تزکیۂ نفسایوب بیگ مرزا
جب کوئی بچہ مسلمان گھرانے میں آنکھ کھولتا ہے یا کوئی غیر مسلم کلمہ ٔ طیبہ اور کلمہ ٔ شہادت پڑھتا ہے اور اعلانیہ طور پر دائرۂ اسلام میں داخل ہو جاتا ہے تو کچھ ضوابط اور قوانین کی پابندی اُس پر خود بخود لازم ہو جاتی ہے‘ جسے اسلامی شریعت کہا جاتا ہے۔ اب وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ شریعت کے فلاں ضابطے اور قانون کو اُس کا دل یا دماغ تسلیم نہیں کرتا۔ گویا مسلمان ہونے کے لیے مکمل سرنڈر مطلوب ہے۔ البتہ خالصتاً ایسے امورِ دنیا کی بات الگ ہے جن سے کسی طرح بھی اور کسی انداز میں بھی شریعت کا تصادم نہ ہو رہا ہو۔ یعنی ایک مسلمان کا طرزِ زندگی ع ’’سر ِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے ‘‘کی عملی مثال ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمان کو اصلاً اللہ کی رضا مطلوب ہے۔ اللہ راضی ہو تو دنیا کی کسی قوت اور طاقت کی کوئی حیثیت نہیں‘ سب ہیچ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کی رضا کیسے حاصل کی جائے! فوری طور پر سمجھ میں آنے والی بات یہ ہے کہ مسلمان ہونے پر کچھ فرائض تو خود بخود لاگو ہو جاتے ہیں‘مثلاً نمازاور روزہ کی پابندی‘ صاحبِ نصاب ہونے پر زکوٰۃ کی ادائیگی اور زادِراہ ہونے پر حج کا فریضہ ادا کرنا؛ پھر یہ کہ حقوق العباد کی ادائیگی کی کم از کم قانونی طور پر ادائیگی ہو‘ مثلاً دھوکا‘ فریب‘ جھوٹ‘ ناحق کو حق بنا لینا یا کسی نوع کا ایسا تجاوز جس سے چاہے کوئی دوسرا بھائی متاثر نہ بھی ہو یعنی صرف اپنی حد سے آگے بڑھنا۔ اِن سب سے اجتناب تو شرعی فریضہ ہے۔ اِن سے آگے بڑھ کر اخلاقی سطح پر حقوق اللہ اور حقوق العباد کی منازل طے کرتے ہوئے انسانی اور اسلامی تقاضوں کے حصول کو اپنا ہدف بنا لینا‘مثلاً نفلی نمازیں اور روزے ‘ فریضہ ٔ زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد بھی خیرات اور عوامی بہبود کے امور سرانجام دینے میں جان اور مال کی دلی آمادگی‘ سُنّت ِرسولﷺ کو دانتوں سے پکڑ لینا اور اس سے انحراف کاتصور بھی نہ رکھنا۔ اصطلاحی طور پر اسے تزکیۂ نفس کہا جاتا ہے۔ بالفاظ دیگر خود اپنے اعمال کی صفائی اور دھلائی میں ہر دم مشغول رہے۔اِس حوالے سے مکمل طور پر اپنی ذات کو غوروفکر کا محور بنائے۔ ظاہری اور باطنی معاملات کے حوالے سے اپنا جائزہ لے اور خود کو اپنی ہی تنقید کی زد میں رکھے۔ دوسروں کے معاملات پر بھی غور کرے تو اُس سے اپنی بہتری اور اصلاح کا راستہ ڈھونڈے۔ دوسروں کو گنجائش دے اور حُسنِ ظن رکھے۔
یہاں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ ایسا سب کچھ کرکے کیا اُس نے تمام دینی تقاضے پورے کر دیے! اِس سے بھی آگے بڑھ کر اُس نے عام لوگوں کو نیک اعمال کی ادائیگی ‘ بُرے کاموں سے بچنے کی تلقین کر دی اور ایک اچھے واعظ کا رول ادا کر دیا۔ یوں اُس کی طرف سے تو حق ادا ہوگیا اور وہ وَمَا عَلَیْنَا اِلَّا الْبَلَاغ کہہ کر مکمل طور پر بری الذمہ ہوگیا۔ اب دنیا جانے اور دنیا والے جانیں! اُس سے ذاتی سطح پر جو ہو سکا ‘اُس نے کر دیا‘ اُس کی ذمہ داری ختم ہوگئی۔ اگر کسی مسلمان کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہو رہی ہے جو کوئی فرد‘ معاشرہ یا ریاست کر رہی ہے تو ایسے میں وہ زاہد و عابد کسی کو ظلم و ستم سے کیسے بچائے؟ اُس کے پاس تو طاقت نہیں ہے‘ وہ زیادہ سے زیادہ اظہارِ افسوس ہی کر سکتا ہے۔ کسی شہری کو ظلم و ستم سے بچانا فرد کا نہیں بلکہ ریاست کا کام ہے۔ اگر خود ریاست ہی ظلم و ستم ڈھا رہی ہے تو پھر مظلوم کہاں جائے؟
اِس سوال کا جواب اُس زاہد و عابد اور تزکیۂ نفس کی منازل طے کرنے والے کے پاس ہرگز نہیں ہے۔ اُس کا موقف ہوگا کہ ریاست اگر ایسا کر رہی ہے تو اُس کا واحد حل اللہ تعالیٰ سے دعا ہے ۔انفرادی کارگزاری کی حدود یہاں ختم ہو جاتی ہیں۔ لیکن ‘اور یہ بہت بڑا ’’لیکن‘‘ ہے کہ عدل کو دین اسلام کا ’’کیچ ورڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اگر اسلام سے عدل کو نکال دیا جائے تو کچھ باقی نہیں بچتا۔ البتہ اس کے حوالے سے بھی ایک انتہائی نیک اور پارسا فرد بھی تلملانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا۔ درحقیقت ماضی میں اسلامی ریاست کے وجود نے یہ تصور دیا تھا کہ تمام اجتماعی معاملات حکومت نے سنبھال لیے ہیں‘ وہ اپنے فرائض ادا کر رہی ہے اور جزا و سزا کا سلسلہ برحق چل رہا ہے تو ایسے میں فرد کی ضرورت صرف یہ رہ جاتی ہے کہ وہ شب و روز اللہ تعالیٰ کے حضور انہماک سے رکوع و سجود میں مصروف رہے ‘یہاں تک کہ کسی حد تک اپنی ذات سے بھی بے پروا ہو جائے۔ دوسرے لفظوں میں وہ محض ذاتی تزکیہ کے حصول میں کوشاں رہے۔ ظاہری طور پر یہ بات اگرچہ بالکل درست ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ خلفائے راشدین کے دور کے بعد عوامی نقطہ نظر سے چند زریں اور سنہرے ادوارچھوڑ کر عوام عدل سے محروم ہی رہے۔ حکومت کا ناقد ریاست کا باغی سمجھا جاتا تھا اور یوں بدترین سزا کا حق دار قرار پاتا۔
راقم کہنا یہ چاہتا ہے کہ خود کو محض ذاتی تزکیہ تک محدود کر لینا کبھی بھی بحیثیت مجموعی معاشرے میں مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کر سکتا۔ اِس کا ہرگز ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ذات کا تزکیہ ثمر آور نہیں‘ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ معاشرے میں مطلوبہ نتائج کے حصول کےحوالے سے نامکمل اور ادھورا ہے۔ لہٰذا فرد‘ گروہ یا ریاست اگر ظلم کدہ بن چکی ہے تو اُس عادلانہ نظام کے قیام کے لیے لسانی‘ قلمی اور آخر کار عملی طور پر میدان میں نکل کر اگر کوئی بندۂ خدا یا بندگانِ خدا پر مشتمل ایک جماعت خالصتاً قرآن و حدیث کی تعلیمات کو بنیاد بنا کر اللہ کے دین کے لیے جدّوجُہد کرتی ہے اور عدلِ اجتماعی کے قیام کے لیے جان و مال کی قربانی دیتی ہے تو یہ اجتماعی تزکیہ کی بہترین مثال ہوگی۔ ظاہر ہے کہ یہ جماعت اور اُن سے منسلک افراد ذاتی سطح پر شرعی تقاضوں کی ادائیگی کا عملی نمونہ نظر آنے چاہئیں۔ یہاں اِس بات کی وضاحت بھی ازحد ضروری ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے ‘جس کے اثرات ذاتی تزکیہ کے حصول میں بھی سامنے آ سکتے ہیں اور اجتماعی جدوجہد میں بھی ایسا ہونا ناممکن نہیں۔ انہیں سمجھنا ‘ اِن سے بچنا اور لوٹ کر صراطِ مستقیم پر گامزن ہو جانا نفس کے تزکیہ کا حصہ ہے۔ خود معاشرہ اور ریاست کو عدلِ اجتماعی پر قائم دائم رکھنے کے لیے ہر آن جدوجہد کرتے رہنا ہی تزکیہ کی بنیاد ہے۔
آخری اور حتمی بات یہ ہے کہ ذاتی اور اجتماعی تزکیہ ایک کُل کے دو جزو ہیں۔ یہ ایک پیکج ہے‘ ایک یونٹ ہے جنہیں اگر جدا کر دیا جائے تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔پھر انسانیت کسی صورت فلاح نہیں پا سکے گی۔ یہاں اُس حدیث قدسی کا حوالہ یقیناً برمحل ہو گا جس کا مفہوم یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا ایک بزرگ طویل مدت تک رات کا راہب بنا رہا ‘یعنی عبادت میں مشغول رہا لیکن اُس کی بستی کے لوگ بدترین گناہوں میں ملوث تھے ۔وہ اُن کےخلاف کوئی عملی قدم اٹھانےکو تیار نہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اُس بستی کو تباہ کرنے کا حکم دیا ۔جب فرشتہ نے اللہ ربّ العزت سے اُس عابد شخص کا ذکر کیا کہ وہ بھی اِس بستی کا باشندہ ہے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ الٹا دو اِس بستی کو پہلے اُس پر ‘پھر دوسرے لوگوں پرکہ میری معصیت میں مبتلامعاشرے کو دیکھ کراس شخص کے چہرے کا رنگ بھی نہیں بدلا (واضح رہے یہ حدیث کا لفظی ترجمہ نہیں بلکہ مفہوم ہے)۔ علاوہ ازیں ایک بڑا اہم اور غور طلب حقیقت یہ ہے کہ اصحابِ صفہ جو شب و روز عبادت کرتے تھے اور حضورﷺ کے دربار میں حاضر رہتے تھے ‘اُن میں سے کوئی بھی عشرئہ مبشرہ میں شامل نہیں۔ معلوم ہوا کہ اللہ کی رضا اُنہیں نصیب ہوتی ہے جو رات کے راہب اور دن کے شہسوار ہوتے ہیں۔ شب گزاری اور اللہ کے دین کے نفاذ کے لیے جان و مال کی قربانی نفس کے تزکیہ کے ناگزیر تقاضے ہیں۔
tanzeemdigitallibrary.com © 2026