ایک دوسرے کی صلاحیتوں کو پہچاننا اجتماعی قوت میں اضافے کا ذریعہ بنتا ہے۔ دینی اخوت کا حقیقی تقاضا ہے کہ اختلافِ مزاج یا فہم میںفرق کے باوجود خیر خواہی کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے اور مشترک نصب العین اور ہدف کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا جائے۔
چہارم: نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور
تنظیم اسلامی ایک منظم جماعت کی صورت میں اقامت ِ دین کی پُرامن‘ غیر مسلح جدّوجُہد کرتی ہے‘ چنانچہ اس کے رفقاء کے لیے نظم و ضبط کی اہمیت کو سمجھنا اور اسے اپنی عملی زندگی کا حصّہ بنانا ناگزیر ہے۔ محض افراد کی کثرت کسی جماعت کو مؤثر قوت نہیں بنا دیتی؛ اس کے لیے مقصد کی یکسانیت‘ ذِمّہ داریوں کی ادائیگی‘ باہمی اعتماد اور طے شدہ نظم کی پابندی ضروری ہے۔ بے ترتیبی اور انفرادی پسند و ناپسند اجتماعی کوششوں کو کمزور کر سکتی ہیں‘ جب کہ نظم و ضبط محدود وسائل کے باوجود بڑی جدّوجُہد کو مؤثر بنا سکتا ہے۔
سالانہ اجتماع اِس نظم کی عملی تربیت کا بھی موقع ہے۔ وقت کی پابندی‘ پروگراموں میں ذِمّہ داری کے ساتھ شرکت‘ منتظمین سے تعاون‘ اجتماعی سہولتوں کا خیال اور دوسروں کی ضروریات کا احترام بظاہر چھوٹی باتیں ہیں‘ لیکن یہ ایک منظم جماعت کے مزاج کی تشکیل کرتی ہیں۔ اگر کسی انتظامی معاملے میں کوتاہی ہو تو اِسے بدگمانی‘ تنقید برائے تنقید یا بد نظمی کا سبب بنانے کے بجائے خیر خواہی کے ساتھ اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ نظم کا حقیقی حسن تویہ ہے کہ اِس میں ذِمّہ داری کے ساتھ شائستگی‘ اطاعت کے ساتھ شعور اور اختلاف کے باوجود باہمی احترام موجود ہو۔
یہ تربیت اجتماع تک ہی محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ تنظیم کے رفقاء کو اپنی گھریلو‘ معاشرتی اور دعوتی زندگی میں بھی نظم‘ ذِمّہ داری اور وقت کی پابندی کا نمونہ بننا چاہیے۔جس جماعت کا مقصد معاشرے کی اصلاح ہو‘اُس کے اپنے طرزِ عمل میں اصلاح‘دیانت اورذِمّہ داری کی جھلک نمایاں ہونی چاہیے۔
سالانہ اجتماع کے یہ چاروں مقاصد ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ ایمان کی تجدید انسان کو جدّوجُہد کا جذبہ دیتی ہے؛ مقصد اور منہج کا شعور اِس جذبے کو درست سمت فراہم کرتا ہے؛ باہمی محبت اور اخوت اس جدّوجُہد کو اجتماعی قوت میں بدلتی ہے؛ اور نظم و ضبط اِس قوت کومؤثراورنتیجہ خیزبناتا ہے۔اِن میں سے کسی ایک پہلو کو نظر انداز کر دیا جائے تو مجموعی جدّوجُہد متاثر ہو سکتی ہے۔
تاہم اجتماع کی کامیابی کا فیصلہ صرف شرکاء کی تعداد‘ پروگراموں کی وسعت یا انتظامی کامیابی سے نہیں کیا جاسکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اِس اجتماع سے واپس جانے والے افراد اپنے اندر کیا تبدیلی لے کر جاتے ہیں؟ کیا اِن کے دلوں میں ایمان کی حرارت بڑھی؟ کیا اُنہیں اپنے نصب العین‘ ہدف اور اور طریقِ کار کا شعور پہلے سے زیادہ واضح ہوا؟ کیا اُن کے باہمی تعلقات میں محبت اور خیر خواہی کا اضافہ ہوا؟ کیا وہ نظم و ضبط اور اجتماعی ذِمّہ داری کے تقاضوں کو زیادہ بہتر انداز میں ادا کرنے کے لیے تیار ہوئے؟ یہی وہ پیمانے ہیں جن پر اجتماع کے حقیقی ثمرات کو پرکھا جا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدمیں اُس کی راہ میں جدّوجُہد کرنے والوں کے لیے ہدایت کے راستے کھولنے کا وعدہ فرمایا ہے: {وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا} (العنکبوت:۶۹) یعنی جو لوگ ہماری راہ میں جدّوجُہد کریں گے‘ ہم ضرورانہیں اپنے راستے دکھائیں گے۔ اس وعدے میں اہلِ ایمان کے لیے اُمید بھی ہے اور ذِمّہ داری کا احساس بھی۔ راستے کی تمام تفصیلات ابتدا ہی میں واضح نہ ہوں ‘تب بھی اخلاص‘ اطاعت اور ثابت قدمی کے ساتھ سفر جاری رکھنا ضروری ہے ۔ قرآن و سنت کی رہنمائی‘ مسلسل سیکھنے کا عمل اور اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی دعا منزل کی طرف بڑھنے والوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں ۔
اِس موقع پر ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہر رفیق اپنے ایمان‘ اپنے مقصد‘ اپنے ساتھیوں کے ساتھ تعلق اور اپنے نظم و ضبط کا جائزہ لے۔ اقامت ِدین کی جدّوجُہد محض نعروں سے آگے بڑھ کر مسلسل محنت‘ کردار کی تعمیر‘ علمی و فکری پختگی‘ ایثار اور صبر کا تقاضا کرتی ہے۔یہ راستہ آسان نہیں‘ تاہم اِس کی دشواری اِس کے مقصد کی اہمیت کو کم نہیں کرتی۔ جب افراد اپنی اصلاح کے ساتھ اجتماعی اصلاح کی ذِمّہ داری قبول کرتے ہیں اور منظم جماعت کی صورت میں قرآن و سنت کی رہنمائی کے مطابق آگے بڑھتے ہیں تواُن کی جدّوجُہد محض انفرادی کوششوں کا مجموعہ نہیں رہتی‘ بلکہ ایک بامقصد اجتماعی عمل بن جاتی ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ نومبر ۲۰۲۶ء کا چار مقامات پر منعقد ہونے والا زونل سالانہ اجتماع تنظیم اسلامی کے تمام رفقاء کے لیے تجدید ِ ایمان‘ شعورِ مقصد‘ اخوتِ دینی اور نظم و ضبط میں اضافے کا ذریعہ بنے؛ ان کے عزم کوتازگی عطا کرے اوراُنہیں اقامت ِ دین کی جدّوجُہد میں اخلاص‘ حکمت‘ استقامت اور باہمی تعاون کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین!