پاکستان میں اسلامی انقلاب
کیا -------کیوں ------- کیسے ؟
’’اسلامی انقلاب‘‘ کی اصطلاح اب کثرت سے استعمال ہونے لگی ہے‘ لیکن اکثر لوگ کنفیوژن کا شکار ہیں کہ اسلامی انقلاب کا اصل مفہوم کیا ہے ! یہ انقلاب زندگی کے کن گوشوں کو محیط ہو گا اور انقلاب لانے کا نبوی طریق کون سا تھا؟ ۱۹۷۹ء میں انقلابِ ایران کے بعد یہ اصطلاح زیادہ اُجاگر ہو کر سامنے آئی تھی۔ اسی دور میں بانی تنظیم اسلامی نے نبی اکرمﷺ کے برپا کردہ عظیم انقلاب کے مراحل اور اس کے منہاج و طریق کار کی مفصل وضاحت مسجد دارالسلام لاہور میں مسلسل دس خطاباتِ جمعہ میں فرمائی تھی۔یہ خطابات بعد میں ’’منہج انقلابِ نبویﷺ‘‘ کے عنوان سے ایک ضخیم کتاب کی صورت میں شائع ہوئے۔
اسلامی انقلاب سے کیا مراد ہے؟ پاکستان میں اسلامی انقلاب لانا کیوں ضروری ہے؟ اس انقلاب کو برپا کرنے کا درست منہاج اور طریق کار کون سا ہے؟ ان اہم سوالات کا نہایت واضح اور جامع جواب بانی محترم نے ۳۰ /اگست ۱۹۸۵ء کو لاہور میں اپنے ایک خطابِ عام میں دیا تھا۔ ذیل میں اسی خطاب کو ہدیۂ قارئین کیا جا رہا ہے کہ اس موضوع پر یہ حد درجہ جامع بھی ہے اور مؤثر بھی!
خطبہ مسنونہ‘ تلاوتِ آیاتِ قرآنی‘ احادیث نبویؐ اور ادعیہ ماثورہ کے بعد:
ہماری آج کی گفتگو تین حصوں پر مشتمل ہو گی :اسلامی انقلاب کا مفہوم کیا ہے؟ پاکستان میں اسلامی انقلاب آنا کیوں ضروری ہے؟ یہ انقلاب کیسے آ سکتا ہے؟ ان تین سوالات میں سے ہر ایک کے ضمن میں مجھے دو دو باتیں عرض کرنی ہیں۔ گویا آج ہماری گفتگو کل چھ باتوں پر مشتمل ہوگی۔
’’اسلامی انقلاب‘‘ : کیا؟
(i) اسلامی انقلاب کا مفہوم اور اس کے مترادفات
’’اسلامی انقلاب‘‘ ایک جدید اصطلاح ہے ‘جو قرآن و حدیث میں کہیں استعمال نہیں ہوئی۔ اس اعتبار سے اس پر یہ اعتراض وارد ہو سکتا ہے کہ قرآن و حدیث کی اصطلاحات کو چھوڑ کر یہ اصطلاح کیوں استعمال کی جاتی ہے۔ مَیں اصولاً اسی بات کا شدت سے قائل ہوں کہ جہاں تک ممکن ہو ہمیں قرآن و حدیث ہی کی اصطلاحات استعمال کرنی چاہئیں اور ان کے ہوتے ہوئے جدید اصطلاحات سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ ہر نئی اصطلاح میں کوئی نہ کوئی نیا مفہوم لازمی طور پر شامل ہوتا ہے اور لاکھ کوشش کے باوجود اس کے استعمال سے غیر شعوری طور پر یہ امکان موجود رہتا ہے کہ اس کے اندر مضمر غلط مفہوم بھی ذہن میں بیٹھ جائے۔
اس کے باوجود مَیں ’’اسلامی انقلاب‘‘ کی اصطلاح اس لیے استعمال کر رہا ہوں کہ بسااوقات Generation Gap کی وجہ سے ایک نسل کی بات اگلی نسل سمجھنے سے عاری ہوتی ہے۔ نوجوان نسل اپنی اصطلاحات میں بات کرتی اور سمجھتی ہے؛وہ قدیم اصطلاحات سے ناواقف ہوتی ہے ۔چنانچہ اصطلاحات کے فرق کی وجہ سے ابلاغ نہیں ہو پاتا اور بات ذہنوں تک نہیں پہنچتی ۔ہمارے ہاں جو جنریشن گیپ موجود ہے یہ ایک دو نسلوں کا معاملہ نہیں ہے‘ بلکہ بیسیوں نسلوں پر محیط ہے۔ ہماری کم از کم آٹھ نسلیں تو انگریز کی غلامی میں گزری ہیں‘ چنانچہ ہم نے انگریزی تہذیب و تمدن کو اپناتے ہوئے انگریزی اصطلاحات میں سوچنے کی عادت ڈال لی ہے۔ اسی کا مظہر ہے کہ آج ہماری عظیم اکثریت قمری مہینوں کی تاریخوں تک سے واقف نہیں ہوتی اور انہیں صرف عید ‘بقر عید کے دنوں یا ماہ رمضان کے دوران قمری تاریخ معلوم ہوتی ہے۔ ہمارا سال کا تصور اسلامی نہیں‘ بلکہ انگریزی سال کا ہے جو۳۶۵ دن کا ہوتا ہے۔ اب یہ فرق بالفعل واقع ہو چکا ہے‘ جس کے باعث بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خالص دینی اصطلاح استعمال کی جائے اور صرف قرآن و سنّت کے حوالے سے بات کی جائے تو لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی۔ یوں بات کرنے کا اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا ۔چنانچہ لوگوں کے ذہن تک بات پہنچانے کی غرض سے بعض جدید اصطلاحات کا استعمال ایک ناگزیر ضرورت بن جاتا ہے۔
آج کی دنیا میں جس چیز کو ’’انقلاب‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جس کے ساتھ ہم نے ’’اسلامی‘‘ کا سابقہ لگا کر ’’اسلامی انقلاب‘‘ کی مرکب اصطلاح بنا لی ہے اس کے لیے قرآن مجید اور حدیث ِنبویؐ میں پانچ اصطلاحات وارد ہوئی ہیں۔ ہم اپنے دروس اور تنظیمی اجتماعات میں یہی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں‘ لیکن پبلک مقامات پر عوام کو سمجھانے کے لیے ’’اسلامی انقلاب‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ قرآن و حدیث میں وارد شدہ پانچ اصطلاحات مندرجہ ذیل ہیں:
الف) تکبیر ِربّ : سورۃ المدثر میں فرمایا گیا:
{یٰٓـــاَیُّہَا الْمُدَّثِّرُ(۱) قُمْ فَاَنْذِرْ(۲) وَرَبَّکَ فَکَبِّرْ(۳) }
’’اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنےوالے! اُٹھو اور خبردار کرو‘ اور اپنے ربّ کی بڑائی کا اعلان کرو!‘‘
یہ آیات بالکل ابتدا میں نازل ہونے والی آیاتِ قرآنی میں سے ہیں۔ گویا ’’تکبیر ِرب‘‘ کا حکم اُن ابتدائی احکام میں سے ہے جو محمد رسول اللہﷺ کو دیےگئے۔
معمولی سا دینی مزاج رکھنے والے مسلمان کو بھی معلوم ہو گا کہ ’’تکبیر ِرب‘‘ کے معنی کیا ہیں۔ ’’تکبیر‘‘ کا لفظی معنی ’’بڑا کرنا‘‘ ہے‘ جیسے ’’تصغیر‘‘ کا معنی ’’چھوٹا کرنا‘‘ اور ’’تسہیل‘‘ کا معنی ’’آسان کرنا‘‘ ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ ربّ کو بڑا کرنے کا مفہوم کیا ہوا جبکہ ربّ تو بذاتِ خود بڑا ہے؟ اس حکم کا مفہوم یہ ہے کہ اگرچہ ربّ بذاتہٖ سب سے بڑا ہے لیکن دنیا میں اس کی بڑائی مانی نہیں جا رہی‘ اس کا قانون نافذ نہیں کیا جا رہا‘ بلکہ یہاں انسانوں کے خودساختہ قوانین نافذ ہیں۔ اس طرح بالفعل بڑے تو وہ بنے ہوئے ہیں جنہیں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جو حکم چاہیں نافذ کردیں اور جس قرآنی حکم پر چاہیں عمل درآمد روک دیںـ ۔ مثال کے طور پر جنرل ضیاء الحق صاحب نے ایک آرڈی نینس جاری کیا تھا کہ عورتوں کو کوڑے نہیں لگائے جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ایک غیر شادی شدہ عورت زنا کا ارتکاب کرتی ہے تو اسے کوڑے کیوں نہیں لگائے جائیں گے‘ جبکہ نص ِقرآنی موجود ہے : {اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍص }(النور:۲) یعنی ’’زنا کرنے والا خواہ مرد ہو یا عورت‘ دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔‘‘اس آرڈی نینس کے ذریعے گویا ایک آیت قرآنی کی تنسیخ کردی گئی۔ اس کا یہی معنی ہوا کہ اللہ کا حکم نیچے اور جنرل ضیاء الحق کا اختیار بالاتر ہو گیا۔اگر کہیں بادشاہت قائم ہے تو بادشاہ کا حکم اوپر ہے‘ اللہ کا نہیں۔ اسی طرح جمہوریت میں حاکمیت جمہور کی ہے‘ حکم کا اختیار ان کا ہے۔ لہٰذا ہمارے ہاں یہ بات صرف اقرار کی حد تک صحیح ہے کہ ’’اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘ اللہ آسمانوں میں تو بڑا ہے‘ زمین میں ہم نے اس کو بڑا نہیں مانا بلکہ اپنے بنائے ہو ئے نظام نافذ کر کے خود بڑے بن بیٹھے ہیں اور اپنے طرزِعمل سے اسے چھوٹا بنا رہے ہیں۔ ’’تکبیر ِربّ‘‘ کا مفہوم یہ ہو گا کہ دنیا میں ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں واقعتاً اللہ بڑا ہو۔ یعنی اُس کی بڑائی بالفعل مانی جا رہی ہو‘ اُس کی حاکمیت ِاعلیٰ کو تسلیم کیا جا رہا ہو‘ اُس کے حکم سے اوپر کسی کا حکم نہ ہو اور اُس کی بات سے بالاتر کسی کی بات نہ ہو۔ اس کے لیے ظاہر ہے کہ پہلے سے موجود نظام کو بدلنا ہوگا۔ نظام کی اس تبدیلی کا نام ’’انقلاب‘‘ ہے۔ گویا ’’اسلامی انقلاب‘‘ کا مفہوم بھی وہی ہے جو ’’تکبیر ِربّ‘‘ کا ہے۔
ب) اقامت ِدین : اس حقیقت سے ہر مسلمان آگاہ ہے کہ ہمارا دین صرف نماز‘ روزے تک محدود نہیں بلکہ یہ پوری زندگی سے متعلق احکام اور ہدایات پر مشتمل ہے۔ اس میں حلال و حرام کی وضاحت بھی ہے‘ اوامر و نواہی ہیں‘ فوج داری اور دیوانی قوانین بھی ہیں‘ غرضیکہ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس سے متعلق حکم موجود نہ ہو۔ اسی بنیاد پر مدینہ منورہ میں یہودیوں نے مسلمانوں کا مذاق اڑانا شروع کردیا تھا کہ تمہارے نبیؐ تمہیں چھوٹی چھوٹی باتوں کی بھی تعلیم دیتے ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے یہ بات حضورﷺ سے عرض کی تو آپؐ نے فرمایا کہ تم انہیں جواب دو کہ ہاں‘ ہمارے نبیؐ نے تو ہمیں استنجا کرنا بھی سکھایا ہے‘ اس لیے کہ طہارت بھی انسانی زندگی کا ایک لازمی جزو ہے۔ چنانچہ معلوم ہوا کہ ہمارا دین پوری زندگی کا دین ہے‘ یہ ایک مکمل ضابطہ ٔحیات ہے۔ اس دین کے بارے میں سورۃ الشوریٰ میں بایں الفاظ حکم دیا گیا: {.....اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ .....}(آیت۱۳) ’’کہ دین کو قائم کرو!‘‘ دین کو قائم کرنے کا مطلب پورے نظام دین کو قائم کرنا ہو گا نہ کہ صرف نماز قائم کرنا‘ روزہ رکھنااور زکوٰۃ ادا کرنا۔ یہ تو ارکان ہیں جو دین کو قائم کرنے کے ذرائع ہیں۔ نماز قائم کرنا دین کو قائم کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ روزہ رکھنے سے ہمیں دین کو قائم کرنے کے لیے تقویٰ کی قوت حاصل ہوتی ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنے سے مال کی محبت دل سے نکالنے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی طاقت حاصل ہوتی ہے ۔ ’’اقامت ِدین‘‘ کا مفہوم پورے کے پورے نظام دین کو قائم کرنا ہے‘ اور یہی مفہوم ’’اسلامی انقلاب‘‘ کا ہے۔
’’اَقِیْمُوا الدِّیْنَ‘‘ کا ترجمہ ہم نے ’’دین کو قائم کرو‘‘ کیا ہے۔ بعض مترجم حضرات نے اس کا ترجمہ ’’دین کو قائم رکھو‘‘ بھی کیا ہے۔ یہ محض لفظی فرق ہے‘ مفہوم کے اعتبار سے دونوں تراجم میں کوئی حقیقی فرق نہیں ہے۔ مثال کے طو رپر ہمیں کسی جگہ ایک خیمہ لگانا ہے تو کہیں گے ’’خیمے کو کھڑا کرو‘‘ اور خیمہ اگر قائم ہے اور تیز آندھی چل رہی ہے تو اب کہا جائے گا کہ ’’خیمے کو کھڑا رکھو‘‘ یعنی کوشش کرو کہ یہ اپنی جگہ پر قائم ر ہے ۔ چنانچہ اس کا تقاضا ہوگا کہ خیمے کی رسیوں کو مضبوطی سے تھاما جائے‘ اس کے جو کھونٹے گڑے ہوئے ہیں ان کو مضبوط کیا جائےاور اس کےبانسوں کو گرنے نہ دیا جائے۔ یہی مفہوم ’’اقامت ِدین‘‘ کا ہے کہ اسلام اگر قائم نہیں ہے تو اسے قائم کیا جائے اور اگر قائم ہے تو اسے قائم رکھا جائے۔ جیسے محمد رسول اللہﷺ نےعرب میں دین قائم کر دیا اور آپؐ کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اسے قائم رکھا۔ بعد کے ادوار میں دین کی عمارت درجہ بدرجہ منہدم ہونے لگی‘ یہاں تک کہ یہ بالکل زمین بوس ہو گئی۔ اب مسلمانوں کا فرض ہے کہ دین کی اس عمارت کو از سر ِنوقائم کریں۔ یہی ’’اقامت ِدین‘‘ کا مفہوم ہے اور یہی ’’اسلامی انقلاب‘‘ کا۔
ج) غلبہ ٔدین (اِظْھَارُ دِینِ الحَقِّ عَلَی الدِّین کُلِّہٖ) : یہ اصطلاح قرآن حکیم میں تین مقامات پر آئی ہے ۔ سورۃ التوبہ کی آیت۳۳‘ سورۃ الفتح کی آیت۲۸ اور سورۃ الصف کی آیت ۹ میں بعینہٖ ایک جیسے الفاظ وارد ہوئے ہیں:
{ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ......}
’’وہی ہے (اللہ) جس نے بھیجا اپنے رسول(محمدﷺ) کو الہدیٰ (یعنی قرآن حکیم) اور دین حق دے کر تاکہ اسے غالب کر دے کُل کے کُل دین پر۔‘‘
ہمارا دین ‘ دین حق ہے جو مغلوب ہونے کے لیے نہیں بلکہ غالب رہنے کے لیے آیا ہے۔ اَلْحَقُّ یَعْلُو وَلَا یُعلٰی علیہ ‘ حق کا یہ حق ہے کہ وہ غالب ہو‘ نہ یہ کہ مغلوب رہے۔
مذکورہ بالا آیاتِ قرآنی میں محمد رسول اللہﷺ کا مقصد ِ بعثت ہی غلبہ ٔدین قرار دیا گیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے جزیرہ نمائے عرب کی حد تک دین کو غالب کر دیا۔ خلفائے راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے دور میں غلبہ ٔدین کا یہ عمل توسیع پذیر رہا‘ لیکن بعد کے ادوار میں یہ عمل رجعت ِقہقری کا شکار ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ کے مقصد بعثت کا یہ تقاضا ہے کہ اُمت ِمسلمہ دُنیا میں کُل کے کُل دین کو غالب کرنے کی جدّوجُہد کرے۔ دین اگر مغلو ب اور پامال ہے تو اس کو غالب کرنے کی جدّوجُہد ہمارا دینی فریضہ ہے۔ یہی مفہوم ’’اسلامی انقلاب‘‘ کی اصطلاح کا ہے۔
د) دین کُل کا کُل اللہ کا ہو جائے (یَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلہِ) : یہ اصطلاح قرآن حکیم میں سورۃ الانفال میں وارد ہوئی ہے ۔ فرمایا گیا:
{وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَـکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلہِ ج }(آیت۳۹)
’’اور ان (کافروں) سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہو جائے۔‘‘
یہ آیت ِمبارکہ غزوئہ بدر کے بعد نازل ہوئی۔ مکّی زندگی کے بارہ برس کے دوران اور اس کے بعد مدینہ میں بھی دو سال تک مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں تھی۔پھر جب حکم آ گیا کہ {کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ} (البقرۃ:۲۱۶) یعنی ’’تم پر (اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے ) جنگ فرض کر دی گئی ہے ‘‘ تو ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا گیا کہ مسلمانو!اب تمہاری تلواریں اُس وقت تک میان میں واپس نہ جائیں جب تک کہ فتنہ و فساد بالکل ختم نہ ہوجائے اور دین کُل کا کُل اللہ کے لیے نہ ہو جائے۔ یہ نہیں کہ مسجد میں تو اللہ کا دین ہو اور پارلیمنٹ میں اللہ کا دین نہ ہو۔ مولانا گوہر رحمٰن نے پارلیمنٹ میں رسول اللہﷺ کی حدیث سنائی تھی تو وہاں پر ان کا مذاق اڑایا گیا تھا۔ ہماری پارلیمنٹ میں دین کی باتوں کا مذاق اس لیے اڑایا جاتا ہے کہ وہاں اللہ کو بڑا نہیں مانا جاتا۔ میں یہ بات بار بار عرض کروں گا کہ ہمارا دین زندگی کے تمام گوشوں کو محیط ہے۔ چنانچہ دین کا ایک حصہ بھی علیحدہ کر دیا جائے گا تو باقی جزوِ دین رہ جائے گا ‘ کُل دین نہیں رہے گا۔
ھ) اللہ کے کلمہ کی سربلندی (لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللہِ ھِیَ الْعُلْیَا) : یہ اصطلاح حدیث نبویؐ میں آئی ہے۔ جب جہاد و قتال کا مرحلہ شروع ہو گیا تو نبی اکرمﷺ سے استفسار کیا گیا کہ کوئی شخص اپنی بہادری کے اظہار کے لیے شریک ِجنگ ہوتا ہے‘ کوئی شخص مالِ غنیمت کے حصول کے لیے لڑتا ہے اور کوئی شخص کسی قبائلی عصبیت کی وجہ سے جنگ کرتا ہے (یعنی جس قبیلے کے خلاف مسلمان لشکر کشی کر رہے ہیں اس قبیلے کے ساتھ کسی مسلمان کا ذاتی جھگڑا بھی ہےا ور اب وہ شخص ذاتی انتقام کے جذبے سے اس لشکر میں شریک ہوا ہے) ‘تو ان میں مجاہد فی سبیل اللہ کون ہے! رسول اللہﷺ نے جواباً ارشاد فرمایا:
((مَنْ قَاتَلَ لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا فَھُوَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ))(متفق علیہ)
’’(ان میں سے کوئی بھی مجاہد فی سبیل اللہ نہیں ہے) مجاہد فی سبیل اللہ صرف وہ ہے جو محض اس لیے جنگ کرتا ہے کہ اللہ کا کلمہ سربلند ہو جائے۔‘‘
قرآن و حدیث کی ان پانچ اصطلاحات کا مفہوم آج کے نوجوانوں کو سمجھانے کے لیے ’’اسلامی انقلاب‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنا پڑتی ہے۔
(ii) اسلامی انقلاب سے مراد کیا ہے؟
اسلامی انقلاب کے حوالے سے لوگ بڑے مغالطوں کا شکار ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کچھ اسلامی سزائیں نافذ ہو جائیں‘ مثلاً چوروں کے ہاتھ کٹنے لگیں اور بدکاروں کو کوڑے لگنے لگیں‘ تو بس اسلامی انقلاب آ گیا۔ ہمارے ہاں حکومتی سطح پر بھی اس حوالے سے بڑے دھوکے دیے گئے ہیں کہ بینکوں میں رکھی گئی رقوم سے زکوٰۃ کی کٹوتی کر کے اور سود کو ’’مارک اَپ‘‘ کا نام دے کر اسلامی نظام نافذ کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ واضح طور پر جان لیجیے کہ اسلامی انقلاب کا مطلب اُس نظامِ عدل کو قائم کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعے بھیجا۔
یہ عدل سیاسی میدان میں بھی ہوگا‘ یعنی زمین پر کوئی حاکم نہیں‘ کوئی محکوم نہیں‘ سب اللہ کے بندے ہیں اور آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ان کے حقوق کے اوپر کوئی ڈاکا نہیں ڈالا جاسکتا۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایران کے گورنر تھے اور وہ گورنری بھی ریوڑیوں کی طرح بٹی ہوئی نہیں تھی‘ بلکہ وہ گورنراس لیےتھے کہ خود فاتح ِایران تھے۔ انہوں نے صرف یہ کیا تھا کہ اپنے مکان کے باہر ایک ڈیوڑھی بنا کر وہاں ایک دربان کھڑا کر دیا تھا‘ لیکن اس پر دار الخلافہ سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ڈانٹ کا خط آ گیا تھا کہ: ’’اے سعد! لوگوں کو ان کی مائوں نے آزاد جنا تھا‘ تم نے انہیں کب سے غلام بنا لیاہے؟‘‘ یہ آزادی تھی جو محمد رسول اللہﷺ نے دی تھی۔ یہ حقوق تھے جو محمد رسول اللہﷺ نے دیے تھے۔ اگر نظام ایسا قائم ہے کہ لوگوں کے حقوق پر کچھ لوگوں نے ڈاکے ڈالے ہوئے ہیں‘ کچھ لوگ ان کی تقدیر کے مالک بنے ہوئے ہیں‘ تو جب تک اس نظام کو ختم نہیں کیا جائے گا اسلام نہیں آ سکتا۔ اسلام صرف نماز ‘ روزہ کا نام نہیں ہے۔
سیاسی عدل کی طرح اسلام معاشی عدل کا بھی ضامن ہے۔ ہمارے ہاں جو جاگیرداری نظام قائم ہے یہ انگریز سے وفاداری کے نتیجے میں قائم ہوا تھا۔ کچھ لوگوںنے انگریز کے ساتھ وفاداری کا حق ادا کیا تو انہیں جاگیریں ملیں ۔ اب ان جاگیرداروں کے بیٹے مُنہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوتے ہیں اور ان کی اعلیٰ ترین سطح کی تعلیم یورپ یا امریکہ میں ہوتی ہے‘ وہ یہاں نہیں پڑھتے۔ یہ ایک مخصوص طبقہ کی صورت اختیار کر گئے ہیں اور عام لوگوں پر مسلط ہیں۔ سیاست میں وہی ہیں‘ CSPوہی ہیں ‘ صنعت کار بھی وہی ہیں ۔ لہٰذا جب تک اس ملک سے جاگیرداری کا جنازہ نہیں نکلے گا ‘ یہاں حقیقی اسلام کے قیام کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اس طرح کی معاشی ناہمواریوں کے ہوتے ہوئے عدل اورانصاف کہاں سے آئے گا؟ کہنے کو تو سب کے لیے مواقع برابر ہیں‘ لیکن عملاً صورت حال یہ ہے کہ ایک کے بچے کو عام پرائمری سکول میں داخلہ نہیں ملتا جبکہ ایک کا بچہ چاہے تھرڈ ڈویژن میں پاس ہوا ہو وہ اسے امریکہ بھیج رہا ہوتا ہے۔ یہ پیسہ کہاں سے آ گیا ہے؟ کیا یہ حلال کا پیسہ ہے؟ یہ جو بلند و بالا عمارات بنتی ہیں‘ بیس بیس کنال کی کوٹھیاں تعمیر ہوتی ہیں‘ کیا یہ حلا ل کے پیسے سے بنتی ہیں؟ ان کو تحفظ دینے والا نظام اسلامی نظام نہیں ہو سکتا۔ ہم یہ قطعاً نہیںکہتے کہ آپ کمیونزم والا معاشی نظام لائیں۔ اسلام نے بھی آپ کو اس معاشی ناہمواری کا حل بتایا ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہؒ کے نزدیک مزارعت حرام ہے۔ جس شخص کی زمین ہے وہ اسے خود کاشت کرے‘ یا پھر اپنے بھائی کو دے دے‘ کہ وہ کاشت کر لے‘ لیکن خود اس کی محنت میں سے کچھ حصہ وصول نہ کرے‘ یہ حرام ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ کی رائے ہے جو احادیث نبویہؐ پر مبنی ہے۔ البتہ فقہ حنفی میں فتویٰ امام ابوحنیفہ کے رائے پر نہیں ہے ‘ بلکہ صاحبین یعنی امام ابویوسف اور امام محمد شیبانی رحمۃ اللہ علیہما کی رائے پر ہے‘ جو امام صاحب کے شاگرد ہیں۔ ان دونوں حضرات نے مزارعت کو دو شرطوں کے ساتھ جائز قرار دیا ہے۔ پھر فقہ حنفی کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جس ملک کو مسلمانوں نے بزورِ شمشیر فتح کیا ہو اس کی زمینیں ذاتی ملکیت رہتی ہی نہیں بلکہ وہ سب اُمت کی اجتماعی ملکیت قرار پاتی ہیں۔ وہاں کوئی زمین دار نہیں ہوتا‘ سب کے سب کاشت کار ہوتے ہیں۔ وہ موروثی کاشت کار ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ فقہ حنفی کی رُو سے پاکستان کی زمینیں عشری نہیں ہیں‘ خراجی ہیں‘ لہٰذا خراج براہِ راست بیت المال میں جانا چاہیے ۔ یہ بیچ میں زمین دار کہاں سے ٹپک پڑا؟ یہ موجودہ دور کے مسائل ہیں جن کا حل اسلام پیش کرتا ہے۔ آپ صرف نماز‘ روزے کی تلقین کریں گے تو زمانہ آپ کو بہت پیچھے چھوڑ جائے گا۔ لوگ تو ان مسائل کا حل چاہتے ہیں جو انہیں درپیش ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص نے ڈگڈگی بجائی کہ ’’روٹی‘ کپڑا‘ مکان‘‘ اور آپ کو یاد ہے کہ کیا ہوا تھا؟ وہی جو علامہ اقبال نے ابلیس کے الفاظ نقل کیے ہیں: ؎
کیا امامانِ سیاست ‘ کیا کلیسا کے شیوخ
سب کو دیوانہ بنا سکتی ہے میری ایک ہُو!
لہٰذا جان لیجیے کہ اسلام لوگوں کو جو حقوق دیتا ہے آپ اگر وہ حقوق نہیں دیں گے تو لوگ اسے بھی مسترد کر کے کسی دوسرے نظام کی طرف رجوع کریں گے۔ لہٰذا اسلامی نظام کا مطلب یہ بھی ہے کہ اسلام کے معاشی نظام کو نافذ کیا جائے۔
تیسری چیز سماجی مساوات ہے۔ اسلام میں کوئی اونچا نہیں‘ کوئی نیچا نہیں‘ کوئی اعلیٰ نہیں‘ کوئی گھٹیا نہیں۔رنگ و نسل کی بنیاد پر اونچ نیچ کا اسلام میں کوئی تصور نہیں۔ ہمارے ہاں سید کی برتری کا تصور ہندوستان میں برہمنوں کی وجہ سے پیدا ہو اہے ۔ رسول اللہﷺ نے دوٹوک الفاظ میں فرما دیا تھا:
((ألا،لَا فَضْلَ لِعَرَبِیٍّ عَلٰی أَعْجَمِیٍّ، وَ لَا لِعَجَمِیٍّ عَلٰی عَرَبِیٍّ، وَ لَا لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ، وَ لَا لِاَسْوَدَ عَلٰی اَحْمَرَ، اِلَّا بِالتَّقْوٰی))(رواہ احمد)
’’کسی عربی کو کسی عجمی پر‘ کسی عجمی کو کسی عربی پر‘ کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے‘ سوائے تقویٰ کے۔ ‘‘
ایک حدیث میں الفاظ آئے ہیں:
((کُلُّکُمْ بَنُوْ آدَمَ وَ آدَمُ مِنْ تُرَابٍ))
’’تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ’’سیدنا بلال‘‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ یہ وہ نظام ہے جو آج کے دور کی ضرورت ہے۔ہمارے معاشرے میں کوئی غیر مسلم جب مسلمان ہوتا ہے تو وہ ’’مصلی‘‘ ہی رہتا ہے‘ چودھری کے برابر چارپائی پر نہیں بیٹھ سکتا۔ یہ کہاں کا نظام ہے؟
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود!
سید زادہ (پتہ نہیں وہ سیّد ہے بھی یا نہیں‘ خود ساختہ سیّد بھی بہت ہوتے ہیں) خواہ زانی ہو یا شرابی‘ اس کے گھٹنے کو ہاتھ لگایا جائے گا اور کوئی شخص بڑے سے بڑا متقی ہو اس کا کوئی مقام و مرتبہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ اسلام نہیں۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ سماجی سطح پر تمام انسان برابر ہیں۔ یہ سب ایک نسل انسانی سے ہیں‘ لہٰذا کوئی اونچا نہیں‘ کوئی نیچا نہیں۔ ہمارے ہاں سماجی عدم مساوات کا نقشہ دیکھنا ہو تو دیہات میں دیکھیے۔ ملتان سے آگے چلیں تو دریائے سندھ کے دونوں طرف جتنی زرخیز زمینیں ہیں وہ ساری اکثر و بیشتر ان لوگوں کی ملکیت ہیں جو پیر بنے ہوئے ہیں۔ ان میں کوئی سید ہے‘ کوئی جیلانی ہے‘ کوئی فلانی ہے اور عوام ان کی ’’رعیت‘‘ ہیں۔ یہ نظام قائم رکھ کر آپ سمجھتے ہیں کہ اسلام آ جائے گا؟ ایں خیال است و محال است و جنوں!
یہ جان لیجیے کہ جب میں ’’اسلامی انقلاب‘‘ کا نام لیتا ہوں تو اس سے مراد اسلام کا عادلانہ نظام ہے۔ یعنی اسلام کی سماجی مساوات ‘ اسلام کا معاشی عدل اور اسلام کے عطا کردہ سیاسی حقوق‘ ان سب کو قائم کرنا اسلامی انقلاب ہو گا۔ سورۃ الشوریٰ میں {اَقِیْمُوا الدِّیْنَ} والی آیت کے بعد اگلی آیت میں فرمایا گیا کہ اے نبیؐ ان سے کہہ دیجیے: {وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ}(آیت۱۵) یعنی ’’(مجھے واعظ نہ سمجھنا) مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ تمہارے درمیان عدل قائم کروں۔‘‘ سورۃ الحدید میں فرمایا گیا کہ ’’ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیاں اور ہدایات دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان اتاری {لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ج } تاکہ لوگ عدل و انصاف پر کاربند ہوں۔‘‘جن لوگوں نے دوسروں کے حقوق غصب کیے ہوں کیا وہ آسانی سے لوٹا دیں گے؟ شیر کے منہ سے نوالہ نکالنا آسان کام تو نہیں ہے۔ جو جاگیردار بنے بیٹھے ہیں وہ اپنی جاگیریں آسانی سے تو نہیں چھوڑدیں گے‘ وہ اس نظامِ عدل کے راستے میں مزاحم ہوں گے۔ فرمایا گیا کہ ایسے عناصر کی سرکوبی کے لیے ہم نے لوہا اتارا ہے جس سے تلواریں بنتی ہیں‘ اِن سے اُن لوگوں کی سرکوبی کرو جو اللہ کے دین‘ اِس نظامِ عدل و قسط کو قائم کرنے کے راستے میں رکاوٹ بنیں گے۔ فرمایا: { وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ وَرُسُلَہٗ بِالْغَیْبِ ط اِنَّ اللہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ(۲۵)} ’’اور ہم نے لوہا بھی اُتارا ہے جس میں شدید جنگی صلاحیت ہے اور لوگوں کے لیے دوسرے منافع بھی ہیں۔ یہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ اللہ یہ معلوم کرے کہ کون اس کو دیکھے بغیر اُس کی اور اُس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقیناً اللہ بڑی قوت والا‘ بہت زبردست ہے۔‘‘ یہاں تک ’’اسلامی انقلاب:کیا؟‘‘ کا جواب ہم نے دو اعتبار سے دیکھ لیا۔ اب ہم اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے ’’اسلامی انقلاب: کیوں؟‘‘ کے جواب پر غور کریں گے۔
’’اسلامی انقلاب‘‘ : کیوں؟
i) مسلمانوں کا دینی فریضہ
’’پاکستان میں اسلامی انقلاب :کیوں؟‘‘ کا اہم تر جواب یہ ہے کہ یہ ہر مسلمان کا دینی فریضہ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفاداری کا تقاضا ہے۔ ایک شخص اللہ کی وفاداری کا دعویٰ کرتا ہو‘ جبکہ اللہ کا دین مغلوب ہو اور یہ آرام سے پائوں پھیلا کر سوتا ہو اور یہ بھی کہتا ہو کہ مجھے اللہ سے محبت ہے‘ اس سے بڑاجھوٹا اور کون ہوگا؟ ایک شخص کہتا ہے کہ مجھے رسول اللہﷺ سے بڑا عشق ہے‘ جبکہ اس کے سامنے رسول اللہﷺ کے احکام کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہوں اور اس بدبخت کے احساسات پر جوں تک نہ رینگے تو اس کا عشق رسولﷺ کا دعویٰ باطل ہے۔ کمزور سے کمزور انسان بھی اپنی ماں کی توہین برداشت نہیں کر سکتا‘ وہ اگر کچھ نہ کر سکے تو بھی اس کے سارے جسم کا خون اس کے چہرے پر سمٹ آئے گا اور ’’قہر درویش بر جانِ درویش‘‘ کے مصداق وہ خون کے گھونٹ پی کر رہ جائے گا۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ماں کی گالی کھا کر انسان اطمینان سے بیٹھا رہے۔ اگر ایسا ہے تو وہ حد درجہ بے غیرت و بے حمیت ہے۔ اسی طرح سوچیے کہ اس دین کی بھی کوئی غیرت وحمیت ہے یا نہیں؟ اس کے ساتھ بھی کوئی وفاداری درکارہے یا نہیں؟ ہمارے بڑے دعوے ہیں کہ ہم اسلام کے ماننے والے ہیں‘ اسلام کے شیدائی ہیں‘ لیکن ہمارا حال کیا ہے؟ جان لیجیے کہ جو شخص اسلام کو قائم کرنے کی جدّوجُہد نہیں کرتا اس کی اسلام کے ساتھ کوئی وفاداری نہیں ہے۔
اس ضمن میں ایک لرزہ دینے والی حدیث ملاحظہ کیجیے۔ رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے : ((اَوْحَى اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ اِلٰی جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ: أَنِ اقْلِبْ مَدِينَةَ كَذَا وَكَذَا بِأَهْلِهَا))’’اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ فلاں فلاں بستیوں کو اُن کے رہنے والوں سمیت الٹ دو۔‘‘ ((قَالَ: فَقَالَ: يَا رَبِّ اِنَّ فِيْھَا عَبْدَكَ فُلَانًا لَمْ يَعْصِكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ)) حضورﷺ نے فرمایا:اس پر حضرت جبریل نے عرض کیا: ’’پروردگار! (فلاں بستی کو الٹ دوں؟) اس میں تو تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے آج تک پلک جھپکنے جتنی دیر بھی تیری معصیت میں بسر نہیں کی۔‘‘ اس سے آپ اس شخص کی نیکی کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ جس نے آنکھ جھپکنے جتنی دیر بھی معصیت میں بسر نہ کی ہو اس کا تقویٰ‘ اس کی نیکی‘ اس کی عبادت گزاری‘ اس کا ذاتی اعتبار سے اللہ کے احکام پر عمل پیرا ہونا کس انتہا کا ہو گا۔ اس لیے کہ گواہی دینے والا نہ کرائے کا گواہ ہے‘ نہ جھوٹا وکیل ہے‘ بلکہ حضرت جبرائیلؑ ہیں۔ جہاں گواہی دے رہے ہیں وہاں ابوجہل بھی جھوٹ نہیں بول سکے گا‘ وہاں مبالغے کا کوئی امکان نہیں کہ اتنا نیک شخص! لیکن ((قَالَ: فَقَالَ: اقْلِبْهَا عَلَيْهِ وَعَلَيْهِمْ)) حضورﷺ فرماتے ہیں: اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریل کو دوبارہ حکم دیا ’’الٹو اس بستی کو پہلے اس بدبخت پر پھر دوسروں پر۔‘‘((فَاِنَّ وَجْھَهُ لَمْ يَتَمَعَّرْ فِيَّ سَاعَةً قَطُّ)) ’’اس لیے کہ اس کے چہرے کا رنگ میری حمیت کی وجہ سے کبھی سرخ نہیں ہوا۔‘‘ اتنا بے غیرت انسان کہ میرے احکام ٹوٹتے رہے‘ میری شریعت کی دھجیاں بکھرتی رہیں‘ میرے اوامر کا مذاق اڑتا رہا‘ نواہی کا چرچا ہوتا رہا اور یہ گوشہ نشین ہو کر اللہ ‘ اللہ کرنے میں لگا رہا۔ معلوم ہوا کہ یہ دوہرا مجرم ہے اور عذاب کا اوّلین مستحق ہے ۔ چنانچہ ’’اسلامی انقلاب: کیوں؟‘‘ کا سب سے پہلا جواب یہی ہے کہ یہ ہمارا دینی فرض ہے‘ اس کے بغیر نجات نہیںہے۔ یہ میں نہیں کہتا کہ دین قائم کر دینا فرض ہے‘ بلکہ اسے قائم کرنے کی کوشش کرنا فرض ہے۔ اسلامی انقلاب برپا کرنے کی جدّوجُہد فرض ہے۔ یہ ہوگا تبھی جب اللہ چاہے گا۔ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اسلام کے غلبے سے پہلے ہی فوت ہو گئے۔ مثلاً حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ غلبہ اسلام کی جدّوجُہد کے دوران شہید ہو گئے لیکن وہ اس دنیا سے (معاذ اللہ) محروم وناکام تو نہیں گئے۔ پھر ایسے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی ہیں جو مکہ ہی میں شہید کردیے گئے تھے لیکن ان کی جدّوجُہد اسی رخ پر تھی۔ چنانچہ دین کو قائم کرنے کی جدّوجُہد یا اسلامی انقلاب کو برپا کرنے کی کوشش اس لیے ضروری ہے کہ یہ ہمارا دینی فریضہ ہے۔
(ii پاکستان کی بقا و استحکام کا تقاضا
’’اسلامی انقلاب:کیوں؟‘‘ کے ضمن میں پہلے میں نے دین کی بات کی‘ اب دنیا کی بات بھی سن لیجیے۔ ہماری دنیا کیا ہے؟ یہ ملک پاکستان اللہ کا عطا کردہ ملک‘ جس میں ہمیں آزادی کی دولت حاصل ہے۔ اگرچہ یہاں عوام کو ان کے حقوق میسر نہیں ہیں اور ملکی وسائل پر چند مخصوص طبقات قابض ہیں‘ لیکن بہرحال اس معنی میں تو آزادی ہے کہ انگریز یا ہندو ہم پر حکمران نہیں۔ ہمارا یہ ملک اسلام کے نام پر قائم ہوا تھا اور اسلام کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔ اگر کوئی شخص خالص مادی اعتبار سے بھی سوچے اور دین کا فرض اس کے سامنے نہ ہو‘ تو بھی وہ اسی نتیجے پر پہنچے گا کہ اس کی بقا و استحکام کا ضامن اسلام ہے۔ میرے نزدیک تو اوّلین فرض دین کا ہے‘ دنیا بعد میں ہے‘ مسلمان تو وہی ہے جس کے لیے پہلے دین ہو پھر دنیا۔ اگرکوئی صرف دنیا کی بات کرتا ہے تو اس کو بھی میں ثابت کر کے یہ بتا سکتا ہوںکہ اگر یہاں اسلامی انقلاب نہ آیاتو اس ملک کے باقی رہنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہ جو ہمیں قائد اعظم کے اقوال سنائے جاتے ہیں کہ ’’پاکستان دنیا میں ہمیشہ قائم رہنے کے لیے آیا ہے‘‘ کیا ان کی تکرار سے پاکستان مستحکم ہو جائے گا؟ قائد اعظم ہمارے محسن تھے‘ بہت بڑے لیڈر تھے‘ لیکن نبی اور رسول تو نہیں تھے کہ جن کے منہ سے نکلی ہوئی بات وحی الٰہی پر مبنی ہو۔ پھر یہ حقیقت ہے کہ قائد اعظم کا قائم کیا ہوا پاکستان تو آج روئے ارضی پر موجود ہی نہیں رہا۔ چنانچہ یہ جملہ ویسے ہی غلط ہو چکا ہے۔ جو بات میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اگر پاکستان ایک آزاد‘ خود مختار اور باوقار ملک کی حیثیت سے باقی رہ سکتا ہے تو اس کا صرف ایک ہی راستہ ہے کہ یہاں اسلامی انقلاب آئے۔ اس کا استحکام تو بڑی دُور کی بات ہے‘ میرے نزدیک اسلامی انقلاب کے بغیر اس ملک کے باقی رہنے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ علامہ اقبال نے جو بات کہی تھی وہ پوری ملت اسلامیہ کے لیے کہی تھی‘ لیکن وہ کسی اور ملک کے لیے صحیح ہو یا نہ ہو‘ پاکستان کے لیے سو فیصد درست ہے کہ:؎
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
یہ پاکستان بڑا خاص ملک ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ ایک مصنوعی ملک ہے۔ ہندوستان سے پاکستان کو ایسے کاٹا گیا جیسے کیک کاٹا جاتا ہے ۔ چنانچہ اس تقسیم میں میدانوں اور دریائوں تک کو کاٹا گیا ہے اور بھارت کے ساتھ ہماری کوئی فطری سرحد موجود نہیں ہے۔ بھارت وہ ملک ہے جس نے ایک دن کے لیے بھی ہمارے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ ۱۹۷۱ء میں اسے ایک موقع مل گیا تھا تو اس نے پاکستان کو دولخت کر دیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اب تک اس ملک کی حفاظت فرمائی ہے۔اس دوران کئی مواقع پر یہ ملک عدم استحکام کا شکار ہوا‘ کئی بار علیحدگی کی تحریکوں نے زور پکڑا‘ جیے سندھ کی تحریک کے دوران ریلوے لائن کے سلیپر جلانے کی کوشش کی گئی۔ اس موقع پر علیحدگی پسندوں کو بھارت سے مدد نہ مل سکی‘ ورنہ اگر ان کے پاس کہیں ڈائنا مائٹ وغیرہ ہوتے تو ہماری لائف لائن کئی جگہ سے ٹوٹ سکتی تھی۔ ایک دفعہ یہ لائف لائن ٹوٹ جائے تو فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں کے لیے تیل کہاں سے آئے گا؟ اگر آپ کی ’’آئل سپیشل‘‘ ٹرین چند دن کراچی سے نہ آئے تو پورے ملک میں پہیہ جام ہو جائے گا یا نہیں؟ اس سے جو حشر بپا ہو گا اس کا اندازہ کیجیے۔ الحمد للہ کہ اس ملک کو اللہ تعالیٰ نے ابھی تک بچایا ہوا ہے۔
’’اسلامی انقلاب:کیوں؟‘‘ کے دو جواب ہو گئے۔ ایک یہ کہ یہ ہمارا دینی فریضہ ہے‘ یہ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے ساتھ ہماری وفاداری کا تقاضا ہے: ؎
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں!
دوسرے یہ کہ اسی میں پاکستان کی بقا ہے۔ اسی سے پاکستان کا وجود قائم رہ سکتا ہے۔
(جاری ہے)