سالانہ اجتماع کے مقاصد اور
ان کے حصول کا طریقہ
بانیٔ تنظیم اسلامی کے ایک فکر انگیز خطاب سے ما خوذ
تنظیم اسلامی کے نویں سالانہ اجتماع منعقدہ ۲۵ مئی تا۲۹ مئی۱۹۸۴ ءکے موقع پر بانی تنظیم نے رفقاء سے جو مفصل افتتاحی خطاب ارشاد فرمایا تھا ‘اس میں جہاں دیگر بہت سے اہم ملی و ملکی اور تنظیمی و جماعتی موضوعات کا جامعیت کے ساتھ احاطہ کیا وہاں اجتماع کے مقاصد پر بھی وضاحت سے روشنی ڈالی۔ ذیل میں ہم بانی محترم کی گفتگو کے اس حصے کو معمولی سے حِک و اضافے کے ساتھ پیش کر رہے ہیں جس میں انہوں نے اجتماع کے مقاصد کے حوالے سے گفتگو فرمائی تھی۔ اس لیے کہ اجتماع کے جو مقاصد اُس وقت تھے وہی آج بھی ہیں۔(ادارہ )
اس اجتماع کے چار اہم مقاصد ہیں جو ہم میں سے ہر شخص کے سامنے شعوری طور پر رہنے چاہئیں ۔
(۱)جذبۂ تازہ کا حصول
جب ہم یہاں سے جائیں تو جذبۂ تازہ لے کر جائیں۔ ہمارے اندر ایک نئی لگن پیدا ہو جائے۔جہاں تک جذبے کا تعلق ہے تو اس کا تمام تر دارومدار ایمان پر ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یقین جتنا گہرا ہوگا‘ اللہ تعالیٰ کے ہاں محاسبہ کا خوف جتنا زیادہ د امن گیر ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی محبّت دلوں میں جس قدر بڑھتی جائے گی‘ اس کی رضا جوئی کے لیے تن من دھن لگانے کا جذبہ بھی اسی قدر بڑھتا چلا جائے گا۔
دل میں ایمانِ حقیقی جاگزیں ہو چکا ہو تو انسان بڑی سے بڑی قربانی کے لیے آمادہ ہو جاتا ہے۔ دلوں پر بھی زنگ آ جایا کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں ایمانی کیفیات دھند لانے لگتی ہیں۔ چنانچہ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں :
((اِنَّ ھٰذِہِ الْقُلُوْبَ تَصْدَأُ کَمَا یَصْدَأُ الْحَدِیْدُ اِذَا اَصَابَہُ الْمَاءُ)) قِیْلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ وَمَا جِلَاءُھَا؟ قَالَ: ((کَثْرَۃُ ذِکْرِ الْمَوْتِ وَتِلَاوَۃُ الْقُرْآنِ)) (رواہ البیہقی)
یعنی بنی آدم کے قلوب بھی اسی طرح زنگ آلود ہو جاتے ہیں جیسے لوہا پانی پڑنے سے۔ دریافت کیا گیا :یارسول اللہﷺ!اس زنگ کا علاج کیا ہے؟ فرمایا:’’ موت کی بکثرت یاد اور قرآن مجید کی تلاوت۔‘‘
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بہت ہی عملی سوال کیا۔ ان حضرات کا بالعموم انداز ہی یہ ہوتا تھا کہ وہ زیادہ علمی نوعیت کے مسئلوں میں نہیں پڑا کرتے تھے۔ ان کا یہ تجربہ تھاکہ تلواروں پر زنگ آ جائے تو صیقل کر لیا جاتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے دریافت کیا کہ دلوں کے زنگ کو کس چیز سے دور کیا جائے! دلوں کی ویران دنیا پھر سے کیسے آباد ہو جائے کہ جذبۂ ایمانی جھلملا اٹھے؟آپ ﷺ نے جواباً دو چیزوں کا ذکر فرمایا :ایک موت کی بکثرت یاد کہ یہ احساس رہے کہ یہاں رہنا نہیں ہے بلکہ ایک دن یہاں سے جانا ہے۔ گویا یہ دنیا ہماری منزل نہیں ہے بلکہ راہ گزر ہے۔ اس ضمن میں حضور اکرم ﷺ کے یہ الفاظ بھی نہایت جامع ہیںجو آپؐ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ان سے فرمائے تھے : ((کُنْ فِیْ الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ)) (رواہ البخاری و الترمذی) یعنی’’دنیا میں ایسے رہو جیسے اجنبی یا راہ چلتا مسافر!‘‘
دوسری چیز جس کا آپ ﷺ نے با ہتمام ذکر فرمایا‘ وہ ہے تلاوتِ قرآن۔ گویا اس زنگ کو اتارنے کے لیے یہ دو بہت ہی مؤثر ذریعے ہیں۔ اس اجتماع کا پہلا مقصد یہ ہوا کہ ان پانچ دنوں میں ہم نے اس زنگ کو اتارنا ہے جس کی وجہ سے ہمارا جذبہ سرد پڑ رہا ہے۔ گویا کہ بیٹری کو’’ ری چارج‘‘ کرنا ہے۔
آپ لوگ اگر پورے صبر اور ہمت کے ساتھ مشکلات کو جھیلتے ہوئے خوش دلی سے اجتماع کے پروگراموں میں شریک رہیں تو ان شاءاللہ کسی نہ کسی درجے میں یہ مقصود ضرور حاصل ہوگا اور آپ اپنے جذبات ِایمانی میں حرارت اور تازگی محسوس کریں گے۔
(۲)مقصد اور طریقِ کار کا شعور
ہمارے سامنے اپنے مقصد اور طریقہ کار کا شعور نکھر کر آئے اور مزید اُجاگر ہو ‘اس لیے کہ جس طرح دلوں پر زنگ آجایا کرتا ہے ایسے ہی ذہن بھی زنگ آلود ہو جایا کرتے ہیں۔ بعض دفعہ انسان محسوس کرتا ہے کہ ذہن پر بھی کچھ غبار سا آگیا ہے‘ جس کے نتیجے میں فکر کے خدوخال دھندلانے لگتے ہیں۔ اس زنگ کو اتارنے کے لیے اپنے مقصد اور طریق کار کا شعور ہونا ضروری ہے۔انسان سوچتا ہے کہ ہماری اِس دُنیوی جدّوجُہد کا ہدف کیا ہے ‘ ہم کس طرف جا رہے ہیں! یہ صورت ہرگز نہیں ہونی چاہیے کہ ع ’’آہ وہ تیرنیم کش‘جس کا نہ ہو کوئی ہدف!‘‘اگر کیفیت یہ ہو تو گویا بہت ہی مایوس کن علامت ہے۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ کچھ لوگ کام تو کر رہے ہیں لیکن انہیں یہ شعور نہیں کہ ہمارا ہدف کیا ہے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ ہمارے اس سفر کی منزل کون سی ہے۔
مقصد کے شعور کے علاوہ منزل تک پہنچنے کا راستہ کون سا ہے‘ اس کا شعور بھی ذہنوں کے اندر برقرار رہنا چاہیے ۔ انسان اس دنیا میں رہتے ہوئے بھانت بھانت کی بولیاں سنتا ہے‘ طرح طرح کے فلسفوں سے اس کو سابقہ پیش آتا ہے۔ مختلف نوعیت کی دعوتیں مختلف جانب سے اس کے کانوں تک پہنچتی ہیں۔لہٰذا کچھ شکوک و شبہات کا پیدا ہو جانا فطری ہے۔ اس اجتماع کے موقع پر ہمیں اپنے مقاصد کے شعور کے ساتھ ساتھ طریقہ کار کو پورے مراحل و مدارج کے ساتھ از سرِ نو اُجاگر کرنا ہے۔
(۳) رفقاء کا باہمی تعارف
تیسرا مقصد اس قافلے کے ساتھ چلنے والے ساتھیوں کا باہمی ربط و ضبط بڑھانا اور محبّت ِقلبی میں اضافہ کرنا ہے۔ کسی بھی اجتماعیت میں رفقا ءکا باہمی تعارف بہت ہی اہم ہوتا ہے۔ اس اجتماع پر اللہ تعالیٰ نے اس اہم ضرورت کو پورا کرنے کا ایک موقع فراہم کر دیا ہے۔اس وقت ملک کے کونے کونے سے رفقاء تشریف لائے ہوئے ہیں۔ یہ ایک بہت ہی سنہری موقع ہے کہ ہم اپنے ساتھیوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ ربط و ضبط بڑھائیں اور ایک دوسرے کا تعارف حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ اس دور میں دینی اخوت کونبھانے کے لیے وقت نکالنا بہت مشکل ہے۔ بقولِ شاعر ؎
بھلا گردش فلک کی چین دیتی ہے کسے انشا ؔ
غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں!
یہ ایک حقیقت ہے کہ ایسے مواقع ہر روز کہاں ملا کرتے ہیں۔ اس اجتماع میں شکاگو اور ٹورنٹو سے بھی رفقاء آئے ہوئے ہیں‘ جو اپنے اپنے علاقے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
(۴) نظم کی اہمیت کاادراک
ہمیں نظم و ضبط کی اہمیت کا ادراک ہو۔ چونکہ ہم ایک منظّم جماعت کے تحت منظّم جدّوجُہد کر رہے ہیں‘ لہٰذا اس کام میں نظم کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اگر اللہ نے چاہا تو مَیں اس موقع پر دروسِ قرآن و حدیث کے ذریعے اس کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کروں گا۔ نظم کی اہمیت کے ضمن میں جو آیات و احادیث بیان ہوتی ہیں ‘وہ ہر رفیق کے سامنے آئینہ کی طرح ہونی چاہئیں۔ اس نظم و ضبط یا ڈسپلن کی اہمیت کےادراک کا علمی پہلو اپنی جگہ بہت زیادہ اہم ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں نظم و ضبط کو عمل (practice) میں بھی لانا چاہیے‘یعنی ہم نظم کے خوگر بن جائیں۔ہمارا نظم مثالی ہونا چاہیے۔ دیکھنے والے خدانخواستہ ایسا محسوس نہ کریں کہ یہ کوئی منظّم جماعت نہیں‘ایک ہجوم ہے۔بقول علامہ اقبال ؎
عید آزاداں شکوہِ ملک و دیں
عید محکوماں ہجومِ مومنیں
اس اجتماع کے موقع پر بھی نظم و ضبط کا بھرپور مظاہرہ ہونا چاہیے۔ اجتماع کے منتظمین سے اگر کوئی کوتاہی ہو جائے تو ان پر نکیر کرنے کی بجائے خیر خواہی کے جذبے کے ساتھ ان کی توجّہ اس جانب مبذول کرانی چاہیے۔ ہمیں اپنے رفقاء کے بارے میں کسی بھی درجے میں سُوء ِظن میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ انہوں نے جان بوجھ کر آپ کے لیے کوئی تکلیف دہ صورتحال پیدا کر دی ہے۔ اس طرح کےکسی بھی خیال کو ذہن میں نہ آنے دیجیے۔ خود آپ لوگوں کی طرف سے کوئی بدنظمی صادر نہ ہو۔ یہ بھی آپ کی تربیت کا ایک اہم حصّہ ہے۔
مقاصد کے حصول کا ذریعہ
پہلے دو مقاصد کے حصول کے لیے ہمارا ذریعہ (source) قرآن ہے‘ جو ہمارا ہادی و رہنما ہی نہیں سرچشمہ ٔ ایمان بھی ہے۔ یہی قرآن ہمیں ان مقاصد کا شعور عطا کرنے والا ہے اور یہی ہمیں ان کے حصول کا طریقِ کار بتانے والا ہے۔ نظم ِجماعت کس طور کا ہو‘ اس کی طرف ہماری رہنمائی کرنے والا بھی یہی قرآن ہے۔ آپ لوگوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ جب میں لفظ ’’قرآن‘‘ کہتا ہوں تو اس وقت میرے ذہن میں قرآن متلو کے ساتھ ‘جس کی ہم تلاوت کرتے ہیں اور جو مصحف کی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے‘قرآنِ مجسم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھی ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ قرآن اور ذاتِ رسول ﷺ بریکٹ ہیں۔ میرے نزدیک یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ اس قرآن کی توضیح و تشریح آپ ﷺ نے اپنے قول سے بھی کی ہے اور اس کے دیے ہوئے مقاصد کے حصول کے لیے ایک عملی جدّوجُہد آپ ﷺ نے بالفعل کر کے بھی دکھائی ہے۔ اس عملی جدّوجُہد کے تمام مراحل و مدارج ہمیں سیرتِ مطہرہ میں ملتے ہیں۔ گویا یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ اس حوالے سے میں آپ کی توجہ سورۃ البیّنہ کی ابتدائی آیات کی طرف دلانا چاہتا ہوں۔فرمایا:
{لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ اَہْلِ الْکِتٰبِ وَالْمُشْرِکِیْنَ مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَہُمُ الْبَیِّنَۃُ(۱) رَسُوْلٌ مِّنَ اللہِ یَتْلُوْا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً(۲) فِیْہَا کُتُبٌ قَـیِّمَۃٌ(۳) }
’’نہیں تھے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا اہل ِکتاب میں سے اور مشرکین میں سے الگ ہونے والے (یا باز آنے والے)جب تک کہ ان کے پاس البیّنہ نہ آ جاتی۔ ایک رسول (ﷺ) اللہ کی جانب سے جو تلاوت کرتا ہے پاکیزہ اوراق کی۔ ان میں بڑے مضبوط احکام (تحریر) ہیں۔‘‘
وہ بیّنہ اللہ کی جانب سے ایک رسول ہیں‘ جو ان پاکیزہ صحیفوں کی تلاوت کرتے ہیں۔ گویا رسولؐ اور کتاب مل کر ایک بیّنہ یعنی ایسی روشن دلیل جو حجت ِقاطع بن جائے ‘ کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک تو مقصد کے شعور اور ایمان کی جلا کا واحد ذریعہ ہی یہ ہے۔ ہمیں طریق کار اور اس کے مراحل کا شعور بھی وہیں سے حاصل کرنا ہے۔
اس اجتماع کا جو تیسرا مقصد ہے ‘اس کے حصول کے لیے آپ کو خصوصی طور پر وقت نکالنا ہوگا۔ اپنے نفس کے ناگزیر حقوق کی ادائیگی یعنی کھانے ‘پینے اور بقدر ِضرورت سونے کے بعد جو وقت بھی فارغ ملے اور ان بھاری بھرکم پروگراموں سے جو وقت بچ جائے اسے غنیمت سمجھتے ہوئے اس مقصد کے حصول کے لیے صرف کریں۔ یہ اس وقت کا بہترین مصرف ہوگا۔ ایک مختصر سا تعارف تو آپ کو رفقاء کے سینوں پر آویزاں بیجوں (badges) سے حاصل ہو جائے گا‘ لیکن اس کے علاوہ اپنے رفقاء کے حالات معلوم کرنا اور ان سے ذاتی تعلق بڑھانا بھی ضروری ہے ۔ گویا فارغ اوقات میں آپ اپنے ہم مقصد ساتھیوں کا تفصیلی تعارف حاصل کریں تاکہ باہم محبّت میں اضافہ ہو۔
اللہ کی خاطر باہم محبّت رکھنے والوں کے لیے بشارتیں
کسی بھی اجتماعیت کے لیے آپس کا میل جول اور باہمی محبّت بہت ہی ضروری ہوتی ہے۔ ہماری اس چھوٹی سی اجتماعیت میں اخوت ِباہمی کی فضا پیدا ہونی چاہیے۔ اس حوالے سے ان احادیث مبارکہ کو ذہن میں رکھیے کہ جن میں رسول اللہﷺ نے ان مومنین کے لیے جو دین کی خاطر ایک دوسرے سے محبّت رکھتے ہوں ‘بشارتیں سنائی ہیں۔ چنانچہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے‘ وہ کہتے ہیں کہ مَیں نے رسول اللہﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے :
((وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ وَالْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ)) (رواہ مالک و احمد)
یعنی میری محبّت ان لوگوں کے حق میں واجب ہو گئی جو صرف میرے لیے ایک دوسرے سے محبّت کرتے ہیں‘ اور جو میری خاطر مل جل کر بیٹھتے ہیں ‘اور جو میرے لیے ایک دوسرے کو ملنے آتے ہیں اور جو میری محبّت میں ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔
اس حدیث مبارکہ میں جو لفظ ’’فِیَّ‘‘ آیا ہے اس کا کوئی مجرد تصوّر اپنے ذہن میں نہ رکھیے۔یہاں ’’اللہ کے لیے محبّت‘‘ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے دین کے لیے اور اس کے کلمے کی سربلندی کے لیے سر دھڑ کی بازی لگانے کا جذبہ۔ گویا غلبۂ دین کے لیے ایک منظّم جدّوجُہد ہو رہی ہے‘ ایک قافلہ ہے اور اس کے ساتھ کچھ لوگ شریک ہیں۔ اب اس قافلے میں چلنے والے کچھ پرانے ساتھی ہیں اور کچھ نئے بھی ہیں ‘ ان میں سمجھ دار بھی ہیں اور نا سمجھ بھی ہیں۔ اس قافلے کے وہ ہم سفر کہ جو بہت عرصہ پہلے سے شامل ہیں ‘ ان پر بہت سے حقائق واضح ہیں جبکہ جو اس قافلے میں نئے ہم سفر ہیں‘ انہیں ابھی بہت سی چیزوں کا شعور نہیں ہے۔ پھر ان میں وہ بھی ہیں جنہیں دوسری تنظیموں اور جماعتوں میں کام کرنے کا کوئی تجربہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ اس قافلے میں شامل افراد کو جوڑنے والی چیز ایک مقصد کی لگن اور احساسِ فرض ہے۔ اسی کے تحت یہ قافلہ قدم بقدم آگے بڑھ رہا ہے۔ اب’’فِیَّ‘‘کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے سورۃ العنکبوت کی آخری آیت بہت ممد و معاون ہوگی۔ فرمایاگیا:{وَالَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا} اس مقام پر ’’فِیْنَا‘‘ کے معنی ہیں:’’فِی سَبِیْلِنَا‘‘ یعنی جو لوگ ہماری راہ میں ‘ہماری طرف سے عائد کردہ فرائض کی ادائیگی کے ضمن میں مجاہدہ کریں گے‘ ایثارو قربانی اور صبر کا مظاہرہ کریں گے‘ ان سے پختہ وعدہ ہے کہ ہم لازماًانہیں اپنے راستے دکھائیں گے اور ان کے لیے ان راستوں کو کھولتے چلے جائیں گے۔
گویا پہلے انہیں محسوس ہوگا کہ جیسے ان پر راستے کے نشانات پوری طرح واضح نہیں ہیں‘ تاہم فرض کی ادائیگی کے تحت سفر کا آغاز کر دیں گے ‘لیکن اس راستے پر جیسے جیسے آگے بڑھیں گے ‘ وہ یہ محسوس کریں گے کہ جیسے کوئی انگلی پکڑ کر چلا رہا ہے اور کوئی ہمارے سامنے منزل کو دن بدن اجاگر کرتا چلا جا رہا ہے۔
اسی طرح ایک دوسری حدیث مبارکہ میں بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے لیے باہمی محبّت کرنے والوں کو خوشخبری سنائی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :
((يَقُولُ اللّٰہُ تَعَالیٰ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بجَلَالِي؟ الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي)) (رواہ مسلم ومالک )
یعنی قیامت کے روز اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ: کہاں ہیں وہ لوگ جو میری جلالت شان کے لیے ایک دوسرے سے محبّت کرتے تھے؟ آج کے دن مَیں انہیں اپنے سائے میں پناہ دوں گا‘ آج میرے اس سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہے! بعض دوسری روایات میں’’فِیْ ظِلِّ عَرْشِیْ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں کہ مَیں انہیں اپنے عرش کے سائے میں جگہ دوں گا‘ لیکن یہاں تو اس درمیانی واسطے کو بھی علیحدہ کر کے ’’ظِلِّی‘‘ یعنی اپنے سایۂ رحمت میں جگہ دوں گا‘ کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔
احادیث میں واردشدہ ان بشارتوں کو سامنے رکھ کر اپنے فارغ اوقات کو باہمی تعارف اور میل جول میں صرف کیجیے۔ اس کام میں جو وقت بھی صرف ہو‘ اسے نہایت قیمتی سمجھیے کہ یہ ہرگز رائیگاں جانے والا نہیں ہے۔
مجھے قوی امید ہے کہ اگر آپ ان چار مقاصد کو سامنے رکھ کر پوری دلچسپی ‘ انہماک اور نظم و ضبط کے ساتھ اجتماع کے پروگراموں میں شریک ہوں گے تو نہ صرف یہ کہ طریقِ کار اور منہج عمل کے بارے میں اگر کوئی ابہام آپ اپنے ذہنوں میں لے کر آئے تھے وہ ازخود رفع ہو جائے گا بلکہ آپ ایک ولولۂ تازہ کے ساتھ اس اجتماع سے رخصت ہوں گے۔