(انوار ھدایت) رشتہ داروں کے حقوق - پروفیسر محمد یونس جنجوعہ

11 /
رشتہ داروں کے حقوق
پروفیسر محمد یونس جنجوعہ
 
انسان کے ارد گرد بہت سے لوگ ہوتے ہیں جن میں کچھ اس کے دوست احباب اور شناسا ہوتے ہیں جبکہ کچھ رشتہ دار بھی ہوتے ہیں۔ رشتہ داروں کی اہمیت بہت زیادہ ہے‘ کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے تعلق دار بنایا ہوتاہے۔ رشتہ داروں میں ماں باپ کے تعلق دار ہوتے ہیں۔  اسی طرح سسرالی افراد بیوی کی طرف سے تعلق دار ہوتے ہیں۔ 
رشتہ داری ایک خصوصی تعلق کا نام ہے۔ جب کسی شخص کے ہاں خوشی کا موقع آتا ہے تو اس کے رشتہ دار اس کی خوشی کو دوبالا کر دیتے ہیں۔ اسی طرح اگر وہ کوئی رنج‘ مصیبت پائے یا صدمے سے دوچار ہوتو رشتہ دار اس کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کر کے اس کے غم کو ہلکا کر دیتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم ہے اور رسول اللہﷺ نے بھی اس کی تاکید کی ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا :’’جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کا رزق کشادہ ہو اور اس کی عمر لمبی ہو اسے صلہ رحمی کرنا چاہیے۔‘‘ (بخاری عن انس بن مالکؓ)
جب رشتہ داروں کے باہمی تعلقات اچھے ہوں تو وہ ایک دوسرے کے کام آئیں گے۔  تنگی اور تکلیف کی صورت میں ساتھ دیں گے۔چونکہ رشتہ داروں کے ساتھ تعلق اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہوتا ہے اس لیے اس تعلق کو کمزور کرنا ناپسندیدہ ہے۔ جب ایک بدو نے رسول اللہﷺ کی ناقہ کی نکیل پکڑ کر عرض کیا کہ مجھے وہ عمل بتائیں جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور دوزخ سے دور کر دے تو آپؐ نے اسے جہاں عبادت کرنے اور شرک سے دور رہنے کی تلقین کی‘ وہاں یہ بھی بتایا کہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ تعلق مضبوط رکھو۔ (بحوالہ مسلم عن    ابی ایوب) جس قدر صلہ رحمی کی تلقین ہے اُسی قدر قطع رحمی سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قطع رحمی کئی برائیوں اور گناہوں کا باعث بنتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ خدا اور رسولؐ کے حکم سے سرتابی ہے۔ پھر ناراضگی کی بنا پر غیبت اور بدخواہی کرتے رہنا بہت بڑا گناہ ہے۔
برادری میں کچھ لوگ خوشحال‘ دولت مند ہوجاتے ہیں یا عزت پا لیتے ہیں۔ جو لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں وہ اپنے ان رشتہ داروں کے حسد میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور تعلقات خراب کر بیٹھتے ہیں۔ اپنے رشتہ داروں کو اچھی حالت میں دیکھ کر خوش ہونا چاہیے نہ کہ حسد میں مبتلا ہو کر بدخواہی پر اُتر آیاجائے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :’’تم حسد سے بہت بچو۔ حسد آدمی کی نیکیوں کو اس طرح کھاجاتا ہے جس طرح آگ خشک لکڑی کو کھا جاتی ہے۔‘‘ (سنن ابی دائود عن ابی ہریرہؓ)
ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ  جو لوگ دولت مند اور معاشرے میں بڑا مقام حاصل کرلیتے ہیں وہ اپنے ان رشتہ داروں کو حقیر سمجھنے لگ جاتے ہیں جو نادار‘ غریب یا بے حیثیت رہ جاتے ہیں۔ اس رویے سے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں اور یہ خرابی بڑھتے بڑھتے دشمنی میں بدل جاتی ہے۔چونکہ یہ لوگ رشتہ داری کی وجہ سے ایک دوسرے کی کمزوریوں سے واقف ہوتے ہیں اس لیے وہ آسانی سے دوسروں کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے  کہا گیا ہے:  الأقارب کالعقارب یعنی قریبی رشتہ داربچھو کی مانند ہوتے ہیں۔ بہرحال   رشتہ داری کو قطع کرنا دنیا اور عاقبت دونوں اعتبار سے نہایت نقصان دہ ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’رشتہ داری رحمٰن کی ایک شاخ ہے‘پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’(اے رشتہ داری)   جو تجھے جوڑے گا میں اس سے جڑوں گا اور جو تجھے کاٹے گا میں اس سے کٹ جائوں گا ۔‘‘ (بخاری عن ابی ہریرہؓ) 
صلہ رحمی کا یہ مطلب نہیں کہ جو رشتہ دار حسنِ سلوک کریں انہی کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے بلکہ اسلامی اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ خود حسنِ سلوک ہی اپنائے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا :’’صلہ رحمی کرنے والا وہ نہیں جو جواب میں صلہ رحمی کرے بلکہ صلہ رحمی کرنے والا تو وہ ہے کہ جب اس سے قطع رحمی کی جائے تو بھی وہ صلہ رحمی ہی کرے۔‘‘ (ترمذی‘ عن عبداللہ بن عمروؓ)
رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’قطع کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘ (ترمذی‘ عن جبیر بن مطعمؓ)
پس قرابت داروں کے ساتھ ہرحال میں حسنِ سلوک کا برتائو کرنا چاہیے۔ یہی اللہ تعالیٰ کو پسند ہے اور قرآن مجید میں اس کا بار بار ذکر ہے۔