اقامت ِدین کے مطالبات
ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
یہ جماعت اسلامی ہند کے رہنما مولانا رضی الاسلام ندوی کا ایک اہم خطاب ہے۔ اس کے مخاطبین تو ارکانِ جماعت ہیں لیکن اس میں دیگر اسلامی تحاریک ‘ خصوصاً رفقاءِ تنظیم اسلامی کے لیے بھی رہنمائی کا کافی سامان موجود ہے ۔اس لیے اسے معمولی حک و اضافہ کے ساتھ شائع کیا جارہا ہے۔ اسے جناب سلیم منصور خالد کی مرتب کردہ کتاب ’’اقامت ِدین :روایت‘ عمل ‘ رہنمائی‘‘ سے لیا گیا ہے۔ (ادارہ)
پانچ تقاضے ہیں‘ جن کا ہمارا یہ نصب العین ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔ ان باتوں کا مخاطب سب سے پہلے میں خود اپنی ذات کو سمجھتا ہوں‘ پھر آپ حضرات کے سامنے یہ باتیں پیش کر رہا ہوں‘ اس امید کے ساتھ کہ ہم میں سے ہر شخص‘ خواہ وہ مرد ہو یا عورت‘ ان باتوں کو اپنے پیشِ نظر رکھے گا اور ان تقاضوں کا خود کو مخاطب سمجھے گا اور ان پر حتی الامکان عمل کرنے کی کوشش کرے گا:
(۱)اقامت ِدین کادرست تصور
سب سے پہلا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنا تصور درست کریں۔ اقامت ِدین صرف سیاسی اسلام کا نام نہیں ہے۔ جماعت کے تصورِ اقامت ِدین کو بدنام کرنے کے لیے اور اس کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے ایک الزام بہت زور و شور سے یہ لگایا گیا ہے کہ یہ لوگ سیاسی اسلام کے داعی ہیں۔ یہ الزام اسلام کے مخالفین نے بھی لگایا ہے۔
چنانچہ مغرب میں مولانا مودودیؒ کی شخصیت اور فکر پر جو سینکڑوں کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں اس چیز کو بہت نمایاں کر کے پیش کیا گیا ہے کہ انہوں نے سیاسی اسلام کی دعوت دی ہے۔ یہاں تک کہ ایک اصطلاح مغرب میں استعمال ہونے لگی ہے ’’مودودی ازم‘‘‘ یعنی اس شخص کے افکار نے اسلام کو سیاسی طور پر غالب کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کو عام کیا ہے۔
مولانا مودودیؒ پر مغرب میں جتنی کتابیں مثبت انداز میں لکھی گئی ہیں اس سے کہیں زیادہ تعداد میں کتابیں اور مقالے منفی انداز میں لکھے گئے ہیں اور یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے ’’سیاسی اسلام‘‘کی دعوت پیش کی۔ یہ بات صرف غیر مسلم مصنّفین اور مستشرقین نے ہی نہیں کہی ہے‘ بلکہ افسوس ہے کہ یہ بات کہنے والے بہت سے مسلمان بھی ہیں‘ چاہے وہ عالم عرب کے بعض مسلم مصنّفین ہوں یا بر صغیر پاک و ہند کے بعض علماء اور دانش ور ہوں۔
ان تمام معترضین کو شکایت ہے کہ مولانا مودودیؒ نے اسلام کا جو جامع تصور پیش کیا ہے‘ اس میں سیاست کو کیوں شامل کیا ہے؟ ان معترضین کی وجہ سے عام مسلمانوں میں بھی جماعت کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ لوگ سیاست کی بات کرتے ہیں۔ اس سے آگے بڑھ کر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ لوگ حکومت چاہتے ہیں‘ دنیا داری کے خواہاں ہیں‘ دنیا کماناچاہتے ہیں‘ اقتدار پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔ یہ تصور شعوری یا غیر شعوری طور پر جماعت کے بعض وابستگان میں بھی پایا جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سیاست میں عمل دخل ‘اقتدار حاصل کرنے کی خواہش اور حکومت بنانے کی کوشش‘ یہی اقامت ِدین کا کام ہے‘ حالانکہ اقامت ِدین کا مطلب یہ نہیں ہے۔
اقامت ِدین میں تین باتیں کہی گئی ہیں: فرد کا ارتقاء‘ معاشرے کی تعمیر اور ریاست کی تشکیل۔ فرد کی اصلاح اور معاشرے کی تعمیر کے بغیر ریاست کی تشکیل نہیں ہو سکتی۔ اگر ہم سمجھتے ہیں کہ صرف ریاست کی تشکیل کا نام اقامت ِدین ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اقامت ِدین کا تصور غلط ہے۔
اقامت ِدین کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنا تصور درست کریں۔ اقامت ِدین کا مطلب کیا ہے؟ اس میں کیا کیا چیزیں شامل ہیں؟ اس کے مراحل کیا ہیں؟ اس کا ہمیں صحیح طریقۂ سے علم ہونا چاہیے۔ تصوّرِ اقامت ِدین پر دوسرے حلقوں سے جو اعتراضات کیے جاتے ہیں ان کے سلسلے میں ہمارا ذہن صاف ہونا چاہیے۔ کہا جاتا ہے کہ اسلام کا غلبہ اللہ تعالیٰ کا انعام ہے‘اس کے لیے جدّوجُہد مطلوب نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سورۃ الشوریٰ کی آیت {اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ} میں دین سے مراد صرف ایمانیات اور اخلاقیات ہیں‘اس کے لیے اجتماعی جدّوجُہد مطلوب نہیں ہے۔ تمام احکام کا خطاب اللہ کے بندوں سے انفرادی طور پر ہے۔
اس طرح کے جو اعتراضات کیے جاتے ہیں ان کے سلسلے میں ہمارا ذہن بالکل واضح ہونا چاہیے۔ یہ اعتراضات غلط ہیں اور کیوں غلط ہیں؟ ان کے غلط ہونے کے دلائل کیا ہیں؟ اس کے بارے میں ہمارا ذہن بالکل صاف ہونا چاہیے۔ اگر ہمارا ذہن صاف نہیں ہوگا تو ہم اس راہ پر آگے نہیں بڑھ سکتے ‘ اس لیے کہ جب ہمارا تصور ہی واضح نہیں ہوگا تو ہم کیسے اسلام کی راہ میں پیش قدمی کر سکتے ہیں؟
(۲) دین کااپنی ذات پر نفاذ
اقامت دین کا دوسرا تقاضا یہ ہے کہ اقامت دین کا اوّلین نفاذ ہماری ذات پر ہونا ہے۔ ہم میں سے ہر فرد خود کو مخاطب سمجھے۔ دین کی تمام تعلیمات ہمارے لیے آئی ہیں۔ چاہے عبادات کا معاملہ ہو‘ ذکر و صلوٰۃ‘ زکوٰۃ‘ روزہ اور ان میں فرائض‘ نوافل‘ معاشرت کا پہلو ہے‘ جتنے حقوق العباد ہیں‘ معاملات‘ اخلاقیات۔ دین کے یہ جتنے پہلو ہیں ان کا اوّلین خطاب ہم سے ہے۔ ہم کو ان تعلیمات‘ ہدایات اور احکام کو اپنی ذات پر نافذ کرنا ہے۔
اس تعلق سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا نمونہ ہمارے سامنے ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے دعوت پیش کی۔ آپؐ نے اسلام کا پیغام عام کیا۔ ایک ایک کرکے لوگ آپؐ پر ایمان لاتے گئے۔ صحابہ کرامؓ کی ایک جمعیت وجود میں آگئی۔ سب سے پہلے دین ان پر نافذ ہوا۔ کیا صحابہ کرامؓ میں سے کسی ایک شخص کے بارے میں بھی ان کے مخالفین نے یہ بات کہی کہ یہ لوگ جس اسلام کے دعوے دار ہیں اس پر خود عمل نہیں کرتے؟ یہ امانت کی بات کرتے ہیں ‘لیکن بے ایمانی ان کا شیوہ ہے۔ یہ حقوق کی بات کرتے ہیں‘ لیکن دوسرے انسانوں کے حقوق ہڑپ کر لیتے ہیں۔ یہ معاملات میں شفافیت کی بات کرتے ہیں‘ لیکن ان کے اپنے معاملات انتہائی خراب ہیں!
اللہ کے رسول ﷺ کے بارے میں مختلف اعتراضات کیے گئے: یہ ساحر ہیں‘ کاہن ہیں‘ شاعر ہیں‘ یہ بھائی بھائی میں جدائی ڈالتے ہیں! لیکن کیا کسی معترض کو یہ کہنے کا یارا ہوا کہ ان پر جو لوگ ایمان لائے ہیں ان میں اتنی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جوان کی باتوں پر کما حقہ ٗ عمل نہیں کرتے۔ کسی ایک فرد کے بارے میں بھی یہ اعتراض نہیں کیا گیا۔
اقامت ِدین کی ترتیب یہ ہے کہ ہم سب سے پہلے دین کو اپنے اوپر نافذ کریں۔ اقامت ِ دین کا اولین ٹارگٹ ہماری ذات بنے۔جماعت ِاسلامی کے ارکان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ کارکنان و متّفقین اور وابستگان کی تعداد لاکھوں میں ہوگی۔ اگر ہم اس بات کو یقینی بنا دیں کہ اتنے افراد سب سے پہلے دین کو اپنی ذات پر قائم کریں گے تو اس کا مطلب ہے کہ اتنے انسانوں پر دین قائم ہوگیا۔ اب یہ لوگ دوسرے انسانوں تک دین کی تعلیمات پہنچانے کی کوشش کریں گے۔
سب سے پہلے ہم میں سے ہر مرد‘ ہر عورت‘ جماعت کا ہر رکن‘ ہر کارکن اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی ذات پر دین قائم ہو گیا ہے۔ اگر ہم نے اپنے اوپر دین قائم کرنے کے بجائے دوسرے لوگوں پر دین کو قائم کرنے کی کوشش کی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ترتیب الٹ دی۔ الٹی ترتیب سے دین کبھی قائم نہیں ہو سکتا۔ صحیح ترتیب یہی ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنے اوپر دین کو قائم کرنے کی کوشش کریں۔
(۳) گھر اور خاندان کے دائرے میں کام
اقامت ِدین کا تیسرا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے گھر اور خاندان کے دائرے میں دین کو قائم کرنے کی کوشش کریں۔ ہم اپنے گھر کے قو ّام ہیں‘ ہمیں ’’راعی‘‘کہا گیا ہے۔ راعی کے معنی چرواہا کے ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک چرواہے کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس کی نگرانی میں جو بھی بھیڑ بکریوں کا ریوڑ ہے‘ ان کی حفاظت کرے‘ بھیڑیوں کے حملوں سے ان کو بچانے کی کوشش کرے‘ ان کے چارہ پانی کا انتظام کرے‘ ان کی صحت کا خیال رکھے‘ ان کو تکلیفوں سے بچائے۔ اسی طرح ہم میں سے ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اہلِ خانہ پر پوری توجہ دیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا} (التحریم: ۶)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے۔‘‘
اللہ کے رسول ﷺ کو حکم دیا گیا:
{وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ(۲۱۴)} (الشعراء)
’’اور خبردار کرو اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو۔‘‘
یہ حکم اللہ کے رسول ﷺ کو بعثت کے ابتدائی زمانے میں دیا گیا تھا۔ اُس زمانے میں جوا بھی خفیہ دعوت‘ انفرادی دعوت کا تھا۔اللہ کے رسول ﷺ نے اس حکم پر عمل کیا۔ آپؐ نے اپنے خاندان والوں کو بلایا۔قریش کے چھوٹے بڑے تمام خاندان والے اکٹھا ہوئے۔ آپؐ نے انہیں مخاطب کیا: ’’اے بنی فہر! اے بنی لوی! اے بنی ہاشم!‘‘ آپ ؐنے قریش کے ایک ایک خانوادے کا نام لے کر فرمایا:’’تم مجھ سے جو کچھ دنیا کی چیزیں مانگنا چاہو مانگ لو‘ میں اس کو پورا کرنے کی کوشش کروں گا‘ لیکن مَیں تمہیں آخرت کے بارے میں ڈرانا چاہتا ہوں۔ آخرت میں ہر فرد ذاتی حیثیت میں جواب دہ ہوگا ‘تم اس کے بارے میں فکر کر لو۔‘‘ پھر آپؐ نے خاندان سے آگے بڑھ کر اپنے رشتہ داروں کا نام لیا:’’اے میری پھوپھی صفیہ! اے میری بیٹی فاطمہ! مَیں تمہیں آخرت کے عذاب سے ڈراتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے کی تلقین کرتا ہوں۔‘‘
یہ تلخ حقیقت ہے‘ لیکن ہمیں اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہم جماعت میں تنہا شامل ہوئے ہیں۔ ہم نے اپنے گھر والوں کو شامل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ گھر والوں کو شامل کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم اپنے گھر والوں کو بھی جماعت کی رکنیت کا فارم بھروا دیں‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے گھر والے ہمارے ہم خیال بنیں۔وہ ہمارے کاموں میں رکاوٹ نہ ڈالیں‘ بلکہ معاون بنیں۔لیکن ایسا نہیں ہوتا ہے۔
ہم اپنے بچوں کا نکاح کرتے ہیں تو آسان نکاح کی ہماری ساری تقریریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ ہمارے خاندان والے ہی رکاوٹ ڈالتے ہیں: یہ ہمارا پہلا بیٹا ہے‘ یہ ہماری آخری بیٹی ہے‘ ہمیں ارمان نکالنے ہیں‘ اب دوبارہ اس کا موقع نہیں آئے گا۔ اس طرح کی باتیں خاندان والوں کی طرف سے کہی جاتی ہیں۔ ہم خواہش رکھتے ہیں کہ نکاح کو اسلامی طریقے سے کرنے کی کوشش کریں گے‘ لیکن اپنے خاندان ہی میں ہم اجنبی بن کر رہ جاتے ہیں۔ جہیز کے بارے میں ہم تقریریں کرتے ہیں کہ جہیز ایک لعنت ہے‘ اس کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے‘ یہ ہندووانہ رسم ہے‘ لیکن جب ہماری اپنی بیٹی کے نکاح کا موقع آتا ہے تو چار و ناچار ہمیں جہیز دینا پڑتا ہے۔ لڑکے کے نکاح کا موقع آتا ہے تو ہم صراحت سے جہیز کا انکار نہیں کر پاتے ہیں۔ ہمارے بیٹے‘ بیٹیاں‘ بیویاں اور دوسرے رشتے دار اصرار کر کے ہم سے وہ کام کروا لیتے ہیں‘ جنھیں انجام دینے پر ہم آمادہ نہیں ہوتے۔ قرآنِ مجید میں وراثت کی تقسیم کا صریح حکم دیا گیا ہے‘ لیکن ہم اس پر عمل نہیں کر پاتے۔وراثت میں ہم اپنی بہنوں کو حصّہ نہیں دے پاتے۔ عائلی تنازعات تحریک ِاسلامی کے خاندانوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ساس بہو کے جھگڑے جماعت ِاسلامی کے ارکان اور وابستگان کے درمیان بھی موجود ہیں۔ مَیں بہت معذرت کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری توجہ گھر سے باہر زیادہ رہتی ہے‘ گھر کے اندر کم رہتی ہے۔ اس وجہ سے جب ہمارا انتقال ہوتا ہے تو ہمارے گھر سے بھی تحریک کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم تحریک میں تنہا شامل ہوئے ہیں۔ہم نے اپنے خاندان کو شامل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔
ہماری بہنیں سوال کرتی ہیں کہ اقامت ِدین کا خطاب ہم سے کس طرح ہے؟ ہم کیا کریں؟ میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ اپنے گھر میں اسلام کو نافذ کیجیے۔ آپ خود دین پر عمل کیجیے اور اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کیجیے کہ وہ بھی دین پر عمل کریں۔آپ اپنے شوہروں کی معاون بنیے۔ ان کو خوش گوار ماحول فراہم کیجیے۔گھر کے اندر ان کو سکون فراہم کیجیے‘ تاکہ وہ گھر کے باہر دین کا کام کر سکیں۔ا گر آپ یہ سب کر لیں تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے اقامت ِدین کا کام پورا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:{ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ } (التوبۃ :۷۱) ’’مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے اولیاء ہیں۔‘‘
’اولیاء‘ کہتے ہیں قریبی تعلق رکھنے والوں کو۔عام دوستوں اور عام تعلق رکھنے والوں کے بارے میں اولیاء کا لفظ نہیں آتا ۔یہ ان لوگوں کے بارے میں آتا ہے جن کے درمیان انتہائی گہرا قریبی تعلق ہوتا ہے۔یہ تعلق ان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر معروفات کا حکم دیں اور منکرات سے روکیں۔ جس طرح مرد کو اپنے گھر کا ذمہ دار کہا گیا ہے اسی طرح عورت کو بھی ذمہ دار (راعیۃ) کہا گیا ہے کہ وہ اپنے شوہر اور اس کے گھر والوں اور بچوں کی نگران ہوتی ہے۔
(۴)اجتماعیت کو اختیار کریں
اقامت ِدین کا ہم سے چوتھا تقاضا یہ ہے کہ ہم دین کی تبلیغ اور اشاعت میں اجتماعیت کو ملحوظ رکھیں۔ دین (کے بعض احکام )پر انفرادی طور سے عمل کیا جا سکتا ہے۔ نماز کوئی شخص تنہا پڑھ لے‘ نماز ہو جائے گی۔ وہ مسجد نہ جائے‘ جماعت میں شامل نہ ہو‘ گھر پر ہی نماز پڑھا کرے تو قانونی طور پر اس کی نماز ہو جائے گی۔ اس پر زکوٰۃ فرض ہے‘ وہ کسی کو زکوٰۃ دے دے‘ ایک آدمی کو دے دے یا دس آدمیوں کو دے دے‘ اس کی زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ لیکن دین کی تعلیم یہ ہے کہ ہر عمل اجتماعی طور سے ادا کرنے کی کوشش کی جائے۔ دین پر عمل کے لیے جتنے احکام دیے گئے ہیں سب کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ اسلام کی دعوت اور اشاعت کے سلسلے میں بھی اجتماعیت کو اختیار کیا جائے۔
تصورِ اقامت ِدین کے مخالفین کہتے ہیں کہ دین کے احکام پر عمل افراد سے انفرادی طور پر مطلوب ہے۔ یہ بالکل غلط بات ہے۔ مفسرین نے صراحت سے یہ بات کہی ہے کہ دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے اجتماعی جدّوجُہد مطلوب ہے۔ اس موقع پر مَیں صرف دو مفسرین کے حوالے دوں گا: ایک قدیم مفسر ہیں علامہ ماوردیؒ۔ پانچویں صدی سے ان کا تعلق ہے۔ ۴۵۰ھ میں ان کا انتقال ہوا ہے۔ بہت عظیم مفسر ہیں‘ فقہ میں بھی ان کا کام ہے۔ ان کی تفسیر کا نام ہے: ’’النکت والعیون‘‘ جو تفسیر الماوردی کے نام سے بھی مشہور ہے۔ انہوں نے سورۃ الشوریٰ کی آیت ۱۳ کی تفسیر میں لکھا ہے:’’اقامت ِدین کے دو پہلو ہیں: پہلا یہ کہ خود دین پر عمل کرو۔ دوسرا یہ ہے کہ اس کی طرف دوسروں کو دعوت دو۔‘‘ دوسرے مفسر موجودہ دور کے ہیں۔ عالم ِ عرب کے ممتاز عالم عبدالرحمٰن السعدی کی تفسیر کا نام ہے: ’’تیسیر الکریم الرحمٰن فی تفسیر کلام المنان۔‘‘ اس میں انہوں نے آیتِ شوریٰ کی تفسیر میں لکھا ہے:’’دین کو تم اپنی ذات پر قائم کرو اور اسے دوسروں پر بھی قائم کرنے کے لیے جدّوجُہد کرو۔ نیکی اور تقویٰ کے معاملے میں دوسروں سے تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں دوسروں سے تعاون نہ کرو۔‘‘ یہ میں نے دو مفسرین کے حوالے دیے ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر مفسرین نے بھی یہ بات کہی ہے کہ دین کی دعوت و اشاعت کے لیے اجتماعی جدّوجُہد مطلوب ہے۔
(۵)منزل پر نظر رہے!
پانچواں تقاضا اقامت ِدین کا یہ ہے کہ منزل پر ہماری نظر ہو۔ ہمیں معلوم ہو کہ ہماری منزل کہاں ہے؟ اور کیا راستہ ہمیں اختیار کرنا ہے؟ راستے میں چاہے جتنی رکاوٹیں آئیں‘ ہم رکاوٹوں کو دور کریں گے‘ لیکن ہر لمحے منزل پر ہماری نظر ہوگی۔ سیرتِ نبویؐ سے ہمیں اس سلسلے میں بہت اہم راہ نمائی حاصل ہوتی ہے۔
اللہ کے رسول ﷺکی بعثت کے بعد ابتدائی زمانے میں جب مشرکین مسلمانوں کو ستانے لگے‘ تکلیف پہنچانے لگے تو حضرت خباب بن الارت رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور شکایت کی کہ ہمیں مشرکین بہت تکلیفیں پہنچاتے ہیں۔ آپ ہمارے لیے دعا کردیجیے اور ان لوگوں کے لیے بددعا کر دیجیے کہ یہ لوگ ہلاک ہو جائیں۔ راوی کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ خانہ کعبہ کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ آپؐ نے جب یہ بات سنی تو اُٹھ کر بیٹھ گئے۔ آپ ﷺنے فرمایا:’’خباب! تم ابھی سے گھبرا گئے۔ تم سے پہلے کے لوگوں کو اتنا ستایا گیا کہ لوہے کی کنگھیوں سے ان کی کھال اتار لی گئی‘ طرح طرح سے ان کو ستایا گیا۔‘‘ آپؐ نے اس کی مثالیں دیں‘ پھر آخر میں فرمایا:’’اللہ کی قسم! یہ معاملہ جو مَیں لے کر آیا ہوں‘ یہ دین جو لے کر آیا ہوں پورا ہو کر رہے گا‘ یہاں تک کہ ایک سوار صنعاء سے حضرموت تک جائے گا‘ اس کو اللہ کے علاوہ اور کسی کا خوف نہیں ہوگا‘ لیکن تم لوگ جلد بازی کرتے ہو۔‘‘
غزوئہ احزاب کے موقع پر جب مدینہ کے اطراف میں خندق کی کھدائی ہو رہی تھی تو کئی چٹانیں ٹوٹ نہیں رہی تھیں۔ اللہ کے رسول ﷺ کو خبر دی گئی۔ آپ تشریف لے گئے۔ آپؐ نے کلہاڑی ماری۔ چٹانیں پاش پاش ہو گئیں۔ چٹانوں سے چنگاریاں نکلیں۔ آپ ﷺنے فرمایا:’’ان چنگاریوں میں مجھے قیصر و کسریٰ کے محلات نظر آتے ہیں۔‘‘ یہ ہے منزل کا شعور کہ آنکھوں سے منزل دکھائی دینے لگے۔ اللہ کے رسول ﷺکو حکم دیا گیا: ’’اے پیغمبر! آپ اعلان کر دیجیے اور اپنی دعوت میں کسی مداہنت کا معاملہ نہ کیجیے‘ مشرکین سے اعراض کیجیے‘ اپنی دعوت کو برملا پیش کیجیے۔‘‘ چنانچہ ہم سب جانتے ہیں کہ مشرکین نے آپؐ سے سودا کرنا چاہا۔ آپؐ کے چچا ابو طالب آپؐ کے سرپرست تھے۔ ان کے پاس گئے اور کہا کہ کسی طرح اپنے بھتیجے کو اس طرح دعوت پیش کرنے سے روکیے۔ یہاں تک کہ ابو طالب بھی کچھ دیر کے لیے متزلزل ہو گئے۔ لیکن اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا:’’اگر یہ لوگ میرے ایک ہاتھ میں سورج اور دوسرے ہاتھ میں چاند رکھ دیں اور یہ اُمید رکھیں کہ مَیں اس دعوت کو چھوڑ دوں گا تو میں ہرگز ایسا نہیں کروں گا‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کو غالب کر دے‘ یا مَیں اسی راہ میں کام آ جاؤں۔‘‘
ہمارے راستے میں بہت سی رکاوٹیں آتی ہیں‘ لیکن ہر حال میں ہماری نظر منزل پر ہونی چاہیے۔ اسے دیکھتے ہوئے ہم ایک ایک قدم آگے بڑھائیں گے تو منزل پر ضرور پہنچیں گے‘ لیکن اگر منزل ہماری نگاہوں سے اوجھل ہو گئی‘ راستے سے ہم ہٹ گئے تو منزل تک نہیں پہنچ سکتے۔ ہماری رفتار چاہے جتنی سست ہو‘ لیکن اگر ہمیں راستے کا پتہ ہے تو یقیناً ہم منزل سے قریب ہوتے جائیں گے۔ (تلنگانہ میں کارکنوں سے خطاب)