(ابوظبی سیریز) حقیقت ِنفاق (۲) - ڈاکٹر اسرار احمد

11 /

حقیقت ِنفاق(۲)ڈاکٹر اسرار احمدؒنفاق کی تیسری سٹیج
نفاق کا سارا معاملہ انقلاب اور جہاد ہی سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ صر ف نماز ‘روزہ کی ادائیگی میں جان و مال جانے کا اندیشہ نہیں اس لیے اس حد تک نفاق کھل کر سامنے نہیں آتا۔ یہ تو وہاں پر ہی ظاہر ہوتا ہے جہاں جان اور مال کے لگانے کا تقاضا ہورہا ہو۔ مسجد نبوی میں نمازیں تو عبد اللہ اُبی بھی رسول اللہﷺ کے پیچھے پڑھتا تھا لیکن غزوئہ اُحد میں وہ ۳۰۰منافقین لے کر الگ ہوگیا ‘کیونکہ وہاں پر اس کو اپنی جان کا خطرہ نظر آرہا تھا۔ بہرحال جب یہ بات بڑھے گی تو ایسے آدمی میں غیر شعوری طور پر صادق الایمان لوگوں سے دشمنی پیدا ہوجاتی ہے کہ یہ لوگ ذلیل کرواتے ہیں ۔اگر سب ہی ایک جیسے ہوجائیں تو کوئی نہ آگے رہا نہ پیچھے ‘ مگرا ن (ایمان والوں) کو جب بھی پکارا جاتا ہے تو فوراً چل پڑتے ہیں۔ نہ ان کو جان کا کوئی خیال نہ مال کا ‘ نہ اہل و عیال کا کوئی خیال نہ گھر بار کا‘ یہ تودیوانے(fanatics )ہو گئے ہیں۔ دین نے ان کی مت ماردی ہے۔ انہیں کچھ پتہ ہی نہیں‘ نہ دائیں دیکھتے ہیں نہ بائیں‘ نہ خطرے کو دیکھیں نہ رزق کی فکر کریں۔ نہ دیکھتے ہیں کہ جان جاتی ہے نہ مال کی فکر‘ کسی خطرہ کو نہیں سمجھتے۔یہ منافقین کے خیالات تھے۔پس اہل ِایمان کو توجب بھی رسول اللہﷺ کی پکار آئی تو انہوں نے فوراً لبیک کہا۔ایسے میں کچھ لوگ آگے بڑھ گئے اور کچھ پیچھے رہ گئے تو بڑھنے والوں کی وجہ سے پیچھے رہنے والے نمایاں ہوگئے۔ منافقین کی سوچ یہ ہو گئی کہ اگر یہ لوگ بھی بیٹھے رہتے تو ہم ذلیل نہ ہوتے‘ ان کی بے وقوفی نے ہمیں رسوا کیا ہے ۔سورۃ البقرہ میں ارشاد ہوا:
{وَاِذَا قِیْلَ لَھُمْ اٰمِنُوْا کَمَآ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْٓا اَنُؤْمِنُ کَمَآ اٰمَنَ السُّفَھَآئُ ط اَلَآ اِنَّھُمْ ھُمُ السُّفَھَآئُ وَلٰــکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ(۱۳)}
’’اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ ایمان لائو جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں‘ وہ کہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جیسےیہ بے وقوف (احمق) لوگ ایمان لائے ہیں؟ آگاہ ہو جاؤ کہ وہی بے وقوف ہیں‘ لیکن انہیں علم نہیں ہے۔‘‘
سیرتِ طیبہ سے اس بات کی گواہی ملتی ہے کہ انقلاب کی راہ میں مصائب ضرور آتے ہیں‘ چاہے شعب ابی طالب ہو یا طائف کی گلیاں۔ اسی طرح صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بھی محمد رسول اللہﷺ کی پکار پر ہمیشہ لبیک کہہ کر مشکل سے مشکل حالات میں بھی اپنے مال اور جان کی قربانی دی۔غزوئہ موتہ میں تین ہزار کالشکر ایک لاکھ رومن فوج سے ٹکرا رہا ہے۔ مادی سمجھ بوجھ والے لوگ اس کو ہرگز بھی عقل مندی نہیں کہیں گے لیکن مؤمن کی نگاہ دنیاوی فتح پر نہیں ہوتی۔ اس کو توشہادت کی صورت میں اللہ کی رضا مطلوب ہوتی ہے‘ اسی لیے وہ پیچھے نہیں ہٹتے تھے۔ اس غزوہ میں حضرت جعفر طیار ‘ حضرت زیدین حارثہ اور حضرت عبداللہ بن ر واحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم شہید ہو گئے ۔پھر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کمان سنبھالی اور بڑی حکمت کے ساتھ لشکر کو دشمن کے نرغہ میں سے نکال کرلے آئے۔
پس جو لوگ خطرات کی پروا کیے بغیر اللہ کے راستہ میں اپنے مال و جان سے آگے بڑھتے ہیں‘ ان کی وجہ سے پیچھے رہ جانے والے یقیناً نمایاں ہو جاتے ہیں۔اگر ایمان کی مثبت کیفیت ہو تو ایسے لوگ آگے بڑھ جانے والوں کے لیے دعائیں کریں کہ اگر ہم کمزور تھے ‘ ہم سے تو نہ ہو سکا تو چلو اللہ نے ان لوگوں کو ہمت و توفیق دے دی۔ لیکن یہاں اعترافِ جرم والا معاملہ تو ہے ہی نہیں ۔ جھوٹے بہانے کرنے‘ جھوٹی قسمیں کھانے کے بعد اب تو اہل ایمان سے دشمنی پیدا ہوگئی ہے کہ ان بے وقوف اور دیوانے لوگوں کی وجہ سے ہماری زندگی مشکل بن گئی ہے۔ جب غزوئہ تبوک کے لیے اہلِ ایمان نکل رہے تھے تو یہ منافقین ڈراتے تھے کہ کیا کر رہے ہو!عقل کے ناخن لو ‘اس گرمی کے موسم میں نکل رہے ہو ‘ اتنا لمبا سفر تم نے کرنا ہے۔ کچھ اپنے نفع نقصان کا خیال ‘کوئی اپنے برے بھلے کی سمجھ ہے کہ نہیں!سورۃ التوبہ کی آیت ۸۱ میں ان کے لیے جواب دلوایا گیا: {قُلْ نَارُ جَھَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا} ’’(اے نبی ﷺ) ان سے کہہ دیجیے: جہنم کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔‘‘
اہلِ ایمان کو تو یہ اندیشہ ہے کہ اگر ہم فرض کی پکار پر لبیک نہیں کہیں گے‘ اللہ کے حکم کو پیٹھ دکھا دیں گے تو کہیں جہنم کی سزا مقدر نہ ہو جائے۔ اُس کی گرمی تو یہاں کی گرمی سے بہت شدید ہے۔پھر وہ منافقین ڈراتے تھے کہ اتنے بڑے دشمن کے ساتھ لڑنے جا رہے ہو‘ عقل سے کام لو ۔غزوئہ بدر میں ایک اور تین کی نسبت تھی جبکہ اب سلطنت روم سے ٹکراؤ کی صورت میں ایک اور تینتیس کی نسبت ہے۔سورۃ التوبہ کی آیت ۵۲ میں رسول اللہﷺ کی جانب سے یہ جواب کہلوایا گیا:
{قُلْ ہَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَآ اِلَّآ اِحْدَی الْحُسْنَیَیْنِ ط}
’’(اے نبیﷺ! ان سے) کہہ دیجیے: تم ہمارے بارے میں کس چیز کا انتظار کررہے ہو سوائے دو خوبیوں میں سے ایک خوبی کا!‘‘
یعنی دو کامیابیوں میں سے ایک کامیابی کا‘ چاہے شہادت ہو یا فتح! گویا تم ہمیں کس چیز سے ڈرارہے ہو؟ ہمارے لیے تو دو بہترین انجام ہو سکتے ہیں‘تیسرا کوئی ہے ہی نہیں۔ ہمارے لیے دونوں انجام یکساں احسن ہیں۔اگرہم اللہ کی راہ میں شہید ہو جائیں تو ہمارے لیے اس سے بڑا کوئی ثمر نہیں‘ اور اگر ہم تمہارے معیار کے مطابق کامیاب ہو کر آجائیں تو بھی بامراد ہوں گے۔صحا بہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لیے تو شہید اور غازی دونوں صورتوں میں کا میابی ہی تھی‘ تو ڈرنا کس بات کا!جو اللہ نے ان کے نصیب میں لکھی ہو‘ وہ اُسی پر خوش تھے ۔
جب اہل ِایمان سے دل میں دشمنی‘بُغض اور عداوت اس حد تک ہو جائے کہ ان کے اللہ کے راستہ میں نکلنے پر ہی اعتراض ہو تو یہ نفاق کی وہ تیسری سٹیج ہے جس کے بعد واپسی ممکن نہیں ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت ۱۳سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جب ایمان لائے ہو تو اس کے تقاضے پورے کرو ۔اللہ کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرو جیسے دوسرے لوگ (صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ) ایمان لانے کے بعدجہاد کر رہے ہیں۔اس پر یہ لوگ جواب دیتے کہ کیا ہم ان بے وقوفوں کی طرح ایمان لائیں! گویا کہ منافقین صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو السُّفَھَاء کہنے کی جرأت کر رہے تھے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ کے چوٹی کے تا جروں میں سے تھے۔ جب وہ ایمان لائے تو ان کے پاس چالیس ہزار درہم کا سرمایہ تھا لیکن انہوں نے وہ پیسہ اُن غلاموں کو آزاد کرنے میں خرچ کیا جو ایمان لے آتے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمیت چھ غلام اور کنیزیں ایسے ہیں جن کو حضر ت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خرید کر آزاد کردیا۔ جو پُونجی باقی رہ گئی ‘ وہ سب کی سب ہجرت کے وقت ساتھ لے کر گئے کہ حضرت محمدﷺ کے ساتھ سفر ہے‘ راستہ میں نہ جانے کس چیز کی ضرورت پڑ جائے۔ اپنے گھروالوں کے لیے کچھ بھی چھوڑ کر نہیں گئے حالانکہ نابینا والد‘ جوان بیٹیاں موجود تھے۔ منافقین کے نزدیک یہ سب حماقت اوربے وقوفی تھی لیکن ان کی یہ کیفیت آج شاید ہمارے نزدیک بھی عقل مندی نہ ہو۔
اسی طرح غزوئہ تبوک کے موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس زمانہ میں میرے پاس اتفاقاً بہت پیسہ تھا۔ میں نے سوچا اس مرحلہ پر تو میں حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بازی لے جاؤں گا‘یعنی مسابقت کا جذبہ اُن لوگوں میں بھی تھا مگر یہ مقابلہ نیکی‘ خیراور انفاق فی سبیل اللہ کے میدان میں تھا۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کُل دولت کے دو حصے کیے۔ نصف گھر والوں کے لیے رکھا اور نصف رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر کر دیا۔ آپﷺ نے پوچھا : ’’عمر! گھروالوں کے لیے کچھ چھوڑ ا؟‘‘حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: ’’جی ہاں‘ نصف رکھا ہے اور نصف اللہ کی راہ میں حاضر ہے۔‘‘اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا مال لےکرحاضر ہوئے تو یہی سوال رسول اکرمﷺ نے اُن سے کیا۔ انہوں نے کہا : ’’نہیں‘ گھر میں اللہ اور اُس کے رسولﷺ کے نام کے سوا کچھ نہیں چھوڑا۔ ‘‘
منافقین سمجھتے تھے کہ وہ بہت عقل مند ہیں مگر حقیقت میں وہ بے وقوف تھے ۔ وہ جانتے ہی نہیں تھے کہ حقیقتاً اصل نفع اور اصل خسارہ کیا ہے! جو سورۃ العصر کی روشنی میں خسارہ کی حقیقت سمجھ لے ‘اس کے نزدیک عقل مندی تو یہی ہے کہ اپنا جان و مال اللہ کی راہ میں لگا دیا جائے ‘اورجس کے دل و دماغ میں یہ بات نہ آسکے ‘اس کے لیےدانائی یہی ہے کہ جان و مال بچا بچا کر‘ سنبھال سنبھال کر رکھے۔دونوں صورتوں میں خرد کا تقاضا مختلف ہوگا۔سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہوا: وَ لٰکِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ……..وَ لٰکِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ۔
غیر شعوری نفاق کی یہ کیفیت بڑھتی چلی جاتی ہے اور انسان کو خود اندازہ ہی نہیں ہوپاتا۔پہلے جھوٹے بہانوں سے آغاز ہوا‘پھر جھوٹی قسمیں کھانے لگے اور اس کے بعد صادق الایمان لوگوں سے دشمنی‘ بُغض اور عداوت ہوگئی ‘کیونکہ وہ اللہ کے دین کے لیے اپنا مال و جان بڑھ بڑھ کر نثار کر رہے تھے۔ اس تیسری سٹیج پر پہنچ کر بھی یہ لوگ اپنے آپ کو منافق نہیں بلکہ عقل مند سمجھتے ہیں اورایمان والوں کو بے وقوف کہتے ہیں ۔ اسی لیے بتایا جارہا ہے کہ منافقین جانتے ہی نہیں‘ شعور ہی نہیں رکھتے کہ نفاق میں کس قدر بڑھتے چلے جا رہے ہیں اور اب اس سطح پر پہنچ کر تو واپسی کا امکان نہیں۔ ان کے خیال میں دین پر عمل کرنا اچھی بات ہے لیکن دنیا کے تقاضے بھی دیکھنے چاہئیں‘ اپنی حفاظت کا بھی خیال ہونا چاہیے ------- اور یہی خیالات آج ہم اپنے ارد گرد بھی سنتے ہیں۔یہ دنیا کی سمجھ کہلاتی ہے جس کو ہم مسلمانوں نے اپنا معیار بنا لیا ہے۔ اسی وجہ سے آج ہمارا دین دنیا میں مغلوبیت کا شکار ہے ‘جس کی نقشہ کشی ’’مسدس حالی‘‘ میں اس طرح کھینچی گئی ہے:؎

پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے

اسلام کا گِر کر نہ اُبھرنا دیکھے!
مانے نہ کبھی کہ مدّ ہے ہر جزر کے بعد

دریا کا ہمارے جو اُترنا دیکھے!

اسلام دنیا میں اُس وقت غالب ہوا جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اپنا تن من دھن سب کچھ دین کے لیے نچھاور کر دیا۔ ہماراحال یہ ہے کہ ہم ان چیزوں کو دین کے راستہ میں لگانے کے بجائے سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں۔ ا س لیے آج دین کمزورسے کمزورترہوتا جا رہا ہے جبکہ ہماری دنیا خوب پھل پھول رہی ہے۔اگر کسی کو ابھی دین کے تقاضوں سے واقفیت نہیں ‘دین کے احکامات کا علم محض نماز‘ روزہ تک ہی ہے تو ایسے شخص سے لا علم رہنے کے حوالہ سے سوال تو ضرور کیا جائے گا ‘البتہ وہ نفاق کے حملہ سے بچا ہو اہے۔اس کے برعکس جس کے سامنے دین کے تقاضے واضح ہو جائیں ‘پھر بھی وہ شخص اپنے مال و جان کی محبت کی وجہ سے ان ذمہ داریوں سے پیچھے ہٹنے کا رویّہ اختیار کرے‘وہ یقیناًنفاق کے خطرہ میں ہے۔ سورۃ الحج کی یہ آیت اس کیفیت کو واضح کرنے کے لیے بہت اہم مقام ہے۔ فرمایا گیا:
{وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللہَ عَلٰی حَرْفٍ ج فَاِنْ اَصَابَہٗ خَیْرُنِ اطْمَاَنَّ بِہٖ ج وَاِنْ اَصَابَتْہُ فِتْنَۃُ نِ انْقَلَبَ عَلٰی وَجْہِہٖ ط خَسِرَ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ ط ذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ(۱۱)}
’’ اورلوگوں میں سے ایسا بھی ہے جو اللہ تعالیٰ کی بندگی کر تاہے کنارے کنارے رہ کر۔ پھر اگر اسے کوئی خیر پہنچ جائے تو بڑا مطمئن ہوتا ہے‘ اوراگراس پر کوئی آزمائش آجائے تو وہ اپنے چہرے پرپلٹ جاتا ہے۔ خسارے میں رہے ایسے لوگ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور یہی ہے بالکل واضح خسارہ۔‘‘
یعنی دین کے راستہ پر چلنے میں اگر فائدہ ہو‘خیریت رہے ‘مال و جان کا کوئی خطرہ نہ ہو تو مطمئن رہتا ہے جبکہ اگر کوئی کٹھن امتحان آگیا تو گھبرا کر پیچھے ہٹنے لگتا ہے۔گویا وہ کردار سامنے نہیں ہوتا جو طارق بن زیادکاتھا کہ اُندلس کے ساحل پر پہنچ کر کشتیوں میں آگ لگوا دی کہ کسی کے دل میں واپسی کا خیال ہی نہ آ سکے۔اصل میں عقل تو سکھاتی ہے کہ سنبھل کر چلا جائے جبکہ جذبہ کہتا ہے کہ واپسی کا کوئی سوال نہیں ۔ ؎
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق

عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھیسورہ العنکبوت میں منافقانہ کردار کی وضاحت یوں کی گئی:
{ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللہِ فَاِذَآ اُوْذِیَ فِی اللہِ جَعَلَ فِتْنَۃَ النَّاسِ کَعَذَابِ اللہِ ط وَلَئِنْ جَآئَ نَصْرٌ مِّنْ رَّبِّکَ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّا کُنَّا مَعَکُمْ ط اَوَلَیْسَ اللہُ بِاَعْلَمَ بِمَا فِیْ صُدُوْرِ الْعٰلَمِیْنَ(۱۰)}
’’اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو کہتے یہ ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر لیکن جب انہیں ستایا جاتا ہے اللہ کی راہ میں تو وہ لوگوں کی طرف سے پہنچائے ہوئے فتنہ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے جیساکر دیتے ہیں۔ اور اگر (اے نبیﷺ!) آپ کے رب کی طرف سے مدد آئے تو پھر وہ ضرور کہیں گے کہ ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں۔ تو کیا اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا نہیں ہے جو کچھ جہان والوں کے سینوں میں ہے!‘‘
{ وَلَیَعْلَمَنَّ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَیَعْلَمَنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ (۱۱)}
’’اور اللہ تعالیٰ کھول کر رکھ دے گا ان لوگوں کو جوحقیقی طور پر ایمان لائے اور اللہ تعالیٰ کھول کر رکھ دے گا منافقوں کوبھی۔‘‘
فرض کیجیے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جگہ اگر کوئی کمزور ایمان والا ہوتا اور اسے کلمہ پڑھنے کے بعد تشدد کا سامنا کرنا پڑتا تو یقیناً گھبرا کر اس کو اللہ کا عذاب سمجھ لیتا۔یعنی آزمائش پڑنے کی صورت میں سرفروشی کے لیے تو تیار نہیں لیکن اگر مسلمانوں کوفتح اور مال غنیمت حاصل ہوجائے تو اس کو حاصل کرنے آجاتے ہیں۔جان لینا چاہیےکہ اللہ سب کی دلی کیفیت سے آگاہ ہے۔
غیر شعوری نفاق کے حوالہ سے اہم بات یہ ہے کہ ایسا نہیں کہ اس کا ظہور ماضی ہی میں ہوتا تھا اور اب یہ ممکن نہیں۔اس نفاق کا ذکر قرآن پاک میں بکثرت ملتا ہے جوسورۃ النساء‘ سورۃ التوبۃ‘ سورۃ الاحزاب میں اور مزید تفصیل سے سورۃ المنافقون میں آیا ہے۔ اگر اسلام کو غالب کرنے کی جدّوجُہد ایک انقلابی تحریک کی شکل میں آگے بڑھے گی تو یہ کیفیات جیسے پہلے تھیں‘ویسے ہی آج بھی نظر آسکتی ہیں ۔ انسانوں میں ا للہ نے کچھ قوی ہمت لوگ بھی بنائے ہیں اور کچھ کمزور بھی۔ اگر کم ہمت لوگ اس تحریک میں شامل تو ہوں گے لیکن ساتھ چل نہیں سکیں گے توجب تک اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ر ہیں اور استغفار کرتےرہیں‘ منافق نہیں سمجھے جائیں گے بلکہ ضُعف ِایمان کا شکار ہوں گے۔ البتہ اگراپنی غلطیوں کو چھپانے کے لیے جھوٹ بولنا شروع کیا تو یہ نفاق کا آغاز ہو جائے گا۔اگر جھوٹی قسمیں کھانے لگے تو نفاق کی دوسری سٹیج میں داخل ہو گئے ۔ اگر صادق الایمان لوگوں کے خلاف دل میں دشمنی پیدا ہو گئی تو یہ تیسری سٹیج آگئی ‘جس کے بعد واپسی بہت مشکل ہے۔ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے :
{ہُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْہُمْ ط قَاتَلَہُمُ اللہُ ز اَنّٰی یُؤْفَـکُوْنَ(۴)} (المنافقون)
’’(اے نبیﷺ!) یہ دشمن ہیں‘ آپ ان سے ہوشیار ر ہیے۔اللہ تعالیٰ انہیں ہلاک کرے‘ یہ کہاں سے پھرائے جاتے ہیں۔‘‘
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا موقع عطا فرمایا۔اگر حضورﷺ کے ساتھ مل کر دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی طرح دین کی سر بلندی کے لیے جدّوجُہد میں اپنی جان قربان کر ڈالتے تو اُونچے درجات حاصل کر لیتے‘ لیکن جان اور مال جیسی فانی چیزوں کی محبت میں اعلیٰ مقام کھو بیٹھے۔آج بھی یہی صورتِ حال ہمارے سامنے ہے۔ دین اسلام مغلوبیت اور مظلومیت کی حالت میں ہے۔ حق و باطل کی کشمکش جاری ہے۔دین ہم سے ہماری صلاحیتوں‘ توانائیوں‘ قوتوں اور اوقات کا مطالبہ کر رہا ہے۔اگر ہم اس پکار پر لبیک نہیں کہتے تو یقیناً غیر شعوری نفاق کی زد میں آسکتے ہیں۔
قومی سطح پر نفاقِ عملی
سورۃ التوبۃ کی مندرجہ ذیل آیات میں اس نفاق کا ذکر ہے جو سزا کے طور پر دنیا میں پیدا کر دیا جاتا ہے:
{ وَمِنْہُمْ مَّنْ عٰہَدَ اللہَ لَئِنْ اٰتٰـىنَا مِنْ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ (۷۵)}
’’اور ان میں سے وہ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیاکہ اگر تُو نے ہمیں اپنے فضل سے عطا کیا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے اور ہم ضرور ہو جائیں گے نیکوکاروں میں سے۔‘‘
{فَلَمَّآ اٰتٰىہُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ بَخِلُوْا بِہٖ وَتَوَلَّوْا وَّہُمْ مُّعْرِضُوْنَ(۷۶) }
’’اور جب اللہ نے ان کو اپنے فضل میں سے عطا کیا تو انہوں نے اس میں بخل کیا اور منہ موڑ کر چل دیے۔‘‘
{فَاَعْقَبَہُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِہِمْ اِلٰی یَوْمِ یَلْقَوْنَہٗ بِمَآ اَخْلَفُوا اللہَ مَا وَعَدُوْہُ وَبِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ (۷۷) }
’’پس اللہ تعالیٰ نے بطور سزاان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اُس دن تک کے لیے جس روز وہ اُس سے ملاقات کریں گے‘ اس لیے کہ جو انہوں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا اس سے روگردانی کی اور اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔‘‘
جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرما دیا‘ غنی کردیا تو اب وہ بخل کا شکار ہوگئے اور حال یہ ہو گیا کہ {الَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّعَدَّدَہٗ(۲)}(الھمزۃ).....اب وہ اپنے مال و دولت کا حساب ہی لگاتے رہتے ہیں اور جو وعدہ اللہ سے کیا تھا وہ بھول گئے‘ پیٹھ موڑلی‘ا عراض کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آخرت کی سزا کے علاوہ دنیا میں نقدسزا یہ دی کہ ان کے دلوں میں نفاق پیدا کر دیا‘ کیونکہ انہوں نے وعدہ خلافی کی اور وہ جھوٹ بولتے تھے۔
یہ نفاق کی وہ قسم ہے جو سزا کے طور پر ڈال دی جاتی ہے ۔ آج یہ اللہ تعالیٰ کی طر ف سے پوری پاکستانی قوم پر مسلط ہوگئی ہے ‘کیونکہ ہم نے اللہ کے نام پر یہ ملک حاصل کیا تھا کہ ہم اسلام کا نظامِ عدلِ اجتماعی قائم کر یں گے ۔ جیسا کہ قائد اعظم نے کہا تھا: ’’ہم پاکستان اس لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس میں اسلام کے اُصولِ حریت و مساوات کا عہد ِجدید میں ایک نمونہ پیش کر سکیں۔‘‘ یہ ملک اسلام کے نام پر بنایا گیا۔برصغیر کی ہر گلی اور کوچہ میں پاکستان حاصل کرنے کی جدّوجُہد میں یہی نعرہ لگایا گیا تھا: ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ!‘‘ پاکستان بننے کے بعد ہم نے بحیثیت قوم اسلام قائم کرنے کے لیے کیا کیا؟ ہرکوئی اپنا کاروبار بڑھانے‘اونچے گھر بنانے‘ اعلیٰ نوکریوں کی دوڑ میں لگ گیا۔جو لوگ آگ اور خون کا دریا عبور کر کے‘قربانیاں دے کر پاکستان پہنچے‘ان کے گھروں میں بھی جب خوش حالی آئی تو پردہ ختم ہوگیا۔اسی کی سزا ہے کہ آج ہمارے معاشرہ میں نفاق کی ساری علامات پائی جارہی ہیں۔جھوٹ‘ فریب‘ وعدہ خلافی‘ دھوکا دہی‘ خیانت ‘ رشوت ‘کم تولنا ہر طرح کی بُرائی ہمارے قومی کردار کا جزو بن چکی ہے ۔یہ ہے وہ نفاقِ عملی جس کا شکار آج پوری پاکستانی قوم ہے ‘کیونکہ تاریخ انسانی میں شاید ہم نے ہی اجتماعی سطح پر اتنی بڑی وعدہ خلافی کا ارتکاب کیا۔آج نہ کہیں اسلامی معاشرہ نظر آتا ہے نہ اسلامی قانون۔ نہ اسلامی حریت‘ نہ اسلامی مساوات‘ نہ اسلامی اخوت۔ہمارے ملک میں توصدر ایوب کے دور میں غیر اسلامی عائلی قوانین نافذکر دیے گئے تھے جن کے بارے میں علماء کرام کا متفقہ فیصلہ تھا کہ یہ اسلامی قوانین میں ترمیم کی گئی ہے اور ہم آج تک آرام سے بیٹھے ہیں۔ہم دین سے بے رُخی کے سبب اللہ تعالیٰ کے عذاب کی زد میں ہیں۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے باوجود بحیثیت قوم ہمارے اعمال میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی۔ سورئہ بنی اسرائیل میں فرمایا گیا:
{عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْ ج وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا } (آیت۸)
’’اب بھی تمہار ا رب چاہتا ہے کہ تم پر رحم کرے‘ اور اگر تم نے وہی کچھ کیا توہم بھی وہی کچھ کریں گے۔‘‘
ہم اپنا طرزِ عمل تبدیل نہ کر کے اپنے آپ کو اسی وعید کا مستحق بنا رہے ہیں۔ اگر ہم نے اپنی کوتاہی کی تلافی کے طور پر پاکستان میں صحیح اسلامی نظام کے قیام کےلیے شعوری کوشش نہ کی تو ہم وعدہ خلافی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا شکار ہوں گے۔ ایسا اسلامی نظام جس کی برکات سے عام آدمی بھی مستفید ہوسکے‘ جیسا کہ خلافت راشدہ کے دور میں ہوا۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا بڑا فضل و کرم ہے کہ اُس نے ہمیں یہ ملک عطا فرمایا اور معجزانہ طور پر اس کی حفاظت بھی فر ما رہا ہے۔
بہر حال یہ وہ غیر شعوری نفاق ہے جس کی زد میں ہم میں سے ہر مسلمان انفرادی سطح پر بھی آسکتا ہے جبکہ پاکستانی قوم تو اجتماعی سطح پر اس کا شکار ہے ہی‘کیونکہ صرف ہم نے ہی اپنا ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا۔ اللہ کرے کہ اس ملک میں نفاذِ اسلام کی ہماری کوشش پوری دنیا میں نظامِ خلافت کے قیام کا پیش خیمہ بن جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مومنین صادقین میں شامل فرمائے اور دین کے تقاضوں کو شعوری طور پر ادا کرنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین یا ربّ العالمین!
نفاق سے بچاؤ اور حفاظت
پہلی چیز دوامِ ذکر:ذکر اللہ کا اہتمام کرنا یعنی دل میں اللہ کو حاضر رکھنا۔دل کو غفلت کا شکار نہ ہونے دیا جائے ‘کیونکہ دل غافل ہوگا تو شیطان کا ڈیرہ بن جائے گا۔البتہ دوامِ ذکر کے ضمن میں لوگوں کے ذہن میں مغالطے ہیں۔جو سب سے بڑا ذکر ہے ‘لوگ اس کو بھولے ہوئے ہیں اور جو آخری درجہ کا ذکر ہے ‘اس کو ہی اصل سمجھ بیٹھے ہیں۔سب سے بڑا اور مجسم ذکر تو قرآن حکیم ہے۔ سورۃ الحجر میں اس کو ’’الذکر ‘‘کہا گیا ہے:
{اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ(۹)}
’’ہم نے ہی یہ ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘
اسی طرح فرمایا گیا:
{یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْہِکُمْ اَمْوَالُــکُمْ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللہِ ج وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۹)} (المنافقون)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کہیں تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔ اور جس کسی نے بھی ایسا کیا تو یہی لوگ خسارے میں جانے والے ہیں ۔‘‘
گویا قرآن کی تلاوت‘ اس میں تدبر‘ اس کو یاد کرنا ‘اس پر غور و فکر کرنابہت ضروری ہے۔
• ذریعۂ ذکر میں نمبر دو پر نماز ہے۔ فرمایا گیا: {اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِیْ }(طٰہٰ:۱۴) ’’نماز کو قائم کرو‘میری یاد کے لیے۔‘‘ نماز قولی ذکر بھی ہے اور عملی بھی۔ نماز میں تلاوت کی جاتی ہے جو قولی ذکر ہے جبکہ رکوع و سجود میں اپنے وجود سے اللہ کی عظمت کو تسلیم کیا جاتا ہے تو یہ ذکر کی عملی شکل ہے۔
• تیسری چیز مسنون دعائیں (ادعیہ ماثورہ) اور مسنون اذکار ہیں جو رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہوں۔زندگی کے ہر عمل کےلیے حضورﷺ کی دعا موجود ہے۔صبح اُٹھنے کی‘ بیت الخلا میں داخل ہونے کی‘ وضو شروع کرنے کی‘ فارغ ہونے کی‘ گھر سے نکلنے کی‘ مسجد میں داخل ہونے اور باہر آنے کی ‘سواری پر سوار ہونے کی‘ کپڑے پہننے کی‘ آئینہ دیکھنے کی دعا ہے۔ غرض یہ کہ زندگی کا کوئی عمل بھی ایسا نہیں جس کے لیے دعا نہ بتائی گئی ہو ‘ تاکہ انسان کوئی بھی عمل غفلت میں نہ کرے۔اس میں کوئی اضافی وقت درکارنہیں‘ کوئی خاص ہیئت اختیار کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس جو کر رہے ہیں ‘اس کی مناسبت سے اللہ کو یاد رکھا ہوا ہے۔ چونکہ یہ الفاظ رسول اللہﷺ کے ہیں‘اس لیے دو تعلق بن گئے:ایک تو اللہ تعالیٰ سے بذریعہ دعا‘ دوسرے حضورﷺ سے بھی۔اگر اپنے طور پر کوئی بہتر سے بہتر دعا بھی مانگیں گے تو پہلا تعلق تو ہو جائے گا لیکن دوسرا نہیں ہو سکے گا۔
• چوتھے درجہ کے حوالہ سے یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک روحانی طبیب کسی شخص کے بارے میں اندازہ لگا کر بتا سکتا ہے کہ اس کی شخصیت میں کیا کمی ہے۔ مثلاًکسی میں توکل کی کمی ہے‘کسی میں مال کی محبت زیادہ ہوتی ہے‘ کسی میں شہرت کی خواہش ہے‘ کسی میں نمایاں ہونے کا جذبہ بہت ہے‘کسی میں تکبر کی بیماری ہے۔ مختلف لوگوں میں مختلف امراض ہوتے ہیں۔ کوئی ماہر اسی اعتبار سے ذکر بتاتا ہے کہ فلاں آیت کا مراقبہ کیا کرو۔مراقبہ کے لفظ سے کوئی خاص تصور نہ لیا جائے بلکہ اس سے مراد دھیان اور توجہ کرنا ہے‘ یعنی مخصوص آیت کے معنی کو اپنے ذہن میں جمانا ہے تاکہ شخصیت میں جو کمی ہے ‘اس کی تلافی ہو سکے۔ یہ ذکر کا چوتھا درجہ ہے ۔اس حوالہ سے ہمارے صوفیائے کرام علم نفسیات کے بہت بڑے ماہرگزرے ہیں۔
پس نفاق سے بچنے کی یہی صورت ہے کہ انسان کوئی بھی کام کر رہا ہولیکن دل اللہ کے ساتھ لگا رہے‘زبان اس کی یاد سے تر ہو۔ا س کی اولاد‘ اموال‘ کاروبار کچھ بھی اسے اللہ کی یاد سے غافل نہ کر سکے ۔اگر گاڑی پر کہیں جا رہے ہیں تو اس وقت جتنا قرآن کریم کا حصہ یاد ہو‘ اس کو پڑھتے جائیں۔ اس سے بڑا ذکر تو کوئی ہے ہی نہیں۔
نفاق کا علاج اور ازالہ
اگردل میں نفاق کی کوئی آلائش محسوس ہو تو اس کا ازالہ کرنے کے لیے دو کام کرنے ہوں گے:
(۱) نفاق کا علاج دراصل اِنفاق سے ہوگا۔ انفاق فی سبیل اللہ یعنی اپنا مال اللہ کی راہ میں کھپانا‘ صدقہ و خیرات اور اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے مال لگانے سے نفاق کی کیفیت دُھلتی چلی جائے گی۔ نفاق کا اصل سبب حب ِدنیا ہے اور دنیا میں انسان کو سب سے زیادہ محبوب مال ہوتا ہے ۔ سورۃ العادیات میں انسان کے بارے میں فرمایا گیا: {وَاِنَّہٗ لِحُبِّ الْخَیْرِ لَشَدِیْدٌ(۸)} ’’اور یقیناً وہ مال کی محبت میں بہت شدید ہے۔‘‘ لہٰذا مال ودولت کو اللہ کے راستہ میں لگانے سے نفاق ختم ہوتا جائے گا۔
(۲) ایک اور چیز کا شعوری طور پر اہتمام کیجیے کہ جس وقت دین کاکوئی حکم انسان کے سامنے آجائے تو اس پر عمل میں تاخیر نہ کی جائے۔ یہ تاخیر درحقیقت نفاق کو جڑ پکڑنے کا موقع دیتی ہے۔ جب بھی دین کی کوئی بات سمجھ آجائے تو immediate action والا انداز ہونا چاہیے ‘یعنی فوراً عمل کیا جائے۔ ایسی صورت حال میں عموماًشیطان وسوسہ ڈالتا ہے کہ ذرا ٹھہر جاؤ۔ابھی تو یہ کام کرنا ہے‘ ابھی وہ ذمہ داری نبھانی ہے‘ اتنی جلدی کیا ہے! جیسے لوگ کہتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد میں سارا وقت دین کے لیے لگا دوں گا حالانکہ کس کو معلوم وہ وقت آئے گا بھی یا نہیں! پھر یہ کہ اس وقت تک تو انسان کی صلاحیتیں ختم ہونے پر ہوتی ہیں۔پھر ہوتا یہ ہے کہ انسان ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فارغ نہیں ہوپاتا ۔ بیٹے بیٹیوں کی ذمہ داری ادا کی تو پوتے ‘پوتیاں‘ نواسے ‘نواسیاں سامنے ہوتے ہیں۔ دنیاوی اُمورکا بوجھ تو کبھی بھی ختم نہیں ہوتا۔ہونا تو بس یہی چاہیے کہ زندگی میں جس وقت بات سمجھ آجائے ‘اسی وقت عمل کا آغاز کر دیا جائے۔ایسا نہ کرنے پرسورۃ الانعام میں بڑی شدید وعید آئی ہے:
{وَنُقَلِّبُ اَفْئِدَتَہُمْ وَاَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُــؤْمِنُوْا بِہٖٓ اَوَّلَ مَرَّۃٍ وَّنَذَرُہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُوْنَ(۱۱۰)}
’’اور ہم پلٹ دیتے ہیں ان کے دل اور آنکھیں‘جیسے کہ وہ پہلی بار ایمان نہیں لائے تھے‘ اور ان کو چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں بہکے چلے جاتے ہیں ۔‘‘
گویا انسان پر جب کوئی حقیقت منکشف ہو جائے توفوراً تسلیم کر لے۔کسی مصلحت‘ بزدلی‘ لالچ یا اختیار کی وجہ سے رُک گئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت ِ حق کی استعداد سلب ہوتی جاتی ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے واقعات اس حوالہ سے موجود ہیں جن سے ہم ان حقائق کو سمجھ سکتے ہیں۔اُن پر بھی وقتی طور پر ضُعف ِایمان کا حملہ ہوا ہے (معاذاللہ! نفاق کا نہیں)۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غزوئہ تبوک کے موقع پر اپنی کیفیت کو تفصیل سے بیان کیا ہے جو کہ بہت طویل حدیث ہے اور بخاری اور مسلم دونوں میں موجود ہے۔اس موقع پر کئی منافقین نے جھوٹے بہانے بنا کر اور جھوٹی قسمیں کھا کررسول اللہ ﷺ سے رُخصت لے لی۔ تین ایسے صحابہ بھی تھے جو مؤمن صادق تھے لیکن وقتی طور پر شیطان کے حملہ میں آگئے۔ جب رسول اللہﷺ غزوہ سے واپس آئے تواُن لوگوں کو بلوایا جنہوں نے رُخصت بھی نہیں لی اور غزوہ میں گئے بھی نہیں تھے۔ایک ایک کر کے پیشی ہوئی ۔ جو منافقین تھے انہوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ ہماری تو پوری تیاری تھی ‘بس وقت پر ایسی مصیبت آگئی کہ نہیں جا سکے۔ حضورﷺ نے ان کا عذر قبول کرلیا۔ جب حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی باری آئی تو انہوں نے عرض کیا کہ زبان میرے پاس بھی ہے‘ جھوٹ میں بھی بول سکتا ہوں لیکن جھوٹ بول کر میں اِس وقت آپؐ کی ناراضگی سے تو بچ جاؤں گا مگر اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکوں گا۔میں اعتراف کرتا ہوں کہ جتنا صحت مند میں اس زمانے میں تھا‘پہلے کبھی نہیں تھا۔راستہ کے لیے جتنا سازو سامان میرے پاس تھا‘اُتنا پہلے نہیں تھا ‘ لیکن میرے نفس نے اور شیطان نے یہ پٹی پڑھائی کہ رسول اللہ ﷺ تو تیس ہزار کے لشکر کے ساتھ چلیں گے تو آہستہ ہوں گے۔ میرے پاس تو بہت ہی توانا اور صحت مند اُونٹنی ہے‘ میں دو دن گھر میں ٹھہر کر اہل و عیال کے ساتھ کھجور کے درختوں کی چھاؤں میں گزار کر تیزی کے ساتھ جاؤں گا اور حضورﷺ سے جا ملوں گا۔نیت میں کوئی خرابی نہیں تھی لیکن ہوا یہ کہ شیطان روز یہ بہانہ دل میں ڈال دیتا کہ لمبا سفر ہے‘دو دن اور ٹھہر جاؤ‘ پھر اُونٹنی کو تیز دوڑا کر لشکر سے جا ملنا۔کہتے ہیں کہ ہوتے ہوتے ایک دن ایسا آیا کہ مجھ پر منکشف ہو گیا کہ اب میں چاہے اُونٹنی کو کتنا ہی تیز دوڑا لوں‘کتنا ہی تیز چل لوں‘ لشکر میں شامل نہیں ہو سکتا۔حضورﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو ان تینوں حضرات سے بائیکاٹ کا حکم دے دیا‘یعنی معاشرتی مقاطعہ جو کہ بہت سخت سزا تھی ۔آخر کار ان کی توبہ قبول ہو گئی۔ یہ بہت طویل حدیث ِمبارکہ ہے۔
یہاں پر جو اہم سبق ہمیں ملتا ہے وہ یہی ہے کہ دین کا حکم سامنے آنے پر شیطان تاخیر کا حربہ ڈالتا ہے کہ ابھی کیا جلدی ہے‘کچھ فارغ ہو جاؤ تو کر لینا ‘بعد میں اس کی تلافی کر لینا۔لہٰذاہمیں یہ عادت شعوری طور پر اپنے اندر پیدا کرنی ہے کہ جب بھی حقیقت واضح ہو جائے ‘ فرض سمجھ آ جائے فوراً اعتراف کر لیا جائے کہ ہاں بات ٹھیک ہے۔جب فرض کا احساس ہو جائے‘ فوراً اس کی ادائیگی کے لیے آغاز کر دیا جائے۔تاخیر و تعویق سے نفاق کو آغاز کا مو قع مل جاتا ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کو حقیقی ایمان عطا فرمائے اور نفاق سے بچنے کی تو فیق دے ۔آمین یا ربّ العالمین!